Muntazirat Hastam by Neha Imtiaz NovelR50532 Muntazirat Hastam (Episode 27)
Rate this Novel
Muntazirat Hastam (Episode 27)
Muntazirat Hastam by Neha Imtiaz
“عادل بھائی کیوں نہیں آئے۔۔۔؟”
رات کا کھانا کھانے کے بعد وہ سب ہال میں بیٹھے نکاح کے فنگشن پر ڈسکشن کر رہے تھے جب عطیہ نے رائد کو دیکھتے ہوئے سوال کیا۔
“بابا تو بس بزنس شفٹ کرنے میں مصروف ہیں اسی لئیے جلدی نہیں آسکتے تھے۔۔۔نکاح سے ایک دن پہلے آجائیں گے۔۔۔”
“ویسے تم دونوں بھی اتنی دیر سے آئے ہو۔ میں نے تو یَشل کو تب ہی آنے کو کہہ دیا تھا جب کچھ تہ بھی نہیں ہوا تھا۔۔ کسی غیر کا گھر تھوڑی ہے کہ تم دونوں نکاح سے چار دن پہلے آئے ہو۔۔۔”
صبیحہ نے خفا ہوتے ہوئے ان دونوں سے کہا تو صبیحہ کی بات سنتے رائد نے چہرا موڑ کر یَشل کو دیکھا جس نے رائد کو بےخبر رکھا تھا۔ یَشل نے رائد سے نظریں چراتے شدت سے دعا کی کہ وہ اسے سب کے سامنے شرمندہ ہونے سے بچا لے۔
“دراصل میرے بھی تو ایگزیم تھے اور پھر بابا جرمنی بھی چلے گئے تھے تو آفس کا کام بہت زیادہ تھا۔ میں نے تو یَشل سے کہا تھا کہ تم چلی جاؤ مگر یہ میرے بغیر یہاں آنا نہیں چاہتی تھی۔۔۔”
رائد نے نرم مسکراہٹ کے ساتھ کہتے ہوئے ایک ہاتھ نامحسوس طریقے سے اسکی کمر پر رکھا تو یَشل کی رگوں میں خون تیزی سے سرائیت کر گیا اور اسکی بات پر وہ دانت پیس کر خجل ہوتی مسکرائی۔
“ظاہر ہے بھئی۔۔۔ اب آپ کے بغیر کہاں ان کا گزارہ ہونا۔۔”
عزہ چھیڑنے والے انداز میں بولی تو یَشل اور نشہ کے علاؤہ باقی سب ہنس دئیے۔
“بلکل ایسا ہی ہے۔۔۔لیکن اگر یَشل کا گزارہ ہو بھی جائے تو میرا مشکل ہے۔۔۔”
وہ اب گہری نظروں سے اسے دیکھ رہا تھا۔ یشل نے خود پر ضبط کرتے گھور کر اسے دیکھا تو رائد دلکشی سے مسکرا دیا۔
دروازہ کے باہر کھڑا ارمغان کشمکش کا شکار تھا کہ وہ اندر جائے یا نہ جائے مگر اندر ہوتی گرفتگو سنتا وہ اپنی جگہ پر ساکت رہ گیا تھا۔ اسے اپنا وجود بھاری اور رگوں میں خون منجمد ہوا محسوس ہوا۔
“یہاں کیوں کھڑے ہوگئے ہو۔۔۔۔؟”
افہام جو ہال کی طرف آرہا تھا دروازے کے باہر کھڑا دیکھ کر ہلکی آواز میں سوال کیا۔
ارمغان بغیر کچھ کہے انکار میں سر ہلاتا سیڑھیوں کی طرف بڑھ گیا۔
افہام ہال میں داخل ہوتا نپے تلے انداز میں رائد سے ملا جبکہ یشل کو دیکھتے اسنے کافی خوشی کا اظہار کیا تھا۔
“اتنی جلدی آنے کی کیا ضرورت تھی یار؟ نکاح کے بعد آجاتی۔۔”
افہام کے طنز پر وہ ہنس پڑی۔
“دلہا دلہن نے سپیشل انوائیٹ بھیجا تھا۔۔۔کیسے نہ آتی؟”
اسنے بھی طنزیہ لہجہ اپنایا تو اسکی بات پر افہام نے گردن کی پشت پر ہاتھ پھیرا۔
“بہت معذرت یار۔۔۔میں نے اتنی بار سوچا تمہیں کال کروں مگر پھر یاد ہی نہیں رہا۔۔”
“رہنے دیں بس۔۔۔سب یاد ہوتا ہے آپ کو” وہ خفا ہوئی تھی۔
“ارے ناراض کیوں ہورہی ہو۔۔۔میں قسم سے بہت مصروف تھا”
وہ معصوم بنتا ہوا بولا۔
“بلکل۔۔۔قرت کے خواب سجانے میں مصروف تھے۔۔۔”
ہال میں قہقہہ گونجے تو افہام اس گھور کر رہ گیا جبکہ رائد بس ان دونوں کو بات کرتا دیکھ کر یہ سوچ رہا تھا کہ اسکی بیوی اتنے عرصے میں بھی اسکے ساتھ اتنی کمفرٹیبل نہ ہوئی تھی جتنی وہ ان سب کے ساتھ تھی۔
“اچھا چلو ایز آ کمپینسیشن تمہیں شاپنک کرو دیتا ہوں۔۔۔کیا خیال ہے؟”
“خیال تو بہت اچھا ہے۔۔۔”
یَشل کی آنکھیں فوراً چمکی
“ویسے تو میں ابھی بھی جانے کے لئیے تیار ہوں مگر۔۔۔کل چلیں گے ۔۔”
یَشل کی بات پر رائد کا دل جل کر رہ گیا۔ اسکے ساتھ شاپنگ پر جاتے ہوئے تو اسکے ڈرامے نہیں ختم ہورہے تھے اور اب وہ رات کے دس بجے بھی جانے کو تیار تھی۔
“میں بھی چلوں گی۔۔۔ اپنی بہن کو تو شاپنگ کروائی نہیں آپ نے۔۔”
عِزہ نے ناراضگی سے افہام کو دیکھا۔
“تم نے میری جیب کاٹ کر رکھ دینی تھی افہام کی۔ یَشل نے تو تین، چار ہزار کا ایک سوٹ لینے کے بعد بھی شرمندہ ہوتے رہنا ہے۔۔۔ اپنی بیوی کو شاپنگ کروانے کے لیے پیسے رکھے ہوئے ہیں اسنے۔۔”
ہادی کی بات پر سب ہنس دئیے تو عزہ کی خفگی میں کچھ اور اضافہ ہوا جبکہ رائد کو اپنا موڈ آف ہوتا محسوس ہوا۔
“ارے۔۔۔ اپنی بیٹی کو میں شاپنگ کروا دوں گا یہ کون سا بڑا مسئلہ ہے۔۔۔”
عزہ کے ساتھ بیٹھے عدنان نے اسکے سر پر ہاتھ رکھتے ہوئے پیار سے کیا تو اسکی بانچھیں کھل گئی۔ اسنے جتاتی ہوئی نظر ہادی پر ڈالی تو وہ آنکھیں گھُما کر رہ گیا
“کہاں جارہی ہو۔۔۔؟”
وہ صوفے سے اٹھی تو رائد نے اسکا ہاتھ پکڑتے سوال کیا۔
“قرت کے پاس۔۔۔”
“کچھ دیر پہلے ہی تو قرت کے پاس سے آئی ہو۔۔”
وہ تھوڑا خفا ہوتا ہلکی آواز میں بولا لیکن آبی نے اسکی بات سن لی۔
“ہاں یشل اب تم دونوں جاکر آرام کرلو سفر کرکہ آئے ہو تب سے ہی آرام نہیں کیا رائد بھی تھک گیا ہوگا۔۔۔”
“آبی اتنا زیادہ سفر تو نہیں تھا صرف دو گھنٹے وہ بھی پلین میں۔۔۔”
اسنے چہرا موڑ کر آبی کی طرف دیکھا۔ سب ہی انکی طرف متوجہ ہوئے
“نہیں آبی ٹھیک بول رہی ہیں سردیاں بھی بڑھ گئی ہیں آرام کرنا بھی ضروری ہے۔ عین تقریب کے وقت بیمار ہوکر میرا نکاح مت خراب کردینا۔۔”
افہام کو تو صرف اور صرف اپنے نکاح کی فکر تھی بلکہ یہ کہنا بہتر ہوگا کہ نکاح کی تاریخ تہ ہونے کے بعد سے اسکے قدم زمین پر نہیں ٹک رہے تھے۔ وہ تو ہواؤں میں تھا۔
افہام کی بات پر یَشل نے اسے گھورا پھر ہنسی۔
“کیا یاد کریں گے صرف اور صرف آپکے کے نکاح کا خیال کرکہ میں جارہی سونے۔۔کل شاپنک پر بھی تو جانا ہے نہ۔۔۔”
آرام کا سوچتے ہی اسے جماہیان آنے لگی جسے منہ پر ہاتھ رکھ کر اسنے روکا۔
“ہاں بھئی چلی جانا شاپنگ پر۔۔ابھی تو جاکر سوجاؤ گیسٹ روم سیٹ کروا دیا تھا میں نے”
عطیہ نے بات پر اسنے حیرت سے پوری آنکھیں کھول کر عطیہ کو دیکھا
“بس؟ اتنے میں پرایا کردیا؟ اب میں گیسٹ روم میں سوؤں گی؟ میرے ہی گھر میں اب میری وہ جگہ بچی ہے؟”
وہ حیرانگی اور افسوس کے ملے جلے تاثرات سے بولی تو عطیہ کا ہاتھ ماتھے پر گیا جبکہ باقی سب مسکرائے
“ظاہر ہے۔۔۔پہلے تو جب تم آتی تھی میرے ساتھ سوتی تھی لیکن اب تمہارے ایک عدد شوہر نامدار بھی ہیں۔۔اور اب یہ تمہارا گھر تھوڑی نہ ہے۔ شادی کے بعد لڑکیاں پرائی ہو جاتی ہیں۔۔”
انوشہ کی بات سن کر یَشل نے اسے ایسے دیکھا جیسے آنکھوں سے ہی نگل لے گی۔
“ارے بھئی تم تو چپ کرو۔۔۔”
صبیحہ نے اسے گھورا پھر یشل کو دیکھ کر بولی۔
“تم اسے گیسٹ روم کیوں سمجھ رہی ہو؟ گیسٹ روم نہیں ہے وہ بس اب سے تمہارا کمرہ ہے تمہاری پسند کے مطابق ہی تھوڑی بہت سیٹنگ کروا دی ہے میں نے اور تمہارا سامان بھی سارا سیٹ کردیا ہے۔۔۔”
“ارے خالہ میں تو مذاق کر رہی میری پسند کے مطابق سیٹ کروانے کی ضرورت نہیں تھی۔ ہم کون سا ہمیشہ کے لیے یہاں رہنے آئے ہیں۔۔۔”
اسنے ایک نظر رائد پر ڈالی تو وہ بھی صبیحہ کو دیکھتا سر اثبات میں ہلانے لگا۔
“بیشک۔۔۔ ایک دن کے لیے بھی آئی ہوتی میں اس کو ویسے ہی سیٹ کرواتی۔۔”
انکی بات پر وہ مسکرائی اور پھر رائد کو دیکھا۔ اس کا اشارہ سمجھتا وہ اپنی جگہ سے اٹھام کھڑا ہوا۔
کمرے میں آتے ہی یَشل نے اے سی کا وارم موڈ آن کیا۔ سر میں درد کی ٹیسیں اٹھتی محسوس ہورہی تھی۔ اسنے سائیڈ ٹیبل کی دراز کھنگالی تو سر درد کی دوا مل گئی۔
“کیوں کھا رہی ہو۔۔۔؟”
رائد نے اسکے پاس آتے ہوئے سوال کیا۔
“سر درد کی دوائی ٹانگ ٹوٹنے پر تو نہیں کھائی جاتی۔۔۔سر درد ہورہا ہے۔۔۔”
وہ تنک کر بولی۔
“نہیں کھاؤ۔۔۔ آؤ میں ٹھیک کرتا ہوں تمہارا سر درد۔۔۔”
رائد آگے ہوا اور اسکا ماتھا چوما۔
“اب ہو جائے گا ٹھیک۔۔۔۔”
اسکی آنکھوں میں واضح شرارت تھی۔
“رائد کیا مسئلہ ہے۔۔۔تنگ نہیں کرو۔۔”
وہ جھنجھلاہٹ کا شکار ہوئی۔
“میں کہاں کر رہا ہوں تنگ۔۔۔”
رائد اسکے قریب ہوا تو یَشل نے پیچھے ہونا چاہا۔۔۔
“پیچھے ہٹو رائد۔۔۔!”
“نہیں تو کیا کرلو گی۔۔۔؟” وہ مزید قریب ہوا۔۔۔
“تمہارا منہ توڑ دونگی۔۔۔” وہ کلس کر بولی۔
اس دن تو تم نے کہا تھا کہ تم میرا ہاتھ توڑ دو گی۔۔”
اسنے اپنے سہی سلامت ہاتھ کو دیکھا تو یَشل کا دل جل کر رہ گیا۔ شاید یہ غصہ رائد پر نہ آتا مگر سر درد نے اسکا دماغ خراب کر رکھا تھا۔
“میں اس بار واقعی توڑ دونگی۔۔۔۔!”
یشل نے دانت پیسے تو وہ منہ بناتا پیچھے ہوا۔
‘دل تو روز ہی توڑتی ہو۔۔منہ بھی توڑ دو خیر ہے۔۔”
“روز دل توڑتی ہوں پھر بھی شرم نہیں آتی۔۔۔”
یَشل ڈھکے چھپے الفاظوں میں اسے ڈھیٹ کہا تھا۔
“تمہیں آجاتی ہے نہ کافی ہے۔۔۔” وہ ابھی بھی اسے زچ کر رہا تھا۔
“یہ تمہاری غلط فہمی ہے کہ مجھے شرم آتی ہے۔ چہرا نفرت اور غصے سے بھی سرخ ہوجاتا ہے۔۔!”
یَشل نے تڑخ کر کہا۔۔۔
“نفرت۔۔۔۔؟”
وہ اسکے لفظوں پر غور کرتا ہوا بولا تو یشل کو زبان دانتوں تلے دبائی۔۔۔
“نہیں۔۔اوف او۔۔۔بےدھیانی میں بول دیا میں نے۔۔سوری۔۔”
وہ معذرت خواہ انداز میں بولی تو رائد نے آنکھیں سکیڑ کر اسے دیکھا پھر مسکرا دیا۔
“خیر ہے۔۔۔تمہاری تو نفرت بھی قبوم ہے۔۔”
رائد نے اپنا ناک اسکے ناک سے مس کیا تو یَشل جھنپ گئی۔
رائد نے دوائی اسے واپس کی تو دوائی کھانے کے بعد وہ فوراً ہی فریش ہونے کی غرض سے واشروم چلی گئی۔ کچھ دیر بعد باہر آئی تو کمرہِ حرارت کچھ نارمل تھا۔
بھیگا چہرا ٹاول سے صاف کرکہ اسے صوفے پر پھیلا کر رکھا اور ایک نظر رائد کو دیکھا جو عادل سے کال پر بات کر رہا تھا۔ وہ شیشے کے سامنے جا کھڑی ہوئی اور بالوں سے کلپ نکالتے انہیں سلجھانے لگی۔ تھکن زدہ وجود اب کچھ ہلکا پھلکا محسوس ہورہا تھا۔ اب وہ بس پرسکون نیند سونا چاہتی تھی۔
“تم یہاں آکر کافی خوش ہوتی ہو۔۔۔”
وہ اپنی سائڈ پر آکر بیٹھی ہی تھی جب رائد نے کال بند کرتے اسکی پشت کو دیکھا۔ اسکے سوال پر وہ پلٹ کر اسے دیکھنے لگی۔ لہجہ بلکل عام سا تھا مگر یَشل کو سوال کچھ عجیب سا لگا۔
“اپنوں کے پاس آکر کون خوش نہیں ہوتا؟”
اسنے ٹانگیں بیڈ پر رکھتے کمفرٹر خود پر ڈالا۔
“میں تمہارا اپنا نہیں ہوں کیا۔۔۔؟”
وہ بڑی سادگی سے سوال کر رہا تھا جیسے کوئی بچہ کسی بات پر الجھ گیا ہو۔ یَشل نے بےاختیار اسکی طرف دیکھا جس کی سوالیہ نظروں اسی پر ٹکی تھی۔
“یہ کیسا سوال ہے۔۔۔؟”
وہ جواباً سوال کرنے لگی۔
“تم میرے ساتھ خوش نہیں ہوتی۔۔۔”
وہ بتا رہا تھا۔ یشل ساکت سی ہوتی اسے دیکھے گئی۔
“ایسا تو نہیں ہے۔۔میں تمہارے ساتھ بھی خوش ہوتی ہوں۔۔۔”
حلق میں کانٹے سے اگ آئے۔
“یہاں آؤ۔۔۔”
رائد نے اپنا بازو پھیلایا تو وہ آہستگی سے آگے ہوتی اسکے سینے پر سر رکھ گئی۔
“یَشل۔۔۔میں تمہیں اپنے گھر میں بھی اتنا ہی خوش دیکھتا چاہتا ہوں جتنی خوش تم یہاں ہو۔۔۔”
یَشل ںے چہرا اوپر کرتے اسے دیکھا تھا۔
“یہاں لوگ ہیں رائد۔۔۔”
وہ ہلکی آواز میں بولی ۔
“میں جانتا ہوں۔۔۔مگر اس گھر میں بھی مَیں تو ہوں ناں تمہارے پاس۔۔۔صرف اور صرف تمہارے پاس۔۔۔ ورنہ دوسری تین کے پاس بھی ہوسکتا تھا۔۔۔”
وہ سنجیدگی سے بولتا آخر میں شرارتاً گویا ہوا تو یَشل نے اسے گھورا۔
“رائد۔۔۔میں تمہارے ساتھ خوش ہوں۔۔بہت زیادہ نہیں بھی ہوں تو کوئی شکایت نہیں مجھے تم سے۔۔۔سب ٹھیک ہو جائے گا۔”
وہ اپنا ہاتھ اسکے سینے پر رکھ گئی تھی۔ رائد زیرو بلب کی ہلکی روشنی میں چمکتا اسکا چہرا دیکھتا رہا۔ کچھ دیر بعد یشل کو اسکی انگلیاں اپنے بالوں میں سرکتی ہوئی محسوس ہوئی۔
“تمہیں پتا ہے یَشل مجھے تم سے محبت کب ہوئی تھی۔۔۔؟”
یَشل نے دوبارہ سے چہرا اٹھا کر اسے دیکھا۔ وہ اسکے سینے پر اپنا سر رکھے، چہرا اوپر کرکہ دیکھتی ہوئی بہت پیاری لگی تھی۔ رائد کا دل بےایمان ہونے لگا۔
“کب ہوئی تھی۔۔۔؟”
رائد کی خاموشی پر اسنے تجسس سوال کیا۔
“شسید تب۔۔۔جب میں نے تمہیں عید والے دن روتے ہوئے دیکھا تھا۔۔ تم اس دن کے بعد سے میرے ذہن سے نہیں نکلی اور میں نے تو خواب میں بھی نہیں سوچا تھا کہ میری محبت اس طرح سے میرے نصیب میں لکھ دی جائے گی۔۔۔”
اسکا لہجا محبت سے پر تھا۔ یَشل کے ہونٹوں پر مسکراہٹ سی بکھر گئی۔ یہ انکشاف آج اسے اچھا لگا تھا۔ کچھ بےیقینی بھی تھی۔
“مجھے تمہاری آنکھیں بہت پسند ہیں۔۔۔خاص طور پر تب جب تمہاری آنکھوں میں اپنے لئیے محبت نظر آتی ہے۔۔”
وہ ایک ہاتھ سے اسکا رخسار سہلانے لگا تھا۔
“تمہارے بال بھی پسند ہیں۔۔۔ ناک بھی بہت خوبصورت ہے لیکن اگر تم نوز پِن پہنو گی تو اور بھی زیادہ اچھی لگو گی۔۔۔”
وہ خاموشی سے اسے سنتی رہی جو اسکے چہرے کے نقوش کو نرمی سے چھو رہا تھا۔
“میرا دل کرتا ہے تمہیں اپنے پاس بٹھائے رکھوں اور دیکھتا رہوں۔۔۔”
یَشل دوبارہ اپنا چہرا نیچے کرگئی۔
“تم مجھ سے محبت نہیں کر سکتی کیا۔۔۔۔؟”
کچھ دیر کی خاموشی کے بعد اسنے سوال کیا۔ اسکے سینے پر انگلی سے لکیریں کھینچتا یشل کا ہاتھ تھما تھا۔
“تمہاری محبت کو محسوس کرنا چاہتا ہوں میں۔۔اپنی محرم کی آنکھوں میں اپنے لئیے محبت دیکھنا خواہش ہے میری ۔۔۔”
یشل اسکی طرف دیکھ بھی نہ سکی۔ شاید وہ سانس بھی نہیں لے رہی تھی۔ اسے دل رک کر ڈوبتا محسوس ہوا تھا۔
“تھوڑے سے ٹائم میں ہی تم مجھے بہت زیادہ عزیز ہوگئی ہو۔۔۔میں تمہارے ساتھ بہت یادیں بنانا چاہتا ہوں، تمہیں اپنا بنانا چاہتا ہوں۔ جتنی محبت میں تم سے کرتا ہوں اتنی نہیں مگر تھوڑی سی محبت چاہتا ہوں۔۔”
وہ مدھم ٹہرے ہوئے لہجے میں بول رہا تھا اور وہ سنتی رہی تھی۔ آنکھوں سے گرم سیال نکلتا رائد کی شرٹ میں جزب ہونے لگا تھا۔ وہ سینے پر گیلا پن محسوس کرتا سیدھا ہوا تو یشل کا سر تکیئے پر آگیا۔ اسنے فوراً آنکھیں رگڑی۔
“تم روتے ہوئے اچھی لگتی ہو مگر میں تمہیں روتا ہوا نہیں دیکھنا چاہتا یشل۔۔۔ ان آنکھوں میں سب صرف خوشی کے آنسو ہی برداشت کروں گا۔۔۔”
وہ انگوٹھے کے پوروں سے اسکی آنکھیں صاف کرتا ہوا بولا اور جھک کر نرم لمس اسکی آنکھوں پر چھوڑا۔ وہ اوپر والے ہونٹ کو کچلتی خود کو مزید رونے سے روک رہی تھی جب رائد اسے اپنی پناہوں میں چھپا گیا۔
☆ ★ ✮ ★ ☆
آخر کار وہ خاص دن بھی آن پہنچا۔ گھر میں ہر طرف خوشیاں ہی خوشیاں تھی۔ نکاح اور منگنی کی تقریب گھر میں ہی رکھی گئی تھی اور صرف قریبی لوگ مدعو تھے۔
پچھلا ایک ہفتہ سب کے لیے بڑی تیزی سے گزرا تھا جبکہ ارمغان کا اس گھر میں رہنا محال ہوا تھا۔ اسنے رائد کے سلام کرنے کا تکلف بھی نہ کیا تھا۔ نا چاہتے ہوئے بھی رائد کو ہی پہل کرنی پڑی تھی مگر ارمغان کا رویہ دیکھتے اسنے خود پر سو بار لعنت بھیجی۔
یشل نے رائد کو مختصراً اپنے اور ارمغان کے بانڈ کا بتایا تھا مگر بہت زیادہ نہیں۔ لیکن اسکا ذکر کرنے کی وجہ عادل ولا میں ہونے والی انکی لڑائی کی طرف اشارہ تھا۔ اس دن ارمغان کو یشل کے لیے لڑتا دیکھ کر رائد کے دل میں یقیناً کئی سوال پیدا ہوئے ہونگے جو اسنے یشل سے نہیں کئیے تھے۔ یہ یشل پر اس کا یقین تھا مگر اسکی خاموشی پر یشل شرمندہ بھی ہوئی تھی تبھی اسنے اپنی اور ارمغان کی گہری دوستی کا ذکر کرنا ضروری سمجھا جس پر رائد نے کچھ خاص نہ کہا تھا لیکن یَشل کو اندازہ ہوگیا تھا رائد کو اسکی اور ارمغان کی دوستی کو لے کر کوئی بھی بات بری نہیں لگی۔ وہ اب کچھ ہلکا محسوس کر رہی تھی۔
نکاح ظہر کے بعد ہونا تھا اور نکاح مکمل ہونے کے بعد ہی منگنی کی تقریب ہونی تھی کیونکہ دونوں محترماؤں کو اپنا فوٹو شوٹ پرفیکٹ چاہیے تھا۔ وسیع لان کو نہایت ہی خوبصورتی سے سجا کر چار چاند لگا دئیے تھے۔ لڑکیوں کی تیاری کے لیے بیوٹیشن کو گھر پر ہی بلایا گیا تھا جبکہ یشل اور عزہ کے پارلر والی سے تیار ہونے کا کوئی شوق نہ تھا سو وہ دونوں دوسرا کمرا بکھیرے ہوئے تھیں۔ صبیحہ اور عطیہ تو یہاں سے وہاں بھاگ دوڑ کرتی پھر رہی تھی پھر ضعیمہ اور رضیہ کے آنے پر کام کچھ بٹ گیا۔
بیوٹیشنز سے ہی چار ہاتھ اپنے چہرے پر لگواتے انہوں نے بھی تیاری مکمل کی۔ نکاح کا وقت ہونے والا تھا اور مہمان بھی آچکے تھے اب عورتوں کی گرج برس لڑکیوں پر شروع ہوئی تھی۔
“اور کتنی دیر لگاؤ گی تم دنوں۔۔ اللّٰہ اللّٰہ یہ کمرہ ہے کہ کباڑ خانہ؟ کام میں ہاتھ نہیں بٹا رہی الٹا کام بڑھا رہی ہو۔۔۔”
عطیہ نے کمرے میں آتے ہی یَشل اور عزہ کو جھڑک دیا
“میں تیار ہوں بس یہ سمیٹ رہی۔۔لیکن سمیٹ کر کیا ہی کرنا؟ بعد میں کرلیں گے نہ۔۔”
یَشل صوفے پر بیٹھ کر پیروں میں ہیلز پہنتی ہوئی بولی۔
“ہاں ہاں بلکل اور جو مہمان آئے ہوئے وہ کیا سارا دن ہال میں بیٹھے رہیں گے؟ کوئی کمروں میں نہیں آئے گا؟”
عطیہ نے کمر پر ہاتھ رکھتے اسے گھورا پھر عزہ کی طرف مڑی جو اپنے سرخ رنگے ہوئے ہونٹوں کو مزید سرخ کر رہی تھی
“عزہ یہ لپسٹک اپنے پاس ہی رکھ لو تھوڑی سی بھی اِدھر اُدھر ہوگئی تو سیٹ کرلینا لیکن باہر چل لو مہمان آئے ہیں بھئی کوئی ہوش ہے؟”
عطیہ کی بات سن کر عِزہ نے لپسٹک بند کی اور بالوں کو ہلکا ہاتھ مارتے ہوئے شیشے میں ایک نظر خود کو دیکھا تو گہری مسکراہٹ آئی۔ بیڈ پر پڑا دوپٹہ اٹھایا اور ایک کندھے پر رکھ کر اسے بازو تک پھیلایا۔ یَشل بھی صوفے سے اٹھ کھڑی ہوئی تو عطیہ نے ان دونوں کی تیاری دیکھی۔
“ماشاءاللہ ماشاءاللہ۔۔ اللّٰہ میری بچیوں کو نظرِ بد سے محفوظ رکھے۔۔۔”
عطیہ نے آگے آتے ان دونوں کا ماتھا چوما تو وہ دونوں کھل کر مسکرائی۔ تبھی دروازہ ناک کرتا رائد اندر داخل ہوا۔
“رائد بھائی۔۔ آئیں آئیں اندر آئیں آپ کی بیگم تیار ہے۔۔۔”
عِزہ نے شرارتًا کہا تو یَشل نے اسے گھورا جبکہ رائد مسکراہٹ لئیے اندر داخل ہوا۔
“اچھا چلو تم باہر مہمانوں کے پاس جاؤ میں قِرت اور نشہ کو دیکھ لوں۔۔تمہاری دوست بھی آگئی ہے۔۔”
عطیہ جلدی جلدی بولتی باہر نکلی تو عزہ بھی کمرے سے نکل گئی۔ عزہ کے جاتے ہی رائد نے دروازہ لاک کیا اور اسے دیکھنے لگا۔
خوبصورت سا ڈل گولڈن رنگ کا شرارہ جس پر نفیس اور ہلکا کام ہو رکھا تھا۔ بالوں کی بیچ سے مانگ نکال کر لوز کرلز ڈالے، مانگ پر ٹیکا لگائے خوبصورت سے میک اپ میں وہ بلا کی حسین لگ رہی تھی۔
مہکتے ہوئے گلاب جیسا دلکش سراپا عین وقت پر اسے کڑے امتحان میں ڈال گیا تھا۔ رائد تو اسے بلانے آیا تھا کیونکہ ضعیمہ اس کا پوچھ رہی تھی مگر آنے کا مقصد بھلائے، اسے تکتا ہوا وہ بےخودی میں آگے بڑھا۔ اسکی نظروں کے ارتکاز پر یَشل کی دھڑکنیں بےترتیب ہوئی تھی۔
رائد قدم قدم چلتا اسکے اتنے قریب جا کھڑا ہوا کہ وہ سانس روک گئی۔ لبوں کی لرزش اور گھنی پلکوں کا بوجھل پن۔۔۔ وہ خوابیدہ حسن دیکھتے رائد کا دل بےایمانی پر اترنے لگا۔
“آ۔۔۔ آپ کیوں آئے تھے۔۔؟”
رائد نے بےیقینی سے اسے دیکھا۔ جان کر یا شاید بےدھیانی میں وہ اسے آپ کہہ رہی تھی مگر رائد سرشار ہوا تھا۔
“کیونکہ مجھے آپ کی یاد آرہی تھی۔۔۔”
وہ ہلکا سا اسکی طرف جھکا۔ رائد کی گرم سانسوں پر اسے اپنا چہرا جھلستا محسوس ہوا۔
“رائد۔۔۔باہر جانا ہے۔۔۔”
اسنے ہاتھ سے دروازے کی طرف اشارہ کیا۔
“مگر اب میرا دل نہیں کر رہا۔۔۔”
رائد نے بازو اسکی کمر کےگرد حائل کیا۔
“دیر ہورہی ہے۔۔۔ممانی جان مجھے بلانے ہی آئی تھی۔۔”
اسنے چہرا اوپر کرکہ اسے دیکھا مگر اسکی گہری نظروں پر دوبارہ جھکا گئی۔
“یَشل۔۔۔۔”
سرگوشی نما آواز پر یَشل کی دھڑکن تیز ہوئی۔
“جج۔۔۔جی۔۔۔”
حلق سے بامشکل آواز نکلی۔
“تم اتنی خوبصورت کیوں ہو۔۔۔؟”
یشل نے چونک کر اسے دیکھا۔ یقیناً وہ اس بات کی توقع نہیں کر رہی تھی پھر اسکے ہونٹوں پر مسکراہٹ آئی اور ایک بار پھر وہ چہرا نیچے کر گئی۔
“شکریہ۔۔۔۔”
“میں نے تعریف تو نہیں کی۔۔۔سوال کیا ہے۔۔”
رائد نے ٹھوڑی سے پکڑتے اسکا چہرا اوپر کیا۔
“آپ کے سوال کا جواب نہیں میرے پاس۔۔۔”
وہ بدقت اسکی طرف دیکھتے ہوئے بولی۔۔ رائد چند لمحے اسے دیکھتا رہا جھک کر اسکے لبوں کر نرمی سے چھوا تو یَشل کے چہرے پر گلاب بکھر گیا۔
“اب چلیں۔۔۔۔؟”
اُسکے سوال پر رائد نے سر اثبات میں ہلاتے اسکا ہاتھ تھاما اور باہر کی طرف جانے لگا۔
“اوف کمرہ تو سمیٹا ہی نہیں۔۔ممانی جان ڈانٹ دیں گی۔۔۔”
وہ رک کر کرمے کی حالت دیکھنے لگی۔
“خیر ہے۔۔۔کمرہ لاک کرلو۔”
رائد کی بات پر عمل کرتے اسنے اندر سے کمرہ لاک کرلیا اور لان کی طرف چل دی۔
☆ ★ ✮ ★ ☆
“بھائی۔۔۔ آپ نہیں آئیں گے کیا۔۔؟”
وہ عافیہ کے ساتھ گاڑی سے اتری پھر شیشے پر جھکتے ہوئے سوال کیا۔
“آرہا ہوں بس گاڑی پارک کرلوں کہیں پر۔۔۔”
آمنہ نے سر ہلایا اور عافیہ کے ہمراہ اندر بڑھی۔
مہمانوں کی گاڑیاں پہلی گلی میں جگہ جگہ پر کھڑی تھی۔ اسنے گلی سے نکل کر ایک جگہ گاڑی پارک کی اور واپس اس گھر کی طرف بڑھا۔ گیٹ کے باہر پہنچتے اس خوبصورت گھر کو دیکھا۔
وہ یہ گھر پہلی بار نہیں دیکھ رہا تھا کئی بار دیکھ چکا تھا نہ صرف دیکھ چکا تھا بلکہ اندر بھی گیا تھا مگر صرف لان کی حدوں تک۔ اس گھر میں رہنے والے کچھ لوگ “اس” سے اچھے سے واقفیت رکھتے تھے مگر اسکے گھر والوں سے نہیں۔ وہ آمنہ کو جانتے تھے مگر عزہ کے حوالے سے۔
اسنے گہری سانس ہوا کے حوالے کی اور اندر بڑھا۔ سامنے ہی اسے آمنہ اور عزہ نظر آگئیں۔ وہ وہیں رک گیا۔ ٹی پنک اور کریمی کلر کے کمبینیش کا خوبصورت سا شرارہ اور بالوں کا پیارا سا ہئیر اسٹائل بنائے مناسب میک اپ میں ہمشیہ کی طرح آج بھی وہ نظر لگ جانے کی حد تک خوبصورت لگ رہی تھی۔
وہ زیر لب آیت الکرسی کرسی پڑھتا اسکی طرف بڑھا تو آمنہ سے بات کرتی عزہ اسے دیکھ کر ٹھٹھک گئی۔
قریب جاتے ہی اسنے عزہ کے منہ پر ہلکی سی پھونک ماری اور عزہ نے اسکی اس حرکت کو اچھے سے نوٹ کیا۔
“بھائی۔۔۔عزہ ان سے ملو یہ ہیں ہارون بھائی۔۔۔”
آمنہ نے اپنے ساتھ کھڑے ہارون کا فوراً تعرف کروایا۔ آمنہ کے منہ سے نکلنے والے جملے سنتے عِزہ کی آنکھوں میں حیرت اتری جس پر ہارون نے محظوظ ہوتے مسکراہٹ دبائی اور بڑے مؤدب انداز میں سلام کیا۔
“السلام و علیکم۔۔۔”
اسکی بھاری سنتے اسے اپنی سوچ پر یقین ہو چلا۔
“وعلیکم السلام۔۔۔”
وہ بامشکل اسکے سلام کا جواب دے پائی۔
“آپ سے مل کر اچھا لگا،مجھے کسی سے ملنا ہے۔۔۔ایکسکیوز می۔۔”
وہ ہلکی مسکراہٹ کے ساتھ اپنے مخصوص انداز میں کہتا ہوا آگے بڑھ گیا مگر عزہ اسے پلٹ کر دیکھنے پر مجبور ہوگئی۔ وہ اس شخص کو اچھے سے پہچانتی تھی۔ یہی تو وہ شخص تھا جس کی وجہ سے وہ چار دن بےسکون رہی۔
“یہ۔۔۔”
“ہارون بھائی ہیں۔۔۔کیا ہوا؟”
نجانے وہ جان بوجھ کر انجان بن رہی تھی یا واقعی وہ بےخبر تھی۔
“کچھ نہیں۔۔۔”
اسنے ایک بار پھر پلٹ کر اسے دیکھا جو عدنان صاحب سے مل رہا تھا۔
” آنٹی سے مل لوں۔۔۔”
عزہ عافیہ کی جانب بڑھی جو ایک طرف کھڑی صبیحہ سے بات کررہی تھی۔
آمنہ نے ہادی کی تلاش میں یہاں وہاں نظریں دوڑائیں مگر وہ نظر نہ آیا۔ آج اس گھر میں آتے ہوئے وہ عجیب ہی کیفیت کا شکار ہورہی تھی۔ بےترتیب سی دھڑکنیں، بیچینی، گھبراہٹ اور نجانے کیا کیا اور یہ سب صرف اور صرف ہادی کی وجہ سے تھا۔
“عرض کیا ہے۔۔۔ہونٹوں پہ ہنسی دل میں تھوڑا غم ہے
کیا آپ کی ہائیٹ بھی 5.3 سے کم ہے؟”
وہ چونک کر پیچھے مڑی تو اسے کھڑا پایا۔ کریمی کلر کا کرتا شلوار پہنے گہری مسکراہٹ کے ساتھ چمکتا ہوا چہرا اور آنکھیں۔۔۔ البتہ بالوں کو سیٹ کرنے کی توفیق نہیں کی گئی تھی یا سیٹ کئیے تھے اور بکھر گئے تھے۔۔ مگر وہ ایسے بھی پیارا لگ رہا تھا۔
“اوہ۔۔۔ڈرا دیا تم نے مجھے۔۔۔”
وہ سب کے سامنے اس سے بات کرتی جھجھکنے لگی۔
“اور میں تمہیں دیکھ کر ڈر گیا کہ یہ حسین چڑیل کون ہے۔۔؟”
ہادی کی بات کر وہ ہنس سی۔
“آنٹی آئی ہیں۔۔۔؟”
اسنے آمنہ کے کچھ کہنے سے پہلے ہی سوال کیا
“بھائی بھی آئے ہیں۔۔۔”
اسنے فوراً کہا۔ وہ ہادی کے پاس سے غائب ہونا چاہتی تھی اتنے لوگوں کے سامنے ہادی سے بات کرتی وہ بری طرح ڈر رہی تھی اور اتنے لوگوں میں ہادی کے گھر والوں کے ساتھ اسکی اماں اور بھائی بھی شامل تھے۔
“بھائی۔۔؟ کہاں۔۔۔؟”
آمنہ نے پیچھے دائیں جانب سائیڈ پر ہوکر عدنان صاحب کے ساتھ کھڑے ہارون کی طرف اشارہ کیا تو ہادی نے اس سمت دیکھا۔ ہادی وہ چہرا دیکھ کر بری طرح چونکا۔ اسنے اس چہرے کو بغور دیکھا اور پل میں اسکے چہرے کے تاثرات پہلے حیرت اور پھر خوشگوار حیرت میں بدلے۔۔
“ہارون۔۔۔”
وہ زیرِ لب بڑبڑایا تو آمنہ نے سر اثبات میں ہلایا۔
“یہ ہے تمہارا بھائی ہارون۔۔۔؟”
اسنے بےیقینی سے سوال کیا تو آمنہ نے سر ہلایا۔ تبھی ہارون کی نظر ان دونوں پر پڑی۔ ہادی فوراً اسکی طرف بڑھا تو ہارون نے گہری مسکراہٹ لئیے اسے دیکھا۔
” ابے تو یہاں۔۔۔۔”
وہ بڑی گرمجوشی سے ہارون سے بغلگیر ہوا۔
“یہ کیا سین ہے۔۔۔؟”
عزہ کی آواز پر آمنہ نے اسکی طرف دیکھا۔
“نو آئیڈیا۔۔۔شاید ایک دوسرے کو جانتے ہیں۔۔”
وہ انہی کی طرف دیکھتے ہوئے بولی۔
“تجھے میں نے کچھ عرصہ پہلے دیکھا تھا عزہ کو پک کرنے گیا تھا میں آمنہ کے گھر سے۔۔۔مجھے لگا ویسے ہی شکل ملتی ہوگی مگر حد ہے یار۔۔۔بندہ کانٹینٹ ہی کرلیتا ہے آکر۔۔۔”
ہادی کافی خفا ہورہا تھا۔
” میں نے سوچا تو خود کرلے گا۔۔”
“مجھے تو جیسے الہام ہوا تھا تیرے آنے کا۔۔۔”
ہارون ہنس دیا۔ وہ ایسا ہی تھا تھوڑا کم گو سا مگر ستنا سنجیدہ بھی نہ تھا۔
ہارون اور ہادی کی دوستی تب ہوئی تھی جب ہارون انٹر کرنے کے لیے لاہور جانے کی تیاریوں میں تھا۔ کالج میں ہادی کی کسی کے ساتھ گتھم گتھا ہوئی تھی اور تب ہارون نے اس لڑائی کو ختم کروایا تھا۔ ہادی ہارون سے چھوٹا تھا مگر ان کی کافی اچھی دوستی ہوگئی تھی پھر کچھ ماہ کے بعد ہارون لاہور چلا گیا۔ لاہور ہاسٹل جانے کے بعد بھی ان دونوں کے درمیان فون کے ذریعے کانٹینٹ رہا تھا وہ دو مرتبہ واپس کراچی آیا تھا تب بھی اسکی ہادی سے کافی بار ملاقات ہوئی تھی اور وہ اسکے گھر بھی آیا تھا۔ تب وہ ارمغان اور افہام سے ملا تھا مگر پھر لاہور واپس جاتے ہی ہارون کا موبائل چوری ہوگیا۔ سوشل میڈیا پر وہ ویسے بھی کنیکٹڈ نہ تھے تو رابطہ ختم ہوگیا۔ ہارون ہاری کا ایڈریس اور اس کے بارے میں کافی کچھ جانتا تھا مگر ہادی صرف وہ یہ جانتا تھا کہ اس کا گھر کون سے محلے میں ہے۔ ہادی نے اسے تب دیکھا تھا جب وہ عزہ کو آمنہ کے گھر سے پک کرنے گیا تھا مگر تب اسے لگا کہ وہ وہم تھا پر اب اندازہ ہوا کہ وہ وہم تو ہرگز نہ تھا۔
آمنہ نے ایک دو بار ہی ہارون کا ذکر کیا تھا ہادی کے سامنے اور ہادی نے اسے کہا بھی تھا کہ میرا بھی ہارون نام کا ایک دوست ہوا کرتا تھا مگر ہارون نامے پر ان کی زیادہ بات نہیں ہوئی تھی اور نہ ہی تصویر دیکھنے، دکھانے جیسا اتفاق ہوا تھا مگر ہارون اس بات سے اچھے سے واقف تھا کہ آمنہ کی دوست کون ہے اور عزہ ہادی کی کزن تھی اسے یہ بات بھی معلوم تھی۔
☆ ★ ✮ ★ ☆
“پہلے منگنی کی رسم کرلیتے۔۔۔”
عدنان صاحب نے عطیہ اور صبیحہ سے کہا تو وہ اندر کی جانب بڑھ گئی اور کچھ دیر بعد انوشہ کو اپنے ساتھ لئیے واپس آئی۔
شہروز کی جانب سے صرف چند ایک لوگ ہی مدعو تھے اور بینا نے خود ہی آنے سے انکار کردیا تھا۔
وہ جو کب سے اس کے انتظار میں آدھا ہوا جارہا تھا اسکو سٹیج کی طرف آتا دیکھ کر شہروز کے ہونٹوں ہر گہری مسکراہٹ آئی تھی۔ لیونڈر کلر کی پیروں کو چھوتی بھاری مفر نفیس سی میکسی پہنے بالوں کا خوبصورت ہئیر اسٹائل بنائے پارٹی میک اپ میں وہ خوبصورتی کا منہ بولتا ثبوت لگی تھی۔ چہرے پر آئے رنگوں نے اسے حُسن کو چار چاند لگائے تھے۔
نِشہ کو اسکے ساتھ بٹھایا تو یَشل اور عِزہ بھی سٹیج پر آگئی۔
“ارمغان کہاں ہے۔۔۔اسے کال کرو۔۔۔”
عدنان صاحب نے اپنے پیچھے کھڑے ہادی کو مخاطب کیا تو وہ ارمغان کو کال کرنے لگا۔ گھر کے باہر ہی فاصلے پر وہ کسی دوست کے ساتھ کھڑا تھا جب ہادی کی کال آتی دیکھ کر اندر آگیا۔
اسنے سٹیج کی طرف دیکھا تو وہ سب سے نمایا نظر آرہی تھی۔ نشہ کی پرف جھک کر اسے کچھ کہتی وہ بےاختیار ہی ہنسنے لگ گئی۔۔۔ ارمغان کے دل کو کسی نے جکڑ لیا۔۔ عہ چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتا آگے جا رہا تھا جب یشل کی نظر بھی اس پر پڑی۔ اسکے ہونٹوں پر آئی گہری مسکراہٹ مدھم ہوتی غائب ہوگئی۔ وہ چند لمحے اسے دیکھتی رہی پھر رکتی ہوئی دھڑکن محسوس کرتی اس پر سے نظر ہٹا گئی۔ اسکے نظریں پھیرنے پر ارمغان کے دل میں درد کی ایک ٹیس اٹھی۔
“رسم شروع کرتے ہیں۔۔۔”
ندیم عالم کے سٹیج پر آتے ہی صبیحہ بیگم نے کہا تو وہ انہوں نے کرتے کی جیب سے سرخ رنگ کیس نکالتے شہروز کی طرف بڑھایا۔ رنگ کیس میں سے انگوٹھی نکالتے اسنے اپنی چوڑی ہتھیلی انوشہ کے سامنے پھیلائی تو پہلی بار گھبراہٹ نے اسے گھیرا۔ ہولے ہولے لرزتا اپنا نرم ہاتھ اسنے شہروز کے ہاتھ پر رکھا تو اسنے چمکتی ہوئی خوبصورت انگوٹھی اسکی چوتھی انگلی میں پہنا دی۔ نشہ نے گہرا سانس لیتے امڈ کر آنے والی مسکراہٹ دبائی۔
“یہ لو۔۔۔۔”
صبیحہ نے ہاتھ میں پکڑی مخملی ڈبیا سے انگوٹھی نکال کر انوشہ کی طرف بڑھا دی۔ اسنے انگوٹھی پکڑ تو لی مگر شہروز کو انگھوٹی پہنانا اس کو ایک محاز فتح کرنے جیسا لگا تھا۔۔ اسکی کیفیت سمجھتے شہروز کے ہونٹوں پر مسکراہٹ ٹہر گئی۔ انگوٹھی جب شہروز کے انگلی کے درمیان تک پہنچی تو اسنے فوراً ہاتھ پیچھے لیا اور اسکی حرکت پر شہروز نے اپنی ہنسی بامشکل دبائی۔
رسم مکمل ہوئی تو مبارکباد کا شور اٹھا۔
” کانگریچولیشنز ڈئیر فِیانسی۔۔۔”
شہروز نے اسکی طرف جھکتے ہوئے کہا تو نشہ کے ہونٹوں پر تبسم بکھرا۔ اسنے چہرا موڑ کر مسکراتی نظروں سے شہروز کو دیکھا پھر صبیحہ سے پوچھ کر وہ تینوں لڑکیاں واپس اندر چلی گئی کیونکہ اب نکاح ہونا تھا۔
وہ روم میں داخل ہوئی تو قرت کے پاس بریرہ بیٹھی اس سے باتیں کر رہی تھی۔
“منگنی کی رسم ہوگئی۔۔۔؟”
اسنے تینو کو دیکھتے ہی سوال کیا۔۔
“ہاں الحمدللہ۔۔۔”
نِشہ بے اختیار بولی تو بریرہ اٹھ کر اسکے سینے سے لگی۔
“بہت بہت مبارک ہو آپ کو۔۔۔انگوٹھی دکھائیں۔۔”
اسنے نشہ کا ہاتھ تھام کر انگوٹھی دیکھی۔۔
“بہت خوبصورت ہے۔۔۔”
وہ انگوٹھی دیکھ کر بولی تو نشہ کی مسکراہٹ گہری ہوئی
“شکریہ پیاری۔۔۔”
وہ قرت کے پاس بیٹھی تو اسنے نِشہ کو زور سے ہگ کیا۔
“اللّٰہ تم دونوں جے نصیب اچھے کرے۔۔۔”
یشل نے ان دونوں کے پاس آتے ہوئے کہا اقر آنکھیں چھپکتے نمی اندد اتارنے کی کوشش کی مگر ناکام ٹہری۔۔
“آمین۔۔۔۔”
عزہ نے ایکسرے کرتی نظروں سے یَشل کو دیکھا۔
“بہت پیاری لگ رہی ہیں آپ۔۔۔”
بریرہ کے اچانک تعریف کرنے پر وہ جھنپ کر مسکرائی۔
“قِرت عدنان ولد عدنان قریشی آپ کا نکاح افہام خان ولد اکرم خان سے سکہ رائج الوقت پانچ لاکھ روپئے تہ پایا ہے۔۔۔کیا آپ کو یہ نکاح قبول ہے؟”
اسکی دھڑکنوں میں شور برپا ہوا۔
“قبول ہے۔۔۔”
یہی جملہ دو مرتبہ مزید دہرایا گیا۔ تیسری بار قبول کرتے اس کی آواز میں کپکپاہٹ تھی۔ کسی خوف سے نہیں لیکن اس نئے بننے والے رشتے کے احساس سے، خوبصورت احساس جو اسی پل اس کو محسوس ہوا تھا۔
نکاح نامے پر دستخط کرتے اسکے ہاتھ بری لرز رہے تھے۔
یہی سلسلہ افہام کی طرف سے ہوا، اس کے اقرار پہ اس سے دستخط لیے گئے اور فضا میں مبارک باد کی آوازیں بلند ہوئیں۔۔ سرگوشیاں، خوشی بھری کھلکھلاہٹیں اور ماں باپ کی بھیگی آنکھیں۔۔۔
افہام اپنی جگہ سے اٹھ کر چند قدم چلتا اسکے پاس آیا اور اسکے دونوں حنائی ہاتھ تھام کر کھڑا کیا۔ اسکا جالی دار دوپٹے سے کیا گیا گھونگھٹ اٹھایا تو وہ مبہوت ہوا تھا۔ وہ کسی اپسرا سے کم نہ لگ رہی تھی۔ نفاست سے کیا گیا میک اپ، نازک سے زیورات اور آنکھوں میں اٹکے آنسو۔۔۔ سفید پیروں کو چھوتا فراک پہن کر اسکے قریب کھڑی لڑکی بالآخر اسکی منکوحہ کے درجے پر فائز ہوگئی تھی۔
اسنے قرت کا چہرا ہاتھوں کے پیالے میں کیا اور اسکے ماتھے پر اپنا نرم گرم محبت بھرا پہلا لمس چھوڑا۔
قرت نے آنکھیں بند کی تو اٹکا ہوا آنسو رخسار سے پھسلتا چلا گیا۔
اسکے چہرے سے ہاتھ ہٹاتا وہ اسے اپنے سینے سے لگا گیا۔ وہ خدا کا جتنا شکر کرتا کم تھا کہ وہ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے اسکے مقدر میں لکھ دی گئی تھی۔
قرت کی دھڑکن ایک بار رک کے تیز چلنا شروع ہوئی۔ اس کی زندگی کا وہ حسین باب سے شروع تھا جِس کا اس نے شدت سے انتظار کیا تھا۔
☆ ★ ✮ ★ ☆
“اتنی جلدی واپس جارہی ہیں۔۔۔تھوڑی دیر اور رک جاتیں۔۔”
عزہ نے عافیہ کو دیکھتے ہوئے کہا جو جانے کی تیاریوں میں تھی۔
” نہیں بیٹا دیر ہورہی ہے اس کے ابو آگئے ہونگے آفس سے ۔۔۔ تم آنا نہ اتنے دن سے چکر نہیں لگایا صرف انویٹیشن دینے آئی تھی۔۔”
“بس پہلے پیپرز ہورہے تھے پھر یہ ساری تیاریوں میں وقت گزر گیا۔۔۔میں چکر لگاؤں گی۔۔شاید۔۔”
وہ ہونٹوں پر مسکراہٹ لئیے بول رہی تھی جب ہارون ان کی طرف آیا تو آخری لفظ اس کو دیکھتے آہستگی سے ادا کیا۔
“شاید نہیں یقیناً آنا۔۔۔ اور سال بعد مت آنا۔۔”
آمنہ کی بات پر عزہ نے سر ہلایا۔
“اور تم میرے گھر کب آرہی۔۔۔؟”
اسنے آئی برو اچکاتے آمنہ کو دیکھا
“تمہارے گھر ہی تو کھڑی ہوں۔۔۔”
“بھابھی بن کر۔۔۔”
عِزہ آمنہ کے کان میں گھس کر بولی تو آمنہ کی آنکھیں پھیلی۔ چہرے پر آنے والی مسکراہٹ کو اسنے بامُشکل روکا۔۔
“بکواس نہ کرو تم زیادہ۔۔۔”
اسنے عزہ کو گھورا تو وہ ہنسی۔ ہارون نے اس ہنستے ہوئے چہرے کو نظر بھر کر دیکھا۔
“ارے ۔۔ آپ اتنی جلدی جارہی ہیں۔۔۔؟”
عطیہ ان کے پاس آتی عافیہ سے مخاطب ہوئی اور بس۔۔۔وہی دروازے پر رک کر گپے مارنے کا سلسلہ شروع۔ آمنہ تو کچھ دیر بعد ہی کھڑی کھڑی کوفت کا شکار ہوئی اور عزہ نے اسکی صورت دیکھتے لطف اٹھایا جبکہ ہارون بس عطیہ کو ہوں ہاں کرتا اسکے چہرے کو اپنی آنکھوں میں اتار رہا تھا۔
“اگر آپ کی گفتگو ختم ہوگئی ہو اور آپ نے اسکے چہرے کا طواف مکمل کرلیا ہو تو چلیں۔۔۔؟”
عطیہ کے جانے کے بعد آمنہ نے دانت پیستے ہوئے کہا تو عافیہ نے اسکی بات پر کچھ ناسمجھی سے اسے دیکھا جبکہ ہارون نے اسے گھورا۔ عزہ کا بھی دل کیا اسے ایک لگا دے۔ پہلے ہی ہارون کی نظروں پر اسے چڑ ہورہی تھی۔
“چلو بھئی چلو۔۔۔ یاد سے آجانا۔۔”
عافیہ عزہ سے بغلگیر ہوتی ہوئی بولی تو اسنے اچھے بچوں کی طرح سر ہلا دیا۔
وہ آمنہ سے بھی ملی تو ہارون نے سر کے اشارے سے اسے خدا حافظ کیا اور عزہ بس پھاڑ کھانے والی نظروں سے اس اچھے بھلے خوبرو نوجوان کو دیکھتی رہ گئی۔
“چلی گئی تمہاری دوست۔۔۔”
وہ اندر جانے ہی لگی تھی جب ہادی اسکے پاس آیا تو وہ رک گئی۔
“ہاں چلی گئی۔۔۔تم اسکے بھائی کو جانتے ہو کیا؟”
پیروں میں درد محسوس کرتی وہ قریب پڑی کرسی پر بیٹھی تو ہادی بھی اسکے ساتھ والی کرسی پر بیٹھا۔
“ہاں دوست ہے میرا۔۔۔ ویسے ہی مذاق مذاق میں بن گیا تھا مگر مجھے تو بلکل بھی اندازہ نہیں تھا یہ آمنہ کا ہی بھائی ہے۔۔ لاہور چلا گیا تھا نہ بہت عرصے بعد آج ملاقات ہوئی ہے۔۔۔”
ہادی کی بات سنتے اسنے ہونٹوں کو او کی شیپ دیتے کچھ حیرت کا اظہار کیا پھر سمجھنے والے انداز میں سر ہلانے لگی۔
“پھر اب کیا کرو گے۔۔؟”
“کیا مطلب کیا کروں گا۔۔؟”
وہ اسکے سوال پر ناسمجھی سے اسے دیکھنے لگا۔
“تم نے اس کو بتایا کہ تمہاری آمنہ سے بات ہوتی ہے۔۔؟”
جانتی تھی نہیں بتایا ہوگا مگر پھر بھی پوچھ بیٹھی۔
“اس میں بتانے جیسا کیا ہے۔۔؟”
وہ دونوں سوال کے جواب میں سوال ہی کئیے جارہے تھے۔
“صرف دوستی ہی تو ہے۔۔میں نے کون سا اس سے بھاگ کر شادی کرلی ہے۔۔”
وہ کندھے اچکا کر بولا تو عزہ نے اسکے کندھے پر بےاختیار ہی ایک تھپڑ مارا۔
“فضول نہیں ہانکا کرو۔۔۔ میں تو نہیں مانتی کہ یہ صرف ”دوستی“ ہے۔۔۔”
عزہ نے لفظ پر زور دیا۔
“تو مت مانو۔۔۔ لیکن تم آمنہ سے پوچھ سکتی ہو وہ بھی تمہیں یہی کہے گی۔۔۔ایسا ویسا کچھ نہیں ہے یار۔۔۔”
وہ جتنے آرام سے بول رہا تھا عزہ چند لمحے خاموش رہ گئی۔ آمنہ کی دلی کیفیت سے وہ بےخبر تو نہ تھی۔
“تمہیں وہ اچھی نہیں لگتی۔۔۔؟”
ہادی نے بھنویں سکیڑ کر اسے دیکھا۔
” کس سینس میں۔۔۔مطلب تم کس لحاظ سے پوچھ رہی؟ ایسے تو وہ اچھی لڑکی ہے۔۔۔”
“ایسے ویسے کیا ہوتا ہے؟ میں کس سینس میں پوچھ رہی تمہیں اچھے سے پتا ہے۔۔۔”
عزہ اب کی بار سنجیدہ ہوگئی۔
“اوہو۔۔۔ اتنی سریس کیوں ہورہی ہو یار؟ وہ میری پہلی دوست تھوڑی نہ ہے۔۔”
ہادی خاصے ٹھنڈے پن کا مظاہرہ کر رہا تھا۔
“وہ پہلی دوست ہی ہے جس سے تم ضرورت سے زیادہ بات کرتے ہو، ہر وقت کرتے ہو اور وہ پہلی لڑکی ہی ہے جس سے تم دو تین بار مل چکے ہو۔۔یہ محض ایک دوستی نہیں ہے اس کو دوستی کا نام دینے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔۔۔”
عزہ نے سنجیدہ مگر ٹہرے ہوئے لہجے میں کہا۔
“عزہ بات کو غلط سائڈ مت لے کر جاؤ۔ میری طرف سے تو دوستی ہی ہے نہ تمہاری دوست کی طرف سے کچھ اور ہوگا۔ اس میں مَیں کیا کہہ سکتا؟ اور تم میرے ساتھ بیٹھ کر آمنہ نامہ کھول کر بیٹھی ہو؟ سب ہمارے درمیان جب بھی بات ہوگی یہی سب ہوگا اس میں؟”
وہ بات مکمل کرتا اسے سوالیہ نظروں سے دیکھتا رہا مگر عِزہ خاموش رہی۔ اور اسکی خاموشی پر ہادی کو جھنجھلاہٹ میں اضافہ ہوتا محسوس ہوا۔ وہ کرسی سے اٹھ گیا۔
“اچھا نہ ٹھیک ہے۔۔۔روٹھی ہوئی محبوبہ کیوں بن رہے ہو۔۔۔”
وہ بھی اسکے ساتھ ہی اٹھ کھڑی ہوئی۔
“میں نہیں بن رہا مگر تم تفتیش کرتی ہوئی محبوبہ سے کم نہیں لگ رہی۔۔۔”
وہ اسکی طرف دیکھتا سنجیدگی سے بولا مگر عزہ ہنس پڑی پھر اسے گھورا
“زیادہ بکو مت۔۔۔کچھ نہیں پوچھ رہی میں لیکن۔۔وارن کر رہی ہوں میں تمہیں۔۔”
عزہ نے انگلی اٹھا کر اسے دکھائی۔
“مت کرو مجھے وارن۔۔۔بہت شکریہ۔۔”
ہادی نے اسکی انگلی پکڑ کر نیچے کی تو وہ آنکھیں سکیڑ کر اسے دیکھنے لگی۔
“چلو اب اندر۔۔۔”
وہ ویسے ہی اسکی انگلی پکڑتا اندر کی طرف بڑھا تو عزہ اپنی انگلی اسکی گرفت سے آزاد کرواتی اسکے پیچھے چل دی۔
☆ ★ ✮ ★ ☆
آہستہ آہستہ مہمان اپنے گھروں کو چل دئیے مگر چند رشتے دار ابھی بھی گھر میں ہی موجود تھے۔ مہمانوں سے فارغ ہوتی وہ جیسے ہی کمرے میں آئی تو کباڑ خانہ دیکھتے اسکا دل کراہ کر رہ گیا۔
دوپٹہ اتار کر سائیڈ پر رکھتے اسنے بالوں میں کلپ لگایا اور کمرہ سمیٹنے لگی۔ یہ عزہ اور قرت کا کمرہ تھا مگر آج یہ اور دوسرے دو تین کمرے مہمانوں کے حصے میں آنے تھے۔
کچھ دیر بعد وہ پورے کمرے کی حالت سدھار چکی تھی۔ سارا میک اپ اور جیولری کو بیگ میں ڈال کر وہ اس کمرے کی طرف بڑھی جہاں عزہ، نِشہ اور قرت تھی۔
“یشل۔۔۔”
وہ اندر جانے ہی لگی تھی جب افہام کی آواز پر رک گئی۔
“ہاں جی۔۔۔۔؟”
اسنے رک کر سوال کیا تو افہام نے اسے اپنی طرف آنے کا اشارہ کیا۔
“کمرے میں کون کون ہے۔۔۔؟”
یَشل کے پاس جانے پر افہام نے سوال کیا۔
“کمرے کے باہر کھڑے ہوکر میں یہ کیسے بتا سکتی ہوں کہ کمرے کے اندر کون ہے۔۔۔”
یشل کی بات پر افہام نے خفگی سے اسے دیکھا۔
“کوئی کام ہے آپ کو۔۔۔؟”
وہ اسکے سوال کا مقصد اچھے سے سمجھ گئی تھی۔
“مجھے اپنی بیگم سے ملنا ہے۔۔۔ مِل وا دیں پیاری بہنا۔۔۔”
افہام نے معصوم سی شکل بنا کر اسے دیکھا تو یَشل نے آئی برو اچکائی۔
“ایسے ہی مل وا دوں؟ مجھے کیا ملے گا؟”
“حکم کرو کیا چاہیے۔۔۔”
“کیش۔۔۔۔”
یَشل نے ہتھیلی اسکے سامنے پھیلائی۔
“کتنا۔۔۔؟” افہام نے جیب سے والیٹ نکالا۔
“جتنا بھی اس میں ہے وہ سارا۔۔۔”
چند ہزار کے نوٹ نکلاتے افہام کا ہاتھ تھم گیا۔ اسنے صدمے سے اپنے سامنے کھڑی یَشل کو دیکھا۔
اسکے والیٹ میں اس وقت تقریباً پچیس ہزار تھے جو کچھ دیر پہلے ہی عدنان صاحب نے اسے رکھاوائے تھے۔۔
“ذرا زمیں پر آجاؤ۔۔۔ بیس روپے سمجھ میں آتے ہیں یہ بیس ہزار کیا ہوتا ہے۔۔؟”
افہام نے آنکھیں چھوٹی کرکہ یشل کو لتاڑا تو اسکا منہ کھل گیا۔
“بدتمیزی نہیں کریں میرے ساتھ۔۔۔”
اسنے افہام کو انگلی دکھائی تو افہام نے آئی برو اچکا کر اسے دیکھا۔
” اور تم جو میری جیب کاٹنے کا ارادہ کئیے ہو اسکا کیا؟”
“مرضی ہے آپ کی۔۔۔”
وہ کندھے اچکا کر دروازے کی طرف مڑ گئی۔
“یَشل یار۔۔۔کیوں ظلم کر رہی ہو۔۔؟”
یَشل نے رک کر مسکراہٹ دبائی اور چہرے سنجیدگی سجاتی اسکی طرف مڑی۔
“دیں پھر۔۔۔؟”
اس نے اپنا ہاتھ افہام کے سامنے کیا۔ دانت پیستے ہوئے ناچار اسنے دس ہزار یَشل کی ہتھیلی پر رکھے تو اسنے بھی ترس کھاتے باقی کے پیسے اسکے پاس ہی رہنے دئیے۔
“تمہارے میاں جی سے نکلواؤں گا وہ بھی ڈبل۔۔۔”
افہام نے والٹ واپس جیب میں رکھتے یشل کو اپنے ارادے سے آگاہ کیا۔
“وہ آپ کا اور میرے میاں جی کا آپس کا مسئلہ ہے۔ ڈبل نکلوائیں یا سنگل۔۔میری بلا سے۔۔”
وہ اترا کر کہتی اسکی سنے بغیر ہی کمرے کا دروازہ کھولتی اندر چلی گئی۔
“ارے۔۔۔کچھ بتا کر تو جاتی۔۔۔”
افہام چند لمحے اسکا انتظار کرتا رہا پھر کمرے کی طرف بڑھ گیا۔
“افہام بھائی تم سے ملنا چاہتے ہیں۔۔۔”
کمرے میں داخل ہوتے اسنے قرت کو دیکھ کر کہا۔
“کیوں۔۔۔۔؟”
یَشل کا دل کیا اسے ایک لگا دے۔
“رومینس کرنے کے لیے۔۔۔”
شیشے کے سامنے کھڑی انوشہ نے دبا دبا قہقہہ لگایا اور قرت نے تیز نظروں سے اسے گھورا۔
“میں پہلے کپڑے چینج کرلوں ویسے بھی نیچے جانا ہے۔۔۔”
نِشہ کی بات پر یشل نے سر ہلایا تو وہ الماری سے ایک سادہ جوڑا نکالتی چینج کرنے چلی گئی۔
“میں نے بھی چینج کرنا ہے۔۔۔”
قرت نے یَشل کی طرف دیکھا۔
“پہلے تمہارے مزاجی خدا تمہیں نظر بھر کر دیکھ لیں پھر کرلینا۔۔۔”
کچھ دیر بعد وہ نِشہ کے ساتھ کمرے سے باہر نکل گئی اور افہام کو مِس کال دینے کے ساتھ میسج بھی چھوڑ دیا۔
قرت بیڈ پر بیٹھی افہام کے بارے میں ہی سوچ رہی تھی جب دروازہ کھول کر وہ اندر داخل ہوا اور لاک کردیا۔
“عزہ تو نہیں ہے نہ۔۔۔؟”
اسنے واشروم کے دروازے کی طرف دیکھتے پہلا سوال کیا تو قرت نے سر انکار میں ہلایا۔
“بہت مہنگی پڑی ہے یہ ملاقات مجھے۔۔۔”
افہام اسکی طرف آتے ہوئے بولا تو قرت نے سوالیہ نظروں سے اسے دیکھا۔
“کیوں؟ کیا مطلب۔۔۔؟”
وہ اسکے قریب بیڈ سے نیچے ٹانگیں لٹکا کر لیٹ گیا۔
“دس ہزار لئیے ہیں یشل نے۔۔۔۔”
“کیا۔۔۔؟؟؟”
قرت کی آنکھیں حیرت سے پھیلی۔۔
“ہاں اِن فیکٹ۔۔۔وہ تو کہہ رہی تھی جتنے والٹ میں ہیں وہ سارے دیں پھر ترس آگیا اسے مجھ پر۔۔۔”
قرت چند لمحے ضبط کرتی اسے دیکھتی رہی پھر کمرے میں اسکے قہقہے گونجے تو افہام چونکا۔
“آپ پاگل ہوگئے ہیں کیا نکاح کی خوشی میں۔۔۔؟”
وہ ہنسنے کے درمیان بولی تو افہام خفیف ہوا۔
“مایوں میں تھوڑی نہ بیٹھی ہوں کہ آپ کو کوئی مجھ سے ملنے نہیں دے گا۔۔۔نکاح ہوگیا ہے آپ نشہ سے کہہ دیتے۔۔۔اوف افہام آپ کا مقابلہ کوئی نہیں کر سکتا۔۔۔بدھو بنا دیا آپ کو یَشل نے۔۔”
وہ ہنس کر بولتی ہوئی اتنی خوبصورت لگتی ہے کہ اس سے زیادہ حسین منظر دنیا میں کوئی ہو ہی نہیں ہوسکتا۔
ایسے جیسے۔۔۔ دنیا کی ساری خوشیاں اور رونقیں اسکے اندر سما گئی ہو۔۔۔وہ خاموشی سے اسے دیکھتا چلا گیا۔
“ارے۔۔۔ آپ نے مجھے نکاح کی مبارکباد بھی نہیں دی۔۔۔”
یاد آنے پر وہ فوراً بولی۔
“وہ دینا ضروری ہے کیا۔۔۔؟”
“ہاں تو اور۔۔۔؟”
اسنے ناک سکیڑی تو افہام سیدھا ہوا اور اسے دیکھنے لگا۔
“تمہیں پتا ہے۔۔۔ آج میرے پاس الفاظ ہیں ہی نہیں اپنی کیفیت اور خوشی بیان کرنے کے لیے۔ ایسا لگ رہا ہے جیسے میں نے دنیا فتح کر لی ہو۔۔۔”
وہ اسکے چہرے کے نقوش کو اپنی آنکھوں میں اترتا اسے اپنی کیفیت بتا رہا تھا جسے سن کر قرت کی مسکراہٹ گہری ہوتی جارہی تھی۔
“میری زندگی میں ہونے والا ایک بہت خوبصورت اضافہ ہو تم۔ نکاح مبارک ہو زوجہِ افہام۔۔”
افہام نے آگے ہوتے اسکے رخسار پر لمس چھوڑا تو قرت کے چہرے پر حیا کے رنگ بکھرے گئے۔ گھنی پلکوں کا جھالر لرزنے لگا۔
“آپ کو بھی مبارک ہو۔۔۔”
افہام نے نرمی سے اسے اپنے سینے میں بھینچ لیا۔
“افہام۔۔۔”
قرت نے چہرا اوپر کرتے اسے دیکھا جو آنکھیں بند کئیے سینے سے لگی اپنی محبت کو محسوس کر رہا تھا۔ اسنے آنکھیں کھولتے قرت کو دیکھا تو وہ اس کے سینے سے دور ہوتی دونوں بازو اسکی گردن کے گرد باند گئی اور اپنا چہرا اسکے کان کے قریب کیا۔
“مجھے آپ سے بےپناہ محبت ہے۔۔۔”
کان میں خوبصورتی سے سرگوشی کرتی وہ اسکے ماتھے پر اپنے لب رکھ گئی۔
~جاری ہے۔۔
