Muntazirat Hastam by Neha Imtiaz NovelR50532 Muntazirat Hastam (Episode 12)
Rate this Novel
Muntazirat Hastam (Episode 12)
Muntazirat Hastam by Neha Imtiaz
“یَشل۔۔۔”
وہ دور سے ہی پکارتی ہوئی اسکے قریب آئی تھی۔ یَشل نشہ کو دیکھتے ہی اٹھ کھڑی ہوئی اور اس کے سینے سے لگ گئی۔ نِشہ کے پیچھے ہی عطیہ اور صبیحہ بھی تھی وہ خود پر ضبط کرتی ان سے ملی۔
“مظبوط بنو لڑکی۔۔۔روتے نہیں ہیں”
اسکی آنکھوں میں نمی دیکھتے صبیحہ نے کہا اور اسکا ماتھا چوما۔ کل سے وہ جتنا رو چکی تھی اسکی آنکھوں کے پپوٹے اتنے سوج گئے تھے کہ دور سے دیکھنے والا بھی بھانپ جاتا وہ بہت زیادہ روتی رہی ہے۔
“ارمغان۔۔۔وہ نہیں آیا کیا؟ قِرت کا میسج آیا تھا کہ وہ بھی آرہا ہے۔۔۔”
صبیحہ اور عطیہ، سکینہ سے ملنے وارڈ میں گئی تو یَشل نے نشہ سے سوال کیا
“تم اس کا انتظار کر رہی تھی؟”
نِشہ نے شرارت سے کہا۔ جواب دینا تو دور کی بات،، وہ مسکرا بھی نہ سکی
“ارمغان کو لگا کہ تمہیں میری زیادہ ضرورت ہے، اور پھر جو صبح تم نے کال پر اتنا کہا کہ آجاؤ میرے پاس۔۔اسی لیے میں آگئی اسکی جگہ اینڈ ٹائم پر ٹکٹ ملنا بھی مشکل تھا۔ اور تم اسکا انتظار مت کرو کیونکہ وہ خود پہلے سے تمہارا انتظار میں ہے۔۔”
نِشہ نے اسکا ہاتھ پکڑا اور دونوں بینچ پر بیٹھ گئی۔ وہ اسے تفصیل سے بتا رہی تھی۔ اسکی آخری بات پر یَشل کی آنکھیں پھر سے بھرنے لگی۔ وہ کیوں نہ کرتا اس کا انتظار۔۔۔یشل نے اس سے وعدہ کیا تھا کہ وہ جلدی واپس آئے گی۔۔۔
“جواب نہیں دو گی کوئی؟”
نِشہ کو اسکی خاموشی کچھ عجیب لگی۔
“امی چاہتی ہیں میں رائد سے نکاح کرلوں۔۔۔”
وہ اسکے دونوں ہاتھوں کے درمیان اپنے ہاتھوں کو دیکھ رہی تھی۔ آواز بھر آئی تھی۔ نِشہ نے بےیقینی سے اسے دیکھا وہ اچانک ہنس دی تو یَشل نے چونک کر اسکی طرف دیکھا
“یہ مذاق تم میرے ساتھ کال پر بھی کر سکتی تھی یہاں بلانے کی ضرورت نہیں تھی۔۔۔”
مزاحیہ انداز۔۔۔کاش یہ واقعی ہی مذاق ہوتا
“ماما کی خواہش ہے کہ میں رائد سے نکاح کرلوں۔۔جب تمہاری کال آئی تو میں کسی پارک میں بیٹھی تھی۔ میرے رونے کی وجہ بھی وہی تھی”
اسنے انوشہ کو یقین دلانے کے لیے ایسا ویسا کچھ نہیں کہا۔ بس اسے تفصیل سے ساری بات بتائی اور پھر نشہ کو لگا جیسے تپتا ہوا سورج اسکے سر پر آکھڑا ہوا ہو۔ کافی دیر تک تو وہ بےیقینی کی حالت میں ہونک بنی بیٹھی رہی اور پھر اٹھ کر وارڈ میں چلی گئی۔
“کیسی طبعیت ہے آپ کی۔۔۔؟”
وہ آگے کو ہوئی اور انکا تپتا ہوا ماتھا چوما
“ٹھیک ہوں۔۔ تُم کیسی ہو میری جان؟”
نِشہ کو دیکھ کر سکینہ کو کافی خوشی ہوئی تھی۔
وہ خاموشی سے سٹریچر سے کچھ فاصلے پر پڑے صوفے پر بیٹھی۔ جواب نہ دینے پر صبیحہ نے اسے گھورا
“یہی سوال یَشل سے بھی کرلیں۔۔۔کافی تکلیف میں ہے وہ آپ کی وجہ سے”
وہ کچھ عجیب سے انداز میں بولی تو تینو عورتوں نے چونک کر اسکی طرف دیکھا
“ماں ہسپتال کے بستر پر ہو تو کِس کو تکلیف نہیں ہوتی؟”
صبیحہ کی بات پر وہ ہلکی سی مسکا دی
“وہ تکلیف تو بجا ہے لیکن۔۔۔دوسروں کی کچھ عجیب خواہشات روح کو بھی نہ صرف تکلیف دیتی ہیں بلکہ چھلنی کر دیتی ہیں”
وہ دلچسپ سی نظر سکینہ پر ڈال کر بولی۔ اسکی بات کا مطلب سمجھتے وہ نظریں چُرا گئی۔۔
“بھئی تم یہ فلاسفانہ باتیں نہیں کرو۔۔۔کون سی خواہشات؟”
عطیہ کو جیسے اسکی بات سِرے سے ہی سمجھ نہ آئی
“یہ تو خالہ ہی بتائیں گی کہ میں کون سی خواہشات ہی بات کر رہی۔۔۔”
وہ صوفے سے ٹیک لگا گئی تو دونوں عورتیں سکینہ کی طرف متوجہ ہوئیں۔ وہ تو تب سے یہی سوچ رہی تھی انہیں کیسے بتائے گی کہ وہ کیا چاہتی ہے۔
“کیا بات ہے سکینہ ؟ کس بارے میں بات کر رہی نِشہ ؟”
صبیحہ کے سوال پر سکینہ کے گلے میں گلٹی ڈوب کر اُبھری تھی۔ وہ خاوش رہی۔
“خالہ جان۔۔۔ کیوں کر رہی ہیں ایسا؟ آپ سے اس چیز کی توقعہ تو کبھی نہیں تھی۔ آپ جانتی ہیں آپ کی خواہش سے نہ صرف دو لوگوں کی زندگی خراب ہوگی بلکہ ہم سب کی بھی ویران ہو جائے گی۔۔ ہم سب نے ہمیشہ صرف یَشل کے ساتھ ارمغان کا ہی سوچا ہے۔ آپ کیسے ان دونوں کے درمیان رائد کو لا سکتی ہیں؟”
اسکی آنکھوں میں نمی اُتر رہی تھی۔ عطیہ اور صبیحہ تو نہ سمجھی میں کبھی نشہ کو دیکھتی تو کبھی سکینہ کو جو کسی مجرم کی طرح خاموش تھی۔
“رائد بیچ میں؟ ارے بھئی کیا بات ہے کچھ بتاؤ گی کھل کر؟”
صبیحہ پہیلی جیسی باتوں پھر جھلا گئی۔ یَشل اندر آئی تو سب نے اسکی طرف دیکھا۔
“خالہ چاہتی ہیں کہ یَشل عادل انکل کی بہو بن جائے۔ ان کے بیٹے سے نکاح کر کے!”
وہ اسکا لہجہ سخت سا تھا۔ ان دونوں نے بےیقینی کی کیفیت میں سکینہ کو دیکھا جس کی بھری ہوئی آنکھیں بہنے لگی تھی۔
“سکینہ۔۔۔یہ کیا کہہ رہی ہے نِشہ؟”
عطیہ نے بےیقینی سے اسے دیکھا۔ وہ یقین کر بھی کیسے سکتی تھی؟جبکہ صبیحہ کبھی سٹریچر پر لیٹی سکینہ کو دیکھتی تو کبھی یَشل کو جِس کے قدم دروازے سے کچھ فاصلے پر ہی رک گئے تھے۔ چہرا سپاٹ تھا جو نِشہ کی بات کی تصدیق کر رہا تھا اور آنکھیں۔۔۔وہ اتنا رو چکی تھی کہ آنسو اب خشک ہوگئے تھے
“ٹھیک کہہ رہی ہے نِشہ۔۔”
سکینہ ان سے نظریں چراتی صرف اتنا ہی بول سکی
“سکینہ۔۔۔کیا ہوگیا ہے تمہیں تم۔۔۔تم ایسے کیسے اپنی بے وجہ سی خواہش کا اظہار کر سکتی ہو؟”
صبیحہ نے بہت مشکل سے لہجہ نارمل رکھا اسے اپنی بہن پر حیرت ہی تو ہوئی تھی جو ہسپتال کے بستر پر لیٹی بہکی باتیں کر رہی تھی۔ سکینہ کے کچھ بولنے سے پہلے ہی عادل اندر داخل ہوا تو سب نے ہی اسکی طرف دیکھا۔ سکینہ جو کچھ بولنے لگی تھی وہ خاموش ہوگئی عادل کو عجیب سے ماحول کا احساس ہوا اسنے سب کو باری باری دیکھا جیسے سمجھنا چاہ رہا ہو کہ یہاں کیا بات ہورہی تھی لیکن صبیحہ کے اچانک مخاطب کرنے پر عادل کو اسکے سوالوں کے جواب ملے۔۔۔
“عادل بھائی یہ سب کیا ہورہا ہے؟ سکینہ سے پوچھا ہے آپ نے کہ وہ کیسی عجیب باتیں کر رہی ہے؟”
صبیحہ کی بات سمجھتے عادل نے گہرا سانس لیا
“صبیحہ بہن معاف کیجئے گا۔۔پتا نہیں اچانک کیا ہوگیا ہے اسے میں ہر طرح سے سمجھا چکا ہوں مگر مجال ہے جو سکینہ نے بات کو سمجھنے کی کوشش کی ہو بچوں کی طرح ضد کر رہی آپ ہی اب کریں کچھ۔۔یہ ساری زندگی کا معاملہ ہے”
عادل واقعی اسے بہت سمجھا چکا تھا جب سے اسے ہوش آیا تھا ان دونوں کے درمیان صرف اسی ٹاپک پر بات ہوئی تھی بلکہ بات بھی کیا ہوئی تھی؟ عادل اسے سمجھاتا رہا تھا، وہ خاموشی سے سنتی رہی تھی لیکن اپنے فیصلے سے ایک انچ بھی نہ ہلی تھی اور عادل تو حیران پریشان رہ گیا تھا اس کی بیوی نے کبھی اتنے بچکانہ فیصلے نہ لیے تھے اور اتنی ضد؟
“عطیہ۔۔مجھے معاف کردو میں نے تمہیں امید دلائی تھی، یقین دلایا تھا لیکن موت کو اتنے قریب کھڑے دیکھ کر میں خود غرض ہوگئی ہوں۔۔۔”
“سکینہ۔۔۔کیسی باتیں کر رہی ہو”
عادل نے اسے بری طرح سے ٹوک دیا باقی افراد کا دل بھی اسکی بات پر کچھ عجیب سا ہوا
“میں جانے سے پہلے۔۔ یَشل اور رائد کو ساتھ دیکھنا چاہتی ہوں”
یَشل نے آنکھیں بند کرلی۔ اپنے ساتھ رائد کا نام بھی کتنا تکلیف دیتا تھا۔
“سکینہ۔۔۔میرے دونوں بچے ٹوٹ جائیں گے”
عطیہ نے اسکا ہاتھ تھامتے جیسے دونوں بچوں کو بکھرنے سے بچانا چاہا۔ اسنے یَشل کو پالا تھا اور ارمغان اسکی سگی اولاد تھا وہ دونوں کے احساسات سے واقف تھی وہ کیسے ان دونوں کی زندگی یوں خراب ہونے دیتی؟
“سب ٹھیک ہو جائے گا وقت کے ساتھ۔۔۔”
سکینہ بول عطیہ کو رہی تھی لیکن شاید وہ تسلی اسنے خود کو دی تھی
“خالہ وقت کے ساتھ ہر چیز ٹھیک بھی نہیں ہوتی کچھ چیزیں مزید خراب ہوجاتی ہیں”
نِشہ کے لہجے میں بےبسی تھی۔ صبیحہ نے اشارے سے اسے خاموش رہنے کو کہا۔ یَشل دو قدم اٹھاتی کھڑکی کے پاس آگئی آنکھ سے نکلتے آنسو کو اسنے بری طرح سے رگڑا اسے سب سے زیادہ ڈر ارمغان کے ٹوٹ جانے کا، بکھر جانے کا ہی تھا۔ اس شخص کو کس قدر تکلیف سے گزرنا پڑے گا صرف اور صرف یَشل اور سکینہ کی وجہ سے۔ وہ تو غلطی سے بھی ارمغان کا دل دکھانے سے ڈرتی تھی اور اب شاید سکینہ کے احمقانہ فیصلے کی وجہ سے ارمغان کے دل کے ساتھ ساتھ وہ خود بھی ٹوٹ جائے گا۔ پیچھے بیٹھے افراد کے درمیان کافی دیر تک رائد اور یَشل زیرِ بحث رہے پھر سکینہ کی طبیعت کا خیال کرتے وہ سب وارڈ سے نکل آئے۔
“رائد کے کہاں؟”
نِشہ نے آہستگی سے یَشل سے سوال کیا۔۔۔
“پتا نہیں کہاں ہے۔۔نماز پڑھنے گیا تھا گھنٹا ہوگیا ہے واپس ہی نہیں آیا”
وہ اسکے نام پر بیزار ہوتی ہوئی بولی تو نِشہ نے سر ہلایا
“میرے خیال سے آپ لوگ گھر چلے جائیں تھوڑا آرام کرلیں کچھ گھنٹوں تک آجائیے گا۔”
عادل نے وارڈ سے نکلتے ہی کہا
“تم تینوں چلی جاؤ فلحال میں یہیں ہوں میری ضرورت پڑ سکتی یہاں۔۔۔”
صبیحہ نے عطیہ، یَشل اور نشہ کو مخاطب کیا ۔سردی اچانک ہی بڑھ گئی تھی یَشل کو ویسے بھی اس لان کے لباس میں رہ رہ کر سردی کا احساس ہورہا تھا اسے گھر جانا تھا تو وہ رضامند ہوگئی اور وہ تینوں گھر چلی آئی۔ فریش ہونے کے بعد اسنے کپڑے بدلے اور ملازمہ اور کچھ کھانے کا کہہ کر وہ نشہ اور عطیہ کی طرف چلی آئی جو دونوں اسی کے بارے میں بات کر رہی تھی۔ یَشل عطیہ کے پاس جاکر بیٹھ گئی اور خاموشی سے عطیہ کو دیکھنے لگی جِس کی آنکھوں میں شکوہ تھا، شکایت ناراضگی سب کچھ تھا جبکہ یَشل کی آنکھوں میں بے بسی نے ڈیرہ جمائے رکھا تھا۔ وہ چند لمحے یونہی عطیہ کو دیکھتی رہی پھر بچوں کی طرح اس سکے سینے سے لگ کر رو دی عطیہ اور نشہ ہی آنکھوں سے بھی آنسو گرنے لگے۔
“بس کرو میری بچی رونا بند کرو رو رو کر کیا حالت بنا دی ہے تم نے اپنی۔۔۔”
عطیہ نے ایک ہاتھ سے اپنے آنسو صاف کیے اور دوسرے سے اسکے بالوں میں ہاتھ پھیرتے اسے تسلی دی۔
رائد نامے پر وہ دونوں ہی یَشل ڈے گفتگو کرنا چاہتی تھی مگر انکی ہر بات کے جواب میں یَشل خاموش ہی رہی۔
☆ ★ ✮ ★ ☆
وہ کھڑکی کے پاس چئیر پر گٹھنوں کے بل کھڑی تھی۔ منڈیر پر دونوں کہنیاں ٹکائی ہوئی تھی اور ہاتھوں کا پیالہ بنائے اس میں چہرا گرائے جیسے کسی کا انتظار کر رہی تھی تبھی گارڈ نے مین گیٹ کھولا اور ایک گاڑی اندر داخل ہوئی
“بابا آگئے۔۔۔”
وہ چہک کر کہتی کوئی چئیر سے اتری اور اپنی ماں کو دیکھا جو شیشے کے سامنے کھڑی کانوں میں چھوٹے چھوٹے جھمکے پہن رہی تھی پھر بھاگتی ہوئی کمرے سے نکلی۔۔
یَشل نے خود پر ایک نظر ڈالی اور ہاتھوں سے بال سیٹ کرتی خود بھی کمرے سے باہر نکلی وہ جب تک نیچے آئی تو اسکے بابا اسے باںہوں میں اٹھائے اندر آچکے تھے۔۔۔
“السلام و علیکم۔۔۔”
“وعلیکم السلام۔۔۔لگتا ہے آج کوئی خاص دن ہے”
وہ اسکی تیاری دیکھ کر مسکرایا تو یَشل نے ایک ہاتھ کمر پر رکھا اور آنکھیں چھوٹی کرکہ اسے دیکھا۔
“میں روز ہی آپ کے لیے تیار ہوتی ہوں۔۔”
وہ ہلکا سا ہنس دیا۔ بچی کا رخسار چوم کر اسے نیچے اتارا اور دونوں ہاتھ اسکے گرد حائل کیے۔
“مگر مجھے تم روز ہر دن سے الگ۔۔اور پہلے سے زیادہ خوبصورت لگتی ہو”
وہ بلش کرتی اسکی گردن کے گرد بازوؤں کا ہار بنا گئی
“اور مجھے ایسا لگتا ہے آپ دن با دن بوڑھے ہوتے جارہے ہیں”
وہ کافی سیریس ہوکر بولی لیکن آنکھوں میں شرارت واضح تھی۔ اسنے آئیبرو اچکا کر اپنی بیوی کو دیکھا
“ہمم۔۔۔لگتا ہے عمران ہاشمی بننا پڑے گا ویسے بھی ہماری بےبی گرل کو بھی بےبی کی ضرورت ہے”
وہ پر شوخ لہجے میں بولتے اسے مزید قریب کیا اور ایک نظر صوفے پر بیٹھی اس بچی کی طرف دیکھا جو گود میں گڈا اٹھائے اسکی اماں بنی بیٹھی تھی۔ یَشل کا چہرا اسکی بات پر گلابی ہوگیا وہ جھٹ سے اسکی گردن کے گرد بندھے بازو ہٹا گئی
“لیکن مجھے ایسا لگتا ہے کہ آپ کو شرم کی ضرورت ہے۔۔۔چھوڑیں مجھے اور فریش ہو جائیں جاکر”
وہ اپنی شرم مٹاتی اپنا آپ چھڑوانے لگی لیکن سامنے والے کا ارادہ نہیں تھا۔ اسنے ایک ہاتھ اسکی کمر سے ہٹا کر گردن پر رکھا اور قریب کرتے اسکے چہرے پر جھک گیا۔۔۔
وہ دور سے وہ منظر دیکھ رہی تھی۔ وہ گھر تھوڑا نیا تھا۔ اس شخص کی پشت اسکی طرف تھی۔ اس شخص کے قریب کھڑی لڑکی تو وہی تھی لیکن وہ کون تھا؟ وہ بچی کون تھی؟
وہ انہیں دیکھنا چاہتی تھی وہ کچھ دھندھلا سا منظر تھا۔ اسنے آنکھیں میچ کر کھولی۔ اب وہ دونوں بچی کے ہمراہ کمرے میں جارہے تھے۔ اسنے اس شخص کو دیکھنا چاہا اور آنکھیں مسلی لیکن پھر آنکھیں کھولتے ہی تیز روشنی آنکھوں سے ٹکرائی تو اسکی آنکھیں چندھیا گئی وہ دوبارہ آنکھیں بند کرگئی۔ بند آنکھوں پر پڑنے والی دھوپ جیسے آنکھیں کھولنے کی اجازت نہ دے رہی تھی۔ وہ رخ بدل گئی اور آنکھیں کھولیں۔ سامنے دیوار تھی جِس پر کچھ پینٹنگز لگی تھی اور واشروم کا دروازہ۔ اسکا دماغ بیدار ہونے لگا۔ وہ خواب دیکھ رہی تھی۔۔ایک خوبصورت خواب لیکن خواب کیسا تھا؟ وہ اٹھ کر بیٹھی اور ذہن پر زور دینے لگی۔ خواب کا ایک ایک سین اسکے دماغ میں چلنے لگا تو نیند جیسے بھک سے اُڑی۔۔۔واشروم کا دروازہ کھلا اور نشہ باہر آئی
“میرا ارادہ تمہیں اٹھانے کا ہی تھا شکر ہے تم خود اٹھ گئی۔ فریش ہو جاؤ ہمیں ہسپتال جانا ہے پچھلے دو گھنٹوں سے تم سورہی ہو”
انوشہ بولتی ہوئی شیشے کے سامنے کھڑی ہوئی اپنا جھوڑا کھولا اور کمر تک آتے بالوں کو کنگی کرنے لگی۔ یَشل ویسے ہی گم سم خاموشی سے بیٹھی رہی
وہ لڑکی یقیناً میں تھی مگر وہ دونوں کون تھے؟
وہ ایسے کئی سوالوں کے جواب ڈھونڈھنے میں مصروف تھی جب نِشہ نے دوبارہ اسے پکارا
“تم بھی نیند سے اٹھتے ہی بس زون آوٹ ہوجایا کرو۔۔۔ارے بھئی جاؤ نہ اور آبی سے بات کرو بہت شکایت ہے اُن کو تم سے”
نِشہ کی بات پر اسنے گہرا سانس لیا۔ اسکی آبی سے کئی بار بات ہوئی تھی مگر بہت مختصر سی اسکا ارادہ تھا انہیں کال کر کہ لمبی گفتگو کا مگر سکینہ کی پریشانی میں ذہن سے نکل گیا۔ بکھرے بالوں کا ہاتھ سے ٹھیک کرتی وہ واشروم چلی گئی۔ نظر باتھ ٹب پر گئی تو وہ خود کو روک نہ سکی نیم گرم پانی سے ٹب کو بھرا اور اس میں بیٹھ گئی۔ پانی میں ڈوبا آدھا وجود سکون میں تھا مگر ذہن۔۔جس کو پرُسکون کرنا چاہتی تھی وہ نہیں تھا۔
سنورنا، بچی، مرد، خوبصورت گھر، چھوٹی موٹی خستاخیاں وہ چھوٹا سا خواب اپنے آپ میں سب کچھ لئیے ہوئے تھا ہر سوال اور اس کا جواب بھی۔ پھر وہ کیوں الجھ رہی تھی؟ آدھا گھنٹا وہ اس ٹب میں بیٹھی رہی اور اس آدھے گھنٹے میں اس خواب کے علاؤہ کوئی خیال اسے چھو کر بھی نہیں گزرا تھا۔۔
☆ ★ ✮ ★ ☆
“کیا وہ میرا شوہر تھا؟”
وہ آبی سے بات کر رہی تھی رائد والی بات نشہ پہلے ہی انہیں بتا چکی تھی جس پر آبی نے اسے کافی لیکچر بھی دیا کہ اسے پریشان ہونے کی ضرورت نہیں۔ اس کے بعد وہ سارا خواب سوائے چند باتوں کے انہیں بتا چکی تھی اور اب یَشل کو انتظار تھا کہ آبی اسے خواب کی تعبیر بتائیں
“ہاں۔۔نہ صرف شوہر وہ بیٹی بھی تمہاری تھی”
ان کی بات پر یَشل کے پیٹ گدگدی سی ہوئی
“لیکن۔۔مجھے ایسا خواب پہلے کبھی نہیں آیا اور کتنا عجیب سا خواب تھا میری تو شادی ہوئی بھی نہیں اور اس میں ایک بچی بھی تھی”
یَشل شاید ہی کبھی کسی خواب کی وجہ سے اس قدر الجھی ہو بلکہ اسے تو خواب یاد بھی نہیں رہتے تھے اور اس کے خواب ہوتے بھی ایسے ہی تھے جِس کا نہ تو سر ہوتا تھا نہ ہی پیر۔ صرف دھڑ ہوتا تھا وہ بھی ٹیڑھا میڑھا جو کبھی اس کے سمجھ میں نہ آئے تھے لیکن یہ خواب اسے اچھی طرح سے یاد تھا نہ صرف یاد تھا بلکہ بلا کی طرح ذہن میں چپک ہی گیا تھا۔
“یَشل تمہیں نہیں لگتا کہ تمہارے خواب کا تعلق سکینہ کی خواہش سے ہے؟”
آبی کچھ دیر کی خاموشی کے بعد بولی تو یَشل الجھی اور انکی بات پر غور کیا اور اسکے ذہن میں ایک جھماکا ہوا
“آبی۔۔۔اس بات کا کیا مطلب ہے؟”
وہ جیسے تصدیق کرنا چاہ رہی ہے تھی کہ جو وہ سمجھ رہی کہا آبی وہی بولنا چاہ رہی ہیں؟
“مطلب وہی جو تم سمجھ رہی ہو۔۔۔”
یَشل خاموش ہوگئی
‘کیا وہ۔۔۔وہ خواب والا شخص رائد تھا؟”
وہ ذہن میں آنے والا یہ سوال زبان پر نہیں لانا چاہتی تھی مگر وہ ایسا نہ کرتی تو یقیناً وہ الجھی رہتی۔
“دیکھو میری جان۔۔تم چاہتی ہو میں تمہیں خواب کا مطلب بتاؤں۔ میری عمر زیادہ ہے، میں نے دنیا دیکھی ہے میرا تجربہ ہے مگر اس بات کا یہ مطلب تو نہیں کہ میں خوابوں کی تعبیر کر سکتی ہوں۔ لیکن پھر بھی۔۔۔جو خواب تم بتا رہی، جِس خوبصورتی سے بتا رہی اور پھر جو حالات چل رہے۔۔مجھے ایسا لگتا ہے یہ خدا کی طرف سے دیا گیا ایک اشارہ ہے کہ تم خوش رہو گی آنے والی زندگی میں۔۔”
یَشل کا دل چاہا وہ کال کاٹ دے۔ آبی کی ٹہرے ہوئے لہجے میں کہی گئی باتیں جیسے اسکے دماغ پر ہتھوڑے مار رہی تھی وہ اسے نئی الجھن میں دھکیل رہی تھیں۔ آبی اسے وہ سب بول رہی تھی جو نہ تو وہ سوچنا چاہتی تھی نہ ہی سننا چاہتی تھی۔
“میں جانتی ہوں تمہیں میری باتیں بہت بری لگ رہی ہونگی لیکن میری بچی میں صرف تمہیں تمہارے سوالوں کے جواب دے رہی تمہاری الجھنیں ختم کر رہی اور تمہارے لیے آسانی پیدا کرنے کی کوشش کر رہی تمہارے خواب پر اپنے خیالات ظاہر کر رہی۔ کیا تمہیں ایسا نہیں لگا کہ وہ خدا کی طرف سے بھیجا گیا کوئی پیغام ہے؟”
وہ خاموش تھی بلکل خاموش وہ انکو جواب بھی نہ دے سکی۔۔ ہر شخص اسے نئی الجھنوں میں ڈال رہا تھا۔ ساتھ تو سب تھے مگر سب کی اپنی ہی باتیں تھی ایسے میں اسکا دماغ ماؤف ہورہا تھا۔۔۔
☆ ★ ✮ ★ ☆
رات کے دو بج رہے تھے۔ وہ سونے کی ہر کوشش کر چکی تھی لیکن نیند آنکھوں سے کوسوں دور تھی۔ وہ بیزار ہوتی ہوئی بیڈ سے اٹھی۔ الماری کھول کر اس میں سے اپنا کالج بیگ نکالا اور اس میں رکھی ڈائیری نکالی۔ ایک نظر سوئی ہوئی قرت پر ڈال کر کمرے سے نکلی اور بالکونی میں آگئی۔ اُس نے لائیٹ جلائی۔ کمرے کی نسبت باہر تھوڑی ٹھنڈک تھی۔ وہ بادلوں میں نظر آتے چاند کو دیکھتی جھولے پر بیٹھ گئی۔ ڈائیری کھولی اور لکھنے کا ارادہ ترک کرتی اپنا لکھا پڑھنے لگی۔
“ڈراموں اور فلموں میں دکھانے والی خوبصورت لو سٹوریز دیکھ کر میرے دل میں بھی خواہش ہوتی تھی کہ مجھے بھی محبت ہو اور میری کہانی کا اختتام بھی خوبصورتی سے ہو۔ لیکن میں جانتی نہیں تھی کہ محبت کسے کہتے ہیں۔ اور جب میں نے محبت کا مطلب سمجھا تو میں نے خود کو تمہاری محبت میں گرفتار پایا۔ میرا کبھی ارادہ نہیں تھا اس قدر تم سے پیار کرنے کا لیکن یہ ہمارے بس میں تو نہیں ہوتی نہ۔
کب کس کے نام سے دل دھڑکنے لگ جائے۔۔یہ سب تو خدا کی کرنی ہوتی ہے۔ میں نہیں جانتی تھی محبت کا احساس کیسا ہوتا ہے۔ جب میں نے وہ محسوس کیا تو مجھے وہ دنیا کا سب سے خوبصورت احساس لگا۔ لیکن بعد میں میرے دل میں ڈر بیٹھ گیا کہ تم مجھے نہیں ملو گے۔ میں نے خود کو روکنا چاہا لیکن میں نے خود کو مکمل طور پر تمہاری محبت میں دھنسا ہوا پایا۔
میں بے اختیار ہی خدا سے ہر دعا میں تمہیں مانگنے لگی۔ ساری ساری رات جاگ کر تمہیں سوچا۔ جب بھی بارش ہوئی، جب بھی کریسنٹ مون دیکھا، جب جب مجھے لگا کہ مجھے دعا کرنی چاہیے اور میری دعا قبول ہوگی تو میں نے صرف یہی دعا کی کہ مجھے تم مل جاؤ اور مجھے لگتا تھا کہ جتنے دل سے میں تمہیں مانگتی ہوں تُم مجھے مل بھی جاؤ گے۔
لیکن اب۔۔اب مجھے ایسا نہیں لگتا۔ تمہیں یَشل کے ساتھ دیکھ کر میرا دل جلتا ہے ارمغان۔ تمہیں وہ کیوں نظر آتی ہے؟ تم میرا وجود کیوں نظر انداز کر دیتے ہو؟ میں تو ڈر جاتی ہوں اقرار نہیں کر پاتی لیکن تمہیں کیوں نہیں سمجھ آتا میرا پیار؟ میرے پاس ہر چیز ہے ارمغان سوائے تمہارے۔ لیکن مجھے کچھ نہیں چاہیے مجھے صرف تُم چاہیے ہو اور کسی بھی چیز کی ضرورت نہیں لیکن تُم۔۔صرف تُم”
وہ بھیگی آنکھوں سے پڑھتی جارہی تھی۔ آنکھوں سے آنسو ٹوٹ کر کاغذ پر گرے۔ اسکی لکھی تحریر ختم ہوئی لیکن اُسکے نیچے لکھے وہ جملے دیکھ کر عزہ کا سانس رُک گیا۔
“سُنا نہیں ہے تُم نے؟ اگر سب کچھ مل جائے گا زندگی میں تو تمنا کِس کی کرو گے؟ بائے دا وے۔۔ موبائل کی سکرین ٹھیک کروا لی تُم نے؟ پیسے کم تو نہیں تھے نہ؟”
اسکا دل بھی رُک گیا تھا۔۔یہ کیا تھا؟ اُسنے تو بہت دن بعد ڈائیری کھولی تھی اور یہ سب اُسنے تو ہرگز نہیں لکھا تھا۔۔۔
وہ سوچ رہی تھی جب دماغ میں ایک جھماکا سا ہوا
پارک میں ڈائری کا رہ جانا تو عام سی بات تھی لیکن صبح ڈائری کا وہاں نہ ہونا اور شام میں اسی بینچ پر موجود ہونا عام بات تو ہرگز نہیں تھی۔ اور موبائل ٹھیک کروانا؟ کیا یہ وہی شخص تھا جس سے وہ اُس دِن ٹکرائی تھی؟
عِزہ کا دل ڈوب کر اُبھرا
“وہ میرا پیچھا کر رہا ہے؟ اُسنے میری ڈائری پڑھی؟”
اُس نے خود سے سوال کیا پھر اُٹھ کھڑی ہوئی۔ آگے پیچھے اوپر نیچے ہر جگہ وہ کچھ دیکھنے لگی۔ دل میں خوف پیدا ہوا تھا کہ کہیں وہ آسیب کی طرح یہاں بھی نہ موجود ہو۔ وہاں کوئی نہ تھا تسلی کرتی وہ واپس بیٹھ گئی۔ اب چہرے پر خوف کی جگہ غصہ تھا۔۔
“کمینہ لچا لفنگا واحیات انسان مجھے کہیں نظر آجائے پیسے منہ پر نا مارے تو میرا نام بھی عِزہ خان نہیں۔۔۔”
وہ بڑبڑائی اور پین اُٹھا کر کچھ لکھنے لگی
“خیرات میں دے دی تمہاری دولت۔۔”
اُسنے پین کو واپس ڈائری میں پٹخا اور ڈائری بند کردی۔۔۔
