Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Muntazirat Hastam (Episode 13)

Muntazirat Hastam by Neha Imtiaz

سکینہ کی طبیعت صبح ایک بار پھر بگڑ گئی تھی اسے کڈنی ٹرانسپلانٹ کی بہت ضرورت تھی مگر رسک بہت زیادہ تھا۔ یَشل کو جب پتا لگا تو اسکی جان پر بن آئی اور فوری طور پر اس نے ایک فیصلہ کیا۔

“یَشل دماغ تو نہیں خراب ہوگیا تمہارا؟ کل تک تم نے رونے ڈالے ہوئے تھے کہ تمہیں اس سے نکاح نہیں کرنا تمہیں اس سے نفرت ہے اور اب تم۔۔۔تم کیوں کر رہی ہو یہ سب۔۔۔؟”

وہ دونوں اس وقت ہسپتال کے صحن میں تھی یَشل بینچ پر بیٹھی تھی جبکہ نشہ اسکے سامنے کھڑی اسے مسلسل ڈانٹ رہی تھی سکینہ کی طبیعت بگڑنے کے ٹھیک ایک گھنٹے بعد اس نے نکاح کے لیے رضامندی کا اظہار کیا تھا سب ہی اپنی جگہ حیران رہ گئے تھے عطیہ نے آنکھوں میں ڈھیرو شکوے لیے دیکھا تھا مگر کہا کچھ نہیں۔ نشہ کا تو دل کر رہا تھا کہ ایک رکھ کر یَشل کے منہ پر لگا دے ۔ نشہ کے مقابلے یَشل خاموش تھی ہامی بھرنے کے بعد سے ہی،،،گہری چپ!

ابھی بھی نشہ اسے ڈانٹ رہی تھی مگر خدا جانے وہ سن بھی رہی تھی یا نہیں۔ اس کو زون آؤٹ ہوتا دیکھ کر نِشہ بینچ پر بیٹھی

“ارمغان محبت کرتا ہے تم سے۔۔۔”

وہ بےبسی سے اسکا ہاتھ پکڑ کر بولی تو یَشل نے چونک کر اسے دیکھا

“مجھ سے؟ کون؟” اسنے نشہ کی ساری باتیں آدھی ادھوری ہی سنی تھی اس بات کا اندازہ نشہ کو ہوگیا۔

“ارمغان۔۔۔یَشل اسے تو اندازہ بھی نہیں کہ تم پر کیا قیامت ٹوٹ رہی اور یہاں کیا ہورہا ہے۔ تمہیں پتا ہے نہ اگر تم اسے بتاؤ گی تو وہ سب چھوڑ کر یہاں آجائے گا دیکھنا وہ تمہیں اپنے پیچھے چھپا لے گا یَشل پلیز اس سے بات کرلو بار بار وہ تمہارا پوچھ رہا تمہیں کتنی کالز کر چکا ہے وہ۔۔۔”

وہ اسے التجا کر رہی۔ یَشل خاموشی سے اسے دیکھنے لگی۔ اسکا دل رکنے لگا تھا اسے الجھن ہورہی تھی وہ رونا چاہتی تھی مگر آنسو تھے کہ نکل ہی نہیں رہے تھے آواز غائب ہوگئی تھی۔۔۔

“وہ ٹھیک ہو جائے گا۔۔۔”

وہ بولی تو آواز بہت ہلکی تھی۔ نشہ سمجھ نہ سکی وہ خود کو بول رہی یا نشہ کو بتا رہی تھی۔

“وہ سمبھل جائے گا نشہ۔۔۔ لیکن اگر ماما کو کچھ ہوا تو ساری زندگی میں خود س نظریں نہیں ملا پاؤں گی کہ میں ان کی خواہش بھی پوری نہ کر سکی۔ میرا ضمیر مجھے زندہ نہیں رہنے دے گا نِشہ۔۔۔”

اسکا لہجا کسی بھی احساس سے عاری ویران سا تھا۔ وہ بھی تو بےبس تھی مجبور تھی تکلیف میں تھی۔۔۔ نِشہ نے گہرا سانس لیا

“یَشل۔۔۔یَشل یہ خالہ کی خواہش نہیں ہے یار۔۔۔”

وہ جھنجھلائی تو یَشل نے بےاختیار اسے دیکھا

“کیا مطلب؟” وہ الجھی

“تم سمجھو نہ۔۔یہ اس ذلیل رائد کا کیا دھرا ہے! اتنی سمپل بات تمہارے دماغ میں کیوں نہیں گھس رہی؟”

وہ زچ ہوئی تو یَشل نے آنکھیں بند کرکہ گہرا سانس لیا۔ وہ نِشہ کی باتوں سے اب تنگ آرہی تھی۔

“یقیناً رائد نے ہی خالہ سے کہا ہوگا کہ وہ تم سے نکاح کرنا چاہتا ہے۔ یَشل تم پندرہ سے زیادہ دن سے یہاں رہ رہی اس کے گھر میں۔ ساتھ رہتے ہوئے تمہارے جیسی لڑکی کو کوئی کیسے نظر انداز کرے گا؟ اور رائد تو شکل سے ہی شیطان لگتا ہے۔۔۔دیکھا نہیں ہے تم نے جب سے نکاح والی بات ہوئی ہے وہ ایسے غائب ہوا ہے جیسے گدھے کے سر سے سینگ۔ اپنی ماں کو ہسپتال میں چھوڑ کر کون جاتا ہے؟ چوبیس سے زیادہ گھنٹے ہوئے ہیں مجھے یہاں آئے اور اس سارے ٹائم میں صرف کچھ دیر پہلے ہی وہ مجھے نظر آیا ہے۔۔۔تم مانو نہ مانو ضرور کچھ گڑبڑ ہے”

نِشہ نے ہر طرح کا خدشہ ظاہر کیا اور یَشل کو کنوینس کرنے کی کوشش کی۔ وہ نجانے کون سی کڑی کہاں جوڑ رہی تھی شاید اسے خود بھی اندازہ نہیں تھا۔ نشہ اتنی بدتمیز نہیں تھی کہ رائد کو شیطان بولتی مگر جو سب کچھ ہورہا تھا رائد اسے واقعی ہی شیطان لگ رہا تھا۔

نشہ کی باتوں میں دم تو تھا مگر یَشل بچی نہیں تھی کہ ان باتوں کے بارے میں نہ سوچتی۔ ساری رات جاگ کر وہ دماغ گھِساتی رہی تھی اور اس ساری صورتحال کو ہر زاویے سے دیکھ چکی تھی یہی وجہ تھی کہ صبح سکینہ کی طبیعت خراب ہونے پر اس نے جھٹ سے فیصلہ کرلیا تھا۔

“نشہ تمہاری باتیں اپنی جگہ بلکل ٹھیک ہیں۔۔مگر ماما ہم سے زیادہ سمجھدار ہیں۔ وہ رائد کی کسی بھی فضول بکواس کو اپنی آخری خواہش تو ہرگِز نہیں بنائیں گی۔”

وہ اسے سمجھا رہی تھی جب نشہ بول اٹھی۔

“ہوسکتا ہے کہ اس نے بلیک میل کیا ہو۔۔۔”

ایک اور خدشہ

“اوف انوشہ۔۔۔اب رائد اتنا بھی برا نہیں کہ اپنی ہی ماں کو بلیک میل کرنے لگ جائے”

“تم ابھی سے اس کی سائڈ لے رہی ہو۔۔۔”

وہ خفا ہوئی

“استغفرُللہ۔۔۔” یَشل نے اسکے ہاتھ پر اپنا ہاتھ مار کر گھورا تو وہ منہ بنا گئی۔

“یَشل آج کل بلیک میلنگ بہت عام ہے یار۔ لوگ سگے ماں باپ کو بھی بلیک میل کردیتے ہیں یہ تو پھر سکینہ خالہ اور رائد ہیں۔ اسنے کچھ الٹا سیدھا بول دیا ہوگا اور سکینہ خالہ ڈر گئی ہونگی کیونکہ مرد اگر ضد پر آجائے تو وہ کچھ بھی کرسکتا ہے یَشل۔۔۔”

نِشہ اسے مزید بلیک میلنگ کے لیولز پر لیکچر دیتی مگر عدنان کی کڑک آواز پر ان دونوں کو کرنٹ لگا۔ شاید وہ کچھ دیر پہلے پی لاہور پہنچے تھے۔

“نِشہ تمہارا دماغ ٹھیک ہے؟ اندازہ بھی ہے کس قدر بےتکی اور فضول باتیں کر رہی ہو!”

عدنان نے بہت عرصے بعد اس قدر غصہ کیا تھا کہ ان کا چہرا سرخ ہورہا تھا یقیناً انہیں نشہ سے ان باتوں کی امید نہیں تھی۔ نِشہ شرمندہ ہوئی اور گردن جھکا دی۔ عدنان کے اتنی سختی سے جھڑکنے پر آنکھوں میں کچھ نمی آئی تھی۔ وہ پیچھے سے گھوم کر ان دونوں کے سامنے آئے تو نِشہ اُٹھی۔

“آئی ایم سوری ماموں لیکن میں غلط بات بھی نہیں کر رہی یہ سب وہی باتیں ہیں جنکی پاسبلیٹی ہے اور یَشل کا فیصلہ سرا سر غلط ہے۔۔”

نِشہ ابھی بھی خاموش نہیں ہوئی یَشل نے حیرت سے اسکی طرف دیکھا۔ عدنان نے ہاتھ اٹھا کر اسے مزید بولنے سے روکا۔

“یَشل کا فیصلہ ٹھیک ہے یا غلط یہ ہم سے بہتر یَشل جانتی ہے، اور مجھے ایسا لگتا ہے کہ یَشل کا فیصلہ بالکل ٹھیک ہے۔ وہ اپنی ماں کی خواہش پوری کرنا چاہتی ہے اور اس میں کوئی برائی نہیں۔۔تم اگر یَشل کی جگہ ہوتی تو تم کیا کرتی۔۔۔؟”

اب کی بار نِشہ خاموش ہوگئی چند لمحوں کے لیے اسنے خود کو یَشل کی جگہ پر تصور کیا اور اسکی بےبسی کو محسوس کرتی ہو ہونٹ چبانے لگی لیکن وہ ہمت نہیں ہار سکتی تھی اسے ارمغان اور یَشل کو اس دلدل میں نہیں ڈالنا تھا۔۔۔۔عدنان صاحب یَشل کے ساتھ بینچ پر بیٹھے تو نِشہ ان دونوں کے سامنے پنجوں کے بل بیٹھی

“ماموں پلیز ایک بار ارمغان کے بارے میں سوچ لیں۔۔۔”

اسکی آنکھوں میں التجا تھی اسنے اپنا ہاتھ عدنان صاحب کے گٹھنے پر رکھا تو عدنان صاحب نے گہرا سانس لیا اور گٹھنے پر پڑے اسکے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھا۔

“انوشہ۔۔۔ ارمغان اپنے بارے میں سوچ لے گا وہ بچہ نہیں ہے اسے معاملے کی سنگینی سمجھنی چاہیے۔

بیٹا۔۔ہر بار وہ نہیں ہوتا جیسا ہم چاہتے ہیں میں جانتا ہوں تم ان دونوں سے بہت پیار کرتی ہو مگر وہ خدا ستر ماؤں سے بھی زیادہ پیار کرنے والا ہے۔۔اس نے ضرور دونوں کے حق میں کچھ بہتر لکھا ہوگا۔۔۔”

عدنان صاحب اب نرمی سے نشہ کو سمجھا رہے تھے جس کی آنکھوں میں نمی چمکنے لگی تھی۔ سب جانتے تھے کہ نشہ ان دونوں کے معملے میں کتنی حساس ہے صرف ان دونوں کے لیے بلکہ سب کے لیے وہ ایسی ہی تھی اور ان کے لیے کچھ بھی کر سکتی ہے۔

یَشل نے گہرا سانس لیتے امڈنے والے آنسوؤں کو روکا۔ کاش وہ انہیں بتا سکتی کہ وہ فیصلہ کرنے کے بعد سے کس قدر تکلیف میں ہے۔ اسے پل پل دل کی دھڑکن رکتی ہوئی محسوس ہورہی تھی۔ اس کا دل کر رہا تھا وہ چیخے، چِلائے، کہیں بہت دور بھاگ جائے وہ آبی کے پاس چلی جائے یا خود کو کچھ کرلے بس اِن سب سے بچ جائے لیکن ایسا نہیں ہوسکتا تھا۔ اسے اپنا آپ اُس دن وہیل چیئر پر بیٹھی اس لڑکی جیسا لگا تھا۔ یَشل کی ٹانگیں مفلوج نہیں تھی مگر وہ ویسا ہی محسوس کر رہی تھی جیسے اسکے ہاتھ پاؤں کٹ گئے ہوں۔ اکثر زندگی ایسے موڑ پر کھڑا کردیتی ہے کہ نہ آگے کھائی ہوتی ہے نہ ہی پیچھے کنواں لیکن دور دور تک صرف ویرانیاں ہوتی ہیں۔ راستے تو بہت ہوتے ہیں مگر لوُپ کی طرح وہ وہیں لا کھڑا کردیتے ہیں جہاں سے آپ بھاگنا چاہتے ہیں۔ شاید یَشل ریحان کی زندگی میں بھی وہی وقت چل رہا تھا۔ اب اسے صرف معجزے کا انتظار تھا اور ہر بار معجزے نہیں ہوا کرتے۔

☆ ★ ✮ ★ ☆

عادِل سکینہ کی کڈنی ٹرانسپلانٹ سرجری کے لیے رضامند ہوگیا تھا کیونکہ یہ بہت ضروری تھا لیکن اب سب کی جان سولی پر آکر لٹک گئی تھی۔ سکینہ سرجری میں جانے سے پہلے یَشل اور رائد کا نکاح کرنا چاہتی تھی لیکن رائد کا ایک ہی گردان تھا

“ماما کا ٹرانسپلانٹ ہوجائے۔۔۔میں اس کے بعد نکاح کروں گا”

عادل نے اسے سب کے سامنے اچھا خاصہ جھڑک بھی دیا تھا اس بات پر لیکن پھر بھی وہ اپنی بات پڑ اڑا رہا۔ نشہ کا تو بس نہیں چل رہا تھا ورنہ اسکے دماغ کا ٹرانسپلانٹ کردیتی۔۔

“اگر میں سہی سلامت نہ رہوں۔۔۔تو فیصلہ مت بدلنا۔۔۔”

کچھ ہی دیر میں اسکی سرجری سٹارٹ ہونی تھی اور وہ ایسی باتیں کرکہ یَشل کو حد سے زیادہ پریشان کررہی تھی۔۔

“سکینہ کیوں بچی کو ڈرا رہی ہو۔۔ انشاءاللّٰہ تم جیسے جارہی ہو اس سے بہتر حالت میں واپس آؤ گی۔۔تمہیں یشل اور رائد کے لیے ایسا کرنا ہوگا۔۔”

عطیہ نے آخری بات کس دل سے بول تھی یہ بات صرف وہی جانتی تھی۔ یَشل اسے بہت زیادہ رو رو کر بغیر ایک لفظ بھی کہے منا چکی تھی مگر ارمغان کو ابھی تک کسی چیز کا بھی علم نہیں تھا ۔ ارمغان کیا۔۔قِرت، عزہ، ہادی اور افہام چاروں میں سے کسی کو معلوم نہیں تھا۔۔۔

“آپ کو واپس آنا ہوگا ماما۔۔میرے لیے”

وہ بھری ہوئی آنکھوں سے بس اتنا ہی کہہ سکی تھی۔

☆ ★ ✮ ★ ☆

“قرت پلیز آکر مجھے تھوڑا سا کام کروا دو تاکہ میں بھی پھر جاکر اپنی حالت ٹھیک کروں۔۔”

وہ کچن سے نکل کر لاونج میں آئی جہاں قرت مغرب کی نماز پڑھنے کے بعد قرآن پاک پڑھ رہی تھی۔ سکینہ کی سرجری مغرب سے پہلے سٹارٹ ہوگئی تھی اور اسکے بعد سے وہ پریشان تھی۔

“میں بس آتی ہوں چانچ منٹ میں۔۔۔”

قِرت نے بغیر دیکھے کہا تو عزہ واپس کچن میں چلی گئی۔

“بریانی بنا رہی ہو کیا؟ یہ اتنا اہتمام کس کے لیے کِیا جارہا؟”

ہادی ابھی ابھی گھر آیا تھا اور پانی پینے کے غرض سے سیدھا کچن میں آیا تبھی بکھرا ہوا کچن اور عزہ کو کام کرتا دیکھ کر اسے مخاطب کِیا۔ سلاد کاٹتی عزہ نے مڑ کر اسے دیکھا

“یہ تم کدھر سارا دن آوارہ گردی کرتے پھر رہے ہو؟”

وہ واقعی ہی آوارہ ہوگیا تھا۔ افہام جب تک آفس ہوتا وہ گھر پر ہی رہتا لیکن جیسے ہی افہام گھر کے اندر قدم رکھتا، ہادی گھر سے باہر قدم رکھتا اور پھر بہت دیر سے واپس آتا اور اگر جلدی بھی آجاتا تو رات کا کھانا کھانے کے بعد دوبارہ چلا جاتا۔ ارمغان بھی آج کل جاب کی تلاش میں انٹرویو دے رہا تھا اور کیونکہ ہادی کی چھٹیاں چل رہی تھی تو کوئی اسے کچھ نہ کہتا لیکن وہ عزہ تھی۔۔ہادی کو ٹوکنا تو اسکا فرض تھا۔

“ظاہر ہے بھئی۔۔نائین ٹو فائیو تمہاری نگرانی کرتا تو ہوں اُس کے بعد بھی نہ جاؤں؟”

وہ پانی پینے کے بعد عزہ سے کچھ فاصلے پر ہی صلیب پر چڑھ کر بیٹھا

“توبہ توبہ جھوٹے انسان۔۔۔تین بجے تک تو تم گدھے گھوڑے بیچ کر سوئے رہتے ہو۔۔۔”

عِزہ نے اپنا کام چھوڑ کر باقاعدہ کانوں کو ہاتھ لگایا

“گھر پر تو ہوتا ہوں نہ۔۔۔”

“بڑا احسان کرتے ہو ہم پر۔۔۔”

کچن میں داخل ہوتی قرت نے لقما دیا

“میری پیاری بہن آپ حکم کریں۔۔ ابھی احسان کردیتے”

ہادی قرت کی پشت دیکھ کر مسکراتے ہوئے بولا۔ وہ سنک میں پڑے برتن دھونے کے ارادے سے وہ تہبند باندھ رہی تھی۔

“مجھے لاہور چھوڑ کر آجاؤ۔۔۔پھپھو اور یَشل کے پاس جانا ہے مجھے”

وہ بغیر پلٹے بولی تو عِزہ نے اسکی طرف دیکھا جبکہ ہادی کچھ بول نہ سکا۔ وہ دو دِنوں سے ایسے ہی پریشان تھی اور کافی خاموش بھی ہوگئی تھی۔

“قِرت ٹینشن نہیں لو نہ۔۔۔ٹھیک ہو جائیں گی سکینہ خالہ”

عِزہ نے پچھلے دو دنوں میں بیس دفع کہی گئی بات کو ایک بار پھر دوہرایا تو قِرت خاموش رہی۔

“تم نے بتایا نہیں یہ سب کیوں بنا رہی تم؟”

کچھ دیر بعد ہادی نے ٹانگیں جھلاتے ہوئے سوال کِیا

“آمنہ آرہی ہے آج۔۔” کچھ دِن سے آمنہ بار بار اسے مِلنے کا کہہ رہی تھی تبھی آج عزہ نے رات کے کھانے پر اسے گھر بلایا تھا۔ قرت کے ہوتے ہوئے بریانی کی کوئی ٹینشن نہ تھی اسے بس سلاد کاٹنے کے بعد وہ کچھ میٹھا بنانے کا اِرادہ رکھتی تھی۔

گھر میں اتنا پریشان ماحول ہوتے ہوئے اُسے یہ سب کرنا عجیب لگ رہا تھا لیکن آمنہ بہت ٹائم کے بعد اس کے گھر آرہی تھی تو صبیحہ نے اسے خاص تائید کی تھی کہ قِرت کے ساتھ مل کر کچھ اچھا سا بنائے۔

“اوئے ہوئے۔۔۔میری جان آرہی ہے”

آمنہ کا نام سن کر ہادی ایک دم ہی خوش ہوا تو عِزہ کے ساتھ ساتھ قرت نے بھی اسے خونخوار نظروں سے گھورا۔

“ہادی اگر تم نے آمنہ سے پنگا لیا تو بھول جاؤ آج رات کھانا مِلے گا تمہیں”

قِرت نے سخت لہجے میں ہادی سے کہا۔ یقیناً عِزہ اسے ہادی کے کارنامے بتا چکی تھی۔

“میں کھانا کھانے کے بعد پنگا لے لوں گا۔۔۔”

ہادی نے کندھے اُچکائے

“اور میں تمہاری آنکھیں نکال دونگی۔۔۔”

عزہ نے ہاتھ میں پکڑی چھری اس کے چہرے کے قریب کی تو ہادی نے پہلے چھری کی نوک کو دیکھا اور پھر عزہ کے چہرے کو جو اسے گھور رہی تھی۔

“اچھا ٹھیک ہے کچھ نہیں کروں گا اِسے تو نیچے کرو نہ۔۔۔”

ہادی نے چہرا پیچھے کیا تو عزہ نے چھری نیچے کی اور دوبارہ اپنا کام کرنے لگی۔

“ویسے تمہاری دوست ہے تو بہت پیاری۔ پروفائل پکچر دیکھی تھی میں نے اسکی۔۔۔”

وہ چند لمحوں بعد عزہ کی طرف جھکتا ہوا سرگوشی نما انداز میں بولا

“تو مجھے کیوں بتا رہے ہو۔۔۔؟”وہ ویسے ہی کام کرتی رہی

“تاکہ تم جل کر راکھ ہو جاؤ۔۔۔”

وہ دانت پیس کر بولتا شیلف سے اترا اور کچن سے نکل گیا

“انتہائی واحیات انسان ہو تم ہادی۔۔۔۔”

وہ ہادی کی پشت کو گھور کر بولی تو قرت نے کچھ عجیب نظروں سے اسے دیکھا۔

☆ ★ ✮ ★ ☆

“نِشہ سب ٹھیک ہے نہ؟ یَشل مجھ سے بات کیوں نہیں کر رہی مسئلہ کیا ہے اسے؟”

وہ اسے اتنی زیادہ کالز کر چکا تھا اور یَشل نے ایک مسج کرنے کی توفیق بھی نہ کی تھی ارمغان کو اب غصہ آنے لگا تھا۔

“ہاں۔۔۔ہاں ارمغان سب ٹھیک ہے۔ یَشل خالہ کی وجہ سے بہت پریشان ہے تمہیں پتا تو ہے وہ کسی سے بات نہیں کرتی جب ٹینشن میں ہوتی ہے۔۔۔”

نِشہ اسے سچ بتانے کی غلطی ہرگز نہیں کر سکتی تھی وہ قیامت کھڑی کردیتا جس کا شاید کوئی فائدہ بھی نہ ہوتا اور گھر والوں سے اسکی بےعزتی الگ ہوتی۔

“پریشانی میں وہ دوسروں سے بات نہیں کرتی لیکن مجھ سے کرتی ہے۔۔۔تم بتاؤ مجھے کچھ ہوا ہے کیا؟”

ارمغان کو ایک پل کے لیے بھی سکون نہیں آرہا تھا اور آتا بھی کیسے زندگی میں ایسا پہلی بار ہوا تھا کہ اتنے دن یشل نے اسے کال تو دور کی بات میسج تک کرنا بھی ضروری نہیں سمجھا تھا۔۔

“ارمغان کیا ہوگیا ہے تمہیں یار میں کہہ تو رہی ہوں سب ٹھیک ہے جب تمہیں میری بات پر یقین ہی نہیں تو مجھ سے پوچھ ہی کیوں رہے ہو! مجھے بھیجا ہی کیوں یہاں جب یَشل کی پریشانی میں آدھے ہوئے جارہے تھے تو خود آجاتے نا۔۔۔!!

اگر وہ تم سے بات نہیں کر رہی تو میں کیا کر سکتی ہوں؟ میں نے کہا تھا اسے بات کر لے تم سے۔ اگر اس نے نہیں کی تو اس میں میری کوئی غلطی نہیں۔ بار بار مجھ سے مت پوچھو ماموں کو کال کرلو۔۔”

نِشہ جیسے ارمغان پر پھٹ پڑی اسے جو سارا غصہ یَشل اور باقی سب پر آرہا تھا وہ اسنے ارمغان پر نکال دیا اور اچھی خاصی سنا کر بغیر اسکی سنے کال بند کردی جبکہ ارمغان تو ہکا بکا رہ گیا۔ اسے سمجھ ہی نہ آیا اسنے ایسا بھی کیا کردیا کہ نِشہ نے اتنا غصہ کیا

“پاگل ہوگئی ہے تمہاری بہن۔۔۔”

افہام کو کمرے میں آتا دیکھ کر اسنے فون بیڈ پر پٹخا اور غصے سے کہا تو اندر آتا افہام رک گیا

“عزہ؟ نِشہ؟ یَشل؟ کون سی بہن۔۔”

اگر کوئی اور وقت ہوتا تو ارمغان قرت کا نام نہ لینے والی بات اچھے سے نوٹ کرتا مگر اس وقت اسکی پریشانی اور غصہ عروج پر تھا۔۔

“نِشہ!! فصول باتیں کئیے جارہی یہاں پریشانی سے میری جان نکلی جارہی اور وہ یَشل کو مجھ سے بات کرنے کے لیے فورس تک نہیں کر رہی۔۔۔”

ارمغان غصے میں افہام کو دیکھتا ہوا بولا تو اسنے گہرا سانس لیا

“میرے بھائی تو مجھے بس اتنا بتا کہ تجھے پریشانی کس بات کی ہے یار اگر وہ تجھ سے بات نہیں کررہی تو اس میں اتنا غصہ کرنے جیسا کچھ بھی نہیں وہ خالہ کی وجہ سے پریشان ہے تو سمجھ کیوں نہیں رہا؟ تجھے پتا ہے نہ آج خالہ کی کڈنی ٹرانسپلانٹ سرجری ہے۔ اب وہ اس حالت میں ہوگی کہ تیرے ساتھ بیٹھ کر گپے لڑائے؟”

افہام ہلکے پھلکے لہجے میں اسکے پاس آکر اسے سمجھانے لگا تو ارمغان جھنجھلا گیا

“تو وہ مجھے ایک میسج تو کر ہی سکتی ہے نہ مجھے تو ایسا لگ رہا اسنے فون ہی پھینک دیا ہے اس طرح سے اسنے مجھے اگنور کیا ہے اور آبی بتا رہی تھی کہ اسکی بات آبی سے ہوئی ہے پھر مجھ سے کیوں نہیں کررہی وہ؟”

اس دفع افہام کچھ بول نہ سکا کیونکہ یَشل کا صرف ارمغان کو اگنور کرنا واقعی عجیب بات تھی اور ارمغان کا ایسے رئیکٹ کرنا بلکل بجا تھا۔۔

“اچھا یہ تو یَشل ہی بتا سکتی نہ کہ وہ کیوں اگنور کر رہی۔۔تو دعا کر خالہ سکینہ کی سرجری ٹھیک سے ہو جائے پھر دیکھنا وہ تجھ سے بات کرلے گی۔۔۔”

افہام نے اسکا کندھا تھپکتے ہوئے کہا

“واپس آجائے یہ ایک بار مجھ سے برا کوئی نہیں ہوگا اس کے لیے۔۔۔”

وہ دانت پیس کر بولتا کمرے سے باہر نکل گیا۔ افہام نے بس گہرا سانس لیا۔ خدا جانے اسنے واپس آنا بھی تھا یا نہیں۔

☆ ★ ✮ ★ ☆

“تمہاری ڈائیری پر ایسا لکھا تھا؟”

آمنہ کچھ دیر پہلے ہی اسکے گھر آئی تھی اور عزہ نے اسے ا سے ی تک ساری بات بتائی تو آمنہ حیرت میں ڈوبتی ہوئی بولی

“ہاں رُکو میں ڈائیری لے کر آتی ہوں۔۔۔”

وہ بول کر اٹھنے ہی لگی تھی جب قرت لاونج میں داخل ہوئی۔ اسے دیکھتے ہی آمنہ اپنی جگہ سے اٹھی

“السلام و علیکم۔۔کیسی ہیں آپ؟”

آمنہ ہمیشہ کی طرح خوشی سے قرت کے بغلگیر ہوئی

“وعلیکم السلام میں ٹھیک ہوں، تم کیسی ہو؟”

وہ دونوں کے سامنے والے صوفے پر براجمان ہوئی

“ہمیشہ کی طرح۔۔حسین۔۔۔”

آمنہ نے ایک ادا سے اپنے کاندھوں سے تھوڑے نیچے آتے بالوں کو جھٹکا تو عزہ اور قِرت دونوں ہی مسکرا دی کیونکہ وہ جانتی تھی آمنہ کا یہی جواب ہوگا۔

“استغفرُللّٰہ بھئی استغفرُللّٰہ۔۔پتا نہیں لوگوں کو اتنی غلط فہمیاں کیوں ہیں۔۔۔”

لاونج میں داخل ہوتا ہادی یقیناً اسکی بات سن چکا تھا تبھی دونوں کانوں کو ہاتھ لگاتا ہوا بولا۔ عزہ نے آنکھیں بند کرکہ گہری سانس لی۔ وہ بھول گئی تھی کو وہ ہادی قُریشی تھا۔ عزہ کو زچ کرنے کے تو پیسے ملتے تھے اسے جبکہ آمنہ نے دلچسپی سے اسے دیکھا۔

وہ کئی بار عزہ کے گھر آئی تھی مگر ہادی ہاسٹل میں ہوتا تھا جس کی وجہ سے ان دونوں کا سامنا کبھی نہیں ہوا تھا لیکن کئی بار ہادی کو سوشل میڈیا پر نہ صرف دیکھا تھا بلکہ اچھا خاصہ سٹاک بھی کیا تھا۔

“کیسی ہو کیوٹی پائی؟”

وہ ڈھٹائی سے آمنہ کے سامنے والے صوفے پر قرت کے ساتھ سکون سے بیٹھا اور دل مول لینے والی خوبصورت مسکراہٹ کے ساتھ اسے مخاطب کیا۔ وہ مسکرایا تو دائیں گال پر ہلکا سا گڑھا اُبھرا، اسکی آنکھیں بھی چمک رہی تھی۔ اپنے سامنے بیٹھے ہادی کو دیکھ کر آمنہ کی دھڑک تیز ہوئی۔

“ہادی۔۔۔شرافت سے اپنے کمرے میں جاؤ اِس سے پہلے میں ارمغان بھائی کو کال کروں”

قِرت نے اسکا کان پکڑ کر مروڑ ڈالا اور ساتھ ہی دھمکی بھی دی۔ آمنہ بےاختیار ہی مسکرا دی

“پرائی لڑکی کے سامنے کیوں میری عزت میں اضافہ کر رہی کان تو چھوڑ دو۔۔۔”

ہادی آہستہ آواز میں قرت سے بولا تو ترس کھاتے اسنے کان چھوڑا۔ ہادی نے سر خم کرکہ اسکا شکریہ ادا کِیا پھر دوبارہ آمنہ کی طرف مڑا جو ابھی بھی اسی کو دیکھ رہی تھی۔

“بتایا نہیں تم نے۔۔کیسی ہو؟ ارے یاد آیا تم تو میک اپ کرکہ تھوڑی سی حسین ہو۔۔۔”

ہادی نے سوال دوہرایا اور پھر خود ہی جواب بھی دیا۔ آمنہ برا ماننے کے بجائے بےاختیار ہی ہنس دی کیونکہ ہادی کی آنکھوں میں شرارت واضح تھی۔ قرت اور عزہ کو بھی اس پر غصہ تو آرہا تھا مگر ہادی کی بات پر وہ دونوں بھی مسکرانے لگی

“آمنہ تم چھوڑو اسے آؤ ہم اوپر چلیں۔۔۔”

عزہ جانتی تھی وہ منہ بند نہیں کرے گا تو اٹھنے لگی لیکن وہ دوبارہ بولنے لگا

“ارے یار عزہ تم ایسے بول رہی ہو جیسے وہ اینجلینا جولی کی اولاد ہے،، اسے میری باتوں کا بلکل بھی برا نہیں لگا۔۔۔ایسا ہی ہے نہ؟”

ہادی نے پہلے عزہ سے کہا پھر آمنہ کو دیکھتے ہوئے تصدیق چاہی وہ مسکراتے ہوئے سر اثبات میں ہلا گئی عزہ اسے گھورتی ہوئی ویسے ہی بیٹھی رہی۔ افہام اور ارمغان دونوں کچھ دیر پہلے ہی گھر سے باہر گئے تھے یہی وجہ تھی کہ ہادی کے اتنے پر نکلے ہوئے تھے ورنہ ان دونوں کے گھر پر ہوتے ہوئے وہ لاؤنج کے آس بھی نہ بھٹکتا۔

“آمنہ تم اس کی باتوں کو بلکل بھی سیرئیس مت لینا اِسکی نیچر ہی ایسی ہے۔۔”

قِرت آمنہ کو مخاطب کرتی اپنی جگہ سے اٹھی اور لاونج سے نکلنے لگی پھر جاتے جاتے دوبارہ مُڑی۔۔

“اور ہاں۔۔یہ ان میسجز کے لیے تمہیں سوری بھی بولنا چاہتا ہے۔۔۔”

قرت دل جالنے والی مسکراہٹ ہادی کی طرف اچھالتی باہر چلی گئی۔ عزہ کے ہونٹوں پر بھی مسکراہٹ آئی۔ ہادی نے دانت پیستے ہوئے آمنہ کی طرف دیکھا جو منتظر نگاہوں سے اس کو دیکھ رہی تھی۔

“اہم۔۔میرا ارادہ تھا تو نہیں معافی مانگنے کا لیکن اب قِرت نے تم سے کہا ہے تو ایسے اچھا بھی نہیں لگتا نہ۔۔۔”

وہ زبردستی مسکریا پھر بات جاری رکھتے ہوئے دوبارہ بولا۔

“میں ان پیارے پیارے میسجز کے لیے دل سے معزرت خواہ ہوں۔۔۔”

ہادی نے اپنے دل کے مقام پر ہاتھ رکھتے ہوئے بڑے ہی مؤدبانہ انداز میں معافی مانگی تو آمنہ کی مسکراہٹ گہری ہوتی چلی گئی جبکہ عزہ نے آنکھیں سکیڑ کر اسے دیکھا۔۔ ہادی معافی مانگ رہا تھا؟

“لیکن اسکا یہ مطلب ہرگز نہیں ہے کہ اب میں میسجز کرنا چھوڑ دوں گا۔۔۔”

وہ صوفے سے اٹھا اور چل کر آمنہ کے سامنے آکھڑا ہوا۔ عزہ نے آنکھیں گھمائی جیسے جانتی ہو کہ وہ کوئی بکواس ضرور کرے گا۔۔۔

“اور یہ خوبصورتی لائیو دیکھنے کے بعد تو نہ صرف میں میسج کروں گا بلکہ رپلائے کا انتظار بھی کروں گا۔۔۔ بیوٹیفل لیڈی۔۔۔”

وہ دونوں ہاتھ جیب میں ڈال کر تھوڑا سا آگے کو جھکا تو آمنہ کی دھڑکن بےترتیب ہوئی۔ ہادی نے مسکراتے ہوئے گہری نظر آمنہ پر ڈالی اور لاونج سے نکل گیا۔ اسکے جاتے ہی آمنہ کا ہاتھ بےاختیار اپنے سینے پر گیا تھا۔۔

“ہادی ٹھرکی انسان تھوڑی شرم خرید لو کسی سے!”

عزہ نے ہادی کو لاونج سے نکلتا دیکھ کر پیچھے سے ہانک لگائی جِسے سن کر اس نے قہقہہ لگایا۔

“میں نے کہا بھی اسے کہ اپنی بکواس بند رکھنا!”

بولتے ہوئے اُس نے آمنہ کی طرف دیکھا جو عجیب سی کیفیت کا شکار تھی۔

“سوری یار۔۔تم اس کی باتوں پر دھیان مت دو۔ اِس کا انٹر جب سے پورا ہوا ہے تب سے ہی دماغ ہل گیا ہے اس کا۔۔۔”

عزہ کو یہی لگا کہ آمنہ نے اسکی باتوں کا برا منایا ہے کیونکہ وہ ایسی ہی لڑکی تھی تبھی وہ اسے متوجہ کرتی ہوئی معذرت خواہ انداز میں بولی تو آمنہ خود کو نارمل کرتی عزہ کو گھورنے لگی۔

“سوری کدھر سے آگیا بی بی ؟؟ مجھے پتا ہے وہ مذاق کر رہا تھا۔۔۔”

“ہاں لیکن وہ تمہیں میسج ضرور کرے گا تم ہمیشہ کی طرح اگنور کرنا۔۔”

عزہ کی بات پر آمنہ نے محض سر ہلایا۔۔۔

☆ ★ ✮ ★ ☆

سکینہ کی کڈنی ٹرانسپلانٹ سرجری کو مکمل ہوئے اڑتالیس گھنٹے ہوگئے تھے۔ سرجری کامیاب تو رہی تھی مگر اب سب سے بڑا مسئلہ کشمیر سکینہ کا ہوش میں نہ آنا تھا۔ ڈاکٹر کا ایسا کہنا تھا کہ سکینہ کو دو سے تین دن تک ہوش آجائے گا لیکن اگر پھر بھی ہوش نہ آیا تو مسئلہ ہوسکتا تھا اور یہ بھی ممکن تھا کہ وہ اس بےہوشی کی حالت میں ہی اس فانی دنیا سے کوچ کرجائے۔ فجر کے بعد کا وقت تھا۔ جتنے دن وہ اس گھر میں رہی تھی اتنے دن روزانہ وہ فجر کی نماز کے بعد لان میں آکر بیٹھ جاتی اور ہر طرف پھیلتی ہوئی روشنی دیکھتی۔ ابھرتے ہوئے سورج کو دیکھ کر اسے اچھا لگتا تھا۔ جیسے ہر طرف روشنی پھیلاتا یہ سورج اسکی زندگی میں بھی اپنی کرن سے روشنی بھر دے گا۔

“پریشان مت ہو یَشل۔۔ماما ٹھیک ہو جائیں گی”

نکاح سے انکار کرنے پر دھمکیاں دینے کے بعد وہ آج اس سے مخاطب ہوا تھا۔ پچھلے کچھ دنوں میں وہ اس کے سامنے آنے سے بھی کافی گریز کر رہا تھا۔

“یَشل میں تم سے بات کر رہا ہوں۔۔”

یَشل کے کوئی جواب نہ دینے پر وہ دوبارہ بولتا ہوا اسکے سامنے والی کرسی پر براجمان ہوا۔ یَشل نے غیر مرئی نکتے سے نظر ہٹا کر رائد کو دیکھا۔ آنکھیں نم تھی مگر کسی بھی احساس سے عاری۔ وہ خاموشی سے سپاٹ چہرا لئیے رائد کو دیکھنے لگی تو رائد نے ایسے نظریں چرائی جیسے دل کا چور پکڑا گیا ہو۔

“ہینڈسم ہوگیا ہوں کیا۔۔۔؟”

کچھ دیر کی خاموشی کے بعد اسنے مسکراتے ہوئے یَشل سے سوال کیا جو ویسے ہی اسے دیکھ کم گھور زیادہ رہی تھی۔

(بہت زیادہ۔۔۔)

طنزیہ انداز میں سوچا لیکن کچھ کہا نہیں۔۔

“چلو دیکھ لو لیکن نظر مت لگانا۔۔”

وہ یَشل کی خاموشی پر عجیب کیفیت کا شکار ہوا۔ وہ اس سے بات کرنا چاہتا تھا لیکن اس نے جیسے چپ کا روزہ رکھا تھا۔

(نظر تو تم نے لگا ہی دی ہے وہ بھی میری زندگی کو۔۔۔)

وہ ابھی بھی خاموش رہی تو رائد سنجیدہ ہوتا سیدھا ہوکر بیٹھا.

“یَشل۔۔۔آئی ایم سوری”

اسکے سوری پر یَشل کی آنکھوں میں سوالیہ نشان آئے۔۔۔

“تمہیں امی کی بلاوجہ کی خواہش کو پورا کرنے کے لیے اپنی زندگی برباد کرنی پڑ رہی۔ مطلب تمہارے لیے تو برباد ہی ہوئی نہ کیونکہ تم نے یہ سب نہیں سوچا ہوگا۔ یقیناً تمہارا مائنڈ سیٹ کچھ اور ہوگا۔ کچھ خواب ہونگے، خواہشات ہونگی۔ ہوسکتا ہے کہ تم کسی اور میں انٹرسٹ رکھتی ہو لیکن۔۔۔”

وہ بولتے رُک گیا۔ اس دن ارمغان سے وڈیو کال والی بات پر اتنی بکواس اور پھر نکاح والا شوشہ۔۔ یَشل کو اسکی تقریر سننے میں کوئی انٹرسٹ نہیں تھا لیکن وہ دل پر جبر کئیے وہاں خاموشی سے بیٹھی تھی۔

“زندگی ہماری مرضی سے تو نہیں چل سکتی نہ۔ خدا آزمائشوں میں ڈالتا کے امتحان لیتا ہے۔ سکول، کالج اور یونیورسٹی والے امتحانوں کی طرح ہمیں زندگی کے امتحانات میں بھی کامیاب ہونا ہوتا ہے پھر ہی آسانی آتی ہے۔”

رائد کی زبان سے نکلنے والی ان باتوں پر رائد کے دل نے اسے ملامت کیا۔ ایک گہرا سانس لے کر اسنے بات جاری کی۔

“یقیناً تم سوچ رہی ہوگی کہ تمہارے ساتھ یہ سب کیوں ہورہا ہے؟ جو بھی ہورہا ہے غلط ہو رہا ہے اور یہ نہیں ہونا چاہیے۔ لیکن وہ کیا ہے نہ یَشل۔۔۔زندگی سیدھی سڑک نہیں ہے جہاں ہر چیز ٹھیک اور فلو میں چلتی رہے۔ زندگی کی سڑک کو خود ٹھیک کرنا پڑتا ہے۔ ہر چیز کو اچھے سے مینج کر کہ، خدا کے فیصلوں کے آگے سر جھکا کہ۔۔۔”

رائد خود بھی نہیں جانتا تھا کہ اسکے اندر سے یہ گہری موٹیویشنل سپیچ کہاں سے اور کیسے نکل رہی تھی۔

یَشل نے بغیر کوئی تاثر دئیے خاموشی سے اسکی ساری بات سنی تھی۔ وہ شخص واقعی اسکی سمجھ سے بالا تھا۔ کبھی الزام تراشی کرتا، کبھی جلاد بن جاتا، تپتی دھوپ بن جاتا پھر خود ہی بادل بن کر چھاؤں دینے کی کوشش کرتا۔

وہ خاموش ہوگیا تو یَشل چند لمحے اسے دیکھتی رہی۔ اس سے پہلے وہ دوبارہ کچھ بولتا اور یَشل کا دل اسکی طرف سے ایک فیصد بھی صاف ہوتا وہ بغیر کچھ کہے، بغیر کوئی تاثر دئیے وہاں سے ایسے اٹھی تھی جیسے اس نے رائد کی کہی ہوئی بات نہ سنی ہو۔

رائد نے گہری سانس بھرتے ہوئے اسے دور جاتے دیکھا تھا۔جب جب اس نے یَشل سے بات کرنا چاہی تھی، ہر بار ہی وہ اُس سے اِسی طرح دور جاتی تھی۔

لیکن وہ بس یَشل کا دل صاف کرنا چاہتا تھا۔ ان دونوں کے درمیان جو رشتہ جڑنے جارہا تھا اس کے لیے یَشل کے دل میں آئی دھند کو صاف کرنا بہت ضروری تھا۔ وہ نہیں چاہتا تھا کہ رائد کو لے کر کچھ بھی غلط سوچے۔ اسے ڈر تھا یَشل کے ساتھ شادی کامیاب نہ ہونے کا یا پھر شاید کسی اور چیز کا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *