Muntazirat Hastam by Neha Imtiaz NovelR50532 Muntazirat Hastam (Episode 21)
Rate this Novel
Muntazirat Hastam (Episode 21)
Muntazirat Hastam by Neha Imtiaz
عادل ولا میں اچانک ہی عجب گہما گہمی مچ گئی تھی۔ ٹھیک ایک ہفتے بعد ولیمہ تھا اور اچانک ہونے والی اس تقریب میں سب سے بڑا مسئلہ جس کا سامنا انہیں کرنا پڑا تھا وہ “شادی ہال” بک کروانے کا تھا۔ دوپہر میں جو تقریب رکھنی تھی وہ رات کو رکھنی پڑی تھی اور اسی رات تمام گھر والوں کی واپسی کی فلائیٹ تھی پھر فلائیٹ بھی کینسل کروانی پڑی۔
سکینہ کو طبیعت کے باعث گھومنے پھرنے سے منع کیا گیا تھا یہی وجہ تھی کہ انہوں نے شاپنگ کی ساری زمہ داری عطیہ اور صبیحہ پر ڈال دی تھی جو لڑکیوں کو اپنے ساتھ لئیے بازاروں کے چکر مارتی پھر رہی تھی۔
رائد نے دو دن میں اپنے کمرے کا سارا فرنیچر اپنی پسندیدہ سے چینج کروا دیا جس پر سکینہ نے اسے اچھی خاصی سنائی کہ جس لڑکی نے ادھر رہنا ہے اس سے تو پوچھ لیتے۔ لیکن حقیقت تو یہ تھی رائد نے یَشل کو ڈھیر ساری تصاویر بھیج کر اسکی پسند پوچھنا چاہی تھی اور یَشل بی بی نے میسج سین کرکہ کوئی رپلائی نہ دیا۔
پچھلے پانچ دنوں سے گھر کی تمام عورتیں اسکے کمرے کے سو چکر لگاتی ۔ آبی تو سارا دن ساتھ ہی ہوتی۔ قرت کبھی اسے چھیڑتی تو کبھی پچھلے دنوں کے قصے سناتی اسی دوران اسنے اپنا اور افہام والا انکشاف بھی اس پر کر ڈالا تھا جس پر یَشل اسکو دعائیں دیتے نہ تھکی تھی۔ عِزہ کے مانو چہرے سے مسکراہٹ جدا ہی نہ ہوتی۔ وہ جتنی مسکرا مسکرا کر یَشل سے باتیں کرنے لگی تھی شاید زندگی میں پہلے کبھی نہ کی تھی جبکہ نشہ۔۔وہ آتی تو صرف اسکا درد کم کرنے اسے نصیحتیں دینے اور اسکا دھیان بھٹکانے کی غرض سے۔
عطیہ اور صبیحہ کپڑے، زیور، میک اپ اور نجانے کیا کیا لا کر اسکے کمرے میں رکھتی رہتی ساتھ ہی ہدایات دیتی جنہیں نجانے وہ سنتی بھی تھی یا نہیں۔ اسکے لیے کی گئی اس لاکھوں کی شاپنگ کو اسنے نظر بھر کر ایک بار بھی نہ دیکھا تھا۔
اگر مردوں میں سے اسنے کسی کو دیکھا تھا تو وہ صرف اور صرف ہادی تھا۔ وہ بھی خود اسکے پاس آتا دس پندرہ منٹ بیٹھ کر کوئی بات وغیرہ کرتا اور چلا جاتا۔ کبھی کبھی آتا تو خاموش بیٹھا رہتا جیسے اسے کچھ کہنا چاہتا ہو لیکن کہتا کچھ نہیں تھا اور اگر کچھ کہتا تھا تو حال احوال پڑھائی کے متعلق کوئی بات کرتا، یَشل سے کوئی مشورہ لیتا پھر چلا جاتا۔ یَشل کو اکثر لگتا وہ ہونے والے اس ولیمے پر خوش نہیں تھا اور حقیقت بھی یہی تھی۔ اسے رائد پہلی ملاقات میں بھی کچھ خاص پسند نہیں آیا تھا اور اب بلکل یشل کی طرح اسے بھی وہ زہر کی بوتل لگنے لگا تھا۔ اسنے یَشل کو صرف بہن کہا نہیں مانا بھی تھا، وہ ارمغان اور یشل کی تکلیف سے واقف تھا۔
جبکہ ارمغان کو اس گھر سے اور ہونے والی ولیمے کی تیاریوں سے وحشت ہونے لگی تھی۔ سارا دن وہ اور افہام گھر سے غائب رہتے۔ کہاں جاتے تھے کیا کرتے تھے کسی کو علم نہ تھا۔ رات کو آتے ہی وہ کمرے میں چلا جاتا اور سونے کے لیے لیٹتا تو ایسا لگتا جیسے کانٹوں سے بنے بستر پر آ لیٹا ہے۔ اسنے اس کے بعد دوبارہ یشل کو نہ دیکھا تھا کیونکہ ایک تو وہ خود بھی گھر نہ ہوتا اور یَشل بھی کمرے سے نہ نکلتی۔ رائد کی آنکھوں میں چمک اور ہونٹوں سے جدا نہ ہونے والی مسکراہٹ اسے رائد سے نفرت کرنے پر مجبور کرنے لگی تھی۔
☆ ★ ✮ ★ ☆
“یَشل۔۔ یہ ولیمے کا جوڑا لائے ہیں ہم۔۔سکینہ کو تو بہت پسند آیا تم دیکھو ذرا۔۔۔”
یَشل جو کھڑکی کے پاس کھڑی ڈھلتی شام کے سائے دیکھ رہی تھی عطیہ کی آواز پر پیچھے مڑی تو صبیحہ اور عطیہ اس خوبصورت بھارے جوڑے کو بیڈ پر پھیلا رہی تھی۔ دراصل وہ جوڑا رائد کی پسند سے لیا گیا تھا مگر یَشل کو یہ بات بتانے کی غلطی نہیں کر سکتے تھے۔
“اچھا ہوگا۔۔۔”
ایک نظر اس جوڑے پر ڈالتی وہ دوبارہ رخ موڑ گئی۔
“یشل۔۔۔۔” صبیحہ نے اسکی پشت کو گھورا
“جی خالہ۔۔۔” اسنے بغیر مڑے جواب دیا تو ان دونوں کے ہاتھ رکے۔ اسکی پشت کو افسوس سے دیکھتی عطیہ اسکی طرف آئی
“کیوں پریشان کر رہی ہو۔۔؟”
“ایک پریشان روح نے کسی اور کو کیا پریشان کرنا؟ آپ بلاوجہ ٹینشن لے رہی ہیں”
وہ عطیہ کی طرف مڑی۔ اسکی سرخ مائل سوجی ہوئی آنکھیں دیکھتے اسے حیرت کا جھٹکا لگا۔
“اپنی آنکھیں دیکھی ہیں تم نے۔۔۔؟”
وہ جھڑکنے والے انداز میں بولی تو یَشل ہنستی ہوئی کھڑکی کے پاس سے ہٹی۔۔
“ہاں۔۔پہلے سے زیادہ خوبصورت لگنے لگی ہیں”
اسکی کھوکھلی مسکراہٹ دیکھ کر صبیحہ کو اس پر ترس آیا۔
“نہیں۔۔۔پہلے زیادہ خوبصورت لگتی تھی تم بھی اور تمہاری آنکھیں بھی۔۔۔”
“ہاں تو اب کس کے لیے خوبصورت لگنا ہے پھپھو”
“اپنے لئیے۔۔۔۔”
وہ اسے کہنا چاہتی تھی ‘اپنے شوہر کے لیے’ مگر الفاظ حلق میں ہی اٹک گئے
“چھوڑیں پھپھو۔۔خود سے بھی غرض نہیں رہا مجھے۔۔”
وہ بیڈ پر پڑا جوڑا سائیڈ کرتی بیٹھ گئی
“تو جی بھی کیوں رہی ہو۔۔؟
عطیہ نے سامنے آتے ہوئے سوال کیا
“جی کہاں رہی ہوں صرف زندہ ہوں۔۔اور دعا کر رہی خدا یہ سانسیں بھی چھین لے کیونکہ میرے بس میں تو کچھ بھی نہیں ہے۔۔اپنی زندگی کے فیصلے بھی نہیں”
اسکے حلق میں آنسوؤں کا گولا اٹکا۔
“یَشل۔۔کیسی باتیں کرنے لگی ہو تم۔۔۔؟”
عطیہ نے اسے قرب سے دیکھا جبکہ صبیحہ نے اس بار کچھ غصے سے کہا تو وہ انہیں دیکھنے لگی۔
امڈنے والی ہنسی روکنے میں ناکام ہوتی وہ قہقہہ لگا گئی۔ صبیحہ اور عطیہ نے حیرت سے اسے دیکھا
“اوففف۔۔۔کتنا ایموشنل کر دیتی ہیں یار آپ دونوں بندے کو۔۔۔”
اسنے نہ نظر آنے والے آنسو صاف کیے تو دونوں عورتوں نے کمر پر ہاتھ رکھتے ہوئے اسے گھورا جس کے ہونٹوں پر گہری مسکراہٹ تھی۔
“اچھا اب اتنے پیار سے مت دیکھیں لائیں یہ مجھے دیں۔۔میں اس کو پہن کر دیکھتی ہوں کیسا لگ رہا۔۔”
وہ بیڈ سے اٹھی اور پھیلا ہوا بھاری جوڑا اٹھا کر واشروم کی طرف بڑھی تو عطیہ نے سر نفی میں ہلایا۔
کچھ دیر بعد واشروم کا دروازہ کھلا اور وہ زمیں کی صفائی کرتی بھاری جوڑا پہنے باہر نکلی
“ماشاءاللہ۔۔۔۔”
اسکو دیکھتے ہی ان دونوں عورتوں کے منہ سے ادا ہوا۔
“بلکل شہزادی لگ رہی ہو۔۔۔”
صبیحہ نے قریب جاتے ہوئے کہا تو وہ مسکرائی اور بھاری جوڑے کے ساتھ بامشکل خود کو سنبھالتی شیشے کے سامنے جا کھڑی ہوئی۔
وہ خوبصورت سا فل بازو والا انارکلی ڈبل لئیرڈ فراک نما لہنگا تھا جس کی اوپر والی لئیر کا فرنٹ اوپن تھا۔ گہرے بھورے اور جیڈ گرین کلر کے اس بھاری جوڑے میں وہ آسمان سے اتری اپسرا ہی لگ رہی تھی۔ شیشے میں اپنا آپ دیکھتے وہ اس جوڑے کی خوبصورتی پر خود بھی دنگ رہ گئی تھی۔
“یہ بہت بھاری ہے ولیمے کے حساب سے۔۔”
اپنے تن پر سجا یہ جوڑا اسے خوبصورت لگا تھا مگر وہ دل و جان سے رائد پر قربان نہ ہوئی تھی کہ اسکی دلہن بننے کے لیے وہ اس کا اتنخاب کرتی۔ جتنا دل اسکا اس ولیمے کے فنکشن سے خراب ہورہا اتنا ہی بڑھ چڑھ کر یہ سب تیاریاں کر رہے تھے۔ کمرا جس شاپنگ سے بھرا پڑا تھا اسے دیکھ دیکھ کر اسکے کراہیت ہونے لگی تھی
“تم نہ بلکل پاگل ہوگئی ہو۔۔نہ کوئی مایوں، مہندی نہ ہی بارات۔۔صرف ولیمہ ہی تو ہورہا ہے ساری کسر اسی میں نکلنی ہے اب۔۔”
عطیہ کے کہنے پر وہ منہ بناتی انہیں دیکھنے لگی
“یہ دوپٹہ دیکھو کتنا حسین ہے۔۔۔”
صبیحہ نے بیڈ پر پڑا دوپٹہ اٹھایا اور اسکے سر پر رکھا۔ کھلے بالوں کے ساتھ بغیر بیک اپ کئیے وہ دلہن ہی لگنے لگی تھی۔
“ماشاءاللہ ماشاءاللہ بلکل دلہن لگ رہی ہو۔۔۔”
عطیہ اسے دیکھتی ہوئی محبت سے چور لہجے میں بولی۔ تبھی کمرے کا دروازہ کھلا اور شیشے میں اسے اپنے پیچھے ارمغان کا عکس نظر آیا۔۔جہاں اسکے اندر آتے قدم جامد ہوئے وہیں شیشے کے سامنے دلہن بنی کھڑی اس لڑکی کی سانس رکی تھی۔ یَشل کی طرف آتی عطیہ اور صبیحہ بھی اپنی اپنی جگہ رک گئی۔
ہمیشہ کی طرح شیشے میں نظر آنے والا ان دونوں کا عکس ایک بھرپور منظر پیش کر رہا تھا۔ ان دونوں کو ساتھ دیکھنے کی وہ خواہش جو ہمیشہ سے عطیہ کے دل میں تھی ایک بار پھر حسرت بن کر پیدا ہوئی۔
“ارمغان۔۔۔کیا ہوا؟”
صبیحہ کے سوال پر بھی وہ اس پر سے نظر نہ ہٹا سکا۔ یَشل اسکی جانب مڑتی اسکی سانس کھینچ گئی تھی
“دروازہ نوک کرنا چاہیے تھا آپ کو۔۔۔”
اس کی آواز پر اسکا سکوت ٹوٹا۔ آنکھوں میں پہلے کچھ بےیقینی پھر شرمندگی اور پھر سرد تاثر ابھرا
“آئندہ خیال رکھوں گا۔۔۔!”
چہرے کے تاثرات کے ساتھ لہجہ بھی پتھریلا ہوا۔ اسکے تاثرات اور لہجے پر یَشل کو لگا کسی نے اسکا دل مٹھی میں جکڑ لیا ہو۔ اسے نہیں یاد پڑتا تھا کہ ارمغان نے کبھی اس طرح سے بات کی ہو۔
“باہر آئیں امی۔۔۔”
وہ ویسے ہی اسے دیکھتا ہوا عطیہ سے مخاطب ہوا پھر ایک گہری مگر ناگوارہ نظر اس پر ڈالتا کمرے سے نکل گیا تو عطیہ بھی اسکے پیچھے گئی۔ یَشل کو اپنی ٹانگوں پر کھڑے رہنا مشکل لگا، وہ قریب پڑے صوفے پر گرنے کے سے انداز میں بیٹھی۔ صبیحہ اسکی جانب آئی تو ہونٹ چباتے اسنے امڈ کر آنے والے آنسوؤں کو روکا۔ دل کا بوجھ اچانک ہی تگنا ہوا تھا۔ آنسوؤں کا ایک سمندر تھا جو ٹھاٹھے مار کر باہر آنے کو بیتاب ہورہا تھا مگر اب نہیں۔۔وہ ہر بار کمزور نہیں پڑ سکتی تھی۔
صبیحہ نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا تو اسنے سر اٹھا کر اسے دیکھا۔ لبلبی آنکھیں اور لرزتے ہونٹ۔۔۔ صبیحہ کو اس پر ترس آیا۔
“تم۔۔۔تم کپڑے بدل لو اسکی فٹنگ ٹھیک نہیں میں ابھی بھیج دیتی ہوں الٹریشن کروانے کے لیے۔۔۔”
یشل نے اسکی بات سن کر کھوئے ہوئے انداز میں سر ہلایا تو وہ کمرے سے نکلی گئی۔۔۔
☆ ★ ✮ ★ ☆
“آپ آرہی ہیں یا نہیں۔۔؟”
رائد نے ضعیمہ کے کال اٹینڈ کرتے ہی سوال کیا
“نہ سلام نہ دعا۔۔۔سب لحاظ بھول گئے ہو تم؟”
ضعیمہ نے جھڑکنے والے انداز میں کہا
“السلام و علیکم بڑی امی۔۔۔ کیسی ہیں آپ؟ امید کرتا ہوں خیر خیریت سے ہونگی۔ عین نوازش ہے کہ برائے مہربانی گھر میں تشریف لے آئیں۔۔۔۔کل میرا ولیمہ ہے اور میرا چاہتا ہوں کہ یہ وی آئی پی گیسٹ آج ہی یہاں آئے اور میری بیگم کے کان بھر دے۔۔۔”
وہ بڑے ہی مؤدبانہ انداز میں بولا تو ضعیمہ کا قہقہہ بےساختا تھا۔
“رائد شرم کرلو کسی نے سن لیا تو کان کھینچ لے گا تمہارے۔۔۔”
“ہائے۔۔۔بکواس سب سن لیتے ہیں دل کی آواز کوئی نہیں سنتا”
اسنے آہ بھرتے ہوئے کہا تو ضعیمہ ایک بار پھر ہنسی
“تمہاری بکواس کوئی نہیں سنتا اس لئیے تم مجھے سنا رہے ہو؟ اور چاہتے ہو کہ وہاں آکر مزید سنو؟ نہ بابا نہ میں کل ہی آؤں گی اور تمہاری بیوی کے کان بھرنے والا کام مجھ سے نہ ہوگا۔۔۔۔”
ضعیمہ کے صفا چٹ انکار پر رائد کا منہ کھلا
“اوفف ایسے تو نہیں کریں یار آپ تو سمجھیں۔۔۔کل ولیمہ ہے میرا مہینہ ہوا ہے نکاح کو اور ابھی تک میں اس نازک حسینہ کا دل جیتنے میں ناکام رہا ہوں۔۔”
“نازک تو مت بولو اسے رائد۔۔بڑی ہمت دی ہے خدا نے اس بچی کو۔۔”
“ہاں ہاں بچی کہہ کہہ کر سر پر چڑھا لیں اسے۔۔۔اور کون سی ہمت؟ ایسے بھی کوئی ظلم کے پہاڑ نہیں ٹوٹے اس پر ہر لڑکی کی شادی ہوتی ہے۔۔”
رائد کو ضعیمہ کا یَشل کی سائڈ لینا کچھ خاص پسند نہ آیا تبھی وہ کڑھتا ہوا بولا۔
“نکاح کو صرف ایک ماہ ہوا ہے رائد۔۔۔مت بھولو ماضی کو اسے وقت تو دو۔ جس ایک ماہ کا تم نے ذکر کیا ہے اس میں اسنے اوور تھنکنگ کے علاؤہ کچھ بھی نہیں کیا ہوگا۔ اسکا مائنڈ ٹھیک کرو اسے موو آن کرنے دو سب ٹھیک ہو جائے گا۔ رشتے ایسے نہیں بنتے جیسے تم بنانا چاہ رہے۔۔۔”
ضعیمہ نے اپنی طرف سے اسے سمجھانے کی کوشش کی جسے ایک کان سے سنتے اسنے دوسرے کان سے نکال دیا۔ کان پر اگر جوں رینگنی ہوتی تو عادل کی باتوں سے ہی رینگ گئی ہوتی جو روزانہ اسے نئے انداز میں لیکچرز دیتا تو کبھی آنے والے وقت سے ہوشیار کرتا ساتھ ہی وارننگز دیتا رہتا۔
“بڑی امی۔۔میں نے اس لئیے کال نہیں کی تھی کہ بابا کی طرح آپ بھی عجیب عجیب باتیں کرنے لگیں۔ میں جانتا ہوں یَشل کے ساتھ کیا کرنا ہے اور بس۔۔۔کل ہی آئیے گا اب آپ!”
رائد کو ضعیمہ کی ساری باتیں بری لگی تھی تبھی وہ خفگی سے بولتا کال بند کرگیا جبکہ ضعیمہ نے حیرت سے موبائل کی سکرین دیکھی جہاں کال ڈِس کنیکٹڈ لکھا آرہا تھا۔
“کیا ہوا۔۔۔؟”
بابر کی آواز پر اسنے اسکی طرف دیکھا جو ہال میں داخل ہوتے سامنے والے صوفے پر براجمان ہوا۔
“کچھ نہیں رائد کی کال تھی۔۔۔ پوچھ رہا تھا ابھی تک آئی کیوں نہیں۔۔”
“ہاں صبح میری بھی بات ہوئی عادل سے میں نے اسے کہا تھا شام تک آجائیں گے بس ایک گھنٹے تک چلتے ہیں تب تک تم تیاری کرلو۔۔۔”
بابر کی بات سنتی وہ محض سر ہلا کر رہ گئی۔
کال بند کرتے وہ جیسے ہی پیچھے مڑا تو ارمغان اور عطیہ کو کھڑے دیکھ کر رک گیا۔ وہ دونوں اسے سرد تاثرات کے ساتھ دیکھ رہے تھے اور وہ چار آنکھیں اسے اپنے جسم کے آر پار ہوتی محسوس ہوئی۔
“آ۔۔آپ دونوں کب۔۔۔”
وہ ابھی بول ہی رہا تھا جب بجلی کی تیزی سے ارمغان نے آگے آتے اسکا گریبان پکڑا
“اگر اسے تمہاری وجہ سے کوئی بھی تکلیف پہنچی تو میں تمہارا وہ حال کرونگا کہ تم شیشے میں اپنی شکل دیکھنے کے خیال سے بھی خوف کھاؤ گے۔۔۔”
شعلے برساتے لہجے پر ایک پل کے لیے عطیہ کو خوف آیا جبکہ رائد نے کچھ حیرت اور پھر غصے سے اسے دیکھا
“گریبان چھوڑو میرا۔۔۔”
رائد نے غصہ دباتے آرام سے کہا
“ارمغان چھوڑو کیا کر رہے ہو۔۔۔”
عطیہ نے اسکو بازو سے پکڑ کر پیچھے کرنا چاہا۔
“جو میں نے تمہیں کہا ہے تم وہ سنو اور اپنے اس دماغ میں فکس کرلو ورنہ تمہارا بھیجا اڑانے میں مجھے ذرا دیر نہیں لگے گی۔۔!”
ارمغان نے دوسرے ہاتھ کی دو انگلیاں اسکے ماتھے پر رکھ کر پیچھے کو تھوڑا زور دیتے جھٹکے سے چھوڑا اور قہر برساتی نظر اس پر ڈالتا جانے ہی لگا تھا جب رائد نے اسکے منہ پر در پہ در تین مکے برسائے۔
ارمغان تو اس افادے کے لیے تیار ہی نہ تھا لڑکھڑا کر گرتے گرتے بچا جبکہ عطیہ کی چیخ نکل گئی۔
اپنے منہ پر پڑنے والے مکوں پر پہلے تو وہ سکتے میں آیا مگر جلد ہی اس سکتے سے نکلتے اسنے رائد پر گھونسے برسائے۔ عطیہ کو تو بوکھلاہٹ میں کچھ سمجھ ہی نہ آیا وہ کیا کرے۔۔سب سے قریب یَشل کا ہی کمرہ تھا وہ وہیں چلی گئی
“یشل۔۔۔وہ دونوں لڑائی کر رہے ہیں۔۔”
اسنے گھبراتے ہوئے یشل کو مخاطب کیا جو ابھی ابھی کپڑے بدل کر بیٹھی تھی
“کون دونوں۔۔؟”
اسنے الجھ کر سوال کیا
“رائد اور ارمغان۔۔۔۔”
وہ عطیہ کی بات سن کر جھٹکا کھاتی بیڈ سے اٹھی
“عا۔۔۔عادل انکل کہاں ہیں۔۔؟”
بیڈ پر پڑا دوپٹہ اٹھا کر کندھے پر رکھا اور پیروں میں چپل اڑاسی
“عادل بھائی گھر پر نہیں ہیں۔۔۔”
“ماموں کو بلائیں۔۔۔۔”
وہ عطیہ کے ہمراہ کمرے سے نکلی تو وہ دونوں فاصلے پر جنگلیوں کی طرح لڑتے ہوئے نظر آئے۔ انہیں ایک دوسرے کا گریبان پکڑے گتھم گتھا کرتا دیکھ کر یشل کا تو دماغ ہی سن ہوگیا۔
“یہ کیا ہو رہا ہے۔۔۔۔؟”
اسکی صدمے میں ڈوبی آواز پر ارمغان کا رائد کو گھونسا مارتا ہاتھ تھما اور اسنے پلٹ کر یشل کو دیکھا وہیں رائد کے بھی ہاتھ رکے۔ جلد ہی وہ دونوں ایک دوسرے کا گریبان چھوڑتے سیدھے ہوئے۔
“تم یہاں کیوں آئی ہو۔۔۔؟”
“کیا مطلب یہاں کیوں آئی ہو؟ جنگلیوں کی طرح لڑ رہے ہو تم دونوں اور پوچھ مجھ سے رہے ہو۔۔۔دماغ خراب ہوگیا ہے؟ مسئلہ کیا ہے آخر؟”
ان دونوں کے سرخ ہوتے چہرے اور ٹیڑھے ہوتے گریبان دیکھ کر اسکا دماغ ہی گھوم گیا۔ اسی اثناء میں عدنان صاحب بھی وہاں آگئے
“کیا ہوا ہے۔۔۔؟ دماغ سے پیدل ہوگئے ہو ارمغان؟”
انہوں نے برہمی سے ارمغان کو دیکھا
“مجھے مت بولیں ابو۔۔۔ پوچھیں اس سے یہ کیا بکواس کر رہا تھا یشل کے بارے میں! مَیں یہ سب ہرگز برداشت نہیں کروں گا!”
یَشل کی زبان کنگ ہوئی تھی۔ کتنے عرصے بعد اسنے اسکے منہ سے اپنا نام سنا تھا،،، وہ ہمیشہ کی طرح اگر لڑا تھا تو اسکے لیے لڑا تھا۔۔ تیز دھڑکن کے ساتھ اسے رگوں میں خون منجمد ہوتا محسوس ہوا۔
” کوئی بکواس نہیں کی میں نے اس کے بارے میں وہ بیوی ہے میری اور تم ہوتے کون ہو یَشل کے لیے مجھ پر ہاتھ اٹھانے والے۔۔”
ہونے والے اس ہنگامے پر ملازموں کے ساتھ ساتھ گھر کے باقی افراد بھی ہال میں اکھٹے ہوگئے۔۔ نشہ، سکینہ کی وہیل چیئر گھسیٹتے اسے باہر لائی
“میں کون ہوتا ہوں یہ بات تم بھی جانتے ہو اور یہاں کھڑا ہرشخص بھی واقف ہے تو مجھے مجبور مت کرو کہ میں۔۔۔”
“ارمغان۔۔۔۔”
وہ تقریباً دھاڑتی ہوئی اسکی بات کاٹ گئی۔ ہال میں سناٹا چھا گیا اور سب کی نظر اسکے غصے سے سرخ ہوتے چہرے پر ٹک گئی
“خاموش ہو جاؤ۔۔۔”
اسے گلے میں خراشیں پڑتی محسوس ہوئی تھی۔ آواز اتنی تیز تھی کہ اسکا اپنا جسم بھی کانپ گیا۔
“آپ کا کوئی حق نہیں پہنچتا کہ آپ میرے لیے گھر کا ماحول خراب کریں اور میرے شوہر سے لڑیں۔۔۔”
اسکے الفاظ پر ارمغان کو لگا تھا وہ سانس نہیں لے سکے گا۔ کچھ بےیقینی سے اسنے یَشل کو دیکھا جو آنکھوں میں غصیلے تاثر لئیے اسی پر نظریں گاڑے ہوئے تھی۔
“وہ میرے بارے میں کیا کہہ رہا تھا اور کیا نہیں۔۔۔اس سے آپ کو کوئی فرق نہیں پڑنا چاہیے!”
وہ مزید بولی تو ارمغان کو لگا گڑھوں پانی اس پر آگرا ہو۔ وہ الفاظ نہیں تمانچے تھے جو یَشل نے اسکے منہ پر مارے تھے۔
رائد کے ساتھ ساتھ باقی سب گھر والوں کی آنکھوں میں بھی حیرت نمایا ہوئی جبکہ عزہ نے غصے سے مٹھی بھینچی۔ اپنا کالر ٹھیک کرتا رائد آگے بڑھا اور یَشل کا ہاتھ پکڑے اسکے کمرے کی جانب بڑھا۔ کٹی ہوئی شاخ کی طرح وہ اس کے ساتھ کھنچی چلی گئی۔
کمرے کا دروازہ بند کرتے ہی نجانے اسے کیا ہوا وہ ایک سیکنڈ کی بھی دیر کئیے بغیر اسے سینے میں بھینچ گیا تھا۔ اس لڑکی نے پچھلے پانچ ہفتوں میں پہلی بار اسکی بیوی ہونے کا ثبوت دیا تھا۔ سینے سے لگی اس لڑکی کو محسوس کرتا وہ اندر تک سرشار ہوا تھا۔
رائد کی گرفت اتنی سخت تھی کہ نہ وہ اس سے دور ہو سکتی تھی نہ اسنے کوشش کی تھی۔ کتنی ہی دیر وہ سن دماغ اور سن وجود کے ساتھ کھڑی رہی۔ چند لمحوں بعد رائد نے اسے خود سے دور کیا تو چہرا اٹھا کر نم آنکھوں سے وہ اسے دیکھنے لگی۔ رائد نے اسکا چہرا ہاتھوں کے پیالے میں بھرا اور ماتھے پر جھکتے محبت کی مہر ضبط کی۔ یَشل آنکھ میں اٹکا آنسو موتی کی طرح رخسار پر پھسل گیا۔
“دفع ہو جاؤ اب تم یا مزید بےعزت ہونا ہے ابھی؟”
عدنان صاحب کی برہم آواز پر اسنے اس بند دروازے سے نظر ہٹائی۔ شعلے برساتی نظر ان پر ڈالتا وہ باہر کی جانب مڑا تو عِزہ نے اس کے پیچھے جانے کو قدم اٹھایا۔
“تم کدھر جارہی ہو۔۔۔؟”
نِشہ کی آواز پر وہ رکی تبھی ہادی اور افہام بھی ارمغان کے پیچھے باہر نکلے۔ ناچار اسے رکنا پڑا۔ ارمغان کی پشت دیکھتی وہ ہونٹ چبانے لگی۔
“دیکھ رہی ہو اسکی ڈٹھائی اور بےشرمی؟ بےعزت کروا کہ رکھ دیا ہے۔۔۔”
عطیہ کو دیکھتے وہ کمرے کی جانب بڑھ گئے۔ پیچھے ہال میں سناٹا چھا گیا تھا۔
☆ ★ ✮ ★ ☆
رات کا وقت تھا جب سارا دن وہ ان دونوں کے ساتھ نجانے کہاں گزار کر گھر آیا تھا۔
“میں یہ ولیمہ اٹینڈ نہیں کر سکتا۔۔۔”
اسنے سنجیدگی سے کہا تو عطیہ نے حیرت جبکہ عدنان نے حیرت اور غصے کے ملے جلے تاثرات سے اسے دیکھا۔
“تمہارا دماغ تو نہیں خراب ہوگیا؟”
“دماغ میرا نہیں آپ لوگوں کا خراب ہوا ہے! کیوں مجھے جیتے جی مار دینا چاہتے ہیں؟ “
جہاں اسکی آواز اونچی ہوئی وہیں اسکے پہلے جملے پر عدنان صاحب کا غصہ عود کر آیا۔
“ارمغان۔۔!! تمہارے اندر تمیز رہی ہے کہ نہیں؟ صبح سے تمہاری بدتمیزیاں برداشت کر رہا ہوں مجھے مجبور مت کرو ہاتھ اٹھانے پر!”
انہوں نے بامشکل آواز دھیمی رکھتے غصے سے کہا
“نہیں میرے اندر کوئی تمیز نہیں رہی اور میں آپ کو آخری بار بتا رہا ہوں مجھے یہاں سے جانے دیں ورنہ یہ خیال اپنے ذہن سے نکال دیں کہ یہ ولیمہ خیر سے ہوگا۔۔۔میں بھرے مجمعے میں وہ قیامت کھڑی کردوں گا کہ آپ سب یاد رکھیں گے!”
عدنان صاحب کی کمزوری یہ تھی کہ وہ اس وقت اپنی بہن کے گھر تھے۔ وہ نہ تو ارمغان سے بحث کر سکتے تھے نہ اس پر ہاتھ اٹھا سکتے تھے اور اسی کمزوری کا فائدہ ارمغان نے اٹھایا تھا۔
“عدنان جانے دیں نہ۔۔یہاں رہ کر وہ کیا کرے گا؟ الٹا یشل کے لیے بھی مشکلات پیدا ہونگی بلکہ ہورہی ہیں۔۔”
عدنان صاحب کچھ بولنے ہی لگے تھے جب عطیہ نے ہمیشہ کی طرح ارمغان کی سائڈ لی
“گھر جاکر کیا کرے گا۔۔؟”
“آئیس کا نشہ کروں گا۔۔۔”
عدنان صاحب کے سوال پر وہ ناگواریت سے جواب دیتا کمرے سے نکل گیا۔ عدنان صاحب اسکے جواب پر زچ ہوتے گالیاں بکنے لگے
“عدنان کیا ہوگیا ہے آپ کو۔۔۔”
عطیہ نے حیرت سے شوہر کو دیکھا جو ہر وقت کوفت کا شکار رہنے لگے تھے
“تم کیوں نہیں سمجھ رہی کہ میری پریشانیوں میں اضافہ کر رہا ہے تمہارا لاڈلہ ثپوت۔۔ہاں میں مانتا ہوں کہ سکینہ کی خواہش کو ترجیح دے کر یشل کا نکاح کروانا ایک بہت غلط فیصلہ تھا جس سے دونوں بچوں کی زندگی خراب ہوئی ہے لیکن اب کچھ ہو سکتا ہے؟ نہیں ہوسکتا نہ بھئی پھر کیا چاہتا ہے یہ شخص؟ ساری زندگی اسے اپنا روگ بنا کر رہے گا؟ کیا زندگی میں ویسے ٹینشنز کم تھی کہ یہ بھی چلتے پھرتے مزید پریشان کر رہا؟”
عدنان صاحب کے ایک ہی جست میں بولنے پر عطیہ خاموش رہی تھی۔۔کم از کم اسے عدنان کے اضطراب کی وجہ تو معلوم ہو ہی گئی تھی۔
“بچہ ہے وہ۔۔۔”
“بچہ کہہ رہی ہو تم اس جاہل کو؟ بےشرم انسان جینا حرام کردیا ہے! گھوڑے جتنا قد نکل آیا ہے اور عقل ٹخنوں میں ہے۔۔۔”
“اچھا غصہ نہیں کریں۔۔۔”
عطیہ نے شوہر کے کندھے پر ہاتھ رکھا تو وہ سر جھٹک کر رہ گئے۔
☆ ★ ✮ ★ ☆
“ارے بھئی لڑائی ہوئی کیوں تھی۔۔۔؟”
اسے روتا دیکھ کر تیسری مرتبہ آبی نے سوال کیا۔
“مم۔۔۔مجھے نہیں پتا۔۔۔”
ہچکیاں لیتے اسنے جواب دیا تو آبی نے تاسف سے سر ہلایا۔
“بس کرو یَشل۔۔۔اگر اتنا پچھتاوا ہورہا ہے تو جاکر معافی مانگ لو اسکی واپسی میں ابھی بھی وقت ہے۔۔۔”
“وہ واپس جارہا ہے۔۔۔؟”
آبی کی بات سنتے اسکے آنسو تھمے تھے
“ہاں۔۔عطیہ اور عدنان سے کافی بحث کی اسنے اور تمہارا کیا خیال تھا کہ وہ اب بھی یہاں رُکتا؟ کس منہ سے؟”
آبی ہی بات پر وہ دل گرفتہ سی ہوتی ہونٹ کچلنے لگی۔
“مم۔۔۔میں نہیں بولنا چاہتی تھی وہ سب۔۔۔مگر وہ جو بولنے لگا تھا تو بس۔۔۔”
اسکے دل میں نئے سرے سے ندامت نے سر اٹھایا تھا۔
“اچھا خاموش ہو جاؤ۔۔۔جو ہوگیا سو ہوگیا اور یاد رکھو۔۔۔ آنے والے وقت میں تمہیں یہ سب کرنا ہے! تم رائد کی بیوی ہو تمہیں یہ بات زہن نشین کرنی ہوگی کیونکہ اب یہی تمہاری پہچان ہے۔”
وہ آبی کو دیکھتی رہ گئی تھی۔ پچھلے کچھ دنوں سے سارا دن اس کمرے میں بیٹھ کر وہ خود کو یہی سمجھا رہی تھی کہ جس حقیقت کو اسنے قبول کیا ہے اس حقیقت میں اسے جینا بھی ہے۔
“میں کوشش کر رہی ہوں۔۔۔”
وہ آہستگی سے بولی
“ابھی تک کوشش کر رہی ہو؟ چلو کر رہی ہو مگر مزید کب تک؟ کیا ایک ماہ کافی نہیں تھا؟”
وہ خاموش رہی تھی۔ انہیں کیا بتاتی کہ جو ایک ماہ گزرا ہے اس میں اسنے کوشش تو کی ہی نہیں۔ ضرورت پڑی ہی نہیں کیونکہ وہ تو ایک ماہ سے الیوژن کے ساتھ رہ رہی تھی، وہ اس ان دیکھے وجود کے ساتھ رہتی آئی تھی جو اس کا نہ ہوا تھا۔
“ایک مہینہ کم تھا۔۔۔”
“تمہیں ایک سال بھی کم ہی لگے گا اگر تم کوشش نہیں کروگی تو۔ ہر چیز ممکن ہے اگر دل آمادہ ہو جائے تو۔۔۔”
“دل ہی تو آمادہ نہیں ہو رہا آبی۔۔۔”
اسنے آبی کی جانب دیکھتے ہوئے کہا۔ لہجہ بےبسی سے بھیگا اور مدھم تھا۔
“آمادہ کرنا چاہو گی تو کیوں نہیں ہوگا؟”
“میرے بس میں ہوتا تو کرلیتی۔۔مگر دل تو میرا رہا بھی نہیں ہے”
لہجے میں صدیوں کی تھکن تھی۔
“سب ٹھیک ہو جائے گا۔۔”
آبی نے جیسے اسے حوصلہ دینا چاہا
“جانتی ہوں۔۔”
وہ جانتی تھی کچھ ٹھیک نہیں ہوگا۔۔۔باہر سے آنے والی آوازوں نے اسے متوجہ کیا۔ وہ بھاری آواز پہچاننے میں اسے دیر نہ لگی،،، بیڈ سے اٹھتی ایک ہی جست میں کھڑکی کے پاس آئی ہلکا سا پردہ ہٹایا تو توقعہ کے عین مطابق وہ سفری بیگ تھامے جانے تو تیار کھڑا تھا۔
“ارمغان مت جا۔۔۔”
افہام نے ایک اخری کوشش کی
“تیرا دماغ خراب ہے؟ تجھے لگتا ہے میں مزید یہاں رک سکتا ہوں؟”
“بھائی آپ کا یوں جانا بھی تو ٹھیک نہیں لگتا عادل انکل اور وہ جو انکل آنٹی ہیں وہ بھی پوچھ رہے تھے کہ واپس کیوں جارہا ہے ارمغان۔۔۔”
ہادی یقیناً ضعیمہ اور بابر کی بات کر رہا تھا۔
“ماما کہہ دیں گی ان سے،، آفس کے سلسلے میں جارہا ہوں۔۔۔”
وہ عطیہ کو بہانہ بتا کر اس کی مشکل آسان کر آیا تھا۔
“اور یشل۔۔۔؟”
افہام نے بےاختیار سوال کیا تو ارمغان نے کچھ حیرت سے اسے دیکھا
“کیا یشل؟ دیکھا نہیں تو نے آج کیا کِیا اسنے؟ تجھے پہلی والی یشل لگی تھی وہ ؟ وہ میری یَشل تھی ہی نہیں،،کوئی اور تھی۔۔”
یَشل کو اپنے جسم کے بال کھڑے ہوتے محسوس ہوئے تھے، ایسے جیسے جان باقی نہ رہی ہو۔۔۔پردے پر اسکی گرفت مضبوط ہوئی تھی۔
“مجھے ایسے محسوس ہوا جیسے اسنے میرے وجود کے پرخچے اڑا دئیے ہوں۔۔”
یشل نے دونوں ہونٹ دانتوں تلے دبائے،،، پورا وجود سنسنا گیا۔ وہ جانتی تھی آج سب کے سامنے ارمغان قریشی کے زخموں کو کس طرح کریدا تھا اس نے۔
“اس سب کے بعد بھی میں یہاں کیسے رک جاؤں؟اپنی محبت کو کسی اور کا ہوتے ہوئے کیسے دیکھ لوں؟”
وہ مزید بولا تو یَشل کی سانس رکی تھی۔ سن ہوتے وجود میں کرنٹ دوڑ گیا۔۔ سختی سے پردہ پکڑے ہاتھوں میں لرزش ہوتی چلی گئی اور دھڑکن اس قدر بےترتیب کہ اسکے رک جانے کا یقین ہوا تھا۔ آبی نے پاس آتے اسکی کندھے پر ہاتھ رکھا۔
وہ دونوں اسکی بات پر خاموش رہے،،، اسنے جانے کو قدم بڑھائے۔
“میں ساتھ چلتا ہوں چھوڑنے۔۔۔”
افہام اسکے پیچھے ہو لیا
“نہیں رہنے دے اور ہاں۔۔۔اسے بتا دینا۔۔۔”
پلٹ کر بولتے ہوئے اسنے کھڑکی کی جانب دیکھا جہاں پردے میں چھپا اسکا چہرا سیاہ آسمان پر بادلوں میں چھپے چاند جیسا منظر پیش کر رہا تھا۔
“ارمغان قریشی یَشل ریحان کے بغیر خاک ہے۔۔۔”
وہ پلٹ گیا تھا۔ یَشل کی ٹانگوں سے جان نکلتی اسے زمین بوس کرگئی
“یَشل۔۔۔۔”
آبی بےاختیار ہی اسے پکارتے ہوئے جھکی تھی،،،انہوں نے اسے اٹھانا چاہا تو وہ بلک اٹھی۔۔۔جو ہمت اسنے اتنے دنوں میں جمع کی تھی وہ ساری اسکے ایک جملے پر ہوا میں زائل ہوگئی تھی،،،آبی اسکے پاس بیٹھتی اسے سہلانے لگی تو وہ کسی ننھے بچے کی طرح انکی آغوش میں چھپنے کی کوشش کرنے لگی۔
کافی دیر رونے کا شغل فرمانے کے بعد دل ہلکا ہوا تو اسنے آبی کی جانب دیکھا جن کا جھریوں زدہ چہرا بھگیا ہوا تھا۔۔۔
“میں ہر بار کمزور کیوں پڑ جاتی ہوں۔۔؟”
رونے کے باعث اسکی آواز بھاری ہوگئی تھی
“محبت انسان کو ریت کردیتی ہے۔۔۔”
وہ خاموشی سے انہیں دیکھتی رہی۔۔
“اٹھو اب رونا بند کرو۔۔نفل پڑھو میرے ساتھ”
آبی زمین سے اٹھنے لگی تو وہ بھی اٹھ کھڑی ہوئی۔
نفل ادا کرتے اسنے دعا کے لیے ہاتھ اٹھائے تو کچھ دیر خالی نظروں سے ہاتھوں کی ان لکیروں کو دیکھتی رہی جن میں اسے ارمغان کا نام نظر آتا تھا،،، وہ دعا کے لیے اٹھائے ہاتھ نیچے کرگئی۔
“بس ایک سوال۔۔۔اسے میرا نصیب نہیں بنا سکتے تھے تو میرے دل میں اسکی محبت کیوں ڈالی؟”
اسکی درد بھری بڑبڑاہٹ آبی نے بخوبی سنی تھی۔
“ہمارے دلوں سے ایک دوسری کی محبت ختم کردے،، اس کی اذیت ختم کردے میرے پروردگار تو اسکے حق میں بہتر کردے۔۔میں اپنے لیے کچھ نہ مانگوں گی تو اس شخص کے زخموں پر مرحم رکھ دے اسکی تکلیف ختم کردے۔۔”
خارہ پانی کے قطرے آنکھوں سے نکلنے لگے تو وہ سر سجدے میں جھکا گئی۔
☆ ★ ✮ ★ ☆
سوتے جاگتے ساری رات کانٹوں پر گزری تھی۔ برائے نام ناشتہ کرنے کے بعد خیالوں میں ایسی گم رہی کہ بارہ کب بجے اسے احساس بھی نہ ہوا۔ نشہ کو افراتفری میں زیورات اور دوسرا سامان اٹھاتے دیکھ کر اسے یاد آیا کہ اپنے روگ کو سلگتی ہوئی بھٹی میں جھونک کر اسے رائد کے لیے سجنے جانا تھا۔ بوجھل قدموں سے چلتی وہ نشہ کے ساتھ گاڑی میں بیٹھی تو ڈرائیور نے پارلر کا رخ کیا۔
“السلام و علیکم۔۔۔”
آخر کار چوتھی مرتبہ فون بجنے پر اس نے بیتاب بیٹھی عِزہ کی کال اٹینڈ کر ہی لی۔
“وعلیکم السلام۔۔۔ آپ چلے گئے؟ بتایا بھی نہیں!”
اسکے لہجے میں خفگی محسوس کرتے وہ چاہ کر بھی مسکرانے میں ناکام ٹہرا۔
“ہاں۔۔۔ تم سناؤ خیرات تھی؟ یقیناً تم نے محض یہ سوال کرنے کو تو کال نہیں کی ہوگی۔۔”
“اگر میں کہوں ہاں یہی پوچھنے کے لیے کی تھی تو؟”
مسکراہٹ دباتے اسنے سوال کیا
“اس میں پوچھنے والی کیا بات تھی؟ جانتی تو ہو چلا گیا ہوں گھر میں کسی سے کنفرم کرلیتی۔۔۔”
عزہ کی مسکراہٹ سمٹ گئی
“صاف بولیں آپ کو میرا کال کرنا برا لگا۔۔۔”
اسکی بات سنتا دوسری طرف وہ ہنسا تھا
اوہو عزہ۔۔۔یہ پانچویں کال تھی تمہاری میں تو ڈر ہی گیا۔۔۔”
“اور جو میں ڈر گئی اس کا کیا۔۔۔؟”
اسنے کچھ نروٹھے پن سے سوال کیا
“اور تم کیوں ڈر گئی۔۔۔؟”
“ظاہر ہے بندے کو پریشانی ہوتی ہے۔۔مل کر تو جاتے۔۔۔”
“کیسی باتیں کر رہی ہو۔۔میں کون سا کوہ قاف پر آیا ہوں۔ دو دن بعد تم نے بھی یہیں آنا ہے۔۔۔”
“اب آپ کو کیسے سمجھاؤں کہ یہ دو دن گزریں گے ہی نہیں۔۔۔”
اس کا خفا لہجہ محسوس کرتا بات پر غور کئیے بغیر ہنسا۔
“اب کیا چاہتی ہو۔۔۔؟ ہرجانہ کیسے ادا کیا جائے ؟”
اسکا لہجا اتنا نرم تھا کہ عزہ کی دھڑکن بےترتیب سی ہوئی تھی۔ پچھلے کئی دنوں میں پہلی بار اسنے ارمغان کے لہجے میں اتنی نرماہٹ کو محسوس کیا تھا۔
“بولو بھئی۔۔۔۔”
اسکی خاموشی پر وہ دوبارہ مخاطب کرگیا۔
“امم۔۔۔میرے واپس آنے پر کہیں چلتے ہیں۔۔۔لنچ یا ڈنر کرنے؟”
وہ بتانے کے ساتھ سوال بھی کر رہی تھی۔ ارمغان چند لمحے خاموش رہا یقیناً اسے کے ایف سی والی بات یاد آئی تھی۔ اسکی خاموشی پر عزہ کو شرمندگی نے اپنے گھیرے میں لیا۔
“اور کوئی حکم ہمارے لائک ؟”
اسکا لہجہ نارمل تھا
“پہلے جو کہا ہے وہ تو کریں۔۔۔۔”
“ارے بھئی تم واپس آؤ گی تو ہی مکمن ہے۔۔ اس کے علاؤہ ہوسکتا ہے کچھ؟”
“کیوں نہیں ہوسکتا تھا؟ اگر بتا کر جاتے تو میں بھی ساتھ چل پڑتی”
عزہ کی توقعہ کے مطابق وہ ہنسا نہیں
“تم کیوں چلتی۔۔۔؟”
“اب آپ کے بغیر مزہ تھوڑی نہ آئے گا۔۔۔۔”
اسے عزہ کی طرف سے اس بات کی امید نہیں تھی وہ چونک گیا
“گھر کے سب لوگ ہونگے مگر ہمیشہ کی طرح آپ نہیں ہونگے تو سب ادھورا ہی لگے گا نہ۔۔۔ آپ کو نہیں جانا چاہیے تھا۔۔۔”
عِزہ مزید بولی تو ارمغان بات کا مقصد سمجھتے مسکرا دیا۔
“اب کیا ہوسکتا ہے؟ چھوڑو یار مجھے آفس کی فکر زیادہ تھی ابھی ایک مہینہ ہی تو ہوا ہے آفس جوائن کئیے۔ کچھ ہی دن کی چھٹی لی تھی میں نے۔۔۔”
“ٹھیک ہے ٹھیک ہے۔۔۔ اچھا میں چلتی ہوں ماما بلا رہی ہیں خیال رکھیے گا اپنا”
صبیحہ کی آواز پر الوداعی کلمات ادا کرتے اسنے کال ڈس کینکٹ کی۔
☆ ★ ✮ ★ ☆
سر پر کھڑی بیوٹیشن اس کے میک اپ اور بالوں کو لاسٹ ٹچ دے رہی تھی،،،وہ شکر کرتے نہ تھک رہی تھی کہ میک اپ مکمل ہوا کیونکہ رہ رہ کر یَشل کے آنسو اسے بھی کوفت میں مبتلا کرنے لگے تھے۔ آخر میں نشہ کے بیوٹیشنز کے سامنے بری طرح جھڑکنے پر یَشل کچھ شرمندہ ہوئی اور بامُشکل اسنے امڈ کر آنے والے آنسو روکے تو بیوٹیشن نے اسکا میک اپ مکمل کیا۔
“باہر آپ کو لینے آئے ہیں۔۔۔”
ملنے والے اس پیغام پر وہ کچھ حیران ہوئی کیونکہ افہام نے کہا تھا وہ آنے سے پہلے اسے کال کردے گا اور ابھی کچھ وقت بھی باقی تھا۔
“میں دیکھتی ہوں۔۔”
وہ یشل کو مخاطب کرتی باہر آئی تو ڈرائیور کو کھڑا پایا
“آپ کیوں آئے ہیں ہمیں لینے۔۔۔؟”
“رائد صاحب نے بھیجا ہے مجھے آپ کو گھر لانے کے لیے۔۔۔”
“مگر یشل تو ابھی دیر لگے گی۔۔۔”
“جی ہاں رائد صاحب نے کہا تھا صرف نشہ بی بی کو لانا یَشل بی بی کو وہ خود پک کریں گے۔۔۔”
ڈرائیور کی بات سن کر نشہ نے دل ہی دل میں رائد کو ڈھیر ساری سنا ڈالی اور کشمش کا شکار ہوئی کہ اب کیا کرے۔۔۔
“آپ رکیں۔۔۔”
وہ واپس اندر آئی تو یَشل اسے دیکھنے لگی
“وہ ڈرائیور لینے آیا ہے۔۔”
“اسے کہیں تھوڑا انتظار کرے۔۔۔ابھی تو دوپٹہ بھی سیٹ نہیں ہوا”
یَشل کی جگہ اسکے بالوں میں بھر بھر کر ہئیر سپرے لگاتی بیوٹیشن نے جواب دیا۔ نِشہ ایک نظر اسے دیکھتی یَشل کی جانب جھکی
“وہ تمہیں نہیں صرف مجھے لینے آیا ہے۔ کہہ رہا ہے تمہیں رائد لینے آئے گا خود۔۔۔”
اسکی بات سنتے یشل نے بیزاریت سے اسے دیکھا۔
“اب بتاؤ کیا کروں۔۔۔”
کوئی جواب نہ ملنے پر انوشہ نے دوبارہ سوال کیا۔
“کیا ہی کرسکتی ہو؟ چلی جاؤ۔۔”
اسکی بات سن کر نِشہ نے سر ہلایا اور آیت الکرسی پڑھ کر اس پر پھونکی پھر باہر کی جانب چل دی۔
آدھا گھنٹا ہی گزرا تھا جب اسکا موبائل چنگھاڑنے لگا۔ سکرین پر رائد کا نام دیکھ کر اسنے ناچاہتے ہوئے بھی کال اٹینڈ کی
“ہیلو۔۔۔”
“باہر آجاؤ میں انتظار کر رہا ہوں۔۔۔”
یشل کا دل تو کیا اسے آدھا گھنٹا انتظار ہی کرواتی رہے مگر اسے ہال پہنچنا تھا۔
“آتی ہوں۔۔۔”
رکھائی سے کہتے اسنے فون بند کردیا۔ ایک آخری نظر خود ہر شیشے میں ڈالی تو شیشے کے سامنے سے ہٹنے کا دل ہی نہ کیا۔ وہ نظر لگ جانے کی حد تک خوبصورت لگ رہی تھی۔ اتنی ہی حسین جتنی وہ ارمغان کی دلہن بن کر لگنا چاہتی تھی یا شاید۔۔شاید اس سے زیادہ خوبصورت۔
“خدا نے آپ کو بہت زیادہ حسن دیا ہے۔۔بہت خوش نصیب ہیں آپ کے شوہر”
اس کو شیشے میں خود کو تکتا پاکر بیوٹیشن نے تعریف کردی
“ہاں۔۔میں ہی بد نصیب ہوں۔۔۔”
اسکی بڑبڑاہٹ بیوٹیشن کے کانوں تک نہ پہنچی
“آئیں ہم آپ کو باہر تک چھوڑ آتے۔۔۔”
وہ بھاری جوڑا سنبھالنے کی جدو جہد میں تھی جب دونوں بیوٹیشنز اسکی طرف آئی اور اسکی مدد کرتی پارلر سے باہر لائی۔ گاڑی سے ٹیک لگا کر سکون سے کھڑے رائد کی نظر اس کر گئی تو پلٹنا بھول ہی گئی،،،وقت جیسے تھمنے لگا تھا۔ وہ کسی ٹرانس کی کیفیت میں مبہوت سا ہلکی روشنی میں نظر آنے والی اس حسن کی دیوی کو دیکھتا چلا گیا تھا جو اپنے دھیان میں زمین پر پھیلا جوڑا سنبھالنے کی کوشش کرتی چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتی آگے آرہی تھی۔ وہ مزید آگے آئی تو رائد ہوش کی دنیا میں آتا اسکی جانب گیا۔
“شکریہ۔۔۔”
اسنے دونوں بیوٹیشنز پر ایک اچٹتی نگاہ ڈالی تو یَشل نے اسے دیکھا۔ وہ اسکے ڈریس کے کمبینیش کی ہی شیروانی زیب کئیے ہوئے گا۔ کٹے ہوئے بال نفاست سے سیٹ تھے،،چہرے پر ہلکی مسکراہٹ اور آنکھوں میں مخصوص چمک۔ وہ آج خاصہ مختلف لگا تھا،،، پہلے رائد کبھی بھی اسے وجیہہ شخصیت کا مالک نہیں لگا تھا مگر آج لگ رہا تھا۔ یشل نے سر جھٹکا۔ رائد یَشل کو سہارا دینے کی غرض سے اسکے قریب آیا تو تیز کلون کی خوشبو نتھو میں گھس گئی۔
اس نے گاڑی کا دروازہ کھولا تو خود سے بھی زیادہ وزنی جوڑے کے ساتھ وہ بامشکل پھولوں سے سجی گاڑی میں بیٹھی۔ رائد نے ڈرائیونگ سیٹ سنبھالی لیکن گاڑی سٹارٹ کرنے کے بجائے وہ اسے دیکھنے لگا۔
“تم۔۔۔ایسے کیا دیکھ رہے ہو۔۔۔”
اسکی گہری نظروں کے ارتکاز پر وہ گھبرائی تھی
“کچھ لایا تھا میں تمہارے لیے۔۔۔”
کہنا کچھ اور تھا مگر زبان سے کچھ اور ادا ہوا تھا۔
رائد نے اسکا ہاتھ تھاما تو آنکھوں میں خفگی در آئی
“تم نے مہندی کیوں نہیں لگوائی؟”
“وقت نہیں ملا یاد بھی نہیں تھا اور اینڈ ٹائم پر کوئی اچھی آرٹسٹ نہیں ملی۔۔۔”
اسنے بغیر دیکھے جواب دیا اور لہجہ نارمل رکھنے کی کوشش کی۔
“ایک فنکشن تھا اس میں بھی بہانے کروا لو۔۔ ابھی پورا ہفتہ شادی چلتی تو پتا لگتا تمہیں۔۔۔”
وہ اسکی رنگ فنگر میں موجود خوبصورت سی رنگ اتارتا ہوا بولا تو اس کی بات سنتی یَشل نے دھیان نہ دیا
“اللّٰہ نہ کرے۔۔ پورا ہفتہ شادی ہوتی تو میں کمرے سے ہی نہ نکلتی۔۔کرلیتے پھر جو مرضی۔”وہ فوراً بولی
“ہاں تو ابھی کون سا تم کمرے سے نکلی تھی پورا ہفتہ۔۔۔بلکہ یاد آیا۔۔۔ابھی کل ہی تو آپ نے ہٹلر بن کر یَشل رائد خٹک ہونے کا ثبوت دیا ہے۔۔۔”
وہ منظر یاد کرتے رائد کا دل باغ ہوا۔ لہجے میں اچانک گھل جانے والی چاشنی پر یَشل نے تفکر سے اسے دیکھا۔ رائد بات مکمل کرتا اسکا خوبصورت ہاتھ ہونٹوں سے لگا گیا تو وہ چونکی،،، رائد نے اسکا ہاتھ اپنی گرفت سے آزاد کیا تو اسکی نظر اپنی چوتھی انگلی پر گئی جس کی رنگ وہ بدل چکا تھا۔ پہلے پہنی ہوئی گولڈ کی رنگ کی جگہ خوبصورت سے ہیروں والی قیمتی رنگ جگمگا رہی تھی۔
“کیسی لگی۔۔۔؟”
رائد کے سوال پر اسنے رنگ سے نظر ہٹاتے اسے دیکھا۔
“یہ کیوں دی ہے۔۔؟”
ںےتکا سا سوال سنتے رائد نے تاسف سے اسے دیکھا
“کیونکہ آپ میری بیوی ہیں۔۔۔”
اسنے رائد سے نظر ہٹاتے اس انگوٹھی کو دیکھا۔
“اچھی نہیں لگی تمہیں۔۔؟”
اسنے اسکی خاموشی پر دوبارہ سوال کیا
“نہیں۔۔۔بہت خوبصورت ہے یہ”
اسنے دوسرے ہاتھ کی انگلی سے اسے چھوُا
“تم نے پہنی ہے اس لیے خوبصورت ہے۔۔۔”
وہ نرمی سے بولتا گاڑی سٹارٹ کرگیا تو یَشل نے چونک کر اسے دیکھا۔
“تمہاری پسند ہے خوبصورت تو ہوگی۔۔۔”
“تم نے پہنی ہے تو اسکی خوبصورتی بڑھ گئی ہے۔۔”
“تم جو پہن لو وہ قیمتی ہوجاتا ہے۔۔”
ایسے کئی جملے اسنے ایک شخص کے منہ سے سو بار سنے تھے۔ آج بہت عرصے بعد رائد کے منہ سے نکلنے والی بات اسے ماضی میں دھکیل گئی تھی۔ دل شکستہ ہوتی وہ چہرا جھکا کر نظریں اس انگوٹھی پر ٹکا گئی۔
باقی کا سارا راستہ خاموشی سے کٹا تھا۔ رائد نے گاڑی برائیڈل روم کے باہر کھڑی کی۔ گھر کی ساری عورتیں اسکے انتظار میں وہیں کھڑی تھی۔ گاڑی رکنے پر نشہ اور قرت اسکی جانب آئی اور دروازہ کھولتے اسے سہارا دے کر باہر نکلنے میں مدد کی۔
“ماشاءاللہ ماشاءاللہ۔۔۔”
اسکی خوبصورتی کی تعریف کئیے بنا کوئی نہ رہ سکا تھا۔
“یَشل بہت پیاری لگ رہی ہو۔۔۔ نظر نہ لگ جائے۔”
عزہ کے لہجے کی مٹھاس پر وہ کچھ حیران ہوئی مگر بظاہر مسکرائی۔
“اچھا اب اس کو اندر روم میں لے جاؤ مہمان تو آگئے ہیں کچھ دیر بعد تم دونوں آجانا۔”
عطیہ نے پہلے لڑکیوں کو مخاطب کیا پھر رائد کی جانب دیکھا تو اسکی ہدایت پر رائد نے سر اثبات میں ہلایا۔ لڑکیاں اسے سہارا دیتی برائڈل روم میں لے آئی جہاں بیٹھتے ہی وہ اضطراب کا شکار ہوئی۔ ہاتھوں کی لرزش ایسی کہ رکنے کا نام ہی نہ لے بلاوجہ سے اسے ٹھنڈے پسینے آنے لگے۔ رونا بھی آرہا تھا مگر رویا بھی نہ جارہا تھا۔ اسے عجیب سی کیفیت کا شکار ہوتا دیکھ کر نِشہ اور قرت نے اپنا ماتھا پیٹا اور اسکا دھیان بھٹکانے لگی مگر رائد کی بازو میں بازو ڈالے جب وہ ہال میں داخل ہوئی تو اضطراب میں اضافہ ہوا۔ اسے اندازہ نہیں تھا کہ یہ ولیمے کا فنکشن اس قدر بڑا ہوگا۔ زندگی میں پہلی بار وہ ایسا فنکشن دیکھ رہی تھی جہاں اتنے لوگ تھے کہ اسکا سر ہی چکرا گیا۔
سکینہ نے اسے کہا تھا کہ وہ اپنے کچھ دوست احباب بلائے گی اور یشل کو لگا تھا کہ خاندان کے علاؤہ چند ہی دوسرے لوگ ہونگے اور یہ ایک پرائیویٹ فنکشن ہوگا مگر اب اسے لگ رہا تھا سکینہ نے پوری انڈسٹری کو ہی دعوت دے دی تھی۔ ہر طرف پھیلے فوٹو گرافرز اور بےشمار کیمراز کی آنکھوں میں چبھتی لائیٹس نے اسکی آنکھیں چندھیا گئی۔ رائد اسکی کیفیتِ سمجھ کر سٹیج پر پہنچنے تک اس سے کچھ نہ کچھ کہتا رہا تھا اور وہ اسکا دھیان یہاں وہاں کرنے میں کارآمد ثابت ہوا مگر اتنا زیادہ بھی نہیں۔
“بہت خوب سیرت ہے میری بچی اس کا خیال رکھنا بڑا نازک اور نرم دل ہے یشل کا۔ جب تک سو بار نہ پوچھ لو تب تک بتاتی نہیں پریشانی کیا ہے۔۔ بڑے نازوں سے رکھا تھا میں نے اسے”
آبی کی باتیں سنتے رائد کی مسکراہٹ گہری ہوتی چلی گئی۔
“میں نے کبھی نہیں سوچا تھا کہ تمہارے جیسی خوبصورت و سیرت لڑکی میری زندگی میں آئے گی”
آبی کے جانے کے بعد رائد نے اسکی طرف جھکتے ہوئے تھوڑی شوخی سے کہا۔
“میں نے بھی کبھی نہیں سوچا تھا کہ خدا اس خوبصورتی کا بدلہ اس طرح سے لے گا۔۔۔”
یَشل نے صاف گوئی سے کام لیتے اسکی شوخی چٹکیوں میں اڑائی۔
“گنجا کردوں گا میں تمہیں۔۔۔”
اسکی بات پر تو رائد کا روم روم سلگ اٹھا۔
“اب اتنا بھی اندھیر نہیں مچا۔۔۔”
رائد کی کڑھ کر کہی گئی بات پر یشل نے خاصے ٹھنڈے پن کا مظاہرہ کیا۔
“تم آج کے دن مجھ سے تمیز سے بات نہیں کر سکتی،،، شوہر ہوں تمہارا۔”
رائد نے اسے احساس دلانا چاہا جس میں وہ بری طرح ناکام ہوا
“شوہر ہو اسی لیے آہستہ بات کر رہی ہوں اور شکر کرو یہاں لوگ موجود ہیں ورنہ آج کے دن تمہاری عزت میں خاصہ اضافہ کرنے کا ارادہ تھا میرا۔۔۔ پھر کافی پچھتاوا ہوتا تمہیں یہ فنکشن ارینج کرنے پر۔۔۔”
وہ بےخوفی و بے نیازی سے بولی تو رائد نے پھاڑ کھانے والی نظروں سے اسے دیکھا جو سامنے دیکھ رہی تھی۔
“ابھی تو میرا پچھتاوا ختم ہوا ہے، اب شکر کے دن ہیں وہ بھی تم اپنی بھڑاس میں نکال رہی ہو۔۔۔”
وہ اسکی کسی بھی بات پر غصہ کئیے بغیر بولا تو یَشل نے محض ہنکار بھرا۔۔۔
جاری ہے۔۔
