Muntazirat Hastam by Neha Imtiaz NovelR50532 Muntazirat Hastam (Episode 03)
Rate this Novel
Muntazirat Hastam (Episode 03)
Muntazirat Hastam by Neha Imtiaz
“یہ تمہارے منہ پر تیرہ کیوں بجے ہیں؟؟”
عزہ صحن میں بیٹھی تھی ہمیشہ کی طرح یہ عید بھی انتہائی بورنگ تھی۔ ہادی کی بات پر اُسنے بری سی شکل بناتے ہوئے اُسے دیکھا
“کچھ نہیں ہوا۔ تصویریں اچھی نہیں آرہی۔۔۔”
اب اُسے کیا بتاتی کہ وہ جِس کے لیے اتنا سج دھج کے تیار ہوئی تھی اُسنے تو شاید غور سے بھی اُسے نہ دیکھا تھا اور اُسکا محبت بھری نظروں سے یَشل کو دیکھنا عزہ کو کتنی آگ لگا گیا تھا
“مطلب شکل پر اتنا پینٹ لگانے کے بعد بھی اچھی تصاویریں نہیں آرہی؟ پلاسٹک سرجری کی ضرورت ہے پھر تو تمہیں لیکن اُسکے بعد بھی تمہارا اللّٰہ ہی حافظ ہوگا”
وہ مزاحیہ انداز میں بولتا اُسے اچھا خاصہ سُلگا گیا
“بکواس بند کرکہ دفاع ہوجاؤ یہاں سے۔۔۔”
وہ بغیر کسی لحاظ کے بولی تھی
“شرم کرلو پورا ڈیڑھ سال بڑا ہوں تُم سے”
اُسنے عِزہ کو شرم دلانے کی ناکام سے کوشش کی
“جی نہیں۔۔میں انتہائی بےشرم لڑکی ہوں”
وہ دانت پیس کر بولی۔ اُس کا دِل تو چاہ رہا تھا کہ سامنے کھڑے ہادی کو بھی ایسے ہی پیس دے جو بلاوجہ اُس کے حواسوں پر سوار ہورہا تھا
“تُم دونوں کبھی تو اپنی چپڑ چپڑ بند کردیا کرو ہر وقت چونچیں لڑانا ضروری ہوتا ہے کیا!”
انوشہ اُن دونوں کے پاس آتی ہوئی بولی وہ شاید اُن دونوں کی بک بک سُن چکی تھی
“یہ ہی فضول میں فری ہو کر گرمی میں دماغ خراب کر رہا ہے”
عِزہ ہادی کی طرف اِشارہ کرتی بولی تو وہ ڈھٹائی سے مسکرا دیا
“میں تو مذاق کر رہا تھا اِس نے ہی تیوری چڑھا رکھی ہے”
وہ اُسکی کسی بھی بات کا بُرا مانے بغیر بولا تھا
“ویسے ہادی غلط نہیں بول رہا۔ ایٹلیسٹ عید کے دِن تو بندہ موڈ ٹھیک رکھتا ہے”
“اِس گھر کے لوگ موڈ ٹھیک رکھنے دیں تب نہ!”
وہ تنک کر بولی تو دونوں نے حیرت سے اُسے دیکھا
“اب کِس نے ایسا کیا اور کیوں کہہ دیا تمہیں؟”
ہادی نے کرسی کی باہنی پر کہنی جما کر مٹھی کنپٹی پر رکھی
“کسی کا کچھ نہ کہنا بھی کافی ہوتا ہے”
عِزہ کی بات پر ہادی اور نِشہ نے ایک دوسرے کو اور پھر عجیب نظروں سے اُس دُکھی آتما کو دیکھا۔ اُسکی شکل دیکھ کر ہادی نے بامُشکل ہنسی روکی۔
☆ ★ ✮ ★ ☆
“تُم مجھ سے مِلنے کیوں نہیں آئی ؟ گھر نہ آتی باہر ہی کہیں مِل لیتے۔۔”
آمنہ روٹھے ہوئے انداز میں کال پر عزہ سے بولی
“میں نے کہا تو تھا کوشش کروں گی لیکن یار۔۔۔شکیل انکل نے آنا ہے ماما اور عدنان ماموں کے کزن تو میں نہیں آسکتی تھی۔۔ہم کل مِل لیں گے کہیں”
“کیا مطلب ہے کہ ‘کہیں’ مِل لیں گے؟؟ گھر آرہی ہو تُم میرے کل”
آمنہ نے جیسے اُس پر حکم جاری کیا۔۔
“آمنہ۔۔میں کبھی تمہارے گھر نہیں آئی عجیب لگ رہا مجھے تمہارے گھر آنے کا سوچ کر ہی۔۔ باہر مِلنے میں کیا بُرائی ہے؟”
عزہ واقعی کبھی اُس کے گھر نہیں گئی تھی ہلانکہ آمنہ چار سال سے اُس کی دوست تھی آمنہ کافی بار اُس کے گھر آئی تھی مگر وہ کبھی نہیں گئی تھی اگر وہ آمنہ سے ملنے جاتی بھی تھی تو اُسکے گھر کے قریب ہی موجود پارک میں وہ دونوں مِل لیتی تھی آمنہ کے بہت فورس کرنے کے باوجود بھی اُسکے گھر نہ جاتی
“عزہ تم فکر نہیں کرو ہم آدم خور نہیں جو تمہیں کھا جائیں گے۔۔”
آمنہ سیریس لہجے میں بولی تو عزہ ہنس پڑی
“دانت نہیں نِکالو کل شرافت سے گھر آؤ میرے۔۔”
آمنہ نے بول کر فوں بند کردیا تو عزہ سوچ میں پڑ گئی کیونکہ اُسے صبیحہ نے سرسری سا بتایا تھا کہ کل شاید سکینہ آئے گی۔۔۔
☆ ★ ✮ ★ ☆
شام سات بجے قِرت کی آواز پر اُسکی نیند میں خلل پیدا ہوا آدھے گھنٹے کے لیے آنکھ لگ گئی تھی۔۔ وہ اُٹھی بالوں کو کنگی کی مٹے مٹے میک اپ کو ٹچ اپ دیا اور قِرت کے ہمراہ کمرے سے نِکل آئی۔
وہ حال میں داخل ہوئی تو عدنان صاحب کے کزن شکیل صاحب اپنی فیملی کے ساتھ آگئے تھے وہ سب سے ملتی عزہ اور نِشہ کے درمیان جا بیٹھی۔ اُس کے بیٹھتے ہی عزہ نے اپنی جگہ تبدیل کی جو یَشل نے نہ سہی لیکن ارمغان نے اچھے سے نوٹ کیا تھا۔۔
شکیل اور مسسز شکیل کی ایک بیٹی جو قرت سے ایک سال پڑی تھی جبکہ دو بیٹے تھے ایک شادی شدہ اور دوسرا لگ بھگ تئیس سال کا تھا اور وہ اِس وقت اپنی نئی نویلی بہو کے ساتھ اُن کے گھر موجود تھے۔۔ کچھ دیر تک باتیں ہوتی رہی پھر لڑکیوں نے مِل کر کھانا لگایا تو وہ سب کھانے کی میز کی طرف آگئے
قِرت عزہ کے ساتھ ہلکی آواز میں باتیں کرتی کھانا کھا رہی تھی جب خود پر نظروں محسوس ہوئی۔ سب سے پہلے اُس نے افہام کی طرف دیکھا جو کھانا کھاتا ہوا شکیل صاحب سے کچھ بات کر رہا تھا۔ افہام سے نظر سرکتی ہوئی شکیل صاحب کے بیٹے عبداللہ پر گئی جو کھانا کھاتے ہوئے اُسے دیکھا رہا تھا۔ پھر قِرت کے دیکھتے پر ہلکی سے سمائل پاس کی۔ قِرت اُس پر سے نظر ہٹا گئی اور خاموشی سے کھانا کھانے لگی مگر وہ وقفے وقفے سے اُسے گھور رہا تھا تو وہاں بیٹھ کر کھانا کھانا اُسکے لیے محال ہورہا تھا
اُسکی آنکھوں میں خباثت نہیں تھی نہ ہی وہ بُری نظر سے اُسے دیکھ رہا تھا بلکہ اُسکی آنکھوں میں نرم تاثر تھا جیسے قِرت اُسے پہلی نظر میں ہی اچھی لگی ہو لیکن قِرت کو الجھن ہوئی تھی۔









عید کا دوسرا دِن تھا۔ تھکن کی وجہ سے سب ہی رات جلدی سوگئے تھے اِس وقت صبح کے نو بج رہے تھے جب یَشل نیند سے بیدار ہوئی۔ آنکھیں مسلتی وہ اُٹھ بیٹھی کھڑکیوں پر بھاری پڑدوں کے باعث کمرے میں ہلکی روشنی تھی۔ ٹائم دیکھ کر اُسنے دوبارا سونے کی کوشش کی کہ اُسے کونسا کہیں جانا تھا البتہ عطیہ نے اُسے بتایا تھا کہ آج بھی مہمانوں نے آنا ہے تو وہ دوبارا لیٹ گئی مگر نیند اُس پر غالب نہ آئی۔ وہ اُٹھی اور فریش ہونے واشروم چلی گئی فریش ہوکر وہ کمرے سے باہر آگئی آدھی سیڑھیاں اُتر کر جھانکنے لگی باہر کوئی نہ تھا کچن کی لائٹ بھی اوف تھی اوپر آکر اپنے لیے چائے بنانے لگی۔ چائے کا پانی رکھا ہی تھا جب ارمغان کا میسج آیا
”میرے لیے بھی چائے بنا دینا۔۔”
میسج پرھ کر اُسنے پلٹ کر پیچھے دیکھا۔ ارمغان کے کمرے کا آدھا دروازہ کھلا ہوا تھا یعنی وہ جاگ رہا تھا اور اُسے دیکھ چکا تھا۔ چائے رکھتے اُس نے فون اٹھایا اور آبی کا نمبر ڈائل کرنے لگی لیکن کال نہ اُٹھائی گئی
”اوفففف۔۔۔کبھی بھی میرے کال پک نہیں کرتی نہ ہی آبی اور نہ ہی ماما”
بڑبڑاتی ہوئی فریج سے بریڈ نِکانے لگی۔ منہ سے نکلنے والے الفاظ پر ایک پل کے لیے ہاتھ رُکے تھے اور ایک سیکنڈ لگا تھا اُسکی آنکھوں کے آگے دھندہ چھا گئی۔ گہرا سانس لے کر اُسنے خود کو نارمل کیا تبھی عزہ کچن میں داخل ہوئی
”کیا کر رہی ہیں آپ۔۔۔”
عزہ نے سلیب پر بیٹھتے ہوئے کہا
”ناشتہ بنا رہی اپنے اور ارمغان کے لیے۔۔تُم کچھ کھاؤ گی ؟”
یَشل نے مصروف انداز میں کہا جبکہ ارمغان کا نام سُن کر عزہ کے ماتھے پر ایک دو بل نمودار ہوئے
”ارمغان؟؟ اتنی صبح اُن کو ناشتہ دینے کے لیے اُٹھی ہیں آپ؟”
عزہ چاہ کر بھی لہجہ نارمل نہ رکھ سکی
”بلکل ٹھیک کہہ رہی ہو عزہ اتنی صبح یَشل اسپیشلی میرے لیے اُٹھی ہے”
ارمغان کی آواز پر یَشل اور عزہ دونوں نے ہی دروازے کی طرف دیکھا تھا۔ ارمغان کی طنزیہ انداز میں کہی گئی بات پر عزہ کو ہلکی سی شرمندگی ہوئی جبکہ یَشل نے آنکھیں سُکیڑ کر اُسے دیکھا
”اتنے بھی اچھے نہیں ہو اب تُم کہ تمہارے لیے ناشتہ بناؤں میں “
وہ ارمغان کی خوش فہمی دور کرتی ہوئی بولی اور عزہ کی طرف دیکھا
”میری تو ویسے ہی آنکھ کھُل گئی تھی تو اپنے لیے چائے بنا رہی تھی پھر ارمغان نے کہا تو اُس کے لیے بھی بنا دی۔۔ تُم نے بتایا نہیں کچھ کھاؤ گی تو میں بنا دیتی۔۔”
یَشل نے سِرے سے ہی عزہ کے تاثرات نوٹ نہ کیے اور نارمل انداز میں بولی تو عزہ نے قریب پڑی بوتل میں سے پانی گلاس میں انڈیلا
”نہیں بس ایک ٹوسٹ کھاؤں گی میں۔۔”
وہ پانی کا گِلاس منہ سے لگاتی ہوئی بولی اور پانی کے ساتھ ساتھ اپنی جیلسی بھی پی کر رہ گئی۔۔۔
—————-
—————-
وہ کمرے میں ہی بیٹھی تھی آبی سے بات کر کے کچھ دیر پہلے ہی کال بند کی تھی شیشے میں خود کو ایک نظر دیکھتی دروازے کی طرف بڑھی لیکن دروازہ کھول کر اندر آنے والی ہستی کو دیکھتے ہی جیسے اُسکے قدم زمین کے ساتھ چپک گئے وہ حیرت سے اندر آتی سکینہ کو دیکھ رہی تھی جس کے چہرے پر مسکراہٹ تھی سکینہ آگے آتی اُسے اپنے سینے سے لگا گئی لیکن یَشل ہوش میں آتی اُسے سے دور ہوئی
”آپ یہاں کیا کررہی ہیں”
وہ بغیر کسی تاثر کے بولی تھی
”میں اپنی بچی سے ملنے آئی ہوں۔۔۔”
وہ اُسکا چہرا چھوتے ہوئے بولی تو وہ مزید پیچھے ہوئی
”اوہ۔۔۔تو یاد آگیا آپ کو کہ آپ کی ایک عداد بیٹی بھی ہے”
اُسنے طنز کا تیر چلایا تھا جو سکینہ کے دِل پر لگا تھا اور آنکھوں میں نمی پھیلا گیا تھا
”تمہیں کیسے بھول سکتی ہوں۔۔میرے جگر کا ٹکرا ہو تُم تو”
وہ بھرائی ہوئی آواز میں بولی تو یَشل نے ہنکار بھرا اور بیڈ پر بیٹھ گئی
”واقعی اتنی عزیز ہوں میں آپ کو؟ اپنا جگر کا ٹکڑا خود سے جدا کرتے تکلیف نہیں ہوئی آپ کو؟ کیوں ہوگی بھلا؟ مجھے دور کر کہ بیٹا جو مِل گیا”
سکینہ کی آنکھوں میں آنسو دیکھ کر اُسکا دِل کٹ گیا تھا۔ اُسنے خود کو رونے سے روکا وہ کمزور نہیں پڑنا چاہتی تھی۔ دنیا کے لیے نرم دِل رکھنے والی یَشل کے دل میں اپنی ماں کے لیے اتنی سختی تھی کوئی نہیں جانتا تھا۔ وہ خود کو سخت اور غلط الفاظ استعمال کرنے سے روکے ہوئے تھی۔
”ایسی بات نہیں ہے یَشل۔۔ میں مجبور تھی میں شوٹ پر ہوتے ہوئے تمہاری حفاظت نہیں کر سک۔۔”
یَشل نے سکینہ کی بات کاٹی
”حفاظت کی بات تو نہ ہی کریں آپ۔۔اپنی اِکلوتی بیٹی کے لیے اداکری نہیں چھوڑ سکتی تھی آپ ؟ جانتی ہیں وہ شخص کِس طرح ہاتھ لگاتا تھا مجھے؟”
آخری بات بولتے ہوئے بہت کنٹرول کے باوجود آنکھوں سے آنسو نِکلا اور آواز اونچی ہوئی تھی وہ اُس وقت چھوٹی تھی مگر وہ دھندھلے سے لمحے یاد تھے اُسے ابھی بھی۔ اُس وقت تو وہ معصوم تھی مگر بڑھتی عمر کے ساتھ سب سمجھ آیا تھا اُسے۔دروازے سے اندر آتا شخص اُسکی بات سُن کر دروازے کے باہر ہی رُک گیا جبکہ سکینہ نے قرب سے آنکھیں بند کی تھی۔ وہ کیسے سُن سکتی تھی یہ سب
”آپ نے میرے لیے کِیا ہی کیا ہے؟ اپنی سگی اولاد کے لیے اپنا کام نہیں چھوڑ سکتی تھی آپ لیکن کسی اور کی اولاد کے لیے چھوڑ دیا کیونکہ اُسے آپ کی توجہ کی ضرورت تھی؟ ہنہہ۔۔اُس کے پاس تو باپ تھا میرے پاس کون تھا؟ آپ میرے ساتھ کیوں زیادتی کر گئی؟”
اُسکا لہجہ کتنا ٹوٹا ہوا تھا کتنا قرب تھا کوئی بھی بآسانی اُسکے درد اُس کی تکلیف کا اندازہ لگا سکتا تھا۔ سکینہ کا وجود اُس کی باتیں سُن کر پتھر ہی تو ہوگیا تھا۔ وہ حقیقت ہی تو تھی جِس سے سکینہ بھاگتی آرہی تھی وہ تلخ حقیقت جو اُسکا سکون اُسکی نیند برباد کیے ہوئے تھی
دروازے کے باہر کھڑے شخص نے اُس کی آواز میں حد سے زیادہ تکلیف محسوس کی تھی اور ذہن میں صرف ایک سوال اُٹھا تھا
”آخر اُس لڑکی کی کیا غلطی تھی؟”
مگر کوئی جواب نہ مِلا
”یَشل۔۔مجھے معاف کردو میری بچی میں جانتی ہوں تمہارے ساتھ بہت غلط کیا ہے میں نے۔ تُم سے دور ہوکر ایک ایک رات عذاب میں گزاری ہے میں نے مجھے اِس مشکل سے نِکال دو اپنی ماں کے لیے دل صاف کردو”
سکینہ نے بےاختیار ہی اُس کے آگے ہاتھ جوڑے تھے جنہیں یَشل نے پکڑ لیا۔ وہ یَشل کو گنہگار بنا رہی تھی سکینہ کے رونے میں شدت آئی تھی جِسے محسوس کرتا وہ اندر داخل ہوا۔ بیشک یَشل کی تکلیف زیادہ تھی مگر اپنی ماں کو روتا ہوا ہرگِز نہیں دیکھ سکتا تھا۔ آہٹ پر یَشل نے مڑ کر دیکھا رائد کو کھڑا دیکھ کر چہرا دوسری طرف کیا آنسو صاف کرتی وہ اُٹھ کھڑی ہوئی
”دروازہ ناک کرنا نہیں سکھایا تمہیں کسی نے؟”
یَشل کو رائد کا بغیر ناک کیے منہ اُٹھا کر کمرے میں آجانا ناگوارہ گُزرا تھا وہ تلخ ہوئی تھی۔ اپنی ماں سے نظر ہٹاتے اُسنے یَشل کی طرف دیکھا تھا
سادہ رایل بلیو کلر کی لمبی کمیز پر بھاری کام دار ہم رنگ دوپٹہ کندھے پر رکھا ہوا تھا۔ آدھے بال کیچر میں قید تھے چند لمبی لٹھیں چہرے کے آگے جھول رہی تھی سرخ ناک اور روئی ہوئی نم آنکھیں اور ماتھے پر دو بل۔۔
”واللّٰہ کیا کشش تھی کہ مت پوچھیے صاحب
مجھ سے یہ دل لڑ پڑا، مجھے یہ شخص چاہیے“
ہاں۔۔ یَشل ریحان اُسے خوبصورتی کا منہ بولتا ثبوت لگی تھی۔ اُسے تو لگتا تھا وہ صرف تصویروں میں پیاری لگتی ہے وہ بھی میک اپ کر کہ لیکن وہ غلط تھا کیونکہ وہ حقیقت میں تصویروں سے بھی زیادہ حسین تھی وہ ایک لمحہ اُسکے دِل و دماغ میں نسب ہوگیا تھا
”اب ایسے کیا آنکھیں پھاڑ کے دیکھ رہے ہو؟”
یَشل کو مزید غصہ آیا تھا۔ رائد ہوش میں آیا
”زیادہ اوور ہونے کی ضرورت نہیں ہے اتنی بھی خوبصورت نہیں تُم۔ تمہیں دیکھنے سے بہتر ہے میں اندھا ہوجاؤں”
وہ تڑخ کر بولتا ہوا سکینہ کی طرف بڑھا جبکہ یَشل نے رائد کے منہ سے ہوئی اپنی تزلیل پر مٹھیاں بھینچی
”میری بلا سے تُم ہوجاؤ اندھے کونسا دُنیا پر احسانِ عظیم کررہے تُم اپنی آنکھوں سے”
”چلو مان لیا میں احسان نہیں کر رہا لیکن تُم کر رہی ہو کیا؟نہیں نہ! تو تم مرجاؤ کسی کو فرق بھی نہیں پڑے گا”
یَشل کی بات پر اُسے بھی غصہ آیا تھا اور اپنا غصہ ضبط کرنے کی اُس نے ذرا کوشش نہ کی تھی
”کیوں مرجاؤ میں ؟ میری طرف سے تُم اور تمہارے جیسی دوسری چھ سات شکلیں بھی مر جائیں تو اچھا ہوگا اور مت بھولو کے اِس وقت تُم میرے کمرے میں میرے ماموں کے گھر میں موجود ہو تو اپنی فضول کی باتیں اپنے تک رکھو اور تمیز کے دائرے میں رہو تمہارے جیسے جاہل کے منہ لگنا گوارا نہیں مجھے”
یَشل اچھے طریقے سے اُس کی طبیعت صاف کرتی کچھ کہنے کا موقع دیے بغیر کمرے سے واک آؤٹ کر گئی۔ رائد کا چہرا بےعزتی اور غصے کے احساس سے سُرخ ہوا تھا اُسنے سکینہ کی طرف دیکھا جو پہلے تو رو رہی تھی مگر اب اُسکے چہرے پر حیرت کے آثار تھے۔ وہ یَشل سے معافی مانگنے آئی تھی لیکن ایک پل میں یہ کیا ہو گیا تھا؟
”مجھے ایسے مت دیکھیں ماما۔۔ دیکھا نہیں آپ نے اُسے کتنی بدتمیزی کر کہ گئی ہے میرے ساتھ؟ ذرا تمیز نہیں اُسے بڑوں سے بات کرنے کی”
رائد بولتا ہوا سکینہ کے ساتھ بیٹھ گیا وہیں جہاں کچھ دیر پہلے یَشل بیٹھی ہوئی تھی
”بڑوں سے؟؟ بڑی ہے وہ تُم سے میں نے تُم سے کہا بھی تھا کہ کچھ مت کہنا اُسے تُم نے کیوں پنگا لیا”
سکینہ نے اپنے بیٹے کو گھورا جو یَشل سے بےعزت ہوکر اب سکون سے بیٹھا ہوا تھا
”مجھ سے بڑی ہے وہ ؟”
شاک ہی تو لگا تھا اُسے۔ وہ نارمل قد والی پتلی سی لڑکی اُسے نین نقش سے چھوٹی ہی لگتی تھی۔۔
”ہمم دو، تین ماہ کا فرق ہے”
سکینہ نے آنسو پونچھتے ہوئے کہا
”کیا فرق پڑتا ہے دو تین ماہ سے۔۔فضول لوگوں کی فضول باتوں پر غصہ نہیں کنٹرول ہوتا مجھ سے”
سکینہ نے گھور کر اُسے دیکھا اور کچھ بولنے ہی لگی تھی جب وہ دوبارا بولا
”ہاں ہاں مجھے پتا ہے کہ مجھے دروازہ ناک کرنا چاہیے تھا میں بچہ نہیں ہوں کہ منہ اُٹھا کر کہیں بھی گھس جاؤں اور یہ بھی جانتا ہوں کی بیٹی سے مِلنے پر پارٹی بدل چکی ہیں آپ”
رائد آنکھیں گھُما کر بولتا ہوا اُٹھا تو سکینہ نے اُسے کندھے پر تھپڑ مارا
”شرم کرو رائد۔۔۔”
”اچھا روئیں تو نہیں نہ آپ”
رائد نے سکینہ کو دوبارا رونے کی تیاری کرتے ہوئے دیکھا تو کندھے کے گرد بازو حائل کرتا سینے سے لگا گیا
—————-
—————-
وہ کمرے سے نِکلتی سیدھا ارمغان کے کمرے کی طرف آئی تھی کمرے میں کوئی نہ تھا وہ صوفے پر بیٹھ گئی اور ارمغان کو کال کرنے لگی لیکن کال پک نہ کی گئی تبھی کمرے میں ہادی داخِل ہوا
“ارے۔۔یَشل کیا ہوا کیوں رو رہی ہو۔۔”
ہادی نے اُسکی نم آنکھیں دیکھتے سوال کیا تو یَشل نے نظریں چُرائی
“نہیں بس لینسز اُلجھن کر رہے ہیں یار وہی نکالنے کی کوشش کر رہی تھی۔۔بھائی کہاں ہے تمہارا”
“بھائی ؟ ارمغان بھائی۔۔وہ تو شاید نیچے ہیں تُم کیوں نہیں گئیں ؟ سکینہ پھپھو آئی ہیں مِلی اُن سے ؟”
ہادی کے سوال پر وہ خاموش ہوگئی
“نیچے ہی جارہی میں تُم فری ہو تو پلیز پانچ منٹ بعد مجھے دوست کے گھر چھوڑ آؤ”
یَشل بولتی ہوئی کمرے سے نِکل گئی پیچھے ہادی حیران سا اُسے جاتا دیکھنے لگا
“مفت کا ڈرائیور بن گیا ہوں میں تو۔۔اِس بہتر ہاسٹل میں ہی عید کرلیتا”
ہادی منہ بناتا بیڈ پر گِر گیا
—————-
—————-
“پِک بھی کرنا ہے کیا تمہیں؟”
یَشل نے اُسے ایڈرس سمجھایا تو وہ اُس سے پوچھنے لگا
“پتا نہیں میں تمہیں میسج یا کال کر کہ بتا دوں گی یا پھر ارمغان سے کہہ دوں گی”
“ویسے۔۔ارمغان بھائی کے ساتھ کیوں نہیں آئی؟”
ہادی نے ایک نظر اُس پر ڈالتے ہوئے سوال کیا
“تمہارا بھائی سارے راستے میرا دماغ کھاتا رہتا امی کے بارے میں پوچھ پوچھ کے۔ تُم کیوں رو رہی ہو؟ پھپھو سے کیا بات ہوئی تمہاری؟ اور پھر لیکچر بھی دے دیتا۔۔”
اُس کی بات پر ہادی مسکرا دیا یعنی وہ واقعی رو رہی تھی اور اِس بات کا اقرار خود ہی اُس نے انجانے میں کیا تھا
“تو تم اتنی تنگ ہو میرے بھائی سے؟”
“ایسی ویسی۔۔”
وہ دونوں ہی ہنس دیے۔ ہادی نے گھر کے باہر گاڑی روکی تو وہ “اللّٰہ حافظ” بولتی اندر چلی گئی
وہ نیچے جاکر سب سے ملی تو اُسے ارمغان نظر نہ آیا۔ عدنان عطیہ اور صبیحہ کے منع کرنے کے باوجود وہ آگئی یہ کہہ کر کہ اُسکی سکینہ سے بات ہوگئی ہے اور ڈیڑھ گھنٹے تک وہ واپس آجائے گی۔ وہ بیرونی دروازے سے نِکل رہی تھی جب ارمغان اندر آرہا تھا اُس نے کہا بھی کہ وہ چھوڑ آتا کے لیکن یَشل نے انکار کیا اور ہادی کے ساتھ آگئی
—————-
—————-
“کیا بات ہوئی تمہاری یَشل سے؟”
عدنان صاحب کے سوال پر سب نے اُن کی طرف دیکھا۔ حال میں اِس وقت سب بڑے موجود تھے اور عادِل بھی کچھ دیر پہلے ہی آیا تھا۔ وہ سب یہاں وہاں کی باتیں ہر رہے تھے جب عدنان نے سوال کیا
“کچھ خاص نہیں۔ ہمیشہ کی طرح اِس بار بھی میں اُس کا دِل صاف کرنے میں ناکام رہی ہوں”
سکینہ افسردہ ہوتی ہوئی بےبسی سے بولی
“میں نے پہلے ہی کہا تھا اُس کا دِل اتنی آسانی سے صاف نہیں ہوگا۔ وہ بہت مشکل وقت سے گزری ہے چھوٹی عمر سے ہی وہ تم سے بدگُمان ہے اب تم اچانک اُس کے پاس آکر اُس کو منانے لگ جاؤ اور وہ مان جائے؟ ایسا نہیں ہوتا سکینہ “
عادِل نے نرمی سے سکینہ کو بولا۔ وہ یہاں آنے سے پہلے بھی سکینہ کو سمجھا چُکا تھا کہ جتنا آسان وہ اِس چیز کو سمجھ رہی اتنی آسان نہیں ہے۔۔
“سکینہ۔ تُم یَشل سے تھوڑی بہت یہاں وہاں کی باتیں کرو اُسے جاننے کی کوشش کرو اُسکا دِل اپنے لیے نرم کرو اُسے احساس دِلاؤ اپنی محبت کا آہستہ آہستہ اُسکا دِل خود ہی صاف ہونے لگے گا”
عطیہ نے بھی اپنی طرف سے سکینہ کو سمجھانے کی کوشش کی جس کے چہرے پر دکھ واضح تھا
“لیکن بھابھی۔۔ وہ اپنے رویے سے میرا دل چیر کے رکھ دیتی ہے ترس گئی ہوں میں اُسکا نرم لہجا سُننے کے لیے ایک سیکنڈ بھی وہ مجھ سے نارمل ہوکر بات نہیں کرتی میں کیسے یہ سب برداشت کروں؟ چلو پہلے تو وہ بچی تھی مگر اب تو بڑی ہوگئی ہے ابھی تک اتنی بدگمان ہے “
“یہی تو بات ہے کہ پہلے وہ بچی تھی ذہن اُسکا بچوں والا تھا تو وہ تُم سے دور ہوگئی لیکن اب وہ مچیور ہوگئی اور اب وہ ہر چیز کو اپنی نظر سے دیکھ رہی۔ اور دیکھا جائے تو وہ اپنی جگہ بلکل ٹھیک ہے یَشل کو جب جب تمہاری ضرورت تھی تب تُم اُسے کے پاس نہیں تھی اور پھر اُس کے حصے کا پیار رائد کو دینا۔ یَشل کی جگہ کوئی بھی ہوتا تو اِس ناانصافی پر ایسا ہی رئیکٹ کرتا۔ بیشک ہم سب اُسے کے پاس تھے کسی چیز کی کمی نہ ہونے دی اُسے مگر سگے ماں باپ کے لمس کی بات الگ ہوتی ہے”
عدنان صاحب اپنی بہن کو دیکھتے ہوئے بولے تو سکینہ پھر سے ضبط کھو بیٹھی عادِل نے اُس کے گرد بازو حائل کیے اور آنسو صاف کرنے لگا
“پھپھو جان۔۔کیوں رو رو کر خود کر ہلکان کر رہی ہیں؟ اللّٰہ نے چاہا تو انشاءاللّٰہ وہ سمجھ جائے گی اور سب ٹھیک ہو جائے گا اُسے تھوڑا وقت دیں پلیز”
ارمغان حال میں داخل ہوا اور سکینہ کو روتا دیکھ کر اُس کی دوسری جانب بیٹھ گیا اُسکا ہاتھ پکڑتے اُسے حوصلہ دینے لگا
“تُم سمجھانا اُسے۔۔تمہاری بات ضرور مانے گی”
سکینہ نے آہستگی سے بھرائی ہوئی آواز میں کہا تو ارمغان کھل کر مسکرایا
“فِکر مت کریں آپ یَشل تو پاگل ہے۔۔۔اچھا بھئی کتنا عجیب ماحول ہوگیا کے اٹھیں باہر چلیں فوٹو شوٹ ہوجائے تھوڑا اتنے عرصے بعد آئی ہیں آپ ۔۔”
ارمغان بولتا ہوا جگہ سے اٹھا اور سکینہ کو بھی اٹھایا. وہ سب باہر صحن میں چلے آئے۔۔
“اللّٰہ حافظ۔۔ زندگی رہی تو پھر ملاقات ہوگی”
رائد ارمغان ہادی اور افہام سے بغلگیر ہوتا ہوا بولا۔ اُس کا جتنا بھی ٹائم یہاں گزرا وہ اُن تینوں کے ساتھ ہی گزرا تھا اور کافی اچھا گزرا تھا البتہ ارمغان کی انکھوں میں یَشل کے لیے پریشانی اُسے کافی کچھ سمجھا گئی تھی
“سکینہ آج رات رُک جاتی تو کیا ہوجاتا؟ اتنے عرصے بعد آئی ہو وہ بھی صرف تین چار گھنٹے کے لیے”
صبیحہ کے لہجے میں شکوہ محسوس کرتے سکینہ اور عادِل مسکرا دیے
“بلکل ٹھیک بول رہی ہیں ماما۔۔ کتنے زیادہ عرصے بعد آئی ہیں آپ وہ بھی صرف چند گھنٹوں کے لیے۔۔۔”
نِشہ نے بھی شکوہ کیا
“ہم ضرور رُکتے مگر عادِل کے بھائی کی طرف جانا ہے بہت اصرار کر رہے وہ اتنی دفع کال کر چکے ہیں کچھ دِن بعد اُنکی لنڈن کی فلائیٹ ہے۔۔اور دو دن بعد کراچی واپسی ہے ہماری بھی تو جانے سے پہلے میں ملنے آجاؤں گی”
سکینہ بولتی ہوئی سب سے ملی۔۔۔
“یَشل کا انتظار تھا مجھے تو لیکن شاید وہ تب تک گھر نہیں آئے گی جب تک میں یہاں ہوں۔۔۔”
سکینہ انگلیوں کے پوروں سے آنکھوں کے کونے صاف کرتی ہوئی بولی تو عدنان نے اپنی بہن کو سینے سے لگایا
“پریشان مت ہو سب ٹھیک ہو جائے گا”
وہ اُسکا سر تھپکتے ہوئے بولے تو سکینہ نے سر ہلایا اور الوداعی کلمات ادا کرتی وہ روانہ ہوگئی
—————-
—————-
صبیحہ کمرے میں آئی تو عزہ پہلے ہی اُن کے انتظار میں بیٹھی ہوئی تھی اُن کو دیکھتے بیڈ سے اُٹھ کھڑی ہوئی تو صبیحہ نے سوالیہ نظروں سے اُسے دیکھا اور خود جاکر صوفے پر بیٹھی
“ماما۔۔مجھے آمنہ کے گھر جانا ہے میں چلی جاؤں؟”
“اِس ٹائم جاؤ گی تو واپس کب آؤ گی کل چلی جانا”
صبیحہ کی بات سن کر عزہ نے منہ بنایا
“ماما نہیں نہ آج ہی جانا ہے وہ پہلے ہی بہت زیادہ ناراض ہورہی مجھ سے مجھے پتا ہے کل کے دِن بھی آپ سب نے کسی کے گھر چلے جانا”
وہ بول ہی رہی تھی جب انوشہ کمرے میں داخل ہوئی
“کیا ہوا کِس کے گھر جانا ہے کل “
نِشہ صبیحہ کے ساتھ بیٹھی تو انہوں نے اُسے سینے سے لگایا
“یہ تو نہیں پتا لیکن آج مجھے آمنہ کے گھر ضرور جانا ہے اور ماما منع کر رہی ہیں”
عزہ نے نِشہ کو اپنی سائیڈ کرنے کی کوشش کی
“کیوں نہیں جانے دے رہی ہیں۔۔کونسا کہیں باہر مِلنا ہے گھر ہی جارہی تو ٹھیک ہے نہ”
نِشہ نے ہمیشہ کی طرح اُسکا ساتھ دیا اور صبیحہ کے پاس سے اُٹھ کر بیڈ پر نیم دراز ہوئی
“ارے بھئی میں نے تو ویسے ہی بولا کہ کل چلی جانا۔۔ جاؤ بھئی جاؤ افہام سے کہہ دو چھوڑ آئے گا اور واپس کب تکہ آؤ گی؟”
صبیحہ کی اجازت پر عزہ کھل کر مسکرا دی
“پہلے جانے تو دیں اتنی جلدی وہ مجھے آنے تو نہیں دے گی اور فکر مت کریں اُس کے گھر سے کہیں نہیں جاؤں گی میں”
عزہ بولتی ہوئی کمرے سے نِکل گئی۔ صبیحہ نے سر نفی میں ہلایا
“صرف بلاوجہ کی باتیں کرتی ہے یہ لڑکی”
“سیمسٹر کب ختم ہو رہا تمہارا۔۔”
صبیحہ کے سوال پر نشہ نے اُنکی طرف دیکھا
“دو تین ماہ ہیں ابھی۔۔کیوں کیا ہوا؟”
“ویسے ہی۔۔ایک دو رشتے ہیں نظر میں تمہارے لیے۔۔”
“کیااااااا”
صبیحہ جتنے سکون سے بولی اُتنا ہی زور کا کرنٹ نِشہ کا لگا تھا وہ جھٹکا کھا کر اُٹھ بیٹھی
“امی؟؟ میرے رشتے کیوں دیکھ رہی ہیں آپ”
انوشہ صدمے سے بولی تو صبیحہ بیگم کے ماتھے پر بل آئے
“کیا مطلب ہے؟ میں رشتے نہیں دیکھ رہی رشتے خود آ رہے اور ایسی کون سی انوکھی بات ہے ہر لڑکی کے اِس عمر میں رشتے آتے ہیں کوئی بُرائی تو نہیں ہے اِس میں۔۔”
صبیحہ کی بات سن کر نشہ کا دِل چاہا اپنا ماتھا پیٹ لے
“آتے ہونگے لڑکیوں کے رشتے مگر فلحال مجھے کسی رشتے یا شادی میں دلچسپی نہیں۔۔”
“ارے تو میں کونسا کل تمہاری شادی کر رہی،،ہیں؟ ظاہر ہے رشتہ آئے گا جان پہچان ہوگی وہ لوگ پسند آگئے تو منگنی کی رسم ہوگی پھر تمہاری پڑھائی مکمل ہونے کے دو تین ماہ بعد سوچیں گے کچھ”
نشہ نے حیرت سے صبیحہ کو دیکھا۔ مطلب وہ ساری پلیننگ کیے ہوئے تھیں۔
“ماما ایسا کچھ نہیں ہو رہا۔۔نہ ابھی اور نہ ہی پڑھائی کے دو تین ماہ بعد بس مجھے مزید کچھ مت بولیے گا پہلے بھائی کی شادی تو کریں اور مجھے ماسٹرز کرنا ہے ملک سے باہر جانا ہے”
نِشہ نے انہیں اپنے اِرادے سے آگاہ کیا
“ہاں ہاں دونوں بہن بھائی ایک جیسے ہو نہ وہ مان رہا نہ تُم مان رہی پتا نہیں کیسی اولاد ہے میری کے ماں کی خواہش بھی عزیز نہیں۔ بیٹی کا فرض جلدی ادا کر دینا چاہیے”
صبیحہ کی بات پر انوشہ نے بےبسی سے ماں کو دیکھا
“ارے بھئی میری عمر تھوڑی نہ نِکلی جارہی کے آپ کو فرض ادا کرنا ہے جلد از جلد”
“فضول کی باتیں نہیں کرو نِشہ! عمر نہیں نِکل رہی لیکن اچھے رشتے بار بار نہیں ملتے اور جو تمہاری عمر ہے بہترین سے بہترین رشتے ملیں گے ابھی تو بائیس کی ہو تم تئیس تک تو شادی کرنی ہے نہ تمہاری اور۔۔۔”
نِشہ نے اُنکی بات کاٹی
“اب یہ کونسی کتاب میں لکھا ہے کہ بعد میں اچھے رشتے نہیں آئیں گے ؟ فکر نہیں کریں آپ اماں! جِس سے شادی کرنی ہوگی اُسے وقت پر ڈھونڈھ کر آپ کے سامنے لے آؤں گی”
انوشہ کی بات پر صبیحہ نے اُسے گھورا جو سنجیدہ تاثرات لیے انہیں دیکھ رہی تھی۔۔
“ایک منٹ۔۔۔کیا مطلب ہے ماسٹرز کرنے ملک سے باہر جانا کے؟ یہ کون سا نیا بھوت سوار ہوا ہے تمہارے سر پر؟”
صبیحہ نے ماتھے پر تیوری چڑھائی
“اِس میں اتنی انوکھی بات تو کوئی نہیں ہے امی۔ اب یہ مت بولیے گا کہ میں نے پہلے اِس بات کا ذکر کبھی نہیں کیا”
وہ جھنجھلائی تھی
“کب ذکر کیا ہے تُم نے پاکستان سے باہر جانے کا؟”
صبیحہ مکمل طور پر انجام بنتی ہوئی بولی
“امی۔۔۔۔”
اُسے گہرا صدمہ لگا تھا۔ صبیحہ خاموش رہی
“میں آپ کو بتا رہی ہوں۔۔۔مجھے کوئی شادی وادی نہیں کرنی”
پھر اُٹھ کر کمرے سے نِکل گئی
“شرم نہیں آئے گی اِن دونوں بہن بھائی کو”
—————-
—————-
“یہ کیا ہے۔۔۔”
اپنی طرف بڑھا ہوا لفافہ دیکھ کر قِرت نے سوال کیا
“تمہاری عیدی۔۔۔اِس میں اور کیا ہی ہوسکتا ہے؟؟”
انوشہ،قِرت، عِزہ اور افہام اِس وقت لاونج میں موجود تھے۔ ارمغان یَشل کو پک کرنے گیا تھا جبکہ ہادی گھر پر نہیں تھا۔ صبیحہ کمرے میں تھی۔ عدنان اور عطیہ کسی کے گھر گئے تھے
“ارے۔۔دوبارہ کیوں دے رہے ہو؟؟”
انوشہ نے سوال کیا
“دوبارہ نہیں دے رہا۔۔کل دینا بھول گیا تھا”
“ہمم۔۔۔کل سب لوگ یاد تھے صرف مجھے بھول گئے تھے”
وہ خفیف سی اپنی طرف بڑھے لفافے کو دیکھ کے بولی جو ابھی تک اُسنے نہیں تھاما تھا
“ارے یارررر ۔۔۔۔میں سوچ رہا تھا کچھ اور دوں گا۔۔لیکن قسم سے مجھے کچھ سمجھ نہیں آیا اسی لیے تمہیں ایسکٹرا پیسے دیے ہیں”
وہ اُسکی طرف جھکا اور سرگوشی کرتا ہوا بولا جو فاصلے پر بیٹھی نِشہ نے تو باخوبی سُنی اور مسکرا دی جبکہ تھوڑی دور عزہ نے اُنہیں گھورا۔ وہ اتنا قریب تھا قِرت نے تھوڑا گھبرا کر ہونٹ دانتوں تلے دبایا
“بھائییییی۔۔۔۔کیا بولا آپ نے قِرت کو کان میں؟ آپ کو کسی نے بتایا نہیں کہ محفل میں ایسی حرکتیں نہیں کرتے”
عزہ کی بات پر تینوں نے اُسکی طرف دیکھا۔
“استغفرُللّٰہ۔۔۔میں نے تو ہاتھ بھی نہیں لگایا اُسے”
افہام نے معنی خیزی سے بولتے ہوئے اُسکی گود میں لفافہ رکھا اور سکون سے صوفے پر بیٹھا۔ لاونج میں نشہ اور عِزہ کی ہنسی گونجی۔ قرت نے آنکھیں پھاڑ کر اُسے دیکھا پھر ہلکی سے شرمسار ہوئی
“بکواس کروا لو بس اِن سے”
وہ منہ میں بڑبڑاتی اُس پر سے نظر ہٹا گئی
“اوہو۔۔۔کوئی شرما رہا ہے”
عزہ نے قِرت کے ایکسپریشنز انجوائے کیے
“شرمانے والی کوئی بات تھی کیا؟؟ ہنہہ تُم منہ بند ہی رکھا کرو اور تمہیں دوست کی طرف نہیں جانا تھا کیا؟؟”
قرت کے یاد دلوانے پر وہ صوفے سے چھلانگ مار کر اُٹھی
“بھائی اٹھیں اٹھیں بائیک سٹارٹ کریں جلدی میں فون لے کر آئی “
وہ بولتی ہوئی کمرے میں بھاگ گئی تو افہام بھی اُٹھ کر باہر چلا گیا۔ قِرت اُسکی پشت دیکھ کر مسکرائی
—————-
—————-
“یَشل یہ کوئی طریقہ ہوتا ہے؟ تُم بےشک پھپھو سے بات نہ کرتی لیکن ایٹلیسٹ گھر پر تو رُک جاتی۔ مجھے بلکل بھی اچھا نہیں لگا تمہارا اپنی دوست کے گھر آجانا”
وہ یَشل کو پِک کرنے کے بعد اب سنجیدگی سے بولا رہا تھا۔
“اور مجھے بھی آپ کی بات اچھی نہیں لگ رہی”
وہ کھڑکی سے باہر نظریں جمائے بولی تھی
“یَشل خدا کا نام لو۔۔میں کوئی غلط بات نہیں کر رہا۔ تُم جانتی ہو انہیں کتنا دُکھ پہنچا ہوگا؟”
وہ ایک نظر اُس پر ڈال کر بولا
“اور جو دُکھ مجھے پہنچا اُسکا کیا؟”
وہ ارمغان کی طرف مڑی تھی۔ گاڑی میں خاموشی چھا گئی
“مجھے بتاؤ تمہارے اور اُن کے بیچ کیا بات ہوئی ؟ بہت زیادہ دِل شکستہ لگ رہیں تھیں مجھے پھوپھو”
وہ چند لمحوں کی توقف کے بعد بولا
“کوئی بات نہیں ہوئی تھی میری اُن سے۔۔۔”
وہ بےتاثر لہجے میں بولی۔ نظریں دوبارہ کھڑکی سے باہر دوڑاتے مناظر پر ٹِکا لی تھی
“ممکن ہی نہیں ہے۔ تُم نے ضرور اُن سے کچھ تو کہا ہوگا تمہیں پتا ہے وہ رو رہی تھیں اور کافی دیر تک انہوں نے تمہارے واپس آنے کا انتظار بھی کیا لیکن تمہارا بےرحم دِل اور۔۔۔”
“اگر تُم نے اسی بارے میں بات کرنی ہے تو گاڑی روک دو میں خود چلی جاؤں گی”
وہ اُسکی باتوں سے عاجز آگئی تو غصے میں اُسکی بات کاٹ کر بولی۔ اگلے دو منٹ بعد ارمغان نے گاڑی سڑک کِنارے روکی۔ ایک پل کے لیے یَشل کو اُسکے گاڑی روکنے پر شاک لگا۔ اِس سے پہلے وہ دروازہ کھول کر باہر نکلتی ارمغان اُسکا ہاتھ پکڑ چکا تھا۔ وہ ہلکی روشنی میں نظر آنے والے اُسکے بھاری ہاتھ میں اپنا ہاتھ دیکھنے لگی۔
“میری جان۔۔اتنا غصہ کیوں کر رہی ہو؟”
وہ نرمی سے بولا تو اسکے لہجے اور الفاظ پر یَشل کا دِل دھک سے دھڑکا تھا۔ وہ اپنا ہونٹ چبانے لگی
“اتنا تو میں بھی جانتا ہوں کہ تُم اتنی سنگدل نہیں جتنا تُم خود کو ظاہر کر رہی ہو۔ اپنے ننھے سے دِل پر اتنا جبر کیوں ہر رہی ہو؟”
وہ اتنے نرم لہجے میں بولا کہ یَشل کو اپنا دِل پگھلتا ہوا محسوس ہونے لگا۔ وہ ہاتھ سے نظر ہٹاتی اُسے دیکھنے لگی۔
“اتنی معصوم سی تو ہو تُم۔۔۔بلاوجہ میں ہی خود کو اتنا سخت کرلیا ہے تُم نے وہ بھی صرف پھپھو کے لیے۔ آرام سے بیٹھ کر اُن سے بات کرنے کی کوشش تو کرو اگر تُم چاہو تو کیا ٹھیک نہیں ہوسکتا؟”
وہ ابھی بھی لہجے میں نرمی سموئے ہوئے تھا۔ یَشل بےاختیار ہوتی اُسے دیکھتی چلی گئی۔ کتنا اپنا اپنا تھا یہ شخص جس کے صرف چند سادہ سے جملے بھی اُسے گھنے درخت کی چھایا کی طرح ٹھنڈک بخش دیتے تھے۔ وہ ابھی بھی کچھ بول رہا تھا لیکن اب یَشل کو کچھ سنائی نہیں دے رہا تھا وہ اُسکے نقوش میں کھو سی گئی تھی۔ ارمغان نے نوٹ کیا وہ اُسے دیکھ تو رہی تھی مگر اُسے سُن نہیں رہی تھی۔ یَشل کا یوں ہونک بن کر دیکھنا ارمغان قُریشی کے دل میں ہلچل مچا گیا۔
”مجھے محسوس ہوتا ہے کہ مجھ سے
یقیناً ایک جسارت ہوگئی ہے
تمہیں کوئی شکایت تو نہ ہوگی؟
مجھے تُم سے محبت ہوگئی ہے“
(شاعر؛ نامعلوم)
خوبصورت آواز اور محبت سے چور لہجہ۔۔۔اُسے دل کانوں میں دھڑکتا سُنائی دیا تھا۔ وہ ہوش میں آتی اُس سے دور ہوئی تھی مگر کتنی دور ہوتی؟ قریب تو وہ تھا چند لمحوں بعد وہ گہری نظر اُس پر ڈالتا خود بھی دور ہوا اُسکا ہاتھ اپنی گرفت سے آزاد کرکہ گاڑی آگے بڑھائی
“ایسے ہی دیکھتی رہو گی یا کچھ بولو گی بھی؟”
وہ مسلسل اُسکی نظریں خود پر محسوس کرتا بولا تو وہ سٹپٹا گئی
“تمہیں واقعی محبت ہے؟”
حلق میں پھنسی آواز کو اُسنے بامشکل باہر نکالا۔ ارمغان نے مسکراہٹ دبائی
“کِس سے محبت ہے مجھے؟”
وہ انجان بنتا ہوا بولا
“ابھی آپ نے کہا کہ محبت ہو گئی ہے”
وہ بےاختیار ہی بولی تھی ارمغان نے گہری مسکراہٹ لیے اُسے دیکھا۔
“میں نے کہا کہ مجھے تُم سے محبت ہوگئی ہے”
وہ ‘تُم’ پر زور دے کر بولا۔۔ یَشل کو اپنا چہرہ تپتا ہوا محسوس ہوا دھڑکنوں میں بےاختیار ہی ارتعاش برپا ہوا تھا۔ وہ مکمل طور پر اپنا رُخ کھڑکی کی طرف کرگئی ارمغان ہنس دیا۔ وہ بلاوجہ ہی شرمندہ ہوگئی
“لو جی۔۔۔ہم جو بات کر رہے تھے وہ تو کہیں پیچھے ہی رہ گئی”
ارمغان چند لمحوں بعد یاد آنے پر ہلکے پھلکے انداز میں بولا
“چپ کر جاؤ کوئی بھی بات کرنے کی ضرورت نہیں”
یَشل کے ٹوکنے پر وہ نرم نگاہ اُس پر ڈالتا خاموش ہوگیا اور گھر کے باہر گاڑی روکی۔۔۔
“آپ نے ابھی کہیں جانا کے کیا؟”
گاڑی سے اُتر کر وہ کھڑکی پر جھکتی ہوئی بولی۔۔۔
“ابھی سے یاد کرنے لگ گئی تُم مجھے؟”
چھیڑنے والا انداز
“اوفففف۔۔۔تم سے تو بات کرنا ہی فضول ہے”
وہ چڑ کر کہتی ہوئی مڑی اور اندر چلی گئی۔ گیٹ سے اندر قدم رکھتے ہی ہونٹوں پر خوبصورت مسکراہٹ بکھرتی چلی گئی اور چہرا ٹمٹما اُٹھا
“اوہو۔۔لگتا ہے بہت اچھا ٹائم گزار کر آئی ہو۔۔۔”
اُسنے جیسے ہی ہال میں قدم رکھا تو نِشہ نے یَشل کو دیکھتے ہوئے کہا قِرت بھی متوجہ ہوئی
“ایسا تو کچھ نہیں۔۔”
مسکراہٹ روکتی اُن دونوں کے ساتھ ہی بیٹھ گئی
“پھر یہ چہرا کیوں اتنا کھل رہا ہے تمہارا۔۔۔”
قِرت غور سے اُسکا چہرا دیکھتی ہوئی بولی۔۔۔
“واپسی پر ڈیٹ مار کر آئی ہو کیا؟”
نِشہ نے جانچتی نظروں سے اُسے دیکھا وہ قہقہہ لگا گئی
“ہاں ہاں بلکل ایسا ہی ہے۔۔۔اتنی خوبصورت اور یادگار شام تھی اوففف”
یشل نے شرمانے کی ناکام ایکٹنگ کی قرت اور نشہ دونوں ہی ہنس دی۔۔
“کون سی خوبصورت شام؟”
باہر جاتے عزہ کے قدم یَشل کی بات پر رُک گئے تو وہ سوال کرنے لگی
“ارمغان کے ساتھ ڈیٹ پر گئی تھی یہ”
نِشہ نے مزے لے کر بتایا
“کیا؟”
عزہ کو شاک لگا۔۔۔
“عزہ آجاؤ بھئی کب سے انتظار کر رہا ہوں۔۔۔”
افہام بیرونی دروازے پر نمودار ہوا تو مختلف سوچوں میں ڈوبی عِزہ آمنہ کی طرف روانہ ہوگئی
—————-
—————-
“تو کیا مطلب؟ وہ واقعی ارمغان کے ساتھ ڈیٹ مار کر آئی تھی؟”
آمنہ نے حیرت سے سوال کیا
“پتا نہیں یار۔۔۔اُسے پک کرنے تو اُرمغان ہی گئے تھے اور واپس بھی جلدی آگئے تھے مگر یار یَشل کے چہرے سے خوشی ٹپک رہی تھی۔۔۔دل جل رہا ہے میرا تب سے”
وہ شدید بیزار تھی
“عِزہ۔۔تُم کیوں ارمغان کے پیچھے پڑ گئی ہو؟ یار وہ شخص تُم میں سِرے سے ہی انٹرسٹڈ نہیں!”
آمنہ نے آرام سے سمجھانے کی کوشش کی
“آمنہ۔۔۔میری واحد دوست ہو چاہ کر بھی میں تُم پر غصہ کر سکتی اور نہ ہی میں کرنا چاہتی ہوں اسی لیے خاموش رہو۔۔۔میں نے کتنی بار کہا ہے تُم سے کہ یہ سب مجھے مت بولا کرو۔۔ میں اُسے چاہتی ہوں مجھے اور کسی چیز کی پرواہ نہیں!”
وہ دو ٹوک لہجے میں بولی
دنیا میں وہ آخری مرد تو نہیں ہے۔۔۔”
اُسنے کمزور سی کوشش کی
“میرے لیے وہ پہلا۔۔اور آخری مرد ہے۔ مجھے ارمغان قریشی کے علاوہ اور کوئی نہیں چاہیے مجھے صرف اُسکی طلب ہے “
آمنہ نے گہرا سانس لیا
“اچھا ٹھیک ہے چھوڑو سب باتیں آؤ میرے کمرے میں چلیں گرمی ہے یہاں۔۔۔”
آمنہ نے ہتھیار ڈالے اور اُسے لیے کمرے میں چلی گئی۔ دو گھنٹے ہی گزرے تھے جب صبیحہ کی کال آنے پر وہ واپسی کے لیے اُٹھ کھڑی ہوئی
“تھوڑی دیر اور رُک جاتی بیٹا۔۔۔”
آمنہ کی والدہ عافیہ نے محبت بھرے لہجے میں کہا
“ہاں۔۔۔تھوڑی دیر بعد ہارون بھائی آجاتے تو اُن سے بھی مِل لیتی”
آمنہ نے اُسکے کان میں گھس کر سرگوشی کی تو عزہ نے کھا جانے والی نظروں سے اُسے گھورا
“آنٹی میں ضرور رُکتی لیکن دیر ہوگئی ہے۔۔امی پریشان ہونگی”
وہ معذرت خواہ انداز میں بولی
“کیوں پریشان ہونگی آنٹی تُم کون سا کسی غیر کے گھر ہو؟ مجھے اچھے سے جانتی تو ہیں وہ”
آمنہ نے منہ بسورا
“بیوقوف لڑکی۔۔۔ مائیں تو ایسی ہی ہوتی ہیں بات بات پر پریشان ہونے والی۔۔۔”
عافیہ کی بات پر عزہ مسکرائی۔
“یہ دیکھیں بھائی کی کال آرہی ہے وہ آگئے ہیں شاید۔۔میں چلتی ہوں”
سکرین پر افہام کا نام جگمگاتا دیکھ کر وہ آمنہ سے بغلگیر ہوئی
“دوبارہ ضرور چکر لگانا۔۔۔”
عافیہ نے کہا تو وہ اچھے بچوں کی طرح سر ہلا گئی اور الوداعی کلمات ادا کرتی باہر نِکل گئی
“کہاں کھڑے ہیں بھائی؟”
کال اٹینڈ کرتے اُسنے سوال کیا تھا
“گلی کے باہر کھڑا ہوں گاڑی اندر نہیں آسکی۔۔۔”
“ٹھیک ہے۔۔۔۔”
اُسنے کال بند کی اور آگے بڑھی۔ گلی میں اندھیرا تھا اور فلیش لائٹ آن کرنے کا سوچ کر اُسنے فون انلاک کیا۔ اسکی نظر فون پر تھی وہ جب اُسکا ٹکراؤ کسی سے ہوا ہاتھ میں پکڑا فون زمین پر گِرا اور وہ خود بھی گرتے گرتے بچی
“آہہ شِٹ۔۔۔ائیم سوری”
نہ ہی سامنے والے شخص نے ہیرو کی طرح اُسے پکڑا تھا اور نہ ہی اُسکا دل زور سے دھڑکا تھا۔ بروقت وہ گرنے سے خود کو بچاتی اُسے سوری بول گئی اور جھک کر اپنا فون اُٹھایا۔ فون پرانے ماڈل کا نہ تھا جو پانچ ٹکڑوں میں بٹ جاتا مگر فوں کی سکرین کو نقصان ضرور ہوا تھا۔ اندھیرے میں وہ سکرین دیکھنے کی کوشش کرنے لگی۔ سامنے والے شخص نے اپنے موبائل کو ٹارچ آن کی اور اُسکے فون کو دیکھا
“اوہ نو۔۔۔سوری آپ کا فون ٹوٹ گیا”
وہ اپنی وجیہہ بھاری آواز میں بولا تو عِزہ نے بےاختیار اُسکی طرف دیکھا لیکن ٹارچ آنکھوں میں چبھی تو وہ چہرے پر ہاتھ رکھ گئی۔ اُسنے فون نیچے کیا
“نہیں۔۔میں ہی اندھوں کی طرح چل رہی تھی”
وہ جھک کر کھسے میں گھسا چھوٹا سا پتھر نکالنے لگی
“بیشک آپ تو اندھوں کی طرح چل رہی تھی لیکن۔۔۔”
عِزہ نے بےاختیار ہی نظر اُٹھا کے اُسے تقریباً گھورا تھا وہ چاہ کر بھی اُسکے چہرے کو غور سے دیکھ نہ سکی
“میرا مطلب۔۔۔آپ کا دھیان تو فون میں تھا لیکن میرے پاس تو آنکھیں تھی نہ! اُسکے لیے سوری اور یہ پیسے رکھ لیں شاید سکرین پروٹیکٹر کے ساتھ ساتھ آرجنل سکرین کو بھی نقصان ہوا ہے۔۔۔”
وہ اُسکا نازک ہاتھ پکڑ کر اُس میں پیسے رکھتا ہوا یہ جا وہ جا۔۔۔وہ ہونک بنی چند لمحے تو ویسے ہی کھڑی رہی اُس شخص کو غائب ہونے میں ایک سیکنڈ لگا تھا وہ اندازہ نہ لگا سکی کہ وہ کدھر گیا
“ہنہہ؟ پیسے تو ایسے دے کر گیا ہے جیسے میں کوئی انتہائی غریب لڑکی ہوں اور استغفرُللّٰہ میرا ہاتھ پکڑنے کا کتنا اچھا بہانا ڈھونڈھا اُسنے۔۔بےشرم انسان،، خدا جانے انسان تھا بھی یا نہیں۔۔۔ملی سیکنڈ میں غائب ہوگیا”
اونچی آواز میں بڑبڑاہٹ کرتی وہ آگے نکل گئی۔ دیوار کی اوٹ میں کھڑے اُس شخص نے بامشکل اپنی ہنسی کو کنٹرول کیا
“تو فائینلی عِزہ خان۔۔۔ٹکر ہوگئی تُم سے بھی”
وہ گہری مسکراہٹ کے ساتھ سوچتا ہوا گھر کی طرف بڑھا
—————-
—————-
کتنا حسین تھا وہ شخص۔ گندمی رنگت، بڑی بڑی ڈارک براؤن آنکھیں۔ ماتھے پر بکھرے گھنے سیاہ بال جنہیں سیٹ کرنے کی توفیق وہ کبھی نہیں کرتا تھا۔ ہلکی سی داڑھی اور مونچھیں۔ وہ آسمان سے تو نہیں اُترا تھا مگر وہ اُسے ایسا ضرور محسوس کرواتا تھا جیسے وہ آسمان سے اُتری ہو۔ شاید پہلے اُسنے اُس شخص پر اتنا غور نہ کیا تھا۔ اُسکے ساتھ گھر واپس آنے کے بعد سے ہی یَشل کا دل بہت بیچین تھا۔ وہ تب سے لے کر اب تک اُسی کے بارے میں سوچ رہی تھی وہ اُسے پسند تو کرتی تھی مگر کس حد تک۔۔ وہ اِس بات سے انجان تھی
“اُسے مجھ سے محبت ہے کیا؟”
اُسنے خود سے سوال کیا تھا
“ہاں۔۔یہی تو کہا تھا اُس نے لیکن کیا وہ سیریس تھا؟ یا میرا موڈ بہال کر رہا تھا؟”
“یہ تو وہی بتا سکتا ہے لیکن تُم؟ کیا تمہیں محبت ہے اُس سے؟”
سوال بڑھتے جارہے تھے
“پتا نہیں مگر اُس شخص کی سوچ ہی اتنی خوبصورت ہے۔ اُسکے ساتھ کا احساس ہی اتنا سکون دے دیتا ہے”
وہ خود ہی سوال جواب کرتی سرشار ہوئی تھی
“اگر یہ محبت نہیں تو اور کیا ہے؟”
ایک اور سوال۔۔۔
“ہاں۔۔یہی محبت ہے”
وہ جھٹکا کھا کر بیڈ سے اُٹھی تھی۔اُسے گھبراہٹ ہوئی تھی نِشہ نے چونک کر اُسے دیکھا
“وہ۔۔مجھے الجھن ہورہی ہے میں ٹیرس میں جارہی ہوں”
وہ بولتی ہوئی کمرے سے نکل کر ٹیرس میں چلی گئی
