Muntazirat Hastam by Neha Imtiaz NovelR50532 Muntazirat Hastam (Episode 06)
Rate this Novel
Muntazirat Hastam (Episode 06)
Muntazirat Hastam by Neha Imtiaz
“السلام و علیکم۔۔کیسے ہو؟”
اُسکے کال اٹینڈ کرتے ہی وہ بولی تھی
“ارے واہ۔۔تو فائینلی یَشل ریحان کو یاد آگیا کہ اُن کی زندگی میں ایک ارمغان قریشی نامی شخص بھی ہے۔۔”
اُسکے لہجے میں کوئی شکوہ ، گِلہ یا ناراضگی کچھ بھی نہیں تھا۔۔وہ ہلکا سا مسکائی
“ہمم میں دیکھ رہی تھی کِس کا نمبر ہے”
وہ اُس کے شرارتی لہجے پر ہنس دیا
“تمہیں پتا ہے کِتنے دِن بعد بات ہو رہی ہے ہماری؟”
وہ “کتنے” پر زور دیتا ہوا بولا
“کتنے دِن بعد بات نہیں ہورہی۔۔صرف تین دن بعد ہورہی ہے”
یَشل نے اُسی انداز میں بولتے ہوئے جتایا
“صرف تین دِن؟؟ تمہارے لیے ہونگے یہ ‘صرف تین دن’ میرے لیے اچھا خاصہ لمبا عرصہ تھا۔۔۔”
وہ شروع سے ہر روز اُسے دیکھتا آیا تھا اُسے عادت تھی تو بھلا اُسکا وقت کیسے اتنی آسانی سے گزر جاتا
“لمبا عرصہ ؟؟ حد ہے”
وہ ہنسی تو دوسری طرف وہ مسکرایا۔
“کتنی پیاری لگ رہی ہوگی تُم اِس وقت ہنستے ہوئے۔۔۔”
اُسکی ہنسی رُکی تھی۔ وہ خاموشی سے ہونٹ چبانے لگی
“روتے ہوئے بھی بہت پیاری لگتی ہوں میں ۔”
خاموشی تھوڑی طویل ہوئی تو وہ شوخ لہجے میں بولی
“بیشک۔۔تُم ہر حال میں بہت حسین لگتی ہو لیکن جب تک تُم میرے ساتھ ہو میں تمہیں کبھی رونے نہیں دونگا”
وہ گھمبیر لہجے میں بولا وہ بےاختیار ہی اپنے مسکراتے ہونٹوں پر ہاتھ رکھ گئی
“مجھے یقین ہے تُم اِس وقت بلش کر رہی ہو۔۔”
وہ شاید مسکرا رہا تھا
“اوففف ارمغان چپ کرجاؤ۔۔۔”
وہ بامُشکل مسکراہٹ روکتی ہوئی بولی
“اوہ مائے گاڈ۔۔تُم واقعی بلش کر رہی ہو کیا؟ اوففف “
وہ کسی بچے کی طرح خوش ہوتا ہوا بولا تو یَشل قہقہہ لگا کر ہنس دی۔ شاید پچھلے پانچ دنوں میں وہ پہلی بار اِس طرح ہنسی تھی اور آنکھوں میں نمی صرف ہنسنے کے باعث آئی تھی
“تُم ٹھیک ہو؟ اگر کہو تو میں آجاتا ہوں۔۔”
چند لمحوں بعد وہ پوچھا
“اور تُم یہاں آکر کیا کرو گے۔۔؟”
“اسی طرح تمہیں ہنساتا رہوں گا۔ تُم بہتر فیل کرو گی۔ “
وہ اپنا ہاتھ سر کے نیچے رکھتا ہوا لیٹ گیا
“تم ڈیلی کال کر کہ بھی مجھے بہتر فیل کروا سکتے۔۔۔”
“اوہ۔۔۔بول کون رہا ہے جِس نے پورے تین دن میں کی گئی پچاس کالز میں سے ایک کال بھی رسیو نہیں کی۔۔۔”
اُسنے شکوہ کیا وہ مسکرائی
“میں نے میسج کیا تو تھا کہ “I’ll call you back later”
وہ اُسے یاد دلاتی ہوئی بولی
“ارے یار اتنا بڑا احسان کرنے کی کیا ضرورت تھی؟”
“ضرورت تھی نہ۔۔۔اگر میں مسج نہ کرتی تو تُم لاہور پہنچ جاتے”
وہ یقین سے بولی تھی
“بلکل۔۔۔میں واقعی ایسا کر بھی دیتا لیکن اب تو تُم ویسے بھی آؤ گی نہ؟”
وہ سیریس ہوا تھا
“دیکھتے ہیں۔۔ابھی کچھ کہہ نہیں سکتی انشاءاللّٰہ ماما ٹھیک ہو جائیں بس پھر میں آجاؤں گی اور اُس کے بعد سے ڈیلی تُم مجھے یونیورسٹی کے لیے پِک اینڈ ڈراپ دوگے”
“جیسا آپ کا حکم میری جان۔۔میں نے تو پہلے بھی آفر ماری تھی تُم نے ہی منع کیا تھا”
وہ اُسے ہمیشہ ہی کہتا تھا اور اتنی بار کہہ چکا تھا کہ یَشل بُری طرح سے اکتا چکی تھی
“لیکن اب میں بول رہی نہ۔۔۔لیکن تم تو یونیورسٹی جاؤ گے ہی نہیں اب”
یَشل کو یاد آیا کہ ارمغان کا آخری سیمسٹر ختم ہوگیا تھا اور اب وہ بلکل فری تھا۔
“تو کیا ہوا؟ آپ بس حکم کریں روز صبح آپ کی خدمت میں حاضر ہو جائیں گے”
اُسکی بات یَشل کے ہونٹوں پر خوبصورت مسکراہٹ بکھیر گئی
“اب اتنی بھی ظالم نہیں کہ ڈیلی صبح صبح تمہیں اتنی زحمت دوں۔۔لیکن گھر تو تُم ہی ڈراپ کرو گے”
“برائے مہربانی تُم فیصلہ کرلو کہ ‘آپ’ بولنا ہے یا ‘تُم’ بولنا ہے۔۔۔کہیں ایسا نہ ہو ‘تُم’ سے ‘تو’ تک کا فاصلہ بھی تُم اسی طرح تہ کرلو”
یشل قہقہہ لگا کر ہنس دی۔ وہ یہی بات پہلے بھی کئی بار اُسے بول چکا تھا مگر یَشل بی بی بھی اتنی آسانی سے سدھرنے والی نہیں تھی
“بھئی میں تو ایسی ہی ہوں۔۔۔اگر آپ کچھ کر سکتے تو کرلیں اور میں کبھی بھی تو تڑاک والی لینگویج نہیں یوز کر سکتی کسی کے لیے بھی”
وہ جتانے والے انداز میں بولی
“تو یعنی تُم کبھی آپ اور کبھی تُم ہی بولی رہو گی؟”
“جی بلکل ایسا ہی ہے۔۔۔چاہے جو مرضی ہو جائے میری یہ عجیب عادت کبھی ٹھیک نہیں ہونے والی اسی لیے آپ کوشش بھی مت کرنا”
“میں نے کیوں کوشش کرنی کچھ بدلنے کی؟ تُم جیسی ہو مجھے ویسی ہی عزیز ہو اور تمہاری ہر اچھی، بُری، اور عجیب۔۔ہر طرح کی عادت مجھے پسند ہے”
گہرے لہجے میں کہی گئی بات کر پر یَشل کی دھڑکن بےترتیب ہوئی تھی۔۔
“تُم پھر سے بلش کر رہی ہو کیا؟”
وہ جیسے اکسائیٹڈ ہوا تھا
“جی نہیں۔ اب ہر بات بھی بلش کرنے والی نہیں ہوتی اور میں ماما کے وارڈ میں جارہی تو بعد میں بات کرتی ہوں ٹھیک ہے؟”
وہ لفٹ میں قدم رکھ کر بٹن دباتی ہوئی بولی وہ ہنس دیا
“ہمم ٹھیک ہے اپنا اور سکینہ پھپھو کا خیال رکھنا۔۔پریشان بھی مت ہونا اور ہاں۔۔کھانا بھی ضرور ٹائم سے کھا لینا “
وہ اُسے نصیحتیں کرتا ہوا بولا تو وہ مسکرائی
“ٹھیک ہے سر۔۔۔ آپ بھی اپنا خیال رکھیں اللّٰہ حافظ”
فون بند کرتی وہ پرس میں رکھ گئی۔۔کاش وہ اُسے بتا سکتی کہ وہ شخص کیسے صرف پانچ منٹ میں ہی اسکی ساری پریشانی دور بھگا دیتا تھا مگر شرم و حیا، جھجھک آڑے آجاتی تھی
یَشل کی کال بند ہوئی تو اُسنے قِرت کے کمرے کا رُخ کیا۔ وہ کمرے میں آیا تو وہاں کوئی نہ تھا واشروم کا بند دروازہ دیکھ کر وہ وہیں صوفے پر بیٹھ گیا۔ کچھ دیر بعد واشروم کا دروازہ کھُلا لیکن نکلنے والی قِرت نہیں عِزہ تھی۔ ارمغان کو اچانک کمرے میں دیکھ کر وہ سٹپٹا گئی
“آپ۔۔”
ارمغان کو خود بھی عجیب کیفیت نے اپنے گھیرے میں لیا۔
“اوہ سوری۔۔۔مجھے لگا کہ”
وہ بول ہی رہا تھا جب عزہ نے عام لہجے میں بات کاٹی
“ارے کوئی بات نہیں۔۔میں تو آپ کو دیکھ کر ڈر گئی “
ہلکے پھلکے لہجے میں بول کر اُسنے ارمغان کی شرمندگی دور کرنا چاہی۔ وہ بیڈ کی طرف بڑھی اور دوپٹہ اُٹھا کر کندھوں پر پھیلایا۔۔
“آپ کو کوئی کام تھا کیا۔۔۔”
وہ بیڈ پر اُس کے سامنے براجمان ہوگئی۔
“ہاں میں قِرت کو ڈھونڈتا ہوا آیا تھا۔۔۔”
وہ اُسے دیکھتا ہوا بولا
“خیر تُم بتاؤ۔۔ کیسی جاری تمہاری چھٹیاں؟ پورا ہوگیا تمہارا بھی فرسٹ ائیر۔۔۔”
“کافی بورنگ ٹائم گزر رہا بیزاری ہونے لگی ہے سوچ رہی تھی سیکنڈ ائیر کی ایک دو کتاب لے آؤں بعد میں آسانی بھی رہے گی۔۔۔”
اُسے نہیں یاد تھا آخری بار اُسکی اِس طرح ارمغان سے اکیلے بیٹھ کر کب بات ہوئی تھی
“وہ بھی کوئی اتنا بڑا مسئلہ نہیں جب تک تُم خود سیریس ہو کر پڑھو۔۔یہاں وہاں کی چیزوں پر تھوڑا کم دھیان دینا”
اُسکی بات پر وہ خفیف ہوکر اُسے دیکھنے لگی
“اور آپ ایسے سیریس ہو کر بات کرنا۔۔۔بلکل بھی ہضم نہیں ہوتا مجھے”
اُسکی بات پر وہ ہلکا سا ہنس دیا
“لگتا ہے قِرت سے کوئی خاص بات کرنی تھی “
وہ گفتگو طویل کرنے کے غرض سے بولی تو وہ سر ہلانے لگا
“ہاں ویسے ہی بس۔۔۔”
عِزہ نے سر ہلایا
“ارمغان۔۔۔آپ کی بھی تو گریجویشن ہوگئی ہے نہ۔ اب تو اچھی سی ٹریٹ دینا بنتی ہے”
“میری گریجویشن تو پُرانی بھی ہوگئی اب۔۔۔”
وہ ہلکا سا ہنسا
“اتنی بھی پُرانی نہیں ہوئی۔۔۔”
اُسنے منہ بسورا
“اچھا بھئی ٹھیک ہے۔۔۔ٹریٹ بھی دے دونگا اور کچھ؟”
چند مزید یہاں وہاں کی باتیں کرتا وہ کمرے سے نکل گیا جبکہ عِزہ کی تو بانچھیں ہی کھل گئی۔
☆ ★ ✮ ★ ☆
آہستہ آہستہ سکینہ پہلے سے تھوڑی بہتر ہو رہی تھی اُسے کل ہی بھرپور اصرار کرنے کے بعد ڈاکٹر سے اجازت ملنے پر ہسپتال سے گھر لایا گیا تھا اور ایک فُل ٹائم نرس کا بھی انتظام کیا گیا تھا۔ سکینہ چل پھر نہیں سکتی تھی اور پہلے سے زیادہ کمزور ہوگئی تھی۔
“اپنا خیال رکھیئے گا میں کوشش کروں گا لاسٹ کلاس کی اٹینڈنس لگوا کے گھر آجاؤں۔۔”
وہ سکینہ کا ماتھا چوم کر بولا
“ناشتہ کیا ہے تُم نے؟”
سکینہ نے سوال کیا
“جی ہاں میں ناشتہ کرچکا ہوں۔۔۔اب میں نکلتا ہوں دیر ہورہی ہے اللّٰہ حافظ”
وہ بولتا ہوا کمرے سے نکل گیا۔ باہر آیا تو وہ ہاتھ میں سوپ کا باؤل لیے کچن سے نِکل رہی تھی۔
“گُڈ مارننگ سٹیپ سسٹر۔۔۔”
رائد نے خوشگوار لہجے میں اُسے مخاطب کیا۔ کھلا پجامہ اور شرٹ پہنے کندھے سے نیچے تک آتے آدھے بال کیچر میں قید تھے وہ شاید کچھ دیر پہلے ہی اُٹھی تھی
“میرے ساتھ فری ہونے کی ضرورت نہیں اپنے کام سے کام رکھو اور پلیز جب تک میں یہاں ہوں ایسے پریٹنڈ کرو جیسے ہمارے درمیان کوئی رشتہ نہ ہو!”
وہ بغیر دیکھتے بولتی ہوئی جانے لگی
“رشتہ تو ہے۔۔۔وہ بھی بہت مزے کا بلکل ہالی-ووڈ فلوں والا”
وہ مزے سے کہتا ہوا اُسے آگ لگا کر غائب ہوگیا۔ سوپ کی طرح اُسکے کانوں سے بھی دھوویں نکلنے لگے۔ وہ اُس پر لعنت بھیجتی سکینہ کے کمرے میں چلی گئی
“اب کیسا فیل کر رہی ہیں آپ؟”
گرم سوپ کا پیالہ سائیڈ ٹیبل پر رکھ کر وہ سکینہ کے ساتھ بیٹھی
“میری پیاری سی بیٹی سارا دِن تو میری خدمت میں گزار دیتی ہے پھر تو ظاہر ہے میں پہلے سے بہتر ہوں”
سکینہ کی بات پر یَشل ہلکا سا مسکرائی اور سوپ اُٹھا کر اُسکو تھوڑا ٹھنڈا کرنے لگی
“عادِل آفس چلے گئے؟”
سکینہ نے سوال کیا
“ہاں جی۔۔۔ وہ رائد سے دس پندرہ منٹ پہلے ہی نکلے تھے وہ اور اب جلدی جلدی ٹھیک ہو جائیں آپ عادِل انکل آپ کی ٹینشن میں کمزور ہوگئے ہیں۔۔”
یَشل کی بات پر وہ دونوں ہی ہنس دیں
“ارے ہاں۔۔۔صبح فجر کے بعد ماموں اور صبیحہ خالہ کراچی پہنچ گئے تھے”
وہ اُٹھ کر بیٹھنے میں سکینہ کہ مدد کرتی ہوئی اُسے بتانے لگی
“چلو اچھی بات ہے یہ تو خیر خیریت سے پہنچ گئے “
وہ دونوں کل ہی واپسی کے سفر پر روانہ ہوئے تھے
“اور تُم؟ تمہاری یونیورسٹی نہیں ہے کیا؟ آبی سے بھی کل بات ہوئی میری تو وہ تمہارا پوچھ رہی تھیں۔۔۔”
“ہاں آبی سے بھی بات نہیں ہوئی تین چار دن سے۔۔۔وہ تو ملتان واپس بھی چلی گئی ہیں۔۔۔”
وہ سوپ کو پھونک مارتی ہوئی بولی تو سکینہ نے سر اثبات میں ہلایا۔۔۔
“جہاں تک بات کے یونیورسٹی کی تو میرا نیا سیمسٹر ابھی سٹارٹ نہیں ہوا ہے اور ہو بھی جائے تو وہ کوئی بڑا مسئلہ نہیں ہے۔ ضرورت پڑنے پر میں سیمسٹر فریز بھی کروا سکتی”
اُس نے سوپ سے بھارا ہوا چمچ سکینہ کی طرف بڑھایا
“لو جی۔۔۔اب ایسا بھی کچھ نہیں ہوا مجھے کے تُم سیمسٹر فریز کروا کہ اپنا وقت ضائع کرو،، دیکھو بلکل ٹھیک ہوں میں اور نرس ہے تو سہی رائد بھی ہے عادل بھی تو اتنا خیال رکھتے ہیں”
سکینہ اُسکے ہاتھوں سے بدذائقہ سوپ پیتے ہوئے بولی
“جی ہاں میں جانتی ہوں کہ آپ ٹھیک ہیں اور میرے جانے کے بعد آپ کا خیال رکھنے والے بہت لوگ ہیں لیکن میں تو نہیں ہوں نہ!”
وہ مسکرا کر بولی
“تمہیں کچھ کہنے کا فائدہ ویسے بھی نہیں۔ شروع سے ہی ضدی ہو”
سکینہ نے بحث سے پہلے ہی ہار مان لی تو وہ ہنس دی۔ سیمسٹر فریز کروانا ہے یا نہیں یہ بات سکینہ کی کنڈیشن پر ڈپینڈ کرتی تھی۔ مگر اُسے یہ بات معلوم نہیں تھی کہ شاید نہیں یقیناً اُسکا سیمسٹر فریز ہونا تھا اور اُسکی وجہ سکینہ کی طبیعت نہیں بلکہ کچھ اور ہوگی۔
☆ ★ ✮ ★ ☆
وہ کِچن میں بیٹھی سیب کاٹ رہی تھی جب عزہ آئی اور اُسے دیکھ کر وہیں بیٹھ گئی
“کیا ہوا۔۔؟”
قِرت نے مسلسل عزہ کی نظریں خود پر محسوس کی تو ایک نظر اُسے دیکھ کر سوال کیا پھر اپنے کام میں مصروف ہوگئی
“تُم۔۔۔تمہیں افہام بھائی اچھے لگتے ہیں”
وہ پلیٹ سے سیب کا ٹُکڑا اُٹھا کر کھاتی ہوئی بولی تو قِرت کے سیب کاٹتے ہاتھ رُک گئے اور دِھڑکن تیز ہوئی تھی چہرے پر گھبراہٹ نظر آنے لگی کیونکہ یہ راز تو اُس نے کبھی کسی کو بتایا ہی نہیں تھا صرف وہ اور اُس کا رب جانتا تھا پھر یہ کیا۔۔۔
“دِماغ چل گیا ہے کیا تمہارا۔۔”
وہ خود کو نارمل کرتی ہوئی بولی۔۔
“نہیں بھئی میرے دِماغ کو تو کُچھ نہیں ہوا لیکن یہ تمہاری رنگت کیوں اُڑ رہی ہے۔۔۔”
عزہ نے بولتے ہوئے قِرت کا چہرا پکڑ کے اپنی طرف کیا تو وہ اُسے آنکھیں دِکھانے لگی
“اوفففف۔۔۔چھوڑو مُجھے اور تمہیں یہ بات کِس نے بتائی۔۔۔”
قِرت نے اپنے چہرے سے اُسکا ہاتھ ہٹایا اور دِل میں آیا سوال کرنے لگی۔ بھلا اُسے کیا معلوم تھا کہ یہی سوال اُسے پھنسا دے گا
“مجھے کِس نے بتائی؟؟اوووو،،،یعنی میرا اندازہ غلط نہیں۔۔تُم واقعی افہام بھائی میں انٹرسٹڈ ہو”
عزہ نے کہنی ٹیبل پر ٹِکائی اور ہاتھ کی مُٹھی بنا کر ٹھوڑی کے نیچے رکھتی ہوئی بولی۔ نظریں ابھی ابھی قِرت پر تھی جِس کے ایکسپریشنز کو وہ بھرپور انجوائے کر رہی تھی ۔اب تو قِرت بُری طرح پھنس چُکی تھی۔۔۔
“تُم سچ میں پاگل ہوگئی ہو،،میں نے ایسا کُچھ نہیں کہا”
قِرت جلدی سے بولتے ہوئے چئیر سے اُٹھی وہ بس اِس کِچن سے نِلکنا چاہتی تھی۔۔۔
“لیکن تُم نے اِس بات سے اِنکار بھی تو نہیں کیا ابھی تک اور بیٹھو یہاں واپس۔۔۔”
عزہ کی بات پر قِرت نے خونخوار نظروں سے اُسے دیکھا۔۔۔
“تُم نہ۔۔بچ جاؤ مجھ سے اور چھوڑو مجھے ماما کو سیب دینے جانا ہے بےعزت کردیں گی وہ مجھے۔۔”
قِرت عزہ کو چھُری دکھاتے ہوئے بولی اور بازو چھُڑوا کر سِنک پر رُک کے ہاتھ دھونے لگی
“اگر ایسی بات ہے تو ٹھیک ہے پھر۔۔۔میں افہام بھائی سے ہی پوچھ لیتی۔۔۔”
عزہ سکون سے کندھے اُچکا کر بولی اور چئیر سے اُٹھی کر کِچن سے نِلکنے لگی
“عزہ۔۔۔عزہ نہیں اوففف خدایا۔۔۔کیا مسئلہ ہے آخر تمہارے ساتھ۔۔۔”
قِرت نے جلدی سے عزہ کی بازو پکڑ کر اُسے پیچھے کھینچا کِچن کا دروازہ بند کیا اور تنگ آکر اُسے دیکھنے لگی جو سکون سے بازو باندھے کھڑی تھی۔۔۔
“خبردار۔۔خبردار اگر تُم نے افہام سے کُچھ بھی کہا تو۔۔”
قِرت اُسگ اُنگلی دِکھا کر بولی۔۔
“اوہو۔۔افہام؟؟”
عزہ نے اُسکے بھائی نہ بولنے کی طرف اِشارہ کیا۔۔قِرت گڑبڑائی اور اُسے گھور کر واپس چئیر پر بیٹھی۔۔
“تُم اُن سے کُچھ نہیں پوچھو گی۔۔سمجھ آگئی تمہیں ؟”
عزہ اُسکے سامنے آکر بیٹھی تو قِرت نے تنبیہہ کیا وہ سر ہلانے لگی۔۔۔
“تو مطلب۔۔افہام بھائی کو کچھ نہیں پتا،، تُم پاگل ہو تُم نے اُنکو کیوں نہیں بتایا۔۔”
عزہ نے پہلے تو سکون سے کہا پھر اُس بیوقوف کو گھورنے لگی
“اِس میں پاگل والی کیا بات ہے بھلا؟ میں بس نہیں بتا سکتی میرے اندر ہمت نہیں ہے اور اگر انہوں نے ریجیکٹ کردیا تو؟ میری اپنی نظروں میں انسلٹ ہو جائے گی اور پھر میں ایک ہی گھر میں اُن کے ساتھ کیسے رہوں گی؟”
قِرت کی ساری بات سُن کر عزہ نے گہرا سانس لیا
“قِرت یارر۔۔۔یہ سب تو تب کی بات ہے نہ جب وہ تمہیں ریجیکٹ کریں گے لیکن اگر انہوں نے ریجیکٹ نہ کیا تو؟ اور تمہارے اِس ڈر کے چکر میں انہیں کوئی لڑکی پسند آگئی تو۔۔”
عزہ اُسے سمجھانے لگی
“کیا پتا انہیں پہلے سے ہی کوئی لڑکی پسند ہو۔۔۔”
وہ اُداسی سے ہلکی آواز میں بولی جِس پر عزہ کو کرنٹ لگا۔۔۔
“کیا کیا؟؟ دوبارا بولنا۔۔افہام بھائی کو لڑکی پسند؟ یہ تمہیں کِس نے۔۔”
عزہ بول ہی رہی تھی جب عطیہ بیگم کِچن میں داخِل ہوئی
“کِچن کا دروازہ کیوں بند ہے اور تُم نے کب سے دو سیب نہیں کاٹے؟”
عطیہ قِرت کو گھورنے لگی تو اُس نے جلدی سے پلیٹ اُٹھا کر اُنکی طرف بڑھائی۔ وہ پلیٹ پکڑتی باہر نِکل گئی تو قِرت بھی اُنکے پیچھے ہی چلتی ہوئی لاونج میں آگئی۔۔
“قِرت بتاؤ نہ۔۔تمہیں افہام بھائی نے خود کہی ہے یہ بات؟”
عطیہ باہر صحن میں چلی گئی تو عزہ نے دوبارا سوال کیا۔ قِرت نے سر نفی میں ہلایا۔۔
“نہیں لیکن وہ اُس دِن ارمغان بھائی افہام سے کہہ رہے تھے کہ اُن کو اب لڑکی ڈھونڈھ کر شادی کرلینی چاہیے تو انہوں نے کہا کہ لڑکی نظر میں ہے اُن کی لیکن کنفرم نہیں اُن کو کہ وہ لڑکی مانے گی یا نہیں۔۔ریجیکٹ بھی کر سکتی انہیں۔”
قِرت نے ساری بات اُسے بتا دی اور آخر میں اُس کی اواز بھر آئی۔ وہ رونے کے لیے تیار بیٹھی تھی۔۔
“قِرت یار۔۔اگر ایسی کوئی بات ہے تو بھائی واقعی پاگل ہیں۔لیکن انہیں بھی کیا معلوم کے اتنی پیاری سی لڑکی خاموشی سے اُن کی محبت میں گرفتار ہو گئی ہے،،قسم سے اگر انہیں بھنک بھی پڑ گئی نہ وہ ضرور تمہاری محبت کو ایکسپٹ کرلیں گے۔۔اور تُم دعا کرو وہ لڑکی انہیں ریجیکٹ کردے یا پھر۔۔۔کیا پتا وہ تمہاری ہی بات کر رہے ہوں؟”
عزہ اُسکے ہاتھ پر ہاتھ رکھتی ہوئی بولی تو وہ نم آنکھوں سے اُسے دیکھنے لگی
“ہو بھی سکتا ہے لیکن یار.. انہوں نے کبھی صاف لفظوں میں کچھ بولا ہی نہیں اور تمہیں پتا ہے اتنے دِن ہوگئے ہیں انہوں نے مجھ سے ٹھیک سے بات نہیں کی”
ایک آنسو پلکوں کی باڑ توڑ کر باہر نِکلا۔۔۔
“ارے ارے میری جان۔۔رونا نہیں پاگل ہو کیا؟ اچھا میں بھائی سے بات کروں گی مطلب میں اُن سے پوچھوں گی کہ اُن کو کون پسند ہے۔۔لیکن مُجھے نہیں لگتا کہ ایسی کوئی بات ہو سکتی ہے مطلب ماما نے بھی بہت بار بھائی سے پوچھا ہے وہ ہمیشہ یہی کہتے ہیں کہ انکو فلحال کِسی میں انٹرسٹ نہیں۔۔”
عزہ نے اُسکو ہلکا سا ہگ کیا اور بہتا ہوا آنسو صاف کیا۔ قِرت نے گہرے سانس لے کر خود کو مزید رونے سے روکا۔۔
“اور تُم سے بات نہ کرنے والی بات تو میں نے بھی نوٹ کی ہے۔۔۔کوئی لڑائی ہوئی کیا تُم دونوں کی؟؟”
عزہ نے کسی انویسٹیگیٹر کی طرح سوال کیا
“نہیں یار پتا نہیں کیا مسئلہ ہے تمہارے بھائی کو۔۔۔”
قِرت نے بیزار ہوکر کہا
“اچھا تو تُم بھائی سے جاکر پوچھو انہیں کیا مسئلہ ہے دیکھنا وہ ضرور بتا دیں گے دو تین بار پوچھنے پر”
“وہ بھی دیکھ لیتے لیکن تُم افہام کو کُچھ نہیں بتاؤ گی کہ میں ان میں انٹرسٹڈ ہوں یا ایسا کُچھ بھی۔۔۔”
قِرت اُسے انگلی دکھا کر بولی تو وہ اثبات میں سر ہِلا گئی۔۔
“بہت میسینی ہو تم۔۔بتایا کیوں نہیں مجھے؟”
عزہ نے دانت پیستے ہوئے اُسکی بازو پر چونٹی کاٹی
“اوففف بدتمیز عورت۔۔۔”
قِرت نے بازو سہلاتے ہوئے اُسے گھورا پھر مزید بولی
“ویسے ہی بس میں نے سوچا تم میرے بارے میں پتا نہیں کیا سوچو گی”
اُسکی بات پر عزہ نے آنکھیں چھوٹی کر کہ اُسے دیکھا
“میں کیوں کچھ اُلٹا سیدھا سوچوں گی؟ مجھے تو بہت خوشی ہوری تمہاری فیلنگز جان کر”
وہ قِرت کو ہگ کرتی ہوئی بولی تو قِرت اُداسی سے مُسکرا دی
“اچھا چلو اُٹھو چائے پینے کا دِل کر رہا میرا،،،افہام بھائی کہہ رہے تھے کہ وہ بھی جلدی آئیں گے اُن کے لیے بھی اچھی سی چائے بناؤ جاکر ویسے بھی تمہارے ہاتھ کی چائے پسند ہے انہیں۔۔”
عزہ نے چھیڑنے والے انداز میں اُسے کہا تو قِرت مسکراہٹ روک کر اُسے گھورنے لگی
“اِس گھر میں میرا کام صرف چائے بنانا رہ گیا ہے”
وہ بولتی ہوئی اُٹھ کر لاونج سے باہر نِکل گئی۔ وہ جیسے ہی باہر آئی اُسے افہام کی پُشت نظر آئی جو اپنے کمرے میں داخل ہو چُکا تھا اور اب وہاں کوئی نہیں تھا قِرت کے قدم رُک گئے
“انہوں نے سب سُن لیا کیا؟”
دِل میں سوال آیا
“اتنی اچھی قِسمت کہاں اب میری۔۔۔”
وہ بڑبڑاتی ہوئی کچن چلی گئی۔۔اب اُسے کیا معلوم وہی تو قِسمت کی دھنی ہے۔۔۔
☆ ★ ✮ ★ ☆
“چائے پئیں گے آپ؟”
کمرے کے دروازے سے ہلکا سا سر اندر کرکہ اُسنے افہام سے سوال کیا وہ خاموش رہا۔۔ اپنے اگنور ہونے پر وہ یقیناً ہرٹ ہوئی مگر ویسے ہی کھڑی اُسکے جواب کا انتظار کرنے لگی
“جب چائے بنا چکی ہو تو یہ سوال کیسا؟”
کچھ دیر کی خاموشی کے بعد وہ بغیر دیکھے بولا تھا قرت منہ بناتی اندر آئی
“آپ کے لیے نہیں بنائی ویسے ہی تھوڑی زیادہ بن گئی تھی”
سائیڈ ٹیبل پر چائے رکھ کر اُسنے افہام کو دیکھا جو فون میں ایسے گھسا ہوا تھا جیسے اُس سے زیادہ ضروری کام اور کوئی نہ ہو۔ وہ اُسے دیکھنے لگی
“افہام۔۔۔” چند لمحوں بعد وہ بولی تھی مگر وہ ہنوز فون میں مصروف رہا
“کیوں کھڑی ہو؟” چائے کا کپ اُٹھا کر اسنے لبوں سے لگایا
“ناراض ہیں کیا آپ مجھ سے ؟”
اُسنے ہمت کر کہ اُس سے سوال کیا۔۔ پچھلے تین منٹ میں ایک بار بھی اُس شخص نے نگاہِ غلط اُس پر نہ ڈالی تھی
“تمہیں کِس نے کہا۔۔۔۔؟”افہام سیدھا ہو کر بیٹھا
“مجھے ایسا فیل ہوا۔۔۔”وہ انگلیاں مروڑتی ہوئی بولی
“اوہ؟؟ آپ فیل بھی کرتی ہیں۔۔۔؟”
وہ مکمل طور پر اُسکی طرف متوجہ ہوا اور مصنوئی حیرت سے بولا
“افہام یاررر۔۔۔۔اب میں نے کیا کردیا ہے؟”
وہ بیڈ پر بیٹھتی ہوئی اُکتائے ہوئی لہجے میں بولی تو افہام سنجیدگی سے اُسے دیکھنے لگا
“بتائیں نہ کیا ہوا ہے؟ بات ہی نہیں کرتے آپ سہی سے مجھ سے اگر بتائیں گے نہیں تو مجھے کیسے پتا لگے گا؟”
اُسکے لہجے میں جھنجھلاہٹ کی رمق تھی
“بہت جلدی احساس نہیں ہو گیا تمہیں میری ناراضگی کا؟؟”
وہ گھور کر بولا
“جو پوچھا ہے وہ بتائیں۔۔۔”
اُسنے افہام کی گھوری کو نظر انداز کیا
“پہلے تو تُم مجھے یہ بتاؤ کہ مجھ سے اتنی پڑدہ داری کب سے کرنے لگ گئی تُم؟”
قِرت نے نہ سمجھی میں اُسے دیکھا
“میں نے کونسا پڑدہ کیا ہے۔۔۔” وہ اُسکی بات کا یہی مطلب سمجھی تھی
“تُم نے مجھے بتایا کیوں نہیں کہ تمہارا ایڈمیشن ہوگیا ہے یونیورسٹی میں۔ جس دن ماموں لوگ لاہور گئے اُس دِن تُم نے صاف صاف لفظوں میں کہا تھا کہ تمہیں بریک چاہیئے اور پھر جب میں نے ماموں سے کہا کہ میں تمہیں یونیوورسٹی پِک اینڈ ڈراپ دے دونگا تو تُم نے کیوں منع کیا۔۔۔”
اُسنے غصے میں بولتے ہوئے ہاتھ میں پکڑا فون بیڈ پر پٹخا۔ قِرت نے زبان دانتوں تلے دبائی اُسنے تو سوچا ہی نہیں تھا کہ وہ اِس بات پر ناراض ہوسکتا ہے۔ قِرت کا ایڈمیشن کچھ ٹائم پہلے ہی قریبی یونیورسٹی میں ہوگیا تھا۔ اُسے کچھ ہی دِن ہوئے تھے یونیورسٹی جاتے۔ افہام نے عدنان سے کہہ دیا تھا کہ وہ قِرت کو پِک اینڈ ڈراپ دے دے گا لیکن جب یہ بات عدنان نے قِرت سے کہی تو اُسنے سہولت سے انکار کردیا اور ٹیکسی لگوانے کا کہہ دیا
“وہ جھوٹ تو میں نے۔۔غلطی سے بول دیا تھا اور آپ آفِس جاتے ہیں آپ کو مشکل ہوگی میری وجہ سے۔۔۔”
وہ منمناتی ہوئی بولی
“آخر ایسا کون سا بزنس کرتا ہوں میں کہ مجھے پریشانی ہوگی؟”
اُسنے دانت کچکچائے تھے
“بزنس نہیں کرتے لیکن پھر بھی جانے سے پہلے مجھے یونی ڈراپ کریں گے پھر کلاسز ختم ہونگی تو بینک سے نِکل کر پِک کریں گے پھر گھر ڈراپ کریں گے پھر واپس بینک جائیں گے۔ بیشک یونیورسٹی راستے میں پڑتی ہے لیکن پھر بھی بلاوجہ کی تکلیف ہے یہ!”
وہ قِرت کی بات پر اچھا خاصہ جھنجھلایا
“فضول کے بہانے نہیں بناؤ۔ تُم میرے ساتھ نہیں آنا چاہتی بات اِتنی سی ہے”
اُسکی بات پر وہ گڑبڑا گئی
“نہیں ایسا کچھ نہیں ہے۔۔”
“تو پھر کیسا ہے ؟” اُسکے سوال پر وہ خاموش رہی
“کیسے بتاؤں کے گزرتے وقت کے ساتھ عام سی کشش محبت کا روپ اختیار کر رہی ہے”
وہ اُسکے سنجیدہ چہرے کو دیکھتے ہوئے سوچ رہی تھی۔ کاش وہ اپنی سوچ کو لفظوں کا روپ دے سکتی۔ قِرت کے یوں بےاختیار ہو کر دیکھنے پر چند لمحوں کے لیے وہ بھی اُس کے سحر میں جکڑ گیا مگر قِرت بروقت ہوش میں آئی۔
“ہاں ایسا ہی ہے میں آپ کے ساتھ نہیں آنا چاہتی۔۔”
وہ جان بوجھ کر اُسے مزید زچ کرنے لگی
“تو پھر یہاں کیا کرنے آئی ہو؟”
اچانک لہجہ پتھریلا ہوا تو قِرت نے تھوڑی بےیقینی سے اُسکے پل میں بدلتے روپ کو دیکھا اور پھر اُٹھ کر دروازے کی طرف چل دی
“میں صرف بات کلئیر کرنے آئی تھی”
بغیر کسی تاثر کے بول کر اُس نے ڈور ناب پر ہاتھ رکھا مگر اگلے پی پل اُسے اپنا دِل حلق میں محسوس ہوا تھا
“اگر عِزہ نہ کہتی تو تُم نے کون سا یہ بات ‘کلئیر’ کرنے آجانا تھا”
وہ اُسکی پشت دیکھ جر لفظ پر زور دیتا ہوا بولا اور دوبارا بیڈ کراؤن سے ٹیک لگا کر لیٹ گیا۔ وہ ویسے ہی اضطراب کی کیفیت میں ڈور ناب پر ہاتھ رکھے کھڑی رہی
“تُم اپنا گھبرایا ہوا چہرا میری طرف کرکہ بھی کھڑی ہوسکتی ہو۔ ایٹلیسٹ مجھے بوریت نہیں ہوگی”
افہام کی سنجیدہ سی آواز اُسکے کانوں سے ٹکرائی ۔ قرت ایک سیکنڈ ضائع کیے بغیر وہاں سے غائب ہوئی تھی ۔
“وہ خواب تھا؟ یا حقیقت؟”
ادھ کھلے دروازے کو دیکھتے ہوئے اُس نے خود سے سوال کیا تھا۔
☆ ★ ✮ ★ ☆
“انہوں نے سب سُن لیا کیا؟نہیں نہیں نہیں یہ کیسے ہو سکتا ہے یا میرے اللّٰہ “
وہ جب سے افہام کے کمرے سے نِکل کر اپنے کمرے میں آئی تھی تب سے ہی یہاں سے وہاں چکر کاٹتی وہ مسلسل خود سے باتیں کر رہی تھی۔ دِل ابھی تک زور و شور سے دھڑک رہا تھا اور جان جسم سے جاتی ہوئی محسوس ہورہی تھی
“اوففف میرے خدا آج کہ دِن ہی انہیں بینک سے جلدی آنا تھا؟”
وہ بری طرح جھنجھلا کر بیڈ کر بیٹھی
“مگر تُم تو چاہتی تھی نہ کہ افہام کو پتا لگ جائے”
دِل کے کسی کونے سے سوال اُٹھا تھا
“مگر مجھے کیا پتا تھا کہ انہیں واقعی ہی پتا لگ جائے گا میری فیلنگز کے بارے میں اور وہ بھی اِس طرح؟ اوف وہ کیا سوچ رہے ہونگے میرے بارے میں۔۔۔تُم بھی اول نمبر کی بیوقوف ہو بھلا لاونج بھی کوئی جگہ ہے ایسی باتیں کرنے کی؟ساری غلطی اُس واحیات عِزہ کی ہے۔ بھلا وہ کون سا وقت اور جگہ تھی وہ سوال پوچھنے کی؟؟اِس سے بہتر تو انہیں کبھی عِلم ہی نہ ہوتا”
اُسے اب اپنی بیوقوفی پر غصہ آرہا تھا ساتھ ہی ساتھ اُس نے عِزہ کو بھی کوس ڈالا۔ وہ مسلسل اُونچی آواز میں بڑبڑا رہی تھی اُسکا دِل چاہا کے اپنا سر پیٹ لے
“کِس کو عِلم نہ ہوتا؟”
صبیحہ کی آواز پر وہ تقریباً کرنٹ کھا کر بیڈ سے اُٹھی
“کک۔۔کچھ نہیں وہ بس”
وہ اُسکی کی اچانک آمد پر تھوڑی گھبرائی
“مجھے لگا تم کال پر بات کر رہی ہو لیکن تمہارے ہاتھ میں تو فوں ہی نہیں۔۔۔”
صبیحہ نے دھلے ہوئے کپڑوں کو صوفے پر رکھتے ہوئے کہا
“نہیں وہ۔۔میں بور ہورہی تھی تو خود سے بات کر رہی تھی”
وہ خجل سی ہوئی۔ صبیحہ نے قِرت کو ایسے دیکھا جیسے اُسکی ذہنی حالت پر شعبہ ہو
“یہ دھلے ہوئے کپڑے تمہارے اور عِزہ کہ ہیں۔ شاید ایک دو سوٹ نشہ کا بھی ہو لیکن بہرحال اپنے اپنے کپڑے الگ کر دینا”
وہ صوفے پر پڑے کپڑوں کی طرف اشارہ کرتی کمرے سے نکل گئیں
“اوفف اتنے زیادہ کپڑے ہیں۔۔۔”
وہ صوفے پر پڑے ڈھیر سارے کپڑے دیکھ کر بولی
“نِشہ بھی پتا نہیں کدھر ہے”
وہ ابھی سوچ ہی رہی تھی جب واشروم کا دروازہ کھُلا اور گیلے بال ٹاول سے رگڑتی وہ واشروم سے باہر نکلی۔ نِشہ کو دیکھتے ہی قِرت کا اوپر کا سانس اوپر اور نیچے کا نیچے رہ گیا
“تت۔۔۔تُم واشروم میں کیا کر رہی تھی؟؟”
آواز حلق میں پھنستی ہوئی محسوس ہوئی تھی
“ہیں؟ کیا مطلب واشروم میں کیا کر رہی تھی؟دیکھ نہیں رہی نہانے گئی تھی “
قِرت کے بے تکے سوال پر نِشہ نے عجیب نظروں سے اُسے دیکھا۔ وہ جب سے کمرے میں آئی تھی پانی گرنے کی یا ایسی کوئی بھی آواز اُسکی سماعتوں سے تو نہ ٹکرائی تھی۔ تو کیا مطلب؟ نِشہ ابھی تک کی گئی اُسکی ساری بکواس سُن چکی تھی؟ وہ سوچ رہی تھی
“تمہاری شکل کیوں ایسے ہوگئی ہے جیسے کوئی جِن بھوت دیکھ لیا ہو”
نِشہ نے گیلا ٹاول بیڈ پر پھینکتے ہوئے کہا اور شیشے کے سامنے جاکر کھڑی ہوگئی۔
“ہاں تو۔۔تُم ہی اچانک چُڑیل کی طرح نمودار ہوئی ہو۔۔۔”
وہ لہجہ نارمل کرتی ہوئی بیڈ پر بیٹھی۔ وہ چاہ کر بھی اندازہ نہ لگا سکی کہ نشہ نے کچھ سُنا تھا یا نہیں۔۔
“لو جی۔۔۔تُم ایسے بول رہی ہو جیسے میں نے تمہارے چوری پکڑ لی ہو”
اُسکا لہجہ عام سا تھا لیکن قِرت کو حلق میں کانٹے اُگتے ہوئے محسوس ہوئے۔
“تُم۔۔اِس واشروم میں کیوں گئی تھی؟ میرا مطلب اپنے کمرے کے واشروم میں کیوں نہیں گئی”
دل میں آیا ہوا سوال کیا
“میرے واشروم کی لائٹ خراب ہوگئی تھی اِس لیے۔۔۔”
وہ چہرے پر کچھ لگا رہی تھی
“اچھا سنو۔۔یہ کپڑے رکھ کے گئی ہیں پھوپھو لپیٹ دینا میں تھکی ہوئی ہوں میرا دِل نہیں کر رہا”
وہ صوفے پر پڑے کپڑوں کی طرف اِشارہ کرتی ہوئی بولی
“ہاں ہاں پورا پاکستان تُم ہی تو سنبھال رہی ہو”
نِشہ نے طنز کیا تو قرت نے اُسے گھورا
“اوففف آج یونیورسٹی میں ٹف دِن گزرا ہے میں تھک گئی ہوں نہ”
وہ گندی سی شکل بنا کر بولی
“میں نہیں کر رہی بھئی تمہارے اور عِزہ کے کپڑے ہیں اپنا کام خود کرو”
وہ گیلے بالوں میں برش کرتی ہوئی بولی۔ قِرت زچ ہوتی کمرے سے واک آؤٹ کر گئی۔ اُسکے جانے کے بعد ناجانے کتنی دیر نِشہ ویسے ہی کھڑی گہری سوچ میں گُم رہی۔
