Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Muntazirat Hastam (Episode 05)

Muntazirat Hastam by Neha Imtiaz

‎”بابا۔۔۔کہاں ہیں آپ؟”

‎شام کے ساڑھے چھ بج رہے تھے آج قِرت کی کالج میں پارٹی تھی اور وہ کب سے ڈرائیور کا انتظار کر رہی تھی مگر بیس منٹ گزر چکے تھے کالج تقریباً خالی ہو چکا تھا ڈرائیور ابھی بھی نہیں آیا تھا اوپر سے اندھیرا۔۔اُس کی سب دوستیں بھی جا چکی تھی۔۔

‎”میں تو دوست سے ملنے آیا ہوں بچے۔۔۔کیا ہوا خیریت؟”

‎عدنان صاحب اُسکے لہجے میں پریشانی محسوس کر چکے تھے

‎”بابا ڈرائیور انکل ابھی تک نہیں آئے اتنی دیر ہوگئی ہے میں پارٹی پر آئی تھی آج بھول گئے کیا آپ۔۔۔”

‎وہ کالج کے گیٹ کے اندر ہی کھڑی یہاں وہاں ٹہلتے ہوئے بولی۔

‎”ارے۔۔۔میرے تو ذہن سے نکل گیا اُس نے مجھے کہا تھا کہ وہ تمہیں پِک نہیں کر سکتا اُس کی بیوی کی طبیعت ٹھیک نہیں تھی۔۔ائی ایم سو سوری بچے۔۔۔”

‎عدنان صاحب کی بات سُن کر وہ پہلے سے زیادہ پریشان ہوگئی کیونکہ گارڈ اُسے پچھلے بیس منٹ میں تین بار کہہ چُکا تھا کہ جلدی جاؤ اُسے گیٹ لاک کرنا ہے اور پتا نہیں کیا کیا۔۔۔

‎”بابا میں آنلائن کیب بُک نہیں کروا سکتی اِس ٹائم نیٹ پیکج نہیں ہے میرے پاس۔۔پلیز کچھ کریں”

‎آج موسم بہت زیادہ ٹھنڈا تھا شاید بارش ہونی تھی ہر طرف ٹھنڈی ہواؤں کا راج تھا اور اِس سچویشن میں وہ پہلے کبھی نہ پڑی تھی تبھی وہ کافی گھبرا گئی تھی۔۔۔

‎”اچھا میں افہام یا ارمغان کو کال کرتا ہوں مجھے تو آپ کے کالج تک آنے میں دیر لگ جائے گی۔۔”

‎عدنان صاحب کی بات سُنتے اُس کی پریشانی تھوڑی کم ہوئی۔۔۔

‎”ہاں افہام۔۔۔بابا آپ چھوڑیں بس میں خود ہی افہام بھائی کو کال کردیتی۔۔”

‎وہ بول کر جلدی سے کال کاٹ گئی اور افہام کا نمبر ڈائل کیا۔ دوسری بیل پر ہی کال ریسیو کرلی گئی

‎”ہاں جی جناب؟ گھر نہیں پہنچی تُم ابھی تک”

‎کال اٹینڈ کرتے ہی افہام نے پوچھا وہ آدھا گھنٹا پہلے ہی آفس سے گھر آیا تھا تو عطیہ بیگم سے پتا لگا تھا کہ وہ راستے میں ہوگی لیکن ابھی تک نہ آنے پر وہ پوچھنے لگا۔۔

‎”نہیں وہ ڈرائیور لینے نہیں آیا،،تبھی میں نے آپ کو کال کی ہے پلیز پلیز مجھے لینے آجائیں سارا کالج خالی ہوگیا ہے مجھے ڈر لگ رہا ہے۔۔”

‎وہ یہاں وہاں دیکھتی ہوئی بولی۔۔ کالج کی خالی عمارت دیکھ کر ویسے ہی اُسے خوف آرہا تھا اور وہاں موجود گارڈ۔۔وہ بیشک بوڑھا تھا اور شریف بھی لیکن وہ اکیلی لڑکی تھی اِس وقت ڈر لگنا تو عام سی بات تھی۔۔۔

‎”تُم کالج کے گیٹ سے باہر مت نِکلنا میں ابھی آتا ہوں۔۔”

‎افہام بولتا ہوا جلدی سے اُٹھا گاڑی کی چابی اُٹھائی اور تیز سپیڈ میں اُس کے کالج کا رُخ کیا۔۔موسم چینج ہونے کے باعث اندھیرا بھی ہوگیا تھا اوپر سے قِرت کی آواز میں خوف واضح تھا وہ پریشان ہوگیا تھا۔۔۔

‎” بیٹا۔۔بہت دیر ہوگئی ہے مجھے گھر بھی جانا ہے مہربانی کرکہ باہر جاؤ میں گیٹ بند کروں وقت نہیں ہے میرے پاس ٹیکسی پکڑ لو۔۔۔”

‎گارڈ کے پانچویں دفع کہنے پر وہ چھوٹے چھوٹے قدم اُٹھاتی باہر آگئی اور گارڈ نے اندر جاکر دروازہ بند کرلیا۔۔روڈ پر صرف اِکا دُکا گاڑیاں ہی تھی۔ ٹھندی ہوائیں اُسے کانپنے پر مجبور کر گئی وہ گیٹ کے ساتھ لگے دو بینچز میں سے ایک پر بیٹھ گئی۔تبھی ایک بائیک اُس سے کچھ فاصلے پر آرُکا۔ قِرت نے آنکھ اُٹھانے کی بھی غلطی نہ کی

‎”ایکسکیوز می؟ کین آئی ہیلپ یو؟ کسی ٹیکسی کا انتظار کر رہی ہیں تو اِس ٹائم بلکل بھی نہیں مِل سکتی آئیں میں آپ کو لِفٹ دے دیتا ہوں۔۔”

‎وہ لڑکا قِرت کے قریب کھڑا ہوکر بولا تو اُسکی ٹانگیں خوف اور سردی سے کانپنے لگی

‎”نہ۔۔نو تھینکس۔۔۔”

‎وہ بولتی ہوئی دل ہی دل میں آیت الکرسی پڑھنے لگی

‎”ارے آجاؤ نہیں کھاؤں گا یقین رکھو۔۔”

‎وہ لڑکا بولتا ہوا اُس کی کلائی پکڑنے ہی لگا تھا جب اُس نے ہاتھ میں پکڑا کِلچ پوری قوت سے اُسکے سر پر مارا

‎”میں نے کہا نہ کہ نہیں چاہیے ہیلپ کمینے انسان۔۔۔۔گارڈ انکل”

‎قِرت اپنے کانپتے ہوئے وجود کے ساتھ بینچ سے اُٹھی لڑکے کو دھکا دیا اور گارڈ کو پُکارنے لگی۔۔ وہ لڑکا خونخوار نظروں سے قِرت کو گھورتا ہوا اُس کی کلائی پکڑ گیا تو قِرت دوبارا گارڈ کو بُلانے لگی۔ تبھی ایک گاڑی وہاں آکر رکی۔۔ سامنے کا منظر دیکھ کر افہام طوفان کی طرح گاڑی سے اُترا۔۔لڑکے نے گاڑی رُکتے ہوئے دیکھی تو بائیک کی طرف بھاگا مگر افہام اُس کا کارلر پیچھے سے دبوچ چکا تھا۔ افہام نے پوری طاقت سے اُس کی کمر میں کہنی ماری اور کھنیچ کر بائیک سے اُتارا تو لڑکا بائیک سمیت زمین بوس ہوا۔ افہام مختلف گالیوں سے نوازتا اسکے منہ پر تھپڑ اور مکوں کی برسات کرنے لگا پھر اُس کی نظر کانپتے ہوئے قِرت کے وجود پر گئی تو وہ اُس کی طرف آیا اُسکو بازو سے پکڑتا گاڑی میں بٹھایا اور خود ڈرائیونگ سیٹ سنبھال کر اُس روڈ سے نِکل آیا چند لمحوں بعد ایک سنسان سے راستے پر اُس نے گاڑی روکی اور قِرت کی طرف دیکھا جو سر جھکائے رونے میں مصروف تھی

‎”جب میں نے کہا تھا کہ باہر نہیں نِکلنا تو تم کیوں نِکلی۔۔۔”

‎وہ شدید غصے میں چِلایا تھا قِرت پہلے ہی خوفزدہ تھی افہام کے غصے پر اُس کی پشت گاڑی کے دروازے سے جا لگی اور رونے میں مزید شدت آگئی

‎”اگر میں وہاں بروقت نہ آتا تو اندازہ بھی ہے کیا ہوتا؟ سوچنا بھی نہیں چاہتا میں اِس سے آگے “

‎وہ بول کر اُسکے کانپتے وجود کو دیکھنے لگا۔ اسٹیرنگ ویل پر گرفت سخت ہوئی تھی اُس کا غصہ کم نہیں ہو رہا تھا

‎”میں۔۔میں نہیں نِکل رہی تھی۔ وہ ۔۔گارڈ نے زبردستی کہا کے باہر جاؤ۔۔باہر جاؤ تو مجھے۔۔آنا پڑا”

‎وہ رونے کے درمیان سسکیاں لیتی ہوئی بولی اور منہ اوپر کرکہ افہام کی طرف دیکھا۔۔سٹریٹ لائٹ کے نیچے گاڑی کھڑی ہونے کے باعث وہ اُس آنسوؤں سے تِر چہرا اور اُس پر موجود خوف اچھے سے دیکھ سکتا تھا۔۔۔افہام نے گہرا سانس لے کر چشمہ اُتارا اور ڈیش بورڈ پر پھینکا

‎”اچھا ریلیکس ہو جاؤ کچھ بھی نہیں ہوا۔۔رونا بند کرو”

‎کچھ دیر بعد افہام نے نرمی سے بولا لیکن قِرت نے جیسے کچھ سُنا ہی نہیں۔۔ افہام نے اُسکے کانپتے ہاتھوں کو اپنے ہاتھوں میں لیا اور ہلکا ہلکا مسل کر اُسے ریلیکس کرنے لگا جس میں وہ کامیاب بھی ہوا۔ اب وہ پہلے کی طرح کانپ نہیں رہی تھی اور گہرے سانس لے کر خود کو رونے سے روک بھی رہی تھی

‎”آپ۔۔آپ نے بلاوجہ مجھ پر۔۔غصہ کیا میں جان بوجھ کے نہیں۔۔نِکلی تھی”

‎رونے کی وجہ سے ابھی تک ہچکیاں بندھی ہوئی تھی وہ بغیر اُس کی طرف دیکھے شکایت کرنے لگی

‎”آئی ایم سوری۔۔لیکن قِرت یار میرا غصہ کرنا نہیں بنتا تھا کیا ؟ اگر میں دو منٹ لیٹ ہوجاتا تو؟ اور مجھے تم نے گارڈ والی بات بھی بعد میں بتائی۔۔”

‎وہ اُسے دیکھتا ہوا بولا جِس کا سر دوبارا جھک گیا تھا

‎”ہاں تو پہلے آپ نے مجھ سے پوچھا تھا کیا؟؟”

‎قِرت بھرائی ہوئی آواز میں بولی۔۔ وہ افہام کی طرف دیکھ بھی نہیں رہی تھی،،شاید ہاتھ پکڑنے کی وجہ سے

‎”اچھا ٹھیک ہے آئ ایم سوری۔۔۔میں نیکسٹ ٹائم ضرور پوچھوں گا لیکن انشاءاللّٰہ ایسا کچھ دوبارا نہیں ہوگا،،کہیں بھی جانا ہو یا آنا ہو تو تُم مجھے یا ارمغان کو بتانا۔۔ڈرائیور کی کلاس تو میں لیتا ہوں۔۔”

‎افہام اُسکے ہاتھ پر دباؤ ڈالتا ہوا بولا تو قِرت نے ڈرائیور کے نہ آنے کی وجہ اور عدنان صاحب سے ہوئی بات اُسے بتا دی ۔

‎”جو بھی ہو۔۔میں نے جو کہا ہے وہ سُن لو اور رونا نہیں ہے اب گھر میں سب پریشان ہو جائیں گے۔ بہتر یہی ہے یہ ساری بات ہم دونوں کے بیچ رہے۔۔”

‎افہام گاڑی سٹارٹ کرتا ہوا اُس سے بولا وہ نہیں چاہتا تھا کہ گھر والے پریشان ہو کر اُس سے تفصیل مانگنے بیٹھ جائیں۔ افہام کی بات سُن کر قِرت نے سر اثبات میں ہلایا۔۔۔وہ ٹِشو سے چہرا صاف کرنے لگی اور چُپکے سے ایک نظر افہام پر ڈالی جو ایک ہاتھ سے ڈرائیونگ کر رہا تھا اور دوسرے ہاتھ سے ابھی تک قِرت کے ہاتھ کو گرفت میں لیے ہوئے تھا وہ بےاختیار ہی آنے والی مسکراہٹ کو دبا گئی مگر دِل کا کیا کرتی جو زور سے دھڑکا تھا۔۔

‎”اگلی بار دوپٹے کے بغیر نہ دیکھوں میں تمہیں۔۔”

‎افہام نے گاڑی پورچ میں کھڑی کی تو قِرت دروازہ کھول کر باہر نِکلی اور افہام کی آواز اُسکے کانوں میں پڑی۔ قِرت نے چہرا موڑ کر افہام کو دیکھا جو اُسکی طرف نہ دیکھ رہا تھا۔ اُسکا لہجہ چبھتا ہوا نہیں تھا۔ نہ ہی اُس میں غصے کی کوئی رمق تھی۔ افہام نے بہت عام سے لہجے میں کہا تھا مگر قِرت کو حددرجہ شرمندگی نے آن گھیرا وہ پل میں وہاں سے غائب ہوئی تھی

☆ ★ ✮ ★ ☆

‎”چلیں آپ مجھے کچھ وقت دیں میں آپ کو بتا دوں گی۔۔۔جی جی ٹھیک ہے۔۔ اللّٰہ حافظ”

‎”کِس سے بات کر رہی تھی۔۔”

‎عطیہ نے فون بند کیا تو لاونج میں داخل ہوتی صبیحہ نے اُن کے آخری جملے سُن کر پوچھا

‎”مسسز شکیل۔۔۔حاجرہ کی کال تھی۔۔”

“‎حاجرہ نے کیسے یاد کرلیا آج”

‎صبیحہ چائے کا کپ اُن کے سامنے رکھتی ہوئی بولی اور خود بھی صوفے پر براجمان ہوگئی

‎”کافی ضروری کام کے لیے کال کی تھی انہوں نے۔۔۔وہ اپنے بیٹے عبداللہ کے لیے قِرت کا ہاتھ مانگ رہی ہیں مجھے تو سمجھ ہی نہیں آرہا کچھ”

‎عطیہ حاجرہ کی بات سن کر واقعی تھوڑی الجھ گئی تھی اُن کے تو وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ وہ قِرت کا رشتہ مانگیں گی۔

‎”اس میں نہ سمجھنے والی کون سی بات ہے عطیہ۔۔ قِرت ابھی چھوٹی ہے اُسے سکون سے پڑھنے دو”

‎”وہی کہا میں نے بھی باجی۔ لیکن وہ کہہ رہی ہیں کہ چھوٹی موٹی رسم کرنے میں برائی ہی کیا ہے گھر میں بات تہ ہوجاتی”

‎عطیہ کی بات پر صبیحہ چند لمحے خاموش ہوگئی

‎”ویسے چھوٹی سی رسم کرلینا بھی ٹھیک ہے اجکل تو لوگ عزہ جتنی لڑکیوں کی منگنیاں کردیتے ہیں۔۔لیکن قِرت سے نہیں پوچھو گی کیا “

‎صبیحہ چائے کا گھونٹ بھرتے ہوئے بولی

‎”ظاہر ہے قِرت سے تو پوچھوں گی اُسکی پسند نہ پسند تو ویسے بھی ضروری ہے فلحال میں اُسے اِس کشمکش میں ڈالنا ہی نہیں چاہتی ابھی ابھی تو اُسکے پیپرز ہوئے ہیں بچی آرام تو کرے۔۔۔ اُسکی ابھی اتنی عُمر بھی تو نہیں کم از کم گریجویشن تو ہو ہی جائے”

‎عطیہ نے خیالات ظاہر کیے تو صبیحہ نے بھی اُسکی بات سے اتفاق کیا

‎”ارے رشتے سے یاد آیا۔۔ دیکھ رہی ہو افہام اور انوشہ کو۔ افہام سے تو اتنی دفع کہا ہے کوئی لڑکی پسند ہے تو بتا دو مگر مجال ہے جو وہ اپنی پسند ظاہر کرے اور نہ ہی میری پسند کی ہوئی لڑکیاں اچھی لگ رہی اُسے اور نِشہ بی بی کی تو شادی کے نام سے جان جارہی ارے بھئی میرے بھی ارمان ہیں یقین کرو عطیہ اتنے اچھے اچھے گھرانوں سے رشتے آئے ہیں مگر دونوں بہن بھائی ہیں کہ میری سُن ہی نہیں رہے”

‎صبیحہ افہام کے نخروں سے تو سہی معنوں میں بیزار ہوئی تھی خدا جانے کونسی روم کی شہزادی کا انتظار تھا اُسے۔ صبیحہ نے جس انداز میں بات کہی تھی عطیہ بےاختیار ہی مسکرا دی

‎”کیوں ٹینشن لے رہی ہیں جب نصیب ہوگا انشاءاللّٰہ ہو جائیں گی شادیاں بھی۔ افہام ابھی شادی کے لیے تیار نہیں ہوگا جب اُس نے کرنی ہوئی تو خود ہی دیکھنا کیسے تنگ کرے گا چھوڑیں ابھی زندگی انجوائے کرنے دیں اُسے”

‎عطیہ کی بات پر صبیحہ بھی ہنس دی تبھی اندرونی دروازہ کھول کر قِرت اندر داخل ہوئی اور جلد بازی میں سیڑھیوں کی طرف بڑھی

‎”ارے قِرت اتنی دیر کیوں لگا دی تُم نے آنے میں”

‎عطیہ کی آواز پر قرت کے قدم رُک گئے

‎”وہ ماما ڈرائیور انکل نہیں آئے تھے تو میں نے افہام بھائی کو کال کردی ابھی ان ہی کے ساتھ آئی ہوں۔۔۔”

‎”اچھا جاؤ کپڑے چینج کرو کھانا کھا لو “

‎عطیہ کی بات پر وہ سر نفی میں ہلا گئی

‎”بھوک نہیں مجھے ابھی بہت تھکی ہوئی سونا ہے مجھے”

‎قرت بولتی ہوئی سیڑھیاں چڑھنے لگی

‎”ارے چائے تو پی لو۔۔”

‎صبیحہ نے پیچھے سے آواز دی جس پر وہ “موڈ نہیں” بول کر وہاں سے گُم ہوئی تھی

‎”توبہ ہے بھئی جس دن چائے نہ بناؤ تو اُس دِن چیختی پھریں گی کے چائے کیوں نہیں بنائی۔۔”

‎صبیحہ نے سر نفی میں ہلایا تو افہام اندر آیا۔۔۔

‎”مجھے دے دیں اُس کی چائے سر درد کر رہا۔۔۔”

‎افہام بولتا ہوا صوفے پر بیٹھا تو صبیحہ اُٹھ کر کچن چلی گئی

☆ ★ ✮ ★ ☆

یشل آج کچھ دوستوں سے ملنے یونیورسٹی گئی تھی اور وہیں سے واپسی پر وہ نِشہ کو بھی پِک کر کہ اپنے ساتھ ہی لے آئی تھی۔۔۔

‎”یَشل کب سے فون بج رہا ہے تمہارا۔۔۔”

‎نِشہ نے لاونج سے ہانک لگائی۔ آبی بالوں میں تیل لگا کر اُسکی مالش کر رہی تھی جبکہ یَشل کچن میں نِشہ کی فرمائش پر پاستا بنا رہی تھی

‎”یار نِشہ میں نہیں جاسکتی پلیز تُم چیک کرلو”

‎اُسکی آواز پر آبی کے مالش کرتے ہاتھ رٗک گئے تو وہ اُٹھی اور کمرے میں آگئی بیڈ پر پڑا فون اُٹھایا تو ان نون نمبر دیکھ کر اُسنے کال اٹینڈ کی فون کان سے لگایا اور اگلے کے بولنے کا انتظار کرنے لگی مگر دوسری طرف موجود شخص کی بات سُن کر اُسے شدید جھٹکا لگا تھا اور دوڑتی ہوئی باہر آئی

‎”یَشل۔۔۔ یَشل وہ۔۔ عادِل انکل کی کال تھی”

‎اُسکے چِلانے پر یَشل جلدی سے ہاتھ دھوتی باہر آئی

‎”کیا ہوگیا ہے نِشہ۔۔۔سب ٹھیک ہے نہ کیا کہہ رہا تھا عادِل”

‎آبی کی آواز پر اُس نے اُنکی طرف دیکھا پھر ایک گہرا سانس لے کر خود کو پینک ہونے سے روکا

‎”آبی وہ سکینہ خالہ۔۔اُن کا چھوٹا سا ایکسیڈنٹ ہوگیا ہے وہ ہسپتال میں ہیں..”

‎”ایکسیڈنٹ؟؟؟”

‎یَشل پر چند سیکنڈ کے لیے سکتہ تاری ہوگیا وہ ہوا کی تیزی سے نِشہ کی طرف آئی اُسکے ہاتھ سے فون لیا اور عادِل کو کال بیک کی

‎” کیا ہوا ماما کو؟ وہ ٹھیک تو ہیں نہ؟”

‎عادِل کے کال پک کرتے ہی وہ جلدی سے بولی اُسکے چہرے سے ہوائیاں اڑ رہی تھی

‎”یَشل۔۔ٹینشن نہیں لو سکینہ کا ایکسیڈنٹ ہوا ہے وہ ہسپتال میں ایڈمٹ ہے تُم زیادہ پریشان مت ہو بچے اور۔۔آبی کے ساتھ لاہور آجاؤ”

‎اُنکی بات سُنتے یَشل نے جلدی سے کال کاٹی اور نشہ کی طرف مڑی

‎”نشہ۔۔ ماموں کو کال کرو جلدی سے انہیں کہو کہ آبی اور میری لاہور کی ٹکٹس کنفرم کریں جلد از جلد مجھے ماما کے پاس جانا ہے۔۔۔”

‎اُسکی آواز کانپ رہی تھی اور آنسو لڑیوں کی صورت چہرے پر بہہ رہے تھے۔ اپنی بات مکمل کرتی وہ اپنے کمرے میں چلی گئی تاکہ آبی اور اپنا کچھ ضروری سامان اُٹھا سکے

☆ ★ ✮ ★ ☆

‎” ابو۔۔۔اتنی لمبی ڈرائیو ہے میں آپ کے ساتھ چلتا ہوں”

‎اِس وقت شام کے سات بج رہے تھے اور سب عدنان صاحب کے گھر ہال میں موجود تھے اتنی ارجنٹ بیسز پر ٹکٹ نہ ملی تھی اور عدنان صاحب خود بھی لاہور جانا چاہتے تھے سو وہ خود گاڑی پر یَشل اور صبیحہ کے ساتھ لاہور کی طرف روانہ ہونے لگے تھے۔ آبی بھی جانا چاہتی تھی مگر اُنکی ناساز طبیعت ہرگِز انہیں اتنے لمبے سفر کی اجازت نہ دے رہی تھی۔ تبھی ارمغان نے اُنکے ساتھ جانے کا کہا

‎”نہیں ارمغان۔۔گھر پر تمہارا اور افہام کا ہونا ضروری ہے تُم لوگ ہماری فکر مت کرو بس گھر پر سب کا خیال رکھنا ڈرائیور بھی نہیں ہے اور ہاں۔۔۔شاید ہادی بھی کچھ دِن تک گھر کا چکر لگائے گا”

‎عدنان صاحب کی بات پر وہ کچھ سوچ کر سر ہلانے لگا

‎”ڈرائیور نہیں ہے؟ وہ کہاں گیا؟”

‎سوال نِشہ نے کیا تھا لیکن باقی سب کی آنکھوں میں بھی یہی سوال تھا۔۔

‎”نِکال دیا ہے اُسے۔ ہر دوسرے دِن چھٹی کر لیتا ہے۔ عِزہ اور قِرت کو کالج سے پِک کرنے میں مسئلہ ہوجاتا ہے۔ پیسے پورے کام ادھورے۔۔ایسے تھوڑی ہوتا ہے”

‎جواب افہام نے دیا جس پر قِرت کو کچھ دن پہلے والا واقعہ یاد آگیا وہ افہام کو دیکھنے لگی مگر افہام نے سرا سر اگنور کیا۔۔

‎”لیکن۔۔۔میرا کالج تو ختم ہی ہو گیا ہے مسئلہ اتنا زیادہ بھی نہیں تھا۔ اُسے تھوڑا سا ڈانٹ دینا کافی نہیں تھا کیا؟”

‎وہ دیکھ تو عدنان صاحب کو رہی تھی مگر افہام جانتا تھا کہ وہ اُسے سُنا رہی ہے

‎”تمہارا کالج ختم ہوگیا ہے تو کیا ہوا تُم نے یونیورسٹی میں ایڈمیشن نہیں لینا کیا؟”

‎وہ اُس سے سوال کر رہا تھا

‎”ابھی میرا ارادہ نہیں۔۔۔شاید بریک لے لوں”

‎وہ نہیں جانتی تھی اُسنے جھوٹ کیوں بولا۔ وہ اپنا بریک لینے والا اِرادہ تُرک کر چکی تھی اور مختلف یونیورسٹیز میں اپلائی بھی کر چکی تھی۔

‎”جاؤ نشہ۔۔ یَشل کو بُلا لاؤ نکلنا چاہیے اب۔۔”

‎صبیحہ کی آواز پر وہ اُٹھنے ہی لگی جب ارمغان کے اشارے پر واپس بیٹھ گئی

‎”میں بُلا لاتا ہوں اُسے کچھ بات بھی کرنی ہے”

‎وہ بولتا ہوا حال سے نِکل کر کمرے میں آگیا جہاں یَشل اور عِزہ تھی

‎”تُم باہر جاسکتی ہو۔۔۔؟”

‎کمرے میں آتے ہی ارمغان نے عِزہ سے کہا تو وہ دونوں ارمغان کو دیکھنے لگی۔۔عِزہ کو عجیب سے شرمندگی محسوس ہوی وہ خاموشی سے باہر نِکل گئی تو ارمغان یَشل کے سامنے بیٹھا جو شاید کچھ دیر پہلے رو رہی تھی

‎”میری کوشش تو یہی تھی کہ میں بھی ساتھ چلوں لیکن افہام اور میرا یہاں رُکنا ضروری ہے۔ تُم پلیز اپنا خیال رکھنا اور فِکر مت کرنا پھپھو کو کچھ نہیں ہوگا۔۔”

‎ارمغان نے یَشل کو دیکھتے ہوئے کہا تو وہ سر ہلانے لگی۔ آنکھیں پھر آنسوؤں سے بھر آئی اور کھارا پانی رخساروں پر بہہ نِکلا

‎”یَشل یار۔۔۔کیوں رو رہی ہو عادِل انکل نے کہا تو ہے کہ سکینہ پھپھو ٹھیک ہیں پھر کیوں رو رو کہ خود کو ہلکان کر رہی ہو”

‎ارمغان نے بولتے ہوئے انگوٹھوں کے پوروں سے اُسکے آنسو صاف کیے۔ یَشل نے نظر اُٹھا کر اُسے دیکھا تھا جو آنکھوں میں پریشانی لیے اُسی کو دیکھ رہا تھا

‎”میرا دِل بہت گھبرا رہا ہے۔۔”

‎وہ پھر سے رونے کی تیاری کرنے لگی تو ارمغان نے گہرا سانس لیا اور اُسکے مزید قریب ہو کر بیٹھا تو وہ گھبرائی۔ ارمغان ںے بےاختیار ہی اُسے اپنے سینے سے لگایا۔ آنسوؤں کے ساتھ ساتھ وہ سانس لینا بھی بھول گئی۔ ارمغان کی حرکت پر اُسکی دھڑکن تیز ہوئی تھی وہ شاید زندگی میں پہلی بار اُسکے اِس قدر قریب تھی

‎”یَشل میری جان اللّٰہ پر بھروسہ رکھو پھپھو بلکل ٹھیک ہونگی اور خدا نخواستہ اگر انکی طبیعت ٹھیک نہ بھی ہوئی تو انشاءاللّٰہ وہ ٹھیک ہو جائیں گی اور تم جا تو رہی ہو اُنکے پاس اُنکا خیال رکھنا نا۔۔”

‎وہ پیار سے ایک ہاتھ اسکے بالوں پر پھیر رہا تھا اور دوسرے ہاتھ میں موجود اسکے ہاتھ کی پشت انگوٹھے سے سہلا رہا تھا۔ یَشل کو ٹھنڈے پسینے آنے لگے جند لمحوں بعد وہ آہستگی سے اس سے دور ہوئی۔

‎”تُم بھی اپنا خیال رکھنا۔۔۔”

‎وہ اُسکی طرف دیکھے بغیر بولی۔ اُسکے نظریں چُرانے پر ارمغان مسکرا دیا

‎”واپس کب آؤ گی۔۔۔”

‎ٹشو پیپر اُسکی طرف بڑھاتے ہوئے ارمغان نے سوال کیا۔ وہ رخسار اور ناک صاف کرنے لگی

‎”پتا نہیں۔۔۔ ایک مہینے میں یونیورسٹی شروع ہونے والی ہے۔ انشاءاللّٰہ جلدی آجاؤں گی اگر ماما کی طبیعت ٹھیک ہوئی تو “

‎”پکا پرومس؟ جلدی آؤ گی نہ۔۔”

‎ارمغان کے سوال پر وہ بےاختیار ہی ہلکا سا ہنس دی۔ اٗسکا انداز ہی ایسا تھا

‎”پکا والا پرومس آجاؤں گی میں۔۔”

‎وہ مسکرا کر بولی تو ارمغان نے اُسکا گال کھینچا۔

‎”اچھا چلو اُٹھو سب انتظار کر رہے ہیں تمہیں اب نکلنا چاہیے۔۔”

‎وہ دونوں اُٹھے اور کمرے سے نِکل گئے

‎”کیا دیکھ رہے ہو۔۔۔”

‎ارمغان کچھ محسوس ہونے پر رُک گیا اور پیچھے مڑ کر دیکھنے لگا جس پر یَشل نے سوال کیا

‎”نہیں کچھ نہیں۔۔لاؤ یہ مجھے دے دو”

‎اُسکے ہاتھ سے سامان لیتا وہ ہال میں آگیا

☆ ★ ✮ ★ ☆

“اِس ٹائم کِس کو کال کر رہی ہو۔۔۔”

آج ہفتے کا دِن تھا اور افہام کا آف تھا۔وہ کچھ دیر پہلے اُٹھا تھا۔ اُس نے نِشہ کو صحن میں ٹہلتا ہوا دیکھا تو اُسی کی طرف چلا آیا اور سوال کرنے لگا۔ نشہ نے بےدلی سے فون بند کیا اور چئیر پر بیٹھ گئی

“یَشل کو کر رہی ہوں۔۔ابھی تک تو پہنچ گئے ہوں گے کال پِک نہیں کر رہی وہ”

“تو ماموں یا ماما کو کرلو۔۔”

افہام کی بات پر نِشہ نے اُسے یوں دیکھا جیسے اُس کے پاس دماغ نہ ہو

“تمہیں لگتا ہے میں نے نہیں کی ہوگی؟”

“آپ کہہ کر بات کیا کرو مجھ سے۔۔۔”

افہام نے اُسے گھورا تو وہ آنکھیں گھُما کر رہ گئی

“اچھا ٹینشن نہیں لو وہ کال دیکھیں گے تو خود ہی کر لیں گے۔ جاؤ مجھے چائے بنا دو”

افہام نے اُس پر آرڈر جاری کیا تو انوشہ ائیبرو اچکا کر اُسے دیکھنے لگی

“ہنہہ۔۔حکم نہیں دو زیادہ تھکی ہوئی ہوں میں جاکر خود بنا لو”

وہ بولتی ہوئی چئیر سے اُٹھی اور اندر چلی گئی۔

“آدھا دِن بھی نہیں گُزرا ابھی سے شہزادی تھک گئی ہے۔۔۔ہنہہ”

اُسنے ہنکار بھرا۔۔وہ جیسے ہی اندر آئی تو اُسکی نظر عِزہ پر گئی

“عزہ۔۔افہام کو چائے بنا دو”

انوشہ بولتی ہوئی عطیہ کے کمرے میں چلی گئی

“آپی۔۔دیکھ نہیں رہی آپ کہ میں کام کررہی ہوں،،پلیز خود بنا لیں یا پھر قِرت سے کہہ دیں”

عزہ نے مصروف انداز میں پیچھے سے ہانک لگائی جسے نشہ نے سراسر نظر انداز کیا

“عِزہ۔۔تُم بنا لو قِرت کی اپنی طبیعت نہیں ٹھیک سورہی ہے شاید وہ۔ میرے لیے بھی ایک کپ بنا دو”

آبی کی بات پر کتابیں بند کرتی وہ اُٹھ کھڑی ہوئی اور کچن چلی گئی

☆ ★ ✮ ★ ☆

“کیا۔۔۔اور یہ بات مجھے آپ اب بتا رہے ہیں؟؟”

وہ ہسپتال کے کوریڈور میں موجود تھی سولہ گھنٹے کے سفر کے بعد وہ صبح تقریباً گیارہ بجے کراچی سے لاہور پہنچی تھی اور یہاں آتے ہی جو خبر اُسے ملی وہ اُسکے پیروں کے نیچے سے زمین کھینچ گئی تھی۔۔۔بےیقینی کی کیفیت میں اُس نے عادِل کو دیکھا

سکینہ کا ایکسیڈنٹ نہیں ہوا تھا۔ سکینہ اپنی ایک دوست کی طرف گئی تھی،،،ویسے ڈرائیور ساتھ ہوتا ہے لیکن آج وہ خود گئی تھی اور واپسی پر گن پوائنٹ پر اُسے لوٹ لیا گیا تھا اور گاڑی کی چابی نہ دینے پر اُسے پیٹ میں گولی لگی تھی۔ گلی میں لگے کیمرا میں سب ریکارڈ ہونے کے باعث پولیس نے ایک ڈاکو تک رسائی حاصل کرلی مگر دوسرا ابھی تک فرار تھا۔ پیٹ میں گولی لگنے کی وجہ سے سکینہ کی کنڈیشن کافی کریٹیکل تھی اور وہ ائی سی یو میں تھی۔

“اور ماموں آپ۔۔ آپ نے بھی نہیں بتایا مجھے ؟”

یَشل عدنان کی طرف مڑی جن کے چہرے پر سولہ گھنٹے کی مسلسل ڈرائیو کی وجہ سے تھکن واضح تھی

“یہاں بیٹھو۔۔۔”

صبیحہ نے اُسے کندھوں سے پکڑ کر بینچ پر بٹھایا تو وہ ڈھہ سی گئی۔

“عادِل بھائی کو ہم نے ہی منع کیا تھا تمہیں بتانے سے۔ حقیقت بتا کر تمہیں پریشان نہیں کرنا چاہتے تھے۔ اور تُم ہمت کرو کچھ نہیں ہوگا سکینہ کو وہ بلکل ٹھیک ہو جائے گی دعا کرو میری جان سب ٹھیک ہو جائے گا۔۔”

صبیحہ نے اسکے آنسو صاف کیے اور اُسے سینے سے لگایا تو اُسکی جمع کی ہوئی ساری ہمت ختم ہوگئی اور وہ کسی بچے کی طرح بلک بلک کر رونے لگی۔ اپنی بھانجی اور بہن کی اِس حالت پر اُسکی آنکھیں بھی نم ہوگئی،، یہ منظر دیکھ کر لفٹ سے نِکل کر اُنکی طرف آتے رائد کے قدم وہیں رُک گئے۔ پہلے تو اُسے سمجھ نہ آیا کہ صبیحہ کے سینے سے لگی وہ لڑکی کون ہے لیکن عدنان اور صبیحہ کو دیکھ کر وہ سمجھ گیا کہ وہ لڑکی کوئی اور نہیں بلکے یَشل ریحان ہے۔ اُس نے بےاختیار ہی نچلا لب دانتوں تلے دبایا۔ اکثر رات کو اُنے والے اِس لڑکی کے خیال نے اُسے کتنا ستایا تھا شاید وہ جانتی بھی نہیں تھی۔

“رائد۔۔وہاں کیوں رُک گئے ہو”

عادِل کی آواز پر رائد ہوش میں آیا،،،عدنان اور صبیحہ نے بھی اُسکی طرف دیکھا تو وہ جلدی سے اُنکی طرف آیا

“السلام و علیکم انکل، آنٹی،،،کیسے ہیں آپ؟”

“ہم ٹھیک ہیں بیٹا تُم بتاؤ۔۔۔”

عدنان صاحب نے مدھم مسکراہٹ کے ساتھ اُسے دیکھا

“میں تو ٹھیک ہوں لیکن عدنان انکل آپ بلکل بھی ٹھیک نہیں لگ رہے مجھے۔ آپ کو ریسٹ کرنے کی ضرورت ہے اتنی لمبی ڈرائیو کے بعد ڈائریکٹ ہاسپٹل آگئے ہیں،،آپ کی طبیعت خراب ہوسکتی ہے”

رائد کی بات پر عدنان صاحب نے سر ہلکا سا انکار میں ہلایا

“ارے نہیں برخودار۔ میں بلکل ٹھیک ہوں بس معمولی سی تھکن ہے کوئی بڑا مسئلہ نہیں”

عدنان صاحب اُس کے کندھے کو ہلکا سا تھپکتے ہوئے بولے تو وہ فقط مسکرا دیا

“رائد ٹھیک بول رہا ہے عدنان۔ بلاوجہ میں اپنی طبیعت خراب کردو گے تو بہتر ہے ریسٹ کرلو میری ڈاکٹر سے بھی بات ہوگئی ہے۔ سکینہ کی کنڈیشن تھوڑی خراب ہے لیکن اُسکی کل ایک سرجری ہوگی اور انشاءاللّٰہ سکینہ ٹھیک ہوجائے گی۔ یہاں رکنے کا بھی تو کوئی فائدہ نہیں نہ”

عادِل کی بات پر سب پہلے سے زیادہ پریشان ہو گئے۔ عدنان صاحب بینچ پر یَشل کے ساتھ بیٹھ گئے اور اُسکے سر پر ہاتھ رکھا جو صبیحہ کے کندھے پر سر رکھ کر خود کو مزید رونے سے روک رہی تھی۔

سامنے والی بینچ پر بیٹھا وہ شخص مسلسل اُسی کو دیکھ رہا تھا۔ اُسکی آنکھیں آج بھی اُسی دِن کی طرح سرخ تھی، روپ سجا سنورا نہیں تھا،،،چھوٹی سے چٹیا بکھری ہوئی تھی ،،بھورے رنگ کی چادر شانوں سے پھسل کر نیچے آگئی تھی اور رو رو کر اُسکی ہچکیاں بندھ گئی تھی وہ چاہ کر بھی اُس پر سے نظر نہ ہٹا سکا

☆ ★ ✮ ★ ☆

نہ چاہتے ہوئے بھی صبیحہ اور عدنان کے ساتھ اُسے دوپہر میں ہسپتال سے گھر آنا پڑا۔ گھر آتے ہی سب سے پہلے اُسنے بیگ سے کپڑے نِکالے اور فریش ہونے چلی گئی۔ وہ واشروم سے باہر آئی تو بیڈ پر کھانے کی ٹرے اور چائے کا کپ رکھا تھا۔ پہلے والے کپڑے صوفے پر رکھتی وہ ٹرے کو تھوڑا سا سائیڈ کرتی بیڈ پر بیٹھ گئی اور کراؤن سے ٹیک لگا لی۔ بیٹھتے ہی اُسکی نیند سے بوجھل آنکھیں بند ہونے لگی۔ چند لمحے ہی گزرے تھے جب وہ اُٹھ بیٹھی اور چند نوالے زہر مارے۔ نیند کو بھگانے کی غرض سے چائے کو حلق میں انڈیلا۔ گھر والوں کا خیال آتے ہی اُسنے پرس اُٹھایا اور فون نِکال کر چیک کیا تو بیشمار کالز آئی ہوئی تھی۔ اُسنے سب سے پہلے ارمغان کو کال بیک کی جو پہلی بیل پر ہی ریسیو کرلی گئی۔

“ہیلو۔۔۔شکر ہے تُم نے کال تو کی”

یَشل کی کال دیکھتے ہی اُس نے خدا کا شکر ادا کیا

“تُم جانتے تھے کہ ماما کو گولی لگی ہے؟”

یَشل نے بغیر کسی تاثر کے سوال کیا تو وہ خاموش ہوگیا۔

“پھپھو تو ٹھیک ہیں نہ؟”

“میں جو تُم سے پوچھ رہی ہوں مجھے وہ بتاؤ”

یَشل ارمغان کا سوال نظر انداز کرتی سپاٹ لہجے میں بولی

“یَشل۔۔ہاں میں جانتا تھا لیکن یار۔۔”

وہ بول ہی رہا تھا جب یَشل نے اُسکی بات کاٹی

“لیکن کیا ارمغان؟آپ نے مجھے بتایا کیوں نہیں جانتے ہیں ماما کی حالت کتنی خراب ہے؟”

اُسکی آواز بھرائی

“میں تمہیں پریشان نہیں کرنا چاہتا تھا بڑوں نے بھی منع کردیا تھا بتانے سے”

وہ معصوم بنتا ہوا آہستگی سے بولا

“تو کیا یہاں آنے کے بعد پریشان نہیں ہوں میں؟؟ میری ماں موت سے لڑ رہی تھی اور مجھ سے سب نے جھوٹ بولا کہ وہ ٹھیک ہیں”

اُسکے لہجے میں شکوہ برقرار تھا۔ آنسو پلکوں کی باڑ توڑ کر باہر نِکلا۔

“لیکن اب تو تُم پھپھو کے پاس ہو نہ۔۔ اور ہم پہلے بتا دیتے تو لاہور پہنچتے پہنچتے پریشانی سے آدھی ہوجاتی تُم”

دوسری طرف اُسکی بات سُن کر وہ خاموش رہی اور بہتے ہوئے آنسو صاف کیے

“اچھا بتاؤ پھپھو ٹھیک ہیں؟ اور تُم؟ کھانا کھایا تُم نے ؟”

یَشل کے جواب نہ دینے پر ارمغان نے دِل میں آئے سوال کیے

“ہاں میں ٹھیک ہوں ماما بھی ٹھیک ہو جائیں گی اور میرا سر درد کر رہا ہے۔ بعد میں بات کرتے ہم۔ مُمانی اور آبی کا خیال رکھنا اللّٰہ حافظ”

اپنی بات مکمل کرتے ہی اُس نے کال کاٹ دی اور دوبارا بیڈ کراؤن سے ٹیک لگاتی آنکھیں بند کرگئی۔ ایک بار پھر اُس پر نیند تاری ہونے لگی۔ چائے کا کوئی اثر نہ ہوا تھا۔

وہ ارمغان سے مزید بات کرنا چاہتی تھی وہ جی بھر کر رونا چاہتی تھی لیکن وہ اُس سے تھوڑی ناراض تھی اور وہ ارمغان کو ہرگز پریشان نہیں کرنا چاہتی تھی۔ وہ جانتی تھی کہ ارمغان لاہور پہنچے میں ذرا دیر نہیں لگائے گا

“یَشل سے بات کر رہے تھے آپ ؟”

قِرت کی بات پر وہ اثبات میں سر ہلانے لگا اور اُسکی طرف دیکھا جو ہاتھ میں کھانا پکڑے کھڑی تھی

“بھائی۔۔۔سکینہ پھپھو ٹھیک ہیں؟ بات ہوئی ہے آپ کی بابا سے؟”

قرت نے کھانا اسکے سامنے پڑی ٹیبل پر رکھتے ہوئے سوال کیا اور ساتھ ہی بیٹھ گئی۔

“ہمم۔۔بابا سے بات ہوگئی ہے میری اور پھپھو کی طبیعت ٹھیک نہیں۔ پیٹ میں گولی لگنے کی وجہ سے اُنکا کافی زیادہ بلڈ لاس ہوا ہے اور کافی اندرونی نقصان بھی۔ کل سرجری ہے اُنکی تُم دعا کرو انشاللّٰہ وہ ٹھیک ہو جائیں گی”

ارمغان اُسے تفصیلی جواب دیتا ہوا بولا تو قِرت افسردہ ہوگئی اور آنکھوں سے خارہ پانی نکلنے لگا جسے وہ ہتھیلی سے رگڑ گئی۔ ارمغان نے اُسکا ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لیا

“قِرت بچے پریشان نہیں ہو۔۔اللّٰہ نے چاہا تو سب ٹھیک ہو جائے گا۔ مجھے یہ بتاؤ کہ ماما نے اور باقی سب نے کھانا کھایا؟”

ارمغان اپنے سامنے پڑی کھانے کی ٹرے پر ایک نظر ڈالتا ہوا بولا

“ہاں میں ابھی ماما کو کھانا دے کر آئی ہوں آبی نے بھی کھا لیا ہے بس ابھی جاکر اُن کو دوائی دے دوں گی اور۔۔آبی بول رہی تھیں کہ وہ ملتان جانا چاہتی ہیں۔۔۔”

یاد آنے پر قرت نے ذکر کیا تو ارمغان نے ہلکا سا سر ہلایا

“ہاں بابا کہہ رہے تھے کہ اُنکی ٹکٹ کروا دو وہ خود چلی جائیں گی۔۔لیکن میں سوچ رہا تھا کہ اُنکے ساتھ چلا جاؤں اور چھوڑ کر واپس آجاؤں طبیعت بھی تو اُنکی کچھ خاص ٹھیک نہیں۔۔”

“یہ بھی ہے۔۔ویسے تو ہمیشہ آنا جانا وہ خود ہی کرتی ہیں لیکن جیسے آپ کو ٹھیک لگے۔۔۔اچھا آپ کھانا کھائیں ٹھنڈا ہورہا ہے میں آپ کے لیے چائے رکھ دیتی”

وہ بولتی ہوئی اُٹھ کر دروازے کی طرف چلی گئی

“نہیں چائے پینے کا دِل نہیں کر رہا۔۔گرمی ہے کافی”

وہ کھانے کی ٹرے کو اپنی طرف سرکاتا ہوا بول تو قِرت سر ہلاتی کمرے سے نِکلنے لگی پھر ارمغان کی آواز پر رُکی

“ارے سنو۔۔۔”

“جی بھائی؟”

“لِسٹ میں تمہارا نام آگیا ہے۔۔۔”

وہ اُسے بتا رہا تھا قِرت کے ہونٹوں کو گہری مسکراہٹ نے چھوا

“جی بھائی۔۔۔اگلے ہفتے سے یونیورسٹی جوائن کرنی ہے۔۔”

اُسکی خوشی کا اندازہ ہورہا تھا۔۔۔وہ مسکرا دیا

“تُم واقعی ٹیکسی میں جاؤ گی؟ اب تو میں بھی فری ہوں تمہیں چھوڑ آؤں گا اور افہام نے بھی تو آفر ماری تھی۔۔۔”

“آپ فکر نہیں کریں بھائی میں چلی جاؤں گی ٹیکسی میں آپ کی کچھ ٹائم پہلے ہی تو یونیورسٹی ختم ہوئی ہے آپ انجوائے کریں پھر جاب بھی کرنی ہے۔۔۔”

وہ بولتی ہوئی کمرے سے نِکل گئی

ارمغان نے بےدلی سے سامنے پڑے کھانے کو دیکھا۔ یَشل کو گئے پورے چوبیس گھنٹے بھی نہیں ہوئے تھے اور اُسکی بیچینی آسمان پر تھی اوپر سے سکینہ کی ٹینشن۔ وہ بیزار سی شکل بناتا کھانا کھانے لگا۔

‏☆ ★ ✮ ★ ☆

ارمغان سے بات کرنے کے بعد اُسکی آنکھ کب لگی وہ نہیں جانتی تھی۔ لیکن جب اُسکی انکھ کھُلی تو چھ بج رہے تھے۔ وہ جلدی سے اُٹھی اور واشروم چلی گئی منہ پر پانی کے چھینٹے مار کر باہر آئی بالوں کو کلپ میں قید کیا دوپٹہ پہننے کے بعد موبائل اور اپنی پرس اُٹھاتی وہ کمرے سے نکل کر لاونج میں آئی۔ گھر میں ملازمہ کے سوا کوئی نہیں تھا۔

“وہ جِن کے ساتھ آپ آئی تھیں وہ پانچ بجے ہسپتال چلے گئے تھے۔۔۔”

ملازمہ نے اُسکو یہاں وہاں نظریں دوڑاتے ہوئے دیکھا تو اُسے بتانے لگی۔ یَشل نے اُس کی بات سُن کر سر ہلایا اور بیرونی دروازے کی طرف بڑھی مگر ملازمہ کی آواز پر رُک گئی

“ہسپتال جارہی ہیں کیا آپ؟؟”

ملازمہ نے سوال کیا

“جی ہاں۔۔وہیں جارہی ہوں”

“کچھ کھا لیتیں۔۔دوپہر میں بھی کھانا نہیں کھایا تھا آپ نے اور آپ کی طبیعت بھی ٹھیک نہیں لگ رہی مجھے۔۔۔”

” مجھے کچھ نہیں کھانا آپ بس مجھے سر درد کی گولی دے دیں”

وہ سر میں دوڑتا ہوا درد محسوس کر کہ بولی

“آپ خالی پیت دوائی کھائیں گی؟؟”

جاتے جاتے ملازمہ رُک گئی اور سوال کیا

“ہاں خیر ہے۔۔۔کچھ نہیں ہوتا”

وہ بولتی ہوئی صوفے پر بیٹھ گئی تو ملازمہ دوائی لینے چلی گئی

“آپ دس منٹ تک انتظار کر سکتی ہیں؟ وہ رائد صاحب کسی کام سے گئے ہیں انہوں نے واپسی پر ہسپتال ہی جانا تھا۔ میں اُن کو کال کردیتی تاکہ واپسی پر وہ آپ کو بھی ساتھ لے جائیں۔۔”

ملازمہ نے سہولت سے بولتے ہوئے پانی سے بھرا گلاس اور دوائی یَشل کے سامنے پڑی میز پر رکھ دی

“اُسکا احسان لینے سے بہتر ہے کہ میں پیدل چلی جاؤں”

وہ صرف سوچ سکی

“نہیں مجھے جلدی جانا ہے اُسکو زحمت دینے کی ضرورت نہیں اور ہوسکتا ہے وہ ابھی تک ہاسپٹل جا چکا ہو۔۔”

اُسنے دوائی کھائی اور پانی کا گلاس حلق میں اُنڈیل کر باہر آگئی۔ گارڈ سے اُسنے رکشہ کروانے کا بولا۔ اگلے بیس منٹ میں وہ ہاسپٹل میں انٹر ہورہی تھی۔

وہ اپنے مطلوبہ فلور پر آئی وہ لفٹ سے نکلنے ہی لگی تھی جب اُسکی نظر سامنے وارڈ کے باہر کھڑی دو ایکٹرسز پر گئی جو صبیحہ کے ساتھ محو گفتگو تھی۔ وہ ویسے ہی کھڑی رہی لفٹ بند ہوگئی اور اُسے آخری فلور پر لے گئی۔ اُسے سمجھ نہ آیا وہ کیا کرے سو وہ باہر ہسپتال کے صحن میں آگئی۔ صحن کافی وسیع تھا،، وہاں کافی لوگ موجود تھے اور کچھ مریض بھی واک کر رہے تھے وہ خاموشی سے جاکر ایک بینچ پر بیٹھ گئی۔ کچھ ہی دیر گزری تھی جب کوئی اُسکے ساتھ آکر بیٹھا،،اُسنے چہرا موڑ کر اُسکی طرف دیکھا۔ رائد خٹک۔۔ یَشل نے حیرت سے اُس شخص کو دیکھا جو ایسے بیٹھا تھا جیسے اُسکے ساتھ اور کوئی نہ ہو۔

“تُم واپس اوپر جاسکتی ہو۔۔وہ ایکٹرسز چلی گئی ہیں”

وہ بغیر اُسکی طرف دیکھے بولا۔ یَشل کو ایک لمحے کے لیے حیرت ہوئی۔

“تُم جب نیچے آئی تو میں نے تمہیں دیکھا تھا۔ پھر اوپر جاکر تمہارے واپس آنے کی وجہ معلوم ہوئی۔۔آئی مین مجھے ایسا لگا کہ شاید تُم اُس وجہ سے واپ۔۔۔”

رائد نے اپنا رُخ اُسکی طرف کیا۔ وہ ابھی بول ہی رہا تھا جب یَشل نے بات کاٹی

“ایسا کچھ نہیں ہے۔۔۔۔”

یَشل نے جلدی سے اُسکی طرف دیکھتے ہوئے اُسکی بات کو رد کیا۔

“اور میرے پیچھے آنے کی ضرورت نہیں تھی۔۔۔”

وہ اب اُس پر سے اپنی نظر ہٹا گئی

“ہیں؟؟؟”

رائد نے آنکھیں چھوٹی کر کہ حیرت کا اظہار کیا

“اور تمہیں یہ غلط فہمی کیسے ہوگئی کے میں تمہارے پیچھے آیا ہوں؟”

وہ ایک ایک لفظ پر زور دیتا ہوا بولا

“تو یہاں سیر کرنے آئے ہو کیا؟”

وہ دور وہیل چیئر پر بیٹھی ایک نوجوان لڑکی کو دیکھتے ہوئے بولی جو شاید ضبط کی آخری حدود پر تھی۔ یَشل کو ایسا لگا۔

“ہاں بلکل۔۔۔تُم بھی تو وہی کرنے آئی ہو نہ”

رائد نے آنکھیں گھمائی تو یَشل نے چہرے کا رُخ اُسکی طرف کیا

“تمہیں کِس نے کہا کہ میں سیر کرنے آئی ہوں؟؟ میں صرف ٹائم پاس کر رہی”

یَشل نے اُس فضول شخص کو دیکھا جو بلاوجہ ہی اُسکی حواسوں پر سوار ہورہا تھا۔

“مان لو نہ کہ تُم اُن کا سامنا نہیں کرنا چاہتی تھی،،،نہیں چاہتی تھی کہ وہ تُم سے کوئی بات کریں اور اُن کو پتا لگ جائے کہ تُم سکینہ عادِل کی سگی بیٹی اور میری سوتیلی بہن ہو “

وہ سامنے دیکھتا ہوا سنجیدگی سے بولا اُسکے لہجے میں اتنا یقین تھا کہ یَشل کو لگا جیسے ساتھ بیٹھا شخص اچھے طریقے سے اسکا دِل اور دِماغ پڑھ سکتا ہو۔

“وہ کوئی آدم خور نہیں تھے جِن کا سامنا کرنے سے میں ڈروں گی اور چھپتی پھروں گی،،خود سے اندازے لگانا بند کرو اور فری ہونے کی ضرورت نہیں”

وہ اپنی بات مکمل کرکہ رُکی نہیں بلکہ اُٹھ کر اندر چلی گئی۔ رائد کی نظروں نے دور تک اُس مغرور اور خودسر لڑکی کا پیچھا کیا۔۔وہ اس سے مزید بات کرنا چاہتا تھا اور وہ اسکا پیچھا کرتے ہی صحن تک آیا تھا لیکن یَشل کے تو مزاج ہی نہیں ملتے تھے۔

“”فضول کا نکھرا،، جیسے کسی محل کی شہزادی ہو ہنہہ۔۔۔کبھی اُسکو اچھا بھی لگوں گا کیا میں ؟ یا ہمیشہ اسکی نظر میں ایک بدتمیز انسان رہوں گا؟ لیکن میں نے تو کوئی بدتمیزی نہیں کی اِس کے ساتھ۔ فضول میں اوور ہوتی رہتی ہے “

وہ منہ بناتا خود سے بڑبڑایا تھا۔ چند لمحوں بعد مغرب کی آواز کانوں میں پڑی تو وہ بھی اُٹھ کر پرئیر روم میں چلا گیا

☆ ★ ✮ ★ ☆

رات کے دس بج رہے تھے جب سکینہ کو ہوش آیا تھا مگر فلحال اُس میں اتنی ہمت بھی نہ تھی کہ وہ کچھ بول سکے۔ رائد وارڈ میں داخل ہوا تو سب وہاں موجود تھے سکینہ کے بیڈ کے قریب ہی کرسی پر وہ بیٹھی تھی۔ پیلے رنگ کا دوپٹہ اسکارف کی طرح پہنا ہوا تھا اسکے چہرے معلوم ہورہا تھا کہ وہ ابھی ابھی رو کر خاموش ہوئی ہے۔ وہ گہرا سانس لیتا سکینہ کی طرف بڑھا اور اسکا سوجا ہوا ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لیا۔ سکینہ بامُشکل مسکرائی۔ تکلیف اُسکے چہرے پر واضح تھی اور رنگ زرد ہوگیا تھا۔ اپنی ماں کو دیکھتے ہی اُسکی آنکھیں بھر آئی اور ایک آنسو ٹوٹ کر گرا۔ سکینہ نے آنکھوں کے اشارے سے اُسے تسلی دی کہ وہ ٹھیک ہے۔

☆ ★ ✮ ★ ☆

“دیکھیں عادِل صاحب۔۔سرجری کامیاب ہوگی یا نہیں میں اس بارے میں کچھ نہیں کہہ سکتا،،کبھی کبھار جن سرجریز کے کامیاب ہونے کا چانس ستر پرسنٹ ہوتا ہے وہ بھی فیل ہوجاتی ہیں،،،اور اکثر ایسے معجزے بھی ہوتے ہیں کے پیشنٹس موت کو چھو کر بھی واپس آجاتے ہیں۔۔۔مختصر یہ کے زندگی اور موت تو اوپر والے کے ہاتھ میں ہے۔ ہم ڈاکٹرز اور سرجنز تو صرف اپنا بیسٹ دیتے ہیں کہ پیشنٹ کی جان بچ جائے۔ اور آپ کے پیشنٹ کی اندرونی حالت کتنی کریٹیکل ہے یہ تو او آر (آپریشن روم) میں جاکر ہی پتا لگے گا۔ لیکن اُمید ہے کے ہمیں کامیابی حاصل ہوجائے گی۔ اقبال خان بھی اچھے اور بہترین سرجن ہیں تو آپ زیادہ ٹینشن نہیں لیں اللّٰہ نے چاہا تو وہ ٹھیک ہو جائیں گی۔ آپ ان پیپرز پر سائین کردیں تاکہ ہم سرجری کی تیاری شروع کریں”

یہ وہ گفتگو تھی جو سکینہ کے ڈاکٹر، عادِل اور عدنان کے درمیان تین گھنٹے پہلے ہوئی تھی۔ عدنان عادِل اور رائد اِس وقت آپریشن روم کے باہر بیٹھے تھے۔ عدنان کے زہن میں ڈاکٹر کی کہی گئی بات گردش کر رہی تھی جب سے سکینہ او آر میں گئی تھی تب سے اُنکی جان سولی پر لٹکی تھی۔

“پریشان نہیں ہو۔ انشاءاللّٰہ سکینہ ٹھیک ہو جائے گی”

عادِل نے اپنا ہاتھ عدنان کے کندھے پر رکھا۔ وہ خود بھی ڈاکٹر سے بات کرنے کے بعد اپنی عزیز جان بیوی کے لیے کافی پریشان تھا مگر وہ ہمت نہیں ہار سکتا تھا

☆ ★ ✮ ★ ☆

“وعلیکم السلام۔۔ہاں ہم ٹھیک ہیں تُم کیسی ہو؟ اور بچے تو ٹھیک ہیں نہ؟”

یَشل نے سلام پھیر کر صبیحہ کی طرف دیکھا جس نے ابھی ابھی نماز مکمل کی تھی اور مسلسل آنے والی کال کو پِک کر کہ کسی سے بات کر رہی تھی۔ یَشل نے اُن پر سے نظر ہٹائی اور دعا کے لیے ہاتھ اُٹھائے

“یَشل تو نماز پڑھ رہی ہے۔۔۔ہاں میں اُسے کہہ دوں گی وہ بات کرلے گی”

صبیحہ نے یَشل کی طرف دیکھا جو چہرا دعا کے لیے اُٹھائے ہاتھوں میں چھپائے یقیناً رو رہی تھی

“باجی۔۔۔آبی بھی کل ملتان چلی جائیں گی تو میں سوچ رہی تھی کے لاہور آجاؤں کچھ دیر پہلے میری عدنان سے بات ہوئی ہے لیکن میری پریشانی کم ہی نہیں ہورہی اور یَشل سے بھی آج صبح بات ہوئی تھی میری بچی اتنا رو رہی تھی کتنی تکلیف میں ہوگی۔ ایک پل کے لیے بھی مجھے چین نہیں آرہا۔۔”

بولتے بولتے عطیہ کی آواز بھیگ گئی تو صبیحہ نے گہرا سانس لیا اور آنے والے آنسوؤں کو روکا

“عطیہ کیوں پریشان ہورہی ہو۔۔اور تُم یہاں آجاؤ گی تو بچے اکیلے ہو جائیں گے وہ بھی پریشان ہو جائیں گے۔ سکینہ کی خیریت کے لیے دعا کرو بس یہ سرجری خیر سے ہوجائے تو سب ٹھیک ہو جائے گا”

وہ سمجھ رہی تھی کہ یقیناً عطیہ پریشان ہوگی لیکن لاہور آنے سے اُسکی پریشانی میں کمی تو ہرگز نہیں آئے گی اور جوان بچوں کو اکیلا چھوڑ کر یہاں آنا بھی تو ٹھیک نہیں تھا۔

یَشل نے جائے نماز لپیٹا اور صبیحہ کے ساتھ آکر بیٹھی۔ صبیحہ نے اُسکے بھیگے رخسار صاف کیے اور اُسے سینے سے لگایا۔ عطیہ سے مزید چند باتیں کرکہ کال کاٹی اور یَشل کی طرف متوجہ ہوئی

“یَشل۔۔۔تم اپنا فون نہیں دیکھا کیا؟ عطیہ بتا رہی تھی کہ ارمغان تمہیں صبح سے کالز کر رہا اُس سے بات کرلو وہ پریشان ہوگا”

صبیحہ کی بات پر یَشل نے ہونٹ چبایا۔

“آپ بات کرلیں۔۔میرا دل نہیں کر رہا”

بولتے ہوئے وہ اُٹھ کر پرئیر روم سے باہر نکل گئی اور اپنا فون دیکھا تو کل سے ارمغان کی بیشمار کالز لگی ہوئی تھی۔ اُس نے باقی سب گھر والوں سے آج بات کی تھی سوائے ارمغان کے وہ اُس سے ناراض نہیں تھی مگر بس وہ فلحال اُس سے بات نہیں کرنا چاہتی تھی۔۔۔صبیحہ بھی اُس کے پیچھے چلتی ہوئی او آر کے باہر آگئی جہاں رائد، عدنان اور عادل پہلے سے موجود تھے۔ وہ دونوں جاکر بینچ پر بیٹھ گئی۔ کچھ دیر بعد اُس نے اکتا کر رائد کو دیکھا جو مسلسل یہاں سے وہاں ٹہل رہا تھا اور یَشل کو اُسکے ایسا کرنے سے شدید اُلجھن ہورہی تھی

خود پر نظروں کی تپش محسوس کر کہ اُسنے یہاں وہاں دیکھا تو نظر یَشل پر گئی کو اُسی کو گھور رہی تھی۔ دو سیکنڈ کے لیے اُسکے قدم رُکے تھے بس ایک لمحہ لگا تھا اُسے یَشل کے یوں گھورنے کی وجہ سمجھنے میں۔ وہ خاموشی سے جاکر اپنی جگہ پر بیٹھ گیا تو یَشل نے اُس پر سے اپنی نظر ہٹائی

وہ اتنا بُرا نہیں تھا مگر وہ اُسے زہر جیسا لگتا تھا کیونکہ وہ اُسکی ماں کو چھین گیا تھا۔ یَشل کے حصے کی محبت اور توجہ لے گیا تھا۔ اور نفرت کرنے کے لیے یہی وجہ کافی تھی

وہ سوچ ہی رہی تھی جب او آر کا دروازہ کھُلا اور سرجن اقبال باہر آئے۔ عادل رائد اور یَشل ایک سیکنڈ کی دیر کیے بغیر اپنی جگہ سے اُٹھ کر اُنکی طرف بڑھے

“مجھے سمجھ نہیں آرہا میں سچویشن کو لفظوں میں کیسے بیان کروں۔۔”

وہ الجھتے ہوئے بولے

“کیا مطلب ہے آپ کا؟ امی ٹھیک ہیں؟سرجری تو ٹھیک سے ہوئی نہ؟”

رائد کے سوال پر سرجن نے گہرا سانس لیا

“دیکھیں۔۔میں یہ نہیں کہہ سکتا کہ سرجری فیل ہوگئی ہے۔ مگر اُتنی کامیابی بھی حاصل نہیں ہوئی جتنی ہمیں اُمید تھی۔ ہمیں سرجری کے دوران بھی کافی کمپلیکیشنز کا سامنا کرنا پڑا لیکن مجھے یقین ہے کہ اب پیشنٹ کی حالت پہلے سے بہتر ہوگی۔۔۔لیکن وہ زیادہ عرصے تک ٹھیک نہیں رہے گی۔ انفارچونیٹلی پیشنٹ کی ایک کڈنی فیل ہوگئی ہے اور دو سرجریز کے بعد بھی جگر کی حالت میں کچھ خاص فرق نہیں آیا اور اگر۔۔۔”

“کیا مطلب ہے تمہرا؟؟ کہنا کیا چاہتے ہو تُم”

سرجن اقبال تفصیل دے ہی رہے تھے جب رائد نے چلاتے ہوئے اُسکی بات کاٹی۔۔وہ اتنی زور سے چیخا تھا کہ فاصلے پر کھڑی یَشل سہم گئی اور صبیحہ جلدی سے اُٹھ کر رائد کے پاس آئی

“رائد۔۔۔مجھے بات تو کرنے دو”

وہ رائد کو پیچھے کرتے دوبارہ سرجن کی طرف مڑے

“معاذرت۔۔۔ آپ کچھ بتا رہے تھے”

“اگر آپ اپنے پیشنٹ کی حالت کو نظر میں رکھتے ہوئے اُنکی ایک اور سرجری کروائیں گے تو شاید اُسکا کروانا، نہ کروانا ایک برابر ہوگا۔ یعنی سرجری کا سکسیس ریٹ صرف دیس سے پینتیس پرسنٹ ہوگا اور ایسا بھی ہوسکتا ہے کہ پیشنٹ مے ڈائی انڈر اینستھیسیا (patient may die under anesthesia)”

سرجن اقبال کی بات اُن سب کی سانس روک گئی تھی۔ اُنکے جاتے ہی یَشل صبیحہ کے سینے سے لگ کر رو پڑی تو وہ بھی ضبط کھو بیٹھی

“فضول کی بکواس کر رہا ہے بس۔ اگر ابھی تک ٹھیک ہیں تو آگے کیوں ٹھیک نہیں رہیں گی؟ یہ کون ہوتا ہے اِس بات کا فیصلہ کرنے والا؟ ضرور اُسنے سرجری میں کچھ غلط کیا ہوگا”

وہ غصے میں بول رہا تھا جب عدنان نے اُسے بازو سے پکڑ کر بینچ پر بٹھایا۔ ضبط کی کوشش میں اُن تینوں کی آنکھوں میں بھی سرخی گھل گئی تھی۔ اپنی جان سے بھی زیادہ عزیز بیوی کی کنڈیشن پر عادل کا دِل کٹ کر رہ گیا تھا

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *