Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Muntazirat Hastam (Episode 26)

Muntazirat Hastam by Neha Imtiaz

عدنان اور عطیہ کی تو خوشی کی انتہا نہ رہی جب صبیحہ نے افہام کے لیے قرت کا ہاتھ مانگا۔ عدنان صاحب کوئی اعتراض نہ تھا بلکہ ان کا کہنا تھا کہ اُن کی بھی یہی خواہش تھی مگر بیٹی کا باپ ہوتے وہ خاموش تھے۔

بڑوں میں رشتہ تہ ہوا تھا مگر گھر کے باقی افراد ابھی بےخبر تھے۔ انتظار سب صرف قرت اور نشہ کے اگزیمز کا تھا۔ اگزیمز ہونے کے بعد ہی گھر میں تقریب رکھی جانی تھی۔ اب تقریب نکاح کی ہوگی یا منگنی کی، یہ تہ کرنا ابھی باقی تھا۔ بڑوں میں بات ہوتے ہی عطیہ نے سب سے پہلے یَشل کا نمبر ملایا۔

“السلام و علیکم ممانی جان۔۔۔کیسی ہیں آپ؟”

دوسری بیل پر ہی اسنے کال اٹینڈ کرلی۔

“وعلیکم السلام میں بلکل ٹھیک۔۔۔تمہاری طبیعت ٹھیک نہیں کیا؟”

انہوں نے اسکی بدلی ہوئی آواز محسوس کرتے سوال کیا۔

“جی۔۔ ویسے ہی بس سردی کی وجہ سے زکام، کھانسی۔۔۔ آپ بتائیں گھر میں سب ٹھیک ہیں نہ؟”

کچھ دیر وہ ہر کسی کا حال احوال دریافت کرتی رہی پھر عطیہ نے اسے کال کرنے کا اصل مقصد بتایا۔

“میں نے تمہیں یہ بتانے کے لیے کال کی تھی کہ افہام اور قرت کا رشتہ تہ کردیا ہے ہم نے۔۔۔”

“ارے ماشااللّٰہ۔۔۔قرت نے تو مجھے بتایا ہی نہیں”

اسنے بہتی ہوئی ناک کو ٹِشو سے صاف کیا۔

“قرت کو خود نہیں پتا۔۔۔”

عطیہ نے ہنستے ہوئے بتایا۔

“بس یہ ذرا لڑکیاں پڑھائی سے فارغ ہو جائیں تو گھر میں تقریب رکھیں گے۔ میں تو عدنان کو کہہ رہی ہوں کہ ڈائیریکٹ نکاح ہی کریں دونوں بچے گھر میں ہیں منگنی سے بہتر نکاح ہے۔۔۔”

عطیہ نے اپنا نقطئہ نظر پیش کیا تو یشل نے ان کی بات سے اکتفاء کیا۔

“قرت کے پیپر کب ختم ہورہے؟” وہ پوچھ رہی تھی

“میرے خیال سے تو دو دن بعد شروع ہیں اور دو ہفتے چلیں گے تقریباً۔۔۔اسکے بعد تم بھی آجانا نہ۔۔۔”

عطیہ نے اسے آنے کی دعوت دی تھی۔ ویسے بھی اسکے بغیر اتنی اہم تقریب کیسے ہوسکتی تھی۔

“میں۔۔۔ سوچوں گی ممانی جان کنفرم کچھ نہیں کہہ سکتی”

جانتی تھی کہ اب عطیہ اسے جھڑک دے گی، ایموشنل بلیک میل بھی کرے گی اور وہ عطیہ کی باتیں سن سکتی تھی مگر وہاں جانے کا سوچ بھی نہیں سکتی تھی۔

“کیا مطلب ہے سوچو گی؟ تمہیں گھر آنے کے لیے بھی سوچنے کی ضرورت ہے؟ یَشل میں نے کان کے نیچے ایک لگا دینی ہے۔۔۔ شادی ہونے کا مطلب یہ تھوڑی ہوتا ہے کہ بندہ گھر والوں سے قطع تعلقی اختیار کرلے۔۔۔”

عطیہ خفا ہوتی اسے ڈانٹنے لگی۔

“اوہو ممانی جان کون سی قطع تعلقی اختیار کرلی ہے میں نے۔۔؟”

وہ مصنوئی ہنسی۔۔۔

“تو یہ اور کیا ہے؟ چار کالز کرو اس کے بعد تو کہیں جاکر تم کال اٹھاتی ہو اور بات کرنے کے لیے تمہارے پاس کچھ ہوتا نہیں ہے اب کراچی آنے کا کہہ رہی ہوں تو اس پر بھی تمہیں مسئلہ ہے۔۔۔ رائد نے تم پر پابندیاں لگا دی ہیں کیا؟”

عطیہ کے سوال پر اسنے صوفے پر بیٹھے لیپ ٹاپ استعمال کرتے رائد کو دیکھ کر قہقہہ لگایا۔

“وہ کیوں پابندیاں لگائے گا؟ اور آپ سے کیا ہی باتیں کیا کروں میں۔۔۔اب میری ساس اور نندیں تو ہیں نہیں جنکی برائیاں کروں آپ کے ساتھ بیٹھ کر۔۔”

رائد نے چونک کر اسے دیکھا جو اس پر سے نظر ہٹا کر بیڈ سے اٹھتی باہر کی طرف بڑھ گئی تھی۔

“شکر کرو کہ نہیں ہیں۔۔۔”

“ہوتی تو زیادہ بہتر ہوتا۔۔۔لڑائی ہی سہی مگر کچھ تو ہوتا”

وہ تھوڑی اداسی سے گویا ہوئی۔

“اوہو چھوڑو سب۔۔بھئی مجھے کچھ نہیں پتا۔۔۔جیسے ہی کچھ تہ ہوا تو تم فوراً یہاں آؤ گی ورنہ میں نے عدنان سے تمہاری شکایت لگا دینی ہے کہ دیکھ لیں اپنی لاڈلی کو۔۔وہ خود آجائیں گے تمہیں لینے۔۔۔”

عطیہ اسے دھمکی دینے والے انداز میں بولی۔ فریج سے دودھ کا ڈبا نکلاتے اسنے ایک گہرا سانس لیا۔

“کیوں میری مشکلات بڑھانا چاہ رہی ہیں آپ؟”

اسنے بےبسی سے کہا تو عطیہ چند لمحے خاموش رہی

“میں نہیں۔۔۔اپنی مشکلات تم خود بڑھا رہی ہو یشل۔۔۔ یہ ساری زندگی کا معاملہ ہے تم کب تک دور بھاگو گی؟”

وہ پیار سے اسے سمجھانے والے انداز میں بولی تو اسکے ہونٹوں پر زخمی سے مسکراہٹ آئی۔

“اچھا میں آجاؤں گی۔۔۔”

فلحال وہ ٹاپک بدلنے کے لیے یہی کہہ سکتی تھی۔

“تم نہ آؤ میں خود تمہیں لینے آجاؤں گی۔۔”

عطیہ کی بات پر وہ ہلکا سا ہنس دی۔

“اس کی ضرورت نہیں پڑے گی۔۔۔”

“اچھا رائد کا رویہ کیسا ہے تمہارے ساتھ؟”

انہوں نے اچانک سوال کیا

“بہت اچھا ہے اس کا رویہ میرے ساتھ۔۔۔”

وہ مزید بولتی عطیہ نے اسے ٹوک دیا

“یہ ”اس“ کا رویہ کیا ہوتا ہے؟ وہ شوہر ہے تمہارا ”آپ“ کہا کرو اسے۔۔”

“اوہو ممانی جان ۔۔چھوٹا ہے وہ مجھ سے مت بھولیں۔۔”

اسنے دودھ پتیلی میں ڈال کر چولہے پر رکھا۔

“چھوٹا؟ صرف تین ماہ اور شوہر، شوہر ہوتا ہے۔۔ ”آپ“ کہو گی تو اسے اچھا لگے گا۔۔”

“اسے میرا ”تم“ کہنا بھی اچھا لگتا ہے۔۔۔”

وہ مسکرا کر بولتی ہوئی پلٹی اور سلیب سے ٹیک لگائی تو دروازے کے پاس کھڑے رائد کو دیکھ کر ٹھٹھک گئی جو ڈور فریم سے ٹیک لگائے سکون سے کھڑا یقیناً اسکی باتوں پر ہی مسکرا رہا تھا۔

“اور تم اچھی لگتی ہو اسے؟”

انہوں نے چھیڑنے والے انداز میں کہا تو وہ مسکرائی۔

“نہیں۔۔۔وہ کہتا ہے میں اسے بہت بری لگتی ہوں۔۔۔”

اسکی بات پر رائد نے آنکھیں پھاڑ کر اسے دیکھا

“رہنے دو یَشل۔۔۔اسکی آنکھوں میں تمہارے لئیے جو پیار تھا نہ وہ کسی سے چھپا نہیں تھا۔۔۔”

ان کا لہجہ ابھی بھی شریر تھا۔ انکی بات سنتی یَشل کچھ کہہ ہی نہ سکی اور خاموشی سے سامنے کھڑے رائد کو دیکھتی رہی جو اس وقت بھی اسے بڑی نرمی سے دیکھ رہا تھا۔ اب عطیہ اسے کچھ بتا رہی تھی جسے وہ غیر حاضر دماغی سے سن رہی تھی مگر نظریں ابھی بھی رائد پر ہی تھی جو اسکی نظروں سے محظوظ ہوتا مسکرا رہا تھا۔

“دودھ جلانے کے لیے چولہے پر رکھا ہے کیا؟”

وہ چولہے کی طرف بڑھتا ہوا بولا تو یَشل نے چونک کر چولہے پر پتیلی میں پڑے دودھ کو دیکھا جو پک پک کر گاڑھا ہوگیا تھا۔

“اوہ۔۔میں بھول گئی۔۔۔”

دوسری طرف کچھ بولتی ہوئی عطیہ رکی۔۔

“مجھے دیکھنے میں جو مصروف تھی۔۔۔”

وہ دودھ کے ڈبے سے اب پتیلی میں تھوڑا اور دودھ ڈال رہا تھا۔ رائد کی بات پر یَشل جھنپ گئی جبکہ فون کی دوسری طرف عطیہ اسکی بات سنتی مسکرائی تھی

“اچھا چلو پھر بات ہوتی ہے۔۔خیال رکھنا اپنا”

عطیہ کو فون بند کردینا بہتر لگا۔ الوداعی کلمات ادا کرتے اسنے کال منقطع کی۔ وہ فون کان سے ہٹا کر وہیں کھڑی رائد کو کافی بناتے دیکھنے لگی جو بڑے انہماک سے ایک کپ میں کافی مکس کر رہا تھا۔

“رائد۔۔۔”

اسنے بےاختیار ہی اسے پکارا تو وہ سوالیہ نظروں سے اسے دیکھنے لگا۔۔۔

“تمہیں میں کیسی لگتی ہوں۔۔۔؟”

شاید وہ خود بھی نہیں جانتی تھی اسنے یہ سوال کیوں کیا تھا۔ رائد مسکراہٹ روک کر کام میں مصروف رہا اور وہ جواب کی منتظر رہی۔ کافی دونوں کپس میں انڈیل کر، دونوں کپاس وہیں شیلف پر چھوڑ کر وہ چند قدم چلتا اسکے پاس آیا۔

“تمہارا سوال ہونا چاہیے کہ کیا مجھے تم سے محبت ہے؟”

دونوں ہاتھ دائیں بائیں شیلف پر ٹکاتے اسے قید کیا۔

“اور تم جانتی ہو مجھے تم سے بےپناہ محبت ہے۔۔”

رائد نے جھک کر اسکا دائیاں گال چوما۔

وہ ویسے ہی اسے تکتی رہی جیسے ارمغان کو دیکھا کرتی تھی مگر آج وہ ارمغان نہیں۔۔۔رائد کو ہی دیکھ رہی تھی۔

“اوفف یَشل۔۔اب رونے مت لگ جانا۔۔”

اسکی آنکھوں میں چمک دیکھ کر وہ بولا اور پیچھے سے اسکے سر پر ہاتھ رکھتا اسے سینے سے لگا گیا۔ آنکھ سے موتی نکلتا اسکی شرٹ میں جذب ہوا تھا۔ رائد کو لگا تھا وہ اس کے اقرار محبت پر رو رہی تھی مگر یہ اقرار تو وہ بہت بار کر چکا تھا۔ یہ آنسو تو اس ملامت پر آئے تھے جو رائد کے منہ سے اقرار سن کر اسکے دل نے کیا تھا۔

☆ ★ ✮ ★ ☆

“ہیلو السلام و علیکم۔۔۔”

اسنے ان نون نمبر سے تیسری بار آتی کال اٹینڈ کرکہ فون کان سے لگایا۔

“وعلیکم السلام۔۔کیسی ہو؟”

وہ فوراً آواز پہچان گئی تھی۔ چند لمحے منہ سے کوئی لفظ ادا نہ ہوا۔

“میں ٹھیک ہوں آپ کیسے ہیں؟”

اُسنے فوراً لہجہ نارمل کیا مگر دوسری طرف موجود شخص اسکی کیفیت سمجھ گیا تھا۔

“بلکل ٹھیک۔۔پہلے جیسا۔۔۔”

“آپ کو میرا نمبر کہاں سے ملا؟”

اسنے دل میں پیدا ہونے والا سوال کیا۔

“تمہارا نمبر ڈھونڈنا میرے لیے اتنا مشکل کام تو نہیں۔۔۔”

وہ ہونٹ چپا کر رہ گئی۔

“میں تم سے ملنا چاہتا ہوں۔۔۔”

وہ اسکی خاموشی محسوس کرکہ بولا۔

“کیوں۔۔۔؟”

اسکی بات بہت غیر متوقع تھی مگر اسنے لہجے کا اعتماد گڑبڑانے نہ دیا۔

“ملنے کے لیے کوئی وجہ ہونا ضروری تو نہیں۔۔۔”

“ضروری ہے۔۔”

“پہلے بھی تو بغیر کسی وجہ کے ملتے رہے ہیں۔۔”

اسکی بات سن کر وہ سانس روک گئی پھر آہستگی سے سانس ہوا میں خارج کیا۔ دوسری طرف وہ اسکے جواب کا منتظر تھا۔ اسے لگا تھا وہ اب مان جائے گی، اسے لگا وہ دوسری طرف موجود لڑکی کو ہمیشہ کی طرح لاجواب کرگیا مگر ایسا نہیں ہوا تھا۔

“پہلے تعلق تھا۔۔۔”

تین لفظوں پر مشتمل کڑک جواب پر اسنے آنکھیں بند کی تھی۔ آنکھوں کے سامنے حسین ملاقاتوں کے منظر لہرا گئے۔

“کیوں ملنا چاہتے ہیں آپ مجھ سے۔۔۔؟”

کوئی جواب نہ ملنے پر اسنے دوبارہ سوال کیا۔

“مِلو گی تو بتا دونگا۔۔”

“کال پر ہی بتا دیں۔۔۔”

اس سے ملنا کتنا مشکل ہوسکتا تھا وہ اچھے سے جانتی تھی۔

“پلیز انوشہ۔۔۔ میں تمہیں کھا نہیں جاؤں گا”

اسکے منہ سے اپنا پورا نام سن کر وہ کمزور پڑی اور بےجان سی ہوتی صوفے کی پشت پر اپنا سر گرا گئی۔

” مجھے سوچ کر بتا دو۔۔۔ امید ہے تم انکار نہیں کروگی۔۔۔”

وہ چند لمحے اسکے جواب کا انتظار کرتا رہا پھر کال کاٹ گیا۔

آنکھ کے کونے سے آنسو نکل کر کنپٹی پر پھسلتا بالوں میں جزب ہوگیا۔

“مِل لو۔۔۔آخری بار”

دل کے کسی کونے سے آواز تھی۔

☆ ★ ✮ ★ ☆

شہروز عالم۔۔۔اربینہ کی خالہ کا اکلوتا بیٹا چوبیس سال کا تھا جب اسکی ملاقات بیس سالہ انوشہ سے ہوئی تھی۔ یہ ملاقات بھی اربینہ کی بدولت ہوئی تھی۔ شہروز اکثر ہی اسکو یونیورسٹی سے پِک کرنے آتا رہتا تھا۔ وہ اسکے انتظار میں انوشہ اور افہام کے ساتھ گیٹ کے باہر کھڑی رہتی اور بینا کے جانے کے بعد وہ اپنے گھر کی طرف روانہ ہوتے۔ اس دوران انوشہ کی شہروز سے اچھی سلام دعا ہو گئی تھی مگر ایک دن اسے اسی طرح ان نون نمبر سے کال آئی تھی اور کال اٹینڈ کرنے پر وہ شہروز کا نمبر معلوم ہوا۔

کال کرکہ وہ اس سے اسکی ڈگری کے بارے میں ہی پوچھتا رہا ساتھ ہی دو چار یہاں وہاں کی باتیں بھی کرلی۔ انوشہ کو یہی لگا کہ وہ اسکی ڈگری کے بارے میں جاننا چاہ رہا اور اسی لیے اسنے بینا سے اسکا نمبر لیا تھا مگر در حقیقت یہ دوستی کی شروعات تھی جو شہروز نے ایک بہانے سے کی تھی۔

ان کی دوستی سے افہام اور بینا بھی واقف تھے مگر یہ دوستی اتنی گہری نہ تھی کیونکہ نِشہ بہت ریزروڈ رہتی تو اسکے قریب ہونے میں ویسے بھی کافی وقت لگتا تھا اور پھر شہروز جاب کرتا تھا یہ بھی ایک وجہ تھی ان کے درمیان موجود فاصلے کی مگر شہروز یہ فاصلہ ختم کردینا چاہتا تھا اسی لئیے اسنے ایک دن نشہ سے ملنے کا فیصلہ کیا۔ شہروز نے نشہ کو کال کرتے اسے لنچ کی آفر کی۔ کچھ دیر انوشہ کشمکش کا شکار رہی اور پھر اسنے ہامی بھر لی۔

“میں تمہیں پسند کرتا ہوں۔۔۔”

نشہ نے بےیقینی کی کیفیت میں اسے دیکھا۔

“جب سے میں تم سے ملا ہوں تب سے۔۔ ناچاہتے ہوئے بھی میں تم سے ایک فاصلے پر رہا کیونکہ میں نہیں چاہتا تھا تم مجھے فلرٹ یا دل پھینک سمجھو لیکن تمہارے لیے مجھے دل پھینک ہونا پڑا۔ ہمیں ایک دوسرے کو جانتے ہوئے محض چار ماہ ہی ہوئے ہیں مگر محبت تو پہلی نظر میں ہی ہوجاتی ہے اور مجھے تم سے پہلی نظر میں ہی محبت ہوگئی تھی۔۔۔”

وہ بغیر آنکھیں جھپکائے اسے دیکھتی چلی گئی۔ سانس کے ساتھ پورا وجود بھاری سا محسوس ہوا۔

“مجھے تمہارے ساتھ کی ضرورت ہے۔۔۔ساری زندگی کے لیے”

“مگر مجھے آپ کے ساتھ کی ضرورت نہیں ہے۔۔۔”

اسنے بےاختیار ذہن میں آنے والا پہلا جملہ بولا تو سامنے بیٹھے شخص کو لگا کسی نے منہ پر تھپڑ دے مارا ہو۔

“معذرت کرتی ہوں اگر آپ کو میری بات بری لگی۔۔

آپ مجھ سے محبت کرتے ہونگے مگر میں نہیں کرتی۔ میں آپ کو جھوٹی امید نہیں دلا سکتی۔۔۔”

وہ سپاٹ چہرے کے ساتھ سنجیدگی سے بولی۔ لہجہ تلخ نہیں تھا، نہ ہی اس میں غصہ تھا مگر شہروز کے دل میں تکلیف کی ٹیس اٹھی تھی۔

“شہروز ہم بہت اچھے دوست ہیں۔۔۔”

وہ ہلکی آواز میں بولتی اپنا چہرا جھکا گئی تھی اور لہجہ نرم سا ہوا تھا۔

“میں ایک اچھا دوست نہیں کھونا چاہتی۔۔۔”

اسکا دل کسی نے مٹھی میں جکڑا تھا مگر یہ کہنا بھی ضروری تھا۔

“تم سوچ تو سکتی ہو اس بارے میں۔۔۔ تمہارا دوست کہیں نہیں جائے گا نشہ تم مجھے پہلے جیسا ہی پاؤ گی۔۔۔”

وہ خاموش رہی تھی۔

“سوچا جاسکتا ہے۔۔۔”

وہ ویسے ہی جھکے سر کے ساتھ بولی تھی۔ شہروز کو جیسے امید ملی

“مگر میں سوچنا نہیں چاہتی۔۔۔میں ہار جاؤں گی”

نشہ اسکی آنکھوں میں دیکھتی ہوئی بولی تھی مگر شہروز اسکی بات پر الجھ گیا وہ نا سمجھی سے اسے دیکھنے لگا کہ وہ اپنی بات سمجھائے گی مگر ایسا نہیں ہوا۔ ان دونوں کے درمیان خاموشی کا وقفہ آیا تھا اور پھر وہ ویٹر کے کھانا سرو کرنے سے پہلے ہی اٹھ گئی تھی۔ بھاری قدم، بھاری دل اور الجھے ذہن کے ساتھ وہ ریسٹورنٹ سے نکل آئی تھی اور پیچھے شہروز کو بھی الجھون کے ہجوم میں چھوڑ آئی تھی۔

شہروز کا لگا تھا جو فاصلہ وہ ختم کرنا چاہ رہا تھا وہ دس منٹ میں تگنا ہوگیا تھا۔ وہ جسے قریب لانا چاہ رہا تھا وہ دور ہوئی تھی مگر ایسا نہیں ہوا تھا۔ خدا نے اسکی سن لی تھی۔

تین ہفتے گزر گئے تھے سکون کی نیند نصیب نہ ہوئی تھی کیونکہ اسکا دل بیچین تھا مگر پھر تین ہفتے بعد یونیورسٹی میں اچانک ہی شہروز سے ملاقات ہوئی تو بیچین دل بےاختیار ہی دھڑک اٹھا۔ وہ بینا کو پِک کرنے آیا تھا مگر وقت سے پہلے ہی آگیا تھا تو وہ اندر آکر کیفے میں بیٹھ گیا اور وہیں ان دونوں کی ملاقات ہوئی۔ وہ اسے کچھ کہہ رہا تھا مگر نشہ اسکی بات مکمل ہونے سے پہلے کیفے سے نکل آئی۔ اپنی دلی کیفیت پر وہ خود گھبرا گئی تھی مگر کیفے سے نکلتے ہی دل میں ندامت نے سر اٹھایا تھا۔ اسے کتنا برا لگا ہوگا شہروز کو انوشہ کا یوں نکل آنا۔ اسکا دل کیا اپنا سر دیوار میں دے مارے مگر وہ معذرت کرنے واپس نہیں گئی تھی۔

گھر پہنچنے تک دل ندامت سے بھر گیا تھا۔ دل کے ہاتھوں مجبور ہوتے اسنے شہروز کا نمبر ڈائل کیا۔ اسے لگا تھا وہ روکھے پن کا مظاہرہ کرے گا مگر دوسری طرف اسنے ویسے ہی خوشگواری سے بات کی تھی جیسے وہ ہمیشہ سے کرتا آیا تھا۔ ندامت کچھ اور بڑھ گئی تھی۔ اس رات محبت کا اظہار یاد کرتی وہ بےتہاشہ روئی تھی اور کہیں نہ کہیں شہروز کی محبت قبول نہ کرنے پر وہ پچھتا رہی تھی کیونکہ وہ اپنے دل میں پیدا ہونے والی محبت سے بےخبر نہ تھی۔

انوشہ نے اپنے اور اسکے درمیان سب ٹھیک کرنے کی کوشش کی تھی اور اس کوشش میں وہ کامیاب ہوئی تھی اور وہ دونوں پہلے سے زیادہ کلوز ہوگے تھے۔ اسنے شہروز کے لیے اپنی پسندیدگی ظاہر نہیں کی تھی مگر وہ بھی اسکے دل کے حال سے بےخبر نہ تھا اور وہ اکثر ہی باتوں باتوں میں یہ بات ظاہر بھی کردیتا کہ وہ اسکی دلی کیفیت سے واقف ہے اور پھر نشہ کا خاموشی ہوجانا، جھنپ جانا یقین دہانی بھی کروا دیتا۔

شہروز اور بینا کی شادی کا سن کر نِشہ کو بہت بڑا جھٹکا لگا تھا۔ شہروز نے اسے کبھی یہ نہیں کہا تھا کہ وہ انوشہ سے شادی کرے گا مگر مبہم سی امید دلائی تھی۔ مگر پھر اربینہ سے شادی۔۔۔ یہ خبر نشہ کا دل چیر گئی تھی۔ وہ وقت نشہ کے لیے بہت مشکل تھا مگر اسنے کاٹ لیا تھا اور پہلے سے کافی بدل گئی تھی۔ بظاہری طور پر وہ پہلے سے زیادہ پر اعتماد اور کانفیڈنٹ ہوگئی تھی مگر در حقیقت وہ اندر سے وہی دو سال پرانی نشہ تھی۔ جو شہروز کی دیوانی ہوتی تھی مگر کبھی اظہار نہیں کیا تھا۔

کافی عرصے بعد اسکے واپس آنے پر نِشہ کی اس سے ملاقات ہوئی تھی یونیورسٹی کے باہر ہی اور تب وہ شہروز کو کہیں سے نشہ نہ لگی تھی۔ اسکی آنکھوں میں اجنبیت دیکھتے اسکا دل ٹکڑوں میں بکھر کر رہ گیا تھا۔

وہ اسکے سامنے والی کرسی کھینچ کر بیٹھا تو انوشہ ماضی سے باہر نکلی۔

“سو سوری مجھے آنے میں تھوڑی دیر ہوگئی۔۔۔”

شہروز نے بیٹھتے ہی معذرت کی تو نشہ نے سر انکار میں ہلایا۔

“ارے نہیں۔۔۔کوئی بات نہیں۔”

اسنے خود کو نارمل کیا۔

“مجھے لگا تھا تم نہیں مانو گی۔۔۔”

وہ ہلکی مسکراہٹ کے ساتھ بولا۔

“آخری ملاقات تھی۔۔۔تو ماننا پڑا۔۔۔”

اسکی بات پر شہروز نے سر جھکا کر مسکراہٹ دبائی پھر سنجیدہ ہوا۔

“بلکل۔۔۔بغیر کسی تعلق کے ہونے والی یہ آخری ملاقات ہی ہے۔۔۔”

اسکی بات پر انوشہ نے ناسمجھی سے اسے دیکھا۔

“کیا مطلب۔۔۔؟”

“میں تم سے شادی کرنا چاہتا ہوں انوشہ خان۔۔!”

نِشہ کو لگا وہ سانس نہیں لے سکے گی۔ وہ اسے ایسے دیکھنے لگی جیسے سننے میں غلطی ہوئی ہو۔ بے یقینی سی بےیقینی تھی۔ پتا نہیں یہ شخص اس قدر سٹریٹ فارورڈ کیوں تھا۔ بیٹھتے ساتھ ہی بغیر بات گھمائے پھرائے دھماکا کر ڈالا تھا۔۔۔۔ہمیشہ کی طرح۔۔۔

☆ ★ ✮ ★ ☆

لڑکیوں کے یونیورسٹی سے فارغ ہوتے ہی عدنان صاحب کے گھر میں خوشیوں کا سما چھا گیا۔ ایک ہفتے بعد قرت اور افہام کا نکاح تھا ساتھ ہی نشہ اور شہروز کی منگنی کا فنگشن بھی تھا۔۔

شہروز شادی شدہ نہیں تھا۔ شہروز کی والدہ صدف اربینہ کو اپنی بہو بنانا چاہتی تھی کیونکہ تلاق اور دو بچوں کے بعد اربینہ کے لیے اچھا رشتہ ملنا بہت مشکل تھا اور بینا بخوبی بہت حسین، تمیز دار اور سگھڑ تھی۔ وہ ایک بہترین انتخاب تھی۔ اپنے ساتھ اسے یو کے لے جانے کا مقصد اسکا اور بچوں کا فیوچر سکیور کرنا تھا مگر صدف بلڈ کینسر تھا اور اس بات کا علم انہیں ںہت دیر سے ہوا۔۔ وہ اربینہ اور شہروز کی شادی کروا دینا چاہتی تھی مگر شہروز انہیں ٹالتا رہا پھر ایک دن صدف ہی منو مٹی تلے جا سوئی۔ صدف کی موت کے بعد شہروز کے والد ندیم عالم، شہروز اور اربینہ واپس پاکستان چلے آئے۔ اربینہ کے آتے ہی اسکے لیے بہترین رشتہ ملا تو والدین نے بغیر دیر کئیے اسے رخصت کردیا۔ شہروز نے جاب کنٹینو کی اور سب پہلے کی طرح اپنے ڈگر پر چلنے لگا۔ اسنے کئی بار انوشہ سے رابطہ کرنے کا سوچا مگر وہ جانتا تھا اسنے انوشہ کو کس تکلیف سے دو چار کیا ہے اور یقیناً وہ زندگی میں آگے بڑھ گئی ہوگی۔ یہی سب سوچتے ہوئے اسنے رابطہ نہ کیا مگر ریسٹورنٹ میں اتفاقاً ہونے والی ملاقات کے بعد وہ مجبور ہوگیا۔ تھوڑے ہی ہاتھ پاؤں مارنے کے بعد اسے انوشہ کا نمبر مل گیا اور یہ بات بھی علم میں آگئی کہ وہ انگیجڈ نہیں ہے۔ شہروز کی خوشی عود آئی اور اسنے فوراً ہی اس سے شادی کا فیصلہ کیا۔ ندیم عالم تو ویسے بھی انتظار میں تھے۔ ساری حقیقت جاننے کے بعد وہ اپنے آنسوؤں پر اختیار کھو بیٹھی اور اسکے سامنے کتنی ہی دیر خاموش آنسو بہاتی رہی۔ اس دن تو اسنے شہروز سے زیادہ کچھ نہ کہا تھا مگر رشتہ آنے پر اسنے ہامی بھری تھی اور صبیحہ کا تو مانو دل باغ باغ ہوگیا۔

“آبی۔۔۔اور کوئی کیوں نہیں آیا۔۔؟”

آبی آج ہی کراچی آئی تھی اور ان کے ساتھ صرف ایک ہی بیٹا راشِد آیا تھا آبی کے دو بیٹے تھے۔ راشِد اور اصغر۔ دونوں کی شادی شدہ تھے۔

اصغر اور رضیہ کے دو بچے تھے۔ ایک بیٹی بریرہ اور ایک بیٹا ارسل جبکہ راشد اور نگینہ کے بچے ذرا چھوٹے تھے۔ دو بیٹیاں اور ایک بیٹا مگر ان میں سے کوئی نہ آیا تھا تبھی عدنان صاحب نے حیرت سے سوال کیا۔

” نگینہ تو سوات گئی ہے اپنے میکے بچوں سمیت اور رضیہ تقریب میں آئے گی۔۔۔”

“سوات میں ہے ان کا میکہ؟ اوفف مجھے بہت پسند ہے سوات۔۔”

آبی کی بات سن کر عِزہ نے ستائشی لہجے میں کہا۔

“چلو لے چلتے ہیں تمہیں سوات۔۔۔کسی پہاڑ سے دھکا دے دیں گے واپسی پر۔۔۔”

ہادی نے پنگا لینا ضروری سمجھا۔

“فکر نہ کرو۔۔۔ہم تو ڈوبیں گے صنم تمہیں بھی ساتھ لے ڈوبیں گے”

“استغفرُللّٰہ۔۔۔جنس تو نہ بدلو میرا۔۔۔”

ہادی فوراً بولا تو سب نے قہقہہ لگایا۔

“یَشل کب آرہی۔۔۔۔؟”

عزہ کے کچھ بھی کہنے سے پہلے آبی نے اچانک سوال کیا تو فون استعمال کرتا ارمغان متوجہ ہوا۔

“دو دن بعد آئے گی۔۔۔ آپ کی بات نہیں ہوئی اس سے؟”

صبیحہ نے چائے کے کپس سے بھری ٹرے درمیان میں پڑی میز پر رکھی۔

“جاؤ یہ قرت کو دے آؤ۔۔۔”

صبیحہ نے ایک کپ عزہ کو پکڑایا تو وہ اٹھ گئی۔

“بات ہوئی تو تھی مگر پوچھنا ہی ذہن سے نکل گیا۔۔۔ قسمت سے بات ہوتی ہے پتا نہیں سارا دن کہاں مصروف رہتی ہے یہ لڑکی۔ پوچھو تو کہتی ہے بس پتا ہی نہیں لگتا۔ شادی کو وقت ہی کتنا ہوا ہے ابھی سے اسکے دماغ کو زنگ لگ گیا ہے”

“یہ تو اچھی بات ہے اگر وہ اپنے گھر میں مصروف ہے تو ویسے مجھے یہ عورتوں کی مصروفیات سمجھ نہیں آتی۔۔”

افہام نے گفتگو میں حصہ لیا۔ ارمغان دوبارہ فون استعمال کرنے لگا تھا مگر ذہن ان کی باتوں کی طرف ہی تھا۔ عزہ اسے چائے کا کپ دینے گئی تھی مگر اسے اپنے ساتھ ہی لے آئی ورنہ فطری جھجھک تھی جس کے باعث وہ افہام کی غیر موجودگی میں ہی کمرے سے نکلتی تھی۔

“آپ کو کیا پتا عورتوں کی بڑی مصروفیات ہوتی ہیں۔۔۔ خیالی پلاؤ پکانا آسان کام تھوڑی نہ ہے۔۔”

عزہ ہیٹر کے پاس فلور کشن پر جا بیٹھی۔

“پانی ابالنے تو آتا نہیں تمہیں۔۔بس یہ خیالی پلاؤ ہی تم اچھا پکا لیتی ہو۔۔”

ہادی خاموشی رہے؟ بھلا ایسا کہاں ممکن تھا۔

“تمہارا قیمہ بنا کر وہ بھی پکا سکتی ہوں۔۔۔”

اسنے دانت پیس کر ہادی کو دیکھا۔

“رہنے دو۔۔۔ تمہاری ٹھنڈی چسین سن سن کر دماغ پک جاتا ہے وہی کافی ہے۔۔۔”

“ہوگئے یہ دونوں شروع۔۔۔۔”

نشہ نے ان کی چپڑ چپڑ پر بڑبڑاہٹ کرتے سر جھٹکا۔

چائے ختم کرتے ہی صبیحہ اور عطیہ، عدنان صاحب کے ساتھ درزی کی طرف چلی گئی۔ آبی بھی اپنے کمرے میں آرام کرنے گئی تو وہ سب محفل لگا کر بیٹھ گئے حالانکہ زیادہ تر ایسا رات کے وقت ہی ہوتا تھا لیکن اب کے سردی بڑگ گئی تھی تو وہ سب رات کو اپنے اپنے کمروں میں دبکے بیٹھ جاتے۔

“اربینہ آئے گی کیا نکاح پر۔۔؟”

ارمغان کے سوال پر قرت نے آنکھیں چھوٹی کرکہ ارمغان کو دیکھا۔

“ظاہر ہے یار شہروز کی فرسٹ کزن ہے وہ کیسے نہیں آئے گی۔۔۔”

افہام نے ایک نظر قرت پر ڈالتے ہوئے کہا۔

“میرے بھائی۔۔۔تو کیوں چاہتا ہے کہ یہ فنگشن کینسل ہو جائے؟”

ہادی نے افہام کے کندھے پر ہاتھ رکھا تو اسکی بات پر عِزہ اور نشہ ہنس دی۔

” فکشن کیوں کینسل ہوگا بھئی۔۔۔؟”

وہ جان کر انجان بنتا ہوا بولا۔

“میری اکلوتی بہن نے وبال مچا دینا ہے۔۔”

ہادی نے ٹیڑھی نظر قرت پر ڈالی

“بکواس نہ کرو تم زیادہ۔۔۔”

قرت نے جل کر دانت کچکچائے۔۔۔

“ایک تو مجھے سمجھ نہیں آتا ایسی کیوں ہوتی ہیں یہ خواتین۔۔؟”

افہام کے سوال پر قرت نے اسے گھور کر دیکھا۔

“کیسی ہوتی ہیں خواتین۔۔؟”

نِشہ نے ائی برو اٹھاتے افہام سے سوال کیا۔

“بہت زیادہ پوزیسو۔۔۔مطلب ہر چیز کو نیگٹو وے سے ہی کیوں دیکھنا ہے؟ بندہ تھوڑا پازیٹیو سوچ لے تو کیا ہی چلا جائے گا؟ بلاوجہ اتنی اوور تھنکنگ کرکہ خود کو ذہنی اذیت دینگی اور الزام ہم معصوم مردوں پر آجاتا ہے کہ ہم ایسا کرتے ہیں ہم ویسا کرتے ہیں۔۔۔”

افہام کی بات پر تینوں لڑکیوں نے اسے کھا جانے والی نظروں سے دیکھا جبکہ ارمغان نے گفتگو کو دلچسپ ہوتا دیکھ کر ہاتھ میں پکڑا فون سائیڈ کیا اور پوری طرح سے ان کی طرف متوجہ ہوا۔

“جی نہیں۔۔ایسی بات نہیں ہے۔۔۔ عورت ذات واقعی ہی بڑی نازک ہوتی ہے۔۔ ذرا سے روڈ ہو جاؤ تو گھنٹوں سوچتی رہے گی، پھر ذرا سی مسکراہٹ اسکی طرف اچھال دو تو سب غم بھول جاتی ہے۔ جہاں تک بات ہے ”معصوم مردوں“ پر الزام لگانے کی تو یہ کام مرد زیادہ اچھے سے کرتا ہے۔ نہ صرف الزام لگانا بلکہ عیب نکالنا۔۔۔عورت میں عیب نکالو گے تو اس میں عیب بڑھتے ہی چلے جائیں گے۔ عورت کچھ نہیں مانگتی سوائے پیار محبت اور عزت کے۔۔۔”

عِزہ کی تقریر پر ہادی نے باقاعدہ تالیاں بجاتے اسے داد دی۔ ارمغان کی ہنسی پر وہ اسے دیکھنے لگی۔

“مان لیا عورت نازک حسینہ ہوتی ہے مگر مرد کا کیا؟ اسکے بارے میں کیا کہنا پسند کریں گی آپ؟”

ہادی نے میز پر پڑا ریموٹ اٹھا کر اسکے سامنے کیا۔۔

“مانا کہ مرد سٹرگل کرتا ہے اور ہمیشہ کرتا رہتا ہے مگر اسکا مطلب یہ نہیں کہ وہ عورت کو دبانے لگ جائے اور اس کو خود سے کم سمجھے۔ مرد مضبوط ہوتا ہے مگر عورت اس سے زیادہ سٹرانگ ہوتی ہے۔۔۔”

“مرد کا پوچھا ہے تم سے۔۔۔تم صنفِ نازک کو سٹرانگ بولنگ لگ گئی ہو؟”

ہادی نے فوراً مائیک پیچھے کھینچا۔

“آپ بتائیں۔۔۔کیا عورتیں واقعی اتنی اچھی ہوتی ہیں۔۔؟ مرد بھی تو اتنا کچھ فیس کرتا ہے اور گھر سے صرف پیار کی توقع رکھتا ہے۔۔وہ پیار بھی نہ ملے تو اسکا بدل جانا بنتا ہے کہ نہیں؟”

ہادی نے اپنا مائیک نشہ کے سامنے کِیا۔

“بات بہت سیدھی ہے۔۔ جیسے پانچوں انگلیاں برابر نہیں ہوتی، جیسے ہر مرد ایک جیسا نہیں ہوتا ویسے ہی ہر عورت بھی ایک جیسی نہیں ہوتی۔ ساری تعریف عورتوں کی نہیں ہیں۔۔۔۔ہر عورت جانتی ہے کہ مرد عورت کو چار دیواری میں کیسے محفوظ رکھتا ہے۔ چار دیواری سے باہر کونسی دوزخ میں مرد اس چار دیواری کو مضبوط کرنے کے لیے کتنے جتن کر رہا ہوتا ہے مگر یہ مرد نے ہی کرنا ہے۔ مرد کا کام ہے عورت کی زندگی کو جنت بنانا اور عورت کا کام ہے مرد کے گھر کو جنت بنانا۔

لیکن جہاں اچھی عورتیں پائی جاتی ہیں وہیں فتنہ عورتیں بھی ہوتی ہیں۔۔ اور تم نے کہا کہ مرد گھر سے صرف پیار ہی ایکسپیکٹ کرتا ہے۔۔۔پیار دینے سے ملتا ہے۔ وہ عورتیں دوسری فطرت کی ہوتی ہیں جنہیں شوہر کا خیال نہیں ہوتا مگر ایک اچھی عورت پیار کیوں نہیں دے گی؟

پتا ہے۔۔۔عورت کا دل اور وجود جب تھک جائے نہ تو وہ پیار دے نہیں سکتی صرف قبول کر سکتی ہے۔ اور مرد اگر عورت کے وجود کو تھکنے نہ دے تو سب ٹھیک رہتا ہے۔۔ مرد سارا کا سارا پیار شروع میں ہی دے دیتا ہے اور اسے لگتا ہے اتنا پیار دینا کافی ہے مگر عورت عزت اور پیار کی بھوکی ہے۔ اسے کچھ نہ بھی دو مگر محبت کے دو بول، تھوڑا خیال، تھوڑی سی خدمت ہی اسے کھلا گلاب بنا دیتی ہے۔۔۔”

نِشہ خاموش ہوئی تو چند لمحے خاموشی ہی چھائی رہی پھر سب نے تالیاں بجا کر اسکی بات سے اکتفاء کیا۔

” آپ کہیں کچھ۔۔۔”

ہادی نے مائیک قرت کے سامنے کیا۔

” نشہ کی بات بلکل ٹھیک ہے عورت واقعی پیار کی بھوکی ہے مگر عورت کے ساتھ زیادتی تب ہوتی ہے جب گھر سنبھالنے کی زمہ داری اسکے کندھوں پر آتی ہے۔ اس میں عیب بھی نکالو، اس سے کام بھی کرواؤ، کام میں کیڑے بھی نکالو، اسے سراہنہ چھوڑ دو، اس کا خیال رکھنا چھوڑ دو تو اچھے بھلے انسان کا دماغ خراب ہوجاتا ہے ورنہ عورت جتنا دل لگا کر اپنے من پسند شخص کا ایک ایک کام کرتی ہے سامنے والے کو اندازہ بھی نہیں ہوتا مگر مرد کو بھی چاہیے کہ اس کا خیال رکھے جو اس کے لیے سب قربان کر رہی ہے۔ پتا ہے عورت کہاں بدل جاتی ہے؟ جہاں اس کو پیار ملنا، توجہ ملنا ختم ہو جائے۔ جہاں وہ حقیقتاً گھر کی نوکرانی بن جاتی ہے۔ ماہ رانی سے نوکرانی بننا آسان کام نہیں ہوتا۔۔۔”

قرت ایک رو میں بولتی چلی گئی اور اسکی ساری باتوں کو افہام نے کان ہاتھی جتنے بڑے کرکہ سنا تھا۔

“لیکن مرد بھی تو اتنا کچھ سہتا ہے برداشت کرتا ہے اور گھر آکر کچھ بھی نہیں کہتا لیکن گھر والے بھی جب سلوک ٹھیک نہ رکھیں تو ہمارا عجیب رویہ بھی بڑی نارمل سی بات ہے۔ ان کی خواہشات بھی پوری کرو اور ناشکری بھی برداشت کرو۔۔۔ کہیں کہیں عورت کو بھی کچھ سمجھداری سے کام لے لینا چاہیے۔۔یہ عورت پر ڈیپینڈ کرتا ہے کہ وہ مرد کو کس طرح سے رکھتی ہے۔۔”

افہام بولا تو ایسے بولا جیسے چار شادیوں کے ایکسپرینس کے ساتھ ساتھ دو خاندانوں کی زمہ داری کندھوں پر ہو۔

“افہام وہ عورتیں دوسری ہوتی ہیں جو ناشکری کرتی ہیں، خوش نہیں ہوتی، شوہر کا خیال نہیں رکھتی مگر جہاں عورت نے شوہر پر سب قربان کردیا ہے وہ پھر بھی رویہ اچھا نہیں رکھ رہا تو یہ عورت کے ساتھ زیادتی نہیں ہے۔۔۔؟”

خاموشی سے انکی گفتگو سنتا ارمغان بےاختیار ایسے بولا جیسے پچھلے جنم میں عورت رہ چکا ہو۔

“اب وہ نصیب کی بات ہوتی ہے۔۔۔ جب ہمسفر ہی اچھا نہیں تو کسی سے کیا گلہ کرنا۔۔؟”

افہام نے کندھے اچکا دئیے۔

“اللّٰہ اللّٰہ۔۔۔۔ ہم کیوں عورت نامے پر گول میز کانفرنس کررہے ہیں؟”

عِزہ نے ایک ہاتھ سر پر رکھا۔۔۔

“تم ابھی چھوٹی ہو کِڈو (Kiddo) ایسی گفتگو کرنے کا مزہ ہی اپنا ہے۔۔۔”

ہادی نے ایسے کہا جیسے وہ خود ان سب کا ابا ہو۔

“بس بس۔۔۔ساری گفتگو تمہارے سر کے اوپر سے ہی گزری ہے۔۔۔”

عزہ نے آنکھیں گھمائی

“میرے نہیں تمہارے سر کے اوپر سے گزری ہے۔۔۔ تمہارے چھوٹے ذہن نے ان بڑی بڑی باتوں کو کہاں سمجھنا یار۔۔۔”

“اور اپنے بارے میں کیا خیال ہے۔۔۔؟”

عزہ نے آنکھیں سکیڑ کر اسے دیکھا۔

“اپنے بارے میں تو بہت اچھے خیالات ہیں میرے۔۔”

ہادی نے بالوں میں ہاتھ پھیرا

“اچھے خیالات؟ رہنے ہی دو۔۔۔ندی نالی کے کیڑے بھی تم سے بہتر ہوتے ہیں۔۔۔”

“مگر تم تو کسی بھی اینگل میں مجھ سے بہتر نہیں ہو۔۔”

ہادی نے معصومیت کے ریکارڈ توڑتے آنکھیں ٹپٹپائی تھی۔ پہلے تو اسکی بات کسی کو سمجھ نہ آئی مگر اگلے ہی لمحے وہ سب قہقہے لگا رہے تھے۔ خفت کے مارے عزہ کا چہرا سرخ پڑا۔

“کتنے کمینے ہو تم ہادی۔۔۔”

“عزہ۔۔۔۔!”

افہام نے اسکو سخت نظروں سے گھورا تو وہ اتنا سا منہ لے کر رہ گئی۔ اسکا بس چلتا تو وہ ہادی تو نگل جاتی۔ ارمغان کے سامنے یہ بےعزتی اسے کچھ زیادہ محسوس ہوئی تھی۔

☆ ★ ✮ ★ ☆

ایک ہفتہ گزر گیا تھا۔ عدنان صاحب نے کال کرکہ رائد کو تقریب کا بتایا تو اسنے فوراً ہی ٹکٹس بک کروا دی اور یشل سے خاصہ خفا بھی ہوا کہ اسنے ذکر کیوں نہیں کیا، عدنان صاحب کے سامنے اپنی لاعلمی پر اسے شرمندگی اٹھانی پڑی۔ یشل نے تو سوچا ہی نہیں تھا کراچی جانے کا مگر جب رائد نے ٹکٹس اسکے حوالے کی اسکا دل کیا وہ زور زور سے رونے لگ جائے۔ لیکن نہ تو وہ ایسا کر سکتی تھی نہ ہی ٹکٹس پھاڑ کر پھینک سکتی تھی۔ اس دن ہی رائد اسے شاپنگ پر لے گیا تھا اور وہ بےدلی سے اسکے ساتھ ایک سے دوسری اور دوسری سے تیسری دکان میں جاتی رہی۔ رائد نے اسکو دلچسپی نہ لیتے ہوئے دیکھا تو اپنی مرضی کی ہی شاپنگ کردی۔

اگلے دن دوپہر میں انکی فلائیٹ کراچی لینڈ ہوئی تھی۔

“السلام و علیکم۔۔۔”

شام کے پانچ بج رہے تھے وہ آفس سے آکر گھر میں داخل ہوتا اونچی آواز میں سلام کرکہ سیڑھیاں چڑھنے لگا۔

“ارمغان۔۔۔۔”

اسکے قدم رکے تھے مگر وہ مڑا نہیں تھا۔ اس آواز کو وہ کیسے نہ پہچانتا؟ اسکے منہ سے اپنا نام کتنا خوبصورت لگا تھا۔

“وہم ہے۔۔۔”

اسنے اوپر والے زینے پر قدم رکھا۔

“ارمغان۔۔۔۔کیسے ہیں آپ؟”

وہ جھٹکے سے پلٹا تھا۔ آخری سیڑھی کے پاس ایک ہاتھ سے گرل پکڑے کھڑی چہرا اٹھائے اسے دیکھ رہی تھی۔ ارمغان کو لگا وہ اپنی جگہ سے ہل نہیں سکے گا۔ رگوں میں خون منجمد ہوتا محسوس ہوا تھا۔

وہی پر نور چہرا اور اس چہرے پر چھائی معصومیت اور سادگی۔۔۔

یَشل جس نے بےاختیار ہی اسے پکار لیا تھا اب اسکے یوں دیکھنے پر اس کو اپنا دل رکتا محسوس ہوا اور سانس بھاری ہوگئی۔

وہ دو زینے نیچے اترا۔ یَشل خاموشی سے آنکھیں چھپکاتی اسے دیکھ رہی تھی۔

“آگئے تم۔۔۔۔کھانا کھاؤ گے؟”

عطیہ کی آواز پر ان دونوں نے ان کی طرف دیکھا۔ ارمغان نے سر انکار میں ہلا دیا تو وہ چند لمحے کھڑی ان دونوں کو دیکھتی رہی پھر سر ہلا کر چلی گئی۔

“تم کب آئی۔۔۔؟”

اسکی آواز اتنی ہلکی تھی کہ یَشل بامشکل سمجھ پائی۔

“آج۔۔کچھ دیر پہلے۔۔۔مطلب۔۔۔دوپہر میں آئی ہوں۔۔”

اسکی زبان بری طرح لڑکھڑائی۔

“کافی کمزور ہوگئے ہو۔۔۔”

وہ اسکی صحت دیکھتی بول پڑی۔

“شاید۔۔۔”

ظاہری طور پر تو ہوا ہی تھا مگر اندرونی طور پر بھی وہ کمزور ہوگیا تھا۔

“تم کیسی ہو۔۔۔۔؟”

وہ وہاں سے جانے کا سوچ ہی رہی تھی جب وہ دل گرفتہ ہوتا سوال کرگیا۔

“ٹھیک ہوں۔۔۔ الحمدللہ۔۔۔”

اس شخص کے سامنے جھوٹ بولنا بہت مشکل کام تھا۔ اسے پہلی بار احساس ہوا۔ ایک بار پھر خاموشی کا وقفہ آیا تھا۔ پہلی بار۔۔۔پہلی بار کچھ کہنے کو تھا ہی نہیں۔ زبانیں کنگ ہوگئی تھی اور الفاظ تو جیسے ختم ہی ہوگئے تھے مگر آنکھیں۔۔۔ ایک دوسرے پر ٹکی آنکھیں بول رہی تھی۔

یَشل کو سانس بھاری اور دھڑکن سست ہوتی محسوس ہوئی تھی۔ ہاتھوں میں کپکپاہٹ سی آنے لگی تھی۔

“میں۔۔۔چلتی ہوں۔۔۔”

وہ نظریں چرا کر بولتی غائب ہوئی تھی۔مگر ارمغان کی نظر وہیں ٹکی رہی جہاں وہ کچھ پہلے کھڑی تھی جیسے وہ ابھی بھی وہیں کھڑی ہو۔۔۔

“ایسے کیوں کھڑے ہوگئے ہیں آپ۔۔۔۔؟”

عزہ کی آواز پر وہ بری طرح سے چونکا اور پلٹ کر اسے دیکھا جو سیڑھیاں اترتی نیچے آرہی تھی۔ ارمغان نے دوبارہ رخ بدل کر اسے تلاشنا چاہا تو کچن کی کھڑکی سے اسکا عکس نظر آیا۔

“ارمغان۔۔۔”

عزہ نے ایک بار پھر اسے بلایا۔

“ہاں۔۔۔ویسے ہی کھڑا تھا ابھی آفس سے آیا ہوں۔۔”

اسنے کھڑکی سے نظر ہٹائی جہاں سے اب وہ نظر نہیں آرہی تھی۔

“جاکر چینج کرلیں پھر کھانا کھا لیں۔۔۔”

“کھانا نہیں کھاؤں گا۔۔۔” وہ اوپر جانے لگا۔۔۔

“مگر کیوں۔۔۔؟؟ میں نے ممانی کے کہنے پر آپ کے لیے پوری دو، گول روٹیاں بنائی اور آپ کہہ رہے آپ کھانا نہیں کھائیں گے؟”

وہ خفگی سے پر لہجے میں بولی تو ارمغان رک گیا اور اسے دیکھنے لگا۔

“یار۔۔۔اچھا ٹھیک ہے رونے کیوں لگ گئی ہو کھا لیتا ہوں۔”

ارمغان کی بات پر عزہ کا چہرا چمک اٹھا۔

“اپنے روم میں کھائیں گے۔۔۔؟”

وہ پلٹنے ہی لگی تھی پھر رک کر سوال کیا تو ارمغان کچھ سوچنے لگا۔

“ہاں روم میں ہی لے آؤ۔۔۔”

“اوکے سر۔۔۔ جیسا آپ کا حکم۔۔”

وہ ہلکا سا سر کو خم دے کر بولتی سیڑھیاں اتر گئی۔ ارمغان ویسے ہی کھڑا رہا۔ چند لمحوں کے لیے وہ عزہ نہیں یَشل لگی تھی ۔۔

“اس کو بند کرکہ سائیڈ کردیا کرو جب گھر آؤ یا میرے ساتھ ہو تو۔۔ اپنے گھر جاکر بھی کالز کر سکتی ہو تم۔۔۔”

وہ فون کی طرف اشارہ کرتا ہوا بولا۔۔

“جیسا آپ کا حکم سر۔۔۔”

وہ سر کو خم دے کر بولی پھر ہنس دی

ماضی کی خوبصورتی یاد آنکھوں کے سامنے فلم کی طرح گھوم گئی تھی۔ ارمغان نے کچن کی کھڑکی کی جانب دوبارہ دیکھا جہاں سے اب یَشل کے ساتھ عزہ نظر آرہی تھی۔۔ بدقت مسکراتی ہوئی یَشل اور دل کھول کر ہنستی ہوئی عزہ۔

☆ ★ ✮ ★ ☆

ہر طرف ٹھر ٹھرا دینے والی ٹھنڈی ہواؤں کا راج تھا ایسے میں وہ دونوں کسی ریسٹورنٹ کے اوپر والے اوپن ایریا میں بیٹھے ڈھلتی شام دیکھ رہے تھے۔ مگر وہ شام کے ساتھ ساتھ اسکے چہرے کے نقوش پر بھی نظر ڈالتی جیسے انہیں حفظ کر رہی تھی۔ یہ دونوں کے درمیان ہونے والی دوسری ملاقات تھی۔ پہلی ملاقات بھی اچانک ہی ہوئی تھی جب آمنہ کچھ دوستوں کے ساتھ باہر گئی تھی اور اسنے ہادی کو بتایا تو وہ اس سے ریسٹورنٹ میں ملنے چلا گیا۔ وہ بہت مختصر مگر خوبصورت ملاقات تھی۔ اب نجانے اسنے یہ دوسری ملاقات بھی کیوں کی تھی۔ دوستیاں تو پہلے بھی کئی رہ چکی تھی مگر آمنہ سے دوستی کچھ زیادہ ہی گہری ہوگئی تھی جبکہ آمنہ خود دل کی بدلتی ہوئی کیفیت پر پریشان تھی۔ ملنا ملانا تو دور اور لڑکوں سے دوستی میں بھی دلچسپی نہ رکھتی تھی مگر یہ ہادی تھا۔ عام سا لڑکا جو اسے خاص لگنے لگا تھا۔

“گھر آؤ گی نہ۔۔۔؟”

ہادی نے اسکی طرف دیکھتے سوال کیا تو وہ سنبھلی۔

“گھر کیوں۔۔۔کب۔۔؟”

اچانک ہونے والے سوال پر اسے یاد ہی نہ رہا۔

“قرت کا نکاح اور انوشہ آپی کی منگنی پر نہیں آؤ گی۔۔؟ عزہ نے تمہیں انوائیٹ نہیں کیا۔۔۔؟”

وہ کچھ حیرت سے سوال کرنے لگا۔

“ارے ہاں۔۔۔صبیحہ آنٹی کے ساتھ آئی تھی وہ سپیشل انوائیٹ دینے ظاہر ہے آؤں گی۔۔۔”

وہ اپنے سامنے پڑے سوپ کے باؤل میں چمچ ہلانے لگی۔

“آنٹی بھی آئیں گی۔۔۔؟”

اسنے دوبارہ سوال کیا تو آمنہ نے مسکراتے ہوئے سر اثبات میں ہلایا۔

“تم ملو گے ان سے ۔۔۔؟”

“اگر تم ملواؤ گی تو ضرور۔۔۔”ہادی کی بات پر آمنہ نے اسے گھورا۔

“کیا کہہ کر ملواؤں گی۔۔۔؟” اسنے آئی برو اچکائی۔۔۔

“کہہ دینا دوست ہے میرا۔۔۔”

وہ کندھے اچکا کر سکون سے بولا تو آمنہ نے مسکراہٹ روکنے کی کوشش کی۔

“اچھا۔۔۔؟” اسکے سوالیہ انداز پر ہادی نے آنکھیں بند کرکہ مسکراتے ہوئے سر تیزی سے اثبات میں ہلایا تو آمنہ بےاختیار ہی ہنس دی۔

“ہادی۔۔۔۔” کچھ دیر بعد آمنہ کے پکارنے پر اسنے سوالیہ نظروں سے آمنہ کو دیکھا۔

“کچھ نہیں۔۔۔۔”اسنے مسکراتے ہوئے سر انکار میں ہلایا پھر جھک کر سوپ پینے لگی۔

“کیا کچھ نہیں۔۔۔؟ تم کچھ کہنے لگی تھی۔۔۔ بتاؤ کیا ہوا؟”

ہادی کو تجسس نے گھیر لیا۔ وہ پچھلے دنوں میں کئی بار میسجز اور کالز پر بھی یہ حرکت کر چکی تھی۔

“بتاؤں۔۔۔؟”

اسنے کہنی ٹیبل پر ٹِکا کر ہاتھ کی مٹھی بناتے ٹھوڑی کے نیچے رکھی۔ ہادی نے نظر بھر کر اسے دیکھا۔

“بتاؤ اب۔۔۔”

“مجھے تم اچھے لگتے ہو۔۔۔”

وہ اسکی آنکھوں میں دیکھ کر بولی۔

وہ مزید بولنا چاہتی تھی۔ وہ کہنا چاہتی تھی کہ اسے صرف وہ اچھا نہیں لگتا بلکہ اسکے ساتھ وقت گزارنا اسے پسند تھا۔ وہ جب اس سے بات کرتی تھی اور وہ اسکی طرف پوری طرح سے متوجہ ہوکر اسے سنتا تھا تو کتنا اچھا لگتا تھا۔ اس سے باتیں کرنا، دن کی ساری تفصیل بتانا، ہر چیز وہ بہت دل سے کرتی تھی۔ وہ اسے بتانا چاہتی تھی کہ اس کی آواز، اسکی آنکھیں، اسکی مسکراہٹ اور رخسار پر پڑنے والا وہ ہلکا سا گڑھا اسے بہت زیادہ پسند تھا۔ وہ جب اس سے کسی دوسری لڑکی کی بات کرتا تھا تو وہ اس کو کتنا بُرا لگتا تھا۔

وہ اسے بتانا چاہتی تھی کہ وہ اسے صرف اچھا نہیں بلکہ بہت اچھا لگتا تھا۔ وہ اس کے دل میں رہتا تھا اور ہاں۔۔۔ہاں وہ اس سے محبت کرنے لگی تھی۔

“ہممم۔۔۔تم بھی مجھے اچھی لگتی ہو۔۔۔”

ہادی اسی کے انداز میں ٹھوڑی پر مٹھی جما کر بیٹھا تو وہ دلکشی سے ہنسی۔

اسکا دل کیا وہ اقرار کردے۔ وہ اسے اپنے راز میں شریک کرلے اپنے دل کا حال اسے بتا دے مگر ہائے یہ ڈر۔۔۔

وہ سیدھی ہوکر بیٹھی۔

“تم نے یہ کہنا تھا۔۔۔؟”

وہ شاید مزید کچھ سننا چاہتا تھا۔

“کہنا تو کچھ اور تھا۔۔۔لیکن ابھی کے لیے اتنا ہی کافی ہے۔۔۔”

وہ دوبارہ سوپ پینے لگی تو ہادی نے خفگی سے اسے دیکھا۔

“اور کیا کہنا تھا۔۔۔وہ بھی کہہ دو۔۔۔”

“جان کر کیا کرو گے۔۔۔؟”

“سنحرے حروف سے لکھواؤں گا۔۔۔”

ہادی نے جل کر کہا تو وہ پھر سے ہنسنے لگی اور ہنستی چلی گئی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *