Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Muntazirat Hastam (Episode 01)

Muntazirat Hastam by Neha Imtiaz

بچپن سے جو پریوں کی کہانی وہ سُنتی آئی تھی اور وہ کہانیاں سُن کر جو خوبصورت خواب اُس نے آنکھوں میں سجائے تھے،،اُس کی زندگی تو اُن خوابوں سے بلکُل ہی مُختلف سِمت میں چل رہی تھی۔۔اُسے لگ رہا تھا جیسے اُسکی خوبصورت کہانی کا اختیام بہت بھیانک طریقے سے ہوا تھا یا پھر ابھی اُس کی کہانی مُکمل نہیں ہوئی تھی۔۔۔کیا وہ شہزادی تھی بھی سہی جِس کو شہزادہ چاہیے تھا؟ نہیں،،،اگر وہ شہزادی ہوتی تو اُن کہانیوں کی طرح اُس کی زندگی بھی حسین ہوتی۔ جہاں شہزادہ آکر ہر مُشکِل سے بچا لیتا ہے،،اُس نے بھی اُس شہزادے کا انتظار کیا تھا مگر وہ نہ آیا وہ اُسکی راہ دیکھتی رہی مگر بہت انتظار کے بعد بھی وہ نہیں آیا اور نہ ہی اُسے آنا تھا یا پھر شاید اُس کی کہانی کا شہزادہ یہ تھا جِس کہ نِکاح میں وہ زبردستی لِکھ دی گئی تھی۔۔۔

یوں جو تکتا ہے آسمان کو تو

کوئی رہتا ہے آسمان میں کیا؟

جون ایلیاء

☆ ★ ✮ ★ ☆

“شادی کرو گی مُجھ سے؟”

اُسکے منہ سے نکلنے والے الفاظ اُسکی سانس ہی تو روک گئے تھے آنکھوں میں حیرت اُمڈ آئی تھی وہ چند لمحے کِسی ٹرانس کی کیفیت میں اُس کو دیکھے گئی جیسے وقت رُک گیا ہو۔۔۔ایک وقت تھا جب اُسے لگتا تھا کہ وہ ایسی بات کہہ سکتا ہے مگر اس وقت کو بھی ایک عرصہ گُزر چُکا تھا اب تو اُس کے وہم و گُمان میں بھی نہیں تھا کہ سامنے بیٹھا شخص کبھی اِس بارے میں سوچے گا بھی۔۔۔

“سوری۔۔میرا مقصد تمہیں ہرٹ کرنا نہیں تھا..”

وہ اُسکے اس طرح بُت بن جانے پر یہی سمجھا تھا کہ وہ بُرا مان گئی ہے۔۔اس کی آواز پر وہ ہوش میں آئی مگر ابھی بھی اُس کُچھ بولا نہیں گیا۔۔

“میں۔۔نہیں وہ۔۔تم۔۔۔”

اُسے سمجھ نہیں آرہا تھا وہ کیا بولے منہ سے ٹوٹے پھوٹے الفاظ نِکل رہے تھے اُس کا دِماغ ابھی تک سُن تھا۔۔۔

“اچھا چھوڑو اِس بات کو۔۔۔چلو گھر چلیں دیر ہوگئی ہے۔۔”

وہ جلدی سے نارمل لہجے میں بولا۔۔

“نہیں۔۔تُم جاؤ میں خود چلی جاؤں گی۔۔۔”

وہ جانتی تھی اگر وہ اُس کے ساتھ جائے گی تو دونوں کے درمیان چبھتی ہوئی خاموشی رہے گی جِس کو برداشت کرنا دونوں کے لیے ہی مُشکِل ہوگا سو اُسنے انکار کر دیا،،،، وہ چند لمحے وہیں بیٹھا رہا پھر اُسے بھی جلدی گھر آنے کا کہہ کر اُٹھ گیا۔۔

اُس کے جانے کی بعد وہ بامُشکل پانچ منٹ ہی وہاں بیٹھی آسمان کو دیکھتی رہی پھر گھر کی طرف چل دی۔۔ وہ شخص جو بیچینی اُسے دے گیا تھا وہ کھلی فضا بھی کم نہ کر سکتی تھی،،،نہ جانے کیوں مگر اُسکی بات سُن کر اُسکی دھڑکن اچانک تیز ہوئی تھی اور ابھی تک ویسے ہی بڑھی ہوئی تھی۔۔اسے یاد تھا جب کئی سال پہلے اس نے مذاق مذاق میں اسے کہا تھا کہ وہ اس سے شادی کرے گا تب بھی اسکے منہ سے وہ بات سن کر اسکا دل پسلیاں توڑ کر باہر آنے کو ہوگیا تھا،،،کئی سال بعد اسکے منہ سے شادی کی بات سن کر آج بھی اسکے دل کا وہی حال ہوا تھا۔

“تو کیا وہ ابھی تک میرے انتظار میں تھا؟”

ذہن میں کئی سوال اُبھرے تھے جِن کے جوب نہ ملنے پر وہ پہلے سے زیادہ بیچین ہوئی تھی۔ اُسنے گہری سانس لے کر خود کو نارمل کرنے کی ناکام سی کوشش کی۔

☆ ★ ✮ ★ ☆

“میں معزرت خواہ ہوں اگر آپ کو میری بات بُری لگے مِس سکینہ لیکن بہتر ہوگا کہ آپ شوبِز سے ہٹ کر تھوڑا دیھان اپنی اولاد پر بھی دیں۔۔آپ تو جانتی ہی ہونگی کہ ایکٹریسز کے بچے کیسے اپنے ماں باپ سے دور ہو جاتے ہیں وقت نہ ملنے پر اور اُنہیں احساس بھی نہیں ہوتا اتنے سپائل ہوجاتے ہیں۔۔۔رائد آپ کی اِکلوتی اولاد ہے پلیز آپ اپنا وقت اُسے دیں۔۔ شاید آپ کا پیسہ، آپکی شہرت اُس کو اتنا خوش اور مطمئن نہ کرے جتنا آپ کا پیار اور توجہ کرسکتی ہے۔۔۔آپ سمجھ رہی ہیں نہ میری بات؟”

ٹیچر کہ منہ سے نِکلنے والی بات سُن کر چند لمحے سکینہ کو سمجھ ہی نہ آیا کہ وہ کیا کہے پھر اُنکی بات سے اتفاق کرتی وہ رائد کو لیے گھر آگئی تھی اور ابھی تک لفظ با لفظ یہ بات اُسکے ذہن میں گھوم رہی تھی۔۔۔اُسکا دِل شوبِز چھوڑنے پر اصرار کر رہا تھا جبکہ دماغ نہیں مان رہا تھا کیونکہ اتنے سال اُسنے کام کیا تھا ظاہری طور پر آسان تھا مگر حقیقتاً مُشکل تھا۔۔۔۔

“آپ کب آئے۔۔۔؟”

سکینہ ابھی ابھی نہا کر واشروم سے باہر آئی تھی وہ انہی سوچوں میں غرک شیشے کے سامنے کھڑی ہاتھوں پر موئسچرائزر لگا رہی تھی جب عادِل کمرے میں داخل ہوا تو وہ پلٹ کر اُس سے سوال کرنے لگی۔۔۔

“یہی کوئی پندرہ منٹ پہلے۔۔۔رائد کے پاس تھا”

عادِل بولتے ہوئے بیڈ کی طرف آیا موبائل اور کیز سائیڈ ٹیبل پر رکھتے وہ بیٹھا اور جوتے اُتارنے لگا۔ سکینہ نے صوفے پر پڑا گیلا ٹاول اُٹھایا اور بالکونی کی طرف بڑھ گئی۔ ٹاول باہر رکھتے وہ اندر آئی تو عادِل کو واشروم کی طرف بڑھتے ہوئے دیکھا۔۔۔

“کھانا کھائیں گے آپ؟”

سکینہ کے سوال پر عادِل نے گھڑی کی طرف دیکھا جہاں ساڑے دس بج رہے تھے وہ آفِس کے بعد گھر آیا تھا پھر تقریباً آٹھ بجے دوستوں کے ساتھ باہر چلا گیا تھا اور اُس کی واپسی اب ہوئی تھی۔۔

“بھوک نہیں لگ رہی،،تُم نے نہیں کھایا کیا؟”

عادِل نے شرٹ کے بٹن کھولتے ہوئے جواب دیا اور ساتھ ہی سوال کر ڈالا۔۔

“رائد کو کھِلاتے ہوئے کھا لیا تھا میں نے۔۔ اچھا آپ چینج کریں میں چائے بنا کر لاتی ہوں۔۔۔”

وہ عادِل کے جوتے اُٹھا کر جگہ پر رکھتی ہوئی بولی ۔۔۔

“کِتنی دفعہ کہا ہے تُم سے جوتوں میں ہاتھ مت ڈالا کرو،،مگر مجال ہے جو ایک دفع بھی سُن لو”

عادِل سکینہ کی حرکت پر خفگی سے بولا تو وہ ہمیشہ کی طرح مُسکُرا کر اُسے دیکھنے لگی وہ پلٹ کر واشروم چلا گیا تو سکینہ بھی چائے بنانے کے غرض سے کِچن کی طرف بڑھ گئی۔۔وہ چائے چولہے پر چڑھا کر رائد کے کمرے کی طرف آگئی کیونکہ اُس کے سونے کا وقت ہوگیا تھا اور بغیر ڈانٹ سُنے وہ کہاں سوتا تھا۔۔۔وہ کمرے میں آئی تو اُس کی توقع کے مطابق وہ ٹی وی دیکھنے میں مصروف تھا۔۔ دروازہ کھُلنے کی آواز پر اُس نے ٹی وی سے نظر ہٹائی تو سکینہ کو دیکھ کر نچلہ ہونٹ دانتوں تلے دبایا سکینہ نے گھور کر اُس نواب کو دیکھا۔۔۔

“ٹائم کیا ہو رہا ہے رائد۔۔۔”

اُس کے سوال پر رائد نے گھڑیال کی طرف دیکھا جہاں ساڑے دس سے اوُپر کا ٹائم ہو رہا تھا۔۔۔

“اِلیون ہونے میں فِفٹین منٹس ہیں۔۔۔ماما پکا میں ٹائم پر اُٹھ جاؤں گا پلیز پلیز بلکل تھوڑی سی مووی رہ گئی ہے پلیز فِفٹین منٹس اور دیں دیں۔۔۔”

رائد نے ٹائم بتایا اور اُٹھ بیٹھا۔ وہ جلدی سے معصوم بنتا ہوا سکینہ سے مزید پندرہ منٹ کی محلت مانگنے لگا۔۔ساڑے دس اُس کی ڈیڈ لائن ہوتی تھی سکینہ چند لمحے اُسے دیکھتی رہی پھر گویا ہوئی

“آپ کے بابا کو چائے دے کر میں واپس آرہی ہوں اگر مُجھے جاگتے ہوئے نظر آئے تو ٹی وی کا سُوئچ اُتار کر لے جاؤں گی میں۔۔۔”

سکینہ اُسے وارن کرتی ہوئی بولی تو وہ جلدی جلدی سر ہِلانے لگا اور واپس لیٹ گیا۔۔۔

چائے دو کپس میں ڈال کر اُس نے جلدی سے کِچن صاف کیا اور ڈِش لیے کمرے میں آگئی اور آتے آتے ایک نظر رائد پر ڈالی جو سو رہا تھا یا شاید سونے کی کوشش کر رہا تھا۔۔۔

سکینہ کمرے میں آئی تو عادِل ٹی وی دیکھنے میں مصروف تھا ڈِش ٹیبل پر رکھتی وہ اُس کے ساتھ براجمان ہوگئی تو عادِل نے ٹی وی بند کی اور اپنی خوبصورت بیوی کی طرف متوجہ ہوا جس پر سکینہ مُسکُرا دی۔ اُس کی کوشش ہمیشہ یہی ہوتی تھی کہ یہ وقت وہ سکینہ کو دے کیوں کہ وہ دونوں ہی مصروف ہوتے تھے اور اکثر ہی عادِل کو بزنس کے سلسلے میں ایک، دو اور کبھی اُس سے زیادہ دن کے لیے شہر سے باہر بھی جانا پڑتا تھا جبکہ سکینہ ایسا کوئی پرجیکٹ نہیں کرتی تھی جِس میں اُسے اپنے گھر سے دور جانا پڑے۔۔۔

“اتنی لیٹ کیوں نہائی ہو؟ سردی لگ گئی تو۔۔۔”

عادِل اُسکے لمبے گیلے بالوں پر پاتھ پھیرتا ہوا بولا تو سکینہ اُس کے قریب ہوتی کندھے پر سر رکھ گئی۔۔

“نہیں لگتی مجھے سردی پانی گرم تھا اور بس اُلجھن ہورہی تھی مُجھے۔۔۔”

چائے کا کپ لبوں سے لگاتے ہوئے اُس نے جواب دیا تو عادِل سر ہلانے لگا

“رائد سو گیا کیا؟”

عادِل کے سوال پر اُسنے “ہممم” کرتے ہوئے جواب دیا تو عادِل نے سکینہ کی طرف دیکھا جو نہ جانے کیا سوچ رہی تھی۔۔۔

“کیا ہوا؟ کیا سوچ رہی ہے میری بیگم۔۔۔۔”

عادِل کے سوال پر سکینہ نے سر اُٹھا کر اُس کی طرف دیکھا۔۔۔

“کُچھ سوچ رہی تھی میں۔۔لیکن سمجھ نہیں آرہا کیا کروں۔۔”

سکینہ بولتے ہوئے سیدھی ہوکر بیٹھی

“تو میری جان میں بھی وہی پوچھ رہا ہوں کیا سوچ رہی ہو۔۔۔”

اُسکا ہاتھ تھامتا ہوا وہ نرمی سے بولا

“آج رائد کے سکول گئی تھی میں۔۔۔ اُسکی ٹیچر نے بتایا کہ رائد کا دھیان پڑھائی پر بہت کم ہے اور وہ کافی روڈ بھی ہوگیا ہے کلاس میں بھی اُسکا دھیان ٹیچر کی طرف نہیں ہوتا۔۔ڈیلی واشروم کے بہانے سے وہ کلاس سے نِکل جاتا ہے اور دس، پندرہ منٹ بعد واپس آتا ہے۔۔۔لیکن گھر میں تو وہ بلکل ٹھیک پڑھتا کے۔۔۔صادِق (رائد کا ٹیوٹر) نے بھی مُجھے ایسی کوئی شِکایت نہیں کی۔۔۔”

سکینہ آج پیرنٹس ٹیچر میٹنگ میں گئی تھی جہاں رائد کی ٹیچر سے ہوئی بات وہ عادِل کو تفصیل سے بتانے لگی جو غور سے اُسکی بات سُن رہا تھا۔۔۔سکینہ وقت نہ ہونے کی وجہ سے رائد کو خود نہیں پڑھاتی تھی تو اُس کے لیے صادِق کو رکھا گیا تھا جو خود گھر آکر اُس کو پڑھاتا تھا لیکن اِگزیمز اور صادِق کے نہ آنے کی صورت میں سکینہ بھی اکثر رائد کو پڑھایا کرتی تھی۔۔

“اگر گھر میں وہ تُم سے ٹھیک سے پڑھ لیتا ہے اور صادِق نے بھی جب کُچھ نہیں کہا تو سکول میں کیا مسلہ ہے ؟”

عادِل کنفیوژ ہوتا ہوا بولا۔۔۔

“یہی بات میں نے اُسکی کلاس ٹیچر نے کہی۔۔۔لیکن پھر انہون نے جو کہا اُس پر میں بہت زیادہ کنفیوژ ہوگئی ہوں۔۔۔”

سکینہ نے عادِل کو دیکھتے ہوئے کہا جو چائے کا آخری گھونٹ بھرتا کپ ڈِش میں رکھ رہا تھا۔۔۔

“ایسا کیا کہہ دیا اُس نے۔۔۔”

“وہ کہہ رہی تھی کہ رائد کو میری توجہ کی ضرورت ہے۔۔ اگر میں اُس کو گھر کی میڈز اور ٹیوٹرز کے حوالے کرتی رہی تو اُس کی نیچر دوسرے بچوں جیسی نہیں رہے گی اُسکی عادتیں اور مائنڈ سیٹ عجیب ہو جائے گا۔۔اور مجھے حیرت ہوئی یہ سُن کر کہ اُس کے سکول میں کوئی دوست نہیں ہیں۔۔وہ صرف ضرورت کہ وقت کسی سے مختصر سی بات کر لیتا ہے ورنہ نہیں،،جبکہ اُسنے مُجھے خود کہا تھا کہ سکول میں اُسکے کافی زیادہ دوست ہیں،،اور آٹھ، نو سال کی عُمر میں اُسکا یہ رویہ مُجھے پریشان کر رہا ہے۔۔۔”

وہ عادِل کو پریشانی کی اصل وجہ بتانے لگی اسکے لہجے سے ہی واضح ہو رہا تھا کہ سکول میں ہوئی میٹنگ کے بعد سے وہ کتنی پریشان ہے۔۔۔۔

“کیا تمہیں ایسا لگتا ہے کہ تُم رائد پر صحیح سے توجہ نہیں دے رہی ہو؟”

عادِل کے سوال پر سکینہ خاموش ہوگئی۔۔۔

“سچ کہوں تو عادِل یہی حقیقت ہے کہ میں رائد پر دیھان نہیں دے رہی لیکن اِس بات کا احساس مجھے آج سکول میں ہوئی میٹنگ سے پہلے کبھی نہیں ہوا۔۔۔ صبح صبح مارننگ شو کے لیے چلے جانا اور پھر شوٹ پر چلے جانا۔۔۔شام سات بجے واپسی ہوتی ہے کہیں جاکر اور اُسکے بعد ساڑھے دس بجے وہ سو جاتا ہے صرف تین گھنٹے ہی ہوتے ہیں اور ہفتے یا اتوار کا دِن،،،اُس میں کوئی نہ کوئی کال آجاتی ہے کام نِکل آتا ہے۔۔۔۔”

سکینہ نظریں جھُکائے اُسکے دونوں ہاتھوں میں موجود اپنے ہاتھ کو دیکھتی ہوئی بولی۔۔۔ذہن میں رائد کی کلاس ٹیچر کی کہی ہوئی بات گھوم رہی تھی،،،وہ پھر سے اُس بارے میں سوچنے لگی

“سکینہ۔۔۔کیا سوچ رہی ہو یار۔۔”

عادِل کہ آواز اور ہِلانے پر وہ ہوش میں آئی تھی اور عادِل کی طرف دیکھا جو کُچھ بول کر خاموش ہو چُکا تھا لیکن سکینہ نے کب کُچھ سُنا تھا ؟

“کُچھ کہہ رہے تھے کیا؟ سوری میرا دھیان کہیں اور تھا۔۔”

اُسکی بات سُن کر عادِل غور سے سکینہ کو دیکھنے لگا۔۔وہ اُسکے اِس طرح دیکھنے پر بے اختیار ہنس دی۔۔۔

“ایسے تو مت دیکھیں اب۔۔۔”

وہ مُسکُرا کر بولتی ہوئی ڈِش پکڑتے ہوئے اُٹھی جب عادِل نے اُسکا ہاتھ پکڑ کر اُسے واپس بِٹھایا۔۔۔۔

“تمہیں اُس کی ٹیچر نے یا پھر کِسی اور نے اِن سب کہ علاؤہ بھی کُچھ کہا ہے؟”

عادِل کہ سوال پر سکینہ خاموش ہوئی اور پھر گہرا سانس لے کہ ساری بات عادِل کو بتا دی۔۔۔ساری بات سُن کر عادِل صوفے کی پشت سے ٹیک لگا کر بیٹھ گیا۔۔۔وہ کچھ سوچ رہا تھا سکینہ خاموشی سے اُس کو دیکھنے لگی۔۔۔

“پہلی بات تو یہ ہے کہ اُس کی ٹیچر کا کوئی حق نہیں بنتا کہ وہ اتنا کُچھ کہے۔۔وہ صرف یہ بھی کہہ سکتی تھی کہ آپ رائد پر توجہ دیں۔۔۔”

عادِل کو ناگوار گزرا تھا اُسکا وہ سب بولنا۔۔وہ ٹھیک بول رہی تھی یا غلط یہ بعد کی بات تھی۔۔۔

“اچھا آپ غصہ نہیں کریں۔۔ٹھیک ہی تو کہہ رہی تھی وہ۔۔۔”

سکینہ نے عادِل کے گٹھنے پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہا تو وہ خاموش رہا۔۔۔

“جہاں تک بات توجہ کی ہے تو میں خود بزنس بڑھانے کے چکر میں اتنا بزی ہوگیا ہوں کہ اُس کہ ساتھ وقت گزارتا ہی نہیں۔۔۔”

عادِل کی بات سُن کر سکینہ کو سمجھ ہی نہ آیا کہ وہ کیا کہے

“تم نے کچھ سوچا؟ مطلب اپنے کام کے حوالے سے۔۔۔”

عادِل نے سوال کیا تو سکینہ نے سر اثبات میں ہلایا

“عادِل۔۔۔ میرے لیے رائد سے بڑھ کر اور کُچھ بھی نہیں ہے میں اُس کی خوشی کے لیے سب کر سکتی ہوں۔۔۔ میں اپنی ایک اولاد کی نظر میں پہلے ہی بُری ہوں،،،میں نہیں چاہتی کہ رائد بھی مُجھ سے دور ہو جائے۔۔۔اور بات تو یہ بھی ہے کہ ابھی نہ سہی لیکن آنے والے وقت میں رائد کو میرے کام سے مسئلہ ہوا تو؟؟ میں سوچ رہی ہوں کہ شوبِز چھوڑ دوں۔۔۔جِتنا کام کیا ہے کافی ہے اور اللہ کا دیا سب کچھ ہے میرے پاس تو شوبز کی دُنیا سے باہر آنے میں مجھے کیا ہی نقصان ہوگا؟ ٹھیک کہہ رہی ہوں نہ؟”

سکینہ اپنا فیصلہ عادِل کہ گوشہء گُزار کرتی ہوئی بولی جو غور سے اُسکی ساری بات سُن رہا تھا اور آخر میں وہ تصدیق کرنے لگی کہ کیا وہ سہی سوچ رہی تھی یا کوئی اور حل بھی نِکل سکتا تھا۔۔۔

“تُم وقعی یہ سب دِل سے بول رہی ہو نہ؟ میرا مطلب ہے کہ تمہیں اپنا کام کافی پسند سے اتنے سالوں سے تُم ایکٹنگ کی دُنیا میں کام کر رہی ہو اور اب اچانک سب چھوڑ دینا۔۔سکینہ آر یو شیور آباؤٹ دِس؟ تمہارا ابھی ایک پروجیکٹ بھی تو چل رہا ہے نہ اور کانٹریکٹ بھی ختم نہیں ہوا۔۔”

عادِل کو کبھی بھی سکینہ کے کام سے مسئلہ نہیں رہا تھا ہلانکہ شادی کے کچھ دِن بعد ہی سکینہ نے اُس سے پوچھا تھا کہ اگر اُس کو کوئی مسئلہ ہے تو وہ چھوڑ دے گی لیکن تب بھی عادِل نے کوئی اعتراض نہ اُٹھایا تھا نہ ہی اُن کہ محبت بھرے رشتے میں اِس پر کبھی کوئی بحث ہوئی تھی۔۔۔

“اممم۔۔۔جو پروجیکٹ چل رہا ہے وہ بس کچھ عرصے بعد ختم ہونے والا ہے سوپ سیریل ہی ہے اور جہاں تک بات ہے کانٹریکٹ کی تو وہ بھی اِس ڈرامے کے بعد ختم ہونا ہی ہے میں تبھی کہہ رہی۔۔۔۔اگر نہ بھی ہوتا تو میں کسی نہ کسی طرح ختم کروا دیتی۔۔ہاں اِتنا عرصہ میں کام کرتی رہی ہوں تو تھوڑا مُشکِل ہوگا لیکن ناممکن تو نہیں ہے نہ میں شوٹس کرلوں گی یا ایڈز میں کام لیکن اٗس سے زیادہ نہیں۔۔اپنی اولاد اور آپ کے لیے تو میں جان بھی قربان کر سکتی ہوں۔۔۔”

وہ آخِر میں مُسکُراتے ہوئے بولی اُس نے جو بھی کہا تھا بہت سوچ سمجھ کہ کہا تھا اور رائد کے معاملے میں وہ کوئی کمی نہیں رکھنا چاہتی تھی۔۔۔ اُسے پہلے کبھی اِس بات کا اندازہ ہی نہ ہوا تھا کہ اُس کے بیٹے کو اُسکی توجہ کی سب سے زیادہ ضرورت ہے۔ اب اُسے احساس ہوا تھا تو وہ کیوں انجان بنتی؟ وہ اپنے شوہر اور رائد کے لیے کچھ بھی کر سکتی تھی۔اُسکی زندگی میں چند ہی تو رشتے بچے تھے۔۔وہ نہیں چاہتی تھی جیسے اُسکی پہلی اولاد اتنی چھوٹی سی عُمر میں اُس سے بدگُمان ہوگئی رائد بھی ہو جائے

“اگر ایسا کرنے سے تُم مطمئن اور رائد خوش ہے تو اِس سے بڑھ کر میرے لیے اور کیا ہوسکتا ہے؟”

عادِل نے مُسکُراتے ہوئے سکینہ کے پھول جیسے چہرے ہو دیکھا جہاں اب پریشانی کی کوئی رمق نہ تھی۔ البتہ سکون ضرور تھا۔ یہی سکون اور خوشی وہ ساری زندگی اُسے دینا چاہتا تھا

“اچھا اِدھر آؤ تم اب۔۔چھوڑو یہ برتن بعد میں اُٹھا لینا۔۔۔”

عادِل نے سکینہ کو کِچن میں جانے کے لیے پر تولتے ہوئے دیکھا تو کمر کے گرد بازو حائل کرتا وہ اُسے اپنے قریب کر گیا۔۔۔

☆ ★ ✮ ★ ☆

“ماما۔۔مُجھے آپ کے ساتھ رہنا ہے”

وہ معصوم سی بچی آنکھوں میں آنسو لیے اپنی ماں کے پاس آئی۔۔ آُس نے جب سے سُنا تھا کہ اب وہ ہمیشہ کے لیے اپنے ماموں کے ساتھ رہے گی تب سے ہی وہ روئے جارہی تھی گھر کے سب فرد اُسے چُپ کروانے کی ہر ممکن کوشش کر چُکے تھے مگر وہ سات سالہ بچی اپنی ماں کے دور جانے کا سُنتے ہی خوف سے رونے لگ گئی اتنی چھوٹی سی جو کبھی ایک رات بھی ماں کے بغیر نہ سوئی ہو وہ کیسے ماں کے بغیر رہ سکتی ہے؟

“اِدھر آؤ یہاں بیٹھو۔۔۔”

سکینہ نے بولتے ہوئے اُس نازُک بچی کو اُٹھا کر گود میں بٹھایا جِس کی آنکھیں سوجی ہوئی اور نم تھی جبکہ ناک اور رخسار بھی سُرخ ہوگئے تھے بال بھی بِکھر گئے تھے۔ اتنی بڑی بھی نہیں تھی کہ اپنی ماں کی مُشکل سمجھتی یا اُس سے دور رہنے پر مان جاتی۔۔۔

“آپ کو پتا ہے ماما آپ سے بہت پیار کرتی ہیں اور اسی لیے ماما جہاں جارہی ہیں وہاں وہ آپ کو ساتھ لے کر نہیں جاسکتی کیونکہ وہاں اچھے لوگ نہیں رہتے۔۔۔وہ آپ کو کمرے میں بند کردیں گے آپ کو کھانے کے لیے بھی کُچھ نہیں دیں گے۔۔وہاں آپ کے دوست بھی نہیں ہوں گے( صوفے پر بیٹھے اپنے بھائی کے بچوں کی طرف اِشارہ کیا) اور جب آپ روئیں گی تو مُمانی جان آپ کے پاس نہیں آئیں گی چُپ نہیں کروائیں اور نہ ہی آپ باہر جاسکتی ہو نہ ہی سکول جاسکتی ہو۔”

وہ نہ جانے کون کون سی باتیں کر کہ بچی کو بہلنے لگی جو اُسکی باتیں سُن کر حیرت سے اُسے دیکھ رہی تھی کچھ باتیں تو اُس معصوم کو سمجھ ہی نہ آئی تھی جبکہ سامنے بیٹھے بچے بھی سکینہ کی باتیں سُن کر کبھی سکینہ کی طرف دیکھتے تو کبھی دوسرے صوفے پر بیٹھی اپنی ماں کی طرف جِسکی نظریں سکینہ کی گود میں بیٹھی اُس بچی پر ٹِکی تھی۔۔کتنی سی عُمر میں اُس پر اتنا بڑا ظُلم ہو رہا تھا

“آپ سچ کہہ رہی ہیں؟”

وہ سارا رونا بھُلا کر اپنی ماں کو دیکھتے ہوئے پوچھنے لگی جو بامُشکل آنسو روکے ہوئے تھی۔۔

“ہاں میں سچ کہہ رہی ہوں۔۔اب بتاؤ وہاں کیسے رہو گی؟ نہ آپ کا کوئی دوست ہوگا وہاں اور نہ ہی وہ لوگ آپ کو مُجھ سے مِلنے دیں گے۔۔ یہاں رہو گی تو کم از کم ماموں مُمانی اور آپ کے فرینڈز تو آپ کے پاس ہونگے۔۔۔”

سکینہ مزید بولی وہ بس چاہتی تھی کہ کِسی طرح اُس کی بچی سمجھ جائے۔ صرف وہی جانتی تھی کہ کِتنی مُشکِل سے اُس نے خود کو اِس بات کہ لیے راضی کیا تھا کہ وہ اُسے اپنے بھائی بھابھی کے پاس چھوڑ جائے اِس وقت اُسکا دِل کِتنا رو رہا تھا یہ بات صرف وہی جانتی تھی۔ کتنی ہی دیر سکینہ اور اُس کی بھابھی اُس معصوم کو سمجھاتے رہے وہ جب بات کو بلکل سمجھ گئی تو سکینہ اُسے کمرے میں لے آئی اُسے کھانا کھلایا اور لیٹا دیا کُچھ ہی دیر بعد وہ نیند کی وادیوں میں اُتر گئی سکینہ کِتنی ہی دیر اُس کے پاس بیٹھی روتی رہی اُسکا چھوٹا سا نرم سا ہاتھ اپنے ہاتھ میں دبائے معافیاں مانگتی رہی پھر عادِل کی کال آتے وہ ہمت جمع کرتی اپنی بچی بھائی بھابھی کے حوالے کرتی وہ وہاں سے جا چُکی تھی سارے راستے وہ روتی رہی تھی اور عادِل اُسے دلاسہ دیتا رہا مگر اوہ سہی معنوں میں اپنا جِگر کا ٹکڑا چھوڑ آئی تھی۔۔۔

☆ ★ ✮ ★ ☆

سکینہ کے شوہر ریحان کا انتقال شادی کے آٹھ سال بعد ہی ہوگیا تھا۔ سکینہ ایک مشہور اداکار تھی ریحان کے انتقال کے بعد وہ شوبز سے تھوڑا دور ہوگئی اور اُس کی ساری توجہ کا مرکز اُس کی قُل کائنات اُسکی اولاد تھی جو شوہر کے انتقال کے وقت صرف سات سال کی تھی۔۔عدنان اپنی جوان جہان بہن کو گھر لے آئے جو چھوٹی عُمر میں ہی بیوہ ہوگئی تھی۔ سکینہ کے پاس ریحان کی دی ہوئی ساری جائیداد تھی اور اپنا گھر بھی تھا مگر صبیحہ اور عدنان نے اُسے چھوٹی بچی کے ساتھ یوں اکیلے رہنے کی اجازت نہ دی۔۔

ٹھیک ایک سال بعد سکینہ کے لیے عادِل خٹک کا رشتہ آیا۔۔۔عادِل عدنان اور سکینہ کا یونیورسٹی فیلو تھا اور اسکی بیوی بھی اُس سے تلاخ لے چُکی تھی عادِل کا اپنا بھی ایک بیٹا تھا جو سکینہ کی بیٹی سے چند ماہ ہی چھوٹا تھا۔۔ عدنان عادِل کو سالوں سے جانتا تھا اُس کو عادِل میں کبھی کوئی بُرائی نہ نظر آئی مگر سکینہ کو منانا اُن کے لیے بہت بڑا مسئلہ تھا کیونکہ اُس کے شوہر کے انتقال کو صرف سال ہی تو گزرا تھا مگر عدنان نہیں چاہتے تھے کہ وہ یوں اپنی زندگی برباد کردے بیشک اُن کے پاس سب کچھ تھا لیکن زندگی گُزارنے کے لیے ایک ہمسفر کی بھی ضرورت ہوتی ہے اور اُس بچی کی جو عُمر تھی اُسے بھی ایک باپ کی ضرورت تھی۔۔لاکھ جتن کرنے کے بعد سکینہ بیگم خاموشی سے نِکاح اور رُخصتی پر آمادہ ہوگئی اور اپنی ننھی سی جان کو لیے وہ کراچی سے لاہور آگئی لیکن یہاں آکر اپنی بیٹی کے حوالے سے انہیں مُشکِلات کا سمنا کرنا پڑا کیونکہ عادِل کے گھر کے اُوپر والے حصے میں شکیل اُسکا کزن اکیلے رہتا تھا جِسکی آنکھوں سے سکینہ کی بیٹی کو دیکھ کر ٹپکتی ہوئی خباثت عادِل اور سکینہ دونوں سے ہی چھپی نہ تھی۔۔عادِل جب یہ گھر بنوا رہا تھا تو شکیل انگلینڈ سے آیا تھا اور اُس نے عادِل کو اچھی خاصی رقم دی تھی اور اوپر والے حصے میں رہنے کا کہا تھا تو اب عادِل اُسے کُچھ نہیں کہہ سکتا تھا

تقریباً چھ ماہ بعد ہی سکینہ اپنی بیٹی کو لیے واپس آگئی اور اُسے اپنے بھائی بھابھی کے حوالے کرگئی کیونکہ وہ دِن با دِن شکیل سے مانوس ہوتی جارہی تھی اور وہ ہرگز اچھا انسان نہیں تھا اور اکثر ہی کمینگی کر جاتا تھا تو سکینہ کے پاس اِس کے سوا اور کوئی چارہ نہ تھا اُسے شوٹس پر جانا پڑتا تھا وہ کبھی جلدی آتی تو کبھی لیٹ گھر کی میڈ اُس بچی کو سنبھالتی مگر وہ بھی کتنا اور اُخر کب تک کر سکتی تھی؟ وہ ننھی سی بچی اپنے ماموں کے گھر رہتے ہوئے جلد ہی ماں کو بھول گئی تھی اور اب وہ دس سال کی تھی لیکن سکینہ جب بھی اُس سے مِلنے جاتی وہ سکینہ کے پاس نہ جاتی اور کمرے میں جاکر چھُپ جاتی سکینہ کے کال کرنے پر بھی وہ اُسے بات نا کرتی۔۔سکینہ نے اُسے کئی مرتبہ سمجانے کی کوشش کی مگر وہ اُس سے مزید دور ہوتی چلی گئی۔۔عادِل سے شادی کے تین سال بعد ہی رائد کے کیے سکینہ نے ایکٹنگ چھوڑ دی وہ مکمل طور پر بھی شوبز سے دور نہ ہوئی تھی۔ کسی برینڈ کی پروموشن، ایڈز میں کام کرنا اکثر کوئی شوٹ کروا لینا یا انٹرویوز دے دینا وہ ابھی بھی یہ سب کرتی تھی کیونکہ ایسے وہ مکمل طور پر بزی نہیں ہوتی تھی صرف چند گھنٹوں کے لیے کام اور باقی کا سارا وقت رائد اور عادِل کا ہوتا تھا۔

☆ ★ ✮ ★ ☆

(کئی سال بعد)

“رمضان کا چند نظر آگیا۔۔رمضان کریم مُبارک ہو سب کو۔۔۔”

قِرت عدنان صاحب کے ساتھ بیٹھی نیوز دیکھ رہی تھی جب ہیڈ لائن پڑھتے ہی اُسکے چہرے پر مُسکُراہٹ پھیل گئی وہ مُسکرتے ہوئے اُٹھی اور اُونچی آواز میں سب کو بتانے لگی۔۔

عطیہ اور صبیحہ ڈائیننگ ٹیبل پر کھانا لگا رہی تھی جب قِرت کی آواز سُن کر مُسکُرا دی۔۔۔

“تمہیں بھی رمضان مبارک شہزادی۔۔۔۔”

عطیہ نے کہا تو قِرت کی مُسکُراہٹ مزید گہری ہوگئی۔۔۔وہ بہت زیادہ خوش تھی ہمیشہ کی طرح اُسے رمضان کا شدت سے انتظار تھا اور اُسکا انتظار اب ختم ہوا تھا

“یہ سب نمونے ابھی تک باہر بیٹھے ہیں کیا؟ جاؤ قِرت ذرا بُلا لاؤ انہیں کھانا لگ گیا ہے۔۔”

“جی پھوپھو۔۔”

وہ صبیحہ کی بات سُن کر کِچن کے بیک ڈور سے ہی باہر کی طرف آگئی جہاں وہ سب بہت عرصے بعد کافی دیر سے محفل لگائے بیٹھے تھے کیوں کہ ہادی کچھ دِن کے لیے ہی آیا تھا اور کل اُسے واپس اسلام آباد چلے جانا تھا پھر دوبارا اُسی واپسی عید سے ایک دن قبل ہونی تھی

“رمضان کا چاند نظر آگیا۔۔۔رمضان مُبارک اللّٰہ اِس رمضان کے صدقے تُم سب کو تھوڑی تھوڑی عقل دے دے”

اُسکی چہکتی ہوئی آواز پر سب نے اُسکی طرف دیکھا جِسکا چہرا کھِل رہا تھا اور پھر اُسکی دعا پر وہ سب بھی مُسکرا دیے

“خیر مُبارک (سب نے ایک ساتھ کہا) اللّٰہ آپ کو بھی تھوڑی عقل دے دے۔۔۔ویسے تھوڑی سی عقل کا آپ کیا ہی کریں گی؟”

عزہ نے اُسکی طرف دیکھتے ہوئے سوال کیا۔ اُسنے جوب دینے کے لیے منہ کھولا ہی تھا جب افہام بولا۔۔

“ہاں۔۔ تمہیں تو پورے نئے دِماغ کی ضرورت ہے۔۔۔”

اُسکی بات پر قِرت نے آنکھیں گھُمائی۔۔

“بِلکل ٹھیک کہہ رہے ہیں آپ۔۔یہ دماغ آپ کی فضول باتیں اور چُسیں سُن کر گھِس ہی گیا ہے۔۔”

اُسکی بات سُن کر وہ بے اختیار ہی ہنس دیا۔۔

“بھائی تو چُپ ہی رہا کر۔۔”

اُسکی عِزت افضائی پر ہادی نے اُسکے کندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہا۔۔افہام کی مُسکُراہٹ سُکڑ گئی اور اب وہ ہادی کو گھور رہا تھا جو اُسکی گھوری کی بدلے میں دانت نِکالنے لگا

“لیکن تم پورا آدھا گھنٹا پہلے اندر گئی تھی چاند دیکھنے۔۔۔بڑی جلدی واپس آگئی ہو۔۔!”

انوشہ نے طنزیہ لہجے میں کہا جس پر وہ بھی دانت نِکال کر مُسکُرا دی۔۔

“میں آرہی تھی لیکن پھر ماما نے سلاد کاٹنے کے لیے دے دی اور وہ کام کرنے کہ بعد بابا کے ساتھ ہی بیٹھ گئی تو باہر آنا ذہن سے نِکل گیا۔۔”

“ہاں ہاں تُم بس صدا کی نِکمی اور بھُلکڑ ہی رہنا۔۔اندر جارہی تھی تو پانی پِلانے کا کہا تھا میں نے تمہیں۔۔”

ہادی نے منہ بنا کر کہا جِس پر قِرت نے آئیبرو اُچکا کر ہادی کو دیکھا

“اگر اتنی ہی پیاس سے جان نِکل رہی تھی تو جاکر خُود پی لیتے کِچن کا راستہ نہیں معلوم کیا۔۔۔اود کتنی دفع بولا ہے تُم سے بڑی ہوں،، تمیز کے دائرے میں رہ کر بات کیا کرو مُجھ سے۔۔۔”

وہ تڑخ کر بولی اور ہادی کے بدتمیزہ کرنے پر اُسے سُنائی بھی۔۔

“بلکل ٹھیک کہہ رہی ہے وہ۔۔۔”

ارمغان ہادی کا کان کھینچتا ہوا بولا

“ہاں ہاں میرے وقت سب کو یاد آجاتا ہے کون بڑا ہے اور کون چھوٹا۔۔خود جب وہ انوشہ آپی سے نام لے کر باتیں کرتی ہے تب چھوٹے بڑے کا لحاظ نہیں ہوتا؟ اور یَشل کو بھی کبھی کُچھ نہیں کہتے اِتنا مذاق چل رہا ہوتا اِن دونوں کا ہر کِسی سے۔۔”

ارمغان کے کان کھنچنے پر اب وہ لڑکیوں کی طرح دُکھرے سُنا رہا تھا ساتھ ہی اُن دونوں کی شکایت بھی لگائی تو انوشہ قہقہہ لگا کر ہنس پڑی

“ارے بھئی تو وہ نِشہ کی مرضی ہے نہ جب اُس کو کوئی مسئلہ نہیں قِرت اور یَشل سے مزاق کرنے میں تو میں کیا کہہ سکتا۔۔۔”

وہ کندھے اُچکا کر بولا تو ہادی نے منہ کھولے پہلے ارمغان پھر انوشہ اور پھر قِرت کی طرف دیکھا جو اُس کو زبان نِکال رہی تھی جبکہ افہام اور عزہ ہنسی کنٹرول کر رہے تھے جو اُس کی شکل دیکھ کر آرہی تھی۔۔اِس سے پہلے کوئی کُچھ کہتا قِرت فوراً بولی۔۔

“ماما لوگ بُلا رہے ہیں سب کو کھانا لگ گیا ہے اندر آجاؤ اِس سے پہلے کہ ابا جی غُصہ ہو جائیں۔۔۔”

وہ بولتی ہوئی اندر کی طرف بڑھی۔۔۔

“ایک تو ابا جی کا غُصہ اور ہم سب معصوم لوگ۔۔۔”

ہادی واقعی معصوم بنتا ہوا بولا لیکن ساتھ ہی سر پر پڑنے والے تھپڑ پر اُسنے گندا سا منہ بنایا

“کیا ہے بھائی آپ کو۔۔کیوں ظلم کرتے رہتے ہیں مُجھ پر۔۔۔”

وہ چِڑ کر ارمغان سے بولا۔۔۔۔

“تُو معصوم ہے؟ ایسا لگاؤں گا نہ۔۔”

ارمغانِ بولتے ہوئے اندر کی طرف بڑھ گیا جب کہ ہادی نے آسمان کی طرف دیکھا۔۔۔

“یا اللّٰہ تُو دیکھ رہا نے نہ کِتنے ظالِم ہیں یہ لوگ۔۔مُجھ جیسے شریف انسان کو کیوں یہاں پیدا کردیا۔۔۔”

وہ اللّٰہ سے شِکوہ کرتا ہوا بولا تو اندر جاتا ہوا ارمغان اور باہر کھڑے نفوس ہنسنے لگ گئے۔۔

“چل اب فِلم نہ لگا۔۔۔تُجھ پر نہیں ظُلم تو ہم پر ہوا ہے جو تو یہاں پیدا ہوگیا اندر چل اب ورنہ میں نے بھی ایک لگا دینی ہے۔۔”

افہام کی بات سُن کر ہادی نے اُسکے کندھے پر ایک مُکہ جڑا اور اندر کی طرف بڑھ گیا تو وہ تینوں بھی مُسکُراتے ہوئے اُس کے پیچھے چل دیے۔۔۔افہام بیشک ہادی سے کافی سال بڑا تھا مگر اُن دونوں کی آپس میں بنتی تھی اور مذاق بھی اچھا خاصہ ہوتا تھا

☆ ★ ✮ ★ ☆

عدنان قریشی اور عطیہ کی تین اولادیں تھیں۔ سب سے بڑا بیٹا ارمغان قریشی تئیس سال کا تھا اور بی ایس کامرس کے ساتویں سیمسٹر میں تھا۔ اُس سے چھوٹی قِرت عدنان جو بیس سال کی تھی اور کالج میں ہی پچھلے دو سالوں سے آگے کی پڑھائی کر رہی تھی لیکن اب اُسکا اِرادہ یونیورسٹی میں ایڈمیشن لینے کا تھا۔ قِرت سے چھوٹا ہادی قریشی جو سیکنڈ ائیر میں تھا لیکن ہادی اپنے پسندیدہ کالج میں پڑھنے کی وجہ سے اسلام آباد کے ہاسٹل میں رہتا تھا

صبیحہ عدنان کی بہن اُس سے ڈیڑھ سال بڑی تھی اور اُنکی بھی تین ہی اولادیں تھیں۔۔سب سے بڑا بیٹا افہام خان چوبیس سال کا تھا اور بینک میں جاب کرتا تھا اُسے دو سال چھوٹی انوشہ خان جو تقریباً ارمغان کی ہم عُمر تھی اور بی ایس اکنامکس کر رہی تھی جبکہ عزہ خان سترہ سال کی تھی وہ فرسٹ ائیر کی سٹوڈنٹ اور گھر میں سب سے چھوٹی تھی

صبیحہ حیدرآباد رہا کرتی تھی مگر شادی کے تقریباً اٹھارہ سال بعد اُن کے شوہر اکرم خان نے دوسری شادی کرلی۔۔ صبیحہ اپنے بچوں کی خاطر خاموش رہی مگر پھر سوتن تو سوتن ہوتی ہے۔۔۔اکرم کی بیوی کا رویہ صبیحہ کے ساتھ بہت بُرا تھا وہ بس چاہتی تھی کہ صبیحہ اپنے بچوں کو لے کر یہاں سے چلی جائے سو اُس نے اکرم کو بھڑکانا شروع کردیا اور صبیحہ تلاخ لیے اپنے بھائی کے در پر اگئی۔

عطیہ اچھی بیوی اور اچھی ماں ہونے کے ساتھ ساتھ ایک اچھی بھابھی بھی تھی۔ صبیحہ کے ساتھ اُس کی پہلے ہی بہت بنتی تھی لیکن وہ چاہتی تو صبیحہ کے گھر آنے پر مسائل پیدا کر سکتی تھی مگر انہوں نے ایسا کبھی نہ کیا۔ صبیحہ اُن کے لیے بہن سے بھی بڑھ کر تھی۔

عطیہ نے اپنے بچوں کے ساتھ ساتھ سکینہ کی بیٹی یَشل ریحان کی بھی پرورش کی تھی اور وہ اُن کے لیے بلکل قِرت کی طرح تھی مگر یَشل جب انیس سال کی ہوئی تو سب کہ روکنے کے باوجود وہ اپنے باپ ریحان کے گھر آگئی تھی جِس پر سب ہی کافی ٹائم تک اُس سے ناراض رہے اور یہاں وہ اپنی نانو کی بہن کے ساتھ رہتی تھی جِن کو سب آبی بولتے تھے۔ آبی کو شروع سے ہی یَشل بہت عزیز تھی۔ جب یَشل پیدا ہوئی تھی تو سب سے پہلے انہی کے ہاتھوں میں آئی تھی۔ آبی کو جب یَشل کے ملازمہ کے ساتھ اپنے باپ کے گھر رہنے کی خبر ملی تو وہ دوڑی چلی آئیں۔جب آبی واپس ملتان چلی جاتی تھی تو وہ بھی کچھ دن کے لیے عدنان صاحب کے پاس رہنے آجاتی تھی۔ یَشل اکیس سال کی تھی اور ارمغان کے ساتھ ہی یونیورسٹی میں پڑھتی تھی۔ وہ بی ایس اکاؤنٹنگ ایڈ فائینانس کے چوتھے سیمسٹر میں تھی

☆ ★ ✮ ★ ☆

اسلام و علیکم ۔۔۔”

وہ نہیں جانتی تھی کہ آج اُسکے اندر یہ ہمت کہاں سے آئی تھی مگر اِس سے پہلے اُسکی یہ ہمت پھر ختم ہوجاتی اُسنے سکینہ کو کال مِلا دی اور انہوں نے دو بیلز کے بعد ہی کال اٹینڈ کرلی۔ پہلے تو انہیں یقین ہی نہ آیا کہ آج اُنکی بیٹی نے انہیں کال کی ہے۔ انہوں نے بےیقینی کی حالت میں کال اٹینڈ کر کہ فون کان سے لگایا۔۔۔

“وعلیکم السلام۔۔میری بچی۔۔”

اُنکی آواز سُنتے ہی وہ اُنکی بے یقینی کا اندازا لگا گئی۔۔ وہ اُنسے انکا حال پوچھنا چاہتی تھی مگر آواز حلق میں ہی اٹک کر رہی گئی۔۔

“کیسی ہے میری شہزادی؟”

انہوں نے خاموشی محسوس کرتے خود ہی سوال کیا۔۔۔

“میں ٹھیک ہوں۔۔”

دوبارہ سے خاموشی چھا گئی۔۔چند سیکنڈ بعد لائین پر پھر اُسکی آواز سُنائی دی۔۔

“آپ کیسی ہیں امی؟”

اُسنے آنکھوں میں آئی نمی انگلیوں سے صاف کی سکینہ کی آنکھوں سے بھی آنسو پلکوں کی باڑ توڑ کر باہر نِکلے تھے۔۔کتنے عرصے بعد وہ اس کے منہ سے اپنے لیے ماں کا لفظ سُن رہی تھی۔۔

“میری شہزادی نے اتنے عرصے بعد مُجھےکال کی ہے۔۔۔میری خوشی کی تو کوئی انتہا نہیں۔۔”

انکی آواز سے خوشی اور غم دونوں جھلک رہے تھے

یَشل کی آنکھوں میں رُکے ہوئے آنسو رُخساروں پر بہہ نِکلے تو اسنے منہ پر ہاتھ رکھ کر خود کو رونے سے روکا اور گہری سانس لی۔

“مجھےتو یقین نہیں آرہا کہ میری بیٹی نے مجھے یاد کیا ہے۔ ڈر لگ رہا کہیں یہ خواب نہ ہو۔۔”

انکی آواز نم ہوئی تھی جِسے اُسنے اچھے سے محسوس کیا تھا۔۔دل میں درد کی لہر دوڑ گئی تھی۔۔۔

“یاد تو ہر وقت رہتی ہیں آپ مُجھے۔۔۔بس اپنی بیٹی کو سنگ دِل کردیا آپ نے۔۔۔”

وہ دل میں آئی ہوئی بات کو زبان پر لانے سے خود کو نہ روک پائی۔۔۔اُسکی بات سُن کر سکینہ کے دل میں بھی تکلیف کی ایک ٹھیس اُٹھی تھی اور اگلے ہی پل وہ رونے لگ گئی۔۔۔

“مُجھے معاف کردو۔۔میں مجبور ہوگئی تھی میں نے بہت غلط کیا تُم مجھے معاف کر دو میری بچی مُجھے اور خود کو اس تکلیف سے نِکال دو اپنی ماں کو صرف ایک دفع معاف کر دو بس میں تُم سے کبھی کُچھ نہ مانگوں گی میرا وعدہ ہے تُم سے میں بےبس تھی ورنہ میں اپنے جِگر کا ٹُکڑا کبھی خود سے جُدا نہ کرتی کِتنے سال گُزر گئے تمہیں دیکھے ہوئے تُم سے مِلے ہوئے معاف کردو اپنی ماں کو۔۔۔”

وہ روتے ہوئے بولی تو اُسکا دِل کٹ کر رہ گیا وہ جو خود کو روک رہی تھی بِلک بِلک کر رونے لگ گئی۔۔اُس کی ماں اُس سے مسلسل معافی مانگ رہی تھی اُسے شرمندگی نے آن گھیرا

“مت کریں ایسے امی۔۔کیوں مُجھے میری ہی نظروں میں گِرا رہی ہیں مجھے کیوں گنہگار کر رہی ہیں اتنا آسان نہیں میرے لیے معاف کردینا”

وہ روتے ہوئے کہنے لگی۔۔اُسکا بس نہ چل رہا تھا کہ وہ اُڑ کر اپنی ماں کہ پاس چلی جائے مگر وہ اُس گھر میں قدم رکھنے کہ بارے میں سوچ بھی نہیں سکتی تھی اور نہ ہی سوچنا چاھتی تھی اور اتنی جلدی تو وہ ہرگِز سکینہ کو معاف نہ کرنے والی تھی۔۔نہ جانے کتنی ہی دیر وہ دونوں ماں بیٹی کال پر روتی رہیں

“آپ نے میرے ساتھ ایسا کیوں کیا؟ جانتی ہیں کبھی کبھار میرا دم گھٹنے لگا جاتا ہے اتنے سوال اتنی سوچیں ہوتی ہیں میرے ذہن میں اور پھر یہ خالی گھر کھانے کو دوڑتا ہے مجھے”

وہ بھرآئی ہوئی آواز میں بولی سکینہ خاموش ہوگئی۔۔

“تُم اکیلے کیوں رہ رہی ہو؟ عدنان بھائی کے ساتھ جاکر کیوں نہیں رہ رہی پہلے بھی تو وہیں رہتی تھی۔ کتنی دفع وہ سب تمہیں ساتھ چلنے کا بول چُکے ہیں کیوں بزِد ہو بھلا؟”

سکینہ نے جیسے ٹاپک بدلا۔ انکی بات سُن کر وہ خاموش ہوگئی۔۔انہیں کیا بتاتی کہ اُن سب کہ درمیان اُسے سکینہ کی کمی کِس قدر محسوس ہوتی ہے اور جو کچھ گُزرے وقت میں اُس معصوم کےساتھ ہوا تھا وہ چاہ کر بھی اُنکے بےحد پیار اور محبت کے بدلے اُنکو کچھ نہیں دے سکتی تھی۔ وہ نہیں چاہتی تھی کہ انکی بےلوث محبت وہ اس پر ضائع کرے تبھی جب وہ اکیلے رہنے کے قابل ہوئی تو اپنے باپ کہ گھر لوٹ آئی جسکا اوپر والا پورشن کِرائے پر تھا۔ آبی کے علاؤہ ایک ملازمہ اور اُسکا شوہر بھی وہیں سرونٹ کوارٹرز میں ہوتے تھے۔ ملازمہ اُسکی کام میں مدد کرواتی تھی گھر کی صفائی وغیرہ بھی وہی کرتی تھی جبکہ اُس کا شوہر گارڈ تھا اور اکثر ہی یَشل کو یونیورسٹی سے پِک اینڈ ڈراپ بھی دے دیتا تھا۔۔

“کچھ کہتے ہیں کیا تمہیں بھائی بھابھی لوگ؟”

سکینہ بیگم نے اُسکے کئی لمحے خاموش رہنے پر خود ہی سوال کیا۔۔

“ایسی بات نہیں ہے ۔ وہ سب تو حد سے زیادہ محبت اور پیار کرنے والے ہیں مگر بس اکیلے رہنا اچھا لگتا ہے مجھے۔ یونیورسٹی میں ارمغان اور کبھی کبھی قِرت ارمغان کے ساتھ آجاتی ہے تو اس سے بھی مُلاقات ہوجاتی ہے،، نِشہ بھی اپنی یونیورسٹی سے آتی رہتی ہے تو سارا ٹائم ساتھ گُزر جاتا ہے اور ویک اینڈز پر بھی میں ماموں کی طرف چلی جاتی ہوں وہ زبردستی رہنے پر مجبور بھی کردیتے ہیں کبھی کبھار وہ لوگ آجاتے ہیں۔۔سارا بچپن اُنکے ساتھ ہی تو گُزرا کے مزید اُن پر بوجھ نہیں بننا چاہتی میں۔۔۔”

اُسنے آخری بات ہلکی آواز میں کہی جس پر سکینہ بیگم نے گہرا سانس لیا۔۔۔ وہ چھوٹی عمر میں ہی کتنی بڑی ہوگئی تھی۔ اُنکی بیٹی کہ پاس سب تھا صرف سگے ماں باپ کی شفقت اور اُنکا لمس نہیں تھا۔ ایک بار پھر اُنکی آنکھیں بھرنے لگی

” میری جان۔۔۔ جِن کو تُم چھوڑ کر آگئی ہو تھی اُنکو آج بھی انتظار ہے تمہارا کہ تُم سارا سامان اُٹھا کر واپس اُنکے پاس جاؤ گی۔۔”

“جانتی ہوں۔۔”

سکینہ بیگم کی بات سُن کر وہ آہستگی سے بولی۔۔۔

“تو چلی جاؤ اُنکے پاس۔۔۔وہ تمہرے اپنے ماموں ہیں جنہوں نے تمہیں باپ سے زیادہ پیار دیا ہے تمہارے سگے رشتے ہیں وہ۔ آج کہ زمانے میں اُن جیسے لوگ نہیں ملتے جو سایا بن کر ہمیشہ ساتھ کھڑے رہیں۔ اُن پر کبھی بوجھ نہیں بنو گی تُم۔۔”

وہ اُسے سمجانے والے انداز میں بولیں تو اُس نے گہرا سانس لیا اور آنسو روکے۔۔۔

“آپ میرے پاس نہیں آسکتی سب چھوڑ کے؟

اُسنے سکینہ بیگم کی کہی ہوئی ہر بات کو جیسے نظرانداز کیا۔ دونوں طرف پھر خاموشی چھا گئی

“نہیں آئیں گی نہ آپ؟”

خاموشی جب لمبی ہوئی تو وہ اُنکا جواب سمجھ گئی تبھی سنجیدگی سے سوال کرنے لگی۔۔

“کیسی باتیں کر رہی کو یَشل میں کیسے آسکتی ہوں سب کچھ کیسے چھوڑ دوں ؟”

وہ دوسری طرف حیران ہوئی تھی۔۔۔

“کیا مطلب سب کچھ کیسے چھوڑ دوں؟ بلکل ویسے ہی جیسے آپ مجھے چھوڑ کر گئی تھی! تب تکلیف نہیں ہوئی تھی آپ کو کچھ مشکل نہیں لگا تھا تو اب کیوں لگ رہا؟”

یَشل کا لہجہ ایک لمحے میں سخت ہوا تھا

“یَشل۔۔سب چھوڑ نہیں سکتی میں لیکن کچھ عرصے کے لیے آسکتی ہوں وہ بھی ایک شرط پر”

یَشل حیران ہو کر رہ گئی

“اوہ۔۔۔تو اب یہ دِن آگئے ہیں کے میرے پاس آنے سے پہلے شرائط رکھیں گی آپ ؟”

یَشل نے طنز کیا

“ہاں۔۔اگر تم چاہتی ہو کہ میں تمہارے پاس آؤں تو تمہیں بھی میرے ساتھ یہاں آنا ہوگا! میرے پاس رہنا ہوگا بیشک ہمیشہ کہ لیے نہ سہی لیکن جب جب میری یاد آئے تمہیں۔ میں جب بھی بُلاوں کچھ دن آجانا۔۔۔”

یہی وہ الفاظ تھے جو وہ نہیں سُننا چاہتی تھی مگر آسکی ماں نے شرط ہی یہ رکھی تھی اُسکی آنکھیں پھر بھر آئی تھیں۔۔۔

“امی۔۔آپ بھی جانتی ہیں میں ایسا مر کہ بھی نہیں کروں گی!”

وہ سرد لہجے میں بولی

“تمہیں ایسے کرنا ہوگا۔۔میں ماں ہوں تمھاری اپنی ماں کے گھر نہیں آؤ گی؟”

“ہنہہ۔۔ آپ میرے لیے یہاں نہیں آسکتی ؟ اور آئیں گی بھی تو چند دِن کے لیے وہ بھی شرائط رکھ کے؟ آپ کے آنے کی ضرورت ہی کیا ہے؟ آپ کے بغیر زندگی کے تیرہ سال گُزار لیے ہیں تو باقی کی زندگی بھی گُزار لوں گی۔۔”

بےدردی سے آنسو صاف کرتی یَشل کال کاٹ گئی اور وضو کرنے چلی گئی وہ کھُل کر اپنے رب کے سامنے رونا چاہتی تھی سکینہ سے بات کر کہ اُسکا دِل مزید سخت ہوا تھا اور نئے سِرے سے دُکھ سے بھر گیا تھا

جاری ہے۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *