Muntazirat Hastam by Neha Imtiaz NovelR50532 Muntazirat Hastam (Episode 25)
Rate this Novel
Muntazirat Hastam (Episode 25)
Muntazirat Hastam by Neha Imtiaz
آج اتوار کا دن تھا۔ عادل کو جرمنی گئے چار دن ہوگئے تھے۔ آج کا سارا دن ہی بہت خراب گزرا۔ صبح ناشتہ بنانے کے لیے وہ اٹھی تو گیس ہی نہ تھی۔ بھوک بھی شدید تھی تو اسنے گدھے گھوڑے بیچ کر سوئے رائد کو اٹھایا مگر آدھا گھنٹا تو اسے اٹھانے میں ہی گزر گیا پھر وہ ناشتہ تو لے آیا مگر اتنا بیکار ناشتہ۔۔۔دو نوالے لے کر ہی اسنے ہاتھ کھینچ لئیے۔
“یار یَشل اب کھا لو۔۔۔۔”
“میرا دماغ نہیں کھاؤ۔۔۔اس سے اچھا تھا لاتے ہی مت کچھ۔۔”
جلے کٹے انداز میں بولتی وہ اٹھ گئی۔ رائد ناشتہ کرتا باہر آیا تو یَشل لان میں مالی کے سر پر کھڑی پودوں کو پانی ڈلوا رہی تھی اور ساتھ ساتھ اسکی کلاس بھی لے رہی تھی کیونکہ وہ کافی دن بعد آیا تھا اور ٹھیک سے پودوں کا خیال بھی نہیں رکھ رہا تھا۔
“تمہارے موڈ کو کیا ہوا ہے۔۔۔؟ چلو کہیں باہر چلتے ہیں”
مالی کے جانے کے بعد رائد نے کمرے میں جاتی یَشل کو مخاطب کیا تھا۔
“مجھے کوئی شوق نہیں تم ہی جاؤ۔۔”
“کس کے ساتھ جاؤں۔۔؟”
وہ اسکے پیچھے پیچھے کمرے میں چلا آیا۔
“جس مرضی کے ساتھ جاؤ۔۔۔”
وہ اب الماری سے کپڑے نکال رہی تھی۔
“یشل یار۔۔۔میں بور ہو رہا ہوں”
وہ بیزار ہوا تھا۔ یَشل کے بغیر کہیں جانے کو دل بھی نہیں کررہا تھا۔
“تو کیا میں تمہیں ناچ کے دکھاؤں؟”
اسے احساس بھی نہ ہوا وہ غصے میں کیا کہہ گئی تھی۔
“اگر ایسا ہو جائے تو مزہ آجائے گا۔۔۔”
رائد نے اسکے چہرے پر چڑ دیکھتے لطف اٹھایا تھا۔
“اپنی بکواس بند کرو اور نکلو یہاں سے۔۔۔”
“اچھا یعنی اب میں اپنے ہی کمرے سے دفاع ہوجاؤں؟”
اسنے اپنے اوپر انگلی رکھی تھی۔۔
“رہو تم اپنے آستانے میں۔ مَیں ہی چلی جاتی۔۔!”
پیر پٹخ کر وہ باہر جانے لگی
“ارے۔۔یہ میرا نہیں ہمارا آستانہ ہے۔۔۔”
رائد نے مسکراہٹ دباتے اسکی پشت کو دیکھا۔ وہ اسکی بات نظر انداز کرتی واک آؤٹ کر گئی۔ جتنا آج رائد مستی کے موڈ میں تھا اتنا کی یَشل کے موڈ کا بیڑا غرک ہوا تھا۔
“تمہیں کیا ہوا ہے۔۔؟”
اسنے یَشل سے سوال کیا تھا جو نجانے کون سے مراقبے میں کھوئی اپنے گرد موٹی شال لپیٹے لاونج میں بیٹھی کافی کے چھوٹے چھوٹے سپ لے رہی تھی۔
“کیا ہوگا مجھے۔۔۔”
وہ بغیر دیکھے بولی تھی۔
“یہی میں پوچھنا چاہ رہا۔۔۔تمہیں اندازہ بھی ہے صبح سے تمہارا موڈ کتنا خراب ہے؟”
“ہاں۔۔۔”
یک لفظی جواب دیتے اسنے بات ختم کرنا چاہی تھی۔ وہ اِس وقت اُس سے بات نہیں کرنا چاہتی تھی۔ اسکا دل بار بار اسے ملامتا تھا اور پچھلے کچھ دنوں سے یہ بہت زیادہ ہونے لگا تھا کیونکہ اب وہ مطمعین ہوگئی تھی یہ جانتے ہوئے بھی کہ جس کی طرف اسکا جھکاؤ بڑھ رہا ہے وہ رائد نہیں بلکہ اس میں نظر آتا وہ عکس ہے جس کی دن با دن وہ خود کو عادت ڈال رہی تھی اور اب وہ اس الیوژن سے تھکنے لگی تھی۔ اسکا دل اسکو نادر کرتا رہتا وہ اپنی ہی نظروں میں مجرم ٹہر گئی تھی۔ اسے اپنا وجود بھی برا لگ رہا تھا جو ایک پاک رشتے میں شاید۔۔شاید ملاوٹ کر رہی تھی۔ وہ رائد کو قبول کر گئی تھی۔۔۔یہ شاید محض ایک دلاسہ تھا جو اسنے خود سمیت سب کو دیا تھا کیونکہ رائد کو وہ چاہ کر بھی قبول نہیں کر پائی تھی۔ وہ خوش تھی تو صرف اس عکس کے ساتھ جو اسے رائد اور اس گھر میں نظر آتا تھا اور اسکے اندر کا مجرم اب اسکو اضطراب میں مبتلا کر رہا تھا۔ ڈپریشن، انژائیٹی، غصہ، چڑچڑا پن طبعیت میں بہت زیادہ گھل گیا تھا اور اب تو وحشت بھی بڑھ گئی تھی۔ اس گھر کی خاموشی کاٹ کھانے کو دوڑ رہی تھی۔ رائد پہلے سے زیادہ مصروف ہوگیا تھا وہ دو بجے گھر آجایا کرتا تھا مگر اب پانچ بجے اسکی واپس ہوتی۔ کبھی کبھی یَشل کا دل کرتا تھا وہ واپس کراچی چلی جائے مگر ممکن نہ تھا۔ آبی ملتان تھی تو گھر میں اکیلے رہنے کی اجازت اسے کوئی نہ دیتا اور کراچی میں اکیلے رہنے سے بہتر اس گھر میں رہنا تھا۔ عدنان صاحب کے گھر رہنا یعنی اپنی کٹھن زندگی کو مزید کٹھن کردینا۔ وہ دو دن سے یہی سوچ رہی تھی کہ آبی کے پاس ملتان چلی جائے مگر یہ بھی ناممکن سا تھا۔ رائد تو کیا عادل بھی اسے کبھی اجازت نہ دیتا۔ آبی تو خوشی خوشی اسے آنے دیتی مگر عدنان بہت خفا ہوتا اور وہ خود بھی وہاں کیسے رہتی وہ صرف آبی نہیں بلکہ ان کے بیٹوں کا گھر بھی تھا۔
“یَشل۔۔۔۔”
رائد کی آواز پر وہ ایسی ہوئی جیسے کسی خواب سے جاگی ہو۔۔۔
“مجھے ڈسٹرب مت کرو رائد۔۔۔”
وہ سنجیدگی سے اسکی طرف دیکھتے ہوئے بولی
“کیا مسئلہ ہے یار۔۔۔۔!”
وہ بری طرح زچ ہوگیا
“کوئی مسئلہ نہیں ہے۔۔۔تم ہی بلاوجہ مسئلے پیدا کر رہے ہو”
وہ ابھی بھی اتنی ہی سنجیدگی سے اسے دیکھ رہی تھی۔
“میں مسئلے پیدا کر رہا ہوں؟ تم نے خود کو دیکھا ہے دو دن سے عجیب۔۔۔ کس بات کی ٹینشن ہے بتاؤ گی؟”
“میں نہیں بتانا چاہتی تم کیوں مجھے کرید رہے ہو۔۔۔؟”
اسکی آواز کچھ اونچی ہوئی تھی
“کیوں نہیں بتانا چاہتی؟ اگر تم بتاؤ گی نہیں تو ہم مسئلہ کیسے حل کریں گے۔۔؟” اسنے نرم لہجہ اپنایا
“مجھے نہیں کرنا مسئلہ حل۔۔”وہ اس پر سے نظر ہٹا گئی
“مگر کیوں۔۔۔؟”
“کیونکہ اسکا کوئی حل نہیں۔۔تم بھی کچھ نہیں کر سکتے” وہ اٹھ گئی تھی
“میں تمہارا یہ رویہ برداشت نہیں کر سکتا۔۔۔”
رائد کے لہجے میں غصہ تھا
“تو مت کرو۔۔۔مخاطب ہی مت کرو مجھے!”
عرصہ پہلے بولا گیا جملہ ایک بار پھر بولا تھا۔
“کیوں مخاطب نہ کروں؟بیوی ہو تم میری۔۔”
وہ اٹھ کر اسکی بازو گرفت میں لے گیا تھا
“اچھا تو؟ کتنی بار جتاؤ گے تم یہ فضول سی بات؟”
اسکا لہجہ تیز ہوگیا تھا۔
“آرام سے بات کرو یَشل۔۔۔!”
رائد کو یشل کا یہ انداز ناگوارہ گزرا تھا۔
“نہیں کرونگی آرام سے بات۔۔۔کیا بگاڑ لو گے؟ کر ہی کیا سکتے ہو تم شوہر ہونے کا حق جتانے کے علاؤہ؟”
اسکے لہجے کی تلخی پر رائد نے بےیقینی سے اسے دیکھا تھا۔
“یَشل۔۔۔۔”
“پلیز رائد۔۔۔مجھے اس گھر میں وحشت ہونے لگی ہے مجھے ملتان چھوڑ آؤ۔۔!”
اسنے بڑے ضبط سے کہا۔ رائد کی حیرت میں کچھ اور اضافہ ہوا۔
“ملتان۔۔۔؟”
“ہاں۔۔۔میں آبی کے پاس جانا چاہتی ہوں”
اسکی مشکل کچھ آسان ہوئی تھی رائد نے ہکا بکا ہوتے اسکی بات سنی تھی۔ چند لمحے وہ کچھ کہہ نہ سکا۔
“تمہارا دماغ ٹھیک ہے۔۔؟ تم۔۔۔تم اپنا گھر چھوڑ کر اپنا شوہر چھوڑ کر ملتان میں رہنا چاہتی ہو؟”
وہ ششد تھا اسکی خواہش پر
“نہیں۔۔مختصر طور پر جانا چاہتی ہوں کچھ دن کے لئیے۔۔ایڈمیشنز اوپن ہوتے تو میں ایڈمیشن لے لیتی مگر یہ ممکن نہیں فلحال۔ آبی کے پاس جانا ہی ممکن ہے”
اسکا لہجہ اب ہلکا تھا۔ وہ سنجیدہ تھی مگر غصہ یا تیز نہیں ہوئی تھی۔
“تم نہیں جاسکتی۔۔۔!”
اسنے صاف لفظوں میں کہا تھا۔
“پلیز رائد۔۔۔تم کیا چاہتے ہو میں ادھر رہ رہ کر پاگل ہو جاؤں۔۔۔؟”
رائد خاموشی سے اسے دیکھنے لگا تھا۔ وہ اپنا ہاتھ چھڑواتی ہال سے نکل کر اس کمرے میں چلی گئی جہاں وہ نکاح سے پہلے قیام پزیر تھی۔
رائد ویسے ہی کھڑا رہا جیسے کچھ سمجھنے کی کوشش کر رہا ہو، الجھن کا شاکر ہو، کسی کشمکش میں ہو یا کسی حل کی تلاش میں۔۔۔
غلط شاید وہ بھی نہ تھی کیونکہ جس کیفیت کا وہ شکار تھی اسے کوئی نہیں سمجھ سکتا تھا۔
☆ ★ ✮ ★ ☆
“قرت بیٹھ جاؤ۔۔۔”
کافی کا کپ سائیڈ ٹیبل پر رکھتی وہ جانے ہی لگی تھی جب ارمغان نے اسے مخاطب کیا تھا۔ وہ خاموشی سے صوفے پر بیٹھی تو ارمغان بیڈ سے اترا اور کافی کا کپ اٹھاتا اسکے ساتھ بیٹھ گیا۔
“رشتے سے کیون انکار کر رہی ہو تم۔۔۔؟”
ارمغان کی جانب سے ہونے والے اس سوال کی توقع اسے بلکل بھی نہ تھی وہ بھی بغیر بات گھمائے پھرائے، صاف لفظوں میں کیا گیا سوال۔۔وہ چند لمحے کچھ حیران ہوئی۔
“ہاں بھی کیوں کروں میں۔۔؟”
اسنے کافی کا کپ دونوں ہاتھوں سے پکڑتے اسکی گرماہٹ محسوس کی۔
“انکار بھی کیوں کرو۔۔۔؟کوئی وجہ تو دو یار۔۔۔”
اسکے لہجہ ایسا نہیں تھا جس سے قرت کو لگتا کہ وہ اس کو فورس کر رہا ہے۔
“کیا یہ وجہ کافی نہیں کہ میں انٹرسٹڈ نہیں ہوں؟”
اسنے ارمغان کی طرف دیکھتے جواباً سوال کیا۔
“کسی اور میں انٹرسٹڈ ہو۔۔؟”
اتنے ڈائیریکٹ سوال پر وہ اپنی جگہ سے ہل بھی نہ سکی۔۔۔
“مجھ سے کسی نے کچھ کہا نہیں مگر میں پوچھ رہا ہوں اس امید کے ساتھ کہ تم مجھے بھائی نہیں بلکہ دوست سمجھ کر وہ بتاؤ گی جو سچ ہے”
اسکا لہجہ ایسا بھی نہیں تھا جیسے اُسے قرت پر شک ہو۔ وہ بلکل عام لہجے میں بات کر رہا تھا جیسے اسکی پڑھائی کہ متعلق بات ہورہی ہو۔
وہ ابھی بھی خاموش تھی۔ ذہن اچانک ہی خالی سا ہوا تھا۔
“بھائی۔۔۔۔ایسا۔۔۔ایسا کچھ نہیں ہے”
اسنے منمناتے ہوئے کہا تھا جس سے ارمغان کو اندازہ ہوا وہ سچ نہیں بول رہی تھی۔ اسکی بہن تھی، اسکے قریب رہی تھی، وہ اس سے اچھے سے واقفیت رکھا تھا۔
“پھر کیسا ہے قرت۔۔۔” اسنے دونوں ہاتھوں کی انگلیاں آپس میں پھنسا کر کہنیا گٹھنوں پر رکھی اور آپس میں الجھی انگلیاں ٹھوڑی تلے رکھتے وہ چہرا موڑ کر اسے دیکھنے لگا۔ اسکے ایسا کرنے پر وہ گڑبڑانے لگی تھی۔
“میں جانتا ہوں تم ایسی نہیں ہو کہ بلاوجہ ہی ضد پکڑ لو۔۔ تمہارا دل آمادہ نہیں؟ اسکی بھی کوئی وجہ ہوگی نا۔۔۔تمہیں عبداللہ پسند نہیں؟ اس کو ناپسند کرنے کی بھی تو کوئی وجہ ہوگی۔۔۔”
وہ اپنے مخصوص انداز میں بڑی ہی نرمی سے بات کر رہا تھا۔ اسے اندازہ ہوگیا تھا کہ وہ گھبرانے لگی تھی۔ ارمغان نے لہجہ عام رکھتے ہوئے اسکی گھبراہٹ دور کرنے کی کوشش کی تھی۔ وہ اسے کریدنا نہیں چاہتا تھا مگر انکار کی وجہ چاہتا تھا۔
“ابھی میں شادی نہیں کرنا چاہتی۔۔۔”
“ابھی شادی کروا کون رہا ہے؟”
کہیں نہ کہیں اسے اندازہ تھا وہ یہی کہے اور جواب بھی اسنے سوچ رکھا تھا۔ قرت ہونٹ کچلنے لگی۔
“قرت۔۔۔ مت بتاؤ کچھ لیکن کوئی بہانہ بتا دو جسے میں امی تک پہنچا دوں”
اسنے کافی کا کپ اٹھاتے لبوں سے لگایا۔
“کوئی بہانہ بنتا تو میں خود امی کے سامنے ہی بنا دیتی۔۔۔مگر وہ بھی تو روایتی ماں کی طرح مجھے فورس کرنے لگ گئی ہیں بھائی۔۔”
اسنے ماں کی شکایت کرنے والے انداز میں کہا تو ارمغان نے سر ہلایا۔
“امی کو لگتا ہے کوئی بہتر رشتہ مل ہی نہیں سکتا۔۔۔”
“آج کل کے زمانے میں واقعی نہیں مل سکتا۔۔۔”
ارمغان نے اسکی طرف دیکھا تو وہ خفگی سے اسے دیکھنے لگی۔
“آپ کو امی کا پیارا بیٹا ہونے کا ثبوت دینے کی قطعاً کوئی ضرورت نہیں۔۔۔”
اسکی بات پر وہ ہنس دیا پھر چند لمحوں کی خاموشی آئی۔
“میں تمہارا پیارا بھائی ہونے کا ثبوت دینا چاہتا ہوں قرت۔۔۔”
اسنے سنجیدگی سے کہا تو قرت اسے خاموشی سے دیکھنے لگی۔ یہی وہ لمحہ تھا جہاں اسکا دل ارمغان کو حقیقت بتانے پر آمادہ ہوا تھا۔ اسے لگا وہ دس سیکنڈ بھی ضائع کردے گی تو اسکا دل بدل جائے اور اسنے یہ دس سیکنڈ ضائع نہیں کئیے تھے۔
“میں کسی کو پسند کرتی ہوں۔۔”
بہت مشکل سے کِیا گیا یہ اقرار اسکی آنکھوں میں سمندر کھینچ لایا تھا۔ نظروں کے ساتھ گردن بھی جھگ گئی تھی۔ یہ چھ حرف بولنا کتنا مشکل عمل تھا شاید وہ کبھی لفظوں میں بیان نہ کر پاتی۔
ارمغان کے تاثرات نہیں بدلے تھے۔ مگر آنکھیں۔۔۔ آنکھوں میں کچھ پرسکون سا تاثر ابھرا تھا۔
“اب تم بےفکر ہو جاؤ۔۔”
اسنے قرت کے ہاتھ پر ہاتھ رکھتے اسے تسلی دی تو قرت نے پہلے وہ بھاری ہاتھ اور پھر لبلبی آنکھوں سے ارمغان کو دیکھا۔۔۔ حیرت اور بےیقینی کی کیفیت میں۔۔۔
“کچھ پوچھیں گے نہیں۔۔۔؟”
“نہیں۔۔میرے لیے یہ وجہ جاننا ہی کافی ہے، جس کی بنا پر تم انکار کر رہی تھی۔ یہ حقیقت بتانا اتنا آسان کام نہیں تھا اور میں تمہیں دوسری مشکل میں نہیں ڈال سکتا۔۔۔وقت کے ساتھ مجھے میرے سوالات کے جواب مل ہی جائیں گے۔۔۔”
وہ اسے کٹہرے میں کھڑا نہیں کرنا چاہتا تھا۔ اسکی کیفیت کو سمجھ سکتا تھا مگر اسے اندازہ نہیں تھا کہ اُن “سوالات” کے جواب بھی اسے آج ہی مل جانے والے تھے۔
“تھینک یو بھائی۔۔۔ لیکن آنے والے وقت میں اگر آپ کو لگے کہ میں نے کچھ غلط کیا ہے یا کوئی ایسی بات ہو جائے جس پر آپ کو یقین کرنا مشکل لگے تو میں پہلے سے سوری کہتی ہوں۔۔”
وہ دوبارہ سر جھکا گئی تھی۔ اسکی بات پر ارمغان نے کچھ ناسمجھی اور اچھنبے سے اسے دیکھا۔
آپ سوجائیں۔۔۔میں چلتی ہوں”
پلکوں کی باڑ توڑ کر گرنے والے آنسو کو رگڑتی وہ اٹھی اور اپنا ٹھندی کافی سے بھرا ہوا کپ اور ارمغان کا خالی کپ اٹھا کر وہ دروازے کی طرف بڑھی پھر رک گئی
“بھائی۔۔۔”
وہ پیچھے پلٹی تو ارمغان اسی کو دیکھ رہا تھا۔
“آپ کو ایک نہیں۔۔۔نئے بننے والے دونوں رشتوں کو روکنا ہوگا۔۔۔”
اسکی بات پر ارمغان نے الجھ کر اس کو دیکھا جو نظریں چراتی کمرے کا دروازہ بند کرکہ چلی گئی تھی۔
“دو رشتے۔۔؟” اسنے خودکلامی کی
“بہو لانا چاہ رہی ہیں تمہاری پھپھو۔۔۔”
“صبیحہ تو تیار ہے بس تم قرت سے بات کرلو میں تو چاہتی ہوں دونوں رشتے ساتھ تہ ہو جائیں۔۔۔”
ارمغان کے ذہن میں افہام اور عطیہ کی آواز ابھری۔ اگلے ہی پل ایک جھماکا تھا جو اسکے ذہن میں ہوا تھا۔ اسنے بےیقینی کی کیفیت میں نظر اٹھا کر بند دروازے کو دیکھا۔
☆ ★ ✮ ★ ☆
وہ جیسے ہی اپنے کمرے میں داخل ہوئی تو افہام کو وہاں کھڑا دیکھ کر ٹھٹھک گئی
“آپ یہاں کیا کر رہے ہیں۔۔۔؟”
سپاٹ لہجے میں دروازے کے پاس کھڑے کھڑے سوال کیا
“اندر آؤ تم۔۔۔”
افہام نے اسکو بازو سے پکڑ کر اندر کھینچا اور دروازہ بند کرتے لاک کیا
“کیا ہے افہام۔۔۔؟” اسنے اپنے بازو چھڑوائی۔
“کہاں تھی تم۔۔۔؟”
“ارمغان بھائی کے پاس تھی کیا ہوگیا ہے۔۔۔ آپ یہاں کیوں آئے ہیں؟”
افہام خاموشی سے اسکے چہرے کو دیکھنے لگا جہاں افہام کو دیکھ کر چڑ واضح ہوئی تھی۔
“کیونکہ میں تھک گیا ہوں تم آخر چاہتی کیا ہو قرت۔۔۔؟”
اسنے ایک قدم آگے ہوتے قرت کی بازو کو گرفت میں لیا تھا۔
“تھوڑا ٹائم گزرتا نہیں ہے اور تم میرا سکون برباد کردیتی ہو بلاوجہ بغیر کسی بات کہ۔۔۔ہو کیا جاتا ہے تمہیں۔۔۔اب اگر میں تم سے پوچھوں کے اتنے دنوں سے تمہارے موڈ کو کیا ہوا ہے تو تم کہو گی کچھ نہیں ہوا لیکن مجھے وجہ جاننی ہے۔۔۔!”
وہ اپنی گرفت میں موجود اسکی بازو کو ہلاتا غصے پر قابو رکھنے کی کوشش کر رہا تھا۔
“بازو چھوڑیں میرا۔۔۔”
اسنے اپنی بازو دیکھتے اسے کہا تھا۔ افہام چند لمحے اسے دیکھے گیا پھر اسکی بازو چھوڑ دی۔
“شکریہ۔۔۔”
وہ اس سے دور ہوتی بیڈ کے پاس جا بیٹھی۔
“بینا نے آپ اسے کانٹیکٹ کِیا۔۔۔؟”
اطمینان سے کئیے گئے اسکے سوال پر افہام اچھل پڑا
“کیا۔۔۔؟”
اسے لگا سننے میں غلطی ہوئی ہے
“اتنے حیران کیوں ہو رہے ہیں۔۔؟”
اسنے افہام کے چہرے پر رنگ اڑتے دیکھا تھا۔
“تم۔۔۔۔کیا پوچھا تم نے؟”
“یہی کہ آپ کی “ایکس گرل فرینڈ” کا کانٹیکٹ آپ سے ہوگیا کیا؟”
اسنے لفظوں پر زور دے کر کہا تو افہان کا رنگ کچھ اور اُڑا
“تم بینا کے بارے میں جانتی ہو۔۔۔؟”
اسنے حیرانی سے سوال کیا تھا۔
“کاش نہ جانتی ہوتی۔۔۔”
اسے واقعی خود پر افسوس ہوا تھا بینا کے بارے میں جان کر
“کک۔۔۔کیا کچھ جانتی ہو تم؟”
اسنے شدت سے دعا کی تھی وہ ساری بات سے باخبر نہ ہو۔۔
“سب کچھ جانتی ہوں۔۔ہر وہ بات جو اپنے مجھے نہیں بتائی”
وہ تلخی سے بولی تھی۔
“تمہیں کس نے بتایا۔۔۔؟”
وہ مرے قدموں سے چل کر اسکے سامنے آیا
“کیا فرق پڑتا ہے اس بات سے۔۔۔؟”
وہ ایک دم ہی درشتگی سے بولتی اٹھ کھڑی ہوئی
“کیا یہ جاننا کافی نہیں ہے کہ میں ساری حقیقت جانتی ہوں۔۔۔! آپ نے سوال کیا کہ مجھے کیا ہوا ہے۔۔مل گیا آپ کو آپ کا جواب؟ جائیں اب یہاں سے”
لہجہ تراش تھا اور آنکھوں میں آنسوؤں کے ساتھ غصہ، دکھ، تکلیف اور بھی بہت کچھ تھا۔
“قرت آرام سے۔۔۔”
اسکی اونچی آواز پر اسنے دروازے کی جانب دیکھا۔
“افہام پلیز یہاں سے چلے جائیں۔۔۔”
اس بار قرت نے آواز ہلکی رکھی۔
“میں نہیں جاؤں گا۔۔۔تم بیٹھ کر میری بات تو سن لو”
اسنے قرت کے دونوں بازو پکڑتے اسے بٹھانا چاہا مگر قرت نے اسکے ہستھ جھٹک دئیے۔
“کیا سن لوں؟ سننے کے لیے کچھ باقی ہے؟ آپ ایک لڑکی میں اس حد تک انٹرسٹڈ تھے کہ رشتہ بھی ہونے کو تھا اور میں۔۔مجھے کبھی اس بات کی بھنک تک نہیں پڑی۔۔۔”
وہ استہزائیہ ہنسی۔۔
“آپ کو پتا ہے مجھے اپنا آپ اس وقت دنیا کا سب کا سب سے بڑا بےوقوف محسوس ہورہا ہے۔۔۔”
اسکی آنکھ سے آنسو نکل آئے تھے جن کو روکنے کی اسنے بھرپور کوشش کی تھی۔
“قرت تم رو نہیں سکتی اس ٹائم۔۔۔”
اسکے آنسوؤں دیکھتے وہ کمزور لہجے میں بولا۔
“تو کیا مجھے خوشی سے ناچنا چاہیے؟”
اسکی بات پر افہام نے بالوں میں انگلیاں پھیری تھی۔ اچانک سے پیدا ہونے والی اس سچویشن کو سنبھالنا مشکل تھا۔ وہ کیا کچھ جانتی تھی اور کیا نہیں۔۔یہ سوال اب فضول تھا۔ کوئی وضاحت، جھوٹ بھی بیکار تھا۔
“قرت بیٹھ کر بات کرتے ہیں۔۔۔”
اسنے زبردستی قرت کو بیڈ پر بٹھایا اور خود بھی اسکے ساتھ بیٹھا تو قرت اسے دیکھنے لگی۔
“بیٹھ گئی ہوں بولیں اب۔۔۔کوئی جواز ہے آپ کے پاس پیش کرنے کے لیے۔۔؟”
اسنے آنسو صاف کرتے سنجیدگی سے اسے دیکھا۔ افہام نے ایک گہری سانس لی۔
“قرت۔۔۔وہ میرا ماضی تھا۔۔۔”
اس کے علاؤہ شاید وہ اور کچھ نہیں کہہ سکتا تھا
“تو۔۔؟”
“تو یہ کہ تمہارا اس سے کوئی تعلق نہیں ہونا چاہیے۔۔۔تمہارے ساتھ کوئی بےوفائی تو نہیں کی نہ میں نے”
وہ اسکو دیکھتا سنجیدگی سے بولا۔ قرت اسے دیکھے گئی تھی۔
“جو کچھ تھا۔۔وہ پہلے کی بات ہے۔۔اسکی جگہ نہ تو میرے پریزنٹ میں ہے اور نہ ہی فیوچر میں۔۔اگر تم نے سنا ہو کہ میں نے تمہارے ساتھ ہوتے ہوئے ایسا کچھ کیا ہے تو پھر تم جو مرضی کہو اور کرو۔۔۔ ایک لفظ تک نہیں کہوں گا مگر جو ہو چکا ہے عرصہ پہلے۔۔۔ اس کو ہمارے درمیان لاکر رشتہ کیوں خراب کر رہی ہو؟”
وہ دم سادھے اسے دیکھ رہی تھی۔ آنکھوں میں اٹکے آنسو باہر نہیں آئے تھے۔
“میں جانتا تھا کہ تمہیں کبھی نہ کبھی یہ سب بھی پتا لگ جائے گا مگر مجھے لگا تھا تم سمجھداری سے کام لو گی۔۔۔!”
وہ مایوس لگا تھا جیسے اس نے قرت سے اس بچگانہ روئیے کی توقع نہ رکھی ہو۔
“تم مجھ سے صرف اتنا پوچھ سکتی تھی کہ بینا نے مجھ سے کانٹینٹ کِیا ہے یا نہیں۔۔۔کی تھی اسنے کوشش لیکن میں نے اسے شاٹ اپ کال دے دی تھی”
وہ خاموش تھی۔ افہام کو لگے گا وہ کچھ کہے گی مگر کافی دیر گزر گئی وہ ویسے خاموشی سے اسے دیکھتی رہی۔ وہ اندازہ نہیں لگا پارہا تھا کہ افہام کی باتوں پر وہ حیران ہے، کچھ سوچ رہی ہے یا کچھ دیر پہلے کہی گئی اپنی باتوں پر نادر ہے۔ اسکی خاموشی پر وہ بیڈ سے اٹھ کر کمرے سے نکلنے لگا۔
“پتا ہے افہام۔۔۔بینا کا ذکر اتنا برا نہیں لگا جتنی یہ سوچ بری لگی کہ۔۔۔جو بھی سُنا، جب بھی سُنا کسی اور کہ منہ سے ہی سُنا۔۔۔”
وہ رک گیا تھا مگر پلٹا نہیں تھا۔ اسے اندازہ ہوگیا تھا وہ اب رو رہی تھی۔
“میں بچی نہیں ہوں افہام کہ ماضی کی بنیاد پر تعلقات خراب کروں۔ مجھے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ آپ بینا میں انٹرسٹڈ تھے یا کسی اور میں۔۔اگر مجھے فرق پڑتا ہے تو بس اس بات سے کہ۔۔۔جو بات مجھے آپ کے منہ سے سننی چاہیے تھی وہ دوسروں سے کیوں سنی ہے میں نے۔۔۔؟ کیا آپ کو مجھ پر اعتبار نہیں تھا کہ آپ خود مجھے سب بتاتے؟ کوئی جرم تو نہیں تھا یہ جسے چھپایا جاتا۔۔”
وہ اپنی پشت پر گڑھی اسکی نظریں محسوس کر سکتا تھا۔ افہام کو وجود پتھرا سا گیا تھا۔ اسے اندازہ نہیں تھا کہ قرت کے دل پر لگنے والی ضرب کی وجہ یہ ہوگی۔ گلے میں گلٹی ابھر کر معدوم ہوئی تھی۔
“آپ کو پتا تھا کہ جو بات ڈیڑھ، دو سال پہلے گھر میں ہوئی تھی، جس سے میں لاعلم رہ گئی تھی، وہ کبھی نہ کبھی تو میرے علم میں آئے گی۔ یہ بات جانتے ہوئے بھی آپ نے خود کیوں کچھ نہیں کہا۔۔؟”
وہ اٹھ کر اسکے سامنے آئی تھی۔ چہرا بھیگ گیا تھا اور آنسو نکلتے جارہے تھے۔
“آپ خود بتا دیتے تو میں ایک لفظ نہ کہتی افہام۔۔۔”
اس کے رونے میں روانی آگئی تھی۔ افہام نہ تو اپنے قدم ہلا سکا نہ ہی زبان مگر اگلے ہی پل قرت کا وجود پتھرا سا گیا۔
افہام نے اسکو بازو سے کھینچتے اپنے سینے سے لگایا تو اسکا سانس رک گیا۔
“آئی ایم سوری۔۔۔”
وہ سرگوشی نما آواز میں بولا تو قرت کی ریڑھ کی ہڈی میں سنسناہٹ ہوئی۔ افہام کی بڑھی ہوئی دھڑکن کو وہ بخوبی سن سکتی تھی مگر اسکا اپنا دل حلق میں آیا تھا۔
“افہام چھوڑیں مجھے۔۔۔” اسنے دور ہونا چاہا۔
“پلیز۔۔۔ آئی ایم سو سوری۔۔۔مجھے اندازہ نہیں تھا کہ یہ بات تمہیں اس طرح سے پتا لگے گی۔۔ مجھے نشہ نے پہلے ہی کہا تھا کہ میں تمہیں بتا دوں مگر میں نے دیر کردی۔۔۔”
وہ ویسے ہی ہلکی آواز میں اسے بتا رہا تھا۔ قرت نے بھری ہوئی آنکھوں کے ساتھ ہونٹ چبائے۔
“لیکن میں تم سے معافی مانگتا ہوں۔۔تم رویا مت کرو تمہاری ناراضگی برداشت کرنا میرے بس میں نہیں ہے۔۔۔ مجھے غصہ آتا ہے جب تم بات نہیں کرتی وجہ نہیں بتاتی۔۔”
وہ اسے ہلکا سا دور کرتے اسکے آنسو صاف کر رہا تھا۔
“ہم صبح بات کریں گے اس بارے میں۔۔۔ آپ۔۔ آپ جائیں ابھی”
اپنی تیز ہوتی دھڑکن سنبھالتے وہ اس سے دور ہوتی راستے سے ہٹی۔
“ابھی بات کرلیتے ہیں نہ۔۔۔” اسنے منت کی تھی۔ قرت خاموش رہی جیسے سننا چاہ رہی ہو کہ کون سی “بات” کرنا چاہ رہا اب وہ۔۔۔افہام اسکا ہاتھ پکڑتے اسے صوفے تک لایا اور خود بیٹھ کر اسے بھی بیٹھنے کا اشارہ کیا۔ وہ خاموشی سے صوفے پر بیٹھ گئی۔
“قرت میں اسے پسند کرتا تھا۔۔۔ہم سیریس تھے مگر وہ سب پہلے کی بات ہے اور اب۔۔”
اسںے بولنا شروع کیا مگر قرت نے بات کاٹ دی
“افہام۔۔مجھے جتنا جاننا تھا میں اتنا جان چکی ہوں۔ جو کچھ بھی تھا وہ اب نہیں ہے اور میں مزید کچھ سننا بھی نہیں چاہتی۔۔۔ آپ کسی اور بارے میں بات کرنا چاہتے ہیں تو کریں۔۔۔”
قرت نے صاف لفظوں میں اسے موضوع بدلنے کو کہا تھا۔ افہام گہرا سانس لے کر رہ گیا۔
“جب ماضی سے تعلق نہیں تو اب بھی ناراض کیوں ہو؟ اب تو معاف کردو یار۔۔۔”
اسنے قرت کا ہاتھ پکڑا تو وہ اسے خفگی سے دیکھنے لگی۔
“شادی ہونے والی ہے آپ کی بہت جلد۔۔۔میں ناراض بھی نہیں ہوسکتی؟”
آنکھیں ایک بار پھر لبلبہ گئی یہ جانتے ہوئے بھی کہ اب ایسا نہیں ہوگا۔
“اوففف میرے خدایا۔۔۔”
اسنے باقاعدہ ماتھا پیٹا
“میری اماں کسی صورت مجھے سکون سے نہیں رہنے دیں گی۔۔۔۔ ویسے اگر شادی ہورہی تو ہونے دو۔۔جب تم شادی کے لیے تیار ہوگئی تو تم سے بھی کر لوں گا”
وہ لہجہ سنجیدہ رکھتے اب اسے چھیڑ رہا تھا مگر اسکی شرارت محسوس نہ کرتی قرت سنجیدہ ہوگئی۔
“افہام۔۔۔۔!”
“جی افہام کی جان۔۔۔”
اسکی معصومیت پر وہ عش عش کر اٹھی تھی۔ کچھ کہنے کو لب وا کئیے مگر سمجھ ہی نہ آیا کیا کہے
“آپ۔۔۔ صبیحہ پھپھو نے آپ کے کہنے پر ہاں کی ہے؟”
وہ سوالیہ نظروں سے اسے دیکھنے لگی تو افہام نے سر اثبات میں ہلایا۔ قرت کی بھیگی آنکھیں حیرت سے پھیل گئی۔
“مجھے پتا تھا۔۔۔کتنے بےشرم انسان ہیں آپ”
وہ صدمے سے بولی تو افہام نے بےساختا قہقہہ لگایا۔
“مذاق کر رہا ہوں یار۔۔۔”
قرت اسے گھورنے لگی پھر سنجیدہ ہوتی ہوئی بولی۔
“افہام۔۔۔ صبیحہ پھپھو سے بات کریں یار وہ ایسے کیسے خود سے ہاں کر سکتی ہیں؟ یہ ہماری ماؤں کو ہو کیا گیا ہے؟”
اسکے لہجے میں پریشانی اور جھنجھلاہٹ تھی۔
“قرت۔۔اتنی پریشان کیوں ہورہی ہو یار۔۔؟ ابھی تو رشتہ بھی پکا نہیں ہوا”
“آپ سمجھ نہیں رہے۔۔ بات گھر میں ہوئی ہے تو رشتہ بھی پکا ہو ہی جائے گا اور۔۔۔میں یہ سب برداشت نہیں کر سکتی افہام۔۔آپ صرف میری ملکیت ہیں اور آپ کے معاملے میں حد سے زیادہ کمزور ہوں میں۔۔۔”
وہ اُسکی طرف دیکھتے ہوئے بولی۔ آنکھیں دوبارہ بھر آئی تھی۔
“یقیناً صبیحہ پھپھو نے کال کرکہ ہاجرہ آنٹی کو ہاں کردی ہوگی اور آپ کے خیال سے وہ انکی بیٹی ثناء۔۔۔اسے یہ بات معلوم نہیں ہوگی؟ مجھے کِسی بھی صورت یہ قبول نہیں کہ کوئی اور لڑکی آپ کے بارے میں سوچے بھی اُن کو پتا ہونا چاہیے کہ آپ صرف قِرت عدنان کے ہیں۔۔۔اور قِرت آپ کو ہرگِز نہیں بانٹ سکتی”
وہ اُسکے قریب بیٹھی اُسکی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے خوبصورتی سے محبت کا اظہار کر رہی تھی۔۔کاش وہ اُسے بتا سکتا کہ اِس وقت افہام کو وہ اپنے دل کے کس قدر قریب محسوس ہورہی تھی۔ پہلی بار اتنے صاف لفظوں میں اتنی خوبصورتی سے اظہار کیا تھا۔ افہام کا دل چاہا کہ وقت رک جائے یا وہ لمحے کو قید کرلے۔ سرخ ہوتی ناک اور رونے کے باعث سرخ ہوتی سوجی آنکھوں سے اظہار کرتی وہ اتنی معصوم لگی تھی کہ وہ اسکی من موہنی صورت میں کھونے لگا تھا۔
کہاں وہ کچھ دیر پہلے اسے کمرے سے نکل جانے کا کہہ رہی تھی اور اب ساری باتیں بھلائے وہ اسکے قریب بیٹھی تھی۔
“افہام۔۔۔ایسے کیا دیکھ رہے ہیں؟؟آپ پھپھو جان کو انکار کب کریں گے؟؟”
اسکی آواز پر وہ ہوش میں آیا۔
“قرت۔۔۔تُم ایسے پریشان ہورہی ہو جیسے رشتہ پکا ہوگیا۔”
وہ نرم مسکراہٹ لیے اسنے وہی بات دوہرائی تو قرت اُس سے دور ہوئی
“تو آپ انتظار میں بیٹھیں ہیں کہ آپکا رشتہ پکا ہوجائے؟؟”
وہ غصے میں بولی تو افہام نے اُسے کھینچ کر دوبارا اپنے قریب کیا۔
“میں اِس انتظار میں بیٹھا ہوں کہ میرا رشتہ پکا ہوجائے لیکن تمہارے ساتھ۔۔ اور میں صرف رشتہ نہیں بلکہ ڈائریکٹ شادی کرنا چاہتا ہوں”
جتنے آرام سے وہ بولا تھا اُتنی ہی زور سے قِرت کا دِل دھکڑا تھا۔۔۔آنے والی مسکراہٹ چھپانے کے چکر میں چہرا جھکا گئی تو افہام ہنس دیا
“وہ ہاجرہ آنٹی سے کچھ نہیں کہیں گی۔۔۔میں نے امی سے وقت مانگا ہے، امی تب تک کچھ نہیں کریں گی جب تک میں نہیں کہوں گا اور رشتہ انہوں نے پینڈنگ پر رکھا ہوا ہے کہ اگر کچھ عرصے تک میں پسند کی لڑکی اُن کے سامنے نہ لایا تو وہ مجھ سے بغیر پوچھے رشتے کے لیے ہاں کردیں گی۔۔۔”
وہ آرام سے اُسے سمجھاتا ہوا بولا تو قِرت نے اُسکی طرف دیکھا۔ اُسکی آنکھوں میں سوال تھا اور اُس سوال کو وہ پڑھ چکا تھا
“میری جان میں تمہاری پرھائی کی وجہ سے خاموش ہوں۔۔میں رشتہ پکا، منگنی، نکاح فلاں فلاں کے چکروں میں نہیں پرنا چاہتا۔ بس تمہارے پیپرز ہونے والے ہیں نہ۔۔تمہارے پیپرز کے دوران میں امی سے بات کروں گا پھر پیپرز ختم ہوتے ہی جو بھی رسم اماں نے کرنی ہوگی وہ کرلیں گی اور پھر ڈائیرکٹ شادی کی تیاریاں۔۔اگر میں ابھی بات کروں گا گھر میں تو تمہاری پڑھائی ڈسٹرب ہوجائے گی”
اُسکی ساری بات سُننے کے بات وہ بہت کوشش کے بعد بھی آنے والی مسکراہٹ کو نہ روک سکی اُسنے بےاختیار ہی شرما کر افہام سے نظریں چرائی اور دور ہونے کی کوشش کی
“اوہ۔۔۔قِرت عدنان شرماتے ہوئے بہت حسین لگتی ہے”
وہ اُسے چھیڑتا ہوا بولا
“افہام۔۔۔۔تنگ نہیں کریں مجھے”
وہ خفت مٹاتی اسے گھورنے لگی۔
“مطلب تنگ میں کر رہا؟ اور تم نے تین چار دن میرا سکون اور چین برباد کیا ہے اسکا کیا؟ اوفففف قرت میں تمہیں کیسے برداشت کروں گا؟”
افہام کی بات پر قرت بےاختیار ہی قہقہہ لگا کر ہنسی۔ وہ کچھ کہنے ہی لگی تھی جب کسی نے دروازہ کھولنے کی کوشش کی۔ قرت کا حلق سوکھ گیا۔
“واشروم جائیں آپ میں دیکھتی ہوں۔۔۔”
وہ دونوں صوفے سے اٹھے۔ افہام نے اندر جاتے واشروم کا دروازہ بند کیا تو قرت نے کمرے کا دروازہ ان لاک کیا مگر باہر کھڑی عزہ کو دیکھتے اسنے سکون کی سانس خارج کی۔
“اوففف۔۔ڈرا دیا تم نے مجھے۔۔”
عزہ کے اندر آنے پر قرت نے دروازہ بند کیا تو وہ یہاں وہاں نظریں دوڑانے لگی۔
“افہام بھائی کہاں ہیں۔۔؟”
“تمہیں کِس نے کہا وہ یہاں تھے۔۔۔؟”
عزہ کی آواز سنتا افہام واشروم سے نکلا اور عزہ کو گھورا۔
“لو جی۔۔۔ انہوں نے ہی تو مجھے باہر نکالا تھا مگر باہر سردی ہے بھئی”
وہ بیڈ پر کمبل اوڑھتی دبکے بیٹھی
قرت نے کمرے پر ہاتھ رکھتے افہام کو گھورا
“ویسے۔۔۔یہ کمرہ لاک کرکہ کیا کِیا جارہا تھا؟”
اسکے انداز اور ذومعنی سوال پر قرت کے چہرے کا رنگ بدلہ
“لعنت ہے۔۔”
اسنے بےاختیار ہی کہا جبکہ افہام نے مسکراہٹ روکی۔
“تم تھوڑی دیر اور صبر کرلیتی تو شاید کچھ۔۔۔”
“افہام۔۔۔۔”
وہ اسکی بات کاٹ کر چیخی تو افہام نے زبان پر بریک لگائی جبکہ عزہ نے قرت کے تاثرات سے لطف اٹھایا۔
“باہر نکلیں آپ۔۔۔”
وہ اسکے پیچھے جاتی اسے باہر کی طرف دھکا دینے لگی۔۔
“انتہائی ظالم عورت ہو تم۔۔۔”
وہ افسوس سے کہتا کمرے سے نکلا تو قرت واپس عزہ کی طرف آئی جس کے ہونٹوں پر گہری مسکراہٹ تھی۔۔
“کیا بکواس کر رہی تھی تم۔۔؟”
“وہ تو بھائی کررہے تھے۔۔۔”
اسنے معصومیت سے آنکھیں ٹپٹپائی
“کسی دن ضائع ہو جاؤ گی میرے ہاتھوں۔۔۔”
وہ دانت پیس کر کہتی چینج کرنے چلی گئی
☆ ★ ✮ ★ ☆
“تُم یہاں نہیں سو سوکتی۔ تمہیں میرے کمرے میں سونا ہوگا”
رائد اسکے کمرے میں آیا تو وہ بیڈ پر لیٹنے لگی تھی۔ اسکی آواز پر یَشل نے رائد کی طرف دیکھا اور دروازہ لاک نہ کرنے پر اُسے افسوس ہوا۔
“اتنا بھی اچھا کمرا نہیں تمہارا۔۔۔”
وہ بےرخی سے کہتی کمفرٹر اپنے اوپر ڈالنے لگی۔
“لیکن تمہارا شوہر تو اچھا ہے نہ۔۔۔”
وہ چلتا ہوا اسکے پاس آیا۔ یَشل لیٹتے لیٹتے رکی اور بیزار سی شکل بناتے اسے دیکھا۔
“لگتا کے شیشے میں شکل دیکھنا بھول گئے ہو”
وہ دانت کچکچاتے ہوئے بولی اور کندھے تک کمفرٹر ڈالتی لیٹ گئی۔
“تمہاری آنکھوں میں جو دیکھ لیتا ہوں۔۔ شیشے کی ضرورت ہی نہیں۔۔”
رائد بےاختیار ہی اس پر جھکا تو وہ سانس روک گئی۔
“تم میری آنکھوں میں اپنی شکل نہیں بلکہ کھلی آنکھوں سے خواب دیکھ رہے ہو۔۔”
اسکی بات پر رائد دلکشی سے مسکرایا۔
“خواب ہی سہی۔۔۔”
مزید قریب ہوتے اسنے اپنا ناک اسکے ناک سے ٹچ کیا تو یَشل نے اسے پیچھے کرنا چاہا۔
“مجھے سونا ہے رائد۔۔۔”
“لیکن میرا موڈ نہیں۔۔۔”
وہ دور ہوا تو یَشل نے سکون کا سانس لیا مگر اگلے ہی پل وہ بیڈ پر اسکے کمفرٹر میں گھسا تھا۔
“تم نے قسم اٹھا رکھی ہے کہ مجھے سکون کا سانس نہیں لینے دو گے؟”
اسنے چہرا موڑ کر اپنے ساتھ لیٹے ہوئے رائد کو گھورا۔
“اور میرے سکون کا کیا۔۔۔؟”
وہ اسکو کمر سے کھینچ کر اسکی پشت اپنے سینے سے لگا گیا۔ یَشل چند لمحے خاموش رہی
“مجھے سونے دینا اب پلیز میرے سر میں پہلے ہی بہت درد ہے۔۔”
وہ جیسے اسے وارننگ دے رہی تھی۔ یَشل نے آنکھیں بند کی مگر پھر اسکے پورے وجود میں کرنٹ دوڑ گیا۔
“رائد میں تمہارا ہاتھ توڑ دونگی۔۔”
اپنے پیٹ پر چلتی اسکی ٹھنڈی انگلیاں محسوس کرتی وہ غصے اور شرم سے دانت پیس کر بولی تھی۔
“اچھا۔۔۔”
خمار آلود لہجے میں یک لفظی جواب دیتے رائد نے پیچھے سے اسکے بالوں میں چہرا چھپانا چاہا۔ کچھ دیر وہ خود پر ضبط کرتی رہی پھر اٹھ بیٹھی۔
“رائد کیوں تنگ کر رہے ہو۔۔”
وہ بےبسی سے گلابی چہرے کے ساتھ اسے دیکھنے لگی۔
“میرا دل کر رہا نا۔۔۔۔”
“مجھے مت کرو۔۔۔!”
“بیوی تو تم ہی ہو اب تنگ کرنے کے لیے کسی اور کو لاؤں کیا۔۔۔؟”
وہ سادگی سے کہتا اسے کہیں سے بھی شادی شدہ مرد نہیں لگا تھا۔ یشل نے آنکھیں بند کرکہ گہرا سانس لیتے خود کو پرسکون کرنا چاہا مگر آنکھیں بند کرنے کی ہی دیر تھی رائد نے اسکو بازو سے کھینچتے بیڈ پر گرایا اور کروٹ لیتا اسکے اوپر جھکا۔ یہ سب اتنی جلدی اور اچانک ہوا کہ اسکے منہ سے ہلکی سی چیخ نکل گئی۔
“رائد تم۔۔۔۔”
وہ آنکھیں پھاڑے اسے دیکھنے لگی مگر سمجھ ہی نہ آیا کیا کہے۔
“میں کیا۔۔۔؟”
رائد نے جھک کر اسکے لب چومے۔۔۔
“انتہائی بےشرم انسان ہو۔۔۔!”
وہ سرخ چہرے کے ساتھ بولی تو رائد کے ہونٹوں پر مسکراہٹ آئی۔
“اس بےشرم انسان کی بےشرمی آپ نے ہی برداشت کرنی ہے۔۔”
وہ جھک کر اسکی گردن پر ناک رگڑنے لگا۔ ہلکی داڑھی کی چھپن محسوس کرتے یشل نے مٹھی بھینچی
“تم پیچھے نہیں ہٹو گے۔۔۔؟”
لہجہ مضبوط بنانے کی ننھی سی کوشش کی گئی۔
“ہرگز نہیں، آج تو کسی صورت نہیں۔۔۔سارا دن بہت نکھرے دکھائے ہیں تم نے مجھے اب خاموش ہو جاؤ۔!”
وہ اسکی گردن سے چہرا ہٹا کر آخر میں اسکے لبوں پر انگلی رکھ گیا۔ یَشل نے معصوم بنتے اسے دیکھا تھا مگر وہ ترس کھانے کے موڈ میں بلکل نہ تھا۔ اپنی گردن پر اسکا سلگتا ہوا لمس محسوس کرتی وہ ناچار آنکھیں بند کر گئی۔
☆ ★ ✮ ★ ☆
“ویسے تم کتنی زیادہ برائیاں کِیا کرتی تھی اسکی ۔۔۔کبھی یہ نہیں بتایا کہ اسے دل جیتنے کا ہنر بھی آتا ہے۔۔۔ایسا میرا کزن ہوتا تو میں فلیکس (flex) کرتی۔۔”
آمنہ کی بات پر فرائز کھاتی عزہ نے حیرت سے اسے دیکھا۔
“کس کی بات کر رہی ہو۔۔؟”
وہ جیسے تصدیق کرنا چاہ رہی تھی کہ یہ تعریف ہادی کی نہیں تھی ۔۔
“ہادی قریشی۔۔۔اسکے علاؤہ اور کون ہوسکتا ہے ؟”
“کوئی بھی ہوسکتا ہے آمنہ مگر ہادی قریشی نہیں ہوسکتا۔۔۔تم اس بو بکرے کھچل خوار کی تعریف کر رہی ہو ؟ اس میں تعریف کرنے جیسا کچھ ہے بھی؟”
اسکے منہ سے تیسری بار یہی بات سنتے آمنہ کا ہاتھ ماتھے پر گیا تھا
“اول نمبر کی کمینی ہو تم۔۔۔”
آمنہ نے دانت پیسے تو عزہ نے قہقہہ لگایا۔
“بننا پڑتا ہے بہن۔۔۔تمہارے منہ سے ہادی نامہ سن سن کر میرے کان پک گئے ہیں۔۔۔”
اسنے دونوں ہاتھ کھڑے کئیے تو آمنہ نے اسکے کندھے پر مکہ مارا
“اور اپنے بارے میں کیا خیال ہے ؟ ارمغان نہ ہوگیا روم کا شہزادہ سلیم ہوگیا۔۔۔”
“روم کا شہزادہ ہو یا نہ ہو مگر میرے دل کا تو ہے نہ”
اسنے بچوں کی طرح معصومیت سے کہا تو اسکی ایکٹنگ پر آمنہ عش عش کر اٹھی۔
“بول تو ایسے رہی ہو جیسے تمہاری دال گل کر پک بھی گئی ہے۔۔۔”
آمنہ نے سر جھٹکا
” گل تو گئی ہے شاید۔۔۔”
“شاید۔۔۔”
آمنہ نے لفظ پر زور دیا
“ہاں بھئی گل گئی ہے تم فکر نہ کرو بہت جلد پک بھی جائے گی۔۔”
وہ سکون سے بولی۔
“ویسے اب تک تمہیں کیا حاصل ہوا ہے۔۔۔؟”
اسکے سنجیدگی سے کئیے گئے سوال پر عزہ نے چونک کر اسے دیکھا۔
“شاید کچھ نہیں۔۔۔لیکن ہو جائے گا”
وہ پر اعتماد تھی
“کب ہوگا۔۔۔؟”
“پتا نہیں۔۔۔بہت جلد انشاءاللّٰہ۔۔۔ ابھی تو مجھے خوشی مل رہی وہی کافی ہے”
وہ مسکرائی تھی
“یہ خوشی وقتی ہے عزہ اور تمہیں کچھ حاصل نہیں ہوگا۔۔۔”
عزہ نے گہرا سانس لیتے اسے دیکھا۔
“کیوں نہیں ہوگا ۔۔؟”
“کیونکہ تم غلط شخص کے پیچھے بھاگ رہی ہو۔۔۔اُن چیزوں کے پیچھے مت بھاگو جو تمہاری ہیں ہی نہیں
اور جو تمہارے قریب ہیں انہیں فوقیت دو۔۔ورنہ سب کھو دوگی۔۔۔اس سے پہلے غلط راستے پر بھاگ بھاگ کر تھک جاؤ، ابھی سے رک جاؤ عزہ۔۔۔”
اسکی بات سنتے عزہ نے بیزار سا چہرا بناتے ایک بار پھر گہری سانس لی اور اسے ہوا میں خارج کیا۔
“ہوگیا تمہارا درس شروع۔۔۔؟”
اسنے اتنی ہی بیزاریت سے سوال کیا تو آمنہ خاموشی سے بس اسے دیکھتی رہی۔
☆ ★ ✮ ★ ☆
ارمغان نے کیا کِیا؟ کیسے کِیا؟ عطیہ کو کیسے منایا؟ کوئی نہیں جانتا تھا مگر اسنے ہاجرہ کو کال کرتے سرخ جھنڈی دکھائی تھی۔ قرت کی تو خوشی کی انتہا نہ رہی تھی جب ناشتے کی میز پر عطیہ نے یہ انکشاف کیا کہ انہوں نے ہاجرہ کو کال کرکے کہہ دیا ہے کہ وہ عبداللہ کے ساتھ بیٹی کا رشتہ تہ نہیں کرنا چاہتی۔
مگر یہ بھی حقیقت تھی کہ عطیہ کے ساتھ صبیحہ کو بھی افسوس تھا کہ اتنا اچھا رشتہ ہاتھ سے چلا گیا۔ صبیحہ بیگم کو تو کچھ زیادہ ہی افسوس تھا۔ ان کا کہنا کچھ ایسا تھا۔۔
“آئے ہائے مجھے تو اتنا افسوس ہورہا بھلا اتنے اچھے رشتے کو کون انکار کرتا ہے؟ عطیہ تمہیں کیا ہوگیا تھوڑا دباؤ ڈالتی تو خود ہی مان جاتی قرت بھی۔ یہ رشتہ نشہ کے لیے آیا ہوتا تو میں فوراً ہاں کردیتی۔۔۔”
جس پر عطیہ نے ایسا کہا تھا۔
” دباؤ ڈال کر بھی رشتے کئیے جاتے ہیں کیا؟ جو نصیب میں ہوگا وہ ہو جائے گا اور آپ نے خود ہی تو کہا تھا کہ اکلوتی بیٹی ہے تمہاری اسکی پسند نہیں پوچھو گی؟ اور اسکی پسند اِس میں نہیں ہے تو زبردستی کیوں کرنی۔۔”
صبیحہ نے انکی بات سے اکتفاء تو کرلیا مگر افہام پر انہیں ترس نہ آیا۔
“افہام۔۔۔ آج کا دن ہے تمہارے پاس کل، پرسو میں جارہی ہوں ہاجرہ کی طرف”
وہ ابھی ابھی آفس سے گھر آیا تھا اور اسکے بیٹھتے ہی صبیحہ شروع ہوگئی تھی۔
“امی پلیز۔۔۔ میں اس سے شادی نہیں کرنا چاہتا آپ سمجھ کیوں نہیں رہی ہیں؟”
اسنے تنگ ہوکر صبیحہ کو دیکھا۔
“تو بھئی تم وہ لڑکی بتا دو نہ جس سے تم شادی کرنا چاہتے ہو۔۔”
ارمغان کی بات پر اسنے تیز نظروں سے اسے گھورا۔
“پھپھو اگر یہ آج رات تک آپ کو نہ بتائے تو آپ بس ثناء کے ساتھ رشتہ تہ کردیجیۓ گا اس کا۔ ایک بار رشتہ ہوگیا تو بس یہ بھی سیدھا ہو جائے گا”
ارمغان نے صبیحہ کو مفت مشورہ دیا تو افہام کا دل کیا اسکا سر کھول دے جو جان بوجھ کر اسے تنگ کر رہا تھا۔
“میں نے تو پہلے سے یہی سوچ رکھا ہے اگر اسنے نہ بتایا تو میں خود ہی کرلوں گی کچھ۔۔”
افہام کو اپنے صبر کا پیمانہ لبریز ہوتا محسوس ہوا۔
“پھپھو۔۔۔ مجھے چائے میں چینی کم لگ رہی آکر دیکھ لیں”
افہام کچھ کہنے ہی لگا تھا جب قرت نے کچن کے دروازے سے سر نکال کر صبیحہ کو مخاطب کیا۔ صبیحہ فوراً اٹھ کر کچن کی طرف بڑھ گئی۔
“بڑے لعنتی ہو تم یار۔۔۔۔ امی کم تھی جو تُو مزید مرچ مصالحے چھڑک رہا؟”
وہ پھاڑ کھانے والی نظروں سے اسے دیکھتا اٹھ گیا اس سے پہلے صبیحہ واپس آتی۔
“تڑکا بھی لگانا ہے ابھی تو۔۔”
ارمغان کی بات پر افہام نے رک کر اسے دیکھا۔
“کیا مطلب؟ ابھی مزید تڑکا لگانا رہتا ہے؟”
اسنے سلگ کر کہا۔ ارمغان سنجیدہ ہوتا اپنی جگہ سے اٹھا اور اسکے سامنے آکھڑا ہوا۔ دونوں ہاتھ جیکٹ کی جیبوں میں ڈالتے وہ اسے دیکھنے لگا۔
“میں یہ بات تمہیں کلئیر کٹ بتا رہا۔۔۔ تم نے کیا کرنا ہے یہ بات تم اچھے سے جانتے ہو۔۔تم بھی، میں بھی اور قرت بھی۔۔۔ میں ہرگِز اپنی بہن کو سولی پر لٹکا ہوا نہیں دیکھ سکتا تو جو کرنا ہے آج یا کل میں کرو ورنہ میں تمہیں بھی حقیقتاً ساری عمر سولی پر لٹکائے رکھوں گا۔۔۔تم اچھے سے جانتے ہو مجھے اگر بات قرت یا یَشل پر آجائے تو میں سب کچھ بالائے طاق رکھتا ہوں!”
لہجہ غصیلہ نہیں مگر سخت ضرور تھا۔ وہ جو کہنا چاہ رہا تھا افہام کو اچھے سے سمجھ آیا تھا مگر اسکا دماغ بھک سے اُڑا تھا۔ اس کے تو وہم و گمان میں بھی نہ تھا کہ ارمغان اس بات سے واقفیت رکھتا تھا۔
ارمغان ایک گہری نظر اس پر ڈالتا باہر کی طرف بڑھا
“کہاں جارہے ہو ارمغان؟ چائے بنا رہی قرت۔۔۔”
عطیہ کمرے سے باہر آئی تو اسنے ارمغان کو بیرونی دروازے کی طرف قدم بڑھاتے دیکھ کر روکا۔
“قرت کو میں نے منع کردیا تھا چائے نہ بنائے۔۔کچھ دوستوں سے ملنے جارہا ہوں کچھ ٹائم لگے گا واپس آنے میں”
“اچھا ٹھیک ہے اتنی دیر بھی مت کرنا۔۔۔ پتا نہیں کیسے اتنی سردی میں باہر جاتے ہو تم لوگ۔۔۔ ذرا خیال رکھنا۔۔۔”
عطیہ کی بات پر وہ سر ہلاتا باہر نکل گیا۔
“تم کیوں مجسمہِ اتحاد بنے کھڑے ہو۔۔۔؟”
عطیہ نے اسے ایک ہی جگہ کھڑا دیکھ کر ٹوکا تو وہ پلٹ کر اسے دیکھنے لگا پھر بدقت ہنسا
“نہیں بس ویسے ہی۔۔۔میں چینج کرکہ آتا ہوں”
“جلدی آنا چائے بن گئی ہے۔۔۔ٹھنڈی وہ جائے گی”
صبیحہ نے قرت کے ساتھ باہر آتے ہوئے اسے کہا تو افہام نے سر ہلایا پھر ایک نظر قرت کو دیکھتا کمرے میں چلا گیا۔
“قرت۔۔۔عزہ کو بھی بلاؤ ہر وقت کمرے میں گھسی رہتی ہے یہ لڑکی۔۔”
☆ ★ ✮ ★ ☆
“میں قرت کو پسند کرتا ہوں۔۔۔”
بلآخر افہام نے ہتھیار ڈالتے بغیر کسی لگی لپٹی کے صاف لفظوں میں اپنی پسند بتائی۔
“کس کو پسند کرتے ہو۔۔؟”
افہام سمجھ نہ سکا وہ حیران ہورہی تھیں یا انہوں نے وہ نام نہیں سنا تھا۔
“امی میں قرت کو پسند کرتا ہوں اور اسی سے شادی کرنا چاہتا ہوں”
ٹہرے ہوئے لہجے میں اسنے اپنی بات کھل کر دوہرائی۔
پہلے حیرت، پھر بےیقینی پھر خوشگوار حیرت اور پھر پریشانی۔ چند لمحے کی خاموشی میں یہ تاثرات تھے جو افہام نے صبیحہ کے چہرے پر اترتے، چڑھتے دیکھے تھے۔
“کیا ہوا۔۔۔۔؟”
انکی خاموشی پر وہ سوال کرنے لگا۔
“تم واقعی قرت کو پسند کرتے ہو۔۔۔۔؟”
“امی اس میں ایسی بھی کیا سائینس ہے۔۔۔ آپ بات کریں ماموں سے۔۔۔” اسنے جواباً کہا
“افہام۔۔۔تم پہلے کیوں نہیں بتا رہے تھے؟ ہاجرہ کو کیسے انکار کروں گی اب میں۔۔۔؟”
وہ پریشانی سے بولیں
“کیا مطلب کیسے انکار کریں گی؟ آپ نے رشتہ تہ تھوڑی نہ کیا تھا۔۔۔”
“پھر بھی۔۔۔چھوڑو تم اس بات کو مجھے بتاؤ کہ قرت بھی تمہیں پسند کرتی ہے؟”
انہوں نے تجسس سے سوال کیا تو افہام نے سر اثبات میں ہلایا۔
“ماشاءاللہ۔۔۔ تو یہ بات پہلے نہیں بتا سکتے تھے؟ جب بات رشتہ تہ ہونے تک آگئی ہے تب خیال آیا ہے؟ کوئی شرم حیا ہے کہ نہیں؟”
صبیحہ نے غصے سے بولتے آخر میں اسکا کان پکڑا
“تو میں نے کہا تھا جاکر ہم دونوں کا رشتہ ڈھونڈیں؟ آپ کو شوق تھا نہ تو بھگتیں اب۔۔۔اور یہ جو آپ ان دونوں بہن بھائی کی تعریفوں کے پل باندھ رہی ہیں نہ۔۔میں دوبارہ ان دونوں کا نام نہ سنوں”
“چپ کرو۔۔۔ اگر ان کا نام نہیں سننا تھا تو پہلے ہی منہ کھول دیتے۔۔۔”
صبیحہ نے گھور کر افہام کو دیکھا۔
“اب تو کھول دیا نہ؟ کل بات کریں آپ ماموں سے۔۔۔”
افہام کی بات پر صبیحہ نے کچھ سوچتے ہوئے سر اثبات میں ہلایا۔
“ویسے کیسی ماں ہیں اتنا سا اندازہ بھی خود سے نہ لگا سکی۔۔چچہ چچہ۔۔۔”
اسنے افسوس سے سر ہلایا تو صبیحہ نے اسکے کندھے پر تھپڑ رسید کیا
“ہاں چھپ چھپا کر کارنامے خود کئیے اور آگے سے الزام مجھے دے رہے۔۔۔”
“استغفرُللّٰہ استغفرُللّٰہ۔۔۔ امی خدا کا خوف کریں ایسا کون سا کارنامہ کردیا؟”
افہام نے انکی بات کا غلط مطلب نکالتے باقاعدہ کانوں کو ہاتھ لگائے
“افہام شرم کرو۔۔۔ماں ہوں تمہاری۔۔”
صبیحہ نے تیز نظروں سے اسے گھورا
“اچھا واقعی؟ میں تو بھول ہی گیا تھا میری ایک عدد ماں بھی ہے”
وہ سادگی سے بولا تو صبیحہ پہلے اسے گھورتی رہی پھر ہنس دی۔
“چل بدتمیزی۔۔۔ اب زیادہ پھیل مت جانا مجھے بھائی صاحب سے بات کرنے دو۔۔”
صبیحہ اٹھتے ہوئے بولی تو افہام نے سر اثبات میں ہلا دیا۔ صبیحہ نے اسکی کشادہ پیشانی چومی اور کمرے سے نکل گئی۔ افہام کے ہونٹوں پر اطمینان بھری مسکراہٹ آئی وہ جلدی سے فون اٹھاتا قرت کو میسج کرنے لگا۔
~جاری ہے۔۔۔
