Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Muntazirat Hastam (Episode 17)

Muntazirat Hastam by Neha Imtiaz

“گھر چلیں اب۔۔۔؟”

وہ دونوں کے ایف سی میں آمنے سامنے بیٹھے تھے۔ فاسٹ فوڈ ختم کرنے کے بعد عزہ کے کولڈرنک کا گلاس خالی کرتے دیکھ کر ارمغان نے سوال کیا۔

“ہاں چلیں۔۔۔۔”

وہ اپنی جگہ سے اٹھ کھڑی ہوئی اور سلنگ بیگ کندھے پر رکھا تو ارمغان نے اسے ہاتھ سے آگے چلنے کا اشارہ کیا۔ وہ سمائل پاس کرتی دروازے کی طرف بڑھی تبھی اسے آمنہ اندر آتی دکھائی دی۔ عزہ کے قدم رک گئے وہ جلدی سے دوسری طرف مڑی تو پیچھے ارمغان اسکے رکنے پر خود بھی رک گیا۔

“کیا ہوا۔۔۔؟ چلو نہ”

عزہ کو سمجھ نہ آیا وہ کیا کرے دل ہی دل میں دعا کرتی وہ دوبارہ اس طرف مڑی تو گلاس ڈور دھکیل کر آمنہ اندر داخل ہوئی اور عزہ کو وہاں دیکھتے اسکے چہرے پر خوشگوار سا تاثر ابھرا۔

“ارے عزہ تم یہاں۔۔۔”

آمنہ مسکراہٹ لئیے عزہ کی آواز آئی جبکہ عزہ کو پیروں تلے زمین کھسکتی کوئی محسوس ہوئی۔ ارمغان نے کچھ حیرت سے آمنہ کو دیکھا وہ اسے اچھے سے پہچانتا تھا۔

“ہہ۔۔۔ہاں میں۔۔۔ارمغان کے ساتھ آئی تھی”

اسے اپنے پورے جسم کا خون گرم ہوتا ہوا محسوس ہوا۔

“اچھا میری کالز اگنور کرکہ تم یہاں برگر کھانے آئی ہو؟”

وہ خفا لہجے میں بولی۔ عزہ نے واقعی ناراضگی کا اظہار کرتے اسکی کالز اور میسجز کو فل اگنور کیا تھا۔ اسکی بات پر تو عزہ کا رنگ فق ہوگیا اب تو بات سنبھال بھی نہ سکتی تھی۔

“ہاں۔۔نہیں بس وہ۔۔”

اسنے مسکرانے کی کوشش کی ورنہ تو اسکا دل کر رہا تھا وہ یہاں سے غائب ہو جائے کسی طرح۔

“اچھا میں اپنی ایک کزن کے ساتھ آئی ہوئی ہوں اس لئیے چلتی ہوں۔۔۔کال اٹینڈ کرلینا اب تم میری”

وہ چلی گئی تو ارمغان بغیر کچھ کہے باہر کی جانب بڑھا۔

گاڑی میں بیٹھتے ہی اسنے اتنی زور سے دروازہ بند کیا کہ عزہ کا سانس حلق میں اٹک گیا۔ اس کا دل کر رہا تھا زمین پھٹے اور وہ اس میں سما جائے۔

“ارمغان میں۔۔۔۔”

“شاٹ اپ عزہ جسٹ شٹ اپ!!”

اسکی دھاڑ پر عزہ اپنی جگہ سے ہل بھی نہ سکی۔

“حد ہوتی ہے کسی چیز کی۔۔۔میرے پاس الفاظ نہیں ہیں کہنےکو۔۔کوئی شرمندگی ہے تمہیں؟”

وہ حیرت اور غصے میں ملے جلے تاثرات سے اسے دیکھ رہا تھا۔ اسے واقعی عزہ پر حیرت ہورہی تھی۔ یقین نہیں آرہا تھا کہ ایک گھنٹا پہلے آمنہ کو ملائی جانے والی وہ کال مصنوئی تھی۔ عزہ نے غصے سے سرخ ہوتے ارمغان کو دیکھا۔ اچانک ہی اپنی اس سچویشن پر اسے رونا آیا تھا اور کنٹرول کرنے کی اسنے کوشش بھی نہ کی تھی چہرا جھکائے وہ رونے لگی۔ ارمغان نے خاموشی سے اسے دیکھا اور گاڑی سٹارٹ کی۔

گھر کے پورچ میں گاڑی کھڑا کرتا وہ بغیر اسکی طرف دیکھے نکلنے لگا جب نے جلدی سے اسکی بازو پکڑ لی

“ارمغان ایک بار سن لیں۔۔۔”

گہرا سانس لیتے اسنے غصہ دبایا اور گاڑی کا دروازہ واپس بند کرتا وہ اسکی طرف مڑا

“کچھ کہنے کے لیے بچا ہے؟”

اسنے اپنے بازو سے اسکا ہاتھ ہٹایا تو رکے ہوئے آنسو دوبارہ نکلنے لگے۔

“ارمغان پلیز آئی ایم سوری۔۔۔۔”

وہ اس بار حقیقتاً نادان تھی۔

“واٹ سوری؟ تمہیں سوری کا مطلب بھی پتا ہے عزہ؟ مجھے حیرت ہورہی ہے تمہاری شاندار ایکٹنگ اور اتنے صاف جھوٹ پر!”

اسے ایک بار پھر غصہ آنے لگا۔

“مم۔۔میں جھوٹ نہیں بولنا چاہتی تھی مگر۔۔۔مجھے کل ایسا لگا کہ آپ نے مجھے معاف نہیں کیا دل سے۔۔اسی لیے میں کچھ وقت گزار کر دوبارہ معافی مانگنا چاہتی تھی۔۔۔”

چھوٹ پکڑا جانے پر وہ ایک بار پھر سے جھوٹ کا سہارا لے رہی تھی۔

“اچھا۔۔۔۔اُس بات کے لیے تو میں نے تمہیں معاف کردیا تھا اب اِس جھوٹ کی معافی مانگنے کے لیے دوبارہ کون سا جھوٹ بولو گی؟

عزہ کا دل کیا کہ وہ زمین میں گڑھ جائے۔ اتنی شرمندگی اسے زندگی کے سترہ سالوں میں کبھی نہ اٹھانی پڑی تھی۔

“میں نہیں بولنا چاہتی تھی جھوٹ۔۔میں آپ کے ساتھ ٹائم اسپینڈ کرنا چاہتی تھی بس”

“تو تم یہ بات مجھے بول سکتی تھی کہ تمہیں میرے ساتھ باہر جانا ہے! تمہیں جھوٹ بولنے کی ضرورت نہیں تھی وہ بھی گاڑی میں میرے ساتھ بیٹھ کر تم نے مجھے بیوقوف بنا لیا”

وہ استہزائیہ ہنسا

“سخت نفرت ہے مجھے جھوٹ اور فریب سے! کل سے تم آمنہ کے گھر جانے والا جھوٹ بول رہی مجھ سے۔ اگر تم مجھے کل ہی کہہ دیتی کہ تم گھر میں تنگ آگئی ہو تمہیں کہیں باہر جانا ہے تو نیند کو بھاڑ میں جھونک کر میں تمہیں لے چلتا مگر اس وقت مجھے خود پر ہنسی آرہی کہ میں سترہ سالہ بچی کے ہاتھوں بیوقوف بن گیا!”

ارمغان غصے میں تفصیل سے بولا اسکی ساری باتیں سر جھکا کر خاموشی سے سنی پھر اسکے آخری جملے پر سر اٹھا کر اسنے ارمغان کو دیکھا جس کے چہرے پر ابھی بھی غصے کے آثار تھے۔۔ وہ چند لمحے اسے دیکھتی رہی پھر گاڑی سے اتر کر دروازہ زور سے بند کرتی اندر کی جانب بڑھی۔ ارمغان نے ایک بار پھر حیرت سے اسے دیکھا جس نے غلطی خود کی تھی اور اب اکڑ اسے دکھا رہی تھی۔

☆ ★ ✮ ★ ☆

افہام اسکی یونیورسٹی کے باہر آدھا گھنٹا انتظار کرتا رہا پھر کال کرنے پر معلوم ہوا کہ وہ گھر چلی گئی ہے۔ گھر آکر سیدھا وہ اسکے کمرے میں آیا تھا جو ڈھیر سارے کپڑے بیڈ پر بکھیر کر بیٹھی تھی۔۔ کمرے میں آتے ہی افہام نے اس پر غصہ کرنا شروع کردیا۔

“حد ہوتی ہے قرت تم ایک میسج نہیں کر سکتی تھی کہ آج گھر جلدی جانا ہے میں نے؟ آدھا گھنتا ادھر انتظار کرتا رہا ہوں میں تمہارا!!”

“میں اپنی دوست کے ساتھ آجایا کروں گی آپ کو زحمت کرنے کی ضرورت نہیں”

اسکے غصے پر ٹھنڈے پن کا مظاہرہ کرتے وہ بڑے آرام سے بولی تھی اور اٹھ کر کپڑے الماری میں واپس رکھنے لگی۔

“فضول باتیں مت کرو تم میرے ساتھ میں نے یہ نہیں کہا کہ مجھے زحمت ہورہی لیکن اگر تم ایک میسج چھوڑ دیتی تو کیا ہوجاتا۔”

وہ اسے گھورنے لگا تھا۔

“میں نے بتانا ضروری نہیں سمجھا”

وہ بغیر اسکی طرف دیکھے اتنے ہی اطمینان سے بولی تو افہام چند لمحے کچھ کہہ نہ سکا۔

“مجھے بتانا پسند کرو گی کہ ہوا کیا ہے؟ آخر مسئلہ کیا ہے تمہارے ساتھ؟”

وہ چل کر اسکے سامنے آیا اور قرت کو اپنی طرف متوجہ کرنا چاہا جس نے نظر اٹھا کر بھی اسے نہ دیکھا تھا۔

“کیا کردیا ہے میں نے ایسا؟ آپ کے بغیر گھر نہیں اسکتی میں؟ حد ہوتی ہے اپنا غصہ کسی اور پر اتاریں جاکر!”

ایک دم غصے میں آتے ناگواری سے بولی تو افہام نے اسے کچھ حیرت سے دیکھا۔

وہ ایک غصیلی نظر اس پر ڈالتی جانے لگی جب افہام نے اسکے سامنے آتے کوشش ناکام بنائی۔

“ہوا کیا ہے قرت بتانا ہے یا نہیں؟”

وہ غصہ دباتا دانت پیس گیا

“نہیں بتانا۔۔۔ہٹیں میرے راستے سے۔۔۔”

اسنے افہام کی طرف دیکھنے سے گریز کیا اور نمی چھپائی۔

“نہیں ہٹوں گا۔۔۔!”

وہ بھی اڑ گیا اور دونوں ہاتھ جیب میں ڈالے

“مجھے ہٹانا آتا ہے۔۔۔”

بولتے ساتھ ہی قرت نے دونوں ہاتھ اسکے سینے پر رکھتے پوری قوت سے اسے پیچھے کی طرف دھکا دیا۔ افہام اس افادے کے لیے تیار نہ تھا وہ لڑکھڑاتا ہوا پیچھے ہوا اور قرت کمرے سے نکل گئی۔

“قرت مجھے مجبور مت کرو کہ میں تمہاری عقل ٹھکانے لگا دوں۔۔۔!”

کمرے سے نکلتے قرت کے کانوں میں اسکی غصے سے بھری آواز پڑی تھی اور آنکھیں سے آنسو گرنے لگے۔ پچھلے کچھ دنوں سے افہام کو دیکھتے وہ ضبط کیسے کر رہی تھی یہ بات صرف وہی جانتی تھی ورنہ اسکو دیکھتے ہی قرت کا دل کرتا تھا وہ پھت پڑے مگر وہ ایسا ہرگز نہیں کرنے والی جب تک وہ خود نہ کچھ بول دے۔

☆ ★ ✮ ★ ☆

“تم نے یہ سارا گھر دیکھا ہے کیا؟”

وہ دونوں لاونج میں بیٹھی تھی جب نشہ نے سوال کیا۔ یَشل نے سر نفی میں ہلایا۔

“نہیں۔۔۔میرا کمرا، صحن، کچن، ماما کا کمرا مطلب یہی نیچے والا پورشن۔۔”

“اوپر چلیں۔۔؟” نشہ ایسے ایکسائیٹڈ ہوئی جیسے اوپر والا پورشن میں جنات کا بسیرا ہو۔

“اوپر جاکر کیا کرنا۔۔۔۔”

اوپر رائد کا کمرہ تھا وہ ہرگز بھی وہاں نہیں جانا چاہتی تھی۔

“ایکسپلور کرتے ہیں نہ۔۔بور ہو رہی ہوں میں بہت زیادہ”

وہ گندا سا منہ بنا کر بولی۔

“رات کے بارہ بجے کیا ایکسپلور کرنا ہے تم نے؟”

یَشل اپنی بیزاری چھپا کر بولی

“ویسے ہی نہ آؤ تم۔۔رہنا تو اب تم نے یہیں پر ہے تو دیکھ لو اپنے ٹوٹے ہوئے خوابوں کا محل”

نشہ نے کچھ جلے کٹے انداز میں کہا تو یَشل حیران ہوئی

“کیا مطلب میں نے یہیں رہنا ہے؟ ماما کے ٹھیک ہوتے ہی میں واپس آجاؤ گی”

وہ اپنی جگہ سے اٹھ کھڑی ہوئی اور سیڑھیوں کی طرف بڑھی تو نشہ نے بھی اسکی پیروی کی۔

“ہاں ہاں دیکھ لیں گے۔۔جس آدم خور کے پلے تم باندھ دی گئی ہو نہ وہ پھر کوئی بکواس کرے گا تم دیکھ لینا”

یَشل چلتے چلتے رکی اور اسکی طرف مڑی جسکا لہجہ کڑوے بادام جیسا تھا۔

“تمہیں بری لگ رہی ہیں یہ باتیں؟”

نشہ نے اسکے رکنے پر حیرت سے اسے دیکھا۔

“نہیں نشہ۔۔مگر میں تھک گئی ہوں یار جس سوچ سے جس خیال سے میں بھاگنا چاہ رہی تم پچھلے ایک گھنٹے سے رہ رہ کر اسی بارے میں باتیں کرتے اپنی فرسٹریشن نکال رہی۔ میں کیا کروں؟ کیا اس آدم خور کے پلے اپنی مرضی سے بندھی ہوں میں؟ میں اس کے پاس جاؤں اور اسے کہوں کہ رائد مجھے ڈائیورس دے دو؟”

وہ ایک ہی سانس میں بولتی ہانپ گئی۔

نکاح کا مطلب یہ نہیں کہ میں پھلوں کی سیج پر آ بیٹی ہوں! ہر راستے پر صرف کانٹے ہیں اور میں ان کانٹوں پر چل رہی ہوں. پیروں پر ابھی سے چھالے بننا شروع ہوگئے ہیں۔۔۔ آگے لمبی زندگی پڑی ہے مجھے خود نہیں پتا کیا ہونے والا ہے اور میں اس شخص کے ساتھ زندگی کیسے گزاروں گی لیکن آبی، ماموں، ممانی اور خالہ جو ہمت مجھے دیتے ہیں وہ تمہاری باتیں سن کر ختم ہوجاتی ہے۔۔”

نِشہ جہاں کی تہاں رہ گئی تھی۔ اسے اندازہ نہیں تھا کہ خاموشی سے اسکی جلی کٹی باتیں سن کر یَشل کیسا محسوس کرتی ہے۔ وہ یہ سب رائد کو نہیں کہہ سکتی تھی اسی لیے اپنا غصہ وقتاً فوقتاً وہ یَشل کے سامنے رائد اور ان دونوں کے نکاح کو کوستے ہوئے نکالتی رہتی تھی۔

“انوشہ۔۔۔تمہارا ساتھ میرے لیے بہت ضروری ہے۔۔ زندگی کے ہر موقع پر مجھے تم چاہیے ہو مگر اس طرح نہیں کہ تمہاری باتیں میری اینژائیتی (اضطراب) میں اضافے کا باعث بنیں۔۔”

وہ اس بار نرمی سے بولتی خاموش ہوگئی۔ نشہ کا چہرا کچھ زرد ہوگیا۔ اسنے یَشل کی آنکھوں میں چمکتی نمی کو دیکھا تھا۔ کچھ کہنا چاہتی تھی لبوں میں لرزش سی ہوئی مگر وہ منہ سے ایک لفظ بھی ادا نہ کر سکی اور اسے دیکھتی رہ گئی۔۔ یہ کیفیت یَشل کی باتوں پر نہ تھی اپنی لاپرواہی پر تھی۔ اسنے یَشل کو بلک بلک کر روتے ہوئے دیکھا تھا اسے ٹوٹا بکھرا ہوا دیکھ کر بھی وہ اپنی باتوں پر دھیان کیوں نہ دے سکی۔ نشہ کو اچانک ہی اپنا آپ مجرم لگنے لگا۔ سامنے کھڑی یشل کی آنکھوں میں اگر اس پل نمی تھی تو اسکی وجہ ہر دکھ سکھ کی ساتھی نشہ تھی۔ اسکے گلے میں گلٹی ابھری۔

مگر اگلے ہی پل یَشل آگے ہوتے اسکے سینے سے لگی تھی۔ نشہ نے آنکھیں چھپکتے نمی کو واپس اندر کرنا چاہا مگر آنسو مزید باہر آنے لگے۔

“میں اپنی ان باتوں کے لیے معافی مانگتی ہوں مگر۔۔۔میں تھک گئی ہوں ابھی سے۔۔۔”

نِشہ نے رخسار پر بہتا انسو رگڑتے اسکے گرد بازو حائل کئیے۔

“سوری مجھے کہنا چاہیے۔۔۔مجھے اندازہ نہیں ہوا کہ میں تمہاری مشکلات میں اضافہ کر رہی۔ مجھے واقعی احساس نہیں ہوا کہ میرے اس غصے کا تم پر کیسا اثر ہورہا ہے۔۔”

وہ چند لمحے ویسے ہی کھڑی رہی پھر یَشل اس سے خور ہوئی اور اپنے دوپٹے سے اسکی آنکھوں کو خشک کیا۔

“چھوڑو سب۔۔۔ آؤ اوپر چلیں” وہ بولتے ساتھ ہی پیچھے کی طرف مڑی اور ایک ایک زینا پھلانگتے ہوئے اوپر جانے لگی نشہ بھی اسکے پیچھے چلی۔ آخری چند سیڑھیاں ہی بچی تھی جب یَشل کا پاؤں زینے پر پڑا ہی نہیں اور وہ بےاختیار ہی گرتی ہوئی پیچھے کی طرف پھسلی۔۔گٹھنے میں لگنے والی چوٹ نے اسے چیخنے پر مجبور کردیا اگر نشہ پیچھے نہ ہوتی تو ہاتھ پاؤں ضرور ٹوٹ جاتا یہ بھی خوش قسمتی تھی کہ اسکا منہ زینے پر نہ لگا تھا ورنہ وہ جس طرح سے گری تھی اسکی خوبصورت ناک بھی ٹوٹ جانی تھی۔

“یشل۔۔۔۔”

نشہ نے جلدی سے اسے اٹھانا چاہا اور بامشکل سیدھا کرکہ بٹھایا۔ بری طرح کراہتے ہوئے وہ رونے لگی تھی۔ ہاتھ، پاؤں اور گٹھنا۔۔تینوں کہ بینڈ بج گئی تھی۔

“اوففف میرے خدایا۔۔۔ادھر دکھاؤ”

نشہ نے اسکا ہاتھ دیکھنا چاہا جسکی ہتھیلی بری طرح سرخ ہورہی تھی اور اس میں ہلکا سا کٹ آگیا تھا۔ اسکی چیخ سن کر اپنے کمرے میں سکون سے بیٹھا رائد باہر آیا مگر سیڑھیوں پر ان دو وجودوں کو دیکھ کر وہ بجلی کی تیزی سے انکی طرف آیا۔۔۔

“کیا ہوا ہے؟ یَشل کیسے گر گئی تم۔۔۔کہاں لگی ہے؟”

وہ جلدی سے روتی ہوئی یَشل کا پاؤں دیکھنے لگا جسے پکڑا ہی تھا کہ یَشل کراہ اٹھی۔ رائد نے جھٹ سے پاؤں چھوڑ دیا۔ اسکے یوں رونے پر نِشہ اور رائد پینک ہونے لگے۔

“یشل رونا بند کرو اٹھنے کی کوشش کرو۔۔۔۔”

نِشہ نے اسکو بازو سے پکڑ کر اٹھانا چاہا تو وہ سر نفی میں ہلانے لگی۔ نہ وہ پاؤں ہلا سکتی تھی نہ ہی گٹھنا سیدھا کر سکتی تھی۔

“میں ماموں کو اٹھا کر آتی ہوں۔۔۔”

نشہ جلدی سے بولتی زینے اترنے لگی۔

“کدھ جارہی ہیں آپ؟ جب اس کا شوہر یہاں موجود ہے تو دوسروں کو اٹھانے کی کیا ضرورت ہے؟”

یَشل نے جھکا سر اٹھایا اور نشہ نے پلٹ کر اسے دیکھا۔

ایک لمحا لگا تھا اور رائد نے جھک کر یَشل کو بانہوں میں اٹھا لیا اسکی اس حرکت پر یَشل کے منہ سے ایک اور چیخ نکلتے نکلتے رہ گئی

“نیچے اُتارو اسے رائد۔۔۔”

نِشہ نے غصے پر ضبط کرتے اسے مخاطب کیا۔ رائد جو اوپر کے زینے پر پاؤں رکھنے ہی لگا تھا اسنے دو تین زینے نیچے کھڑی نشہ کو دیکھا۔

“اچھا آپ لے کر جائیں گی اسے کمرے میں؟”

اسنے سنجیدگی سے کہا تو نشہ کا دل کیا اسکی ٹانگ پر اپنی لات دے مارے جبکہ یَشل کے تو آنسو ہی رک گئے تھے۔

وہ بچے ہوئے تین زینے چڑھ کر اوپر والے فلور پر پہنچنا اور سیدھا سیدھا اسے اپنے کمرے میں لے جاکر بیڈ پر بٹھا دیا۔ نشہ کا غصہ تو آسمان پر جا پہنچا یہ شخص ضرور اس سے لتر کھانے کا خواہشمند تھا۔

“یہی ایک کمرا ہے یہاں؟” اسنے دانت پیستے ہوئے رائد کو دیکھا جو یَشل کی کمر کے پیچھے تکیہ ٹھیک کر کہ رکھ رہا تھا۔ یشل سانس اور آنسو روکے اسے دیکھ رہی تھی جو بےحد قریب کھڑا اسکی دھڑکن بڑھانے میں ناکام ہوا تھا۔

“نہیں مگر یہ میرا کمرا ہے اور فطری طور پر یَشل کا بھی۔۔۔۔”

اسنے ایک نظر یشل پر ڈالتے اسے بھی جتایا۔ یَشل نے مٹھی بھینچی مگر ایسا کرنے سے ہاتھ میں اُٹھنے والی درد کی لہر نے اسے کراہنے پر مجبور کردیا۔ نِشہ اسکی طرف بڑھنے ہی لگی جب رائد بیچ میں آگیا۔۔۔

“رات بہت ہوگئی ہے میرے خیال سے اس پہر آپ کا دو میاں بیوی کے درمیان رکنا مناسب نہیں۔۔۔”

اسکی بات پر نہ صرف نشہ۔۔۔یشل کی بھی آنکھیں پھیل گئی

“زیادہ اوور ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔۔ہٹو راستے سے”

اسنے انگلی اٹھائی تو رائد نے آئی برو اچکائی۔۔۔

“لگتا ہے مجھے کچھ ایسا کرنا پڑے گا کہ آپ شرما کر خود چلی جائیں۔۔۔”

وہ بولتے ساتھ ہی یَشل کی طرف پلٹا۔ اس سے پہلے وہ دونوں اسکی بات کا مطلب سمجھتی رائد نے جھک کر یَشل کا ماتھا چوم لیا اور یَشل نشہ کے سامنے کی گئی اسکی حرکت پر آب آب ہوگئی۔ نشہ کا وہاں رکنا دشوار ہوا اور دل ہی دل میں اسے لعنت ملامت کرتی کمرے سے واک آؤٹ کر گئی۔

اپنی حرکت پر فخریہ انداز میں مسکراتا ہوا سیدھا ہوگیا اور یَشل کو دیکھا کس کا چہرا غصے، خفت اور شرم کے ملے جلے تاثرات سے سرخ ہورہا تھا۔۔۔

“اتنے بےشرم کیوں ہو تم رائد۔۔۔۔!”

اپنا درد بھلائے وہ اسے غصے میں بولی تو رائد کندھے اچکا گیا۔

“اچھا سوری نہ۔۔۔میں فرسٹ ایڈ کٹ لاتا ہوں”

وہ کمرے سے نکل گیا تو یَشل بیڈ کی پشت سے سر ٹکاتی آنکھیں موند گئی۔

کچھ دیر بعد اسکا بیڈ پر پڑا ہاتھ کسی نے گرفت میں لیا تو اسنے پٹ سے آنکھیں کھولی۔ رائد قریب ہی بیڈ پر بیٹھا اسکا ہاتھ دیکھ رہا تھا پھر اس پر کچھ لگانے لگا۔ تکلیف تھی اسی لیے وہ خاموش رہی مگر کچھ دیر بعد اسے اپنا سانس رکتا ہوا محسوس ہوا جب اسے رائد میں وہ نظر آنے لگا۔

نرمی سے مرحم لگانے کے بعد اسنے یَشل کے ہاتھ پر پٹی باندھنا شروع کی۔ پٹی باندھ کر اسنے خود پر یَشل کی گہری نظریں محسوس کرتے اسکی طرف دیکھا جو کل کی طرح ایک بار پھر بغیر پلکیں جھپکائے مبہوت سی ہوکر اسے دیکھنے میں مصروف تھی۔

آنکھوں میں خوشی ، محبت یا نفرت جیسا کوئی احساس نہ تھا۔ اگر کچھ تھا تو نہ سمجھی تھی اور اسکی یہ کیفیت نہ وہ خود سمجھ سکی نہ رائد۔ وہ بیڈ سے اٹھ کر اسکے پاؤں ہی طرف آیا۔۔۔

“دونوں پاؤوں میں درد ہے؟”

اسکے سوال پر وہ اسی کیفیت میں آہستگی سے سر نفی میں ہلا گئی۔

“اس میں ہے۔۔۔؟”

رائد نے اسکے بائیں پاؤں ہر ہاتھ رکھا تو وہ سر اثبات میں ہلانے لگی۔ رائد نے اسکا پاؤں پکڑا ہی تھا جب وہ سسک اٹھی اور ہوش میں آئی۔

“بہت زیادہ درد ہے؟ ابھی تو میں نے کچھ کیا بھی نہیں تھا۔۔۔”

رائد نے لہجے میں نرمی سمو کر اسے دیکھا

“ہاں تم تو بچپن سے ڈاکٹر ہو ساری میڈیکل تمہیں ہی تو آتی ہے!”

اچانک ہی وہ غصے میں بولی تو رائد نے اسکی بدلتی کیفیت کو حیرت سے دیکھا۔

“آجاؤ ڈاکٹر کے پاس چلتے ہیں۔۔”

وہ ویسے ہی نرمی سے بول کر اسے اٹھانے کی غرض سے آیا تو وہ سر نفی میں ہلانے لگی۔

“رہنے دو صبح تک ہو جاؤں گی ٹھیک۔۔۔۔”

وہ بےرخی سے کہتی چہرا دوسری طرف کر گئی۔ رائد گہرا سانس لیتا پاس بیٹھا۔

“حالت دیکھی ہے اپنی؟ پاؤں کو ہاتھ تک نہیں لگانے دے رہی ہو۔۔ایسے کیسے ٹھیک ہو جاؤ گی؟”

اسکے چہرے پر آئے بالوں کو پیچھے کرتے وہ اتنی اپنائیت سے بولا کہ یَشل اسکی طرف دیکھنے سے خود کو روک نہ سکی۔۔۔ یہ لہجا اور فکر اسے صرف اس شخص کی یاد دلاتی تھی اور اسکی یاد آتے ہی وہ اسے نظر آنے لگ جاتا تھا۔۔رائد کے چہرے میں بھی۔۔۔ اپنی اس کیفیت سے وہ خود پریشان تھی ایک شخص کی بیوی بن کر سارا دن کسی دوسرے کے بارے میں سوچتے رہنا اور اتنا سوچنا کہ ہر طرف وہی نظر آنے لگے۔۔۔ اسکا دل ڈوبنے لگا۔۔

“اوففف یشل ایسے مت دیکھا کرو۔۔۔۔”

اپنی مسکراہٹ دباتا وہ اسے گھور کر رہ گیا۔

“اتنے بھی خوبصورت نہیں ہو۔۔۔۔”

ٹانگ میں ایک بار پھر درد کی لہر دوڑ گئی جس کے آثار چہرے پر بھی نمایا ہوئے۔ رائد بغیر کچھ کہے جگہ سے اٹھا اور کمرے سے نکل گیا کچھ دیر بعد وہ دودھ کا گلاس لئیے کمرے میں واپس آیا۔ گلاس سائڈ ٹیبل پر رکھا اور کوئی میڈیسن ڈھونڈھنے لگا پھر دو پین کلرز اسکی طرف بڑھائی کو یَشل نے تیز نظروں سے اسے دیکھا۔

“اتنے پیار سے مت دیکھو میڈیسن کھاؤ ورنہ ڈاکٹر کے پاس چلو۔۔۔”

اسکے غصے پر پہلا جملہ شوخی سے کہا تو یَشل نے دانت کچکچاتے ہوئے اسکے ہاتھ سے دونوں ٹیبلیٹس لے کر منہ میں رکھی اور نیم گرم دودھ کے ساتھ حلق سے نیچے اتاری۔ رائد نے شکر ادا کیا کہ نازک حسینہ بن کر اسنے نکھرے نہیں دکھائے۔

“اب کیا کرنے لگے ہو۔۔۔؟”

اسے فرسٹ ایڈ کٹ سے دوبارہ مرحم نکالتا دیکھ کر اسنے بیزاریت سے سوال کیا۔

“اگر تم بھول گئی ہو تو یاد کروا دوں اپنا کمزور گٹھنا بھی تڑوا کر بیٹی ہو۔۔۔”

رائد نے بولتے ہوئے ہوئے اسکے ٹراؤزر کو ٹخنے سے اوپر سرکایا ہی تھا جب یَشل سرعت سے پاؤں اوپر کر گئی ساتھ ہی اٹھنے والے درد پر چیخ پڑی۔ تکلیف اتنی شدید تھی کہ آنکھوں میں نمی اتر آئی اور چہرے پر تکلیف کے آثار نمایا ہوئے۔ رائد کا ہاتھ ماتھے پر گیا۔

“یَشل کیا مسئلہ ہے یار۔۔۔!”

وہ اس بار تھوڑے غصے میں بولا جسے اگنور کرتی یشل کراہنے میں مصروف تھی۔

“تمہارے ساتھ کیا مسئلہ ہے؟”

اسکی کڑی نظر خود پر محسوس کرتی وہ غصے سے رندھی ہوئی آواز میں بولی۔۔۔

“اب اگر تم ہلی تو مجھ سے برا کوئی نہیں ہوگا۔۔۔۔!”

وہ بیڈ پر چڑھ کر بیٹھا، یَشل کو سختی سے وارننگ دی اور گٹھنے پر مرحم لگانے لگا۔

“یہ کیا بیہودگی ہے۔۔۔؟”

تکلیف کے باعث اب وہ ٹانگ کو حرکت دینے کی غلطی نہیں کر سکتی تھی اسی لئیے زبان چلائی۔

“اسے بیہودگی نہیں بیوی کی کئیر کرنا کہتے ہیں۔۔۔۔”

وہ اچھے سے مرحم لگا کر اب پٹی کرنے لگا تھا۔ یشل نے ضبط کا دامن سختی سے پکڑا کیونکہ اندازہ اسے ہوگیا تھا کہ رائد ڈھیٹ نہیں ماہا ڈھیٹ تھا۔

پٹی باندھ کر آرام سے اسکی ٹانگ سیدھی کی اور بیڈ سے اتر کر سراہنے کی طرف آیا تو یَشل کوفت سے دیکھنے لگی اسے۔

“لیٹ جاؤ اب تم۔۔۔۔”

رائد نے اس کے پیچھے سے تکیہ نکالنا چاہا۔

“مجھے اپنے کمرے میں جانا ہے۔۔۔”

“اگر تمہیں لگتا ہے کہ میں تمہیں اٹھا کر اتنی سیڑھیاں اتر سکتا ہوں تو یہ تمہاری غلط فہمی ہے۔ مجھے کوئی شوق نہیں تمہارے سر کے ساتھ ساتھ اپنی ٹانگ تڑوانے کا۔۔۔”

رائد نے آخر میں ہاتھ کھڑے کئیے۔۔۔

“اس پورشن میں دوسرے کمرے نہیں ہیں کیا۔۔۔؟”

رائد کی بات سن کر اسکی کوفت میں اضافہ ہوا تو وہ چبا چبا کر بولی۔

“نہیں وہاں جنات رہتے ہیں۔۔۔”

وہ اب فرسٹ ایڈ کٹ بند کر رہا تھا۔ یشل نے گہرا سانس لیتے غصہ دبانے کی کوشش کی۔

“میں جنات کے ساتھ رہ لوں گی۔۔۔!”

اسنے بات پر زور دیا مگر رائد بھی اڑ گیا تھا۔

“سونا تو تمہیں اسی کمرے میں پڑے گا۔ اگر تمہیں مجھ سے مسئلہ ہے تو میں ویسے بھی جارہا۔۔۔”

وہ فرسٹ ایڈ کٹ اٹھا کر دروازے کی طرف بڑھا جب یَشل کے رونے کی آواز پر اسکے قدم رک گئے وہ حیرت سے پیچھے پلٹا اور یشل کو دیکھ کر گندی سی شکل بنائی۔ وہ رو نہیں رہی تھی صرف ایکٹنک کر رہی تھی۔ رائد نے سر نفی میں ہلاہا۔

“ڈرامے باز۔۔۔!”

☆ ★ ✮ ★ ☆

“تو تمہاری کشتی بھی دریا میں اتر ہی گئی”

وہ یقیناً اسکے ارمغان کے ساتھ کے ایف سی والی بات کا تذکرہ کررہی تھی۔

“ہاں کشتی دریا میں اتر کر ڈوب بھی گئی۔۔۔لعنت قبول کرو تم میری! سارا کا سارا کام برباد کردیا ورنہ وہ دن زندگی کے حسین دنوں میں سے ایک تھا مگر سارے کیے کرائے پر تیزاب گرا کر تم نے سب جلا ہی دیا۔۔”

عزہ کے لہجے میں اتنی چڑ تھی کہ آمنہ کو حیرت ہوئی

“میں نے کیا کردیا ایسا؟”

وہ اسکے غصے کو دل پر لئیے بغیر ناسمجھی سے بولی تو عزہ نے اسے اپنا کارنامہ سنا دیا۔

“عِزہ کی بچی۔۔۔اوفف میرے اللّٰہ تم زندگی میں کیا کروگی؟ تم مجھے ایٹلیسٹ ایک میسج تو کردیتی تمہاری بےوقوفیاں کب ختم ہونگی؟ اور جھوٹ بولنے کی ضرورت ہی کیا تھی اگر وہ باہر لے جانے سے انکار کر دیتا تب جھوٹ بولنا بنتا تھا۔۔۔۔”

آمنہ اسکی ساری بات سن کر کوفت زدہ ہوئی۔ اسکی عزہ سے بہت پرانی دوستی تھی مگر اجکل عزہ جن چکروں میں پڑ رہی تھی وہ اسے سخت ناگوارہ گزر رہے تھے کیونکہ وہ اپنے پاؤں پر کلہاڑی مارنے والے کام کر تھی اور اس طرح اسے کچھ حاصل نہ ہونا تھا۔

“آمنہ میرا دماغ پہلے ہی بہت گھوما ہوا خدارا تم ایسی باتیں مت کرو تمہیں تو چاہیے کہ تم مجھے حوصلہ دو۔۔۔”

وہ آمنہ کی باتیں سن کر خفا ہوگئی پہلے ہی وہ اتنا زیادہ روتی رہی تھی پھر اسکی آنکھ کب لگی اسے اندازہ نہ ہوا اور نیند سے اٹھنے کے بعد بھی وہ بہت برا محسوس کر رہی تھی۔

“حوصلہ دوں؟ دل تو کر رہا ہے صرف گالیاں دوں۔۔۔مجھے یہ بتاؤ اس کے ساتھ باہر نہ جاتی تو کچھ ہوجاتا؟ جانا تھا تو ایمانداری کے ساتھ سچ بول کر جاتی بات ہی ختم ہے۔۔۔ایسا بھی کیا رکھا ہے ارمغان میں کہ تم اس کے لیے جھوٹ بول کر اسی کے ہاتھوں بےعزت ہورہی۔۔۔۔”

“مجھے اچھا لگتا ہے وہ۔۔۔۔”

اسکی ساری باتیں سن کر وہ آہستگی سے محض اتنا ہی بولی تو آمنہ نے کچھ بےبس سی سانس ہوا کے حوالے کی ۔۔۔۔

“کب تک بھاگو گی اس کے پیچھے؟”

وہ ابھی بھی سنجیدگی سے سوال کر رہی تھی۔۔۔

“جب تک بھاگ سکی۔۔۔۔”

جواب توقعہ کے عین مطابق تھا

“اتنی دور مت چلی جانا کہ واپسی کا راستہ نہ ملے۔۔۔”

“واپسی کی نوبت ہی نہیں آئے گی۔۔۔”

اسکی بات پر عِزہ نے خاصے ٹھنڈے پن کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہا۔

ایسے نہیں کرو لڑکھڑا کر گر جاؤ گی۔۔۔”

اب اسکے لہجے میں بھی کچھ بےبسی کی رمق تھی۔

“ہاتھ بڑھانے والے بہت ہیں۔۔۔”

دوسری طرف شاید عزہ مسکرائی تھی

“ابھی ہیں۔۔۔شاید بعد میں نہ ہوں۔۔۔۔”

عِزہ لاجواب ہوئی تو آمنہ کے چہرے پر فخریہ تاثر ابھرا پھر جلد ہی سر جھٹکا اس نے۔ لائین پر یہ خاموشی اسے کچھ خاص پسند نہ آئی

“ایسے بھی کون سے لوگ ہیں ذرا بتانا؟”

“ہیں بس۔۔۔اگر نہیں بھی ہیں تو شاید کوئی مہربان مل جائے۔۔۔”

اسکا لہجا اب کچھ عجیب طرح سے بجھا ہوا تھا۔ یقیناً یہ دونوں کے درمیان ہونے والی گفتگو کا نتیجہ تھا۔

“گھر کب آؤ گی۔۔۔؟”

اسنے موضوع بدلنا چاہا اسکے گھر کا سن کر عزہ کو بےاختیار وہ شخص یاد آگیا۔

“بہت عجیب ہے تمہارا محلہ۔۔۔”

“ہیں؟ اب تمہیں میرے محلے سے کیا مسئلہ ہے”

وہ جزبز ہوگئی عزہ کی بات سن کر۔

“مذاق کر رہی ہوں چیخ کیوں رہی ہو۔۔ آجاؤں گہ پہلے شہزاے کو تو منا لوں۔۔۔تم مصلے پر بیٹھ کر میرے لیے دعا کرنا”

دعا کرنے کا تو ایسے کہا گیا جیسے کیس عدالت تک جا پہنچا ہے۔

“ہاں ہاں بہت بڑی بیماری لاحق ہوگئی ہے نہ تمہیں کے مصلے پر بیٹھ جاؤں! خود عبادت کرکہ دعا مانگ لو ارمغان کو منانے کی ضرورت بھی نہیں پڑے گی دیکھنا۔۔۔خود ہی سیٹ ہو جائے گا”

“تم نہ۔۔۔مفت کے مشورے مت دو۔۔۔۔ بہرحال میں جارہی بھوک لگی ہے مجھے۔۔۔”

مزید ایک دو باتیں کرتے اسنے فون بند کردیا اب کمرے سے نکلنا تھا اور ٹانگوں سے جان جارہی تھی۔۔

سیڑھیاں اترتی وہ نیچے آئی تو ارمغان ہادی اور افہام تینوں ہی ہال میں بیٹھے ٹی وی دیکھنے میں مصروف تھے۔۔۔

“اللّٰہ خیر کرے۔۔یہ معجزہ کیسے ہوگیا؟”

اسنے کچن میں آکر قرت سے سوال کیا جو فریج سے آٹا نکال رہی تھی

“کون سا معجزہ۔۔۔؟”

‘تینوں مرد حضرات گھر پر ہیں۔۔۔؟”

روٹیاں اسی نے بنانی تھی اسی لیے بازو اوپر چڑھانے لگی۔

“ہاں دیکھا نہیں تم نے میچ ہے آج۔۔۔”

“میچ تو ایسے دیکھ رہے جیسے ٹرافی بھی ان کو ہی ملنی۔۔۔”

عزی نے سر جھٹکا اور پیڑے بنانے لگی

“سالن بس پک گیا ہے تم تین، چار روٹیاں بنا لو تو مجھے بتا دینا میں کھانا لگا دوں گی۔۔۔ویسے کافی دیر تمہیں یہیں پر کھڑے رہنا پڑے گا دوپہر کا کھانا آج کسی نے نہیں کھایا۔۔۔۔”

قرت کہتی کوئی کچن سے نکل گئی پیچھے عزہ نے ایسا منہ بنایا جیسے کڑوا بادام چبا لیا ہو۔ جانتی تھی اب اسے دس روٹیاں تو پکی بنانی تھی ساتھ ہی دروازے پر بیٹھے گارڈ کی بھی۔ ابھی سے اسکی ٹانگوں اور بازووں میں درد شروع ہونے لگا۔ جلدی جلدی ہاتھ چلاتے وہ روٹیاں بیلنے لگی۔

“ہادی۔۔۔گارڈ انکل کو کھانا دے آؤ پہلے ہی دیر ہوگئی ہے۔۔۔”

کچھ دیر بعد عزہ نے توے سے روٹی اتارتے ہوئے ہادی کو آواز دی جو سنی ان سنی کر گیا۔ دو منٹ ہی گزرے تھے جب وہ کمر پر ہاتھ رکھتی باہر آئی۔

“ڈورے ہوگئے ہو تم؟ سنائی نہیں دے رہا؟”

وہ ٹی وی دیکھنے میں مصروف تھا جب عِزہ اسکے عین سامنے آکر کھڑی ہوگئی۔ تینوں نے ٹی وی سے نظریں ہٹا کر اسے دیکھا

“کیا ہوگیا ہے ہٹو آگے سے۔۔۔۔”

ہادی ںے اسے سائڈ کرنا چاہا

“اٹھو انکل کو کھانا دے کر آؤ۔۔۔”

عزہ نے اسے گھورا تو وہ گندے گندے منہ بناتا اٹھ گیا۔ عزہ اسے زبردستی کچن تک لائی اور اسے کھانا پکڑایا۔

“عزہ دو روٹیاں اور ڈال دینا۔۔۔”

ساری روٹیاں بنانے کے بعد وہ جو چولہے کی آنچ بند کرنے کا سوچ رہی تھی افہام کی آواز پر جل بھن گئی اور مزید دو روٹیاں بنانے لگی۔

آٹا فریج میں رکھا ہی تھا جب ہادی کی آواز آئی۔۔۔

“عِزہ۔۔۔۔”

وہ پیر پٹختی کچن سے نکلی

“کیا مسئلہ ہے؟ ادھا گھنٹا ہوگیا ہے کچن میں کھڑی روٹیاں بنائے جارہی ہوں پیسنے بہہ بہہ کر پیروں تک چلے گئے ہیں۔ اتنے گھنٹوں سے میں نے کچھ کھایا کہیں بھوک بھی مر گئی اب تو میری! روٹی کیا بنانا سیکھ لی تم لوگوں نے تندور والی ہی سمجھ لیا ہے”

وہ ایک دم ہی پھٹ پڑی تو چارو نفوس کھانا بھلائے اسکے آگ بگولہ ہوتے چہرے کو دیکھنے لگے۔

“میں نے تو کچھ نہیں کہا۔۔۔”

ارمغان دوبارہ کھانے میں مصروف ہوگیا۔ عزہ کے غصے کو ہوا ملی

“ہاں بلکل آپ تو سارا کچھ دوپہر میں کہہ چکے ابھی کچھ کہنا باقی ہے کیا؟”

وہ اچانک ہی بےدھیانی میں بولی تو پانی پیتا ارمغان بری طرح کھانسنے لگا۔ جبکہ ان تینو نے ماجرہ سمجھنا چاہا۔ عزہ کو اپنی غلطی کا احساس ہوا ہونٹ دانتوں تلے دباتی وہ اچانک ہی کنفیوژ ہوگئی۔۔

“اب کوئی کچھ نہ کہے مجھے!”

وہ جلدی سے نارمل ہوتی یہ جا وہ جا ہوئی جبکہ ہادی تو ہکا بکا رہ گیا۔

“میں نے تو پانی مانگنا تھا۔۔۔۔”

وہ آہستگی سے بولا تو قرت ہنس دی

“میں لاتی ہوں۔۔۔”

وہ اٹھ گئی تو افہام نے ارمغان کی طرف دیکھا

“تم نے اسے کچھ کہا ہے کیا صبح؟”

افہام کے سوال ہر ارمغان نے محض کندھے اچکائے۔

☆ ★ ✮ ★ ☆

رات کا ناجانے کون سا پہر تھا جب اسے لگا جیسے پورے وجود میں چونٹیاں رینگنے لگ گئی ہیں کچھ دیر بعد چہرے پر بھی کوئی چیز بری طرح کاٹنے لگ گئی۔ وہ نیند میں ایک ہاتھ چہرے تک لائی اور چہرا کھجانے لگی اور ایسا کرنے سے خارش بڑھنے لگی تھی پورے وجود میں جیسے کچھ چبھ رہا تھا وہ چاہ کر بھی ٹانگ میں تکلیف کی وجہ سے ہل نہ سکتی۔ اسنے آنکھیں کھولنے کی کوشش کی مگر نیند کا غلبہ اتنا بری طرح تاری تھا کہ بھاری پلکیں ویسے ہی جھکی رہی۔

کچھ دیر بعد جب تکلیف برداشت سے باہر ہوئی تو اسنے بامشکل آنکھیں کھولی جنہیں کھولتے ہی جلن کا احساس شدت سے ہوا تھا اور وہ دو سیکنڈ کے لیے بھی کھلی نہ رکھ سکی۔ تکلیف کی شدت پر وہ کراہنے لگی تھی۔ ایک بار پھر آنکھیں کھولنی چاہی اس بار بھی جلن ہوئی مگر اسنے جلن کو برداشت کیا۔ کمرے میں نائٹ بلب کی روشنی تھی دماغ ابھی بھی نیند میں تھا آنکھوں سے جلن کے باعث پانی نکلنے لگا تو وہ آنکھیں بند کر گئی

“نِشہ۔۔۔۔”

نیند سے ڈوبی آواز میں کراہتے ہوئے اسنے نشہ کو پکارا

“نِشہ۔۔۔نشہ مجھے تکلیف ہورہی ہے”

اسنے دائیں طرف سوئی نشہ کو ایک بار پھر بلایا۔ اس دشمن جان کو اپنے کمرے میں لانے کے بعد رائد کی تو نیند ہی اڑ گئی تھی کتنے ہی کنٹرول کے باجود وہ خود کو اسکے پہلو میں لیٹنے سے روک نہ سکا۔ بہت کوشش کے بعد ایک گھنٹا پہلے ہی اسکی آنکھ لگی تھی اور یَشل کی آواز پر وہ ایک دم نیند سے ہڑبڑا کر بیدار ہوتا اٹھ بیٹھا۔ جلدی سے سائیڈ لیمپ آن کرتے اسنے یَشل کو دیکھا جس کا چہرا بری طرح سرخ ہورہا تھا اور آنکھوں کے پپوٹے سوج گئے تھے نہ صرف چہرا بلکہ گردن بھی سرخ تھی وہ چہرا کھجاتے نِشہ کو بلا رہی تھی۔ اسکی حالت دیکھتے ہی رائد کے طوطے اڑ گئے

“یَشل۔۔۔یشل کیا ہوا؟”

رائد نے اسے کندھے سے ہلکا سا ہلایا

“مجھے کوئی۔۔کیڑا کاٹ رہا”

وہ ابھی بھی نیند کی وادیوں میں تھی جس کی وجہ یقیناً وہ پین کلر تھی جو رائد نے اسے دی تھی۔

رائد بیڈ سے اترا اور یَشل کی طرف آیا اسکے ماتھے پر پسینے دیکھتے اوپر ڈالا ہوا کمفرٹر ہٹایا۔

“نشہ مجھے۔۔۔باڈی پر خارش ہورہی بہت”

وہ اتنی نیند میں تھی اسے رائد کی آواز سے بھی اندازہ نہ ہوا کہ نشہ وہاں موجود نہیں تھی۔

رائد نے جھک کر یَشل کی شرٹ کو کندھے سے سرکایا تو اسے احساس ہوا کہ اسکی پوری باڈی پر ایلرجی ہورہی تھی۔

“یہ کیا ہوا ہے۔۔۔؟” رائد کے حواس سلیب ہونے لگے

“ریئیکشن؟ اوہ نو۔۔۔”

وہ بری طرح گھبرا گیا اور یہاں وہاں نظریں دوڑاتا موبائل تلاشنے لگا۔ ڈریسنگ ٹیبل پر پڑا اپنا فون اٹھا کر اسنے جلدی سے ایک نمبر ڈائل کیا

“ہیلو عاصم بھائی۔۔۔کہاں ہیں آپ ؟”

دوسری طرف موجود شخص کے کال اٹینڈ کرتے ہی وہ جلدی سے بولا

“اون ڈیوٹی۔۔۔کیا ہوا؟”

مصروف انداز میں جواب دیا گیا

“ٹھیک ہے گڈ۔۔۔میں بیس منٹ میں آرہا ہوں”

بولتے ساتھ ہی اسنے کال بند کی اور یَشل کی طرف آیا اسکا گردن کھجاتا ہاتھ نیچے کیا سائڈ ٹیبل کے دراز میں پڑی گاڑی کی چابی اٹھائی اور بہت احتیاط سے اسے بانہوں میں بھر لیا۔ ٹانگ میں ہونے والی تکلیف پر وہ کراہ اٹھی اور اسے آنکھیں کھول کر رائد کو دیکھا۔ اسنے کچھ کہا تھا مگر نیند میں ڈوبی ہلکی سی آواز رائد کو سمجھ نہ آئی۔ یَشل پر ایک بار پھر نیند کا غلبہ طاری ہوا۔ وہ اسے اٹھاتا کمرے سے نکلا اور بہت خیال سے سیڑھیاں اترنے لگا۔ یَشل کا سر اور اپنی ٹانگ تڑوانے کا شوق پیدا ہوگیا تھا شاید۔۔۔

گارڈ نے اسے باہر آتا دیکھا تو جلدی سے رائد کی طرف آیا۔ رائد نے بہت مشکل سے گاڑی کی چابی اسکی طرف اچھالی۔

“گاڑی ان لاک کرو اور ہسپتال چلو۔۔۔”

رات کے تین بجے گارڈ کو لے کر جانا عقل والی بات تھی تو نہیں لیکن وہ ڈرائیو کرنے لگ جاتا تو سارے راستے یَشل چہرا کھجا کھجا کر خون نکال دیتی۔

اسنے یَشل کو گاڑی میں بٹھایا اور اسکی طرف کا دروازہ بند کرتا وہ دوسری طرف بیٹھا۔

ہسپتال پہنچتے ہی وہ اسے ایمرجنسی میں لے آیا تھا شکر تھا کہ اس کے دوست کا بھائی ڈکٹر عاصم آن ڈیوٹی تھے انہوں نے ہی یَشل کو ایڈمٹ کرتے اسے فوراً ٹریٹمنٹ دیا۔

“ڈرگ ایلرجی ہے کسی میڈیسن کا رییکشن۔۔۔کون سے میڈیسن کھلائی تھی تم نے؟”

ڈاکٹر عاصم کے سوال پر اسنے دونوں ادویات کے نام بتائے۔

” ایلرجی کی دو وجوہات ہو سکتی ہیں۔۔۔دونوں دوائیاں ہیوی ہیں اور دودھ کے ساتھ لی گئی ہیں یا پھر دونوں میں سے کوئی ایک اسے سوٹ نہیں کرتی۔۔ اسی لیے کہتے ہیں تمام ادویات ڈاکٹر کی حدایت کے مطابق استعمال کریں۔۔۔تم نے اب بھی تو مجھے کال کی میڈیسن دینے سے پہلے بھی کردیتے۔۔۔۔”

وہ کچھ سختی سے بولے تو رائد نے سر کھجایا

“بس مجھے خیال ہی نہیں آیا۔۔۔یہ کسی اور چیز سے ہوا ہوگا”

وہ الزام نہیں لینا چاہتا تھا۔ ڈاکٹر عاصم نے اسے کڑی گھوری سے نوازا

“یہ ہے کون۔۔۔؟”

ان کے سوال پر رائد کے چہرے پر خوبصورت مسکراہٹ بکھر گئی

“بیگم ہے میری۔۔۔”

لہجا خاصہ فخریہ تھا

“انسانوں کی طرح بتاؤ۔۔۔۔”

انہیں یقین نہ آیا تو رائد کی مسکراہٹ سمٹ گئی

“بتایا تو ہے۔۔۔۔۔”

میں نہیں مان رہا۔۔۔”

وہ یَشل کی دوائیوں کا پرچہ تیار کرنے لگے۔

“عاصم بھائی اب اتنا برا بھی نہیں ہوں میں۔۔۔”

“بات برے کی نہیں ہے۔۔میں تمہیں جانتا ہوں اچھے سے تمہارا کبھی انٹرسٹ نہیں رہا لڑکیوں میں۔۔۔”

وہ مصروف سے انداز میں بولے

“بس مان لیں اب آپ مجھے۔۔۔جس میں انٹرسٹ ظاہر کیا اسے اپنا بنا ہی لیا”

وہ شوخ ہوا تو عاصم نے جھکا سر اٹھا کر اسے گھورا

“عاصم بھائی۔۔۔یہ دیکھیں رکیں ذرا۔۔۔”

اسنے فون نکال کر اس میں پڑی نکاح کی ویڈیو اسے دکھائی تو عاصم کے چہرے پر حیرت چھا گئی

“ارے۔۔۔چھپے رستم بتایا نہیں۔۔۔مبارک ہو بھئی”

عاصم بےاختیار ہی جگہ سے اٹھتا اس سے بغلگیر ہوا

“بہت معذرت آپ کو بلایا نہیں بتایا تو جاسم کو بھی نہیں تھا۔

(جاسم رائد کا پرانا دوست اور ڈاکٹر عاصم کا بھائی تھا)

“نکاح بہت جلدی جلدی ہوا تھا مگر بس امی ٹھیک ہو جائیں انشاءاللّٰہ ولیما رکھنا ہے پھر۔۔۔”

“گڈ ہوگیا تمہاری بھی نَیّا پار لگ گئی۔۔۔خدا تمہیں ہمت دے۔۔شادی کرنے کا غم منانا ہو تو میرے پاس آجانا مل کر منائیں گے”

انکی بات پر رائد قہقہہ لگا کر ہنسا

“ضرور۔۔ یَشل کی حالت اب کیسی ہے؟ گھر لے کر جاسکتا؟”

ان کے آفس سے نکلتے ہوئے اسنے یَشل کی خیریت دریافت کی

“انجیکشن لگا دیا ہے ایلرجی کم تو ہوگئی ہے مگر ختم ہونے میں وقت لگے گا۔ انجیکشن سے ویسے بھی وہ ہنڈرنڈ پرسنٹ ٹھیک نہیں ہو سکتی۔ میں نے میڈیسنز اور انسٹرکشنز لکھ دئیے ہیں انشاءاللّٰہ کچھ دن تک باقاعدگی سے استعمال کریں گی تو ٹھیک ہو جائیں گی اور ابھی نہیں۔۔۔ ایک گھنٹے تک لے جانا اسے کافی کمزوری بھی ہورہی ہے کچھ ڈرپس لگائی ہیں۔۔۔”

ڈاکٹر عاصم نے ساتھ ساتھ چلتے ہوئے تفصیل سے جواب دیا تو رائد نے گہری سانس ہوا کے سپرد کی۔ وہ دونوں چلتے ہوئے وارڈ تک پہنچ گئے تھے۔

“ٹھیک ہے بہت شکریہ۔۔۔میں بابا کو انفارم کردوں”

ڈاکٹر عاصم سر ہلاتے آگے چلے گئے تو وہ وارڈ میں داخل ہوا۔

اسنے سٹریچر پر پڑی یَشل کو دیکھا جس کے چہرے کی سرخی کم ہوگئی تھی اور اب وہ سکون سے خواب خرگوش کے مزے کے لے رہی تھی۔

اسنے گھڑی کی دیکھا تو ساڑھے تین کا وقت ہورہا تھا۔ عادل کال کرنے کا فیصلہ ترک کیا اور وہ وہاں پڑے صوفے پر بیٹھ گیا۔ ایک گھنٹے تک گھر ہی لے کر جانا تھا اس دوران سب نے سوئے رہنا تھا پھر بلاوجہ کال کرکہ پریشان کرنے کا کوئی فائدہ نہ تھا۔ وہ خاموشی سے صوفے پر بیٹھا اسے دیکھنے لگا پھر اپنی جگہ سے اٹھ کر اسکی طرف آیا۔۔ آنکھوں کے پپوٹے ابھی تک سوجے ہوئے تھے۔ اسنے جھک کر اسکی دونوں تپتی ہوئی آنکھیں چوم لی۔

جاری ہے۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *