Muntazirat Hastam by Neha Imtiaz NovelR50532 Muntazirat Hastam (Episode 30)Part 1
Rate this Novel
Muntazirat Hastam (Episode 30)Part 1
Muntazirat Hastam by Neha Imtiaz
ہفتہ گزر گیا تھا۔ نہ ارمغان اور عزہ کے درمیان کچھ ٹھیک ہوا تھا نہ ہی ہادی اور آمنہ کے درمیان کچھ نارمل تھا۔
ارمغان سے تھپڑ کھانے کے بعد عزہ تین دن کمرے سے نہیں نکلی تھی اور نہ ہی کالج گئی تھی۔ اڑتی اڑتی خبر ارمغان تک پہنچ گئی تھی کہ اس کو بخار ہے۔ چوتھے دن وہ اپنے تخت سے اٹھ کر کمرے سے باہر آئی تھی مگر ارمغان نے زیادہ دھیان نہ دیا۔ ان دونوں کے درمیان پھر کوئی بات نہ ہوئی مگر یہ بھی حقیقت تھی کہ غصے میں آکر اسے تھپڑ مار دینے پر ارمغان شرمندہ تھا اور وہ اس سے معذرت کرنے کا بھی ارادہ رکھتا تھا مگر نہ تو اسے ایسا کرنے کا موقع ملا نہ ہی اسنے موقع تلاش کِیا مگر آج اسے عزہ کا کالج سے پِک کرنا تھا کیونکہ اس کے وین والے نے آج چھٹی کرلی تھی۔ وہ آفس میں تھا جب اسے عدنان صاحب کی کال آئی تو وہ اپنے باس کو صورتحال بتاتا اسے پک کرنے چلا گیا کیونکہ اس سے کھل کر بات کرنے کا اس سے بہترین موقع شاید دوبارہ نہ ملتا۔
عزہ آمنہ کے ساتھ گیٹ سے باہر نکلی تو فاصلے پر اسے ارمغان گاڑی میں بیٹھا نظر آیا۔ ہونٹوں کی مسکراہٹ پل میں سمٹ گئی اور چلتے ہوئے قدم رک گئے۔
“ہارون بھائی آگئے ہیں۔۔میں چلتی ہوں۔۔”
اسکے تاثرات پر غور کئیے بغیر آمنہ اس سے بغلگیر ہوتی اپنی گاڑی کی طرف بڑھ گئی۔ تھوک نگل کر چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتی وہ بھی گاڑی کے پاس پہنچتی فرنٹ سیٹ کا دروازہ کھول کر اندر بیٹھی۔
“تمہارے وین والے نے آج چھٹی کرلی ہے۔۔۔”
گاڑی سٹارٹ کرتے ارمغان نے اسے بتانا ضروری سمجھا مگر عزہ نے کوئی جواب نہ دیا اور بیگ سے فون نکال کر استعمال کرنے لگی۔
“کچھ کھاؤ گی۔۔۔؟”
ارمغان نے چند لمحوں بعد اس سے سوال کیا تو وہ سر انکار میں ہلانے لگی پھر فون سے نظریں ہٹا کر راستہ دیکھا تو یہ راستہ گھر کی طرف نہیں جاتا تھا۔
کچھ دیر بعد ایک جوس سٹال کے سامنے گاڑی رُکی تو عِزہ کو اندازہ ہوگیا کہ ارمغان اس سے ضرور اس معاملے پر بات کرنا چاہتا تھا اور یہ سوچ کر اسکی ہتھیلیاں بھیگنے لگی۔
“میں نہیں پئیوں گی۔۔۔”
وہ بھی آرڈر لکھوانے ہی لگا تھا جب عزہ نے کچھ بھی کھانے پینے سے انکار کردیا۔
“اچھا۔۔۔۔اصل بات پر آتا ہوں پھر۔۔” ارمغان ہلکا سا رخ اسکی طرف کرکہ بیٹھا اور اسے دیکھنے لگا تو عزہ کا دل دھک دھک کر اٹھا۔
“ویسے تو سوری کرنے میں پہلے تمہیں کرنی چاہیے مگر میں جانتا ہوں تم ایسا کرو گی نہیں۔۔۔”
لہجہ طنزیہ نہیں تھا مگر کچھ تھا جس پر عزہ چہرا موڑے اسے دیکھنے پر مجبور ہوگئی۔
“لیکن اگر آج اور ابھی میں تمہیں سوری کہوں گا تو صرف اور صرف اس تھپڑ کے لئیے۔۔۔کیونکہ اس کے علاؤہ مجھے نہیں لگتا کہ میں نے کچھ غلط کیا ہے۔۔۔”
عزہ کا چہرا کچھ سفید پڑ گیا۔ نہ تو اس نے ارمغان سے اس بات کی توقع کی تھی نہ ہی وہ ایسا کچھ سننا چاہتی تھی۔ اسے وہ سننا تھا جس سے اسکی روح کو سکون ملتا۔
“آئی ایم سوری۔۔۔!”
ارمغان کے منہ سے یہ جملہ سن کر وہ شرمندہ ہوتی سر دوبارہ جھکا گئی۔
“لیکن عزہ تمہیں نہیں لگتا کہ اس دن جو کچھ بھی ہوا اس کے لیے تمہیں شرمندہ ہونا چاہیے۔۔۔؟”
وہ سوالیہ نظروں سے اسے دیکھنے لگا۔
“تم اندازہ بھی نہیں لگا سکتی کے پچھلے چھ، سات دن کتنی بری طرح الجھن کا شکار رہا ہوں میں۔۔۔کسی ایک چیز پر بھی میں فوکس نہیں کر پا رہا۔۔”
وہ ٹہرے ہوئے لہجے میں سنجیدگی سے بول رہا تھا۔
عزہ کی آنکھوں میں آنسوں چمکنے لگے۔
“سب ٹھیک چل رہا تھا ایوری تھنگ واز فائین لیکن اب ہم دونوں کے درمیان سب کچھ اتنا آکورڈ اور اتنا عجیب ہوگیا ہے صرف ایک جملے کی وجہ سے۔۔۔میں تمہارے ساتھ ڈائننگ ٹیبل پر بیٹھ کر کھانا تک نہیں کھا سکتا۔۔۔!”
وہ بےبس لگ رہا تھا جیسے اس سب کو ہینڈل کرنا مشکل ہو رہا تھا اس کے لیے۔ گاڑی میں چند لمحے خاموشی چھا گئی اور عزہ خاموش آنسو بہانے لگی۔
“پوری زندگی میں نے کسی عورت پر ہاتھ نہیں اٹھایا اور نہ ہی کبھی ضرورت پیش آئی لیکن تمہاری وجہ سے۔۔۔”
تیز لہجے میں بولتے اسنے جملہ ادھورا چھوڑ دیا تو عزہ سسکنے لگی، جبڑے سختی بھینچے وہ ضبط کر رہا تھا۔
“میں نہیں جانتا تم نے وہ بات جزبات میں کہی تھی یا تم سیرئیس تھی لیکن جو بھی تھا بہت غلط۔۔۔”
“جزبات میں کچھ نہیں کہا تھا میں نے۔۔۔”
اب کے وہ سنبھل کے بولا تو عزہ نے روتے ہوئے اسکی بات کاٹی۔ ارمغان خاموشی سے اسے دیکھنے لگا جیسے مزید کچھ کہنے کی مہلت دے رہا ہو۔
“آپ کو لگتا ہے کہ ایک تھپڑ کے بعد میں اپنی بات سے مکر جاؤں گی۔۔۔؟”
انداز سوالیہ تھا۔۔۔
“ہرگِز نہیں۔۔۔ میں اتنی بھی بزدل نہیں ہوں۔۔اگر میں نے کہا ہے کہ مجھے آپ سے محبت ہے تو ہے۔۔!”
اس کا انداز ضد لیے ہوئے تھا۔ ارمغان اس کا چہرہ دیکھتا رہا۔
“آپ کو یقین نہیں ہے نہ۔۔؟ رکیں آپ۔۔”
اس کی خاموشی پہ وہ اپنے پیچھے پڑا بیگ اٹھا کر سامنے کرتی اس میں کچھ تلاشنے لگی پھر مطلوبہ چیز ملنے پر اسے نکال کر ارمغان کی طرف بڑھا دیا۔
ارمغان نے رونے کے باعث اسکی سرخ ہوتی آنکھوں کو دیکھتے ڈائیری تھام لی۔ عزہ کو مزید کچھ کہنے کی ضرورت نہ پڑی۔ ارمغان خود ہی صفحے پلٹتا اس کر لکھے لفظوں کو پڑھنے لگا اور عزہ کے دل کی دھڑکن بےترتیب ہونے لگی۔
دو، تین صفحے پڑھ کر ارمغان نے ڈائیری بند کرتے ڈیش بورڈ پر پٹخ دی۔
چند گہرے سانس لیتے اسنے اندر کا غبار دبایا۔ ضبط سے چہرے پہ سرخی چھانا شروع ہو گئی تھی۔
“عزہ۔۔ آئی ایم سپیچ-لیس۔۔۔!”
”Izzah… I’m speechless…!”
وہ دنگ رہ گیا تھا، یہ اس کا بچپنا تھا یا کوئی مذاق۔۔۔ اس کے پاس الفاظ نہیں تھے۔
“تم ابھی بچی ہو۔۔۔۔!”
سمجھانے کی ایک ناکام کوشش کی لیکن وہ برا مناتے ٹوک گئی۔
“میں آپ کے ساتھ بڑی ہونا چاہتی ہوں۔۔۔”
وہ فوراً سے یہ جملہ بولتی ہوئی بھی معصوم بچی ہی لگی تھی۔ ارمغان استہزاء سے ہنسا۔
“میرے پاس حقیقتاً الفاظ ختم ہوگئے ہیں۔۔۔”
اسنے ہاتھ کھڑے کئیے تھے۔ وہ حیران تھا اس لڑکی پر اور اسکی بیوقوفی پر۔۔۔
“عزہ تم سب کچھ جانتے ہوئے بھی یہ کیسے کہہ سکتی ہو۔۔۔؟”
وہ دونوں ہاتھوں سے سٹئیرنگ وہیل پکڑتا اسے بےیقینی سے دیکھنے لگا۔
“اس میں میری تو کوئی غلطی نہیں ہے نہ۔۔۔میرے دل پر میرا اختیار نہیں ہے ارمغان میں بےبس ہوگئی ہوں۔۔۔یہ سوچ ہی مجھے اذیت دیتی ہے کہ آپ مجھ سے دور ہو جائیں گے۔۔۔”
عزہ جیسے اپنا دل کھول کے اس کے سامنے رکھنے لگی۔
“میں تمہارے قریب ہی کب تھا عزہ۔۔۔۔؟”
ارمغان جھلا اٹھا۔ اس کا دماغ ماؤف ہونے لگا تو اسنے سر اسٹیئرنگ وہیل پر ٹکا دیا۔ عزہ نے ہونٹ بھینچ کر آنسوؤں کو کنٹرول کرنے کی کوشش کی۔ وہ ٹھیک کہہ رہا تھا۔۔ وہ کبھی بھی اس کے قریب نہ رہا تھا۔
“میں نے تمہیں ہمیشہ قرت جیسا سمجھا ہے۔۔تم سوچ بھی کیسے سکتی ہو یہ سب۔۔؟ بندہ بندہ جانتا ہے کہ میں یَشل سے محبت کرتا ہوں پھر تم یہ بات کیسے بھول گئی۔۔۔؟”
ارمغان کو بےبسی کے ساتھ اب غصہ آنے لگا جبھی وہ تھوڑا سخت لہجہ اختیار کر گیا۔
“مگر اب تو یَشل کی شادی ہوگئی ہے نہ۔۔۔”
عزا نے اپنی جانب سے ایک راہ دکھاتے تالی دی۔
” تو تمہیں یہ لگتا ہے کہ تم اسکی جگہ لے سکتی ہو۔۔۔؟” اس کے ابرو اوپر اٹھے جیسے وہ تمسخر اڑا رہا ہو اس کا۔ اس کے انداز میں جتانا تھا کہ یشل کی جگہ کوئی نہیں لے سکتا اور نہ ہی وہ کوشش کرے یہ سب کرنے کی۔
“تم عزہ ہو۔۔۔تم یَشل ریحان نہیں ہو سکتی۔۔!”
“ارمغان پلیز۔۔۔! میں نے بہت چاہا ہے آپ کو۔ آپ میری محبت کو قبول تو کریں یَشل کو بھول جائیں گے۔۔۔”
عزا ارمغان کے بازو کو تھامتی ہوئی بولی جیسے اگر ابھی نہ کہا تو ہمیشہ کے لیے اس کو کھو دے گی۔
“نہیں کر سکتا میں تمہاری محبت کو قبول۔۔!! تم۔۔۔تم سوچ بھی کیسے سکتی ہو؟”
ارمغان اس کے ہاتھ جھٹکتا ہوا بولا، ماتھے پہ تیوری واضح تھی اب جیسے عزہ کے الفاظ اس کو بالکل بھی پسند نہیں آرہے تھے۔ وہ اس لڑکی کی سوچ اور اسکی باتوں پر ابھی بھی دنگ تھا۔۔
“نہیں سوچنا چاہتی تھی میں ایسا کچھ لیکن بس۔۔۔میں خود کو نہیں روک پاتی۔۔ آپ کی محبت نے میرے ہاتھ کاٹ دئیے ہیں۔ آپ مجھے بتائیں میں ایسا کیا کروں کہ آپ کو میری محبت پر یقین آجائے۔۔۔”
وہ روہانسا ہوئی جبکہ آنسوں اس کے رخساروں پہ ابھی بھی بہہ رہے تھے۔ اس وقت وہ ایک دیوانی لگ رہی تھی۔
“عزہ۔۔۔!!! نہیں کرنا مجھے تمہاری محبت پر یقین اور کر بھی لوں تو کیا ہوگا؟ نہیں چاہیے مجھے تمہاری محبت۔۔! تم میرے لیے ہمیشہ چھوٹی سی عزہ ہی رہو گی۔۔!”
وہ اپنی سانس روک گئی تھی۔۔
“یہ تمہاری بھول ہے کہ میں یَشل کو بھول جاؤں گا۔۔۔ میں اپنا آپ بھول سکتا ہوں یَشل ریحان کو نہیں بھول سکتا۔۔”
عِزہ کو لگا تھا وہ اب سانس نہیں لے سکے گی۔ وہ کسی مجسمے کی طرح ساکت سی اسے دیکھتی چلی گئی۔
“اور میری محبت کا کیا۔۔۔؟”
بہت دیر کی خاموشی کے بعد ارمغان کو اسکی ہلکی سی آواز سنائی دی۔
“محبت نہیں ہے یہ عزہ۔۔۔!! بچپنا ہے تمہارا۔۔ تمہیں میں نہیں میری محبت چاہیے، وہ محبت جو میں یشل سے کرتا ہوں اور تمہیں وہ محبت کبھی نہیں مِل سکتی کیونکہ میں نے ساری محبت یَشل سے کرلی ہے۔۔۔ میرے پاس تمہیں دینے کے لیے کچھ بھی نہیں ہے عزہ۔۔”
اسکا لہجہ نرم اور بےبس سا تھا۔ جیسے وہ اسے سمجھا رہا ہو۔۔۔مگر یہ اس کی غلط فہمی تھی کہ عزہ سمجھ جائے گی۔۔۔
وہ کتنی ہی دیر ارمغان کو دیکھتی رہی تھی پھر ارمغان کے گاڑی سٹارٹ کرنے پر وہ اس پر سے نظر ہٹا گئی اور باقی کا سارا راستہ روتی رہی۔ ارمغان نے دوبارہ اسے کچھ نہیں کہا تھا۔ گھر کے باہر اسنے گاڑی روکی تو وہ آنسو رگڑتی بغیر اسکی طرف دیکھے گاڑی سے اتر گئی۔
☆ ★ ✮ ★ ☆
“عزہ میری جان کیا ہوا ہے کچھ تو بتاؤ۔۔۔”
قرت کب سے اس کے پاس بیٹھی اسے خاموش کروانے کی کوشش میں ہلکان ہو رہی تھی مگر عزہ تھی کے روئے چلی جارہی تھی اور وجہ بھی نہیں بتا رہی تھی۔
“عزہ میں آخری بار پوچھ رہی ہوں۔۔اب نہ بتایا تو پھپھو کو بلا لاؤں گی۔۔۔!”
قرت نے اسے دھمکی دی مگر وہ بھی کارآمد ثابت نہ ہوئی۔
“کالج میں کسی سے لڑائی ہوئی ہے؟ آمنہ سے لڑائی ہوئی ہے؟ کسی نے کچھ کہہ دیا ہے کیا؟ پچھلے کچھ دنوں سے تم ویسے ہی اتنی عجیب ہوئی ہو۔۔۔ اب بتاؤ گی نہیں تو پتا کیسے لگے گا۔۔۔”
قرت جھنجھلاہٹ چھپاتی نرمی سے اس سے پوچھنے لگی۔ دو گھنٹے ہوگئے تھے اسے کالج سے آئے نہ تو اسنے کھانا کھایا تھا نہ ہی ابھی تک کپڑے بدلے تھے بس کمرے میں بیٹھی روئے جارہی تھی۔ اب قرت اس کے رونے سے تنگ آنے لگی تھی۔
“قرت یار۔۔۔ مجھے چائے بنا دوگی سر بہت درد کر رہا۔۔”
انوشہ نے کمرے میں داخل ہوتے ہوئے قرت کو مخاطب کیا تو وہ پلٹ کر اسے دیکھنے لگی جبکہ عزہ بیڈ پر لیٹ کر لحاف میں چہرا چھپا گئی مگر نشہ نے رونے کے باعث سرخ ہوتی ناک اور آنکھیں دیکھ لی تھی۔
“اسے کیا ہوا ہے۔۔؟”
وہ ان دونوں کی طرف آئی۔
“اللّٰہ جانے کون سا غم لگ گیا ہے اسے۔۔۔پوچھو تم ہی مجھے تو نہیں بتا رہی۔ میں تب تک چائے بنا لیتی۔۔۔”
وہ عزہ کے پاس سے اٹھ کر کمرے سے نکل گئی تو نشہ کھڑی چند لمحے اسے دیکھتی رہی پھر اسکے پاس بیٹھ گئی۔
“عزہ کیوں رو رہی ہو؟ ادھر دیکھو میری طرف۔۔۔”
نشہ نے اسکے چہرے سے لحاف ہٹا کر اسکا رخ اپنی طرف کرنا چاہا۔ عزہ آنکھیں رگڑتی خود پر کنٹرول کرنے لگی۔
“عِزہ پریشان نہیں کیا کرو تم۔۔۔پچھلے دنوں سے تمہاری طبیعت بھی اتنی خاص ٹھیک نہیں ماما کو بھی پریشان کیا ہوا۔۔مجھے بتاؤ تو سہی کیا ہوا ہے؟”
نشہ نے سائڈ ٹیبل پر رکھے ٹشو باکس سے ٹشو نکال کر اسکے بھیگے رخسار صاف کئیے۔
“کچھ نہیں ہوا۔۔۔”
“پھر مسئلہ کیا ہے؟ ایک منٹ۔۔۔ اس دن تم ارمغان کے کمرے کے باہر کھڑی رو رہی تھی میرے تو ذہن سے ہی نکل گئی ہے وہ بات۔۔۔ تمہاری کوئی لڑائی ہوئی ہے کیا اس سے؟”
نِشہ کو اچانک یاد آیا۔ اس دن اسے ارمغان کے چیخنے کی آواز آئی تو وہ کمرے سے باہر نکلنے لگی تھی پر تھوڑا سا دروازہ کھولتے ہی اسے عزہ نظر آئی جو ارمغان کے کمرے کے باہر کھڑی رو رہی تھی اور پھر فوراً ہی اپنے کمرے میں بھاگ گئی۔ انوشہ نے سوچا تھا وہ اس سے پوچھے گی مگر یاد ہی نہ رہا۔
“نہیں تو۔۔۔ میں کب رو رہی تھی۔۔”
وہ فوراً ہی آنسو روک کر بھرائی ہوئی آواز میں نفی کرنے لگی۔
“جھوٹی۔۔۔ میں نے خود دیکھا تھا تم ہی تھی۔۔۔”
نِشہ کو یقین تھا کہ اسنے عزہ کو ہی دیکھا تھا۔
“ہاں۔۔۔میں ہی تھی مگر رو تو نہیں رہی تھی۔۔اس دن وہ بہت دیر سے گھر آئے تھے اور کمرے میں چیخ رہے تھے تو میں ڈر کر ادھر گئی تھی دیکھنے کے انہیں کیا ہوا ہے مگر انہوں نے دروازہ ہی نہیں کھولا تو اسی لیے میں دروازے کے باہر کھڑی تھی۔۔۔”
عِزہ فوراً سے بغیر لڑکھڑائے سفید جھوٹ بولتی چلی گئی اور نشہ نے اس کی بات پر یقین بھی کرلیا۔
“اوہ اچھا۔۔۔ یَشل کو ائیر پورٹ چھوڑنے گیا تھا اس دن وہ ضرور دونوں کے درمیان کوئی بات ہوئی ہوگی اور میں بھی نیند میں تھی تو مجھے لگا تم رو رہی ہو۔۔۔”
عِزہ نے بےاختیار ہی پرسکون سانس خارج کیا۔ نِشہ اتنی بےوقوف نہ تھی اگر اسے ذرا بھی شک پڑ جاتا تو وہ بات کی گہرائی تک باآسانی پہنچ جاتی۔
“اچھا اب یہ تو بتاؤ کہ رو کیوں رہی ہو۔۔۔؟”
نِشہ نے دوبارہ وہی سوال کیا جس سے وہ بچنا چاہتی تھی۔
“وہ۔۔۔وہ آمنہ ہے نا۔۔۔ سیالکوٹ جارہی ہے۔۔”
اسکی آنکھوں میں موٹے موٹے آنسو آنے لگے۔
“چچہ چچہ عزہ۔۔۔ تم اس لیے روئے جارہی؟ مرجاؤ۔۔۔!”
انوشہ اسکے رونے کی وجہ جان کر سلگ گئی۔ عزہ خفگی سے انوشہ کو دیکھنے لگی۔
“اچھا بتاؤ کب جارہی ہے۔۔۔؟”
نِشہ کے سوال پر عِزہ سوچ میں پڑ گئی۔ یہ بات تو آمنہ کو خود بھی نہیں معلوم تھی کہ وہ کب جارہی ہے۔۔
“بب۔۔۔بہت جلد۔۔”
آنسو رخساروں پر پھسلنے لگے تو عزہ نے انہیں صاف کیا۔
“اچھا سہی ہے ماما سے کہہ کر میں تمہیں سیالکوٹ کے کسی پاگل خانے میں جمع کروا دیتی۔۔رونے کی کیا بات ہے یار۔۔۔”
وہ اسکا موڈ بحال کرنے کی کوشش کرتی اسکے بال سنوارنے لگی۔
“آپی۔۔۔۔!!!”
عزہ اسکی بات پر غصہ ہوتی اسکے ہاتھ جھٹک گئی تو نِشہ نے قہقہہ لگایا۔
☆ ★ ✮ ★ ☆
“عزہ کہاں ہے۔۔؟”
وہ سیڑھیاں چڑھتا اوپر آیا تو قرت کو افہام کے کمرے کی طرف جاتا دیکھ کر سوال کرنے لگا۔
“کمرے میں دیکھ لو۔۔۔”
وہ اپنے اور عزہ کے مشترکہ کمرے کی طرف اشارہ کرتی ہوئی بولی۔
“آپ اسے بلا دیں نہ باہر۔۔اب میں رات گیارہ بجے اکیلی لڑکی کے کمرے میں جاتا اچھا لگوں گا؟ اچانک اماں ابا آگئے تو فلمی سین کرئیٹ ہوجائے گا۔۔ایک تھپڑ یہاں سے اور ایک تھپڑ وہاں سے پھر نکاح۔۔۔”
ہادی ڈرامائی انداز میں کہتا چلا گیا تو قرت منہ کھولے اسے دیکھنے لگی۔
“کتنے واحیات ہو تم۔۔لعنت ہے تم پر۔۔”
قرت پھاڑ کھانے والی نظروں سے اسے دیکھتی اندر چلی گئی تو ہادی قہقہہ لگاتا عزہ کے کمرے کی طرف بڑھا مگر کمرہ خالی تھا۔
وہ واپس نیچے آیا تو اسے صبیحہ کے کمرے سے نکلتے ہوئے دیکھا۔
“اوہ تم یہاں تھی۔۔۔میں سارے گھر میں تمہیں ڈھونڈ رہا تھا۔۔۔”
“کیوں ڈھونڈھ رہے تھے۔۔۔”
عزہ ایک نظر اس کے چہرے پر ڈالتی لاونج میں آگئی۔ اس دن کے بعد سے دونوں کے درمیان آج بات ہورہی تھی۔
“میں نے کچھ پوچھنا تھا تم سے۔۔۔”
وہ اسکے ساتھ چلتا صوفوں تک آگیا تو عزہ نے ایک سوالیہ نگاہ اس کے چہرے پر ڈالی پھر ٹی وی آن کی اور سردی محسوس کرتی خود میں سمٹ کر بیٹھی۔
“پوچھو۔۔۔۔”
“اتنا گندا منہ کیوں بنایا ہوا ہے۔۔۔؟”
ہادی نے ساتھ والے صوفے پر بیٹھتے ہوئے سوال کیا تو عزہ نے خون خوار نظروں سے اسے گھورا۔
“منہ ہی ایسا ہے میرا۔۔۔تم کام کی بات کرو۔۔۔”
ہادی نے سلگ کر اسے دیکھا مگر یہ وقت لڑائی کرنے کا نہیں تھا۔
“وہ۔۔۔آمنہ۔۔۔اس کو کچھ ہوا ہے کیا۔۔؟”
وہ تھوڑا ہچکچا کر سوال کرنے لگا تو عزہ محظوظ ہوئی۔
“اسے کیا ہوگا۔۔۔”
وہ ٹی وی پر نظریں جمائے بولی۔
“وہی پوچھ رہا ہو میں تم سے۔۔۔بات نہیں کر رہی وہ۔۔۔ عجیب۔۔”
اسکا لہجہ آخر میں بیزاریت اختیار کر گیا کیونکہ وہ ایک ہفتے میں اسکی وجہ جاننے کی ہر ممکن کوشش کر چکا تھا۔۔۔
“مجھے تو نہیں پتا اور کچھ نہیں ہوا ہوگا کالج کی وجہ سے بزی ہوگی میری بھی بات نہیں ہورہی آجکل۔۔۔”
عزہ دلچسپی نہ لیتے ہوئے چینل سرفنگ کرنے لگی۔
“تو وہ بتا دے نہ کہ کالج کی وجہ سے بزی ہے۔۔۔میں اسے ملنے کے لیے بھی کئی بار کہہ چکا ہوں مگر اسکی تو مصروفیات ہی ختم نہیں ہورہی اور پتا نہیں کیسی مصروفیات ہیں کہ جب دیکھو آنلائین ہوتی ہے ہر ایپ پر۔۔مجھے سمجھ نہیں آرہا کالج والوں نے بھی کون سی گھر داری اس کے سر کردی ہے؟ اور تم کیوں مصروف نہیں ہو تم بھی تو اس کے ساتھ ہی پڑھتی ہو۔۔۔”
وہ مضطرب نظر آرہا تھا ساتھ ہی اسے عزہ کے اطمینان سے کوفت ہوئی جو ابھی بھی اسکی باتوں کو نظر انداز کیے ٹی وی کے چینل چینج کرنے میں مشغول تھی اور پھر اسکی اتنی لمبی چوڑی بات کا جواب دینے کی توفیق بھی نہ تھی۔
ہادی کو تو آگ ہی لگ گئی۔
“عزہ دفع ہو جاؤ تم۔۔۔”
وہ جل کر کہتا اٹھ کر چلا گیا تو عِزہ نے بامشکل ہنسی کو کنٹرول کیا اور ہادی کو روکنے کی کوشش نہ کی۔
توقع کے عین مطابق وہ کچھ دیر بعد دل کے ہاتھوں مجبور ہوتا واپس آیا تھا۔
عزہ کو ہنسی تو بہت آئی جسے وہ کنٹرول کرتی اسے نظر انداز کر گئی۔
“عزہ پلیز نہ یار کیا مسئلہ ہے تمہیں۔۔۔بتاؤ نہ کیا ہوا ہے؟”
وہ اسکے پاس بیٹھ کر منت کرنے والے انداز میں بولا۔
“کیا ہے بھئی کِس کو کیا ہوا ہے۔۔۔؟”
عزہ جان کر انجان بنتی ہوئی بولی۔
“آمنہ کو۔۔۔۔”
وہ زچ ہوکر دانت پیستا ہوا بولا تو عِزہ نے ہنسی دبائی کی مگر ہونٹوں پر ناچتی مسکراہٹ ہادی کے غصے کو ہوا دے گئی۔
“عِزہ تم جان بوجھ کر مجھے غصہ دِلا رہی ہو۔۔۔!”
وہ پیچ و تاب کھاتا اسکے ہاتھ سے رموٹ چھین کر ٹی وی بند کر گیا۔ عزہ نے گہرا سانس لیا اور مکمل طور پر اسکی طرف متوجہ ہوئی۔
“بکو اب۔۔۔!”
ہادی کا دل کیا اسکی منڈھی گھما دے مگر خیر۔۔۔وہ ایسا کرنے کا صرف سوچ ہی سکتا تھا۔
“تمہیں ہر بات بتاتی ہے وہ، مجھ سے بات نہ کرنے کی وجہ بھی بتائی ہوگی۔۔۔”
“ہادی کیا ہوگیا ہے وہ صرف بات ہی تو نہیں کر رہی۔۔۔اتنا بھی کوئی بڑا مسئلہ نہیں کہ تم یوں پریشان ہورہے ہو۔۔۔کر لے گی وہ بات جب اسے ضرورت محسوس ہوگی۔۔۔”
عزہ سنجیدہ ہوتی ہوئی بولی۔
“کیا مطلب ضرورت محسوس ہوگی تو بات کرے گی؟ پہلے کون سی ضرورت پوری کر رہا تھا میں اس کی۔۔تم۔۔تم فضول کی بکواس نہیں کرو ناں۔۔۔”
اسنے آخری جملہ کہتے عِزہ کو تیز نظروں سے گھورا۔
“وہ ناراض ہوگی مجھ سے۔۔اس دن میں نے اسکی کال کاٹ دی تھی بغیر کچھ کہے اور وہ اتنے میسجز کرتی رہی مجھے اگلے دن مگر میں نے بات ہی نہیں کی۔۔”
عزہ نے بغور اسکی بات سنی اور سر ہلایا۔
“ظاہر ہے ناراض ہوگی۔۔۔ کتنی بےعزتی محسوس ہوئی ہوگی اسے تمہاری حرکت پر۔۔”
اسکی بات پر ہادی کے چہرے پر ندامت چھانے لگی۔
“یار میں نے اسے اتنا سوری کہا ہے۔۔۔ مجھے لگ رہا ہے اسنے میری رپلیسمنٹ ڈھونڈ لی ہے۔۔”
اسنے اپنا خدشہ ظاہر کیا
“مطلب۔۔۔؟” عزہ نے ناسمجھی سے اسے دیکھا۔
“مطلب وہ ہر وقت واٹسیپ پر آنلائن رہ کر کیا کرتی ہے؟ ضرور کسی سے بات کرتی ہوگی اسی لئیے تو اسے میری کمی محسوس ہی نہیں ہورہی اور کچھ دن پہلے بڑا بول رہی تھی کہ مجھے تمہاری عادت ہوگئی ہے۔۔”
ہادی کے باقاعدہ نقل اتارنے پر عِزہ نے قہقہہ لگایا تو ہادی کو خود بھی ہنسی آگئی۔
“بہت بدتمیز ہو تم۔۔۔کتنا یقین ہے تمہیں کہ وہ کسی اور سے بات کرتی ہے حالانکہ میں نے تمہیں پہلے ہی بتایا تھا کہ وہ کسی سے بات نہیں کرتی تمہارے علاؤہ۔۔”
عزہ کچھ خائف ہوگئی۔
“تو یار بندہ اور کیا سمجھے؟ وہ تین گھنٹے بعد کہیں جاکر رپلائی دیتی ہے آگے سے کہتی ہے میں نے میسج ہی نہیں دیکھا۔۔۔ جھوٹی آنلائن رہ کر میسج کیسے نہیں دیکھا ہوگا۔۔؟”
ہادی اس وقت لڑکی لگا تھا جس کا محبوب اس سے روٹھ گیا ہے اور اس بات کو اسنے ذہن پر سوار کرلیا ہے۔
“اچھا۔۔۔تم نے کال کی؟”
“کال پک ہی نہیں کرتی وہ۔۔وہ بیزار ہوگئی ہوگی مجھ سے۔۔۔”
ہادی پُر سوچ انداز میں بولا
“ایسا کچھ نہیں ہے تم زیادہ سوچ رہے ہو۔۔۔”
عزہ نے اس کو ہلکا پھلکا کرنا چاہا۔
“تو اور کیا کروں؟ سارا دن وہ ملکہ عالیہ میرے دماغ میں ناچتی رہتی ہے اگر مزید کچھ دن یہی چلتا رہا تو اس کے گھر پہنچ جانا میں نے۔۔”
وہ جزباتی ہوتا ہوا وہ بولا تو عزہ محظوظ ہوئی۔ شاید تیر نشانے پر جا لگا تھا۔
“ہاں ہاں جاؤ۔۔۔چھتر کھا کر واپس آؤ گے تو عقل بھی ٹھکانے آئے گی۔۔”
وہ تمسخرانہ انداز میں بولی اور ریموٹ اٹھا کر دوبارہ ٹی وی آن کی۔ ہادی نے بھی نظریں ٹی وی پر جمائی مگر ذہن میں آمنہ ہی گھومے جارہی تھی۔
“یار عِزہ۔۔۔”
کچھ دیر بعد اسکی بیزار اور بےبس سی آواز پر عزہ نے آئی برو اچکاتے اسے دیکھا۔
“تم۔۔۔اس دن۔۔۔” وہ ہچکچاہٹ کا شکار ہورہا تھا۔ عزہ نے پوری طرح سے چہرا اسکی طرف موڑا۔
تم ٹھیک کہہ رہی تھی۔۔۔” اسنے ہار ماننے والے انداز میں کہا۔
“کیا کہا تھا میں نے۔۔۔؟” وہ تھوڑی الجھ گئی کیونکہ وہ تو ہر بات ہی ٹھیک کہتی تھی۔۔ایسا عزہ کا خیال تھا۔
“یہی کہ میں اس کو صرف دوست نہیں سمجھتا۔۔۔میں اس کو پسند کرنے لگا ہوں۔۔۔”
عزہ کی آنکھیں چمک اٹھی
“تو تم نے یہ بات اس کو بتائی۔۔؟”
اپنی کیفیت چھپاتے اسنے سوال کیا۔
“بات تو کرے پہلے محترمہ۔۔۔تم کہو نہ اس سے۔۔”
اسکی بات پر عزہ نے احسان کرنے والے انداز میں سر ہلایا۔
“اسے یہ مت بتا دینا کہ میری تم سے بات ہوئی ہے یا ایسا ویسا کچھ بھی۔۔۔ خود بتا دوں گا میں۔۔”
وہ صوفے سے اٹھتا ہوا بولا تو عزہ نے اچھے بچوں کی طرح سر ہلا دیا۔
“ٹھیک ہے۔۔۔”
ہادی کے لاونج سے باہر جاتے ہی عزہ نے فوراً اپنا فون اٹھایا اور میسج ٹائپ کرنے لگی۔
“ہادی سیدھا ہوگیا ہے اب اس سے بات کرلو مجھے اس پر ترس آرہا۔ مجھے تو کمزور بھی لگ رہا۔۔۔”
☆ ★ ✮ ★ ☆
“بابا۔۔۔ میں ایم کام کرنا چاہتا ہوں۔۔۔”
وہ کھانا کھانے کے دوران بولا تو ڈائننگ ٹیبل پر بیٹھے سب نفوسوں نے اسکی طرف دیکھا۔ عدنان صاحب کو اب اسکا سب کے ساتھ بیٹھ کر کھانا کھانے کا مقصد سمجھ آیا۔
“ماسٹرز۔۔؟ مگر کیوں؟”
انہوں نے کچھ حیران ہوتے پوچھا کیونکہ اسنے پہلے کبھی ماسٹرز میں دلچسپی ظاہر نہ کی تھی۔
“بس کوئی ایسی خاص وجہ نہیں ہے اور۔۔۔”
وہ کچھ بولتے بولتے ٹہر گیا پھر کھانے کی پلیٹ سے نظر ہٹا کر انہیں دیکھا۔
“میں یو ایس اے جاکر ماسٹرز کی ڈگری کرنا چاہتا ہوں۔۔”
عِزہ کو حلق میں نوالہ پھنستا محسوس ہوا۔
“یو ایس اے جاکر؟ اگر ماسٹرز کرنا ہے تو یہیں سے کرو۔۔”
عطیہ کو یقیناً اسکی یہ بات کچھ خاص پسند نہ آئی تھی۔ ارمغان دوبارہ پلیٹ پر جھک گیا۔
“نہیں مجھے پاکستان سے باہر جانا ہے۔۔۔یہاں پڑھائی نہیں کر سکوں گا میں۔۔”
سکون سے کھانا کھاتا وہ سب کی نظریں خود پر اچھے سے محسوس کرسکتا تھا۔
“بعد میں بات کرتے ہیں اس بارے میں۔۔۔”
عدنان صاحب کے کہنے پر سب اپنے کھانے کی طرف متوجہ ہوگئے۔
“اب بتاؤ۔۔۔ ماسٹرز کرنے کا خیال کہاں سے آگیا تمہیں۔۔”
کھانا کھانے کے کچھ دیر بعد لاؤنج میں بیٹھ کر عدنان صاحب نے ارمغان سے سوال کیا جو ان کے سامنے والے صوفے پر براجمان تھا۔ باقی سب بھی وہیں تھے سوائے قرت اور نشہ کے۔ نشہ کچن صاف کر رہی تھی جبکہ قرت سب کے لیے گرین ٹی کا پانی چڑھا چکی تھی۔
“بس ویسے ہی آگیا اور میرے خیال سے تو اس میں کوئی برائی نہیں۔۔”
اسنے ٹہرے ہونے لہجے میں کہا تو عدنان صاحب سر ہلانے لگے۔
“مگر ایسے کیسے تم چلے جاؤ گے؟ ہرگز نہیں میں تمہیں اتنی دور کسی صورت نہیں جانے دوں گی۔۔پہلے ہادی ہاسٹل میں رہا اور اب تم ملک سے ہی باہر جانے کی بات کر رہے۔۔۔ خبردار اگر آپ نے اس کو اجازت دی تو۔۔۔”
عطیہ نے اختلاف کرتے ہوئے پہلے ارمغان سے اور پھر آخری جملہ عدنان صاحب سے کہا۔
“ماما۔۔۔اب ایسی باتیں تو نہیں کریں آپ میں بس یہاں نہیں رہنا چاہتا ہوں فلحال پاکستان میں تو کسی صورت ماسٹرز نہیں کرسکتا میں۔۔۔”
“تو ماسٹرز کرنے کے لیے کہہ ہی کون رہا ہے؟ نوکری کر تو رہے ہو اچھی بھلی۔۔”
عطیہ کہ بات سنتے ارمغان نے ٹھنڈی سانس ہوا کے حوالے کی اور اٹھ گیا۔
“میں یو ایس اے جانا چاہتا ہوں اور میں فیصلہ کر چکا ہوں۔۔”
وہ حتمی لہجے میں کہتا لاونج سے نکل گیا تو عدنان صاحب نے سر پکڑ لیا۔
“ممانی جان جزباتی مت ہوں۔۔۔ٹھنڈے دماغ سے سوچیں۔ ارمغان کا یہاں سے جانا ہی بہتر ہے۔۔وہ یہاں سے چلا جائے گا تو اسکے لیے آسانی رہے گی۔ اسکی حالت کو سمجھیں۔۔۔ باہر جاکر وہ مصروف رہے گا اور وقت گزرنے کے ساتھ ٹھیک بھی ہو جائے گا۔۔”
افہام نے عطیہ کو سمجھانا چاہا
“کیا سمجھیں؟ تمہاری ماں جانے دے گی تمہیں؟ وہ یہاں رہ کر بھی ٹھیک ہوسکتا ہے۔۔۔میں کیسے اسے اتنی دور جانے دوں پرائے ملک؟ ہرگز نہیں۔۔”
عدنان صاحب کے ساتھ ساتھ ہادی اور افہام نے بھی سر پکڑ لیا۔
“میرے خیال سے افہام کی بات ٹھیک ہے۔۔”
عطیہ ابھی بیڈ پر آکر بیٹھی ہی تھیں جب عدنان صاحب بولے۔
“کونسی بات ٹھیک کردی اس نے۔۔؟ میں بتا رہی ہوں میں اس کو شہر سے باہر جانے کی اجازت بھی نہیں دوں گی۔۔ خیال کون رکھے گا اس کا؟ ملک سے باہر رہنا حلوا بنانے جیسا آسان نہیں ہوتا اور جوان جہاں بچہ ہے میرا خدا نخواستہ بیمار ہوگیا تو؟”
ارمغان کے باہر جانے سے وہ پہلے ہی نالاں تھیں۔
“عطیہ کیسی باتیں کر رہی ہو۔۔۔اپنے جوان جہاں بچے کی حالت دیکھی ہے تم نے؟ وہ جب تک اس گھر میں اس شہر میں رہے گا اسکے لیے آگے بڑھنا مشکل ہی ہوگا۔ اس کا دماغ کھلنے دو تھوڑا۔۔ تم ماں ہوتے ہوئے اس کو نہیں سمجھ رہی؟”
عدنان صاحب سنجیدگی سے بولتے سیدھے ہوکر بیٹھ گئے اور عطیہ کو دیکھنے لگے کو ٹھنڈے دماغ سے کام نہیں لے رہی تھی۔
“آپ مجھے بھی تو سمجھیں نہ۔۔۔ماں ہوں میں اسکی اسی لئیے کہہ رہی ہوں کہ میں اس کو جانے نہیں دونگی۔۔۔ مذاق ہے کیا اپنے گھر سے دور کسی انجان ملک میں رہنا؟”
وہ ماں تھیں اور اپنے لاڈلے بیٹے کو خود سے دور نہیں کر سکتی تھیں۔
عدنان صاحب نے گہرا سانس بھرا اور ان کے قریب چلے آئے۔
“اپنے بیٹے کا بھلا چاہتی ہو نا۔ چاہتی ہو نا کہ وہ جسمانی اور زہنی طور پہ ٹھیک رہے؟”
انہوں نے اپنائیت بھرے لہجے میں پوچھا جس پہ عطیہ نے اثبات میں سر ہلایا۔
“تو پھر اس کو جانے دو۔ یہاں سے دور رہے گا تو اپنا دھیان کہیں اور لگا پائے گا۔ وہاں مصروف رہے گا ایسے۔۔ یہاں وہ سب نہ ہوتے ہوئے بھی فراموش نہیں کر پائے گا اور خود کو ازیت دیتا رہے گا۔ وہاں اس کو یہ خیال تو ہو گا کہ کچھ کرنا ہے تبھی زہن بٹا رہے گا۔۔۔ اس کی حالت کو سمجھو! وہ خود کو تباہ کر لے گا اگر یہاں رہا تو۔۔ آگے نہیں بڑھ پائے گا۔ اپنے بیٹے کی حالت پہ رحم کھاؤ ۔۔”
عدنان صاحب نے تحمل سے ایک بار پھر سمجھانے کی کوشش کی۔۔
“یہی تو مسئلہ ہے عدنان صاحب کہ وہ ابھی ٹھیک نہیں ہے دکھ میں ہے۔۔۔مجھے ڈر ہے کہیں ہم سے دور جانے کے بعد اسکا یہ دکھ اس سے کچھ غلط نا کروا دے۔۔”
عطیہ نے اپنا ڈر سامنے رکھا۔
“خدا کا کچھ خوف کرو عطیہ بیگم۔۔”
عدنان صاحب بھڑک اٹھے۔
“کیوں اتنا غلط سوچ رہی ہو؟ ارمغان کبھی کچھ ایسا نہیں کر سکتا جس پر ہمارا سر جھک جائے مجھے یقین ہے اپنی اولاد پر۔۔”
“میرا دل نہیں مان رہا میں کیسے اپنے بچے کو سات سمندر پار بیجھ دوں۔۔۔”
انہوں نے بےبسی سے سر ہاتھوں میں گرا لیا چاہتی تو وہ بھی ارمغان کا بھلا تھی پر اس طرح خود سے دور نہیں کرنا چاہتی تھی۔۔۔
“دل کو منانے میں کتنا وقت لگتا ہے؟ تھوڑی دیر اس بات کو ہر پہلو سے سوچو سمجھے پھر فیصلہ کرلو۔۔”
عدنان صاحب بات مکمل کرتے لیٹ گئے۔ عطیہ کی آنکھوں میں نمی اترنے لگی ارمغان ان کا لاڈلہ بیٹا تھا۔ وہ واقعی ان کے جگر کا ٹکڑا تھا۔ اس کو دیکھے بغیر تو عطیہ کا دن بھی نہ گزرتا تھا۔
عطیہ کے لیے یہ ایک بہت مشکل فیصلہ تھا مگر فیصلہ تو ان کو کرنا تھا ہی نہیں۔۔۔وہ تو ارمغان پہلے ہی کر چکا تھا۔ انہیں بس اپنے دل کو مضبوط کرنا تھا۔
