Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Muntazirat Hastam (Episode 10)

Muntazirat Hastam by Neha Imtiaz

وہ جیسے ہی یونیورسٹی کے گیٹ سے باہر نکلی اُسکی نظر روڈ کے پار کھڑے افہام پر گئی جِسے دیکھتے ہی اُسکی تھکن زدہ چہرے پر مسکراہٹ پھیل گئی۔۔۔

السلام و علیکم۔۔آپ یہاں؟”

اُسے خوشگوار سی حیرت ہوئی۔

“وعلیکم السلام۔۔ارے تُم نے پہچان لیا مجھے؟ مجھے لگا تھا تعرُف کروانا پڑے گا”

افہام کی منصوئی حیرت پر وہ ہنسی اور فرنٹ سیٹ کا دروازہ کھول کر گاڑی کے اندر بیٹھی

“اب اتنی بھی انی نہیں مچی کہ میں پہچاننے سے ہی انکاری ہو جاؤں۔۔۔”

افہام ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھا تو قِرت اُسے دیکھ کر بولی

“ہاں ہاں پچھلے تین دِن سے جو تُم شرماتی پھر رہی ہو وہ سب دیکھ رہا ہوں میں”

افہام نے گاڑی سٹارٹ کرتے ہوئے اُس پر چُوٹ کی تو قِرت دوبارہ بلش کر گئی۔ خیر اب قِرت نے پچھلے تین دِنوں میں ایسا بھی کچھ نہیں کیا تھا بس چائے افہام کو دینا تو دور کی بات بنانا بھی چھوڑ دی تھی اور کچھ بزی رہنے لگی تھی۔

“جی نہیں ایسا بھی کچھ نہیں ہوا ہمارے بیچ کہ میں شرمانے لگ جاؤں۔۔”

قِرت نے وہ رات یاد کرکہ مسکراہٹ روکی

“تو یعنی تُم چاہتی ہو کہ میں ایسا کچھ کروں۔۔”

وہ شرارت سے ذومعنی لہجے میں بولا تو قرت کا سارا خون چہرے پر سمٹ آیا۔۔

“شرم کریں (کندھے پر تھپڑ مارا) فلحال ایسی کوئی واحیات خواہش نہیں میری۔۔”

وہ تڑخ کر بولی تو افہام نے قہقہہ روکا

“فلحال نہیں ہے۔۔مطلب فیوچر میں تو ہوگی نہ؟”

قِرت نے چہرے پر ایک ہاتھ رکھ کر چہرا چھپایا۔۔اسے پچھتاوا ہورہا تھا کہ اُسنے وہ بات بولی ہی کیوں

“یا اللّٰہ اتنی شرم….؟”

وہ ہنس رہا تھا قِرت ساری شرم حیا بھاڑ میں جھونکتی اُسے گھورنے لگی۔

“بہت فارغ وقت تھا آپ کے پاس جو مجھے پک کرنے آگئے؟”

اُسنے موضوع بدلنا چاہا

“بلکل ایسا ہی ہے تُم بس حکم کرو میں تمہارے لیے ہر وقت فارغ ہوں۔۔۔”

وہ یو ٹرن سے گاڑی موڑتا ہوا بولا

“میرے لیے نہیں ویسے بھی آپ فارِغ ہی ہوتے ہیں۔۔”

وہ آنکھیں گھُما کر بولی لیکن اُسکی بات سراسر غلط تھی سو افہام نے اُسے گھور کر دیکھا

“ٹائیم نہیں دیکھا تُم نے ؟ پانچ بجنے والے ہیں اور یہی ٹائم ہوتا میری واپسی کا۔ عزہ کو کال کی تھی میں نے اسی نے بتایا کہ تُم ابھی تک یونیورسٹی ہو تو میں پک کرنے آگیا۔۔۔”

وہ اُسے بتا رہا تھا قِرت نے آہستہ سے سر ہلایا

“تھوڑی کم تیار ہوکر یونیورسٹی جایا کرو۔۔۔”

کچھ دیر گاڑی میں خاموشی رہی پھر قِرت کے کانوں میں اُسکی آواز پڑی تو اُسنے اپنا رُخ اُسکی طرف کیا

“کیوں؟ آپ کی مسئلہ ہے میرے تیار ہونے سے؟”

“فضول مت بولو جو کہا ہے اُس بات پر عمل کرو۔۔۔”

افہام خود بھی چہرا اُسکی طرف کرکہ تھوڑا غصے سے بولا۔ قِرت چند سیکنڈ خاموشی سے اسے دیکھتی رہی پھر چہرا دوبارہ دوسری طرف کرلیا۔ افہام نے ہوا کے زور سے اُڑتی اُسکی زلفوں کو دیکھا

“فلحال تمہیں کچھ چیزوں کا خیال رکھا ہوگا جب تک تُم میری نہیں ہو جاتی۔”

قِرت کا دل زور سے دھڑکا تھا

“بعد میں جتنا مرضی سنگھار کرنا۔۔”

وہ مزید بولا تو قِرت دوبارہ اسکی طرف مڑی

“یقین نہیں آپ کو مجھ پر۔۔۔؟”

ذہن میں آنے والا پہلا سوال اور خیال تھا۔ لہجا تھوڑا بجھا ہوا تھا۔

“تُم پر خود سے زیادہ یقین ہے۔۔لیکن لوگوں پر نہیں ہے۔ وہ نہیں جانتے کہ تم افہام خان کی ہو۔۔۔۔جب تم میرے نام سے منسوب ہو جاؤ گی سب کو معلوم ہوجائے گا تو مجھے کسی چیز کی فکر نہیں رہے گی۔۔۔”

اُسنے گاڑی کو بریک لگائی اور قرت کی طرف دیکھا۔ افہام کی بات پر اُس کا چہرا گلابی ہوا اور ہونٹ مسکراہٹ میں ڈھل گئے اُسنے افہام سے نظر ہٹا کر ونڈ سکرین کے پار دیکھا تو احساس ہوا گاڑی گھر کے پورچ میں کھڑی تھی۔۔

“اور۔۔۔یہ فکر کب ختم ہورہی پھر؟”

قِرت نے ہمت کرتے سوال کیا تو وہ اُسکا سوال سمجھ کر بےاختیار مسکرا دیا

“بہت جلد۔۔ انشاءاللّٰہ”

افہام نے پیار سے اُسے دیکھا تو وہ گہری مسکراہٹ لیے گاڑی سے نکلی اور اندر چلی گئی افہام نے بھی گاڑی سے اتر کر اندر کی طرف قدم بڑھائے

بالکونی میں کھڑی انوشہ جو خود بھی کچھ دیر پہلے یونیورسٹی سے آئی تھی اور بخوبی یہ منظر دیکھا تھا۔۔۔

☆ ★ ✮ ★ ☆

“السلام و علیکم کیسی ہو بیٹا؟”

عدنان صاحب کی آواز پر اسکی آنکھوں میں نمی اُمڈ آئی اور وہ بلک بلک کر رو دی۔۔اسکے رونے پر افہام اور ارمغان اپنی اپنی جگہ سٹپٹا گئے۔

“یَشل؟ تُم ٹھیک ہو نہ پھوپھو تو ٹھیک ہیں؟”

ارمغان نے جلدی سے عدنان صاحب کے ہاتھ سے فون لیا تھا۔ عدنان صاحب خاموش رہے کیونکہ انکی بات عادل سے ہو چکی تھی اور وہ سکینہ کی حالت سے واقف تھے۔

یَشل کے رونے میں مزید روانی آئی۔

“یَشل میری بچی حمت کرو سکینہ ٹھیک ہو جائے گی پریشان نہیں ہو دعا کرو بیٹا۔۔۔”

عدنان صاحب کے اپنے حلق میں آنسوؤں کا گولا پھنسا تھا لیکن فلحال یَشل کو تسلی کی ضرورت تھی

“ماما۔۔ماما ٹھیک نہیں۔۔ہیں۔۔”

وہ بامُشکل رونے کے درمیان بول پائی تھی۔ عدنان صاحب کی آنکھوں میں نمی اُترنے لگی۔ ارمغان اسکی آواز میں تکلیف محسوس کرتا بیچین ہونے لگا۔

“وہ ہوش میں۔۔۔نہیں آئی ہیں صبح سے۔۔ہمیں ماما سے۔۔ملنے بھی نہیں دے رہے”

وہ ہچکیاں لے رہی تھی۔۔

“تم ٹینشن نہیں لو یَشل اللّٰہ نے چاہا تو خالہ کو ہوش آجائے گا تُم رونا بند کرو پلیز۔۔۔”

اب کی بار افہام بولا تھا وہ ویسے ہی روتی رہی پھر کال کاٹ گئی۔

“بابا ہمیں لاہور چلنا چاہیے۔۔۔”

ارمغان نے عدنان صاحب کی طرف دیکھا

“ٹھیک کہہ رہا ہے ارمغان۔۔خالہ کی طبیعت بہت خراب ہے اور یَشل تو بلکل اکیلی ہے اسے ہماری ضرورت ہے”

افہام نے بھی اسکی بات سے اتفاق کیا۔ عدنان صاحب نے آنکھوں میں آئی نمی صاف کی۔

“بتایا نہیں میں نے تُم لوگوں کو۔۔ لیکن ٹکٹس کروا لی ہیں میں نے۔ میں چاہ کر بھی وہاں نہیں جا سکتا آفس میں کچھ مسائل چل رہے۔ اسی لیے صبیحہ باجی اور عطیہ دونوں جائیں گی مجھے دو تین دن کے بعد آفس سے لیو ملے گی تو میں بھی چلا جاؤں گا۔۔۔”

“کون کہاں جارہا ہے۔۔۔”

نِشہ کمرے میں داخل ہوئی

“لاہور جارہی ہیں ماما اور ممانی۔ سکینہ خالہ ہسپتال میں ہیں”

“یا اللّٰہ۔۔۔”

افہام کی بات پر اُسے جھٹکا لگا تھا۔ وہ جانتی تھا سکینہ ہستپال میں ہے لیکن اُسکی حالت اتنی کریٹیکل تھی کہ انہیں وہاں جانا پڑ رہا تھا اسے علم نہ تھا۔

“آپ تینوں میں سے کوئی نہیں جارہا ؟”

وہ انکے ساتھ ہی بیٹھ گئی

“بابا۔۔۔میں جانا چاہتا ہوں وہ بہت اکیلی ہوگی”

ارمغان عدنان صاحب کو منت کرنے والے انداز میں بولا

“ارمغان تمہیں بھیجنے کا مسئلہ صرف یہ ہے کہ بعد میں میں بھی آجاؤں گا۔ گھر کی ساری زمہ داری افہام پر آجائے گی۔۔”

عدنان صاحب اُسے سمجھاتے ہوئے بولے۔ افہام کچھ بولنے ہی لگا تھا جب ارمغان دوبارہ بولا

“ابو پلیز۔۔ میں یَشل کے لیے بہت زیادہ پریشان ہوں آپ تو سمجھیں مجھے۔ وہ اتنی تکلیف میں ہے میرا یہاں رہنا بہت مشکل ہے۔۔”

وہ کوئی ضدی سا پیار میں ڈوبا بچہ لگ رہا جس پر افسردہ ماحول میں میں نِشہ سمیت افہام اور عدنان صاحب بھی ہلکا سا مسکرا دیے۔ ارمغان بیشک اس سے رائد والی بات پر ناراض تھا مگر اسے یَشل پر یقین تھا اور اس مشکل وقت میں وہ اس کے ساتھ رہنا چاہتا تھا۔

“ماموں آپ پریشان نہیں ہوں۔۔ہادی بھی تو آج رات واپس آنے والا ہے اور وہ اب اتنا بھی بچہ نہیں رہا گھر پر ہی ہوگا۔ میں بھی کوشش کروں گا کام سے جلدی آجاؤں۔ لڑکیوں کا خیال ہم رکھ لیں گے۔۔”

افہام کی بات پر وہ سر ہلا گئے تو ارمغان نے تشکرانہ نظروں سے افہام کو دیکھا۔۔

“میں دیکھتا ہوں اب دعا کرو کہ ٹکٹ مل جائے۔۔”

عدنان صاحب بولتے ہوئے اپنی جگہ سے اٹھے اور اسکا کندھا تھپکتے باہر نکل گئے۔۔۔

“پہلے صرف شک تھا لیکن اب یقین ہورہا ہے مجھے بھئی کہ ارمغان تم گوڈے گوڈے یشل کے عشق میں ڈوبے ہوئے ہو۔۔”

نِشہ نے ارمغان کو چھیڑنے والے انداز میں کہا تو وہ اسے گھورنے لگا جبکہ افہام مبہم سا مسکرا دیا

☆ ★ ✮ ★ ☆

“گورے گورے مکھڑے

بی ماہ لو

چاند کے ٹکڑے

بی ماہ لو

کالی کالی زلفیں

بی ماہ لو

نیلی نیلی آنکھیں

بی ماہ لو۔۔”

وہ ببل چباتا گنگناتا ہوا گھر میں داخل ہوا رات کے دس بج رہے تھے۔ ایک گھنٹا پہلے ہی اُسکی آسلام آباد سے کراچی کی فلائیٹ لینڈ ہوئی تھی اور وہ ارمغان کے ساتھ گھر آیا تھا

اُسکے پیچھے ہی گارڈ سامان لیے اندر داخل ہوا

عزہ جو لاونج میں بیٹھی ٹی وی دیکھ رہی تھی اُسنے ہادی کو دیکھا جو گرنے کے سے انداز میں صوفے پر لیٹ چکا تھا۔ وہ اُٹھ کر کھڑی ہوئی

“گورے گورے مکھڑے؟چاند کے ٹکڑے؟ کالی زلفیں؟ اچھا!”

عزہ نے دانت پیس کر کشن اُٹھایا اور اُسکی دھنائی شروع کی۔

“صبر کرو تُم آنے دو ماموں کو تمہاری کالی زلفیں نہ کٹوائی تو میرا نام بدل کر پھپھے کٹنی رکھ دینا۔۔”

وہ مسلسل اُسکے منہ پر کشن مارتی ہوئی بول رہی تھی۔ ہادی نے اپنا دفاع کرنے کی کوشش کی لیکن کامیاب نہ ہوا کیونکہ عزہ اُسے اُٹھنے یا بولنے کا موقع دیے بغیر اُس کی دھلائی کر رہی تھی

“عزہ پاگل تو نہیں ہوگئی ہو بیوقوف عورت پیچھے ہٹو یار۔۔”

ہادی نے اٹھنے کی کوشش کی پھر عزہ کو پیچھے کی طرف دھکا دیتا دور ہوکر کھڑا ہوا

“ہادی تمہارا دماغ ٹھیک ہے؟ یا جہاں گھومنے گئے تھے وہیں چھوڑ آئے ہو”

عزہ کا پاؤں مڑا تھا اور بروقت اندر آتے ارمغان نے اُسے کندھوں سے پکڑا تھا ورنہ عزہ کو پیچھے پڑی ٹیبل سے اچھی خاصی چوٹ آجاتی ۔

ارمغان کے غصے پر جہاں ہادی کی مسکراہٹ غائب ہوئی وہیں عزہ کا دل الگ ہی لہ پر دھڑکنے لگا۔

“بیٹھو یہاں۔۔۔”

اُسکے پاوں میں یقیناً درد تھا۔ ارمغان نے کندھوں سے پکڑ کر عزہ کو صوفے پر بٹھایا۔ وہ اپنا تیزی سے دھڑکتا دل بامشکل سنبھالتی صوفے پر بیٹھی

“بھائی میں نے کچھ نہیں کیا۔۔میں جیسے ہی اندر آیا اِسنے بلاوجہ ہی مجھ کشنز سے حملہ کردیا۔ پوچھیں تو سہی نوابزادی کے ساتھ مسئلہ کیا ہے ؟”

ہادی نے انگلی سے عزہ کی طرف اشارہ کیا

“تم زخمی ہوگئے کشن لگنے سے ؟اتنے نازک ہو؟ کشن تھا یا بندوق؟”

ارمغان نے دانت پیس کر اُسے گھورا

“لیکن بھائی۔۔ اگر مذاق کر رہی تو برداشت کرے نہ!”

ہادی کو عزہ پر غصہ آیا جو چہرا جھکائے ایسے بیٹھی تھی جیسے واقعی ہی پاؤں ٹوٹ گیا ہو۔۔۔

“کیا برادشت کرے ہاں؟ میں نہ پکڑتا تو ٹیبل لگ جاتی اُسکی کمر میں۔۔”

ہادی کی ڈھٹائی پر ارمغان کو مزید غصہ آیا۔۔

“ٹیبل لگی تو نہیں نا لیڈی ڈیانا کو!”

وہ رُکا نہیں بلکے غصے سے لمبے لمبے ڈگ بھرتا اوپر چلا گیا۔ عزہ نے ایک نظر اوپر جاتے ہادی اور پھر ارمغان کو دیکھا جو اب پنجوں کے بل اُسکے پاؤں کے پاس بیٹھا تھا۔ ارمغان نے ہاتھ پڑھا کر اُسکا پاؤں پکڑنا چاہا تو وہ پیچھے کرگئی۔

“ارے دِکھاؤ تو سہی یار۔۔۔۔”

اسنے بولتے ہوئے اسکا پاؤں پکڑا جو بظاہر تو تھیک نظر آرہا تھا۔ عزہ کا دل شور کرنے لگا اور ہتھیلیاں بھیگ گئی

“درد دورہی ہے؟”

اسنے پاؤں تھوڑا دباتے ہوئے عزہ کو دیکھا جس کے چہرے پر درد کے آثار ظاہر ہوئے

“زیادہ درد ہے تو ڈاکٹر کے پاس چلتے ہیں۔۔۔”

ارمغان اُٹھ کر کھڑا ہوا تو عزہ نے سر نفی میں ہلایا۔۔

“نہیں نہیں۔۔میں اس پر کچھ لگا کر پٹی باندھ دونگی یہ کل تک ٹھیک ہو جائے گا”

وہ چہرا اوپر کرکہ ارمغان کو دیکھ رہی تھی جِس نے عزہ کی بات پر کچھ سوچ کر سر ہلا دیا۔ عزہ اُٹھنے لگی جب ارمغان نے اُسکے کندھے پر زور دے کر اُسے واپس بٹھایا پھر قرت کو آواز تھی۔۔

“قرت اور نِشہ کام کر رہی تھی کچھ۔۔۔آپ چھوڑ دیں میں یہیں بیٹھ جاتی ہوں”

وہ معصومیت کی ساری حدود پار کرتی ہوئی بولی تو ارمغان نے سر ہلا دیا۔۔

“کیوں لڑ رہے تھے تُم دونوں؟”

ارمغان کے سوال پر عزہ نے اُسکی طرف دیکھا اور سوچنے لگی کہ بتانا چاہیے بھی یا نہیں

“بہت بدتمیز ہوگیا ہے۔ میری دوستوں کے ڈی ایمز میں گھس کر عجیب و غریب شعر و شاعری کر رہا اور آمنہ کو بھی اُسنے پہلے ریکویسٹ بھیجی پھر ایک شعر بھیجا تھا کہ۔۔۔”دل کرتا کے تمہارے بہت قریب آؤں اور تمہارے آنکھ میں اُنگلی بار کر بھاگ جاؤں“ جب آمنہ نے مجھے سکرین شاٹ بھیجا تو میں اتنی شرمندہ ہوگئی مطلب میری ہی دوستیں ملی ہیں اسے اپنی ٹھرک جھاڑنے کے لیے۔۔”

عِزہ کی بات سُن کر ارمغان کو ہنسی آگئی جسے اُسنے بامشکل کنٹرول کیا۔ ہادی واپس اپنا فون لینے آیا تھا لیکن یہاں تو عزہ بی بی اُسکا بھانڈا پھوڑ چکی تھی

“استغفرُللّٰہ۔۔شرم تو بلکل نہیں آرہی ہوگی مجھ پر الزام لگاتے ہوئے کتنی پھپھے کٹنی ہو تُم یہی نام ہونا چاہیے تمہارا۔۔۔”

ہادی اپنے دفاع کے چکر میں اُسے جھوٹا ثابت کرنے لگا عزہ نے منہ کھولے اُسے دیکھا۔

“ہادی یہ کیا بولتے جارہے ہو۔۔۔”

ارمغان نے اُسے گھورا

“میں ٹھیک بول رہا ہوں۔۔بولیں اِسے کہ دکھائے ثبوت ہے اِس کے پاس؟ کس بناء پر یہ الزامات لگا رہی مجھ پر۔۔”

بولتے ہوئے ہادی کو تھوڑا ڈر بھی لگا تھا کہیں واقعی ہی وہ ثبوت اُسکے منہ پر نا مار دے۔ حقیقت تو تھی کہ اُسنے عزہ کی دوستوں کو تنگ کیا تھا لیکن وہ سب کرنے کا مقصد صرف عزہ کو زچ کرنا تھا جِس میں وہ کامیاب بھی ہوا۔۔۔

“ہاں کیوں نہیں۔۔وہ فون اُٹھا کر دیں میرا میں دکھاتی ہوں”

عِزہ نے ارمغان سے کہتے ہوئے فون کی طرف اشارہ کیا تو ہادی کا رنگ اُڑا۔

“چپ کر جاؤ تُم دونوں،، انڈیا پاکستان کی جنگ نہیں لڑنے لگ جایا کرو۔۔ عزہ تُم اپنی دوستوں سے کہو کہ تُم اِس کھوتے کو نہیں جانتی سو وہ اِسے شرافت سے بلاک کردیں۔۔۔اور تُم۔۔”

ارمغان عزہ کو بول کر ہادی کی طرف مڑا جو خود کو کھوتا بُلائے جانے پر ارمغان کو پھاڑ کھانے والے انداز میں گھور رہا تھا۔

“میں پہلی اور آخری بار بول رہا ہوں انسانوں والی حرکتیں کرو اِس سے پہلے میں ابو سے تمہاری چھترول کرواؤں۔۔”

ارمغان کے انگلی دکھا کر بولنے پر ہادی نے سلیوٹ کیا۔ عِزہ ہلکا سا ہنس دی جبکہ ارمغان نے اسے گھورا پھر خود بھی مسکرا دیا

“بھائی آپ بلاوجہ میں مجھے بول رہے ہیں خود ہر وقت آپ یَشل کے ساتھ لگے ہوتے مطلب وہ ٹھیک ہے لیکن میں کچھ کروں تو۔۔۔ائیییی چھوڑیں میرا کان”

ہادی ارمغان کو مسکراتا دیکھ کر منہ بناتا ہوا صوفے پر بیٹھنے لگا جب اُسکی بات سُن کر ارمغان نے اسکا کان پکڑ کر پوری قوت سے مروڑا تو وہ درد سے بلبلا اُٹھا

“زیادہ بکواس نہیں کرنے لگئے تُم۔۔۔”

ارمغان نے ویسے ہی اسکا کان پکڑے کہا جبکہ یَشل کا نام سُن کر عزہ کا دل جل کر رہ گیا

“جھوٹ تو نہیں بولا۔۔۔”

وہ آہستگی سے بولا۔ ارمغان نے ہادی کا دوسرا کان بھی اپنی گرفت میں لیا تو وہ چِلا اُٹھا۔ ہادی کی چیخیں سُن کر عطیہ کمرے سے باہر آئی

” کیا ہوگیا ہے بھئی کون سی قیامت آگئی ہے۔۔۔”

لیکن پھر اُنکی نظر ہادی اور ارمغان پر گئی تو وہ ان دونوں کی طرف آئی

“ارمغان چھوڑو اُسے۔۔”

عطیہ نے اُسکے بازو پر تھپڑ مارا تو وہ پیچھے ہوا۔ ہادی نے پھرتی سے کشن اُٹھا کر اُسکے منہ پر مارا۔ نشانہ پکا تھا

“امی دیکھ رہی ہیں اِس گھر میں اس طرح سے ویلکم ہوا ہے میرا۔۔مطلب اتنے عرصے بعد واپس آیا ہوں میں تھوڑا سا تو پروٹوکول دیں۔۔۔”

ہادی منہ بنا کر بولا تو عطیہ اُسکے ساتھ بیٹھی

“پروٹوکول والی شکل بھی ہونی چاہیے۔۔۔”

ارمغان خود بھی عزہ سے کچھ فاصلے پر بیٹھا۔ عزہ نے مسکراہٹ دبائی۔۔ ارمغان کی تو سوچ بھی اُسے سکون دیتی تھی۔

“اچھی بھلی شکل ہے میرے بچے کی۔۔۔”

عطیہ نے بولتے ہوئے اُسکا ماتھا چوما تو ہادی کھل کر مسکرا دیا

“ارے ہادی آگئے تُم۔۔۔ کیسے ہو پیپر کیسے ہوئے تمہارے”

صبیحہ کی آواز پر سب اُسکی طرف متوجہ ہوئے وہ بھی وہیں آکر بیٹھی

“اچھے ہوگئے پھپھو اب تو آرام کروں گا میں۔۔۔”

ہادی نے انگڑائی لی۔

“یونیورسٹی میں ایڈمیشن لینے کا ارادہ ہے یا صرف آرام ہی کرنا ہے”

“وہ بھی لے لوں گا۔ پہلے ارادہ یہی تھا کہ باقی کی پڑھائی بھی اسلام آباد میں کروں گا لیکن ہاسٹل میں رہ رہ کر آدھا ہوگیا ہوں۔۔”

ہادی نے گندی سی شکل بنائی

“اور نہیں تو کیا۔۔کتنا وزن تھا ماشاءاللّٰہ تمہارا جب یہاں سے گئے تھے اور اب تو دیکھو کتنے کمزور ہوگئے ہو۔۔۔”

صبیحہ کی بات پر وہ مسکرا دیا انہیں کیا بتاتا کمزور نہیں ہوا اسے سمارٹ ہونا کہتے ہیں۔

“ارے عطیہ۔۔مسسز شکیل کی کال آئی تھی وہ ملنا چاہ رہیں تھی میں نے تو منع کردیا کہ سکینہ ہسپتال میں ہے کل ہمیں لاہور کے لیے نکلنا ہے۔۔”

صبیحہ یہی بتانے آئی تھی لیکن ہادی کو دیکھ کر ذہن سے ہی نکل گیا

“سکینہ خالہ کی طبیعت تو ٹھیک تھی نہ؟ یَشل بھی واپس آرہی تھی۔۔ کیا ہوا انہیں اچانک؟”

ہادی نے پریشان ہوتے ہوئے سوال کیا

“ہاں سکینہ کی طبیعت آج صبح کچھ خراب ہوگئی دوبارا ہسپتال میں ایڈمٹ ہوگئی ہے اسی لئیے یَشل نہیں آسکی۔ اللّٰہ خیر کرے بس میرا تو دل حول رہا ہے۔۔۔”

عطیہ کی بات سن کر ماحول پر افسردگی چھا گئی

“پریشان مت ہو انشاءاللّٰہ ٹھیک ہو جائے گی دعا کرو”

صبیحہ نے کہا تو کچھ دیر خاموشی چھا گئی جسے اب تک خاموش بیٹھی عزہ نے توڑا

“آپ کچھ دن پہلے بھی تو حاجرہ آنٹی سے بات کررہی تھی۔۔کیوں ملنا ہے انہیں مطلب کیوں آنا چاہ رہی؟”

“کیا مطلب کیوں آنا چاہ رہی ہیں؟ ایسے ہی نہیں مل سکتی؟”

صبیحہ نے جھڑکنے والے انداز میں کہا تھا عزہ کا ہاتھ ماتھے پر گیا۔ خاموش ہی رہنا چاہیے تھا۔

☆ ★ ✮ ★ ☆

“آپ کے پیشنٹ کو ہوش آگیا ہے ہم آدھے گھنٹے تک انہیں وارڈ میں شفٹ کردیں گے پھر آپ اُن سے مل سکتے ہیں۔ لیکن پیشنٹ سے کوئی ایسی ویسی بات مت کیجیے گا کہ ابھی انکی حالت اتنی ٹھیک نہیں”

رات کے تیسرا پہر تھا جب نرس کی بات نے ان تینوں کی زندگیوں میں جیسے نئی روح پھونک دی۔ یَشل کی آنکھوں سے تشکر کے آنسو نکلے اور وہ شکرانے کے نفل ادا کرنے پرئیر روم چلی گئی۔ عادل نے رائد کو سینے سے لگایا۔

وہ جیسے ہی پرئیر روم سے باہر نکلی تو رائد کو راہداری میں ٹہلتے پایا۔ وہ اس پر نظر ڈال کر وہاں سے گزرنے لگی

“یہ میں تمہارے لیے لایا ہوں۔ تم نے کل سے کچھ نہیں کھایا”

رائد نے ہاتھ میں پکڑے سینڈوچ اسکی طرف بڑھائے

“بھوک نہیں۔۔مجھے ماما سے ملنا ہے”

وہ اسکے ہاتھ میں پکڑے سینڈوچ پر اچٹتی نگاہ ڈالتی ہوئی بولی

“ماما کو ابھی وارڈ میں شفٹ نہیں کیا۔۔۔کھا لو یہ تمہاری طبیعت خراب ہو جائے گی”

اسکے لہجے میں فکرمندی محسوس کرتے یَشل نے اسے دیکھا جو پچھلے دنوں کی نسبت کافی تھکا ہوا لگا تھا۔ آنکھوں کے ڈیلے سوج گئے تھے اور آنکھیں سرخ ہورہی تھی۔ یَشل کو کچھ گھنٹے پہلے کا وقت یاد آیا جب اسنے کھڑکی سے رائد کو روتے ہوئے دیکھا تھا۔ وہ خدا کے سامنے گڑگڑا رہا تھا۔

یَشل نے خاموشی سے اسکے ہاتھ میں پکڑے سینڈوچ لیے اور بغیر کچھ کہے وہاں سے چلی گئی۔ رائد بھی اسکے پیچھے ہو لیا۔

“آپ کو اندازہ بھی ہے کتنا پریشان کردیتی ہیں آپ ہم سب کو؟”

یشل نے سکینہ کا ڈرپ لگا سوجا ہوا ہاتھ اپنی گرفت میں لیتے خفگی سے کہا۔۔

“تمہیں اپنے پاس روکنے کا کوئی تو جواز ہونا چاہیے نہ۔۔”

وہ نقاہت زدہ آواز میں بولیں تو یَشل کی آنکھیں دھندھلانے لگیں۔

“دیکھیں امی۔۔چوبیس گھنٹے بھی پورے نہیں ہوئے آپ کی ٹینشن میں دس کِلو وزن گر گیا ہے اِس کا”

رائد صوفے سے اُٹھ کر ان دونوں کے پاس آتا ہوا بولا۔ یَشل نے نظر اٹھا کر بھی اسے نہ دیکھا جبکہ عادل اور سکینہ مسکرا دیے

“یَشل۔۔گھر جاکر تھوڑا آرام کرلو بیٹا”

عادِل کی بات پر اسنے چہرا موڑ کر پہلے عادل کو دیکھا پر سکینہ کو دیکھنے لگی

“فجر کے بعد چلی جاؤں گی۔۔۔”

☆ ★ ✮ ★ ☆

“امی۔۔۔میں ایک لڑکی کو پسند کرتا ہوں اور اس سے شادی کرنا چاہتا ہوں”

رائد نے سکینہ کی بیٹھنے میں مدد کرتے ہوئے بتایا تو سکینہ کو خوشگوار حیرت نے آن گھیرا۔

“ارے۔۔۔ میرے شہزادے بیٹے کو اسکی شہزادی مل گئی کیا۔۔؟”

وہ پیار سے اسکے چہرے پر ہاتھ پھیر کر بولی

“جی ہاں اور وہ صرف میری نہیں بلکہ آپ کی بھی شہزادی ہے۔۔”

اسنے نرمی سے سکینہ کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لیا

“یعنی میں اسے جانتی ہوں؟”

رائد نے سر اثبات میں ہلایا

“بتاؤ پھر؟ کون ہے وہ لڑکی؟”

وہ مسکرا کر بولی تو رائد چند لمحے خاموشی سے انہیں دیکھتا رہا۔۔

“امی۔۔شاید آپ کو حیرت ہوگی، یقین نہیں آئے گا، آپ نے کبھی اس بارے میں سوچا بھی نہیں ہوگا لیکن میں نے تب ہی سوچ لیا تھا جب میں عید کے دِن اُس سے ملا تھا اور اسکے بعد کتنی ہی راتیں میں نے اسکی یاد میں جاگ کر گزار دیں۔ میں اسے بہت کم وقت میں بہت زیادہ چاہنے لگ گیا ہوں میں نے کبھی ظاہر نہیں کیا لیکن امی وہ میرے دل میں رہتی ہے۔۔۔”

وہ سکینہ کے سامنے اپنا دل کھول کر رکھ رہا تھا۔ وہ غور سے اسے سُن رہی تھی اسنے پچھلے سالوں میں اسے کبھی ایسی باتیں کرتے نہیں سنا تھا۔ سکینہ سمجھ نہ سکی وہ کِس کی بات کر رہا تھا

“وہ جب سے یہاں آئی ہے میں خود کو بہت بےبس محسوس کرنے لگا ہوں۔ امی میں یَشل سے محبت کرتا ہوں میں اس سے نکاح کرنا چاہتا ہوں”

سکینہ یَشل کے نام پر ساکت ہوئی تھی۔ اُسنے بےیقینی سے رائد کو دیکھا تھا وہ مزید کچھ بول رہا تھا لیکن سکینہ کا ذہن ان دو جملوں پر اٹک گیا تھا”میں یَشل سے محبت کرتا ہوں میں اس سے نکاح کرنا چاہتا ہوں“

یَشل کے لاہور آنے کے بعد کتنی بار اسے خیال آیا تھا کہ رائد اسے پسند کرنے لگ جائے گا۔ رائد کا اسے تنگ کرنا غصہ دلانا اسے بہت کچھ سوچنے پر مجبور کر دیتا تھا لیکن سکینہ نے تو ہمیشہ اپنے خیالات کی نفی کی تھی۔ اسے ہمیشہ سے یاد تھی عطیہ کی وہ بات

”سکینہ کچھ بھی ہو جائے۔ یَشل ہمیشہ میری بیٹی بن کر میرے پاس ہی رہے گی اسکی پڑھائی مکمل ہوتے ہی میں اس کے نام کے ساتھ ارمغان کا نام جوڑ دوں گی“

اور ارمغان کی آنکھوں میں یَشل کے لیے محبت کا ٹھاٹھیں مارتا سمندر، یَشل کی آنکھوں میں جلتے وہ ارمغان کے نام کے دیے۔۔

وہ کیسے ان سب کی خواہشات پر رائد کے نام کی مہر لگا سکتی تھی؟ وہ کیسے اپنی بیٹی کے ساتھ اس بار بھی زیادتی کر سکتی تھی؟

“امی آپ سن رہی ہیں نہ؟”

رائد نے سکینہ کو کھویا ہوا پایا تو اسکا ہاتھ ہلایا۔ وہ اپنے خیالات سے باہر نکلی

“وہ نہیں مانے گی۔۔۔”

وہ اس سے زیادہ کچھ بول نہ سکی۔ کمرے میں خاموشی چھا گئی

“آپ اسے منائیں گی نہ۔۔پلیز امی میں اسے خود سے دور نہیں کر سکتا میں آپ سے کچھ نہیں مونگوں گا پلیز اسے منا لیں میری خوشی کی خاطر امی پلیز۔۔”

وہ انکے ہاتھ پر زور دیتا منت کر رہا تھا پھر وہ اپنا سر انکے ہاتھ پر رکھ گیا

سکینہ نے اپنا دوسرا ہاتھ اسکے بالوں میں پھیرا تو جیسے رائد کو امید سی ملی۔۔۔

وہ ہسپتال کے بیڈ پر چت لیٹی کچھ دن پہلے کی گئی رائد کی اس خواہش کے بارے میں سوچ رہی تھی جب فجر کی نماز ادا کرکہ گھر جانے سے پہلے یَشل سکینہ کے پاس آئی تھی۔

“کیا سوچ رہی ہیں؟”

یَشل نے جھک کر انکا ماتھا چوما

“سوچ رہی ہوں۔۔۔پتا نہیں تمہیں اپنے گھر کا ہوتے دیکھ سکوں گی بھی یا نہیں”

وہ کمزور سے لہجے میں بدقت مسکرائی تو یَشل کے چہرے پر سنجیدگی در آئی

“امی۔۔ آپ بیمار ہیں تو اسکا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ آپ ایسی باتیں کریں۔۔ انشاءاللّٰہ آپ بلکل ٹھیک ہو جائیں گی اور اپنے ہاتھوں سے مجھے رخصت کریں گی۔۔”

وہ آخر میں شرارت سے بولتی ہوئی انکے پاس بیٹھی

“میرے ہاتھوں میں تو جان نہیں رہی تمہیں رخصت کرنے کی۔۔شاید ہی میں اس بستر سے ہی اٹھ سکوں۔۔”

وہ بولی تو لہجہ رندھا ہوا تھا۔ یَشل کی آنکھیں نم ہوگئی

“میں نے بہت دعائیں کی ہیں اللّٰہ تعالیٰ اپنے بندے کی دعاؤں کو رد نہیں کرتا۔ آپ ٹھیک ہو جائیں گی۔۔۔”

وہ یقین سے بولی تھی۔

“میری جان۔۔ ہر چیز کا وقت مقرر ہے اور موت سے کون بھاگ سکتا ہے ؟”

“امی۔۔۔”

یَشل نے قرب سے اسے پکارا تھا مگر سکینہ نے بات جاری رکھی۔

“ہر دعا قبول نہیں ہوتی۔ میرا اللّٰہ آخرت میں تمہیں اُن دعاؤں کا اجر ضرورت دے گا۔۔۔ لیکن موت تو آنی ہے شاید آنے والے منٹ میں میری سانس رُک جائے۔۔۔”

“امی چپ کر جائیں۔۔” وہ رو پڑی تھی۔۔۔

“یشل۔۔۔میں نہیں جانتی کب میں اس دنیا سے چلی جاؤں گی۔ لیکن میرے اندر جینے کی سکت نہیں بچی”

سکینہ کی آنکھوں سے آنسو نکلنے لگے۔ یَشل نے تکلیف سے اسے دیکھا تھا۔ آنکھوں میں منت تھی کہ وہ خاموش ہو جائے۔ روتے ہوئے وہ سکینہ کے کندھے پر جھک گئی

“میری ایک بات مان لو۔۔۔”

کمرے میں اسکی سسکیاں گونج رہی تھیں جب سکینہ کی آواز پر اسنے چہرا اوپر کرکہ اسے دیکھا۔۔۔

“رائد سے۔۔۔ نکاح کرلو۔۔۔”

حلق میں پھنسی آواز بامشکل نکلی تھی۔ یَشل کے آنسو رُک گئے اور آنکھوں میں بےیقینی اُتر آئی

“امی۔۔۔یہ کیا کہہ رہی ہیں آپ “

اسے اپنی آواز کھائی سے آتی ہوئی محسوس ہوئی تھی۔ اُسے لگا تھا جیسے اُس پر آسمان آگِرا ہو

“میں تُم سے اور کچھ نہیں مانگوں گی۔۔۔بس میری یہ خواہش مان لو”

سکینہ کی آنکھوں سے آنسو نکلنے لگے

آپ کو اندازہ بھی ہے آپ کیا کہہ رہی ہیں۔۔”

وہ اپنی جگہ سے اٹھی تھی۔۔

“کہہ دیں کہ آپ مذاق کر رہی ہیں۔۔پلیز امی”

آواز دوبارہ رندھ گئی تھی

“میں جانتی ہوں کہ یہ تمہارے لیے بہت مُشکِل ہے مگر یقین رکھو اگر تُم نے میری بات نہ مانی تو تمہاری مُشکِلات حد سے زیادہ بڑھ جائیں گی۔۔۔ تمہیں اپنی زندگی بچانے کے لیے یہ کرنا ہوگا۔۔ میں تُم سے کبھی کُچھ نہیں مانگوں گی شاید زندگی مجھے دوبارہ محلت ہی نہ دے۔ صرف میری آخری بات مان لو میرا مان رکھ لو۔۔۔”

آنکھوں سے آنسو مسلسل بہہ رہے تھے اور آواز میں واضح کپکپاہٹ تھی۔۔اُنکی بات سُن کر اُس نے بے اختیار اپنا ہاتھ اُنکے ہاتھ سے نِکالا تھا اور دو قدم پیچھے ہوئی تھی۔۔۔

“مُجھے یقین نہیں آرہا امی کہ آپ مُجھے یہ سب کہہ رہی ہیں۔۔۔”

وہ ایک دم چِلائی تھی کہ اُسکا اپنا وجود بھی ہِل کر رہ گیا تھا۔۔ نرس بھاگ کہ اندر آئی تھی اور اُن دونوں وجودوں کہ دیکھا تھا۔ ایک کی آنکھوں میں بےیقینی، ٹوٹا ہوا مان اور نہ جانے کیا کیا تھا جب کہ دوسرے وجود کی آنکھوں میں صرف مِنت تھی۔۔۔

اُس نے ایک نِگاہ دو قدم دور کھڑی نرس پر ڈالی اور دروازے کی طرف بڑھ گئی۔ اِس سے پہلے وہ دروازہ کھول کر وارڈ سے باہر قدم رکھتی سکینہ کے منہ سے نِکلنے والے الفاظ جیسے اُس کے قدم جکڑ گئے۔ اُسکا وجود پتھر کا ہوگیا تھا

“اپنی مرتی ہوئی ماں کی آخری خواہش سمجھ کر مان لو۔۔۔ پہلی بار کُچھ مانگ رہی ہوں اِنکار مت کرو۔۔”

وہ بُری طرح روتے ہوئے بولیں تھیں نرس جلدی سے اُنکی طرف گئی تھی سائیڈ ٹیبل پر پڑا پانی کا گِلاس اُٹھایا اور زبردستی انہیں دو گھونٹ پانی پِلایا۔۔ سکینہ کی طبیعت بِگڑنے لگی تو نرس نے جلدی سے انہیں سکون کا انجیکشن لگایا اور میڈیسن کھِلائی۔۔

“کیا آپ جانتی نہیں ہیں کہ آپ کی والدہ کی طبیعت ٹھیک نہیں؟ آپ کی کوئی بھی بات انہیں شدید زہنی دباؤ میں ڈال سکتی ہے اور آپ اُنکے ساتھ لڑ رہی ہیں۔۔ اگر انہیں کُچھ ہوگیا آپ کی وجہ سے تو۔۔؟”

نرس اُس کی طرف آئی تھی جو پتھر بنی ابھی تک وہیں کھڑی تھی۔۔۔نرس کی غصے میں کہی گئی بات سُن کر اُس نے گردن موڑی اور اُس کی طرف دیکھا۔ اُس پر سے نِگاہ ہٹاتے اُس نے بیڈ پر لیٹی اپنی بیمار ماں کی طرف دیکھا جو لگنے والے انجیکشن کے باعث غنودگی میں جارہی تھی

“تو اب ایسی باتیں کر کے بلیک میل کریں گی آپ مُجھے۔۔۔”

وہ وارڈ سے نکلی اور لفٹ میں جانے کے بجائے سیڑھیوں کی طرف قدم بڑھائے آنکھیں مسلسل بہہ رہی تھیں دماغ سن تھا۔ وہ نہیں جانتی تھی عادل اور رائد کہاں تھے ہسپتال سے نکل کر اسے کہاں جانا تھا وہ بس کہیں دور بہت دور جانا چاہتی تھی اُسکا دِل بُری طرح ٹوٹ گیا تھا۔۔

~جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *