Muntazirat Hastam by Neha Imtiaz NovelR50532 Muntazirat Hastam (Episode 16)
Rate this Novel
Muntazirat Hastam (Episode 16)
Muntazirat Hastam by Neha Imtiaz
“رائد کہاں ہے۔۔۔تم سے ملا؟”
وہ جیسے ہی وارڈ کے پاس پہنچی تو وہاں کھڑے عادل نے سوال کیا جسے سنتے ہی یَشل گڑبڑا گئی۔۔
“جج۔۔جی وہ۔۔پتا نہیں شاید گھر چلے گئے ہونگے”
اسے اندازہ تھا جو وہ رائد کے ساتھ کرکہ آئی تھی اسنے گھر ہی جانا تھا۔ وہ اپنا امیج تھوڑی خراب کر سکتا تھا۔
“عجیب جاہل انسان ہے یہ ہم دونوں اڑن کھٹولے پر واپس جائیں گے کیا!”
عادل ایک دم غصے سے بولتے جیب سے فون نکلنے لگے تو یَشل نے کچھ حیرت سے دیکھا۔ وہ پچھلے دنوں سے غصے میں اور چڑچڑے سے رہنے لگے تھے اور ان کا سارا غصہ رائد پر ہی نکلتا۔ یقیناً وہ سکینہ کی وجہ سے پریشانی میں ایسے ہوگئے تھے۔
“انکل ابھی کون سا ہم جا رہے ہیں وہ واپس آجائے گا۔۔”
وہ رائد کو نمبر ڈائل کرنے ہی لگے تھے جب یَشل نے کہا۔
“پہلی بات تو میں تمہارا انکل نہیں رہا اب اور بچے۔۔ ابھی نہیں تو کچھ دیر بعد ہی واپس تو جانا تھا نہ۔۔۔” وہ نرمی سے بولے اور فون نمبر ڈائل کیا جبکہ یشل انکی پہلی بات پر مسکرا دی پھر بولی
“ہاں آپ نے جانا تھا۔۔۔میرا ارادہ ہسپتال رکنے کا ہے”
“نہیں نہیں۔۔۔مجھے عدنان نے کہا ہے کہ تمہیں واپس لانا ہے ہسپتال میں رکنے کا فائدہ نہیں۔۔۔”
وہ ویسے ہی فون سے لگائے بولے تو یشل خاموش ہوگئی۔۔رائد کے کال نہ پک کرنے پر وہ دوبارہ اسے کال کرنے لگے۔
“فون بھاڑ میں پھینک دیا ہے تم نے؟”
اسکے کال اٹینڈ کرتے ہی وہ اتنے غصے سے بولے کہ یَشل نے چونک کر انہیں دیکھا۔
“کہاں ہو تم۔۔؟” وہ دوسری طرف اسکی بات سن کر بولے
“ابھی کہ ابھی واپس آؤ۔۔۔”
“میں گھر پہنچنے والا ہوں اب!!!”
وہ کچھ کوفت زدہ ہوکر بولا اسکی آواز فون سے نکل کر یَشل کے کانوں میں بھی پڑی۔
“تمہیں سنائی نہیں دے رہا میں کیا کہہ رہا ہوں۔۔۔!”
عادل غصے سے بولے تو یَشل نے انگلیاں چٹخائی۔ ایک تو اسے مردوں کے غصے سے بہت ڈر لگتا اوپر سے جو حرکت وہ رائد کے ساتھ کرکہ آئی تھی۔۔۔اس وقت تو بہت بہادری سے وہ کیفے سے نکل آئی مگر اب اسکی جان پر بن گئی تھی۔
عادل نے فون کاٹتے موبائل واپس پاکٹ میں ڈالا اور وہ دونوں کی وہاں رکھے بینچ پر بیٹھ گئے۔
“ماما کو ہوش کیوں نہیں آرہا؟ ماموں تو کہہ رہے تھے ماما ٹھیک ہو جائیں گی پھر۔۔۔کچھ دیر پہلے ڈاکٹر نے وہ سب کیوں کہا۔۔۔ایک رات میں کیا ہوگیا”
اسنےکافی دیر بعد سوال کیا۔ انجانا سا خوف تھا جو اسکے دل میں پیدا ہوگیا تھا اسی ڈر کے تحت وہ عادل سے پوچھنے لگی جیسے اسے معلوم ہوگا کہ آگے کیا ہونے والا ہے اور سکینہ کو ہوش کیوں نہیں آرہا.
“دعا کرو۔۔۔خدا نے چاہا تو ہوا جائے گی ٹھیک”
وہ افسردہ ہوتے ہوئے محض اتنا ہی بولے۔ اور کوئی تسلی بخش جملہ نہیں تھا جس سے وہ یَشل کو تسلی دیتے۔ یَشل کی آنکھیں لبلبہ گئی۔ تبھی اسے رائد آتا ہوا دکھائی دیا وہی داغدار شرٹ دیکھتے یشل نے ہونٹ چبایا اور اسکے چہرے کے سخت تاثرات۔۔۔
“یہ شرٹ کو کیا ہوا ہے تمہاری۔۔۔؟”
اسکے قریب آنے پر عادل نے اٹھتے ہوئے سوال کیا تو رائد نے پھاڑ کھانے والی نظروں سے پینچ پر بیٹھی یَشل کو دیکھا۔
“ایک اندھا ٹکرا گیا تھا۔۔۔یہی بدلنے گھر جارہا تھا”
پہلا جملہ یَشل اور دوسرا جملہ عادل کو دیکھ کر ادا کیا تو یَشل نے بےاختیار ہی غصے سے اسے دیکھا اور اپنی جگہ سے اٹھ کھڑی ہوئی۔
“چلیں اب گھر۔۔۔” عادل نے مڑ کر یشل کو دیکھا
“میں ایک بار ماما کو دیکھ آؤں۔۔۔”
وہ بولی ہوئی آئی سی یو کے اندر چلی گئی تو رائد اور عدنان دوبارہ بینچ پر بیٹھ گئے۔
☆ ★ ✮ ★ ☆
“کہا تھی تم اتنے دن سے؟ کال کیوں نہیں پک کی تمہیں اندازہ بھی ہے میں کتنا پریشان تھا لاپرواہی کی حد ہوتی ہے یشل!”
اسکی کال آتی دیکھ کر ارمغان نے ایک سیکنڈ کی بھی دیر کئیے بغیر کال اٹینڈ کی اور غصے میں شروع ہوگیا۔
” تمہیں ذرا احساس نہیں میرا، میری جان نکلی جارہی تھی۔۔۔تم نے بلکل بھی یاد نہیں کیا نہ مجھے؟ ایک رات بھی سکون کی نیند نہیں آئی مجھے تم اتنی ظالم کیسے ہو سکتی ہو؟”
وہ ابھی بھی بول رہا تھا یہ جانے بغیر کے وہ دوسری طرف روئے جارہی تھیں
“کچھ بولو گی یا نہیں؟ تمہیں پتا بھی ہے میں نے تمہاری آواز کو کتنا مِس کیا؟ میں تو بھول گیا ہوں تمہاری آواز کو”
اسکا اچانک ہی گلا رندھ گیا جسے محسوس کرتے یشل کے دل میں درد کی ایک ٹیس اٹھی تھی۔
“کچھ بولو پلیز۔۔۔میں نے بہت مِس کیا ہے تمہیں”
اسکی آواز بھیگ گئی تھی یشل کے منہ سے بےاختیار ہی سسکی نکلی تو دوسری طرف ارمغان نے ہونٹ چبایا۔ وہ مرد تھا اور اس عورت کی یاد اور محبت نے اسے اس قدر کمزور کردیا تھا کہ وہ ہونے والے اس رابطے پر رو دینے کو تھا۔ آنکھیں چھپکتے اسنے آنسو روکنے چاہے۔ یَشل نے منہ پر ہاتھ رکھتے سسکی کو روکا تھا مگر آج یہ ممکن نہیں تھا۔
ہینڈ فری لگا کر دونوں ہاتھوں کو چہرے پر رکھے بیڈ پر لیٹی روئے جارہی تھی دوسری طرف وہ شخص اسکی سسکیاں سنتا اپنا ضبط آزما رہا تھا۔
“یَشل رونا بند کرو۔۔۔!!”
کافی دیر یَشل کے رونے پر اسکا ضبط جواب دے گیا اور غصے سے اسے خاموش ہونے کا کہنے لگا۔ یَشل کی رونے سے سرخ ہوتی بھیگی آنکھیں اور ناک اسے ہمیشہ خوبصورت لگتی تھی مگر آج اسکا یہ رونا اسے خوف میں مبتلا کر رہا تھا مگر یشل خاموش نہ ہوئی اسکی بات سن کر وہ پہلے سے بھی زیادہ رونے لگی۔ ارمغان کا جی چاہا وہ دوڑ کر اسکے پاس چلا جائے اسکے آنسوؤں کو چن لیں اسے خود میں سمیٹ لے اور اسکی تکلیف کو نوچ کر دور پھینک دے۔
ارمغان نے صبر کا دامن تھامے رکھا کافی زیادہ رونے کے بعد یَشل کا دل کچھ ہلکا ہوا اور آنسو سوکھنے لگے تو اسکی سسکیاں رک گئی جس پر ارمغان نے سکون کا سانس ہوا میں خارج کیا۔
“تم واپس آرہی ہو نہ؟” اسکے خاموش ہوتے ہی سوال داغ تھا جسے سنتے یشل کو لگا وہ اسکے تازہ زخموں کو کرید رہا ہے۔ یَشل نے کال بند کردی بغیر کچھ کہے۔
ہفتے بعد دونوں کے درمیان ہونے والے اس رابطے میں نہ یَشل نے کچھ کہا تھا نہ ارمغان نے کچھ سنا تھا سوائے اسکی سسکیوں کے۔
“یشل۔۔۔ارمغان سے بات ہوئی تمہاری؟”
عطیہ نے کمرے میں داخل ہوتے ہوئے سوال کیا لیکن وہ چپرا موڑے ویسے ہی لیٹی رہی۔۔
“یشل۔۔۔تم رو رہی ہو کیا؟ ارے کیا ہوا؟”
عطیہ یَشل کی طرف آئی تو اسکا سسکتا وجود دیکھ کر اسکا رخ اپنی طرف کرنا چاہا مگر وہ مزید خود میں سمٹ گئی۔ عطیہ گہرا سانس لیتی بیڈ کی دوسری طرف آئی جس طرف رخ کئیے وہ رو رہی تھی۔
“یشل میری جان۔۔۔رات کے پہر نہیں روتے”
عطیہ نے اسکے چہرے پر آئے بال پیچھے کرتے نرمی سے کہا۔ اسکے رونے پر انہیں افسوس ہوا تھا۔ ناجانے کتنا عرصہ اس نے یونہی روتے رہنا تھا۔
“ارمغان کی کال آئی تھی مجھے۔ وہ کہہ رہا تھا یہاں آجائے گا اور تم جانتی ہو وہ ایسا واقعی کر دے گا اور تمہارے لیے مشکلات بڑھ جائیں گی۔۔”
عطیہ نے آرام سے کہتے ہوئے اسکے آنسو صاف کئیے تو یَشل کی بھیگی آنکھوں میں خفگی کا تاثر نمایا ہوا۔ وہ جانتی تھی عطیہ اسے کیا کہنے والی ہے۔
“اس سے ایک بار بات کرو۔۔۔رونا بلکل بھی نہیں ہے اسے تسلی دو کہ سب ٹھیک ہے اور تم سکینہ کی وجہ سے یوں رو رہی تھی۔ میں جانتی ہوں اسے جلد ہی پتا لگ جائے گا مگر ہمارے کراچی جانے کے بعد۔۔اور پھر تمہارے ماموں سب دیکھ لیں گے”
یَشل خاموشی سے انہیں دیکھتی رہ گئی تھی۔ کیسی مشکل تھی یہ کہ جو شخص اسکی ہر تکلیف سے واقف ہوتا تھا اس کے ساتھ “سب ٹھیک ہے” کا ڈرامہ کرنا تھا اب اسے۔
“اچھا ادھر آؤ کچھ نہیں ہوگا سب ٹھیک رہے گا۔۔۔”
عطیہ نے اسے قریب کیا اور اسکا ماتھا چوم کر متور آنکھیں صاف کرنے لگی۔
“نشہ بتا رہی تھی پرسو آپ لوگ واپس جارہے ہیں؟”
وہ اداسی سے بولی تو عطیہ نے سر اثبات میں ہلایا۔۔
“یہاں اتنے دن رکنا ٹھیک نہیں۔۔ سکینہ کو اللہ صحت دے مگر عدنان کو اور ہم سب کو یہاں اس طرح رک جانا اچھا نہیں لگ رہا۔ سکینہ کے ٹھیک ہوتے ہی دوبارہ آجائیں گے”
عطیہ اسکے بکھرے بالوں کو سنورتی نرمی سے بولی تو وہ سر ہلکا سا اثبات میں ہلا گئی۔
“آبی بھی جائیں گی؟” اسکے سوال پر عطیہ سر اثبات میں ہلا گئی تو یَشل کا دل ڈوبنے لگا۔ اگر یہ سب چلے گئے تو وہ کیسے رہے گی یہاں؟
“بال نہیں کٹوائے نہ۔۔اچھے لگ رہے بڑے رکھا کرو۔”
عطیہ نے اسکے درمیانی لمبائی کے بالوں کو دیکھتے ہوئے کہا۔ یشل کو بال سنبھالنا بلکل پسند نہ تھا وہ ہمیشہ بال کٹوا کر لمبائی کم کروا دیا کرتی تھی اسکے بال گھنے اور خوبصورت تھے۔ ارمغان بھی اسے بال کٹوانے سے منع کرتا تھا مگر یہ وہ واحد بات تھی جو وہ اسکی نہ مانتی تھی۔
“کٹوا لوں گی ماما ٹھیک ہو جائیں گی تو۔۔۔”
یَشل کی بات کر عطیہ نے کچھ خفا ہوکر اسے دیکھا۔
“آپ کو پتا تو ہے مجھے لمبے بال نہیں پسند۔۔۔”
وہ انکی آنکھوں میں خفگی دیکھ کر بولی۔
“ہاں کیونکہ تم لمبے بالوں میں سکینہ جیسی لگتی ہو۔۔۔”
آبے اندر داخل ہوتی ہوئی بولیں تو وہ بےاختیار ہلکا سا مسکرا دی۔
“ہسپتال گئی تھی نہ تم۔۔۔کیا کہا ڈاکٹر نے سکینہ ٹھیک کب تک ہوگی۔۔۔”
آبی کی بات پر یَشل کے چہرے ہر افسردگی چھا گئی۔
“ڈاکٹر نے کوئی امید نہیں دلائی۔۔وہ کہتے ہیں آپ خود کو ہر طرح کے حالات کے لیے تیار رکھیں۔۔۔”
اسکو ایک بار پھر رونے کی تیاری کرتا دیکھ کر عطیہ کا ہاتھ ماتھے پر گیا۔ مگر وہ بھی کیا کرتی اسکے پاس رونے کے سوا بچا ہی کیا تھا۔ زندگی اچانک اس موڑ پر آکھڑی ہوئی تھی جس کا اسنے کبھی تصور نہ کیا تھا۔ زندگی میں صرف ایک آزمائش آئی تھی اورا وہ ماں سے دوری تھی مگر اب زندگی تو بچی ہی نہیں تھی صرف آزمائشیں ہی تھی۔
“میری دعائیں کیوں قبول نہیں ہوتی آبی؟ اللّٰہ تعالیٰ سنتے کیوں نہیں؟ انہیں میرے آنسو نظر نہیں آتے۔۔میں نے اپنے لیے اللّٰہ سے کچھ بھی نہیں مانگا میں نے صرف ماما کی صحت مانگی ہے اور میری یہ دعا بھی قبول نہیں ہورہی۔۔ میں دعا مانگنا چھوڑ نہیں سکتی مگر مجھے اپنی دعائیں رد ہوتی ہوئی نظر آرہی ہیں۔۔”
اسکا لہجا مایوسی میں غوطے کھا رہا تھا۔ زندگی میں پہلے کبھی ان دونوں عورتوں نے اسے اتنا مایوس نہیں دیکھا تھا۔ ویران آنکھیں پھر سے برس رہی تھی۔
آبی گہرا سانس لیتی اسکے پاس بیٹھی اور اسکے آنسو نرمی سے صاف کئیے۔
“اتنی مایوسی؟ مایوسی کفر ہے۔۔۔خدا پر یقین رکھو دعائیں رد نہیں ہوتی۔ خدا تمہیں ان کا صلہ دے گا اور ضرور دے گا۔ کوئی دعا رائیگاں نہیں جاتی مگر ہر وہ دعا قبول نہیں ہوتی جو ہم چاہتے ہیں۔۔مگر دعائیں رد بھی نہیں ہوتی بیٹا۔ خدا ہماری ان دعاؤں کا صلہ ہمیں آخرت میں دیتا ہے جو دنیا میں قبول نہیں ہوتی مگر اسکا مطلب یہ نہیں کہ خدا تمہاری دعائیں سن بھی نہیں رہا۔ تم اللّٰہ پر کامل یقین رکھو وہ جو ذات عرش پر بیٹھی ہے وہ بڑی قادر کے۔ دعاؤں میں اتنی طاقت ہے کہ وہ موت کے منہ سے وپس کھینچ لاتی ہیں۔ دعا مومن کا ہتھیار ہے۔ اس ہتھیار سے تو تقدیریں بدل جاتی ہیں کسی کی صحت کیا چیز ہے۔ مانا کہ دنیا میں جو بھی آیا ہے اور آئے گا قیامت تک سب عارضی ہے ہر چیز نے لوٹ کر جانا ہی جانا ہے۔ خدا فرماتا ہے کہ دنیا ایک خوبصورت دھوکا ہے۔ آزمائشیں آتی ہیں اور آتی رہیں گی ہم زندگی اپنی مرضی سے نہیں چلا سکتے مگر ہمیں خدا کی رضا میں راضی ہونا ہے۔۔”
آبی بہت پیار سے بہترین لفظوں کا چناؤ کرتے اسے سمجھا رہی تھی کافی حد تک یَشل پرُسکون بھی ہوئی تھی تبھی دروازہ کھولتے رائد اندر داخل ہوا مگر وہاں بیٹھی عطیہ اور آبی کو دیکھ کر اسکے قدم رک گئے۔ جہاں پل میں اسے یہاں آنے کا فیصلہ غلط لگنے لگا وہیں یَشل نے ناگواری سے اسے دیکھا۔
“وہ میں۔۔۔” چھ آنکھیں خود پر محسوس کرکہ اسے سمجھ ہی نہ آیا وہ کیا کہے۔
“ارے رائد۔۔۔ آؤ اندر آؤ وہاں کیوں کھڑے ہوگئے ہو”
آبی نے اسے دیکھا تو اپنے مخصوص انداز میں کہا جبکہ یَشل کو آبی کے اسے اندر بلانے پر کوفت ہوئی۔
(ہاں وہ بیوی ہے میری جب چاہوں اسکے کمرے میں جاسکتا ہوں۔۔۔)
رائد کی اس سوچ نے اسکی ہمت بڑھائی اور وہ اندر آگیا۔
“مجھے اندازہ نہیں تھا کہ آپ دونوں یہاں ہونگی۔۔۔”
اسے یہ اندازہ بھی نہیں ہوا کہ اسکی ذومعنی سی بات کا وہ دونوں عورتیں کتنا غلط مطلب لے سکتی تھی۔
“کوئی یہاں ہو یا نہ ہو۔۔تمہیں میرے کمرے میں آنے کا کوئی حق نہیں۔۔۔”
یَشل نے غصہ ضبط کرتے ہوئے سنجیدگی سے کہا تو رائد کو لگا آبی اور عطیہ کے سامنے یَشل نے اسے تمانچہ دے مارا ہو۔
“یَشل۔۔۔شوہر ہے وہ تمہارا۔۔۔!”
آبی نے اسے سختی سے کہا تو وہ حیرت سے آبی کو دیکھنے لگی۔ اس جملے کی توقعہ اسے آبی سے تو ہرگز نہیں تھی۔
“ایسے مت دیکھو آبی کو۔۔۔یہاں تم غلط ہو”
عطیہ نے بھی کہا تو وہ عطیہ کو دیکھنے لگی۔ رائد خاموشی سے صوفے پر بیٹھ گیا۔
“تمہارے ساتھ ناانصافی ہوئی بھی ہے تو تم اس چیز کا غصہ دوسروں پر نہیں اتار سکتی۔ تمہیں اسکی عزت کرنی ہے اب۔ نہ صرف کمرے میں آنے پر بلکہ تمہاری ہر چیز پر اسکا حق ہے”
آبی کی بات پر رائد کے ہونٹوں پر مسکراہٹ آئی تھی جسے وہ بروقت چھپا گیا اور دل ہی دل میں آبی کو دعائیں دی جو اسے کچھ کام کی باتیں بتا رہی تھی۔
“میں اس چیز میں تمہاری طرف سے کوئی غلط بات نہیں دیکھنا چاہتی۔۔۔مجھے امید ہے تم خدا کی رضا میں راضی رہو گی اور مجھے مایوس نہیں کرو گی۔۔”
آبی نے اسکا ہاتھ پیار سے مسلا پھر چھوڑ کر اپنی جگہ سے اٹھ گئی عطیہ کو بھی چلنے کا اشارہ کیا اور ایک مسکراتی نظر رائد پر ڈالی
“خدا تم دونوں کو خوش رکھے۔۔۔”
وہ دونوں باہر چلی گئی تو رائد اپنی جگہ سے اٹھا اور یَشل کو دیکھا جس کا چہرا بےتاثر تھا۔ یَشل نے اسے دروازہ لاک ہونے کی آواز پر رائد کی طرف دیکھا۔
“کیا بدتمیزی ہے یہ۔۔۔!”
“کیا مطلب کیا بدتمیزی ہے؟ بدتمیزی تو تم نے کی ہے وہ بھی اتنے لوگوں کے سامنے!”
رائد نے دانت پیستے اسے یاد دلایا تو یَشل کو اپنا کارنامہ یاد آیا۔
“تو تمہیں کس نے کہا تھا مجھ سے پنگا لینے کو؟”
وہ اپنی جگہ سے اٹھ کھڑی ہوئی۔
“میں نے پنگا لیا تھا یا تم نے؟ ہمت کیسے ہوئی تمہاری میرے اوپر چائے گرانے کی۔ یہ دیکھو جالا کر رکھ دیا تم نے میری خوبصورت باڈی کو۔۔۔۔”
رائد نے بولتے ساتھ اپنی شرٹ کو اوپر کیا تو یَشل کی نظر اس کی باڈی پر گئی جسکا وہ حصہ کچھ سرخ تھا۔
“جلی تو نہیں ہے کل تک ٹھیک ہو جائے گی۔۔نیچے کرو اسے حد ہوتی ہے بےشرمی کی!”
یَشل کو اسکی حرکت حد سے زیادہ بری لگی. ناگواری سے بولتے وہ واشروم کی طرف جانے لگی جب رائد نے اسے بازو سے اپنی طرف کھینچا
“رائد کیا مسئلہ ہے تمہارے ساتھ۔۔۔”
یشل نے بازو چھڑوانا چاہی۔
“تم ہو میرا مسئلہ۔۔۔(وہی فلمی ڈائیلاگ) اگر تم اپنا بیہیوئیر ٹھیک کرلو گی تو سب ٹھیک رہے مگر تم ایسا کیوں کرو گی؟ تم تو یَشل ہو! تم چاہتی ہی نہیں ہمارے درمیان سب کچھ ٹھیک ہو جائے۔۔۔!”
“ہاں نہیں چاہتی میں ہمارے درمیان کچھ بھی ٹھیک ہونا اور اگر تمہیں لگتا ہے تم سب ٹھیک کر سکتے ہو تو یہ تمہاری بہت بڑی غلط فہمی ہے اسی لیے کوشش بھی مت کرنا”
اسنے انگلی اٹھا کر وارن کرنے والے انداز میں کہا تو رائد نے بے اختیار آگے ہوتے اسکی انگلی کو چوم لیا اور بس۔۔یہی وہ لمحہ تھا جہاں رائد نے نقش بدل گئے۔ وہ سن سی اپنے سامنے کھڑے ارمغان کو دیکھ رہی تھی جو خوبصورتی سے مسکرا رہا تھا۔ اسے وقت رکتا ہوا محسوس ہوا تھا۔
“لگتا ہے آج پھر ہینڈسم لگ رہا ہوں..”
وہ شرارت امیز لہجے میں بولا مگر یَشل ویسے ہی اسے دیکھتی کہیں کھو گئی تھی۔
“اگر اس طرح دیکھو گی کوئی الٹا سیدھا کام کردوں گا میں۔۔۔”
وہ اسکی بازو چھوڑ کر اسکے گرد حصار بنا گیا۔ وہ ابھی بھی خاموش اور مبہوت تھی۔ رائد غور سے اپنے حصار میں موجود بےحد قدیب کھڑی یَشل کا چہرا دیکھ رہا تھا جبکہ وہ ارمغان کو دیکھ رہی تھی۔
اسکے یوں دیکھنے پر رائد کے دل میں ننھی سی خواہش نے جنم لیا جسے وہ دبانا نہیں چاہتا تھا۔ وہ آگے ہوتا اسکے چہرے پر جھکا اور اسکا رخسار نرمی سے چوم لیا۔ وہ اسکے ہونٹوں کی طرف بڑھنے ہی لگا تھا جب رخسار پر اسکا لمس محسوس کرتے یَشل کا سکوت بری طرح سے ٹوٹا جیسے وہ کسی خواب سے جاگی ہو۔ وہ جھٹکا کھاتی اس سے دور ہوئی۔۔
“تم۔۔۔۔” اسنے پہلے اپنے رخسار کو انگلی سے چھوا پھر دوبارہ سے انگلی رائد کی طرف کرکہ کچھ کہنا چاہا مگر ماؤف ہوتے دماغ کے ساتھ زبان بھی کنگ ہوگئی تھی۔
اس سے پہلے رائد دوبارہ سے اسکی انگلی پر ہونٹ رکھتا وہ مٹھی بناتی ہاتھ نیچے کرگئی اور تیز قدم اٹھاتی واشروم کی طرف گئی۔ اندر جاتے ہی دروازہ اتنی زور سے بند کیا کہ کھڑکیاں بھی تھرتھرا اٹھی۔
گہری مسکراہٹ ہونٹوں پر لیئے وہ اسکے بیڈ پر گرنے والے انداز میں لیٹا۔
“دیکھتی جاؤ یَشل رئد خٹک۔۔ تمہیں تو میں اپنا بنا کر رہوں گا”
وہ کچھ دیر لیٹا اس کا انتظار کرتا رہا مگر جب وہ کافی دیر تک باہر نہ آئی وہ کمرے سے نکل آیا۔
☆ ★ ✮ ★ ☆
مختلف جگہوں پر انٹریو دینے کے بعد مشکل سے ہی سہی ارمغان کو جاب مل گئی تھی۔ اسے شاید جاب کی ضرورت نہ تھی مگر وہ شکر گزار تھا کہ مزید دو تین دن وہ مصروف رہے گا اور یَشل واپس آجائے گی۔ آفس میں اتنا کام نہ ہوتا مگر پھر بھی اس کا دن گزر جاتا۔ وہ ابھی ابھی آفس سے آیا تھا اور آتے ہی فریش ہونے چلا گیا۔ وہ جیسے ہی فریش ہوکر واشروم سے باہر آیا تو کمرے کے بیچ و بیچ عِزہ کو کھڑا دیکھ کر ٹھٹک کر رک گیا وہیں عزہ اسے شرٹ لیس دیکھ کر اپنی جگہ سے ہل نہ سکی۔
“کیا ہوا۔۔۔؟”
وہ شیشے کے سامنے جاکر کھڑا ہوگیا اور ٹاول سے بال رگڑنے لگا پھر ٹاول صوفے پر پھینک کر الماری کی طرف بڑھا۔ عزہ کی طرف سے کوئی جواب نہ ملا تو اسنے پلٹ کر عزہ کو دیکھا جو اسے دیکھنے میں مصروف تھی۔
“وہ۔۔میں۔۔میں آپ سے بات کرنے آئی تھی کچھ۔۔۔”
اسکے دیکھنے پر وہ ہوش میں آتی کچھ گڑبڑا گئی۔
“بولو۔۔۔۔”
وہ سنجیدہ تھا۔۔۔یقیناً اس دن ہونے والی بدمزگی کی وجہ سے۔۔شرٹ پہن کر وہ اسکی طرف آیا تو وہ انگلیاں چٹخنے لگی۔ ارمغان نے گہرا سانس لیا اور بیڈ پر بیٹھ گیا اسے اندازہ ہوگیا تھا وہ کیوں آئی ہے۔۔سامنے کھڑی عزہ نے اسے دیکھا۔
ماتھے پر بکھرے بال اور نکھرا نکھرا سا وہ بہت پیارا لگ رہا تھا اور پھر سرخ ہوتی اسکی آنکھیں۔۔۔ساری رات وہ لاؤنج میں ٹی وی دیکھتا رہا تھا ناجانے وہ ٹی وی دیکھ بھی رہا تھا یا نہیں مگر وہ سویا نہیں تھا اور صبح ہوتے ہی آفس۔۔
“وہ۔۔۔آپ ساری رات سوئے کیوں نہیں؟”
وہ بات کی شروعات کرتے ہوئے سوال کرنے لگی
“ویسے ہی۔۔۔نیند نہیں آرہی تھی۔۔۔”
اب اسے کیا بتاتا کون سی پریشانی اسکی نیند لے اڑی تھی۔
“اچھا۔۔۔آپ کھانا کھائیں گے؟” وہ جو صاف صاف معذرت کرنے کے لیے جملے ذہن نشین کرکہ آئی تھی اسکی ساری ہمت اڑن چھو ہوگئی۔
“نہیں نہیں آج آفس میں کھا لیا تھا بس آرام کروں گا۔۔۔”
اسکا لہجے میں پہلے کی طرح سنجیدگی نہیں تھی۔
“تم کچھ کہنے آئی تھی؟”
اسکی خاموشی پر ارمغان نے سوال کیا تو وہ سر اثبات میں ہلا گئی اور اس سے فاصلے پر بیٹھی تو ارمغان اسے دیکھنے لگا۔
“وہ میں۔۔۔امم” وہ لفظوں کو ترتیب نہیں دے پارہی تھی۔ ارمغان خاموش رہا۔
“مجھے سوری کہنا تھا اس دن جو کہا میں نے اس کے لیے۔۔۔مجھے وہ سب نہیں کہنا چاہیے تھا”
وہ جلدی سے بولتی خاموشی ہوگئی تو ارمغان ویسے ہی اسے دیکھتا رہا۔
“میں شرمندہ ہوں۔۔۔” عزہ اسکی خاموشی پر مزید بولی
“اور کیا سننا چاہ رہے ہیں آپ؟”
ارمغان ابھی بھی خاموش رہا تو شرمندگی کے لبادے اتار کر وہ چڑتی ہوئی بولی۔ ارمغان نے اسے حیرت سے دیکھا اسکی اس حرکت پر ارمغان کو بےاختیار ہی یَشل یاد آئی تھی۔
“کوئی بات نہیں اکثر ہوجاتا ہے۔۔مجھے اچھا لگا کہ تمہیں اپنی غلطی کا احساس ہوا۔۔”
ارمغان کی بات پر عزہ کو اسکے دل نے ملامت کیا کیونکہ اسے اپنی غلطی کا کوئی احساس نہ تھا معذرت کرنے کی وجہ صرف ارمغان کا دل اپنی طرف سے صاف کرنا تھا۔
“اچھا آپ ابھی سونے لگے ہیں؟”
“ہاں رات کو سویا نہیں نیند آرہی۔۔۔۔” وہ جماہی روکتا ہوا بولا۔
“اوہ۔۔مجھے آمنہ کی طرف جانا تھا۔ بھائی آج آفس سے لیٹ آئیں گے اور ہادی کے تو نکھرے نہیں ختم ہورہے”
ہادی کا ذکر جلے کٹے انداز میں کیا گیا۔
“اچھا چھوڑنا ہی ہے نہ آجاؤ میں چھوڑ آتا۔۔قرت اور ہادی تو گھر ہی ہیں نہ؟”
ارمغان بولتا ہوا بیڈ سے اٹھا۔
“ہاں ہادی اور قرت گھر پر ہیں لیکن آپ رہنے دیں بس آج نہیں جاتی۔۔آپ مجھے کل چھوڑ آئیے گا سوجائیں۔”
عزہ نے جلدی سے انکار کیا تو ارمغان نے آئیبرو اچکا کر اسے دیکھنے لگا۔
“پکا؟ میں واپس آکر بھی سو سکتا ہوں”
عزہ نے ایک بار پھر سر انکار میں ہلایا اب اسے کیا بتاتی آمنہ تو صرف بہانہ تھی ارمغان کے ساتھ باہر جانے کا۔
“چلو ٹھیک ہے لائیٹ آف کرکہ جانا۔۔۔”
عزہ سر ہلاتی لائیٹ بند کرکہ کمرے سے نکل گئی تو ارمغان بیڈ پر لیٹ گیا۔ آنکھوں میں نیند تھی مگر ذہن پر سکون نہ تھا۔ یَشل کو کال کرنے کے بعد سے جو تھوڑا سکون تھا وہ بھی اب ختم ہوگیا تھا۔
اگلے دن شام کو آفس سے آتے ہی وہ ارمغان کے ساتھ گھر سے نکل آئی تھی گھر سے کچھ دور آتے ہی اسنے آمنہ کو کال کی جو حقیقت میں آمنہ کی طرف گئی ہی نہیں۔
“ہیلو آمنہ۔۔۔ہاں میں گھر سے نکل آئی ہوں”
ساتھ ہی ایک نظر ارمغان کو دیکھا جو خاموشی سے گاڑی چلا رہا تھا۔
“کیا مطلب کدھر جارہی ہو۔۔۔۔؟ تو تم نے مجھے بتانا تھا نہ”
ارمغان نے اسکی طرف دیکھا جو کال پر مصروف تھی۔
“حد ہے۔۔۔میں بس پہنچنے والی تھی بندہ پہلے بتا دیتا ہے”
وہ کچھ چڑ سی گئی تو ارمغان نے گاڑی کی رفتار کم کی
“اللّٰہ حافظ۔۔۔”
فون سلنگ بیگ میں رکھتے اسنے ارمغان کی طرف دیکھا جو اسی کو دیکھ رہا تھا۔
“اسے اچانک کہیں جانا پڑ گیا ہے۔۔۔”
“اوہو۔۔۔پھر اب؟” اسنے گاڑی روک دی تھی۔۔۔
“پتا نہیں۔۔۔اوففف غصہ آرہا ہے مجھے گھر میں رہ رہ کر دماغ ویسے ہی خراب ہورہا”
اسے واقعی خالی گھر سے چڑ ہونے لگی تھی اوپر سے کرنے کو بھی کوئی کام نہ ہوتا۔ یہاں سے وہاں اور وہاں یہاں دیکھ دیکھ کر وہ تنگ آگئی تھی۔
“اچھا آئیس کریم کھانے چلیں۔۔۔؟”
وہ سوالیہ انداز میں پوچھنے لگا۔ عزہ کا تیر سیدھا نشانے پر لگا تھا اسنے تو سوچ رکھا تھا کہیں اور چلنے کا بھی خود کہنا پڑے گا مگر ارمغان نے کام آسان کردیا۔
“نہیں آئیس کریم کھانے کا موڈ نہیں۔۔کے ایف سے چلتے ہیں؟ اوفف دل ہی جل گیا میرا تو آپ نے کسی چیز کی بھی ٹریٹ نہ دی۔۔”
وہ منہ بنا کر بولی تو ارمغان ہنس دیا۔
“اچھا چلو آج تمہیں ٹریٹ دے دیتا۔۔۔”
صاف ظاہر تھا اسکا موڈ آج کچھ اچھا تھا کیونکہ اسے خبر ملی تھی کہ کل سب کی واپس ہے مگر وہ اس بات سے انجان تھا کہ جس کی واپسی کا انتظار اسے سب سے زیادہ تھا اسنے آنا ہی نہ تھا۔
