Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Muntazirat Hastam (Episode 11)

Muntazirat Hastam by Neha Imtiaz

وہ ہسپتال سے نکلی ملگجے اندھیرے کی پرواہ کیے بغیر وہ سڑکیں پار کرتی کہاں جارہی تھی اسے خود بھی معلوم نہیں تھا بیس منٹ بعد وہ ایک پارک کے پاس آکر رُکی اور وہاں جاکر بیٹھ گئی۔ سورج چاروں طرف روشنی پھیلا رہا تھا ہر طرف ٹھندی ہواؤں کا راج تھا لیکن یشل کے سن ہوتے دماغ اور سائیں سائیں ہوتے وجود کو کسی چیز کی پرواہ نہ تھی۔۔ وہ کافی دیر تک وہیں بیٹھ کر روتی رہی اپنی ماں سے ایسی خواہش کی امید اسے ہرگز نہ تھی۔ مسلسل اسکا فون بج رہا تھا سکرین پر جگمگاتا ارمغان دیکھ کر اسکے رونے میں روانی آنے لگی۔ارمغان کی مسلسل کی جانے والی پانچ کالز کے بعد اسے نِشہ کی کال آنے لگی جسے وہ اٹینڈ کرگئی۔۔

“السلام علیکم۔۔۔”

وہ بامشکل خود کو رونے سے روک پائی

“یَشل۔۔۔تُم رو رہی ہو؟”

نِشہ پل میں اندازہ لگا گئی تھی۔ یَشل کے رُکے آنسو پھر سے بہہ نکلے اسکا بس نہیں چل رہا تھا وہ اڑ کر اس کے پاس چلی جائے اور چھپ جائے۔

“کیا ہوا ہے میری جان مجھے پریشان کر رہی ہو۔۔۔”

اسکی بات پر یَشل نے آنسو رگڑے

“تم میرے پاس آجاؤ۔۔۔”

وہ گھٹی ہوئی آواز میں بولی

“خالہ ٹھیک ہیں نہ؟ یَشل تم ٹھیک ہو؟ بتاؤ تو میری جان نکل رہی”

یَشل کی حالت پر نِشہ کی آنکھوں میں آنسو اُمڈ آئے تھے

“ٹھیک ہیں ماما۔۔ تم پلیز یہاں آجاؤ میں بہت اکیلی ہوں مجھے تمہاری ضرورت ہے میرا دم گھٹ رہا ہے یہاں نشہ میرے پاس آجاؤ۔۔۔”

اسکی ہچکیاں بندھ گئی تھی۔ نِشہ کی آنکھ میں اٹکا انسو باہر نکلا۔ اسنے ہونٹوں پر زبان پھیری

“میں آج ہی ماما کے ساتھ آجاؤں گی۔۔تم پلیز رونا بند کرو”

اسکی بات پر یَشل کو جیسے کچھ تسلی ہوئی اسنے انسو صاف کیے

“تم ہاسپٹل ہو؟ ماما آئی تھیں کچھ دیر پہلے وہ بتا رہی تھیں کے خالہ کو ہوش آگیا ہے۔۔۔”

نِشہ کی بات پر یَشل چند لمحے خاموش رہی۔ کیا بتاتی کہ ماں کا ہوش میں آنا نئی زندگی ملنے جیسا تھا لیکن اسکی خواہش سکون برباد کرنے جیسی

“سوئی نہیں تُم؟”

اسنے موضوع بدلا

“میں کیا۔۔۔کوئی بھی نہیں سویا تھا۔ عادل انکل کی کال آئی تو کچھ سکون ہوا ہے”

یَشل خاموش رہی پھر اسے ضرور آنے کا کہتی فون کاٹ گئی

نِشہ نے سامنے بیٹھے ارمغان کی طرف دیکھا جس کے چہرے سے اندازہ لگانا مشکل تھا وہ کیا سوچ رہا ہے

“پریشان نہیں ہو۔۔تم جارہے ہو نہ اسکے پاس وہ ٹھیک ہو جائے گی”

نِشہ کی آواز پر ارمغان نے اسکی طرف دیکھا۔۔

“نِشہ تم چلی جاؤ اس کے پاس۔ اسکو شاید مجھ سے زیادہ تمہاری ضرورت ہے شاید وہ میرے ساتھ اتنی ایزی نہ رہے جتنی تمہارے ساتھ ہو”

وہ کچھ سوچ کر بولا تو نِشہ نے کچھ حیرت سے اسے دیکھا

“ارمغان تم کل سے اسکی پریشانی میں گھلے جارہے ہو اور اب مجھے کہہ رہے کہ میں جاؤں؟ تمہیں اور مجھے۔۔ہم دونوں کو اچھے سے پتا ہے کہ جب تک تم لاہور نہیں جاؤ گے تمہیں سکون نہیں آئے گا۔۔۔”

“نِشہ میرا نہیں یشل کا پرُسکون ہونا زیادہ ضروری ہے۔۔۔تم ایک لڑکی ہو اسکے بہت زیادہ کلوز ہو وہ تمہارے ساتھ زیادہ ایزی رہے گی”

وہ اسے سمجھانے والے انداز میں بولا تو نِشہ نے گہرا سانس لے کر صوفے کی پشت سے ٹیک لگائی۔

☆ ★ ✮ ★ ☆

نِشہ کہ کال بند کرکہ اسے بہت مشکل سے رکشہ مِلا جِس میں گھر جاتے ہوئے بھی اسے خوف آرہا تھا کیونکہ سڑکوں پر اِکا دکا گاڑیاں ہی تھی۔ جب تک اسنے گھر کا دروازہ نہ دیکھا تب تک وہ آیت الکرسی کا ورد کرتی رہی۔ گھر آتے ہی اسنے کپڑے بدلے وضو کیا اور جائے نماز پر کھڑی ہوگئی۔ اسکی آخری امید خدا ہی تھا۔ نفل پڑھنے کے بعد وہ کافی دیر خاموش آنسو بہاتے دعا کرتی رہی پھر جائے نماز لپیٹتی جیسے ہی اُٹھی اور پیچھے کی طرف پلٹی تو وہاں بیٹھے رائد کو دیکھ کر ٹھٹھک گئی

“کیا کر رہے ہو تُم یہاں۔۔۔؟”

یَشل کو اُسکا وہاں بغیر ناک کیے آنا اور سکون سے بیٹھ جانا بہت ناگوارہ گُزرا تھا اور پھر سکینہ کی خواہش۔۔اسکا بس نہیں چل رہا تھا وہ رائد کو آگ لگا دے۔ وہ اپنا غصہ ضبط کرتی ہوئی بولی تو وہ مُسکُراتے ہوئے اپنی جگہ سے اُٹھا اور اُس کے مُقابل آکھڑا ہوا تو یَشل دو قدم پیچھے ہٹی۔۔۔

“سُنا ہے کہ نِکاح سے انکار کردیا ہے تُم نے۔۔۔ڈئیر سٹیپ سسٹر”

وہ سر تا پیر اُسکا جائزہ لیتا ہوا بولا اور پھر نظر آنکھوں پر ٹِکی تھی جو اُسکے رونے کا ثبوت دے رہی تھیں۔۔۔

“تو؟؟ میرے پاس اِنکار کرنے کا پورا پورا حق ہے اور میں نے اپنے جائز حق کا استعمال کیا ہے تمہیں اتنی آگ کیوں لگ رہی؟”

یَشل ہاتھ میں پکڑے ہوئے جائے نماز کو لپیٹتی اُسے سُلگا گئی اگلے ہی پل رائد آگے ہوتا اُسکا جبڑا بھینچ گیا تھا۔۔۔

“آگ تو میں تمہاری زندگی میں لگاؤں گا اگر تُم نے نِکاح نہ کیا تو۔۔تمہارا وہ ہشر کروں گا کہ ساری زندگی کسی کو اپنی یہ شکل دِکھانے کہ قابل نہیں رہو گی۔۔”

وہ غراتے ہوئے بولا تھا یَشل نے خود کو چھڑوانے کی ہر ممکن کوشش کی مگر ناکام رہی۔ اُس نے دوسرے ہاتھ سے اُسکی کلائی مروڑتے اُسے مزید قریب کیا تو یَشل کراہ کر رہ گئی۔۔

“میں تمہیں لاسٹ وارننگ دے رہا ہوں یَشل۔۔ نِکاح کی تیاری کرو ورنہ ساری زندگی سڑکوں پر بھیک مانگتی رہ جاؤ گی اور تمہیں اتنا تھکا دوں گا کہ مرنے کی دُعائیں کرو گی اور تمہارے سگے رشتے بھی تمہیں پہچاننے سے انکار کردیں گے۔ اگر اپنی غزت عزیز ہے تو جیسا کہا گیا ہے ویسا کرو۔۔سمجھی تُم۔۔”

وہ قہر برساتی نظروں سے اُسے دیکھتے ہوئے بولا تھا جو ابھی بھی اُسکے لہجے اور اُس کی بات پر خوفزدہ نہ ہوئی تھی بلکے اُسے ایسے گھور رہی تھی جیسے وہ کوئی پاگل ہو۔وہ اُسے پیچھے کی طرف دکھا دیتا کمرے سے نِکل گیا۔ یَشل کو اپنی کلائی اور جبڑا ٹوٹتا ہوا محسوس ہوا تھا۔۔ فرش پر گِری نہ جانے کتنی ہی دیر وہ اُس دروازے کو دیکھتی رہی جہاں سے ابھی وہ باہر گیا تھا۔۔۔ضبط کے باوجود اُسکی آنکھیں برسنے لگی اور پھر پورا وجود آنسوؤں میں ڈھل گیا۔

کیسا عجیب تھا یہ شخص۔ کچھ دیر پہلے تک اسکو خدا کے سامنے روتا دیکھ کر اسکی آنکھوں میں اپنے لیے فکر دیکھ کر اسے لگا تھا کہ وہ شخص اتنا برا بھی نہیں لیکن اسے غلط ہی لگا تھا۔ جو دل تھوڑا سا اسکی طرف سے صاف ہوا تھا وہ دوبارہ نفرت سے بھر گیا تھا۔

☆ ★ ✮ ★ ☆

دوپہر کے 12 بج رہے تھے جب وہ لاونج میں داخل ہوئی۔ نِشہ عطیہ اور صبیحہ لاہور کے لیے نکل چکے تھے ہادی ٹی وی دیکھنے کے ساتھ ساتھ ناشتہ کر رہا تھا عزہ خاموشی سے جاکر صوفے پر بیٹھی تو ہادی نے ایک نظر اسے دیکھا پھر دوبارہ ٹی وی پر نظریں ٹکائے ناشتہ کرنے لگا۔

عزہ آہستہ سے آگے کو ہوئی۔ چائے کے کپ کے ساتھ پڑا ریموٹ اٹھایا اور چینل بدلہ۔ اچٹتی سی نگاہ ہادی پر ڈالی وہ خاموشی سے ناشتا کر رہا تھا عزہ کو شدید حیرت ہوئی۔

ہادی قریشی خاموش تھا ؟؟

وہ ٹھیک دو منٹ بعد خالی پلیٹ اور چنگیری اٹھاتا لاؤنج سے نکل گیا۔ عِزہ ںے نظر ٹی وی پر ٹکا دی۔ ٹھیک دو منٹ بعد وہ ہاتھ دھو کر واپس آیا اور ٹیبل پر پڑا کپ اٹھا کر دوبارا جانے لگا لیکن عزہ کی آواز پر قدم رکے

“اوئے۔۔۔ہادی۔۔۔”

ہادی پیچھے مڑا اور آئی برو اچکائی

“تم۔۔۔ناراض ہو کیا تم مجھ سے؟”

وہ تھوڑی اٹکی

“تمہیں کس نے کہا ؟”

وہ سنجیدہ تھا اور وہ کم ہی سنجیدہ ہوتا تھا.

“تمہاری شکل، تمہاری خاموشی نے کہا ہے اور کون کہے گا”

وہ منہ بناتی ہوئی بولی

“یہ چائے اگر تمہارے اوپر گری تو تم بھی ایسے ہی خاموش ہو جاؤ گی”

ہادی نے اسے گھورا

“یعنی تُمہارے اوپر بھی چائے گری ہے؟”

وہ سادگی سے بولی

“عِزہ میرے ساتھ فری ہونے کی ضرورت نہیں ہے”

“رکو تو سہی۔۔”

وہ مڑنے لگا جب عزہ چھلانگ لگا کر اُٹھی اور جلدی سے اُسکے سامنے آکر کھڑی ہوئی۔ پاؤں میں درد کی ٹیس اٹھی تھی۔

“کل والی بات پر ناراض ہو کیا۔۔؟”

“ایسا کیا ہوا تھا کل؟”

وہ انجان بنا

“ڈرامہ نہیں کرو اب۔۔۔”

عزہ نے اسے تھپڑ مارا تو وہ غصے سے اسے دیکھنے لگا

“یار۔۔پلیز نہ آئی ایم سوری لیکن تمہاری حرکتیں بھی تو اتنی عجیب ہیں میں اتنی شرمندہ ہوئی ہوں تمہاری وجہ سے اور پھر ارمغان بھائی نے کون سا تمہیں کچھ کہہ دیا۔۔”

وہ اسکو بازو سے پکڑ کر کھینچتی ہوئی واپس صوفے تک لائی اور خود بھی فاصلے پر بیٹھ گئی۔

“ارمغان بھائی نے کچھ نہیں کہا لیکن انکے سامنے وہ سب بولنے کی کوئی تُک نہیں بنتی تھی عِزہ۔ تم آرام سے مجھ سے بھی بات کر سکتی تھی تمہاری وجہ سے صرف تمہاری وجہ سے میرے آتے ہی وہ مجھے ڈانٹنے لگ گئے ۔”

وہ ابھی بھی خفا تھا عزہ نے ہونٹ دانتوں تلے دبایا

“اچھا نہ آئیندہ ایسا کچھ بھی نہیں کروں گی لیکن اگر تُم انسانوں کی طرح سوشل میڈیا یوز کرو گے تو۔۔”

وہ پہلے آرام سے بولی پھر اسے انگلی دکھا کر تنبیہہ کیا

“اب تُم مجھے سکھاؤ گی سوشل میڈیا یوز کرنا؟”

ہادی نے آئی برو اچکائی

“ظاہر ہے۔۔نئے بچوں کو سکھانا تو پڑا ہے”

وہ مزے سے بولتی صوفے سے ٹیک لگا گئی

“یہ کچرے کا ڈبا میرے ہاتھوں ٹوٹ جائے گا۔۔”

وہ سلگ اُٹھا

“کونسا کچرے کا ڈبا؟”

وہ نہ سمجھی سے بولی

“شکل تمہاری۔۔۔”

ہادی بولتا ہوا لاونج سے نکل گیا۔ عِزہ نے اسے گالیوں سے نوازہ

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *