Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Muntazirat Hastam (Episode 02)

Muntazirat Hastam by Neha Imtiaz

‎”اسلام و علیکم۔۔۔”

‎عزہ کالج سے ابھی ابھی آئی تھی گھر میں داخل ہوئی تو اُس کی نظر لاونج میں بیٹی صبیحہ پر گئی جو پالک کاٹنے کے ساتھ ساتھ ٹی وی دیکھ رہی تھی۔ صبیحہ نے سلام کا جواب دیا تو عِزہ اُسک ماتھا چومتی اوپر جانے لگی۔۔۔

‎”عزہ۔۔۔قِرت نہیں آئی کیا ؟”

‎ عطیہ کچن کے دروازے پر نمودار ہوئی اور قِرت کو نہ دیکھ کر سوال کیا تو سیڑھیاں چڑھتی عزہ رُک گئی

‎”مُمانی انہوں نے صبح بتایا تو تھا آپ کو کہ انکی ایکسٹرا کلاس ہے ایک گھنٹا لیٹ آئیں گی وہ۔۔۔میں نے ڈرائیور آنکل سے کہہ دیا ہے وہ پِک کرلیں گے انہیں”

‎وہ سیڑھیاں چڑھ رہی تھی جب عطیہ کی بات سُن کر انہیں بتانے لگی۔۔

“اوففف میں نے اِس لڑکی کو منع بھی کیا تھا کہ ایکسٹرا کلاس لینے کی ضرورت نہیں۔ گرمی دیکھو اور اوپر سے روزہ بھی ہے”

عطیہ بیگم کمر پر ہاتھ رکھتی ہوئی بولی

“واپس آتے ہوئے میں نے بھی کہا تھا لیکن وہ کہہ رہی تھی کہ کلاس مِس نہیں کر سکتی ہیں عید کے بعد سے پیپرز ہیں۔۔۔ایک گھنٹے تک آجائیں گی”

عزہ مسکرا کر بولتی ہوئی کمرے میں آگئی،،آتے ہی تکیے کے نیچے سے اپنا موبائل فون نِکالا مگر اُسکی لو بیٹری دیکھ کر منہ بنایا

‎فون چارجنگ پر رکھتی وہ کپڑے اُٹھا کر فریش ہونے واشروم چلی گئی۔۔۔وہ شیشے کے سامنے کھڑی اپنے کمر سے اُوپر تک آتے بال سلجھا کر پونی بنا رہی تھی جب چارجنگ پر پڑا فون چیخ اُٹھا۔۔سکیرن پر اپنی دوست آمنہ کا نام دیکھ کر کال اٹینڈ کی

‎”سکون نہیں ہے تمہیں بھی چوُڑی عورت۔۔۔ابھی تو تم گھر پہنچی ہوگی سکون کا سانس لو بعد میں بھی کال کر سکتی تھی مجھے تُم۔۔۔”

‎عزہ اُسکے کچھ بھی بولنے سے پہلے ہی شروع ہوگئی

‎”فضول مت بولو تم۔۔۔میں نے کچھ بتانا تھا تمہیں”

‎وہ خوش تھی تبھی عزہ کی بات کو اگنور کیا ورنہ وہ کہاں پیچھے رہنے والوں میں سے تھی

‎” ایسا کون سا طوفان آگیا ہے؟؟”

‎عزہ ہلکا سا سر دباتی ہوئی بولی۔۔۔ اُسے صبح سے ہی سر میں درد تھا

‎”ائیی۔۔۔گیس واٹ؟؟”

‎وہ ایکسائیٹڈ ہوتے ہوئے بولی۔ عزہ نے گندا سا منہ بنایا

‎”آمنہ۔۔۔میرا سر بھی درد کر رہا اور نیند بھی آرہی اسی لیے تُم اپنی یہ فضول گوئی اور میرے وقت کا ضیاع بعد میں کرنا میں جارہی۔۔۔روزے میں دِماغ نہیں خراب کرو میرا “

‎عزہ بولتے ہوئے فون کاٹ گئی جبکہ آمنہ کی ساری ایکسائیٹمینٹ جھاگ کی طرح بیٹھ گئی۔۔آمنہ کا روزہ نہ ہوتا تو وہ ضرور اُسکو گالیوں سے نوازتی

‎آنے والے کئی دِن ایسے ہی گزر گئے۔ رمضان کے باعث عزہ نے کالج جانا چھوڑ دیا تھا کیونکہ گرمی کی شدت میں اضافہ ہوگیا تھا اور عید کے بعد ایگزیمز کی وجہ سے کالج میں پڑھائی اتنی خاص نہ ہوتی تو وہ صرف اکیڈمی میں لیکچرز اٹینڈ کرتی۔۔۔

☆ ★ ✮ ★ ☆

کبھی یہ دعویٰ کہ وہ میرا ہے فقط میرا

کبھی یہ ڈر کہ وہ مجھ سے جدا تو نہیں؟

کبھی یہ دعا کہ اُسے مِل جائے سارے جہاں کی خوشیاں

کبھی یہ خوف کہ خوش وہ میرے بنا تو نہیں؟

کبھی یہ تمنا کہ بس جاؤں اُس کی نگاہوں میں

کبھی یہ ڈر کہ اُسکی آنکھوں کو کسی نے دیکھا تو نہیں؟

کبھی یہ خواہش کہ زمانہ ہو منتظر اُس کا

کبھی یہ وہم کہ وہ کسی سے مِلا تو نہیں؟

کبھی یہ آرزو کہ جو مانگے مِل جائے اُسے

کبھی یہ وسوسے کہ اُس نے میرے سوا کچھ مانگا تو نہیں؟

شاعر؛ نامعلوم

وہ کیفے سے تھوڑا دور درخت کے نیچے بیٹھی کانوں میں ہینڈ فری لگائے کُچھ سُنتے ہوئے آسمان پر پھیلے حسین بادل دیکھ رہی تھی آج موسم بہت خوش گوار تھا ہلکی ہلکی ہوا چل رہی تھی اور پھر کلاس کینسل ہوجانا اُس کے لیے غنیمت تھا کیونکہ اُس نے اسائِمنٹ مکمل نہیں کی تھی اور اُسکا روزہ بھی تھا۔۔۔اسائِمنٹ یاد آتے ہی وہ جو سکون سے بیٹھی تھی سیدھی ہوئی۔۔۔

“فارغ ہی بیٹھی ہوں ارمغان بھی شاید لائبریری میں ہے،،کام ہی کر لیتی ہوں۔۔۔”

خود سے بڑبڑاہٹ کرتی وہ بیگ سے شیٹس اور نوٹس وغیرہ نِکالنے لگی۔۔۔

“اوفففف لیپ ٹاپ بھی نہیں ہے میرے پاس تو۔۔۔ارمغان کہاں رہ گیا ہے یارررر”

وہ چند لمحوں بعد چڑتی ہوئی ایک بار پھر خود سے بولی اور موبائل اُٹھا کر ارمغان کو کال کرنے لگی لیکِن اُس نے کال کاٹ دی تبھی یَشل نے سر اُٹھا کر سامنے دیکھا تو وہ چلتا ہوا اِسی کی طرف آرہا تھا۔۔۔ارمغان نے مُسکُراتے ہوئے ہاتھ ہِلایا تو یَشل نے آنکھیں گھُمائی

“سوری سوری سوری۔۔۔یار میں لائبریری تھا دوست کے ساتھ کال کا پتا ہی نہیں لگا”

ارمغان اُسکے ساتھ بیگ رکھتا ہوا خود اُس کے سامنے آبیٹھا تو یَشل اُسکو سراسر اِگنور کرتی اپنے کام میں لگی رہی

“روزہ رکھ کے گانے سُن رہی شرم نہیں آتی۔۔۔”

ارمغان نے کھینچ کر ہینڈ فری اُس کے کان سے نِکالے۔ یَشل نے کھا جانے والی نظروں سے اُس کو گھورا۔۔۔

” میں گانے نہیں سُن رہی اور پورا ایک گھنٹا پہلے میسج کیا تھا میں نے اور آپ اب آرہے۔۔۔میں کب سے انتظار کر رہی کال بھی کی میں نے”

سادہ لہجے میں شکوہ کیا

“اچھا نا بابا سچ میں مُجھے پتا نہیں لگا میسج یا کال کا۔۔تمہیں پتا تو ہے لائبریری کی بیسمنٹ میں تھا سِگنلز کہاں آتے ہیں وہاں۔۔”

ارمغان اُسکی بات سُن کر اُسکو مناتا ہوا بولا تو وہ احسان کرنے والے انداز میں سر ہلانے لگی۔۔۔

“اچھا کیا آپ اپنا لیپ ٹاپ دیں گے مُجھے کُچھ دیر؟میری ایک دو فائلز ہیں اُس میں کُچھ اِنفارمیشن چاہیے مُجھے۔۔۔”

یَشل کی بات سُن کر ارمغان نے بیگ کی زِپ کھولی۔۔

“میرا لیپ ٹاپ استعمال کرنے کہ لیے کسی وجہ یا پھر پرمیشن کی ضرورت نہیں ہے تمہیں کِتنی دفعہ بتانا پڑے گا؟”

ارمغان لیپ ٹاپ اُسکی طرف بڑھاتا ہوا بولا جِسے یشل نے پکڑ کر اپنی گود میں رکھا اور ارمغان کی بات پر ہونٹوں پر مسکراہٹ بکھر گئی

“اور میں نے بھی آپ سے کِتنی دفعہ کہا ہے کہ مُجھے اچھا نہیں لگتا ہے بغیر اِجازت یا بغیر پوچھے آپ کی کوئی چیز استعمال کرنا۔۔۔”

وہ لیپ ٹاپ پر پاسورڈ لگاتی ہوئی بولی تو ارمغان بس اُسے گھور کر رہ گیا۔۔۔

“میری پر چیز پر حق ہے تمہارا۔۔۔”

وہ چند لمحوں کی خاموشی کے بعد بولا تو ارمغان کی بات پر یَشل کے کی بورڈ پر چلتے ہاتھ رُکے تھے۔ وہ ہمیشہ ہی اُس کو ایسی کوئی بات کہہ دیتا تھا کہ وہ کنفیوژ ہوکر رہ جاتی تھی تھی ابھی بھی وہ اپنی نظروں سے اُس کو گھبرانے پر مجبور کر گیا تھا۔۔۔

“بلاوجہ کی خوش فہمیوں میں رہنے کی ضرورت نہیں مجھے”

عام سا لہجا بھی ارمغان کی مسکراہٹ لے اُڑا

“خوش فہمیوں میں نہ سہی لیکن میرے دِل میں تو رہ ہی سکتی ہو نہ۔۔۔”

وہ اُسکے پری پیکر چہرے کو دیکھتا ہوا سنجیدگی سے بولا۔ یَشل نے لیپ ٹاپ کی سکرین سے نظر ہٹا کر ارمغان کو دیکھا اور پھر مسکرا دی

“کیا مطلب رہ سکتی ہو؟؟ میں رہتی ہوں”

وہ ایک ایک لفظ پر زور دیتی جتانے والے انداز میں بولی۔ یَشل کے انداز پر ارمغان کا قہقہہ ہوا میں بلند ہوا

“بیشک بیشک محترمہ ایسا ہی ہے۔۔۔”

آنکھیں مسکرا رہی تھی

“اچھا چُپ کرو اب مُجھے کام کرنے دو۔۔۔”

اِس سے پہلے ارمغان دوبارا کُچھ بولتا وہ اُس کو خاموش ہونے کا بولتی ہوئی ہلکا سا رُخ دوسری طرف کر کہ بیٹھ گئی۔۔۔جانتی تھی اب وہ وقفے وقفے سے اُس کو دیکھتا رہے گا۔۔یَشل کو یقین سا تھا کہ وہ اُس کو پسند کرتا ہے وہ اُس کی پرسنیلٹی سے بھی اچھی طرح واقِف تھی۔۔اُس کی عادت نہیں تھی فلرٹ کرنے کی لیکن اُس نے ابھی تک محبت کا اعتراف بھی نہیں کیا تھا۔ شاید وہ سہی وقت کے انتظار میں تھا یا بات کوئی اور تھی یَشل نہیں جانتی تھی۔۔۔جبکہ قِرت لوگوں کہ سامنے بھی کبھی ارمغان نے اِس بات کا شک نہ ہونے دیا تھا کہ وہ یَشل کو پسند کرتا۔۔ وہ صرف یَشل کے سامنے ہی ایسی باتیں کردیتا تھا۔۔۔

“اچھا میری ہیلپ کی ضرورت تو نہیں۔۔۔”

ارمغان کی آواز پر وہ اپنے خیالات سے نِکلی اور سر جلدی سے نفی میں ہلایا اور کام کی طرف متوجہ ہوگئی۔۔۔

“گھر کب آؤ گی بھئی تُم۔۔۔”

کافی دیر کی خاموشی کے بعد ارمغان نے پھر اُسے اپنی طرف متوجہ کیا۔۔۔

“ارے گھر سے یاد آیا۔۔۔آج جب میں کلاس اٹینڈ کر رہی تھی تو خالہ جانی کی کال آرہی تھی کال بیک کرنا ہی بھول گئی میں تو۔..”

یَشل نے بولتے ہوئے اپنا موبائل اُٹھایا تو ارمغان اُس کے ہاتھ سے فون لیتا اپنے پوکِٹ میں گھُسا گیا یَشل حیرت سے اُسے دیکھنے لگی۔۔۔۔

“کیا ہے آپ کو۔۔۔۔”

یَشل نے منہ بنایا

“تمہیں کیا ہے؟ بعد میں بات کرلینا بلکہ بعد میں بھی کال پر بات کیوں کرنی؟ یونی سے واپسی پر گھر چل رہی ہو تُم بات ختم۔۔۔”

ارمغان حُکم دینے والے انداز میں بولا تو یَشل نے آنکھیں پھاڑ کہ اُسے دیکھا۔۔۔

“آپ مُجھے حُکم دے رہے ہیں۔۔۔۔؟”

یَشل اپنے اوپر انگلی رکھتے ہوئے بولی۔۔۔

“تو اِس میں کونسی نئی بات ہے۔۔۔”

ارمغان کے سکون سے کہنے پر وہ اندر تک جل کر رہ گئی

“میں نہیں آسکتی۔۔ آبی کی طبیعت نہیں ٹھیک اتنی خاص”

“تو کیا ہوا؟ واپسی میں آبی کو بھی گھر سے پِک کرلیں گے”

ارمغان نے چٹکیوں میں حل نِکالا

“اوفووو ارمغان آپ کو پتا تو ہے وہ نہیں چلیں گی چھوڑو نہ پھر کبھی آؤں گی،، ارے نِشہ۔۔۔کیسی ہو خیریت آج تُم یہاں کیسے”

یَشل نے ارمغان کو جواب دیا تو اُسکی نظر اپنی طرف آتی نِشہ پر گئی تو پوچھنے لگی۔ وہ کافی دِن بعد اُسے دیکھ رہی تھی۔۔

“ہاں یار آج یونیورسٹی میں کوئی سیمینار تھا۔ فارچیونیٹلی صرف ایک ہی کلاس ہوئی باقی کلاسز کینسل ہوگئی تو میں دوست سے مِلنے یہاں آگئی۔۔ کیفٹیریا میں ہی بیٹھی تھی جب تم دونوں نظر آگئے۔۔۔”

انوشہ بولتی ہوئی اُن دونوں کے ساتھ ہی بیٹھ گئی۔۔۔

“شُکر ہے موسم اچھا ہوا،،روزہ لگ رہا تھا یار۔۔”

نِشہ منہ بنا کر بولی اور درخت سے ٹیک لگائی

“نِشہ میری پیاری بہن پلیز مجھے تھوڑا کام کروا دو یہ ٹوپِک میں لِکھ دیا ہے۔۔یہ یہاں سے لِکھنا شروع کرو۔۔۔”

یَشل نے قریب پڑے نوٹس اُٹھا کر انوشہ کی جھولی میں رکھے تو وہ آنکھیں کھول کر یَشل کو گھورنے لگی جبکہ ارمغان کو تو آگ ہی لگ گئی۔۔۔

“تُم کتنی بدتمیز ہو۔۔جب میں نے پوچھا تھا تب تو تمہیں کسی ہیلپ کی ضرورت نہیں تھی اب کیوں بول رہی ہو اُس کو۔۔۔”

ارمغان جلے کٹے انداز میں بولا تو انوشہ ہنس دی اور یَشل نے آنکھیں سُکیڑ کر ارمغان کو دیکھا

“میری اور نِشہ کی ہینڈ رائیٹنگ ایک جیسی ہے۔۔آپ کی بہت چینج ہے نہ میم کو پتا لگ جائے گا”

“ہاں ہاں کرلو بہانے۔۔۔ خُدا واسطے کا بیر ہے تمہیں مُجھ سے ویسے بھی۔۔۔”

وہ منہ بناتا ہوا بولا اِس پہلے یَشل جوابی کاروائی کرتی انوشہ کی آواز پر دونوں خاموش ہوگئے

“اچھا بس چونچیں لڑانے مت لگ جانا۔۔۔”

نِشہ اُن دونوں کو ٹوکتے ہوئے اسائنمنٹ کرنے لگی۔۔۔

“تمہاری کِلاس نہیں ہے کیا ارمغان۔۔۔”

نِشہ نے مصروف سے انداز میں بولا تو یَشل نے بھی جھُکا سر اُٹھا کر ارمغان کی طرح دیکھا جو پہلے سے ہی اُسے دیکھ رہا تھا۔۔۔

“کلاس تو ہے میری لیکن دِل نہیں کر رہا اٹینڈ کرنے کا۔۔۔”

وہ یَشل سے نظر ہٹا کر فون یوز کرتا ہوا بولا تو یَشل نے بڑبڑاہٹ کی

“نِکمہ۔۔۔”

نِشہ اور ارمغان دونوں نے ایک ساتھ یَشل کی طرف دیکھا جو ایسے مصروف ہوگئی جیسے اُن دونوں کو جانتی بھی نہیں۔۔نِشہ نے ہنسی روکتے ہوئے ارمغان کو دیکھا جو اپنی جگہ سے اُٹھ چُکا تھا۔۔۔

“بچ جاؤ تُم مُجھ سے۔۔۔”

ارمغان ہاتھ میں پکڑی بُک اُس کے سر پر مارتا ہوا بولا اور اُس کی طرف پُشت کرتا وہاں سے چلا گیا۔۔۔

“اوففففف۔۔۔فون دیں مُجھے میرا۔۔”

یَشل پیچھے سے چِلائی تھی جِس کو وہ مکمل طور پر نظر انداز کر چکا

“فون کیوں لے گیا تمہارا”

نِشہ نے کہا تو وہ گہرا سانس لے کر رہ گئی

“پتا نہیں کیا مسئلہ ہے انہیں میرے فون سے۔۔۔خالہ کو ہی کال کرنے لگی تھی میں تو لیکن کال ہی نہیں کرنے دی”

یَشل جلدی جلدی لکھتی ہوئی بولی

“ارے ہاں۔۔صبح کہہ رہی تھی ماما کہ تمہیں کال کریں گی”

“ہمم۔۔کی تھی انہوں نے لیکن میں کلاس اٹینڈ کر رہی تھی “

وہ مصروف انداز میں بولی۔۔

نِشہ آدھا گھنٹا اُس کے پاس بیٹھی رہی پھر اپنی دوست کے بار بار بلانے پر وہ چلی گئی یَشل کی اسائمنٹ بھی مکمل ہوئی تو اپنے ڈِپارٹمنٹ میں گھس گئی کیونکہ موسم پہلے جیسا خوشگوار نہ رہا تھا۔۔۔

☆ ★ ✮ ★ ☆

“یَشل آپی کی ماما۔۔۔”

وہ سب بچے لاونج میں بیٹھے تھے جب بارہ سالہ ہادی کی آواز پر یَشل نے ٹی وی کی طرف دیکھا جہاں سکینہ نِک سِک سی تیار بیٹھی ہنس ہنس کر کوئی انٹرویو دے رہی تھی۔۔۔ یَشل کے مسکراتے ہوئے ہونٹ سُکڑ گئے

“میری ماما نہیں ہیں وہ۔۔۔”

یَشل نے بغیر اُسکی طرف دیکھے کہا اور ساتھ بیٹھی نشہ کی طرف متوجہ ہوگئی۔۔وہ دونوں ہی فون پر کوئی گیم کھیل رہی تھی تو ہادی بھی خاموش ہوگیا لیکن عزہ اپنی جگہ سے اُٹھ گئی

“یہ دیکھو۔۔تمہاری ہی ماما ہیں وہ۔۔”

کچھ دیر بعد وہ نہ جانے کہاں سے وہ فوٹو فریم لے آئی تھی جِس میں یَشل کی دوسری سالگرہ پر سکینہ اّسے گود میں بِٹھائے کیک کھِلا رہی تھی۔۔۔

“میں نے کہا نہ نہیں ہیں یہ میری ماما۔۔۔”

چودہ سالہ یَشل خود سے چار سال چھوٹی عِزہ پر چیختے ہوئے اُسکے ہاتھ میں پکڑا چھوٹا سا فریم جھٹک کر دور گِرا چکی تھی۔۔۔اُس کے چیخنے پر وہ بےاختیار ہی دو قدم پیچھے ہوئی تھی۔۔۔

“ارے یَشل۔۔کیا ہوگیا ہے یار۔۔۔”

افہام جلدی سے ان دونوں کی طرف آیا تھا اور یَشل کو نرمی سے مخاطب کیا تو وہ اُسکی طرف سنجیدگی سے دیکھنے لگی اور پھر لاونج سے نِکلتی اپنے کمرے میں چلی گئی۔۔ ارمغان اپنی کتاب چھوڑتا اُسکے پیچھے چلا گیا جبکہ افہام نے عِزہ کو پکڑ کر صوفے پر بٹھایا

“عزہ میری جان۔۔۔میری بات غور سے سنو”

افہام کے کہنے پر وہ اُسکی طرف دیکھنے لگی

“سکینہ خالہ یَشل سے کافی دور ہیں۔۔جیسے ہماری ماما ہمارے پاس ہیں ویسے یَشل کی ماما اُس کے پاس نہیں ہیں۔ تو جب وہ اپنی ماما کو دیکھتی ہے اُسے دکھ ہوتا ہے اِسی لیے وہ غصہ کرتی ہے۔۔میں نے تم سے پہلے بھی کہا تھا کہ اُس سے ایسی کوئی بات مت کیا کرو اُسے بُرا لگے گا اور وہ تمہیں ڈانٹنے گی۔۔۔”

افہام سب بچوں میں بڑا ہونے کے ساتھ ساتھ کافی سمجھدار بھی تھا وہ پہلے بھی عزہ کو سمجھا چُکا تھا مگر وہ چھوٹی اور نا سمجھ تھی

“سوری بھائی۔۔۔میں بھول گئی تھی۔۔”

وہ اُداسی سے بولی تھی۔۔یقیقناً یَشل کے غصہ کرنے پر وہ اُداس ہوگئی تھی ۔۔ افہام نے اُسے سینے سے لگا لیا اور ہادی کی طرف دیکھا

“ہادی۔۔ آئندہ کے بعد تُم بھی یَشل سے ایسی کوئی بات نہیں کرو گے۔۔”

“میں نے تو کچھ بھی نہیں کہا تھا۔۔۔”

ہادی معصومیت سے کندھے اُچکا کر بولا تو افہام نے اُسے آنکھیں دِکھائی

“یَشل۔۔تمہیں اُس پر یوں غصہ نہیں کرنا چاہیے تھا۔ تمہیں پتا تو ہے وہ ابھی چھوٹی ہے اسے اندازہ نہیں ہوگا کہ تُم اتنا غصہ کرو گی یا تمہیں برا لگے گا”

ارمغان اُس کے پیچھے کمرے میں آیا اور اُسے صوفے پر براجمان دیکھ کر سامنے پڑی ٹیبل پر بیٹھ کر اُسے دیکھتا ہوا آرام سے بولا تو یَشل نے نم آنکھوں سے اُسے دیکھا مگر کہا کچھ نہیں۔۔

“اچھا نہ پلیز رونا نہیں اب۔۔۔اتنی بُری لگتی ہو نہ تُم روتے ہوئے ۔۔۔”

ارمغان اُس کا موڈ بہال کرنے کی غرض سے بولا لیکن اُس کے بولنے کی دیر تھی یَشل کے رکے ہوئے آنسو بہہ نِکلے

“یَشل یاررر۔۔۔۔”

ارمغان یَشل کی طرف بڑھنے ہی لگا تھا جب نِشہ کی آواز پر رُک گیا اور دروازے کی طرف دیکھا وہ چلتی ہوئی یَشل کے پاس آئی اور اُسے ہگ کرلیا۔۔۔

“جاؤ ارمغان ماما کو بُلا لاؤ۔۔۔”

جب کچھ دیر تک وہ مسلسل روتی رہی تو انوشہ نے ارمغان کو مخاطب کیا جو لب بھینچ کر اُسے روتا ہوا دیکھ رہا تھا۔۔۔

” نہیں نہیں۔۔۔اُن کو نہیں بلاؤ”

یَشل بولتی ہوئی نشہ سے دور ہوئی اور آنسو صاف کرنے لگی۔۔وہ دونوں ہی ہلکا سا مسکرا دیے

وہ بیڈ پر لیٹی ہوئی دیوار میں نسب ٹی وی کی بلینک سکرین کو گھورتے ہوئے کئی سال پیچھے کہیں جاپہنچی تھی جب آبی کی آواز پر ہوش میں آئی۔۔وہ دروازے پر کھڑی تھی۔۔۔

“سحری کرلو بچے۔۔دیر ہوجائے گی”

وہ بیڈ پر ڈِش رکھتے ہوئے بولی جِس میں گرم چائے کا کپ اور پراٹھا پڑا تھا

“ارے۔۔آپ کیوں بنا لائی میں اُٹھنے ہی لگی تھی “

وہ اُٹھ کر بیٹھ گئی

“تہجد پڑھنے کے بعد نیند ہی نہیں آئی تو بس سوچا آج اپنے ہاتھوں سے بنا کر کھِلاوُں تمہیں۔۔۔اور کب اُٹھنا تھا ؟ دیر ہوگئی ہے صرف بیس منٹ ہیں آزان میں “

آبی پیار سے اُسکے سر پر ہاتھ پھیرتی ہوئی بولی تو وہ مسکرا کر آگے ہوئی اور اُنکا ماتھا چوم لیا۔۔

☆ ★ ✮ ★ ☆

ارمغان اور افہام نے مغرب کی نماز ادا کی اور دوستوں سے ملنے کے بعد گھر کی طرف جارہے تھے جب ارمغان کے کہنے پر افہام نے بائیک یَشل کے گھر کی طرف موڑ دی۔۔۔گارڈ نے ان دونوں کو دیکھتے ہی دروازہ کھول دیا۔۔۔۔

“اسلام و علیکم آبی،،کیسی ہیں آپ۔۔۔”

وہ دونوں ایک ساتھ سلام کرتے ہوئے اندر داخل ہوئے۔لاونج میں بیٹھی آبی کے چہرے پر تو اُن دونوں کو دیکھتے ہی چمک آگئی

“وعلیکم السلام میرے جِگر کے ٹُکڑے،،،میں ٹھیک ہوں اور تُم دونوں کو دیکھ کر تو بلکل ٹھیک ہوگئی ہوں۔۔۔”

آبی نے اُن دونوں کا باری باری ماتھا چوما

“کہاں غائب ہوگئی ہیں ؟ گھر بھی نہیں آئی ہیں”

افہام نے سوال کیا جبکہ ارمغان کی نظریں تو اُس دُشمنِ جان کی تلاش میں تھی

“لو جی۔۔میں نے کہاں غائب ہونا۔ تُم دونوں بتاؤ اتنے دن بعد چہرا دِکھانے کی بھی کیا ضرورت تھی؟”

اُن کے لہجے میں شکوہ محسوس کرتے وہ دونوں مسکرا دیے

“میری تو یونیورسٹی چل رہی ہے اوپر سے رمضان بھی تو بس ٹائم نہیں ملتا۔۔۔”

ارمغان ٹیبل پر پڑے جگ سے گِلاس میں پانی ڈالتا ہوا بولا تو آبی کی نظریں افہام پر آگئی

“ایسے تو مت دیکھیں۔۔۔پتا تو ہے آپ کو جاب کی وجہ سے بلکل بھی ٹائم نہیں مِلتا”

“ہاں ہاں ہمیشہ یہی بہانا ہوتا ہے تمہارا۔۔۔”

آبی کی بات پر وہ اُن کے کندھے پر سر رکھ گیا

“آپ ہی بتائیں۔۔کیا کروں پھر”

“ہفتے اتوار پر تو آجایا کرو۔۔ارمغان بھی پہلے تو ہر دوسرے دِن آدھے گھنٹے کے لیے ہی سہی لیکن آجاتا تھا اور اب دس دِن بعد شِکل دِکھائی ہے اِس نے۔۔۔ ہادی کی تو شکل بھی بھول گئی ہوں اب میں بچارہ بچہ ناجانے کتنی مشکل سے ہاسٹل میں رہتا ہوگا”

آبی نے افہام سے کہا اور پھر ارمغاں کی طرف دیکھا جِس کی نظریں پھر اُس کی تلاش میں یہاں وہاں گھوم رہی تھی۔۔

“اچھا ٹھیک ہے آجایا کروں گا میں اور حکم کریں آپ۔۔”

افہام پیار سے آبی کو دیکھ کر بولا

“اور یہ کہ دوسری بچیوں کو بھی ساتھ لے آنا۔۔۔کمرے میں ہے وہ اپنے جسے ڈھونڈھ رہے ہو تُم۔۔۔”

آبی نے افہام سے کہا اور پھر ارمغان کے دِل میں آیا ہوا سوال سمجھ کر آخر میں اُسے بولیں تو وہ کھِل کر مُسکُرا دیا

“اوفف آبی۔۔۔بہت اچھی ہیں آپ”

ارمغان بی جان کے گال کھینچ کر مکھن لگاتا ہوا بولا اور اُسکے کمرے کی طرف جانے ہی لگا تھا مگر اُس سے پہلے ہی یَشل آگئی۔۔۔

“اوہووو۔۔۔خیر ہو آپ دونوں کیسے راستہ بھٹک گئے “

وہ ارمغان سے تو روز مِل ہی لیتی تھی لیکن افہام کو بہت دِن بعد دیکھ رہی تھی تبھی ارمغان سے تھوڑا فاصلے پر بیٹھتے ہوئے اُس نے طنز کیا

“روز یونیورسٹی میں تمہاری شکل دیکھتا ہوں پھر یہاں آکر بھی تمہیں ہی دیکھنا پڑے گا۔۔بس یہی سوچ کر دِل خراب ہو جاتا ہے “

ارمغان اُسکے سراپے کو نظروں میں اُتارتا ہوا بولا۔ سادہ سے پیلے رنگ کے سوٹ میں کھلے بالوں کے ساتھ وہ حسین لگ رہی تھی جبکہ اُسکی بات پر افہام اور آبی ہنس دیے

“آبی۔۔دیکھ رہی ہیں نہ اِس بدتمیز اِنسان کو”

ارمغان کی بات اور نظریں دونوں ہی اُسے آگ لگا گئی تھی اس سے پہلے آبی کچھ بولتی وہ دوبارہ بولا

“آبی نے میرے چاند سے چہرے کو نہ صرف دیکھا ہے بلکے دِل ہی دِل میں میری نظر بھی اُتاری ہے۔۔ایسا ہی ہے نہ آبی”

وہ بڑے کانفیڈنس سے بولا

“سدھر جاؤ ارمغان۔۔”

آبی نے اُسکا کان کھینچا

“چاند نہیں البتہ چاند پر لگا گرہن ضرور ہیں آپ۔۔۔”

یَشل نے ناک سے مکھی اُڑائی

“بلکل ٹھیک کہہ رہی ہو یار تُم تو۔۔۔”

افہام نے بھی اُس کی تائید کی

“بلکل بھی ٹھیک نہیں بول رہی۔ بس میری دن با دن بڑھتی ہوئی ہاٹنس سے جیلس ہورہی ہے”

وہ پر شوخ لہجے میں بولا تھا

“استغفرُللّٰہ۔۔۔لگتا ہے آج کوئی شیشہ دیکھنا بھول گیا ہے”

یَشل نے بدمزہ ہوئی تو ارمغان نے اُسے آنکھیں دیکھائی

“تمہیں کیا پتا۔ اِسکی خوبصورتی تو سارے گھر کے شیشے توڑتی ہے”

افہام نے دور کھسکتے ہوئے مزاحیہ لہجے میں کہا تو آبی اور یَشل ہنس دی جبکہ ارمغان نے کشن کھینچ کر افہام کو مارا جو بروقت اُس نے کیچ کرلیا۔

“افہام بھائی۔۔۔چائے پیئیں گے کیا آپ؟”

یَشل کے کچن کے دروازے سے سر نِکالتے ہوئے اُس سے پوچھنے لگی

“یہ بھی کوئی پوچھنے والی بات ہے؟”

افہام کہ بات سُن کر وہ سر واپس اندر کر گئی

“مجھ سے کیوں نہیں پوچھا اِس نے۔۔۔”

ارمغان منہ بنا کر بولتا ہوا کچن میں چلا گیا

“آبی۔۔فون کیوں نہیں پِک کرتی ہیں آپ؟ ماما کال کر رہی تھی آپ کو لیکن آپ نے کال ہی نہیں اُٹھائی۔۔بُلا رہی تھی اپ کو اتنے دن سے گھر نہیں آئی آپ۔۔۔”

افہام آبی کی ٹانگیں دباتا ہوا بولا۔۔

“میں نے دیکھی ہی نہیں ہے تمہاری ماں کی کال اور یہ فضول سا فون مجھ سے نہیں استعمال ہوتا بھئی۔۔اور مجھ بُوڑھی جان کو بُلا رہی؟ خود آجائے گی تو کچھ ہو جائے گا اُسے؟”

آبی کی بات پر افہام قہقہہ لگا کر ہنس دیا

“ارے میری پیاری سی آبی جان،،آپ کہاں بُوڑھی ہیں۔۔بال سفید ہونے کا مطلب یہ تھوڑی ہوتا اور آجکل تو فیشن ہے گرے بال رکھنے کا۔۔”

افہام اُنکو چھیڑتا ہوا بولا تو آبی ہنسی روک کر اُسے گھورنے لگی۔۔

“شرم نہیں آتی مجھے تنگ کرتے ہوئے۔۔”

آبی نے سر پر چپٹ رسید کی تو وہ دانت نِکال کہ مسکرا دیا۔۔

“اتنے ہی تنگ آگئے ہیں میری شکل دیکھ دیکھ کر تو یہاں کیوں آئے ہیں۔۔”

یَشل نے ارمغان کو کچن میں داخل ہوتے ہوئے دیکھا تو منہ بناتی بولی۔۔

“اوہووو۔۔بُرا مان گئی ؟”

ارمغان مسکراہٹ دبا کر وہاں موجود چئیر پر بیٹھ گیا

“جی نہیں۔۔۔”

وو چولہے کو آگ لگاتی ہوئی بولی

“اچھا۔۔مجھ سے کیوں نہیں پوچھا تم نے چائے کا؟”

“چائے پینی تھی کیا آپ کو؟”

یَشل مصروف سے انداز میں بولی

“تو اور۔۔۔تمہارے ہاتھ کی بنی چائے پینے سے کون کافِر انکار کرے گا؟”

وہ نرمی سے بولتا ہوا اُسے ساتھ ہی سلیب سے ٹیک لگا کر اُسے دیکھنے لگا۔۔۔ یَشل نے سنجیدگی سے ارمغان کو دیکھا جو آبی کے سامنے اُس کو اچھا خاصا تنگ کرنے کے بعد یہاں رومینٹک ہیرو بننے کی کوشش کر رہا تھا

“ہاں ہاں معلوم ہے بہت ہینڈسم ہوں ایسے مت دیکھو۔۔۔”

وہ اُسکے یوں اپنی طرف مسلسل دیکھنے پر بولتا ہوا کچن سے باہر چلا گیا۔ تو یَشل مسکرا کر رہ گئی

”میں نے نیند طویل کرلی،

یار تُم خواب میں مِلا کرنا،

پہلے کہنا دوست ہیں ہم

پھر محبت میں مبتلا کرنا“

شاعر؛ نامعلوم

☆ ★ ✮ ★ ☆

‎رمضان کا مہینہ تو مانو پنکھ مار کر اُڑ گیا تھا عید میں صرف کچھ دن باقی تھے۔ آبی ہمیشہ کی طرح ملتان جانے کی تیاریاں کر رہی تھی اور یَشل اُن سے شدید ناراض تھی صبح سے ہی وہ وقفے وقفے سے روتے ہوئے انہیں جانے سے منع کر رہی تھی۔۔

‎”آبی پلیز نہ آپ عید کے بعد چلی جانا ہمیشہ عید پر مجھے چھوڑ کر چلی جاتی ہیں آپ۔۔۔”

‎یَشل آبی کے ساتھ صوفے پر بیٹھ گئی اور اُن کے کندھے پر سر رکھ کر بولی

‎”ویسے آبی آپ بھی کتنییییی ظالم ہیں۔۔۔ کتنی منتیں کر رہیں ہیں صبح سے یَشل باجی اور آپ ہیں کہ سن ہی نہیں رہی اُنکی۔۔”

‎راشدہ افطار کے برتن سمیٹتے ہوئے بولی وہ صبح سے یَشل کو آبی کی منتیں کرتا دیکھ رہی تھی تو بولنے سے خود کو روک نہ سکی۔۔

‎”رشی۔۔فضول گوئی سے ذرا گُریز کیا کرو تُم جاؤ جاکر کِچن صاف کرو۔”

‎آبی کے سختی سے ٹوکنے پر راشدہ منہ بناتی کِچن چلی گئی۔۔ آبی نے یَشل کی طرف دیکھا جو مظلوم سی شکل بنائے انہیں دیکھ رہی تھی

‎”یَشل میری بچی بات کو سمجھو۔۔۔میرے بچے مجھے بُلا رہے ہیں انہیں بھی تو میری ضرورت ہے نہ سارا سال تمہارے پاس ہی تو ہوتی ہوں اب تمہارے ماموں مجھے بُلا رہے ہیں کب سے اور میں مسلسل انہیں ٹال رہی تمہیں پتا بھی ہے۔۔”

‎آبی اُسے سمجھانے لگی تو وہ آنسو پی کر رہ گئی۔۔

‎”تم پریشان نہیں ہو اور جاؤ اپنا سامان باندھو ایک گھنٹے تک عدنان کی طرف جانا ہے ہم نے ۔”

‎آبی کی بات سُن کر وہ خاموش سے اُٹھ گئی۔۔ آج رات آبی نے عدنان صاحب کی طرف گزارنی تھی اور کل انہوں نے ملتان کے لیے نِکل جانا تھا تو اُن کے واپس آنے تک یَشل نے عدنان صاحب کی طرف رہنا تھا۔۔۔

☆ ★ ✮ ★ ☆

‎”سکینہ سے بات ہوئی ہے تمہاری ؟؟”

‎عدنان صاحب نے سامنے بیٹھی یَشل سے سوال کیا۔ آبی اور یَشل کچھ دیر پہلے ہی یہاں آئی تھی۔ راشدہ اور اُسکا شوہر بھی اپنے گاؤں کی طرف روانہ ہوگئے تھے تو گھر اب تقریباً پندرہ دن لاک رہنا تھا اور یَشل نے یہیں رہنا تھا۔۔

‎عدنان صاحب کے سوال پر چند لمحے یَشل چپ ہوگئی۔۔

‎”نہیں۔۔بہت دن پہلے ہوئی تھی بس پرسو اُنکی کال آتی رہی کافی دیر میں نے پِک نہیں کی۔۔۔”

‎وہ زمین کو گھورتے ہوئے بولی۔

‎”بات تو کر لیتی۔۔ یَشل وہ تمہاری ماں ہے”

‎”صبیحہ کی آواز پر یَشل نے انکی طرف دیکھا

‎”ماں وہ نہیں ہوتی جِس نے پیدا کر کہ دوسروں سے پاس پھینک دیا ہو۔۔ میری ماں تو آپ ہیں۔۔”

‎یَشل کی سرد لہجے میں کہی گئی بات پر ہال میں خاموشی چھا گئی تھی۔۔اُسکے الفاظ ہمیشہ کی طرح سخت تھے لیکن کوئی کچھ کہہ نہ سکا اور اُسکی آخر میں عطیہ کی طرف دیکھ کر کہی گئی بات پر عطیہ مدھم سا مسکرا دی

‎”یَشل۔۔۔سکینہ کی مجبوری سے واقف ہو تُم پھر ایسے کیوں کر رہی ہو۔۔”

‎عدنان صاحب دوبارہ بولے

‎”مجبور ؟ ایک ہی گھر میں رہتے ہوئے وہ میری حفاظت نہیں کر سکتی تھی؟ ہنہہ”

‎یَشل نے ہنکار بھرا عدنان صاحب نے تصف سے یَشل کو دیکھا اتنی پتھر دِل کیسے بن گئی تھی وہ؟ اُن سب نے تو شروع سے ہی یَشل کے دِل میں سکینہ کی محبت ڈالنے کی کوشش کی تھی مگر وہ پھر بھی اُس سے دور ہوگئی اور پھر سکینہ کا ایکٹر ہونا ایڈز میں کام کرنا اُسے سخت ناگوار گزرتا تھا مذید اُسے کسی نے کچھ نہ کہا وہ جانتے تھے بحث لمبی ہوجاتی یَشل نے رونے لگ جانا اور آخر میں جیت بھی اُسی کی ہونی۔ وہ ایسے پوئنٹس سامنے رکھتی تھی ایسے سوال کرلیتی تھی کہ سامنے والا بندا خاموش ہوجاتا تھا

☆ ★ ✮ ★ ☆

“ہادی۔۔۔تُم کب آئے؟؟ مجھے تو ابھی ابھی پتا لگا ہے کہ تُم آگئے ہو”

وہ عطیہ کے منہ سے ہادی کا ذکر سُنتے ہی اُس کے کمرے کی طرف آئی تھی جو الماری میں سر دیے ہوئے تھا۔ آواز پر دروازے کی طرف دیکھا

“ہاں میڈم اپنے آستانے سے باہر آئیں تو پتا لگے نہ کے کون آیا ہے اور کون گیا۔۔۔”

ہنوز الماری میں کچھ ڈھونڈتے ہوئے اُسنے طنز کا تیر چلایا تھا جس پر عِزہ نے عادتاً آنکھیں گھمائی

“اب تُم کوئی پی ایم پاکستان کی اولاد تو نہیں جس کے آنے کی خبر جنگل میں آگ کی طرح پھیلے”

عِزہ کی بات پر اُسنے الماری سے سر نکالا اور اُسے ایسے گھورا جیسے ابھی کچا چبا جائے گا

“بی بی۔۔کام بتاؤ کِس لیے آئی ہو”

وہ دو شرٹس الماری سے نِکل کر انہیں دیکھنے لگا

“ہاں۔۔۔تُم کہیں جارہے ہو کیا؟؟”

وہ اُسے شرٹس کا جائزہ لیتے دیکھ کر بولی

“ظاہر ہے۔۔۔اتنی اچھی اچھی شرٹس پہن کر سونے سے تو رہا میں”

اُسنے دونوں شرٹس دوبارا واپس رکھ دی عِزہ ںے دانت پیسے

“تُم اچھے تریقے سے بات کرو گے تو موت نہیں آئے گی۔۔”

وہ جھنجھلا کر بولی

“اچھا جی میڈم صاحبہ۔۔بتائیں جی؟ کوئی کام تھا آپ کو آپ کا خادم حاظر ہے “

وہ احترام سے دونوں ہاتھ پیچھے باندھ کر پوری طرح اُسکی طرف متوجہ ہوا اور پوچھنے لگا۔ وہ اُسکے انداز پر بےاختیار ہی ہنس دی

“ایک منٹ۔۔۔تُم کالج نہیں گئی ؟ اور اگر نہیں گئی تو اتنی صبح کیوں اُٹھی ہو؟ کہیں جانا ہے کیا؟”

ہادی نے عزہ کی تیاری دیکھی پھر گھڑی کی طرف دیکھتے ہوئے کہا جہاں صبح کے نو بج رہے تھے

“ہمم۔۔ہاں مجھے کالج جانا تھا ڈرائیور کے ساتھ کچھ کام تھا۔۔ لیکن دونوں گاڑیاں گھر پر نہیں ایک افہام بھائی لے گئے ہیں اور ایک ماموں۔۔”

“تو یونی فارم کدھر ہے تمہارا؟؟”

وہ اٗسے کرتی اور ٹراؤزر میں دیکھ کر پوچھا

“بتایا تو ہے کہ کام ہے۔۔پڑھائی کرنے نہیں جارہی”

“تو اب تُم چاہتی ہو کہ میں تمہیں چھوڑ کر آؤں؟”

اُسکی بات سُن کر ہادی نے خود پر انگلی رکھتے ہوئے کہا

“تو ہاں نہ۔۔مجھے پریکٹیکل کاپی چیک کروانی ہے پلیز”

وہ منت کرنے والے انداز میں بولی تو ہادی کچھ سوچنے

“اچھا یہ شرٹ تھوڑی سی آئرن کردو”

وہ شرٹ اُسکی طرف اُچھال کر بولا جو اُس نے کیچ کرلی

“جو آئرن پڑی ہے وہ پہن لو نہ”

عزہ نے منہ بنایا

“بھئی تُم سے کوئی کام تو نکلوانا ہی ہے نہ۔ اب مفت میں تھوڑی لے کر جاؤں گا”

وہ بول کر اُسکا جواب سُنے بغیر واشروم گھُس گیا عزہ شرٹ لے کر کمرے سے نِکل گئی

“دو گھنٹے الماری میں گھسے رہنے کے بعد یہی گندی سی شرٹ ملی تھی۔۔”

وہ بڑبڑاتی ہوئی کام کرنے لگی

“ویسے۔۔۔تُم اِس ٹائم کدھر جارہے تھے۔۔۔پرفیوم تو ایسے لگیا ہے جیسے ڈیٹ مارنے جارہے ہو”

عزہ بائیک پر اُس کے پیچھے سوار ہوئی تو پرفیوم کی تیز خوشبو نتھوں میں گھس گئی تو وہ ڈوپٹے سے ناک ڈھکتے ہوئے بولی

“میرا ایک دوست ہے اُس سے مِلنے جانا ہے۔۔رمضان میں روزہ رکھ کر میں ڈیٹ مارنے جاؤں گا؟؟ استغفرُللّٰہ”

اُسنے بائیک سڑک پر ڈالی اور ایک ہاتھ سے کانوں کو چھُوا تو عزہ نے اُسکے سر کو چپیٹ ماری

“تمہیں پِک بھی کرنا ہے کیا؟”

کچھ دیر بعد ہادی نے دوبارا سوال کیا

“دیکھتے ہیں۔۔شاید آمنہ کے ساتھ کیب میں آجاؤں اگر اُسکو کوئی پِک کرنے نہ آیا تو۔۔ ورنہ میں تمہیں واٹسیپ پر میسج کردوں گی کال پیکج تو نہیں میرے پاس”

ہادی نے بائیک کالج کے باہر روکی تو وہ بائیک سے اُتری

“غریب عورت۔۔۔بیلنس رکھ لیا کرو اپنے پاس ہر وقت سامنے والا بندا آنلائن نہیں ہوتا”

ہادی کی بات پر اُسنے آنکھیں گھُمائی

“میں بہت غریب ہوں پیسے نہیں میرے پاس بیلنس کروانے کے”

عزہ بولتی ہوئی گیٹ سے اندر چلی گئی تو ہادی ہنستا ہوا اپنے کام سے چلا گیا۔۔۔

☆ ★ ✮ ★ ☆

” اچھا نہ یارررر آئی ایم سوری۔۔۔بس بھی کرو کیا ہو گیا ہے۔۔”

عزہ کالج گراؤنڈ میں اپنے ساتھ بیٹھی آمنہ سے بولی جو صبح سے ہی منہ بنائے ہوئے تھی کیونکہ اُس دِن بھی عزہ نے اُسکی بات نہ سنی تھی اور بعد میں بھی میسج کرنے پر رپلائی نہ دیا اور شہزادی اب بھی پورے بیس دِن بعد کالج آئی تھی۔۔۔ آمنہ اُس سے سخت ناراض تھی اور چہرا دوسری طرف موڑے بیٹھی عزہ کو اگنور کر رہی تھی۔۔

“اچھا نہ آئی ایم سو سوری۔۔مان جا نہ اِس سے زیادہ میں اور کچھ نہیں کہہ رہی اب روزے میں تمہاری منتیں تو ہرگز نہیں کروں گی میں۔۔۔”

عزہ کی بات سُن کر آمنہ نے حیرت سے اُس کی طرف دیکھا جو سوری بول کر احسانِ عظیم کر رہی تھی۔۔

“دفعہ ہی ہوجاؤ تم واحیات عورت۔۔”

آمنہ نے اُسے بازو پر تھپڑ مارا تو عزہ نے معصوم سی شکل بنائی۔۔۔

“اچھا بس نہ اب بتاؤ۔۔کیا ہوا تھا کون سی بات بتانی تھی۔۔”

عزہ اُسکے کندھے کے گرد بازو حائل کرتے ہوئے بولی تو کچھ سوچ کر آمنہ کہ چہرے پر گہری مسکراہٹ آگئی۔۔۔

“تمہیں پتا ہے۔۔یہ بیس دِن ہارون بھائی نے میرا دِماغ خراب کر کہ ہی رکھ دیا تھا کہ میں تُم سے بات کروں تُم سے بات کروں۔۔۔”

آمنہ سر پر ہاتھ مار کر بولی تو عزہ نے نہ سمجھی والے انداز میں اُسے دیکھا

“ہارون بھائی؟؟ہُو اِز ہی؟”

عزہ کو یاد نہ آیا تو سوال کیا

“ارے ہارون بھائی یار میرے بڑے بھائی۔۔وہ لاہور ہاسٹل میں رہتے تھے۔ رمضان سے پہلے واپس آگئے تھے اور اب اُنکا یونیورسٹی میں ایڈمیشن ہونا ہے”

آمنہ نے اُسے بتایا تو عزہ کو یاد آگیا۔۔ہارون آمنہ کا بھائی تھا اور سیکنڈ ائیر تک اسلام آباد میں تھا

“اچھا۔۔کیا ہے تمہارے ہارون بھائی کو؟”

عزہ کے سوال کر آمنہ کے ہونٹوں کو گہری مسکراہٹ نے چھوا۔۔۔

“جب سے ہارون بھائی آئے ہیں نہ کالج سے مجھے وہی پِک کرنے آتے ہیں اور انہوں نے کافی دفع تمہیں میرے ساتھ دیکھا۔۔پھر لاسٹ ٹائم جب ہم دونوں کالج آئے تھے اُس دِن انہوں نے مجھے کہا کہ تُم انہیں اچھی لگتی ہو۔۔”

آمنہ کی آنکھوں اور لہجے سے ہی خوشی ٹپک رہی تھی جبکہ عزہ کو تو شاک ہی لگا تھا وہ حیرت سے آنکھیں پھاڑے آمنہ کی مسکراہٹ دیکھ رہی تھی

“دیکھا۔۔لگ گیا نہ شاک؟ پہلے تو مجھے لگ رہا تھا وہ مزاق کر رہے لیکن اوففف میری توبہ جو انہوں نے میرا دماغ کھایا ہے اُس کے بعد سے کہ میں تمہاری ان سے دوستی کروا دوں لیکن میں انکو بغیر تمہاری اجزات کہ تمہارا سوشل میڈیا یا پھر نمبر نہیں۔۔۔”

“آمنہ تُم پاگل تو نہیں ہو گئی ہو؟؟؟”

آمنہ اپنی ہی دھُن میں بولتی جارہی تھی جب عزہ اُس کی بات کاٹتے ہوئے اُٹھ کھڑی ہوئی۔۔

“تمہیں ان کو صاف صاف منع کردینا چاہیے تھا کہ مجھے اِن سب فضولیات میں کوئی انٹرسٹ نہیں۔۔اوفففف میرے خدا”

عزہ کو آمنہ کی بات پر کافی غصہ آیا کہ اُسنے صاف صاف اِنکار کیوں نہیں کیا۔۔

“عزہ بیٹھو تو سہی”

آمنہ سے بازو سے پکڑ کے اُسے بٹھا دیا

“یار غصہ نہیں کرو ہارون بھائی کو بہت اچھی لگتی ہو تم ایک دو دفع تم بات کرو گی تو تمہیں برا نہیں لگے گا وہ بہت اچھے اور سوفٹ نیچر کے ہیں۔۔”

آمنہ کی بات پر عزہ نے چِڑ کر اُسے دیکھا

“جتنی مرضی سافٹ نیچر ہو ان کی مجھے کوئی دلچسپی نہیں اُن سے بات کرنے میں۔۔۔”

عزہ کی بات سُن کر آمنہ نے منہ کھولا ہی تھا جب وہ دوبارہ بولنے لگی

“بس چپ کر جاؤ آمنہ۔۔۔تمہیں پتا بھی ہے سب کچھ پھر بھی؟؟”

عزہ نے حیرت سے اُسے دیکھا جو سب جانتے ہوئے بھی اُسے کسی اور سے دوستی کا بول رہی تھی۔۔۔

“اچھا پلیز۔۔تم ناراض نہیں ہو آؤ کلاس میں چلیں تمہاری کاپی چیک کروانے”

آمنہ اُس کے کندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے بولی اور دونوں ہی کلاس میں چلی گئی باقی کا سارا ٹائم عزہ کا موڈ خاصہ خراب رہا تھا۔۔۔

☆ ★ ✮ ★ ☆

آخر کو عید کا دِن آگیا تھا۔ ساری رات جاگنے کے بعد لڑکیاں ابھی تک گدھے گھوڑے بیچ کر سو رہی تھی صبیحہ کے زبردستی اُٹھانے پر انوشہ نیند میں ڈوبی ہوئی آنکھیں کھول کر اُٹھی اور فریش ہونے چلی گئی۔۔ واپس آتے ہی اُسنے بیڈ پر بےسدھ پڑی یَشل کو آواز دی مگر وہ ویسے ہی پڑی رہی۔۔

“ایسے نہیں اُٹھے گی یہ لڑکی”

انوشہ بڑبڑاتی ہوئی اُسکے قریب آئی اور ٹیبل پر پڑے پانی کے گلاس میں سے تھوڑا سا پانی اُس کی گردن پر گرایا تو یَشل کی نیند میں خلل پیدا ہوا۔۔ انوشہ نے اپنی کاروائی جاری رکھی

“نِشہ کی بچی۔۔کیا بدتمیزی ہے یہ”

یَشل کو جب احساس ہوا تو اُس نے ہاتھ مار کر گلاس دور کیا جو گِرتے گِرتے بچا اور گندی سے شکل بنا کر اُٹھ بیٹھی۔ اپنے گیلے کپڑے دیکھ کر اُسنے غصے میں نِشہ کو دیکھا۔ ایک تو وہ اُس نے یَشل کو نیند سے اُٹھایا تھا وہ بھی پانی گِرا کر اور اب وہ خود قہقہہ لگا رہی تھی۔ یَشل نے گھڑی کی طرف دیکھا جہاں دس بج رہے تھے وہ چھلانگ مار کر بیڈ سے اُتری

“کتنی واحیات ہو تُم۔۔بچ جاؤ مجھ سے”

یَشل نے اُسے اُنگلی دِکھائی اور اپنے کپڑے لیے واشروم میں گھس گئی جبکہ وہ ہنستی ہوئی کمرے سے نِکل کر قِرت اور عزہ کے مشترکہ کمرے کی طرف آگئی جہاں قِرت تو موجود نہ تھی البتہ عزہ بیڈ پر بیٹھی آنکھیں مسل رہی تھی۔وہ شاید ابھی ہی نیند سے بیدار ہوئی تھی

ٹھیک ڈیڑھ گھنٹے بعد وہ عزہ، قِرت اور نِشہ تیاری مکمل کر چکی تھی جبکہ یَشل بی بی کے بال تھے کہ بن ہی نہیں رہے تھے نہ ہی اُسکا میک اپ مکمل ہوا تھا۔۔ کچھ دیر اُسکا انتظار کرنے کے بعد نِشہ اور قِرت اُس پر لعنت بھیجتی کمرے سے نِکل آئی جبکہ عزہ باہر کھڑکی کے پاس کھڑی تصویریں کھینچنے میں مصرف تھی تبھی اُس کو سیڑھیاں چڑھ کر اوپر آتا ارمغان نظر آیا۔۔۔

“عید مبارک۔۔۔”

عزہ نے ارمغان کو دیکھتے ہی کہا تھا۔ لائٹ براؤن کُرتا پجامہ پہنے بال نفاست سے سیٹ کیے نکھرا نکھرا وہ اُسے کافی ہینڈسم لگا تھا۔ اُسے دیکھتے ہی جیسے عزہ کی آنکھیں چمک اُٹھی

“خیر مُبارک۔۔ تمہیں بھی عیدمبارک۔۔وہ یَشل کہاں ہے”

ارمغان کے سوال پر عزہ کو لگا جیسے وہ یَشل کو دیکھنے کے لیے اوپر آیا تھا اور دیکھا جاتا تو حقیقت بھی یہی تھی

“یَشل آپی کمرے میں ہیں اپنے”

عزہ کی بات سُن کر ارمغان گہری مسکراہٹ کے ساتھ اُس کے کمرے میں آیا تھا جبکہ عزہ کے مسکراتے ہونٹ سکڑ گئے تھے۔ اُس نے ہاتھ میں پکڑا فون بےدلی سے بند کیا۔۔ وہ اُس سے اپنی تعریف سُننا چاہ رہی تھی مگر ارمغان نے تو شاید اُس پر غور بھی نہ کیا تھا جو اُس کے ساتھ میچنگ کیے ہوئے تھی۔۔

”واسطوں پر حدود رکھنی تھیں

رابطوں کو بھی کم بڑھانا تھا

آپ سے دِل لگا کر یاد آیا

آپ سے دِل نہیں لگانا تھا “

شاعر: نامعلوم

☆ ★ ✮ ★ ☆

“ماما جان۔۔بہت بھوک لگی ہے مجھے۔۔۔”

عید ملنے کے بعد قِرت کچن میں آئی جہاں عطیہ کچھ کام کر رہی تھی۔۔

“ناشتہ تو میں بلکل نہیں بنا کر دے رہی عید کے دِن بھی سکون مت کرنے دینا۔۔فریج میں کیک پڑا ہوگا عدنان لائے تھے وہی کھا لو فلحال۔۔۔”

عطیہ مصروف انداز میں بولی وہ برتنوں کا نیا سیٹ نِکال کر اُسے صاف کر رہی تھی۔ عطیہ کی بات سُن کر قِرت نے گندہ سا منہ بنایا پھر کیک کا سُن کر خوشی سے فریج کی طرف آئی اور کیک نکالا

“افہام کہاں ہے۔۔۔۔”

اُسنے دل ہی دل میں خود سے سوال کیا اور کیک کا پیس پلیٹ میں رکھا تبھی اُسے باہر سے افہام کی آواز آئی جو سب سے عید مِل رہا تھا۔ قِرت نے کچن کے دروازے سے باہر جھانکا۔ ہلکا گرے رنگ کا کرتا پہنے بالوں کو نفاست سے سیٹ کیے چہرے پر گہری مسکراہٹ سجائے وہ اُسے بہت اچھا لگا تھا لیکن عام دِنوں کی نسبت آج اُس نے گلاسز نہیں پہنے تھے

“کیا دیکھ رہی ہو۔۔باہر آکر کھا لو بلکے کیک لے آؤ عزہ لوگوں کو بھی بھوک لگی ہوگی۔۔۔”

عطیہ قِرت کو بولتی ہوئی کچن سے جانے لگی

“ماما آپ یہ لے جائیں میں یہ کھا کر آتی ہوں۔۔”

عطیہ بیگم کی بات سُن کر اُسنے کیک انہیں تھمایا تو وہ باہر چلی گئی۔ قِرت چئیر کھینچ کر کچن میں ہی بیٹھ گئی اور خاموشی سے افہام کو دیکھنے لگی جو اب لاونج میں صوفے پر بیٹھ گیا تھا۔۔۔

افہام کو خود پر نظروں کی تپش محسوس ہوئی تو اُس نے یہاں وہاں دیکھا تبھی اُسکی نظر دور کچن میں بیٹھی قِرت پر گئی۔ افہام کے دیکھنے پر قِرت گڑبڑا گئی اور جلدی سے رُخ دوسری طرف کرلیا۔۔۔

“اوففف قِرت کی بچی۔۔شرم نہیں ارہی تمہیں اُسے یوں تاڑتے ہوئے۔۔۔لیکن وہ لگ بھی تو اتنا ہینڈسم رہا ہے۔۔۔”

اُسنے خود کو ڈپٹا اور کیک کا آخری ٹکڑا منہ میں رکھا۔ چئیر سے اُٹھی پلیٹ سنک میں رکھتی وہ پیچھے مڑی لیکن کچن کے دروازے سے ٹیک لگا کر کھڑے افہام کو دیکھ کر ایک پل کے لیے ڈر گئی

“اوفووو۔۔۔ڈرا دیا اپنے مجھے”

قِرت کی بات پر اُسکی مسکراہٹ گہری ہوئی وہ خاموشی سے اُسے دیکھنے لگا۔ باٹل گرین اور سکن کلر کے کامبینشن والے سوٹ پہنے ہوئے تھی بالوں کو کرل کر کہ ایک سائیڈ پر رکھا ہوا تھا اور ڈارک میک اپ میں وہ اُسے کافی خوبصورت لگی تھی۔۔۔خوبصورت تو وہ ویسے بھی تھی لیکن آج کافی مختلف لگ رہی تھی

”مجھے بھیجا تھا دُنیا دیکھنے کو

میں ایک چہرا ہی تکتا رہ گیا“

~جون ایلیاء

“کیا ہوا۔۔ایسے کیوں کھڑے ہیں”

وہ جس انداز سے کھڑا سکون سے اُسکو دیکھ رہا تھا قِرت گڑبڑا گئی تھی

“اہمم۔۔میں نے سوچا کچن سے بیٹھ کر دیکھنے میں تمہیں مشکل ہورہی ہوگی۔۔اسی لیے یہاں آگیا”

وہ جتنے اطمینان سے بولا تھا قِرت نے اتنی ہی آنکھیں پھاڑ کر اُسے دیکھا تھا اور اگلے ہی پل نظریں چُرا گئی

“جج۔۔جی نہیں میں تو۔۔میں آپ کو نہیں آپ کے ساتھ بیٹھے ہادی کو دیکھ رہی تھی۔۔کافی ہینڈسم لگ رہا ہے میرا بھائی”

وہ اٹکتے ہوئے جلدی سے جھوٹ بولنے لگی تو افہام نے ائیبرو اچکا کر اُسے دیکھا

“چلو پھر اب مجھے دیکھ لو اگر جی بھر کے اپنے بھائی کا دیدار کرلیا ہے تم نے تو۔۔۔”

وہ مسکراہٹ دبا کر بولا تو قِرت نے کمر پر ہاتھ رکھ کہ اُسے گھورا

” فضول باتیں نہیں کریں۔۔۔کوئی دلچسپی نہیں مجھے آپ کا دیدار کرنے میں،، آنکھیں جلنے لگ جاتی ہیں میری آپ کو زیادہ دیر دیکھتی ہوں تو”

قِرت بولتی ہوئی کچن سے جانے لگی تو افہام ہنس دیا

“یعنی،،تُم دیر تک دیکھتی ہو مجھے؟؟”

وہ مصنوئی حیرت سے بولا

“ہنہہ۔۔جی نہیں کوئی روم کے شہزادے تھوڑی ہیں آپ جو آپ کو دیکھ کر اپنا وقت ضائع کروں گی”

وہ سینے پر ہاتھ باندھ کر اُسے دیکھنے لگی۔ وہ ہلکا سا مسکرایا۔ ہاں وہی مسکراہٹ، خوبصورت مسکراہٹ جو اُسکی دھڑکن میں ارتعاش برپا کر دیتی تھی چند لمحے وہ اُسے دیکھتی رہی پھر باہر کی طرف بڑھی

“عید مبارک بولنے آیا تھا میں تو۔۔۔”

افہام معصومیت سے بولا تو اُسکے پاس سے گزر کر باہر جاتی قِرت نے رُک کہ اُسے دیکھا دونوں کی نظریں ملی تھی

“خیر مبارک۔۔عیدی بھی چاہیے مجھے”

وہ جلدی سے بولتی ہوئی لاونج میں اکر ارمغان سے ملنے لگی۔ افہام کی باتیں سُن کر اُس کے دِل کی دھڑکن تیز ہوگئی تھی اور اُس کے سامنے وہ کتنی مشکل سے خود کو نارمل ظاہر کررہی تھی صرف وہی جانتی تھی۔۔

☆ ★ ✮ ★ ☆

وہ شیشے کے سامنے کھڑی خود پر پرفیو چھڑک رہی تھی جب دروازہ ناک ہوا

“اندر آجائیں۔۔۔”

یَشل نے پرفیوم بند کرکہ ٹیبل پر رکھا اور اپنے سجے سنورے روپ پر نظر ڈالتے ہوئے دروازے کے باہر موجود شخص کو اندر آنے کی اجازت دی۔ شیشے میں ارمغان کا عکس دیکھ کر یَشل بےاختیار مسکرا کر پلٹی۔۔۔

“عید مبارک جناب۔۔۔”

ارمغان اُسکے سراپے پر گہری نظر ڈالتا اُس سے تین قدم کے فاصلے پر اکھڑا ہوا۔ لیونڈر رنگ کے سوٹ میں کندھے سے نیچے آتے بالوں کو سٹریٹ کیے خوبصورت سے میک اپ میں ارمغان کو اپنے دِل میں اترتی ہوئی محسوس ہوئی۔۔

“خیر مبارک آپ کو بھی عید مبارک لیکن۔۔۔ معاف کیجیئے گا میں نے آپ کو پہچانا نہیں۔۔”

یَشل مسکراہٹ روک کر بولی تو ارمغان نے اُسے گھورا

“اچھے لگ رہے ہیں۔۔میں نے واقعی نہیں پہچانا۔۔”

یَشل دوبارا شیشے کی طرف پلٹی

“روز ہی اچھا لگتا ہوں بس کچھ لوگ غور نہیں کرتے۔۔”

وہ دو قدم کا فاصلہ مٹاتا یَشل کے ساتھ آکھڑا ہوا اور شیشے میں اپنے ساتھ اُسکا عکس دیکھنے لگا

“کتنے خوبصورت لگتے ہیں نہ ہم ساتھ کھڑے ہوکر۔۔۔”

ارمغان شیشے میں اُسکے چہرے کو تکتا ہوا بولا۔ یَشل کی خود کی یہی سوچ تھی مگر ارمغان کی بات سُن کر وہ جھنپ گئی اور مسکراہٹ روک کے اُسے دیکھنے لگی تو وہ اپنی ایک آنکھ دبا گیا۔۔۔ ارمغان نے پوکٹ سے ایک باکس نکال کر اُسکی طرف بڑھایا تو وہ پیچھے مڑی۔۔۔

“یہ کیا ہے۔۔۔”

“تمہارا عید کا تحفہ۔۔۔”

ارمغان نے بولتے ہوئے وہ باکس کھولا اور اُس میں سے ایک نازک سا نیکلس نِکالا جس میں ایک سرخ رنگ کا چھوٹا سا ہیرا جگمگا رہا تھا۔۔۔ یَشل نے بےیقینی سے ارمغان کو دیکھا۔ اُسنے تو بلکل بھی ایکسپیکٹ نہ کیا تھا کہ وہ یوں عید پر اُسے تحفہ دے دے گا وہ خوشی اور حیرت کی ملی جلی کیفیت میں ارمغان کے ہاتھ میں موجود نیکلس کو دیکھنے لگی

“کین آئے۔۔۔؟”

یَشل اسکے ہاتھ سے نیکلیس لینے لگی تو ارمغان نے سوال کیا۔وہ چند لمحے خاموش ہوگئی اور پھر اپنی پشت اُس کی طرف کی تو ارمغان نے وہ نیکلس اُسکی گردن کی زینت بنا دیا

”کوئی اتنا پیارا کیسے ہوسکتا ہے ؟

اور سارا کا سارا کیسے ہوسکتا ہے ؟“

ارمغان نے سرگوشی نما آواز میں شعر پڑھا تو یَشل کے دل نے ایک بیٹ مِس کی

“سب انتظار کر رہے ہونگے”

وہ بولتی ہوئی جلدی سے کمرے سے نِکلی اور نیچے آگئی۔ ارمغان نے اُسکی کنفیوژن میں اضافہ کیا تھا اگر وہ اُسے پسند کرتا تھا تو سیدھے الفاظ میں کیوں نہیں بول رہا تھا۔۔۔

یَشل سب سے عید ملی اور عیدی لی۔ شام کے وقت عدنان صاحب کے دور کے کزن نے آنا تھا کافی دیر کام کر کر کہ وہ تھک گئی تو کمرے میں آگئی۔ آبی سے وہ بات کر چکی تھی فون اُٹھایا تو سکینہ کی پانچ مسکالز دیکھ کر اُسکے تھکن زدہ چہرے پر اداسی چھا گئی بہت سوچنے کے بعد اُس نے کال بیک کی مگر دوسری طرف سے کال نہ اُٹھائی گئی تو اُس نے دوبارا کال کرنے کی توفیق نہ کی اور اپنی تصویریں دیکھنے لگی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *