Muntazirat Hastam by Neha Imtiaz NovelR50532 Muntazirat Hastam (Episode 20)
Rate this Novel
Muntazirat Hastam (Episode 20)
Muntazirat Hastam by Neha Imtiaz
“مجھے کافی بنا دو۔۔۔”
میڈ کو کچن صاف کرتا دیکھ کر یَشل نے اسے مخاطب کیا۔ وہ اپنا کام خود ہی کرلیا کرتی تھی مگر آج پورے وجود پر عجیب سستی طاری تھی۔ میڈ کو کافی کا کہتے وہ لاونج میں آگئی اور درمیان میں پڑی میز کے نچلے حصے سے ایک کتاب نکال کر بیٹھ گئی
“یہ لو۔۔۔” رائد کی آواز پر اسنے چونک کر اسے دیکھا جو کافی کا کپ اسکی طرف بڑھائے کھڑا تھا۔ یَشل کے کپ نہ تھامنے پر وہ کندھے اچکاتا اسکے ساتھ بیٹھا اور خود پینے لگا۔
“ادھر دو یہ مجھے۔۔۔”
یَشل کے دانت پیسنے پر رائد نے خاموشی سے کپ اسکی طرف بڑھایا۔
“میں تو میٹھی کرکہ دے رہا تھا۔۔۔”
یَشل نے آنکھیں ٹیڑھی کرکہ دیکھا جو ہمیشہ کی طرح مسکراہٹ دبا رہا تھا۔۔ یشل نے مگ لبوں سے لگاتے کافی کا سپ لیا۔
“بہت کڑوی ہے۔۔۔۔”
کافی کڑوی نہیں تھی مگر چہرے کے تاثرات اسکی سچائی کی گواہی دے رہے تھے۔ رائد نے اسکو ایکٹنگ کرتا دیکھ کر گھورا۔
“تم نے بال کیوں کٹوا لئیے؟لمبے تھے تو اچھے لگ رہے تھے مجھے۔۔”
“اسی لئیے ہی کٹوائے ہیں۔۔۔”
وہ بغیر دیکھے بولی تو رائد نے پھاڑ کھانے والی نظروں سے یَشل کو دیکھا۔
وہ اسے بتا نہیں سکتی تھی کہ اسے اپنے درمیانی لمبائی والے بالوں سے ارمغان یاد آتا تھا۔ اسے محسوس ہوتا تھا جیسے وہ اسکے بالوں کو چھیڑتا ہے انسے کھیلتا ہے۔ وہ رات کو آنکھیں بند کرتی تھی تو اسکی انگلیاں اپنے بالوں میں سرکتی ہوئی محسوس ہوتی تھی۔۔ وہ ہمیشہ سے اسکے بال بڑے ہوتے دیکھنا چاہتا تھا مگر وہ بتائے بغیر ہی کٹوا لیا کرتی تھی۔
خود پر نظروں کی تپش محسوس کرتے اسنے چہرا موڑا تو وہ اسے گھور رہا تھا۔۔ جس کے بارے میں سوچ رہی تھی اسکے سامنے بیٹھا تھا۔ کچھ خفا خفا تاثر چہرے پر چھایا ہوا تھا۔ اسے دیکھتے یَشل کی آنکھوں میں نرمی اتر آئی۔ رائد کو دور کہیں اسکی آنکھوں میں نرمی کے ساتھ محبت کا جلتا دیا نظر آیا تھا۔۔۔ان دونوں کی نظریں ملی اور وقت جیسے رک سا گیا۔ رائد یَشل کی خوبصورت آنکھوں میں کھو گیا تھا جبکہ یَشل ارمغان کی آنکھوں میں ڈوبتی چلی جارہی تھی۔۔۔۔
“اتنے پیار سے مت دیکھا کرو یَشل۔۔۔”
وہ سنجیدگی سے بولتے یَشل کو حقیقت کی دنیا میں گھسیٹ لیا۔ چہرے پر ایسا تاثر آیا جیسے خواب سے جاگی ہو جبکہ آنکھوں میں الجھن در آئی۔۔وہ جھٹ سے اس پر سے نظر ہٹاتی کتاب پر ٹکا گئی جس پر لکھے لفظ دھندلانے لگے۔ رائد نے خاموشی سے اسے دیکھا
“تم مجھے کبھی کبھی ایسے کیوں دیکھتی ہو؟”
اسنے آخر کار وہ سوال کر ہی لیا جو پچھلے ایک ماہ میں اسکے ذہن میں کئی بار آیا تھا۔
“کیسے دیکھتی ہوں؟”
وہ جان کر بھی انجان بنتی غیر محسوس انداز میں نظریں چرا گئی۔
“جب بھی میں تمہارے قریب آتا ہوں کچھ دیر کے لیے تم مجھے دیکھتی چلی جاتی ہو بہت محبت سے اور پھر تم اس کیفیت سے باہر آتے ہی جو نظر مجھ پر ڈالتی ہو اس میں محبت نہیں ہوتی۔۔۔”
یَشل نظر اٹھا کر اسکی طرف دیکھ بھی نہ سکی۔
“کہیں تمہیں مجھ سے محبت تو نہیں ہوگئی اور تم بار بار اس خیال کی نفی کرتی ہو۔۔۔ایسا ہی ہے نہ؟”
اسکے لہجے میں اتنا یقین تھا کہ یَشل کو لگا کسی نے اس کا دل مٹھی میں جکڑ لیا ہے۔ احساسِ ندامت، شرمندگی، انفِعال، شرمساری اور ناجانے کیا کیا۔
رائد کی سوالیہ نظریں خود پر محسوس کرتے اس کے لیے وہاں بیٹھنا محال ہوگیا۔ کتاب پکڑے ہاتھوں کی کرزش چھپاتی وہ کتاب بند کرکہ اٹھ گئی۔
“ہاں ایسا ہی ہے۔۔۔”
اس بار یہ جھوٹ بولنا اسے مشکل نہ لگا۔ اسنے ساری جھوٹ بولتے ہوئے ہی گزارنی تھی۔
☆ ★ ✮ ★ ☆
“جب میں نے پہلی بار تمہیں دیکھا تھا نہ ہادی۔ تم میری آنکھوں کو بہت اچھے لگے تھے۔۔۔”
وہ اسکی بات پر ہلکا سا مسکرا دیا
“آنکھوں کو تو کوئی بھی اچھا لگ جاتا ہے جناب۔۔۔بات تو تب ہوتی ہے جب کوئی دل کو اچھا لگ جائے۔۔۔”
وہ بڑے شاعرانہ انداز میں بولا
(دل کو ہی تو اچھے لگ گئے ہو بُدھو)
اپنی سوچ کو زبان پر نہ لاتے ہوئے وہ فقط مسکرائی تو لائن پر خاموشی چھا گئی جس کو آمنہ کی آواز نے ہی توڑا
“میں پہلی نظر میں تمہارے دل کو اچھی لگی تھی یا آنکھوں کو؟”
نہ جانے کیا سوچ کر اس نے یہ سوال کر ڈالا
تمہیں کِس نے کہا تم مجھے اچھی بھی لگی تھی؟”
اسکا لہجہ اتنا سوالیہ اور سنجیدہ تھا کہ وہ کچھ کہہ نا سکی
“تم مجھے اچھی نہیں۔۔”
وہ بولتے بولتے رُکا تو دوسری طرف اسکے ہونٹوں پر مسکراہٹ ٹہر گئی
“ہاں۔۔ تم مجھے اچھی نہیں بلکہ بری لگی تھی۔۔۔”
اس نے بات مکمل کی تو اسکے ہونٹ سکڑ گئے۔ وہ سمجھ نا سکی اسے تنگ کر رہا تھا یا واقعی ہی سیرئیس تھا۔
پچھلے ایک ماہ میں ان دونوں کی دوستی اتنی گہری ہوگئی تھی کہ بات کالز اور لیٹ نائٹ باتیں کرنے تک پہنچ گئی تھی۔ یہ سلسلہ دوستی تک ہی محدود تھا مگر صرف ہادی کی طرف سے۔ آمنہ چاہ کر بھی خود کو روک نہ سکی تھی اور غیر محسوس انداز میں وہ اس سے اٹیچ ہوتی چلی گئی تھی جس کا اندازہ اسنے فلحال ہادی کو نہ ہونے دیا تھا۔۔اپنے لیے آمنہ کے لہجے میں گھلی چاشنی کو اسنے ہمیشہ ایک اچھی اخلاص بھری دوستی کی وجہ ہی سمجھا تھا۔
اپنی اور ہادی کی دوستی کا جب آمنہ نے عزہ کو بتایا تو اسکا ردعمل کچھ ایسا تھا
عزہ: “کیا کیا کیا۔۔۔؟ جھوٹی ہو تم۔۔۔”
آمنہ: “میں نے جھوٹ کیوں بولنا؟”
عزہ: “مجھے کیا پتا لیکن تم؟ کسی لڑکے سے دوستی کرو؟ میں مان ہی نہیں سکتی۔۔۔”
عزہ نے اپنا سر نفی میں ہلایا۔ آمنہ کے ہونٹوں پر مسکراہٹ آئی پھر اسنے موبائل کھول کر اپنی اور ہادی کی کچھ چیٹ دکھائی
عزہ: “استغفرُللّٰہ استغفرُللّٰہ آمنہ کتنی چھپی رستم ہو تم۔۔۔”
آمنہ: “بکواس کم کرو۔۔۔چھپی رستم کیا ہوتا ہے؟ میں کونسا شادی کہ وعدے کرکہ بیٹھی ہوں اس سے۔ دوستی ہی تو ہے۔۔۔”
عِزہ: “اچھا واقعی؟ صرف دوستی ہے؟”
ذومعنی لہجے میں بولتے عزہ نے اپنا کندھا آمنہ کو مارا تو اسنے گھور کر عزہ کو دیکھا۔
آمنہ: “بکواس نہیں کرو اچھا ایسے شوق نہیں رکھتی میں۔۔”
آمنہ کے اِترا کر کہنے پر عزہ نے قہقہہ لگایا۔ وہ جانتی تھی آمنہ نے کبھی ان چیزوں میں دلچسپی نہیں لی نہ ہی اسے یہ سب اتنا پسند تھا مگر آمنہ کو خود بھی اندازہ نہ ہوا وہ کب ہادی میں دلچسپی لینے لگی تھی۔
“اوئے۔۔۔؟ میں مذاق کر رہا تھا رونے تو نہیں بیٹھ گئی تم؟”
ہادی کی آواز پر سوچوں سے نکلی
“نن۔۔نہیں میں نے کیوں رونا۔۔۔ بیوقوف”
وہ ہنس کر بولی مگر ہنستے ہوئے بھی لہجہ کچھ عجیب سا تھا۔
“تمہیں واقعی بری لگی تھی میں۔۔۔؟”
چند لمحوں بعد آمنہ نے سنجیدگی سے سوال کیا
“اوفففف آمنہ۔۔۔”
دوسری طرف شاید اسنے اپنا ماتھا پیٹا تھا۔
“لڑکی۔۔!! کتنا سوچتی ہو یار تم۔۔۔بہت اچھی لگی تھی تم مجھے”
آمنہ بے اختیار بلش کرتی مسکرائی تھی
“اب زیادہ تعریف نہیں کروں گا میں۔۔۔وہ صرف عزہ کی کرتا ہوں”
عام سے لہجے میں بولتے وہ نجانے اسے کیا جتا گیا تھا۔ آمنہ کی مسکراہٹ ایک بار پھر سمٹ گئی۔ آمنہ سے باتیں کرتے وہ بہت بار عزہ کا ذکر کیا کرتا تھا جو اسے برا نہیں لگتا تھا مگر اب اسے برا لگنے لگا تھا اسکے منہ سے بار بار عزہ کا نام جیسے اسمان پر اڑتی آمنہ کو زمین پر لے آتا تھا۔
“اچھا مجھے ماما بلا رہی ہیں۔۔۔فری ہوکر بات کرتی”
الوداعی کلمات ادا کرتے اسے فون کان سے ہٹایا۔ کتنی ہی دیر وہ ایک ہی پوزیشن میں بیٹھی خدا جانے کیا سوچتی رہی
☆ ★ ✮ ★ ☆
“کچھ بات کرنی ہے مجھے تُم سے۔۔۔”
صبح کے ساڑھے سات بج رہے تھے جب وہ آسکے آفس جانے سے پہلے بات کرنے کے غرض سے اسکے کمرے میں آئی تھی۔ خود پر سپرے چھڑکتا افہام انوشہ کو دیکھ کر پیچھے مڑا۔ وہ سیریس لگ رہی تھی
“کیا ہوا؟ خیریت؟”
افہام کو استعجاب نے آگھیرا۔
“یہ کیا چل رہا ہے؟”
اسکے ادھورے سوال پر افہام نے ناسمجھی سے انوشہ کو دیکھا
“مجھے بھی دکھاؤ کیا چل رہا ہے؟”
“تمہارے اور قِرت کے بیچ کیا چل رہا ہے؟”
نِشہ نے دانت پیسے تو افہام نے ہونٹوں کو او کی شیپ دی۔۔یعنی اُسے بھی پتا لگ گیا تھا
“کچھ تو چل رہا ہے۔۔خیریت ہے اتنا غصہ کیوں کر رہی ہو؟”
وہ صوفے پر بیٹھ کر جوتے پہننے لگا تو انوشہ اُسکے ساتھ آکر بیٹھی
“کیا تُم سب کچھ بھول چکے ہو؟”
افہام کے ہاتھ رُکے تھے۔۔اُسنے آہستہ سے چہرا موڑ کر نِشہ کو دیکھا پھر سیدھا ہوکر بیٹھا
“تمہیں کیا لگتا ہے۔۔۔”
وہ جواب میں سوال کر رہا تھا
“اگر مجھے پتا ہوتا تو تُم سے ہرگِز نہ پوچھتی۔۔۔”
وہ الجھی ہوئی لگ رہی تھی
“تُم نے قِرت سے کچھ کہا ہے کیا؟”
“فلحال تو کچھ نہیں کہا۔۔”
“بعد میں بھی نہیں کہو گی۔۔۔”
وہ تنبیہہ کر رہا تھا۔ انوشہ نے آنکھیں سکیڑ کر اُسے دیکھا وہ کچھ بولنے لگی تھی جب افہام دوبارہ بولا
“میں اُس سے خود بات کرلوں گا۔ میں بس تھوڑا سا کنفیوژ ہوں۔۔”
وہ آخری بات آہستہ سے بولا تو نِشہ کو حیرت ہوئی
“افہام کیا ہوگیا ہے تمہیں۔۔تُم کنفیوژ ہو؟ سیریسلی؟”
اسے یقین نہیں آیا تھا افہام جو چوبیس سالہ نوجوان تھا نہ کہ کوئی بچہ جو یوں لڑکی کے معاملے میں کنفیوژ ہوتا۔۔افہام نے انگوٹھے اور شہادت کی انگلی سے ماتھا مسلا تھا
“میں بتا رہی ہوں تمہیں ابھی تک تو میری قِرت سے کوئی بات نہیں ہوئی لیکن بہتر ہوگا کہ تُم اپنی کنفیوژن ختم کرو اور سب قرت کو بھی بتاؤ۔ ورنہ میں بتا دونگی اور تُم بھی یہ ہرگز نہیں چاہو گے کہ وہ سولی پر لٹکی رہے۔۔تُم ارمغان کو بھی جانتے ہو اگر اُسکو تمہاری کنفیوژن کا علم ہوا تو سر کھول دے گا وہ تمہارا۔۔۔”
وہ سخت لہجے میں تنبیہہ کرتی ہوئی بولی افہام خاموش رہا تھا وہ جانے کے لیے اٹھی پھر رک گئی۔
“حاجرہ آنٹی قِرت کے لیے اپنے بیٹے کا رشتہ لائی تھیں۔۔۔ماما اور ممانی کافی حد تک کنوینس بھی ہوگئی ہیں”
وہ باہر نکل گئی افہام کا دل ڈوب گیا۔ وہ اس رات کتنی ہی دیر خود کو سمجھاتا رہا تھا کہ یہ صرف اسکا خیال ہے حاجرہ اس مقصد سے نہیں آئی ہوگی لیکن اب اسکے خدشات بلکل درست ثابت ہوئے تھے اسے پریشانی نے آن گھیرا اور پھر جو کچھ نشہ بول کر گئی تھی۔۔وہ اچانک ہی بےحد الجھن کا شکار ہوتا سر ہاتھوں میں گرا گیا
وہ اُس سے چھوٹی تھی مگر ہمیشہ سے وہ کچھ معاملات میں افہام سے زیادہ سیریس رہی تھی اور یہ بھی ایک ایسا ہی معاملہ تھا۔ سیریس تو افہام بھی تھا لیکن وہ گزرے وقت پر نِشہ کی طرح روشنی نہیں ڈال رہا تھا ہلانکہ وہ ضروری بھی تھا۔ نِشہ کے جانے کے بعد وہ کچھ دیر ویسے ہی بیٹھا اُسکی باتوں پر غور کرتا رہا۔۔
“افہام۔۔ایسے کیوں بیٹھے ہیں؟”
قِرت کی آواز پر اُسنے سر اُٹھایا تو وہ دروازے کے پاس کھڑی تھی
میک اپ کے نام پر چہرے پر صرف ٹنٹ لگایا تھا اور بالوں کی خوبصورتی سی فرینچ بریڈ بنائی تھی۔ دوپٹہ کندھوں پر پھیلا ہوا تھا۔ وہ بلاشبہ خوبصورت لگ رہی تھی۔ افہام مسکراتا ہوا اُٹھ کھڑا ہوا۔ اسکی پسند کے مطابق قرت نے اپنی تیاری میں کمی کرلی تھی۔
“بس تمہارے بارے میں سوچ رہا تھا۔۔”
ایک نظر خود کو شیشے میں دیکھا اور اُسکی طرف مڑا تو وہ مسکرانے لگی
“ایسا کیا سوچ رہے تھے میرے بارے میں؟”
سینے پر بازو باندھ کر وہ دو قدم اندر آئی تھی
“میں بتاؤں گا تو تُم شرما جاؤ گی۔۔”
وہ سادگی سے بولا۔ قرت اُسکی بات کا مطلب سمجھتی مسکراہٹ روکے اُسے گھورنے لگی
“بہت زیادہ بےشرم ہوگئے ہیں آپ۔۔۔”
وہ نروٹھے پن سے بولی۔۔
“ظاہر ہے اب تمہاری طرح بات بات پر سرخ تو نہیں ہوسکتا میں۔۔۔”
وہ اسکے ہر بار بلش کرنے پر چوٹ کرتا ہوا بولا تو وہ بےاختیار مسکرائی
“اچھا فضول باتیں نہیں کریں زیادہ یونیورسٹی ڈراپ کریں مجھے آٹھ بجے کلاس ہے میری۔۔۔”
قرت نے گھڑی کی طرف دیکھ کر کہا تو اُسنے سائڈ ٹیبل پر پڑے گلاسز اُٹھا کر آنکھوں پر لگائے۔
افہام کے بار بار بولنے پر وہ مان گئی تھی کہ افہام اُسے ڈیلی یونیورسٹی ڈراپ کرے گا لیکن واپسی پر وہ ٹیکسی میں ہی آئے گی جس پر افہام بھی رضامند ہوگیا تھا
☆ ★ ✮ ★ ☆
سکینہ کو ہوش آنے کی خبر سنا کر ڈاکٹر نے جیسے ان کو زندگی کی نوعیت سنا دی تھی۔ اشک بار آنکھیں لئیے وہ سکینہ کے سٹریچر کے قریب بیٹھی تھی۔ اسنے اپنی ماں کی کھلی آنکھیں دیکھتی تھی مگر اسکی آواز سننے کو کان ترس گئے تھے۔ پچھلے دو گھنٹوں سے وہ اسکے پاس بیٹھی کبھی کوئی بات کر رہی تھی تو کبھی کوئی۔ جبکہ رائد خاموشی سے صوفے پر بیٹھا تھا۔ سکینہ کے ہوش میں آنے کے بعد سے اسنے سکینہ سے کوئی بات نہ کی تھی۔
عادل وارڈ کے اندر داخل ہوتا سکینہ کی طرف بڑھا۔
“ڈاکٹر نے کہا ہے انشاللّٰہ پرسو تک ڈسچارج کردیں گے۔ “
عادل نے ہاتھ بڑھا کر اسکے ماتھے پر بکھرے بال پیچھے کئیے۔ سکینہ مدھم مسکراہٹ اسکی طرف اچھلتی رائد کی طرف دیکھنے لگی۔
“ادھر آؤ رائد۔۔۔”
وہ نقاہت زدہ آواز میں بامشکل بولی۔ جہاں اسکی آواز سن کر یَشل کچھ پرسکون ہوئی وہیں اسکے دل میں درد کی ایک ٹیس اٹھی۔ وہ دو گھنٹے سے اسکے پاس بیٹھی بولتی چلی جارہی تھی اور جب وہ بولی تو اپنے بیٹے کے لیے۔۔۔
“شکر ہے آپ ٹھیک ہوگئی ہیں۔۔۔ بہت مشکل وقت گزرا ہے آپ کے بغیر۔۔”
رائد کی آنکھوں میں نمی جمع ہونے لگی۔
“کوئی بات نہیں۔۔آگے بھی تو میرے بغیر وقت گزارنا ہے۔۔۔”
سکینہ نے رائد کے رخسار پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہا تو عادل نے اسے گھورا
“ابھی ٹھیک ہوئی ہو۔۔اچھی بات نہیں کرنی تو بولو ہی نہیں چپ کرکہ لیٹی رہو”
عادل کے ڈپٹنے والے انداز پر رائد اور سکینہ بےاختیار مسکرا دئیے۔
“ٹھیک کہہ رہے ہیں بابا۔۔دیکھا نہیں آپ نے میرے ہینڈسم اور فٹ رہنے والے ابا کیسے بڈھے ہوگئے ہیں۔۔”
رائد نے سنجیدگی سے کہا مگر آنکھوں میں صاف شرارت تھی۔ سکینہ کی مسکراہٹ گہری ہوئی اور عادل نے رائد کو گھورا۔
عادل واقعی ہی کمزور ہوگیا تھا۔ وہ ہمیشہ سے فٹنس کو لے کر بہت کانشئیس رہا تھا مگر پچھلے ایک مہینے میں وہ اچانک ہی بوڑھا ہوگیا تھا۔ ان تینوں کو آپس میں یوں باتیں کرتا دیکھ یر یَشل کو اپنا آپ اچانک ہی مس فِٹ فیل ہونے لگا۔
“مم۔۔۔میں آتی ہوں۔۔”
وہ اٹھ کر دروازے کی طرف بڑھی مگر رائد کی آواز پر اسکے قدم رک گئے۔
“ارے۔۔کدھر جارہی ہو ادھر واپس آؤ۔۔”
وہ خود آگے بڑھا اور اسکو بازو سے پکڑ کر اپنے ساتھ کیا
“دیکھیں ماما۔۔۔ہم ساتھ میں اچھے لگتے ہیں نہ؟”
رائد نے اسکے کندھے کے گرد بازو حائل کیا۔ اس مسکراتی آواز پر یَشل نے لب بھینچتے غیر محسوس انداز میں دور ہونا چاہا اور اسکی اس کوشش کو رائد نے ناکام بنایا۔
“ماشاءاللّٰہ۔۔۔بہت پیارے لگ رہے ہو۔۔”
سکینہ نے مسکراتے ہوئے کہا تو آنکھوں میں آتی نمی چھپاتے وہ بھی بدقت مسکرائی۔
“کوئی شک نہیں اس میں تو اب جلدی سے ٹھیک ہو جائیں آپ تاکہ ولیمہ رکھا جائے۔۔ نکاح پرانا ہورہا ہمارا”
رائد نے گہری نظر یَشل کے چہرے پر ڈالتے ہوئے کہا تو اسنے حیرت سے رائد کو دیکھا۔
“ولیمہ۔۔۔؟” وہ زیر لب بڑبڑائی
“انشاللّٰہ وہ بھی ہوجائے گا۔۔۔”
سکینہ کی بات پر تو اسے مزید حیرت ہوئی۔۔
“ولیمے کی اتنی جلدی کیا ہے۔۔۔؟”
وہ جلدی سے بولی
“ہاں۔۔کیا مطلب نکاح پرانا ہورہا؟ مہینہ ہی تو گزرا ہے اسے پڑھائی بھی تو کرنی ہوگی۔۔”
عادل نے یَشل کی سائڈ لی تو اسے کچھ حوصلہ ملا
“اوہو ابو۔۔۔پڑھائی شادی کے بعد نہیں ہوتی کیا؟”
رائد کے بولنے پر عادل نے سنجیدگی سے اسے گھورا۔ عادل کا بس چلتا تو اسے زمین میں دفن کردیتا۔
“اچھا بس۔۔۔ولیمہ تو ویسے بھی ہونا ہے پڑھائی سے پہلے ہو یا پڑھائی کے بعد۔۔کیا فرق پڑتا ہے”
سکینہ قریب کھڑی یَشل کا ہاتھ تھام کر بولی تو سارے ٹائم میں پہلی بار یَشل نے شکوہ کناں نگاہوں سے سکینہ کو دیکھا۔
☆ ★ ✮ ★ ☆
سکینہ کے ٹھیک ہونے کی خبر سننے کے بعد عدنان ولا کے مکینوں ںے خدا کا لاکھ لاکھ شکر ادا کیا۔ عدنان صاحب نے سب کو حکم جاری کیا کہ پرسو تک وہ سب لاہور کے لیے روانہ ہورہے جس پر ارمغان نے صاف لفظوں میں انکار کیا۔
“آپ مجھ سے یہ توقعہ کیسے رکھ سکتے ہیں کہ میں وہاں جاؤں گا؟”
اس نے مہینے بعد عدنان صاحب کے کمرے میں اپنے قدم رکھے اور رو برو کچھ اس طرح سے ان سے مخاطب ہوا ورنہ عدنان صاحب سے بہت کم بات کیا کرتا تھا وہ۔
“مت بھولو کے وہ رشتے میں تمہاری پھپھو لگتی ہیں۔۔۔!”
“لگتی ہونگی۔۔۔بات کرلوں گا میں ان سے کال پر لیکن اس گھر میں قدم ہرگز نہیں رکھوں گا!”
وہ کڑے لہجے میں بولا۔ دونوں باپ بیٹے کو روبرو دیکھتے عطیہ کے چہرے پر خوف لہرایا۔ ارمغان کی آواز پر کچن میں کام کرتی نشہ اور صبیحہ بھی آگئی۔
“تمہارے اندر کوئی شرم لحاظ باقی ہے کہ کہیں؟ کس انداز میں بات کر رہے ہو تم!”
غصے سے عدنان صاحب کا چہرا سرخ ہوا
“یہی وہ انداز ہے جس میں بات کرنی چاہیے مجھے۔۔۔مت بھولیں اس زیادتی کو جو آپ نے میرے ساتھ کی ہے۔ میں لاہور جانے کے بارے میں سوچتا بھی نہیں سکتا”
“تمہارے اچھے اچھے بھی سوچیں گے اور نہ صرف سوچیں گے بلکہ لاہور جائیں گے۔۔دیکھتا ہوں تم ایسے اس گھر میں رکتے ہو!”
“ابو۔۔۔بھائی۔۔کیا ہوگیا ہے آپ دونوں کو”
ان کی آوازیں سنتا ہادی کمرے میں داخل ہوا اور حیرت سے باپ اور بھائی کو دیکھا۔
“تم مجھ سے نہیں ان سے کہو۔۔جو ہمیشہ کی طرح اس بار بھی اپنا فیصلہ دوسروں پر تھوپ رہے ہیں۔۔”
ارمغان نے ہادی کو دیکھتے ہوئے باپ کی طرف اشارہ کیا۔ عدنان صاحب کا ہاتھ اٹھا۔
“عدنان۔۔۔”
عطیہ اور صبیحہ اسکی طرف آئی اور اسے پیچھے کیا۔ جبکہ ارمغان کی آنکھوں میں پہلی بار حیرت اور پھر بےخوفی اتری۔
“اچھا۔۔۔تو حقیقت تسلیم نہیں ہوتی آپ سے؟”
وہ تمسخرانہ انداز میں بولا
“عطیہ اسے کہو اپنی بکواس بند کرے اور دفع ہو جائے یہاں سے!”
عدنان صاحب کی آنکھوں سے شرارے پھوٹنے لگے تھے
“بھائی چلیں یہاں سے۔۔۔”
ہادی اسے زبردستی کمرے سے باہر لایا۔ نشہ بھاگ کر کچن گئی اور پانی کا گلاس بھرتی پہلے عدنان صاحب کو دے آئی پھر دوسرا گلاس لئیے وہ ہال میں آئی جہاں ارمغان اور ہادی بیٹھے تھے
“گراؤ یہ اسکے سر ہر تاکہ دماغ جگہ پر آئے اس کا۔۔۔جاہل انسان”
نِشہ نے گلاس ٹیبل پر پٹخنے والے انداز میں رکھا اور شدید غصے کے عالم میں ارمغان کو دیکھتی ہال سے واک آؤٹ کرگئی۔۔۔
ارمغان نے ہاتھ کی مٹھی بناتے دوسرے ہاتھ پر دے ماری۔
اگلے دن وہ لاہور جانے پر رضامند ہوا تھا اور اسکا سارا کریڈٹ عطیہ کو جاتا تھا جو رات کو اس کے کمرے میں آنسو بہاتے نجانے کیا کیا اسے بولتی رہی تھی۔ آفس جانے سے پہلے ارمغان نے نپے تلے انداز میں عدنان صاحب سے معذرت بھی کی تھی جس کا انہوں نے کوئی جواب نہ دیا۔
☆ ★ ✮ ★ ☆
وہ اپنے کمرے میں بیڈ پر ٹانگیں لٹکا کر بیٹھی ہوئی تھی نظریں کھُلی کھڑکی کے باہر ڈھلتی ہوئی شام پر ٹِکی تھیں۔ اُسکی خوشیاں بھی تو ایسی ہی ایک شام اپنے ساتھ لیے ایک ماہ پہلے ڈھل چُکی تھی اور شاید اب کبھی بھی وہ سورج طلوع نہیں ہونا تھا جو اُس کی زندگی میں خوشیوں کی کِرن سے روشنی پھیلاتا۔۔ نہ جانے اتنی مایوسی اُس کے اندر کہاں سے آگئی تھی کہ ہر چیز سے اُس کا دِل اُچاٹ ہوگیا تھا اُس نے تو امید ہی چھوڑ دی تھی پِچھلے ایک ماہ میں اُسکی ہر خواہش ہر خواب جیسے منہ سے نکلنے والے ہر ٹھنڈے سانس کی طرح ٹوٹ کر ہوا میں بکھر گیا تھا کسی بھی چیز میں دلچسپی نہ رہی تھی۔ ہر روز اپنے سامنے رائد کو دیکھ کر تو ویسے ہی اُس کے اندر کڑواہٹ گھُلتی جارہی تھی اور پھر اُسکا فُضول میں فری ہونا شوہر ہونے کا حق جتانا وہ اُس کو زہر سے بھی بُرا لگتا تھا۔
وہ صبح سے ہی اِس کمرے میں بند تھی سکینہ کے پاس بھی نہیں گئی تھی۔ سکینہ کو کل ہی ہسپتال سے گھر لایا گیا تھا۔ آج تو عدنان،صبیحہ اور عطیہ کے ساتھ ساتھ گھر کے دوسرے افراد نے بھی یہاں آنا تھا اور یقیناً وہ اب تک آبھی گئی تھے مگر فلحال تو اُس کے کمرے میں کوئی نہ آیا تھا۔ ہاں اُن سب کو دیکھنے کے لیے اُس سے مِلنے کے لیے وہ خود بھی بیتاب تھی مگر وہ اُن کا سامنا کیسے کرے گی اُن کے شِکوے کیسے دور کرے گی اور ارمغان؟ وہ اُس کی طرف دیکھ بھی سکے گی؟ وہ اُس سے نظریں کیسے ملائے گی؟ جس شخص کو وہ ہمیشہ سے بغیر کچھ کہے ایک اُمید دیتی آئی تھی اسکی ساری امیدوں کا جلا کر راکھ کردیا تھا اسنے۔ چالیس دن ہونے کو آئے تھے دونوں کے درمیان رابطہ نہ ہوا تھا وہ کس حال میں تھا اسنے کسی سے پوچھا تک نہیں تھا۔ نشہ اسے پہلے پہل کوئی خبر دے دیا کرتی تھی پھر یَشل نے اسے منع کردیا تھا اور قرت سے بھی اسکا رابطہ بہت کم ہوگیا تھا لیکن اگر بات ہوتی تو وقت کا پتا ہی نہ لگتا۔ وہ بھی اکثر ہی ارمغان کا ذکر پہلے کیا کرتی تھی پھر آہستہ آہستہ خود ہی چھوڑ دیا۔ اس دن کے بعد اسے ارمغان کی کال نہ آئی تھی جس کی وجہ یشل کا اسے بلاک کردینا تھا۔
دروازہ بند ہونے کی آواز پر اُس نے پیچھے مُڑ کے دیکھا تھا۔ ہاں وہ وہی تھا جِس کے بارے میں وہ سوچ رہی تھی وہ کب آیا اپنی سوچوں میں اُسے پتا بھی نہ لگا روم کا دروازہ بند کرتا وہ اُسی کی طرف آرہا تھا
“توڑ دیا نہ تُم نے وعدہ۔۔۔”
کیا کُچھ نہیں تھا اُس کے لہجے میں۔ شکوہ، دُکھ درد، ناراضگی، گلہ، شِکایت اور بہت کُچھ۔ اُس کی آنکھیں نئے سِرے سے بھرنے لگی وہ چلتا ہوا اُسکے سامنے آکھڑا ہوا۔۔ یَشل اُٹھنے لگی جب وہ پنجوں کے بل اُسکی قدموں کے پاس زمین پر بیٹھ گیا
“تُم نے تو کہا تھا کہ تُم میرا دِل کبھی نہیں توڑو گی۔۔۔ وعدہ کیا تھا کہ کُچھ ہی دِن میں واپس آؤ گی،،لیکن تُم واپس نہیں آئی یَشل۔۔۔ بلکہ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے یہاں کی ہو کر رہ گئی۔۔”
وہ اُسکی آنکھوں میں دیکھتا ہوا بول رہا تھا۔ اُس کا لہجا گواہی دے رہا تھا کہ وہ کِتنا ٹوٹا ہوا ہے اور اُس کی آنکھیں جو شاید ضبط کرنے کی کوشش میں سُرخ ہوگئی تھی۔۔ یَشل کا دِل کٹ کر رہ گیا اُسنے اکیس سالہ زندگی میں کبھی ارمغان کو ایسے نہیں دیکھا تھا یَشل جو صبح سے خود کو رونے سے بعض رکھے ہوئے تھی ارمغان کو دیکھنے اور اُسکی باتیں سُننے کے بعد وہ رُکے ہوئے آنسو بہہ نِکلے
“کیوں کیا ایسے؟”
وہ آہستہ آواز میں سوال کر رہا تھا یَشل کا دِل کیا کہ وہ اُس کے سینے سے لگ جائے اور اُن دونوں کا ہر دُکھ ختم ہو جائے وہ چاہتی تھی کہ کِسی طرح اپنا دِل کھول کر اُس کے سامنے رکھ دے اور اُسے بتائے کہ اِس وقت کِتنی تکلیف میں تھی اور اپنے سامنے بیٹھے اُس شخص سے وہ کِتنی محبت کرتی تھی لیکن نہ تو وہ ایسا کر سکتی تھی نہ ہی دُکھ ختم ہونا تھا کیونکہ یہ تو اب زندگی بھر کا روگ تھا
“ارمغان ماما۔۔۔وہ ماما نے کروا دیا میں نہیں چاہتی تھی ایسا کُچھ ہو میرے ساتھ۔۔۔زبردستی ہوئی ہے میں نفرت کرتی ہوں۔۔ اُس سے۔۔”
رونے کے درمیان وہ سسکیاں لیتی ہوئی اُسے بتانے لگی وہ آنکھوں میں ڈھیروں شِکوہ لیے اُسے دیکھنے لگا
“تم ایک بار۔۔ یَشل صرف ایک بار مُجھے پُکارتی تو سہی صرف ایک دفع یاد کرتی میسج کر دیتی میں سب کُچھ چھوڑ کر تمہیں اُس گھٹیا شخص سے بچانے کے لیے آجاتا جیسے ہمشہ میں نے تمہیں ہر بُری نظر ہر بُرے اِنسان سے بچایا ہے میں تمہیں اُس سے بھی دور کر دیتا مگر افسوس۔۔۔تُم نے ایک بار بھی مُجھے آواز نہیں دی”
ارمغان کی انکھوں سے بھی آنسو نِکل کر بہنے لگے یَشل کو لگا کہ اُس کا دِل پھٹ جائے گا سامنے بیٹھا شخص اُس کے لیے رو رہا تھا جو بُری سے بُری چوٹ لگنے پر یا خبر مِلنے پر بھی کبھی نہ رویا تھا وہ مرد اُس کے سامنے بِکھر گیا تھا۔۔ اسے اپنے پورے جسم کا خون منجمد ہوتا محسوس ہوا۔ اسے لگا وہ بےبسی کی انتہا پر ہے
“ارمغان۔۔۔”
یَشل نے قرب سے اُس کا نام لیا تھا جو روتا ہوا اُسے اپنے آپ سے نفرت کرنے پر مجبور کر رہا تھا۔۔ یَشل نے اپنا ہاتھ اُس کے ہاتھ پر رکھا
“ایسے نہیں کرو میں بےبس تھی میرے ہاتھ میں کُچھ بھی نہیں تھا۔۔”
وہ اُسے وضاحت دینے لگی
“ارمغان میں جانتی ہوں آپ۔۔ آپ مجھے بچا لیتے مگر ماما۔۔۔”
وہ بولتے ہوئے خاموشی ہوئی تو ارمغان اُسے دیکھنے لگا
“ماما کی خواہش کیسے پوری نہ کرتی ؟ اور جب انہوں نے کہا کہ آخری خواہش سمجھ کر مان لو تو مُجھے اپنے ہاتھ پاؤں ان دیکھی زنجیروں کی قید میں محسوس ہوئے۔۔ اگر خدانہ خواستہ ماما کو کچھ ہوجاتا میں ساری زندگی خود سے نظریں نہ مِلا پاتی۔۔۔تم بتاؤ میں۔۔میں کیا کرتی میرے پاس اور کوئی راستہ نہیں تھا۔۔۔”
وہ سسکیاں لیتی اسے اپنی مجبوری بتا رہی تھی جس سے وہ واقف تھا۔ اپنی بےبسی بتاتے اُس کا ضبط بُری طرح ٹوٹ گیا وہ بُری طرح رونے لگی تو ارمغان تڑپ کر اُٹھا اور رُخساروں پر بہتے آنسو صاف کرنے لگا یَشل کے رونے میں پہلے سے زیادہ شدت آگئی
ارمغان اِس وقت خود کو کچھ بھی اُلٹا سیدھا کرنے سے بامُشکل بعض رکھے ہوئے تھا یہ صرف وہی جانتا تھا۔ یَشل اب کِسی اور کے نِکاح میں تھی وہ کسی اور کی محرم تھی ورنہ وہ ضرور اُسے اپنے سینے میں بھینچ لیتا اور اُس کا ہر آنسو چُن لیتا۔۔کافی دیر وہ اُسکے سامنے کھڑا رہا اور وہ بیڈ شیٹ مُٹھیوں میں بھینچ کر روتی رہی کچھ دیر بعد اُس کا دِل ہلکا ہوا تو سر اُٹھا کر ارمغان کو دیکھنے لگی جِس کی نظریں پہلے ہی یَشل پر تھی۔۔وہ اُٹھ کھڑی ہوئی
“ائی ایم سوری۔۔ میں نے اپنا وعدہ اور آپ کا مان دونوں توڑ دیے مگر میں نے جان بوجھ کر ایسا نہیں کیا۔۔۔”
وہ بھرائی ہوئی آواز میں بولی تو ارمغان اُسکی سُرخ آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر ویسے ہی کھڑا اُسے دیکھتا رہا جیسے اُس کا چہرا اپنے دِل میں اُتار رہا ہو۔ وہ بےاختیار نظریں ہٹا گئی اسکا انداز ہی ایسا تھا۔۔۔کمرے کا دروازہ کھُلا اور پھر بند ہوا تو اُس نے پیچھے مڑ کر دیکھا۔ وہ وہاں سے جا چُکا تھا۔ کتنی ہی دیر وہ بیٹھی اُسی شخص کے بارے میں سوچتی رہی اِس سے پہلے اُس کا رونا دوبارا سٹارٹ ہوتا وہ واشروم جاکر چہرا دھونے لگی ارمغان کو وہ فیس کر چُکی تھی اب اُسے باقی سب کے پاس بھی تو جانا تھا۔ آنکھوں سے بہتے آنسو چہرے سے ٹپکتے پانی میں گم ہونے لگے۔۔۔
وہ جیسے ہی نیچے آئی تو قرت بھاگتی ہوئی اُسکی طرف آئی اور اُسے اتنی زور سے گلے لگایا کے یَشل کو پسلیاں ٹوٹتی ہوئی محسوس ہوئی
“اوففف لڑکی۔۔۔جان لوگی کیا”
یَشل ہنستی ہوئی بولی تو قِرت اُس سے دور ہوئی
“یَشل ہائے اللّٰہ تُمہیں انداز بھی نہیں میں نے اِس ڈیرھ ماہ میں تمہیں کتنا مِس کیا ہے لیکن میں تُم سے بہت بہت ناراض ہوں”
وہ بولتی ہوئی دوبارا اُسکے گلے لگ گئی
“میں نے بھی تمہیں بہت مِس کیا”
آنسوؤں کا گولا نہسے حلق میں اٹک گیا تھا
“لیکن ناراض کیوں ہو؟؟”
وہ دونوں حال کی طرف بڑھی
“تُم نے نکاح کرلیا رائد سے۔۔۔مجھے تو یقین ہی نہیں آرہا “
وہ اداس لہجے میں بولی تو یَشل کے قدم رُکے۔۔قِرت نے مُڑ کر اُسکی طرف دیکھا
“کیا ہوا؟ یَشل؟؟ تم رو کہ آئی ہو نہ سچ بتاؤ؟”
قرت اُسکی ہلکی سوجی ہوئی آنکھوں پر غور کرتی ہوئی بولی تو یَشل نے سر نفی میں ہلایا۔۔۔
“پاگل ہو۔۔۔چلو اندر”
وہ جلدی سے ہال کا دروازہ کھولتی اندر آگئی۔ وہاں ارمغان، افہام اور عطیہ کے علاوہ سب موجود تھے
وہ سب سے ملی آبی تو اُسے چومتے چومتے نہ تھک رہی تھی۔ آبی سے ملنے کے بعد وہ عزہ سے ملی اور اسنے خوشگوار انداز میں یَشل کو گلے لگایا کہ ایک پل کے لیے یشل بھی حیران ہوئی
“تھینک یو سو مچ یَشل۔۔۔”
چمکتی آنکھوں سے اسنے یشل کی ویران آنکھوں میں دیکھتے ہوئے کہا۔۔
“کس لیے۔۔۔؟”
یَشل نے ناسمجھی سے سوال کیا۔
“ویسے ہی۔۔۔”
عزہ نے کندھے اچکائے تو وہ چند لمحے اسے دیکھتی رہی پھر سر ہلاتی بیٹھ گئی۔
کسی نے اُس کے نکاح کے بارے میں کچھ کہا نہ ہی کچھ پوچھا۔ شاید صبیحہ سب کو منع کیا تھا یقیناً قِرت کو بھی کیا ہوگا لیکن وہ جب تک پوچھ نہ لیتی اُسے سکون نہ آتا
“لگتا ہے میرا نمبر ڈلیٹ ہوگیا ہے آپ کے پاس سے۔۔۔”
ہادی نے یَشل کو دیکھتے ہوئے کہا تو اسکا شکوہ سمجھتی وہ مسکرائی۔
“ارے نہیں یار۔۔۔ اپنے پیارے سے بھائی کا نمبر ڈلیٹ کر سکتی بھلا میں؟ مصروفیات میں وقت ہی نہیں ملا تم سے رابطہ کرنے کا لیکن نشہ سے تمہارا پوچھتی رہی ہوں میں۔۔۔”
یَشل نے ویسے ہی مسکراتے ہوئے کہا تو نشہ نے سر اثبات میں ہلایا۔
“ہاں نِشہ آپی سے بات کرنے کا وقت تھا میرے لیے نہیں تھا۔۔”
وہ ابھی بھی روٹھے ہوئے لہجے میں بولا تو اٹھارہ نہیں بلکہ آٹھ سال کا بچہ لگا۔ عزہ نے گندا سا منہ بناتے اسے دیکھا۔
“اچھا بھئی میں اپنی اس غلطی پر معافی کی طلبگار ہوں مجھے معاف کردیں۔۔۔”
یَشل کے معذرت خواہ انداز میں بولنے پر ہادی ہلکا سا ہنس دیا۔
“ممانی جان کدھر ہیں؟اور افہام بھائی”
اُسنے عطیہ کو نہ پا کر سوال کیا
“سکینہ کے کمرے میں ہے ارمغان ،افہام بھی اور عطیہ بھی”
صبیحہ کی بات پر وہ سر ہلانے لگی
“ارمغان بھائی سے نہیں ملی تُم؟ یقین کرو اتنا بیچین تو میں نے انہیں پوری زندگی نہیں دیکھا جتنا تمہارے لاہور آنے کے بعد دیکھا ہے “
قِرت آہستہ آواز میں یَشل کو بتانے لگی۔۔ یَشل خاموش رہی
“دماغ تو نہیں چل گیا تمہارا؟؟”
یقیناً نشہ اور عزہ اُسکی بات سُن چکی تھی تبھی نِشہ نے اُسے ٹوکا تو قِرت کو احساس ہوا کہ اب اُسے ایسی کوئی بات نہیں کرنی چاہیے۔ جبکہ ساتھ بیٹھی عِزہ نے مسکراہٹ روکی۔ کچھ دیر ہی گزری تھی جب رائد حال میں داخل ہوا سب کو سلام کرتا وہ یَشل سے کچھ فاصلے پر بیٹھا
“ایسے کیا گھور رہی ہو۔۔۔شوہر ہوں تمہارا شکر کرو کہ تھوڑے فاصلے پر بیٹھا ہوں”
وہ یَشل کے گھورنے پر اسکے کان کی طرف جھکتا ہوا آرام سے بولا
“اپنی لمٹس میں رہو۔۔۔یہاں بیٹھا ہر شخص جانتا ہے کہ مجھے تُم چلتی پھرتی زہر کی بوتل لگتے ہو۔ مختصر یہ کہ میں کسی کا لحاظ نہیں کروں گی!”
وہ دانت پیس کر غصے میں بولی تو رائد کھل کر مسکرایا اور اُسکا گال کھینچا۔ سب کے سامنے کی گئی اُسکی اِس حرکت پر وہ مٹھیاں بھینچ کر رہ گئی اور صوفے سے اُٹھ کر دروازے کی طرف بڑھی لیکن وہیل چیئر پر بیٹھی سکینہ کو دیکھ کر اُسکے قدم رکے۔ سکینہ کے پیچھے کھڑے ارمغان، افہام اور عطیہ کو دیکھ کر اُسکا سانس بھی رُک گیا تھا۔ اُسنے آنکھوں میں رُکے آنسو باہر نہ آنے دیے اور عطیہ کی طرف بڑھتی اُسکے سینے سے لگ گئی
“میری جان۔۔میرے جگر کا ٹکڑا”
عطیہ نے اُسے اپنے سینے میں بھینچ لیا۔ عطیہ سے بغلگیر ہوتے اسنے آنسوؤں سے بھری آنکھیں اٹھا کر ارمغان کو دیکھا جو خود بھی خالی نظروں سے اُسے ہی دیکھتا رہا
“کیسی ہو یَشل۔۔۔”
افہام نے مسکراتے ہوئے سوال کیا
“الحمدللہ افہام بھائی۔۔۔ آپ بتائیں”
وہ مصنوئی مسکراہٹ چہرے پر لائی تو افہام نے اسکے سر پر ہاتھ رکھا
“بیٹھیں نہ آپ لوگ کھڑے کیوں ہیں۔۔۔”
اسنے افہام اور عطیہ کو دیکھتے ہوئے کہا۔ ارمغان کو ایسا محسوس ہوا جیسے وہ اسے نظر نہ آیا ہو۔ سب کے بیٹھنے کے بعد اسنے اپنی جگہ تلاش کرنے کے لیے یہاں وہاں نظر دوڑائی تو رائد کے ساتھ ہی اسکی نشست خالی تھی۔
“آپ لوگ باتیں کریں میں آئے رکھ کے آتی۔۔۔”
رائد کے ساتھ بیٹھنے سے بہتر تھا وہ کچن ہی چلی جائے
“تم بیٹھو نہ۔۔ملازمہ سے کہہ دو چائے کا”
“نہیں امی۔۔۔ آج سب کے لئیے میں خود چائے بناؤں گی”
وہ سکینہ کی بات پر کہتی ہوئی ہال سے نکل گئی۔
“میں جاتی ہوں اس کے پاس۔۔۔”
نشہ بھی اسکی پیروی کرتی ہال سے نکلی۔
“تم خوش ہو۔۔۔؟”
نشہ کے سوال پر چائے بناتی یشل کا ہاتھ رکا تھا۔ ہونٹوں کر بےاختیار مسکراہٹ آئی جو نشہ کو عجیب لگی۔
“تمہیں کیا لگتا ہے۔۔۔؟”
“پتا نہیں۔۔۔شاید ایک ماہ میں تم نے موو آن کرلیا ہو۔۔”
اس بار یَشل نے کھوکھلا قہقہہ لگایا تو نشہ نے عجیب نظروں سے اسے دیکھا۔
“تمہیں پتا ہے نشہ ۔۔محبت کم ہونا ناممکنات میں آتا ہے۔ محبت بڑھ جاتی ہے ختم نہیں ہوتی ہم بس حقیقت تسلیم کرلیتے ہیں اور ہمیں لگتا ہے ہم نے موو اون کرلیا ہے۔۔۔اگر تم مجھ سے یہ پوچھنا چاہتی ہو کہ۔۔کیا تم خدا کی رضا میں راضی ہوگئی؟ تو ہاں۔۔۔میں راضی ہوگئی۔۔میں نے حقیقت کو تسلیم کرلیا”
اسکے ہونٹوں پر بکھری وہ مصنوئی مسکراہٹ۔۔۔ نِشہ کو اپنا دل ڈوبتا ہوا محسوس ہوا۔ وہ ایک لفظ بھی نہ کہہ سکی جواب میں۔
☆ ★ ✮ ★ ☆
چائے کے دوران ہی عادل بھی آگیا اور باتوں ہی باتوں میں ان دونوں کے ولیمے کا ذکر چھڑ گیا اور ارمغان کا وہاں بیٹھنا محال ہوا۔
“ولیمہ ہی ہے بعد میں بھی ہوجائے گا آخر اتنی جلدی کیا ہے؟”
لہجہ نارمل رکھنے کی کوشش کی گئی مگر کہیں نہ کہیں تلخی گھل گئی تھی۔
“بعد میں بھی تو ہوگا نہ۔۔اب جب سب لوگ یہاں ہیں تو کرنے میں کیا برائی ہے؟”
عدنان صاحب کے بولنے پر اسنے حیرت سے اپنے باپ جیسے ماموں کو دیکھا تھا۔
“اور میری زندگی کا تو کوئی بھروسہ نہیں۔۔۔ جلد از جلد یہ کام بھی نپٹ جائے گا تو سکون رہے گا”
سکینہ کے بولنے پر رائد کا دل گارڈن گارڈن ہونے لگا۔
“اوففف امی۔۔۔نئے انداز میں بلیک میلنگ شروع کردی ہے اب آپ نے۔۔۔؟”
وہ درشتگی سے بولی۔ اچانک ہی ماحول عجیب ہوگیا۔ ان سب کی نظریں اس پر ٹک گئی جس کے ماتھے پر بلوں کا جال تھا۔ ساتھ بیٹھے رائد نے اسے گھورا اور اسکی اس حرکت کو ارمغان نے بغور دیکھا تھا۔
“یَشل۔۔۔۔”
آبی کے ٹوکنے پر اسنے ضبط کرتے آبی کی طرف دیکھا۔ آنکھوں ہی آنکھوں میں انہوں ںے خاموش رہنے کا اشارہ کیا تو ناچاہتے ہوئے بھی اسنے منہ پر قفل لگائی۔
ڈھیر ساری ڈسکشن کے بعد ان دنوں کے ولیمے کی تاریخ تہ ہوئی جس کر یَشل پر پٹختی ہال سے واک آؤٹ کر گئی۔
“یہ کیا بدتمیزی تھی؟”
رائد بھی اسکے پیچھے چلتا کمرے میں آیا۔
“کون سی بدتمیزی ؟”
وہ انجان بنی تو رائد نے اسے گھورا پھر بازو سے پکڑ کر اپنی جانب کھینچا۔
“ادھر آؤ تم۔۔۔اتنا کیا مسئلہ ہے تمہیں ولیمے سے؟ مجھے مجبور مت کرو کہ میں تمہیں ابھی کہ ابھی کمرے میں لے جاؤں۔۔ پھر نہیں ہوگا ولیمہ آگے تمہاری مرضی”
وہ آخر میں کندھے اچکا گیا۔ اسکی بات پر یَشل کی آنکھیں پھیلی
“تمیز میں رہو رائد ورنہ۔۔۔”
“ورنہ کیا۔۔؟” اسنے گہری نظروں سے اسے دیکھا
“چھوڑو میرا ہاتھ۔۔۔”
اسکی نظروں کے ارتکاز پر وہ گڑبڑائی
“میرا دل نہیں کر رہا۔۔۔ اِن فیکٹ میرا دل کر رہا میں تمہیں کس کروں۔۔۔”
وہ بولتے ساتھ ہی اسکے چہرے پر جھکا تو یَشل کی آنکھیں مزید پھیل گئی۔ اس نے بروقت اپنا چہرا دائیں جانب موڑا تو رائد کے ہونٹوں نے اسکے رخسار کو چھوُا۔ اسکا لمس محسوس کرتی وہ اپنی جگہ ساکت ہوئی۔
“انتہائی بےشرم انسان ہو تم۔۔”
رائد نے اسے گرفت سے آزاد کیا تو وہ گلابی ہوتے چہرے کے ساتھ بولی۔
‘میری ساری شرم تم نے جو لے لی ہے۔۔۔ویسے اگر میں تمہاری طرح شرمانے لگ جاؤں تو تم میری طرح بےشرم ہوجاؤ گی کیا؟”
رائد نے آئی برو اچکا کر سنجیدگی سے کہا مگر آنکھوں میں صاف شرارت تھی
“تمہارا کچھ نہیں ہوسکتا۔۔۔”
وہ بولتی ہوئی دور ہٹی۔ اب اسے اس کمرے سے نکلنا تھا
“لیکن ہمارا بچہ ہوسکتا ہے۔۔۔”
“رائد۔۔۔۔”
رائد کے بےاختیار بولنے پر دروازے کی طرف جاتی یشل ایک دم چیخ اٹھی۔
“حکم کریں جانِ رائد۔۔۔”
وہ معصومیت سے بولا تو یَشل نے دانت پیسے۔۔۔
“مرجاؤ تم۔۔۔۔”
“آپ پر مر ہی تو گئے ہیں۔۔۔”
وہ سینے پر ہاتھ رکھتا ڈرامائی انداز میں بولا
“قبر میں بھی اتر جاؤ۔۔۔”
غصے سے بولتی وہ ایک بار پھر جانے کو پلٹی
“اگر دفن آپ اپنے کے دل میں کرینگی تو ضرور۔۔۔”
ڈور ناب گماتی یَشل کا ہاتھ رکا۔ کتنی باتین بنانا آتی تھی اس شخص کو۔۔۔اس سے پہلے وہ دروازہ کھول کر باہر نکلتی وہ بروقت پیچھے سے اسے اپنی گرفت میں لے گیا۔
“اچھا نہ یار۔۔۔امپریس تو ویسے بھی نہیں ہوتی ایٹلیسٹ ناراض تو مت ہو”
یَشل کی پشت رائد کے سینے سے لگی تو اسکے وجود میں کرنٹ دوڑ گیا۔
“رائد چھوڑو مجھے۔۔”
اسنے اپنے گرد بندھا رائد کا حصار توڑنا چاہا
“نو وے۔۔۔” اسنے سر انکار میں ہلایا۔
“رئد پلیز۔۔۔۔” وہ بری طرح زچ ہوئی تھی رائد چند لمحے ویسے ہی کھڑا رہا پھر جھک کر اسکے کندھے پر اپنے لب رہے۔ یَشل کا اوپر کا سانس اوپر اور نیچے کا نیچے رہ گیا۔ چہرا شرم اور خفت سے سرخ ہوا۔
اپنا دھکتا لمس اسکے کندھے کر چھوڑتا وہ اسے آزاد کرگیا۔ چند لمحے وہ ویسے ہی ساکت کھڑی رہی پھر طوفان کی طرح کمرے سے نکلی۔
