Muntazirat Hastam by Neha Imtiaz NovelR50532 Last updated: 16 February 2026
Rate this Novel
Muntazirat Hastam (Episode 01)Muntazirat Hastam (Episode 02)Muntazirat Hastam (Episode 03)Muntazirat Hastam (Episode 04)Muntazirat Hastam (Episode 05)Muntazirat Hastam (Episode 06)Muntazirat Hastam (Episode 07)Muntazirat Hastam (Episode 08)Muntazirat Hastam (Episode 09)Muntazirat Hastam (Episode 10)Muntazirat Hastam (Episode 11)Muntazirat Hastam (Episode 12)Muntazirat Hastam (Episode 13)Muntazirat Hastam (Episode 14)Muntazirat Hastam (Episode 15)Muntazirat Hastam (Episode 16)Muntazirat Hastam (Episode 17)Muntazirat Hastam (Episode 18)Muntazirat Hastam (Episode 19)Muntazirat Hastam (Episode 20)Muntazirat Hastam (Episode 21)Muntazirat Hastam (Episode 22)Muntazirat Hastam (Episode 23)Muntazirat Hastam (Episode 24)Muntazirat Hastam (Episode 25)Muntazirat Hastam (Episode 26)Muntazirat Hastam (Episode 27)Muntazirat Hastam (Episode 28)Muntazirat Hastam (Episode 29)Muntazirat Hastam (Episode 30)Part 1Muntazirat Hastam (Last Episode)Part 2
Muntazirat Hastam by Neha Imtiaz
وہ کیفے سے تھوڑا دور درخت کے نیچے بیٹھی کانوں میں ہینڈ فری لگائے کُچھ سُنتے ہوئے آسمان پر پھیلے حسین بادل دیکھ رہی تھی آج موسم بہت خوش گوار تھا ہلکی ہلکی ہوا چل رہی تھی اور پھر کلاس کینسل ہوجانا اُس کے لیے غنیمت تھا کیونکہ اُس نے اسائِمنٹ مکمل نہیں کی تھی اور اُسکا روزہ بھی تھا۔۔۔اسائِمنٹ یاد آتے ہی وہ جو سکون سے بیٹھی تھی سیدھی ہوئی۔۔۔
"فارغ ہی بیٹھی ہوں ارمغان بھی شاید لائبریری میں ہے،،کام ہی کر لیتی ہوں۔۔۔"
خود سے بڑبڑاہٹ کرتی وہ بیگ سے شیٹس اور نوٹس وغیرہ نِکالنے لگی۔۔۔
"اوفففف لیپ ٹاپ بھی نہیں ہے میرے پاس تو۔۔۔ارمغان کہاں رہ گیا ہے یارررر"
وہ چند لمحوں بعد چڑتی ہوئی ایک بار پھر خود سے بولی اور موبائل اُٹھا کر ارمغان کو کال کرنے لگی لیکِن اُس نے کال کاٹ دی تبھی یَشل نے سر اُٹھا کر سامنے دیکھا تو وہ چلتا ہوا اِسی کی طرف آرہا تھا۔۔۔ارمغان نے مُسکُراتے ہوئے ہاتھ ہِلایا تو یَشل نے آنکھیں گھُمائی
"سوری سوری سوری۔۔۔یار میں لائبریری تھا دوست کے ساتھ کال کا پتا ہی نہیں لگا"
ارمغان اُسکے ساتھ بیگ رکھتا ہوا خود اُس کے سامنے آبیٹھا تو یَشل اُسکو سراسر اِگنور کرتی اپنے کام میں لگی رہی
"روزہ رکھ کے گانے سُن رہی شرم نہیں آتی۔۔۔"
ارمغان نے کھینچ کر ہینڈ فری اُس کے کان سے نِکالے۔ یَشل نے کھا جانے والی نظروں سے اُس کو گھورا۔۔۔
" میں گانے نہیں سُن رہی اور پورا ایک گھنٹا پہلے میسج کیا تھا میں نے اور آپ اب آرہے۔۔۔میں کب سے انتظار کر رہی کال بھی کی میں نے"
سادہ لہجے میں شکوہ کیا
"اچھا نا بابا سچ میں مُجھے پتا نہیں لگا میسج یا کال کا۔۔تمہیں پتا تو ہے لائبریری کی بیسمنٹ میں تھا سِگنلز کہاں آتے ہیں وہاں۔۔"
ارمغان اُسکی بات سُن کر اُسکو مناتا ہوا بولا تو وہ احسان کرنے والے انداز میں سر ہلانے لگی۔۔۔
"اچھا کیا آپ اپنا لیپ ٹاپ دیں گے مُجھے کُچھ دیر؟میری ایک دو فائلز ہیں اُس میں کُچھ اِنفارمیشن چاہیے مُجھے۔۔۔"
یَشل کی بات سُن کر ارمغان نے بیگ کی زِپ کھولی۔۔
"میرا لیپ ٹاپ استعمال کرنے کہ لیے کسی وجہ یا پھر پرمیشن کی ضرورت نہیں ہے تمہیں کِتنی دفعہ بتانا پڑے گا؟"
ارمغان لیپ ٹاپ اُسکی طرف بڑھاتا ہوا بولا جِسے یشل نے پکڑ کر اپنی گود میں رکھا اور ارمغان کی بات پر ہونٹوں پر مسکراہٹ بکھر گئی
"اور میں نے بھی آپ سے کِتنی دفعہ کہا ہے کہ مُجھے اچھا نہیں لگتا ہے بغیر اِجازت یا بغیر پوچھے آپ کی کوئی چیز استعمال کرنا۔۔۔"
وہ لیپ ٹاپ پر پاسورڈ لگاتی ہوئی بولی تو ارمغان بس اُسے گھور کر رہ گیا۔۔۔
"میری پر چیز پر حق ہے تمہارا۔۔۔"
وہ چند لمحوں کی خاموشی کے بعد بولا تو ارمغان کی بات پر یَشل کے کی بورڈ پر چلتے ہاتھ رُکے تھے۔ وہ ہمیشہ ہی اُس کو ایسی کوئی بات کہہ دیتا تھا کہ وہ کنفیوژ ہوکر رہ جاتی تھی تھی ابھی بھی وہ اپنی نظروں سے اُس کو گھبرانے پر مجبور کر گیا تھا۔۔۔
