Muntazirat Hastam by Neha Imtiaz NovelR50532 Muntazirat Hastam (Episode 09)
Rate this Novel
Muntazirat Hastam (Episode 09)
Muntazirat Hastam by Neha Imtiaz
“میڈم صاحبہ وآپس آنے کا ارادہ ہے بھی کہ نہیں؟تُم تو وہیں کی ہو کر رہ گئی ہو نہ کوئی کال نہ کوئی میسج۔۔۔”
قِرت شکوہ کناں لہجے میں بولی
“بلکل بلکل ایسا ہی ہے۔ یہاں آکر تو میں واقعی سب کچھ بھول گئی ہوں اور واپس آنے کا ارادہ تو بلکل بھی نہیں ہے۔۔”
لہجہ سنجیدہ تھا لیکن آنکھوں میں شرارت ناچ رہی تھی
“خیر تو ہے نہ یَشل؟مجھے تو کوئی دوسرا چکر لگ رہا اتنی چہک بھی رہی ہو۔۔۔”
وہ جانچنے والے انداز میں بولی
“قرت کہیں ایسا نہ ہو میں فون سے نکل کر تمہارا منہ توڑ دوں۔۔۔”
قرت کی بات کا مطلب سمجھتے یَشل نے دانت کچکچائے
“اب یہ تو ناممکن سی بات ہے فلحال تو میری جان تٗم مجھے صرف دور سے دیکھ سکتی ہو۔۔”
قرت نے چہرا فون کے قریب کیا اور مسکراتے ہوئے یَشل کو اچھے سے اپنا چہرہ دِکھایا۔۔اُسکا دل کیا کہ یہیں سے قرت کو کچا چبا جائے
“شاٹاپ ہوجاؤ تُم۔۔۔۔مجھے یہ بتاؤ تمہارے بھائی نے کھانا کھایا ہے؟”
خیال آنے پر اُسنے سوال کیا
“اگر نہیں کھایا ہوگا تو اُڑ کر یہاں آجاؤ گی کیا؟”
وہ تمسخرانہ انداز میں بولی
“کاش۔۔۔اگر ایسا ہوتا تو کوئی خواہش باقی نہ رہتی۔۔۔”
اُسنے ٹھنڈی آہ بھری
“ہمم بہت زیادہ خواہشات ہیں میرے بھائی کو لے کر تمہارے دل میں۔۔۔”
قرت نے مسکراہٹ دبا کر اُسے چھیڑا
“بکواس نہیں کرو۔۔میں اُڑنے کی بات کر رہی تھی”
یَشل نے آنکھیں دکھائی تو وہ ہنس دی
“اچھا زیادہ دانت نہیں نکالو اب،،،جو پوچھا ہے وہ بتاؤ”
اُسنے پوچھا لیکن قرت کا کوئی ارادہ نہیں تھا بتانے کا
“اگر اتنی فکر ہورہی تو خود پوچھ لینا نہ۔۔۔”
“بلکل بھی نہیں۔۔بلاوجہ میں ہی سر پر چڑھ جائے گا”
“اتنا اچھا بھائی تو ہے میرا،،اگر سر پر چڑھ بھی جائے تو کیا ہوا”
قرت خفیف ہوئی تھی
“اب اتنا بھی اچھا بھائی نہیں ہے تمہارا جتنا تُم اُسے سمجھتی ہو۔۔۔”
یَشل نے ‘اتنا’ لفظ پر زور دیا
“تُم سے زیادہ جانتی ہوں میں اُسے،،گھر میں تو اتنا معضب بن کر گھومتا ہے جیسے بڑا ہی کوئی شریف، تمیز دار ، سمجھدار انسان ہے۔ لیکن اتنا کوئی شوخا ہے نہ تمہارا بھائی افہام سے پوچھ لینا۔۔۔”
یَشل نے کھُل کر ارمغان کی شان میں قصیدے پڑھے۔ قِرت کو اپنے بھائی کی یہ تعریف کچھ خاص پسند نہ آئی اور افہام کے نام پر تو وہ جھنپ ہی گئی۔۔۔
“مجھے تو ایسے نہیں لگتے ارمغان بھائی۔۔۔”
“تمہیں اِس لیے نہیں لگتا کیونکہ اسکا اصل روپ میرے سامنے ہی نکلتا ہے۔۔۔”
دماغ کی سکرین پر کچھ باتیں گھوم گئی تھی۔
“ساری باتوں کا کنکلیوژن یہی ہوا کہ ساری شوخیاں آپ کے لیے ہی ہیں جناب۔۔۔”
ارمغان کی آواز پر رو یَشل اُچھل پڑی۔ قِرت نے مسکرا کر ارمغان کو دیکھا جو ابھی ابھی فریش سا نہا کر واشروم سے باہر آیا تھا اور شیشے کے سامنے کھڑا بال ٹاول سے رگڑ رہا تھا پھر ٹاول بیڈ پر پھینکتا وہ قِرت کی طرف آیا
“لعنت ہو تُم پہ قِرت۔۔۔”
یَشل پھاڑ کھانے والے انداز میں بولی تو قرت نے ہنستے ہوئے فون ارمغان کے حوالے کیا
گیلے بال ماتھے پر بکھرے ہوئے تھے نکھرا نکھرا سا وہ یَشل کو بہت پیارا لگا تھا
“میں آپ سے کھانے کا پوچھنے آئی تھی تو آپ کا فون بج رہا تھا۔۔یَشل کی کال دیکھ کر میں نے اٹینڈ کرلی۔۔۔”
ارمغان صوفے پر بیٹھ گیا
“اچھا کِیا۔۔۔اور کھانا نہیں کھاؤں گا میں۔۔”
وہ قرت کو دیکھ کر بولا تو قرت سر ہلاتی کمرے سے نکل گئی۔ ارمغان نے آنکھیں چھوٹی کرکہ یَشل کو دیکھا
“ہاں جی؟ کیا بول رہی تھی تُم؟ آجکل میری کچھ زیادہ ہی تعریف نہیں کرنے لگ گئی تُم؟”
لہجہ طنزیہ تھا۔ یَشل بامشکل مسکرائی
“ظاہر ہے یہ تو فرض ہے نہ میرا۔۔اگر میں نے بھی تعریف کرنا چھوڑ دی تو احساسِ کمتری کا شکار ہوجائیں گے آپ۔۔”
وہ جیسے جتا رہی تھی۔ ارمغان نے اُسکے انداز پر مسکراہٹ دبائی
“جی نہیں۔۔تمہیں کیا پتا لڑکیاں جان وارتی ہیں مجھ پر”
وہ بالوں میں ہاتھ پھیر کر بولا۔ اُسکے جملے پر یَشل کچھ بدمزہ ہوئی
“تمہارے اندر کہاں سے روحِ رائد گھُس آئی ہے۔۔۔”
“کیا مطلب؟”
وہ نہ سمجھی سے بولا
“کچھ نہیں۔۔تُم جاؤ نا انہی کے پاس بیٹھو جو تُم پر جان وارتی ہیں”
وہ جل کر بولی تو ارمغان نے لطف اُٹھایا
“اب اُسکے ساتھ بیٹھنے کے لیے لاہور جانا پڑے گا۔ اتنا سفر کرکہ میں چلا تو جاؤں لیکن وہ مصروفِ زمانہ ہمیں اپنا قیمتی وقت کہاں دیں گی۔۔۔”
ارمغان نے فون سامنے پڑی ٹیبل پر پڑے گلدان کے ساتھ رکھا پھر فہمائشی انداز میں انگڑائی لیتا ہوا بولا
“توبہ توبہ۔۔خود رات کے بارہ بجے بھی دوستوں سے فُرصت نہیں۔ خود بھی تو آوارہ گردی ہی کرتے رہتے جب سے یونیورسٹی ختم ہوئی ہے اور باتیں مجھے سُنا رہے۔۔۔”
یَشل نے باقاعدہ کانوں کو ہاتھ لگایا
“اور کیا بولا تھا تُم نے۔۔میں جان وارتی ہوں؟”
جملہ یاد کرتی یَشل تمسخرانہ انداز میں ہنسی
“ہاں تو اِس میں جھوٹ ہی کیا ہے؟”
وہ پُر اعتماد تھا
“جھوٹ ہی کیا ہے؟؟یہ پورا کا پورا ہی جھوٹ ہے آپ پر جان وارنے سے بہتر ہے بلی کے بچے کو بچانے کے چکر میں ٹرک کے نیچے آجاؤں۔۔۔”
یَشل نے ارمغان کی ساری غلط فہمیوں کو ہوا میں اُڑایا
“بہت فضول قِسم کی باتیں کرتی ہو تُم۔۔۔ٹرک کے نیچے آجاؤں (نقل اُتاری گئی) واپس آؤ تُم ذرا سارے حساب کتاب برابر کروں گا”
ارمغان نے سُلگ کر کہا تو وہ کھلکھلائی
“اچھا یہ بتاؤ کہ واپس کب آرہی ہو تُم۔۔۔”
ارمغان نے بازو صوفے کی باہنی پر رکھی اور ہاتھ کی مٹھی بنا کر کنپٹی ٹکائی
“کل واپسی ہے میری انشاءاللّٰہ،،امی کی طبعیت پہلے سے کافی بہتر ہے لیکن میرا دِل نہیں کر رہا اُنہیں چھوڑنے کا،،،کاش میں اُن کو اپنے ساتھ لا سکتی۔۔”
وہ افسردہ لہجے میں بولی۔ فون پکڑتے پکڑتے بازو تھک گئی تو سائڈ سے ایک کشن اُٹھا کر اپنے سامنے رکھا اور اسکے ساتھ فون سیٹ کرکہ بیڈ کراؤن سے ٹیک لگائی۔۔
“لیکن تُم اُن کو اپنے ساتھ تو نہیں لا سکتی نہ۔ اُنکی صحت اس چیز کی اجازت نہیں دیتی،، رائد اور عادل انکل بھی نہیں آنے دیں گے۔۔۔”
ارمغان کی بات کر یَشل نے سر ہلایا
“خیر تُم نے کھانا کیوں نہیں کھایا؟”
اُسنے یاد آنے پر سوال کیا
“بس دیکھ لو۔۔۔تمہاری یاد میں بھوک ہڑتال کرلی ہے”
وہ سادگی سے بولا تو یَشل مسکرائی
“لیکن مجھے تو کہیں سے بھی کمزور نہیں لگ رہے تُم۔۔”
وہ بغور اُسکا چہرا دیکھتی ہوئی بولی
“لیکن تُم ہوگئی ہو۔۔۔”
ارمغان نے اُسکا کمزور چہرا اور کالر بونز کو آچھے سے نوٹ کیا تھا۔ حقیقت بھی یہی تھی کہ سکینہ کا خیال رکھنے کے چکر میں اسنے اپنے کھانے پینے کا خیال کرنا چھوڑ دیا تھا
“ڈائیٹنگ پر ہوں میں اور مجھے یہاں کھانا کچھ خاص پسند نہیں مطلب اچھا ہے لیکن۔۔۔”
وہ ابھی بول ہی رہی تھی جب آواز پر رُک گئی۔ یَشل کمرے میں آنے والے کو دیکھ نہیں سکتی تھی لیکن آواز وہ پہچان گئی تھی۔ عزہ کی آواز
“ارمغان کیا کر رہے آپ؟”
وہ کمرے کا دروازہ کھولے اندر داخل ہوئی۔ اُسکا پہلے تو رات کے اِس پہر دروازہ ناک نہ کرنا اور پھر ارمغان کو بھائی نہ بولنا دونوں نے اچھے سے نوٹ کیا تھا۔ ارمغان نے پچھلے کچھ دنوں میں بھی اِس چیز کا نوٹِس لیا تھا لیکن وہ نظر انداز کر گیا۔ یشل کی مسکراہٹ دھیمی پڑ گئی
“کچھ نہیں کر رہا میں۔۔۔کیوں کیا ہوا؟”
وہ سیدھا ہوکر بیٹھتا سنجیدگی سے بولا
“ہوا تو کچھ نہیں۔۔میں نے آپ کے لیے براؤنیز بنائی تھی آپ کو پسند ہیں نہ۔۔وہی لائی ہوں قِرت نے بتایا کے آپ نے کھانا کھانے سے بھی انکار کردیا۔۔۔”
اسکے انداز ہر جہاں ارمغان کو جھٹکا لگا وہیں یَشل ان-کمفرٹیبل ہوئی۔ عزہ نے پلیٹ کو ٹیبل پر رکھا شاید اُسنے گلدان کے ساتھ پڑا فون نہیں دیکھا تھا یا پھر وہ دیکھ کر بھی اندیکھا کر گئی تھی۔ اسکے لہجے پر یَشل کا چہرا سپاٹ ہوا
“اوہ اچھا۔۔تھینک یو عِزہ اتنی محنت کی تُم نے بلاوجہ۔۔۔”
وہ ہلکی مسکراہٹ کے ساتھ بولا
“جب کوئی چیز پیار سے بنائی جائے تو محنت نہیں لگتی۔۔۔”
ہونٹوں کے ساتھ ساتھ آنکھیں بھی مسکرا رہی تھی۔ اسکے انداز پر ارمغان چاہ کر بھی اپنی مسکراہٹ برقرار نہ رکھ سکا اور خاموشی سے اُسے دیکھنے لگا تو وہ کمرے سے نکل گئی۔ ارمغان کی نظر اب پلیٹ میں پڑی براؤنیز پر تھی۔ یہ سب اُسے کافی عجیب لگا تھا۔ اُسنے لب بھینچے
“کافی کچھ بدل گیا ہے دو ہفتوں میں۔۔۔”
لمبی ہوتی خاموشی کو یَشل کی آواز نے توڑا۔ ارمغان نے موبائل کی طرف دیکھا جہاں یَشل کے ہونٹوں پر مسکراہٹ تھی۔ طنزیہ مسکراہٹ
“ایسا تو کچھ نہیں ہے۔۔تمہیں پتا ہے نہ اُسکی چھٹیاں چل رہی تو کچھ نہ کچھ ٹرائے کرتی رہتی ہے۔۔”
وہ اُسے بتا رہا تھا۔۔۔یا پھر شاید خود کو
عزہ کا بےدھڑک روم میں آنا اور ایسے ظاہر کرنا جیسے وہ دونوں بہت زیادہ کلوز ہوں یَشل کو کچھ ناگوارہ گزرا تھا اور یقیناً وہ ہرٹ ہوئی تھی اتنا اُسے اندازہ تھا۔
“جی بلکل۔۔۔آپ کے لیے کافی محبت سے ٹرائے کر رہی تھی وہ۔۔”
وہ ایک ایک لفظ چبا کر بولی تو ارمغان مسکرا دیا۔۔
“تو تُم جیلس ہورہی ہو؟؟”
“میری جُتی نوں وی پرواہ نی۔۔۔”
ارمغان نے قہقہہ لگایا
“تو وہاں رہ رہ کر تُم نے پنجابی سیکھ لی ہے؟”
وہ صوفے سے ٹیک لگاتا دوبارہ ریلیکس ہوکر بیٹھا
“ہاں فارغ رہ رہ کر مجھ سے سیکھی ہے اِس نے۔۔۔”
اور یہ عزہ کا بھائی”رائد خٹک“ دونوں کے کرتوت ایک جیسے تھے۔ یَشل نے فون سے نظر ہٹا کر سامنے دیکھا۔
وہ اندر آچکا تھا، ارمغان کے مسکراہٹ آہستہ سے غائب ہوئی۔
“فضول نہیں ہانکا کرو تُم۔۔کیا ہے اب؟”
ارمغان کا لحاظ کرتی وہ بامشکل لہجہ ٹھیک رکھتی ہوئی بولی۔ کتنا ڈھیٹ تھا وہ صبح ہونے والی بحث کے بعد دوبارا اُسکے سامنے موجود تھا
“میں بور ہو رہا تھا اسی لیے آیا ہوں۔۔۔”
وہ بولتا ہوا نواب کی طرح صوفے پر بیٹھا۔۔۔ ارمغان کا سکون برباد ہوا۔ دوپہر کے دو نہیں رات کے بارہ بج رہے تھے اور وہ اُسکے کمرے میں موجود تھا۔ دوپہر کے دو بھی بجیں تو رائد کا یَشل کے کمرے میں آنا مناسب نہیں تھا لیکن یہ بات رائد خٹک کی سوچ میں دور دور تک نہیں آتی تھی۔
یَشل نے گہرا سانس لیا۔۔
“ارمغان میں کرتی ہوں بات۔۔”
اُسنے موبائل اُٹھا کر کال کاٹی اور موبائل بیڈ پر پٹخ کر اُٹھ کھڑی ہوئی۔ دوسری طرف ارمغان ویسے ہی بیٹھا موبائل کی سکرین کو دیکھتا رہ گیا۔
“تمہاری کھوپڑی میں دماغ ہے بھی کہ نہیں؟صبح والی ساری بکواس بھُلائے تُم یہاں آگئے ہو۔۔تمہارے اندر واقعی کوئی تمیز اور تہذیب نہیں ورنہ رات کے اس وقت اپنی شکل لے کر یہاں نہ آتے۔۔”
وہ بدلحاظ ہوئی تھی۔ رائد صوفے سے اُٹھا
“لیکن تُم بھی تو رات کے اِس وقت لڑکے سے ہی بات کر رہی تھی۔۔ویڈیو کال پر۔۔بند کمرے میں۔۔ “
رائد کے ذومعنی لہجے اور بات پر یَشل کچھ سیکنڈ بےیقینی سے اُسے دیکھنے لگی۔ اُسنے اپنے ہاتھ کو روکنے کی قطعاً کوشش نہ کی اور اگلے ہی پل اسکے منہ پر تمانچہ دے مارا۔
“اپنی بکواس بند کرو۔۔۔”
وہ چیخی تھی
“انتہائی گھٹیا انسان ہو تُم،،اپنی واحیات سوچ اور شکل لے کر دفع ہو جاؤ یہاں سے۔۔۔”
لہجا پہلے سے زیادہ سخت اور آواز اونچی تھی۔
“یَشل میرا وہ مطلب۔۔۔”
“ائی سیڈ گیٹ آوٹ آف ہئیر۔۔۔”
رائد نے ایک قدم آگے بڑھا کر کچھ بولنا چاہا جب وہ بات کاٹ چکی تھی اور پھنکارتے ہوئے انگلی سے دروازے کی طرف اشارہ کیا۔۔۔رائد چند لمحے لب اور مٹھی بھینچے اُسے دیکھتا رہا۔ خجالت اور پڑنے سے چہرا سرخ ہوا تھا پھر لمبے لمبے ڈگ بھرتا باہر نکل گیا۔۔۔
یَشل بیڈ پر بیٹھی آنکھیں لبلبہ گئی۔ وہ شخص اتنا گھٹیا بھی ہوسکتا تھا؟ اور اُسکو اتنی بکواس کرنے کا حق دیا کِس نے تھا؟
رائد صبح ہونے والی بدمزگی ختم کرنے دوستی کا ہاتھ بڑھانے آیا بس وقت غلط تھا اور اُسکے الفاظ بھی لیکن آدھی رات کے وقت یَشل کا ارمغان سے وڈیو کال پر بات کرنا اُسے آگ ہی لگا گیا تھا۔ جتنا وہ چاہتا تھا کہ یَشل اُسکے قریب ہوجائے اتنی ہی لڑائیاں اُن دونوں کے درمیان ہورہی تھی اور یَشل مزید اُس سے چِڑتی جارہی تھی۔
یَشل کے یہاں رہتے ہوئے اتنا اندازہ تو ہوگیا تھا کہ وہ اور ارمغان ایک دوسرے میں انٹرسٹڈ ہیں اور اسکا راستہ تو بلکل بھی صاف نہیں بلکے یَشل ریحان کو اپنانے کے لیے اُسے اچھی خاصی جنگ لڑنی تھی جو کہ بلکل بھی آسان نہیں تھا اور وہ کسی طرح یہ جنگ لڑے بغیر یَشل کو اپنانا چاہتا تھا۔۔اور منہ پر پڑنے والا یہ تھپڑ تو ویسے بھی اسے ساری زندگی نہیں بھولنا تھا
اُسکا دماغ تیزی سے کام کرنے لگا۔
☆ ★ ✮ ★ ☆
“بی بی جی۔۔بی بی جی اُٹھیں سکینہ میڈم کی طبیعت خراب ہوگئی ہے انہیں لے کر ہسپتال جانا ہے”
ملازمہ کی آواز پر وہ ہڑبڑا کر نیند سے اٹھی تھی پھر اُسکی بات سن کر وہ جلدی سے بیڈ سے اُتری پاؤں میں چپل اڑاسی دوپٹہ اُٹھایا اور گرتی پڑتی سکینہ کے کمرے میں آئی جہاں نرس اُسے کوئی انجیکشن لگا رہی تھی رائد اور عادِل اُسکے ہاتھ پاؤں مسل رہے تھے۔ یَشل کا دل ڈوبنے لگا وہ سکینہ کی طرف لپکی جسکا وجود بےہوش تھا۔ گرمی تو نہیں تھی لیکن وجود پسینے سے شرابور تھا۔
مشکل سے ایک گھنٹا ہی تو ہوا تھا جب وہ فجر کی نماز پڑھنے کے بعد سکینہ کے پاس گئی تھی اسے دوائی کھلائی پھر اُسکے سونے کے بعد وہ واپس کمرے میں آئی تھی۔ اچانک اُسے کیا ہوگیا تھا۔ ایمبولینس آئی تو سکینہ کو ہسپتال لے جایا گیا۔
☆ ★ ✮ ★ ☆
“سکینہ کی طبیعت بگڑ جانا کوئی انہونی بات نہیں ہے عادِل۔ میں نے پہلے ہی کہا تھا سکینہ کی طبیعت بہتر ہے لیکن اسکی کوئی گیرنٹی نہیں کہ وہ کب تک ٹھیک رہے گی۔ سکینہ کی کڈنیز نے کام کرنا چھوڑ دیا۔ انکی باڈی میں بلڈ کی بہت زیادہ کمی ہے۔ ہم نے انہیں ایڈمٹ کردیا ہے اگر آپ کہیں تو انکی سرجری یا ٹرانسپلانٹ کیا جاسکتا ہے لیکن یہ ایک بہت بڑا رسک ہے۔ انہیں بہترین ٹریٹمنٹ دیا جارہا لیکن آپ خود کو ہر طرح کی سچویشن کے لیے تیار رکھیں۔۔۔”
ڈاکٹر کی پوری بات سُن کر عادل سکتے میں آگیا تھا ضبط کے باوجود اسکی آنکھیں بھر آئی۔ وہ ڈاکٹر کے پرسنل آفس سے باہر نکلا اور مرے قدموں سے ائی سی یو کے دروازے تک پہنچا۔ آنسوؤں سے بھری آنکھوں سے اُسنے سکینہ کا مختلف تاروں اور پائیپس میں جکڑا وجود دیکھا
“کک۔۔کیا کہہ رہے تھے ڈاکٹر؟”
رندھی ہوئی آواز میں یَشل نے عادل سے سوال کیا تو عادل نے پلٹ کر رائد اور یَشل کو دیکھا جو سوالیہ نظروں سے اسے دیکھ رہے تھے
“ہو جائے گی ٹھیک۔۔دعا کرو تُم لوگ”
اُسکے اندر ذرہ بھی ہمت نہ تھی ڈاکٹر کی کہی ہوئی بات ان دونوں کو بتانے کی۔ نہ جانے وہ خود کو تسلی دے رہا تھا یا اُن دونوں کو۔ یَشل کی آنکھ بھر آئی اور رخسار بھیگ گیا۔ کندھے پر بھاری ہاتھ محسوس کرتے اُسنے رائد کو دیکھا جو آنکھوں ہی آنکھوں میں اسے تسلی دے رہا تھا۔ وہ چھوٹے چھوٹے قدم اُٹھاتی اُس سے دور ہوئی اور جاکر بینچ پر بیٹھ گئی۔ بھاری ہاتھ کا لمس ابھی تک کندھے پر محسوس ہورہا تھا۔
