Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Muntazirat Hastam (Episode 07)

Muntazirat Hastam by Neha Imtiaz

“ہیلو اسلام و علیکم امی۔۔۔جی میں آمنہ کے گھر آگئی ہوں آپ فِکر نہیں کریں دو تین گھنٹے تک میں گھر آجاؤں گی۔۔ٹھیک ہے اللّٰہ حافظ”

عِزہ کا فرسٹ ائیر مکمل ہوگیا تھا اور اب اُسکی چھٹیاں تھی۔ شام کے چار بج رہے تھے جب وہ آمنہ کے مسلسل منتیں کرنے پر اُسکے گھر پہنچی اور صبیحہ کی “اسکے گھر پہنچتے ہی مجھے کال کرنا” والی نصیحت یاد کرتے اُسے اطلاع دی اور ٹھنڈا پانی حلق میں اُنڈیلا۔

“یہ تمہارا کزن ہے نہ؟”

آمنہ فیس بک کی ایک آئی ڈی اُسکے سامنے کرتی ہوئی بولی۔ وہ جو سکون سے دونوں پاؤں اوپر کرکہ صوفے پر بیٹھی تھی سکرین پر جگمگاتا بڑا بڑا ”ہادی قُریشی سینٹ یو آ فرینڈ ریکویسٹ “ دیکھ کر جھٹ سے سیدھی ہوئی اور اسکے ہاتھ سے فون جھپٹا

“اِدھر دکھاؤ۔۔۔ہائے اللّٰہ کتنا گھنا میسنا ہے یہ!”

وہ آئی ڈی کھول کر دیکھتی ہوئی بولی وہ واقعی گھنا میسنا ہادی قُریشی ہی تھا۔۔۔

“آنے دو ذرا آنے دو۔۔۔کالج ختم ہوتے ہی ناردرن ایریاز کی سیر پر نکل گیا ہے واپس تو آنے دو اِسکے کارنامہ بہت نظروں کے سامنے آرہے اجکل۔۔اچھے سے سیر کرواؤں گی میں اِس کو”

وہ پہلے بھی انسٹاگرام اور فیسبُک پر لڑکیوں کی پکچرائز کے نیچے اُس کے کچھ کمینٹس دیکھ چکی تھی اور وہ اُسکی سوشل میڈیا والی چند ایک دوستوں کو بھی ریکویسٹ بھیج چکا تھا۔ وہ اُسکی پول کھولنے کا فُل اِرادہ کیے ہوئے تھی۔ اُسکے ریکشن اور انداز پر آمنہ بےاختیار ہی ہنس دی اور اُسکے ہاتھ سے اپنا فون لیا۔۔۔

“ہممم۔۔۔۔کزن تو اچھا خاصہ ہینڈسم ہے تمہارا”

وہ فیس بک پر اپلوڈ اُسکی کچھ تصویریں دیکھتی ہوئی بولی

“ہاں۔۔۔بس دور دور سے ہی پیارا ہے۔ ویسے تو میٹر شاٹ کرنے میں ایک سیکنڈ کی بھی دیر نہیں کرتا۔۔”

وہ منہ بناتی ہوئی سنیکس کی پلیٹ اُٹھا گئی

“گھر میں تو رہتا نہیں وہ تمہارے ساتھ پھر بھی تُم اُسکے پیچھے ہاتھ دھو کر کیوں پڑی ہو۔۔۔”

اُسنے فون بند کیا اور مسکرا کر کہتی ہوئی اُسکے ساتھ آبیٹھی۔۔۔

“ہنہہ۔۔۔جب بھی آتا ہے دماغ خراب ہی کر کہ رکھ دیتا ہے وہ بھی بلاوجہ میں۔ خدا واسطے کا بیر ہے اُسے مجھ سے”

“اُسے بیر ہو یا نہ ہو۔۔لیکن تمہیں ہر دوسرے بندے سے خدا واسطے کا بیر ہوجاتا ہے اتنا مجھے پتا ہے۔ میں تو سوچتی ہوں ہماری دوستی پتا نہیں کیسے ہوگئی ہے”

وہ اپنی بات پر خود ہی ہنس دی تو عِزہ نے اُسے گھور کر دیکھا

“جی نہیں اگر ہادی سے میری لڑائی ہوتی بھی ہے تو میری اچھی خاصی بنتی بھی ہے اُس سے لیکن بس اکثر بہت فضول بکواس کرتا ہے۔۔۔”

مزے سے بتاتی وہ آخر میں بدمزہ ہوئی تو آمنہ ہنس دی۔۔۔

“ویسے تمہاری ہر کسی سے بنتی ہے سوائے ”یَشل ریحان“ کے”

وہ یَشل کے نام پر خاصہ زور دے کر بولی اور غور سے اُسکے چہرے کے تاثرات دیکھے۔ عِزہ نے منہ بنایا

“اُسکی تو بات ہی مت کرو۔۔۔لاہور میں ہوتے ہوئے بھی اچھا خاصہ موڈ خراب کر کہ رکھ دیا ہے اُس نے میرا”

وہ ارمغان کی بات یاد کرکہ کڑتی ہوئی بولی

“کیوں بھئی؟ اب اُس حسین لڑکی نے کیا کردیا؟”

آمنہ کے حسین لڑکی کہنے پر وہ اُسکی طرف مڑ کر گھورنے لگی

“حسین لڑکی۔۔۔؟”

عِزہ نے ائیبرو اچکائی

“ارے یار۔۔۔میں تو خدا کی تخلیق کی تعریف کر رہی۔۔۔”

وہ سادگی سے بولی۔۔

“پیاری تو وہ واقعی ہے۔۔اتنی اچھی لگتی تھی نہ وہ مجھے لیکن اوفف جب سے ارمغان اور اُسکا ٹاکہ فِکس ہوا ہے نہ وہ میرے دِل سے اُترنے لگی ہے۔۔۔”

اُسنے گہری سانس ہوا کے حوالے کی۔۔

“ویسے عِزہ۔۔تمہیں یقین ہے کہ اُن دونوں کا چکر ہے؟”

“نہیں۔۔لیکن لگتا تو یہی ہے”

اُسکے ذہن کی سکرین پر یَشل اور ارمغان کا ایک ساتھ ہنسنا مسکرانا گھومنے لگا

“تمہیں میں کیا ہی بولوں عِزہ۔۔۔بلاوجہ ہی تُم نے دل میں نفرت پال رکھی ہے اُس بیچاری کے لیے۔ اب اُسے الہام تو نہیں ہوا نہ کہ ارمغان کے عشق میں تمہارا پور پور ڈوبا ہوا ہے”

وہ تاسف سے بولی تو عزہ نے سر جھٹکا۔ تھی تو حقیقت لیکن اُسے کیا۔۔۔

“باہر موسم کتنا خوبصورت ہوگیا ہے۔۔۔”

وہ اُڑتے ہوئے پڑدے اور کھڑکی سے نظر آنے والے حسین بادل دیکھتی ہوئی بولی

“چلو اُٹھو پھر باہر چلیں۔۔۔”

آمنہ صوفے سے اُٹھی اور اسکی بھی بازو پکر کر اُٹھانا چاہا

“کدھر باہر۔۔۔۔”

وہ اپنی جگہ سے اُٹھی اور پیروں میں جوتا پہنے لگی

“پارک ہے گلی سے نکلتے ہی۔۔وہاں چلتے ہیں”

اُن دونوں نے پہلے عافیہ سے اجازت لی اور باہر چلی گئی۔ گلی سے نکلتے ہی روڈ کے اُس پار پارک تھا۔

“اِسے تو چھوڑ آتی۔۔۔میرے گھر میں کوئی چور نہیں رہتے”

عِزہ کے شولڈر پر لٹکتا سلِنگ بیگ دیکھ کر آمنہ بولی تو عِزہ نے وہی بیگ پکڑ کر اُسکے سر پر ماما

“جب بھی کرنا بکواس ہی کرنا۔۔۔وہ تو میں نے ویسے ہی اُٹھا لیا تھا”

وہ دونوں ایک بینچ پر جاکر بیٹھ گئی تیز چلتی ہوا سے عزہ کے لمبے بال اُڑتے اُسکے منہ پر لگ رہے تھے جنہیں وہ ایک ہاتھ سے پکڑے ہوئے تھی پھر خیال آنے پر چھوٹے سے بیگ سے کلپ نکال کر بالوں کو قید کیا۔

“دیکھا ۔۔اِس کام آتا ہے یہ بیگ اسی لیے ہر جگہ ساتھ لے کر گھومتی ہوں”

وہ جتانے والے انداز میں بولی تو آمنہ نے آنکھیں گھمائی

“تو کِس نے کہا ہے حسین زلفیں کھول کر آؤ۔۔۔ایوین کوئی جِن وِن اسیر ہو جائے گا تمہارا۔۔۔”

وہ اُسے ڈرانے والے انداز میں بولی

“اوہ اچھا؟ اور اپنے بارے میں کیا خیال ہے بڑی اماں؟”

“میرے تو بال ہی چھوٹے سے ہیں “

وہ اپنے کاندھے تک آتے سیدھے سلکی بالوں کو ہاتھ لگاتی ہوئی بولی۔۔۔

“دیکھاؤ کیا کچھ ہے تمہارے بریف کیس میں”

وہ بالوں کو کان کے پیچھے اڑاستی ہوئی بولی اور اُسکا چھوٹا سا بیگ کھولا۔۔ اندر ہاتھ ڈالتے ہی اُسنے سب سے پہلے چھوٹی سی ڈائیری باہر نِکالی۔۔۔

“ادھر واپس کرو یہ۔۔۔”

عِزہ نے اُسکے ہاتھ سے ڈائیری لینا چاہی۔۔

“اوہ۔۔کارون کا خزانہ فائینلی میرے ہاتھ لگ ہی گیا”

وہ ڈائیری دور کرتی بینچ سے اُٹھ کر عِزہ سے دور ہوئی۔ لوگوں کا خیال کرتی عزہ دانت پیس کر رہ گئی۔ آمنہ یہاں سے وہاں چکر کاٹتی اُسکی ڈائیری پڑھنے لگی۔ ڈائیری چھوٹی چھوٹی تحریریں، غزلین، بےشمار شعر و شاعری سے بھری پڑی تھی۔

“اوففف کتنی بکواس لکھ رکھی ہے تُم نے اِس میں۔۔۔”

کچھ دیر بعد ہی وہ واپس بینچ کر بیٹھ گئی اور ڈائیری اپنے ساتھ ہی رکھ لی۔۔

“یہ واپس کرو مجھے۔۔۔کارون کے خزانے سے کچھ کم اہمیت نہیں رکھتی یہ میرے لیے”

اُسنے ساتھ بڑھا کر آمنہ کے دائیں طرف پڑی ڈائری کو اُٹھانا چاہا

“چپ کرو۔۔۔اور تُم نے مجھے بتایا نہیں کیوں لاہور میں بیٹھی یَشل نے تمہارا موڈ خراب کردیا۔۔۔”

آمنہ نے ڈائری تک پہنچنے والا ہاتھ پیچھے کیا اور یاد آنے پر کہا

“اوف۔۔ہمارے درمیان صرف یَشل ہی رہ گئی ہے کیا بات کرنے کے لیے”

وہ تھوڑی خفیف ہوئی

“جی ہاں۔۔بات تُم نے ہی شروع کی تھی اب بتاؤ نہ مجھے”

آمنہ نے تجسس سے پُر انداز میں پوچھا

“یار ارمغان کی گریجویشن ہوگئی ہے تو میں نے ویسے ہی اُسے کہا تھا کہ ٹریٹ دے ہمیں اور وہ مان بھی گیا تھا۔ پھر کل دوبارا ذکر چھِڑا تو وہ کہنے لگا ” یَشل کا انتطار کرلیتے ہیں وہ آئے گی تو اچھی سی ٹریٹ دوں گا“ اوفففف میری تو دعا ہے کہ وہ واپس ہی نہ آئے”

وہ سخت اُکتائے ہوئے لہجے میں بولی

“اب یہ تو ممکن ہی نہیں کہ وہ لاہور میں ٹِک جائے۔۔۔ واپس تو اُس نے ویسے بھی آنا ہی ہے”

آمنہ اُسکے عِلم میں اضافہ کرتی ہوئی بولی۔۔۔

“اوہ مائی گاڈ۔۔اتنی بڑی انفارمیشن کیسے ملی تمہیں؟”

عِزہ نے حیران ہونے کی بھرپور ایکٹنگ کی

“عِزہ۔۔۔بچ جاؤ کہیں ایسا نہ ہو کہ میں یہیں تمہاری قبر کھود دوں!”

اُسنے دانت پیسے

“ہاہے ظالم سماج (اُسنے دہائی دی) پہلے شادی تو ہوجائے میری پھر جو کرنا ہوگا کرلینا۔۔۔”

“بہت شوق ہورہا ہے شادی کا۔۔۔”

آمنہ اُسے کندھا مارتی ہوئی بولی

“اور نہیں تو کیا۔۔۔ہائے کتنی حسین لگوں گی میں ارمغان کی دلہن بن کر۔۔۔”

وہ آنکھیں بند کرکہ خود کو دلہن کے روپ میں تصور کرنے لگی اور ٹھنڈی سی ہوا اُسکے وجود کو سکون پہنچا گئی۔

“ہارون بھائی کی دلہن بن کر زیادہ خوبصورت لگو گی۔۔”

کان میں ہونے والی سرگوشی پر اُسنے پٹ سے آنکھیں کھول کر آمنہ کو خونخوار نظروں سے گھورا

“وہ جو قبر تُم نے یہاں کھودنی تھی نہ میری۔۔۔خدا کی قسم میں تمہیں ہی اُس میں دفن کردوں گی اگر مزید فضول بکواس کی تو۔۔۔”

وہ بھڑک اُٹھی تو آمنہ نے جلدی سے کان پکڑے

“سوری سوری سوری۔۔۔شرم نہیں آرہی اکلوتی دوست پر غصہ کرتے ہوئے۔۔۔”

وہ نچلا ہونٹ باہر نکال کر رونے کی ایکٹنگ کرتی ہوئی بولی

“لعنت ہو۔۔واحیات”

عِزہ نے مسکراہٹ روکی تو آمنہ نے بھی قہقہہ لگایا۔ آدھا گھنٹہ مزید یہاں وہاں کی ہانکنے کے بعد اندھیرا ہونے لگا تو وہ گھر چلی گئی اور تقریباً آٹھ بجے عِزہ کی گھر واپسی ہوئی تھی

☆ ★ ✮ ★ ☆

آج چوتھا دِن تھا وہ افہام سے کتراتی پھر رہی تھی۔ اگر وہ کہیں نظر آجاتا تو وہ دم دبا کے بھاگ جاتی۔ ہمیشہ کی طرح وہ روز رات اُسکے لیے چائے تو بناتی لیکن پچھلے تین دنوں سے چائے کمرے میں لے کر جانا عزہ کی ڈیوٹی بن گئی تھی۔ جبکہ قِرت کے مقابلے افہام بلکل نارمل تھا۔ اُسکا رویہ بات کرنے کا انداز لہجہ پہلے جیسا ہی تھا۔ لیکن قِرت باجی اُس سے بات ہی کب کر رہی تھی؟ وہ کچھ بول دیتا تو دیکھے بغیر مختصر سا جواب دیتی پھر یہ جا وہ جا۔ افہام نے اُسکا کترانا اچھے سے محسوس کیا تھا لیکن اُس نے کچھ نہیں کہا تھا نہ ہی اُسے تنگ کرنے کی کوشش کی تھی وہ نہیں چاہتا تھا کہ قِرت کسی بھی طرح ان-کمفرٹیبل فیل کروائے لیکن افہام سے بھاگتے آج اُسے چوتھا دِن بھی مکمل ہوگیا تھا اور اب وہ عاجز آرہا تھا اور پھر آج بھی قِرت کی جگہ عِزہ کو چائے لاتا دیکھ کر وہ اندر تک سُلگ کر رہ گیا

“یہ چاہے تُم نے بنائی ہے؟”

عِزہ نے چائے کا کپ سائیڈ ٹیبل پر رکھا اور واپس جانے کے لیے مڑی تو لیپ ٹاپ سے نظر ہٹائے بغیر اُسنے سوال کیا۔ عِزہ نے گہرا سانس لیا اور اُسکی طرف پلٹی

“افہام بھائی۔۔۔آج چوتھا دِن ہے رات کی چائے میں لے کر آرہی ہوں اور چوتھی دفعہ ہی آپ نے مجھ سے یہ سوال کیا ہے اور میں پچھلی تین راتوں میں تین دفعہ بتا چکی ہوں کہ شام اور رات کی چائے قِرت ہی بناتی ہے “

وہ افہام کے ڈیلی کے سوال سے اچھی زچ ہوئی

“اِس میں اتنی بگڑنے والی کیا بات ہے؟ جتنا پوچھوں صرف اُتنا بتایا کرو!”

اُسنے غصے سے عزہ کو گھورا

“اچھا نہ۔۔غصہ کیوں کر رہے ہیں”

وہ منمنائی۔ اُسے کہاں عادت تھی افہام کی ڈانٹ یا غصے کی۔

“قِرت نے ہی بنائی ہے چائے۔۔۔”

“تو اُسکے اپنے پاؤں ٹوٹ گئے ہیں جو تُم دینے آئی ہو۔۔”

اُسںے دانت پیسے وہ ابھی بھی غصے میں تھا۔ عزہ نے دل ہی دل میں قرت کو مختلف گالیوں سے نوازا

“مجھے کیا پتا بھائی۔۔۔اُسنے کہا کہ ‘عِزہ میں تھک گئی ہوں یہ چائے اپنے بھائی کو دے آؤ’ اور پھر اوپر چلی گئی”

وہ یکسر انجان بنتی سادگی سے بولی۔

“ہنہہ۔۔۔کچن سے تھوڑا فاصلے پر کمرے میں چائے دینے سے اُسےکچھ ہورہا تھا اور سیڑھیاں چڑھ کر کمرے میں جاتے ٹائم ساری تھکن اُڑن چھو ہوگئی۔۔”

اُس نے اپنے آپ میں بڑبڑاہٹ کی جو عزہ کے کانوں نے بخوبی سُنی تھی اور اُمڈ کر آنے والی ہنسی کو بامُشکل روکا

“اہممم۔۔۔اور کچھ چاہیے کیا آپ کو؟”

وہ معصومیت کے ریکارڈ توڑتی سوال کررہی تھی

“نہیں تُم جاؤ اور خبر دار کوئی بات تمہارے ساتھ ساتھ اِس کمرے سے باہر گئی اور قِرت کے کانوں میں پڑی تو!”

افہام سختی سے باور کرواتا ہوا بولا تو وہ ہاتھوں کے اِشارے سے ہونٹوں کی مصنوئی زِپ بند کرتی اچھے بچوں کی طرح کمرے سے باہر نکلی لیکن کمرے کا دروازہ بند کرتے ہی جیسے اُسے پنکھ لگ گئے ہوا کے گھوڑے پر سوار ہوتی وہ کمرے میں جا پہنچی اور قِرت کو دیکھا جو سکون سے ایک ہاتھ میں گرم چائے کا کپ پکڑے دوسرے ہاتھ میں پکڑی کسی کتاب کا ملاحظہ فرما رہی تھی

“تُم انسانوں کی طرح بھی آسکتی ہو افلاطون بننے کی ضرورت نہیں تھی”

عِزہ کے والہانہ انداز میں کمرے میں آنے پر قِرت ایک نظر اس پر ڈال کر بولی اور دوبارہ کتاب پڑھنے میں مصروف ہوگئی۔ عزہ تن فن کرتی اُسکے سر پر آن پہنچی

“دِل تو کر رہا یہ گرم چائے کا کپ میں تمہارے سر کر اُنڈیل دوں”

عِزہ نے اُسکے ہاتھ سے بُک کھینچ کر سائیڈ پر پٹخی۔ دِل تو اُسکا یہی کر رہا تھا کہ قِرت کے دوسرے ہاتھ میں موجود کپ کے ساتھ بھی یہی کرے لیکن بعد میں لِتر اُسی کو پڑنے تھے۔

“عِزہ جاہل۔۔۔میں پڑھ رہی تھی”

اُسنے صدمے اور غصے کے ملے جلے تاثرات سے عِزہ کو دیکھا

“چپ کر جاؤ اِس سے پہلے میں تمہاری ساری پڑھائیاں یہیں نِکال دوں”

وہ ہاتھ سے اُسکو خاموش ہونے کا اِشارہ کرتی اُسکے سامنے بیٹھی تو قِرت نے چائے کا کپ سائیڈ پر رکھا اور اُسکی طرف متوجہ ہوئی

“ہوا کیا ہے بھئی کچھ بتاؤ گی بھی یا تیور ہی دکھاتی رہو گی!”

وہ جانچتی نظروں سے اُسکی دیکھ رہی تھی

“تُم افہام بھائی کو چائے دینے خود جاؤ گی کل سے!’

وہ دو ٹوک لہجے میں بولی

“ہر گِز نہیں۔۔۔میں نہیں جاؤں گی”

وہ صاف صاف انکاری ہوئی

“میں تمہارے ہشر کردوں گی۔۔”

اُسنے دانت پر دانت جمائے

“ارے بھئی۔۔۔ہوا کیا ہے یہ نزلہ مجھ پر کیوں گِر رہا؟”

قرت کے سوال پر عزہ نے ا سے ی تک ساری بات اسکے گوشہ گزار کردی

“اب اتنا بھی غصہ نہیں کیا انہوں نے جتنا تُم مجھ پر کر رہی ہو۔۔”

منمنا کر کہتے اُسنے چائے کا کپ ہونٹوں سے لگایا۔ عِزہ نے گہرا سانس لیا

“جو بھی ہے قِرت،،کل سے تُم خود جاؤ گی چائے لے کر۔ بلاوجہ میں بھائی کا بی پی شوٹ نہیں کرو!”

“اچھا۔۔تو اصل غصہ تمہیں اِس بات پر آرہا ہے کہ تمہارے شہزادے بھائ کا بی پی نہ شوٹ ہوجائے۔ اور وہ نوابزادہ تو ایسے ظاہر کر رہا جیسے اُسنے کچھ سُنا ہی نہیں ابھی تک بات کرنے کی کوشش نہیں کی اُس نے مجھ سے”

قرت اُسکے تلملانے کی اصل وجہ بھانپ کر بولی اور ساتھ ہی شکوہ بھی کر ڈالا۔

“نہیں یارررر۔۔۔لیکن تُم بھی تو دیکھو آخر کب تک بھاگو گی؟ ساری زندگی اُن کے سامنے نہیں جاؤ گی کیا؟ اور کیا مطلب انہوں نے کچھ نہیں کہا؟ تُم دو منٹ اُنکے سامنے ٹِکو گی تو وہ بات کریں گے نہ! تُم تو چوہے کی طرح بِل میں چھپتی پھر رہی ہو ہلانکہ اُنکا رویہ بلکل نارمل ہے۔۔۔”

اُسنے قِرت کو سمجھانے کی کوشش کی

“یہی تو مسئلہ ہے کہ وہ بلکل نارمل ہیں۔ اگر انہوں نے کچھ سُنا ہے تو بول کیوں نہیں رہے اور اگر میں اُن کے سامنے نہیں ٹِک رہی تو کیا ہوا انہوں نے بات کرنی ہوتی تو وہ کمرے میں آسکتے تھے۔۔۔”

قِرت کی اپنی ہی منطق تھی لیکن اسکی بات بھی کہیں نہ کہیں ٹھیک تھی

“میں بہت تھک گئی ہوں مزید سمجھانے کی ہمت نہیں مجھ میں اللّٰہ ہی حافظ ہے اب تمہارا “

وہ بولتی ہوئی اُٹھی اور بیڈ کی طرف آئی لیکن وہاں پڑا وہی سلنگ بیگ دیکھ کر اُسکے زہن میں جھماکا ہوا۔ اُسنے جھٹکے سے بیگ اُٹھایا اور اُس میں ہاتھ ڈالا لیکن اسے جِس چیز کی تلاش تھی وہ وہاں نہیں تھی۔

“مرجاؤ تُم آمنہ۔۔۔”

وہ غصے سے چلائی تو قِرت نے بےاختیار ہی اُسے دیکھا

☆ ★ ✮ ★ ☆

وہ اگلے دِن اُسی وقت بہت منتوں کے بعد اجازت ملنے پر واپس آئی تھی۔ آتے ہی وہ آمنہ کے گھر گئی اور اُسے ڈھیر ساری سُنائی تو آمنہ ڈائیری ڈھونڈنے اُسکے ساتھ پارک آگئی اور وہ ڈائیری وہیں تھی۔ اُسی طرح پڑی تھی جیسے اُس بینچ پر پچھلے چوبیس گھنٹوں میں کوئی بیٹھا ہی نہ ہو۔

“ارے۔۔۔یہ صبح نہیں تھی یاررر میں آئی تھی ڈھونڈنے”

عِزہ حیرت میں ڈوب کر بولی

“تُم صبح آئی تھی یہاں ؟”

آمنہ کو ڈبل حیرت ہوئی۔۔۔

“ہاں میں امی سے بہانہ کرکہ آئی تھی کہ کالج میں کچھ ضروری کام ہے ٹیچر نے بلایا ہے۔۔”

“تمہارا دماغ خراب ہے؟ تمہیں اندازہ بھی ہے صبح کے ٹائم یہ پارک کتنا خالی ہوتا ہے خدانہ خواستہ کچھ ہوجاتا تو۔۔۔”

آمنہ نے بری طرح اُسے ڈپٹا اور ساتھ ہی ایک تھپڑ کندھے پر جڑ دیا۔۔

“اللّٰہ معاف کرے فضول نہیں بولو۔۔صحیح سلامت تو کھڑی ہوں تمہارے سامنے اور تُم مجھے یہ بتاؤ کے۔۔۔”

وہ بولتے بولتے رُکی اور آہستہ سے اُسکے قریب کھسکی

“تم لوگوں کا محلہ۔۔ہانٹڈ ہے کیا؟”

عزہ کو بینچ پر اچانک نمودار ہونے والی ڈائیری دیکھ کر عید کا وہ دِن یاد آیا تھا جب گلی میں اُس عجیب مخلوق سے ٹکرائ تھی۔ آمنہ نے عِزہ کو ایسے دیکھا جیسے اُسے بلکل بھی اِس بات کی توقعہ نہ ہو۔۔

“تُم سچ میں پاگل ہوگئی ہو۔۔۔”

آمنہ کو واقعی اُسکی ذہنی حالت پر شبہ ہوا

“بکواس مت کرو۔۔میں سچ کہہ رہی صبح یہ ڈائری یہاں نہیں تھی یاررر۔۔۔۔”

“تو اب کہاں سے آگئی؟”

آمنہ نے زچ ہوکر اُسے گھورا

“مجھے کیا پتا کہاں سے آئی۔۔میں تو صبح پورے آدھے گھنٹے تک ڈھونڈتی رہی ہوں”

وہ بینچ پر پڑی ڈائری اُٹھاتی ہوئی بولی

“شکر کرو کہ مِل تو گئی نہ۔ سانس تو تمہارا ایسے نِکل رہا تھا جیسے واقعی ہی کارون کا خزانہ چھپا ہو اِس میں”

دونوں نے پارک کے بیرون راستے کی طرف چھوٹے قدم اُٹھانا شروع کیے۔ سردیوں کی آمد ہوئی تھی موسم آج بھی خوشگوار تھا

“کارون کا خزانہ نہیں مگر میرے بیشمار راز تو ہیں نہ اِس میں۔۔۔”

وہ بیگ کھول کر ڈائری اُس میں رکھتی ہوئی بولی

“فکر نہیں کرو تمہارے گھر والوں کو الہام نہیں ہونا تھا کہ بی بی عِزہ کی قیمتی ڈائری آمنہ کے گھر کے قریبی پارک میں رہ گئی تو اُسے اُٹھا کر اُسکی چھان بین کرلینی چاہیے۔۔۔”

آمنہ نے جل کر کہا

“کوئی سینس ہے اِس بات کی؟؟”

عِزہ نے اُسکی بے تقی بات پر اُسے دیکھا

“تمہارے اتنے پریشان ہونے کی بھی کوئی سینس نہیں تھی یار ۔صبح سے سانس حلق میں اٹکا ہوا تھا تمہارا! تمہارے میسجز دیکھ دیکھ کر قسم سے پاگل ہوگئی تھی میں”

وہ چڑتی ہوئی بولی تو عِزہ مسکرائی۔۔۔

“گھر چل رہی ہو نہ؟”

آمنہ نے اُڑتے بالوں کو ہاتھ سے سنبھالتے ہوئے سوال کیا

“نہیں یاررر۔۔۔ امی سے یہی کہا تھا کہ تمہیں کتاب چاہیے ایک آدھے گھنٹے تک آجاؤں گی”

“چھٹیوں میں کتاب میرے کِس کام کی؟ انہوں نے پوچھا نہیں؟”

وہ تھوڑی حیران ہوئی

“مطلب۔۔۔تمہاری مصنوئی کزن کو کتاب چاہیے تھی”

“اوففف عِزہ کتنی جھوٹی ہوتی جارہی ہو تُم۔۔۔ وہ ہم ٹی وی پر کون سا ڈرامہ لگتا تھا اقراء عزیز کا؟ ہاں۔۔ ”جھوٹی“ ڈرامہ۔ وہ کردار بلکل تُم پر فِکس ہوتا ہے۔۔۔”

وہ عِزہ کی حرکت پر اچھی خاصی عاجز ہوکر اُسے لتاڑنے لگی

“کتنی کمینی ہو تُم آمنہ۔۔۔”

وہ کچا چبا جانے والے انداز میں بولی۔۔

“اچھا واقعی گھر نہیں چلو گی۔۔۔”

پارک سے باہر قدم رکھتے آمنہ نے پوچھا

“نہیں یار پھر کبھی روز روز اچھا نہیں لگتا۔۔امی انتظار کر رہی ہونگی میں چلتی ہوں”

بولتی ہوئی وہ اُس سے بغلگیر ہوئی

“اچھا یہ سامنے چوک پر ہی تمہیں رکشہ یا ٹیکسی مِل جائے گی۔ تمہارے گھر تک صرف سو ڈیڑھ سو کا کرایہ لگتا ہے زیادہ پیسے مت دینا۔۔۔”

اُسکی بات پر عِزہ ہنس کر اپنے راستے چل دی تو وہ عِزہ کے ٹیکسی میں سوار ہونے تک وہیں کھڑی رہی اور پھر اپنے گھر چل دی۔

☆ ★ ✮ ★ ☆

سردیوں کی شروعات ہو چُکی تھی۔ کل رات بادل خوب برسے تھے اور آج صبح سے ہی موسم میں خنکی تھی۔ وہ دس بجے اُٹھی تھی ایک گھنٹا سکینہ کے پاس بیٹھنے کے بعد وہ اپنے لیے کافی بنا کر لان میں آگئی تھی۔ ہلکی سی سنہری دھوپ ہر جگہ بکھری بھلی لگ رہی تھی۔ ایسے میں کافی کے سِپ لیتی یَشل ارمغان کو یاد کر رہی تھی۔ صبح سے ہی وہ شخص اُسے یاد آرہا تھا بلکہ وہ اُسے بھولی ہی کب تھی؟ پچھلے پندرہ دنوں میں اگر اُسے کسی کی کمی محسوس ہوئی تھی تو وہ صرف ارمغان ہی تھا۔ اُسکی خوبصورت یاد پر یَشل کا دل اُداس سا ہوا تھا۔

“گُڈ مارننگ سٹیپ سسٹر۔۔۔”

آواز پر اُسنے چونک کر پیچھے دیکھا تھا۔ رائد کی شکل دیکھ کر وہ بدمزہ ہوئی

“لگتا آج جلدی اٹھ گئی ہو۔۔۔”

وہ خوشگوار لہجے میں بولتا اُسکے سامنے آکر بیٹھا۔ آنکھوں میں ابھی بھی نیند کا ہلکا سا خمار تھا یقیناً وہ کچھ دیر پہلے ہی نیند سے بیدار ہوا تھا۔۔۔

“گیارہ بجے کون سی جلدی ہوتی ہے؟ اور کتنی بار بولا ہے ‘سٹیب سسٹر’ والی بکواس نہیں کیا کرو۔۔۔”

کافی کی کڑواہٹ پل میں لہجے میں گھُل گئی تھی۔ وہ اُسکے چڑنے پر کھُل کر مسکرایا

“حکم کرو۔۔۔کچھ اور بول لیتا ہوں۔۔۔”

وہ تعابدار بنتا ہوا بولا

“مجھے کچھ بھی بُلانے کی ضرورت نہیں۔ مخاطب ہی مت کرو تُم مجھے!”

تو تڑخ کر کہتی جانے کے لیے اُٹھی

“اچھا سنو تو۔۔۔اچھی سی کافی بنا دو مجھے بھی”

وہ انگڑائی لیتا ہوا بولا

“کیوں بھئی؟ گھر کے ملازم چھُٹیوں پر چلے گئے کیا جو تُم اُس پر حُکم جھاڑ رہے؟”

یَشل کے کچھ کہنے سے پہلے عادل وہاں آیا تھا جِسے دیکھتے ہی رائد تیر کی طرح سیدھا ہوا اور یَشل بھی واپس بیٹھ گئی

“ابو آپ۔۔۔آفس نہیں گئے آج؟”

لہجے میں شوخی نہیں تھی۔ یَشل نے ایک سیکنڈ میں اُسکے سنجیدہ ہونے پر آنکھیں گھُمائی

“اگر آفس گیا ہوتا تو تمہارے سامنے نہ بیٹھا ہوتا اِس وقت۔۔۔”

عادِل کی بات پر وہ خجل ہوا۔۔۔

“اور جو پوچھا ہے وہ بتاؤ۔۔وہ بچی یہاں تمہارے کام کرنے آئی ہے؟”

عادل نے اُسے گھورا

“اوہو ابو۔۔۔اُسنے اپنے لیے کافی خود ہی بنائی تھی جسکی خوشبو ہی اتنی مزے کی تھی تو میں نے سوچا یَشل کے ہاتھ کی کافی بھی پی لی جائے۔۔۔”

وہ تھوڑا گڑبڑایا

“کافی تو تُم بھی اچھی بنا لیتے ہو۔۔کچن کا راستہ بھی تمہیں معلوم ہے”

عادل لفظوں پر زور دے کر بولا۔ یَشل انکی گفتگو سے محفوظ ہورہی تھی

“اب میں کافی بناتا ہوا اچھا لگوں گا؟”

رائد نے منہ بنایا

“ہاں۔۔۔اولاد بھی امریکہ کے صدر کی ہے نہ جو کچن میں کام نہیں کر سکتے”

اگر عادل وہاں نہ ہوتا تو وہ اپنی سوچ کو رائد پر ضرور آشنا کرتی

“بیٹا جی،،کافی بنانے کے لیے کہا ہے۔۔۔ میزائل بنانے کے لیے نہیں”

عادِل نے اُسے لتاڑا تو وہ خفیف سا ہوکر عادل کو دیکھنے لگا۔ یَشل کی دبی دبی ہنسی کانوں میں پڑی تو وہ اندر ہی اندر کڑہ کر رہ گیا

“چھوڑیں اِسے انکل۔۔۔میں بنا کر لاتی ہوں لیکن پھر تعریف بھی کرنی پڑے گی”

وہ مسکرا کر بولتی اُٹھ کھڑی ہوئی

“ہممم۔۔۔اب تو ہر حال میں کرنی ہی پرے گی”

عادل کی بات پر یَشل ہنس دی

”اتنی خوبصورت ہنسی بھی کسی کی ہوسکتی ہے کیا؟“

رائد نے اُسکے دھوپ میں چمکتے چہرے کو دیکھا تھا

کچھ دیر بعد وہ کافی سے بھرے دو کپ لیے واپس ائی

“شکریہ بیٹا۔۔۔”

عادل نے اسکے ہاتھ سے کپ لیا اور سر پر ہلکا سا ہاتھ رکھا۔۔۔

“یہ لو۔۔اُمید ہے تمہیں پسند آئے گی”

اُسنے رائد کے سامنے کپ رکھا تو وہ اُسے دیکھنے لگا

“کھڑی کیوں ہو؟ بیٹھ جاؤ نہ”

رائد نے کرسی کی طرف اشارہ کیا

“ارے نہیں۔۔۔آپ دونوں جلدی سے کافی پی کر مجھے بتائیں کے کیسی بنی ہے تاکہ میں واپس جاؤں مجھے کچھ کام کرنا ہے۔۔۔”

وہ اتنے میٹھے لہجے میں مسکراہٹ لیے بولی کہ رائد تو حیرت سے اُسے دیکھنے لگا

“لگتا ہے مرچیں چبانا بھول گئی ہے۔۔۔”

وہ بس سوچ کر رہ گیا اور کافی کا گرم کپ اُٹھایا

“ارے واہ بھئی زبردست۔۔تُم تو بلکل اپنی ماں پر گئی ہو وہ بھی کافی اچھی کافی بناتی ہے اور رائد نے بھی اُسی سے سیکھی ہے”

عادِل نے دِل سے تعریف کی اور ساتھ ہی اُسکے علم میں اظافہ کیا تو وہ مسکرائی ‘بلکل اپنی ماں پر گئی ہو’ اِس جملے پر اسے تھوڑا فخر محسوس ہوا

“شکریہ انکل۔۔۔”

اُسنے عادتاً سر کو حلکا سا خم کیا۔ اب اُسکی نظر رائد پر تھی جسے محسوس کرکہ اُسنے کافی کا سپ لیا۔ لیکن حلق میں اُتارتے ہی اُسے لگا کہ اُسنے سستہ زہر پی لیا ہو۔ یَشل دلچسپ نظروں سے اُسکے چہرے کے تاثرات دیکھ رہی تھی

“کیا ہوا؟ اچھی نہیں لگی کیا؟”

سادگی سے پُر انداز۔ رائد نے خونخوار نظروں سے یَشل کو گھورا۔ اُسے ایسا لگ رہا تھا جیسے یَشل نے تھوڑے سے دودھ میں بھر بھر کے چینی اور کافی مِلا دی ہے اُسے لونگ کا ذائقہ بھی آرہا تھا۔ اتنے واحیات تریقے سے بھی کافی بنائی جاسکتی ہے اُسنے کبھی سوچا نہیں تھا اُسکا دل کر رہا تھا یہ کافی سے بھرا کپ وہ یَشل کے سر پر اُنڈیل دے۔۔۔

“جواب دو بھئی۔۔۔۔”

عادل کی آواز پر وہ سوچوں سے باہر نِکلا

“بہت اچھی ہے۔۔۔ائی ایم امپریسڈ”

وہ دانت پیس کر بولا

“بس۔۔۔آپ کو امپریس ہی تو کرنا چاہتی تھی میں۔۔۔”

وہ آنکھیں ٹپٹپا کر اِس قدر معصومیت اور پیار سے بولی کہ عادِل نے چونک کر یَشل کو دیکھا۔۔

“مم۔۔۔میں چلتی ہوں “

اُسے پل میں احساس ہوا کہ اتنا میٹھا لہجہ بھی نہیں اپنانا چاہیے تھا۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *