Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Muntazirat Hastam by Neha Imtiaz

وہ کیفے سے تھوڑا دور درخت کے نیچے بیٹھی کانوں میں ہینڈ فری لگائے کُچھ سُنتے ہوئے آسمان پر پھیلے حسین بادل دیکھ رہی تھی آج موسم بہت خوش گوار تھا ہلکی ہلکی ہوا چل رہی تھی اور پھر کلاس کینسل ہوجانا اُس کے لیے غنیمت تھا کیونکہ اُس نے اسائِمنٹ مکمل نہیں کی تھی اور اُسکا روزہ بھی تھا۔۔۔اسائِمنٹ یاد آتے ہی وہ جو سکون سے بیٹھی تھی سیدھی ہوئی۔۔۔
"فارغ ہی بیٹھی ہوں ارمغان بھی شاید لائبریری میں ہے،،کام ہی کر لیتی ہوں۔۔۔"
خود سے بڑبڑاہٹ کرتی وہ بیگ سے شیٹس اور نوٹس وغیرہ نِکالنے لگی۔۔۔
"اوفففف لیپ ٹاپ بھی نہیں ہے میرے پاس تو۔۔۔ارمغان کہاں رہ گیا ہے یارررر"
وہ چند لمحوں بعد چڑتی ہوئی ایک بار پھر خود سے بولی اور موبائل اُٹھا کر ارمغان کو کال کرنے لگی لیکِن اُس نے کال کاٹ دی تبھی یَشل نے سر اُٹھا کر سامنے دیکھا تو وہ چلتا ہوا اِسی کی طرف آرہا تھا۔۔۔ارمغان نے مُسکُراتے ہوئے ہاتھ ہِلایا تو یَشل نے آنکھیں گھُمائی
"سوری سوری سوری۔۔۔یار میں لائبریری تھا دوست کے ساتھ کال کا پتا ہی نہیں لگا"
ارمغان اُسکے ساتھ بیگ رکھتا ہوا خود اُس کے سامنے آبیٹھا تو یَشل اُسکو سراسر اِگنور کرتی اپنے کام میں لگی رہی
"روزہ رکھ کے گانے سُن رہی شرم نہیں آتی۔۔۔"
ارمغان نے کھینچ کر ہینڈ فری اُس کے کان سے نِکالے۔ یَشل نے کھا جانے والی نظروں سے اُس کو گھورا۔۔۔
" میں گانے نہیں سُن رہی اور پورا ایک گھنٹا پہلے میسج کیا تھا میں نے اور آپ اب آرہے۔۔۔میں کب سے انتظار کر رہی کال بھی کی میں نے"
سادہ لہجے میں شکوہ کیا
"اچھا نا بابا سچ میں مُجھے پتا نہیں لگا میسج یا کال کا۔۔تمہیں پتا تو ہے لائبریری کی بیسمنٹ میں تھا سِگنلز کہاں آتے ہیں وہاں۔۔"
ارمغان اُسکی بات سُن کر اُسکو مناتا ہوا بولا تو وہ احسان کرنے والے انداز میں سر ہلانے لگی۔۔۔
"اچھا کیا آپ اپنا لیپ ٹاپ دیں گے مُجھے کُچھ دیر؟میری ایک دو فائلز ہیں اُس میں کُچھ اِنفارمیشن چاہیے مُجھے۔۔۔"
یَشل کی بات سُن کر ارمغان نے بیگ کی زِپ کھولی۔۔
"میرا لیپ ٹاپ استعمال کرنے کہ لیے کسی وجہ یا پھر پرمیشن کی ضرورت نہیں ہے تمہیں کِتنی دفعہ بتانا پڑے گا؟"
ارمغان لیپ ٹاپ اُسکی طرف بڑھاتا ہوا بولا جِسے یشل نے پکڑ کر اپنی گود میں رکھا اور ارمغان کی بات پر ہونٹوں پر مسکراہٹ بکھر گئی
"اور میں نے بھی آپ سے کِتنی دفعہ کہا ہے کہ مُجھے اچھا نہیں لگتا ہے بغیر اِجازت یا بغیر پوچھے آپ کی کوئی چیز استعمال کرنا۔۔۔"
وہ لیپ ٹاپ پر پاسورڈ لگاتی ہوئی بولی تو ارمغان بس اُسے گھور کر رہ گیا۔۔۔
"میری پر چیز پر حق ہے تمہارا۔۔۔"
وہ چند لمحوں کی خاموشی کے بعد بولا تو ارمغان کی بات پر یَشل کے کی بورڈ پر چلتے ہاتھ رُکے تھے۔ وہ ہمیشہ ہی اُس کو ایسی کوئی بات کہہ دیتا تھا کہ وہ کنفیوژ ہوکر رہ جاتی تھی تھی ابھی بھی وہ اپنی نظروں سے اُس کو گھبرانے پر مجبور کر گیا تھا۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *