Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Muntazirat Hastam (Episode 18)

Muntazirat Hastam by Neha Imtiaz

“یَشل اٹھ جاؤ اب۔۔۔”

نِشہ کی آواز پر وہ نیند سے بیدار ہوئی جو ٹیبل پر پڑا اپنا سامان اٹھا رہی تھی۔ یَشل ویسے ہی لیٹی اسے دیکھتی رہی۔

“میں تو رائد کے کمرے میں سوئی تھی نہ رات کو؟”

دل میں سوال ابھرا پھر عجیب سے احساس پر اسنے گردن پر ہاتھ رکھا اور وہاں کی سکن اسے بہت عجیب لگی۔ دھبے اور چھوٹے چھوٹے دانے۔ گردن سے فاصلہ تہ کرتی وہ چہرے تک آئی اور وہاں کا بھی وہی حال تھا۔ نشہ نے اسے دیکھا تو اسکی طرف آگئی تبھی یَشل سوال کرنے لگی۔

“ٹائم کیا ہوا ہے۔۔۔؟”

یَشل کے پورے جسم میں سو سو کر درد ہوگیا تھا۔

“بارہ بجنے والے ہیں۔۔۔”

اسکی بات سن کر یَشل کو شدید حیرت ہوئی اسنے گھڑیال کی طرف دیکھا تو واقعی ہی بارہ بج رہے تھے۔ اسے یاد تھا وہ تقریباً رات ایک بجے کے بعد سوئی تھی۔ اسے حیرت ہوئی وہ اتنے گھنٹے سوتی رہی تھی تبھی ہڈیوں میں بھی درد پڑ گیا تھا۔

“سکن پر کچھ ہوا ہے کیا؟ عجیب سی فیل ہورہی۔۔”

یَشل چہرے کو ہاتھ لگاتی ہوئی بولی تو نِشہ نے اسکا ہاتھ نیچے کیا

“تمہیں کچھ یاد نہیں۔۔؟” اسنے کچھ حیرت سے سوال کیا تو یشل نے ناسمجھی سے اسے دیکھا۔ پھر اٹھ کر بیٹھنا چاہا تو نشہ نے اسکی مدد کی۔

“تمہیں رات کو سکن ایلرجی ہوگئی تھی رائد ایمرجنسی میں لے کر گیا تھا تمہیں۔۔۔ہمیں خود صبح پتا لگا ہے۔ ڈیڑھ گھنٹا ہسپتال میں پڑی رہی ہو تم۔۔۔”

کمر کے پیچھے تکیہ سیٹ کرتے نِشہ بم پھوڑنے والے انداز میں بولتی ہوئی اٹھ گئی تو یَشل نے کی بچی کچی نیند بھک سے اڑ گئی

“مذاق کر رہی ہو نہ؟”

جتنے عام سے لہجے میں نشہ نے اسے بتایا تھا تو مذاق ہی لگ رہا تھا۔۔

“جی نہیں۔۔۔ آبی سے پوچھ لینا مجھ پر یقین نہیں تو”

اسکی بات کا جواب دیے بغیر یَشل نے فون تلاشنا چاہا جو سائڈ ٹیبل پر ہی پڑا تھا۔ کیمرا اوپن کرتے ہی اسنے اپنا چہرا دیکھا تو آنکھیں پھیل گئی۔

“یا میرے اللّٰہ۔۔۔”

آنکھوں کے سوجے ہوئے پپوٹے، ہلکا سا سرخ سوجا ہوا چہرا اور گردن۔۔۔اپنی یہ حالت دیکھتی تو اسکی جان ہوا ہوئی۔ زندگی میں کبھی اسے ایسی کوئی ایلرجی نہ ہوئی تھی۔

“یہ۔۔یہ کیسے ہوا؟” وہ ایک دم بوکھلا گئی

“اللّٰہ جانے ایسا کیا کردیا تمہارے میاں جی نے رات میں”

اسکے لہجے میں شرارت محسوس کرتے یشل نے پھاڑ کھانے والی نظروں سے اسے دیکھا

“نِشہ بکو مت۔۔ہائے اللّٰہ کتنی خوف ناک لگ رہی ہوں”

اس نے پٹی بندھا ہاتھ اوپر کرکہ چہرا چھونا چاہا

“خدا کا خوف کرو کچھ۔۔۔کیا خوف ناک ہے؟ دوائیاں کھاؤ گی تو ٹھیک ہو جاؤ گی”

نِشہ نے اسے گھورا

“چلو اٹھو اب اتنی بھی کوئی ٹانگ نہیں ٹوٹی تمہاری ناشتہ کرو پھر دوائیاں کھاؤ۔۔۔ تمہارے شوہر نامدار خاص خیال رکھنے کا کہہ کر گئے ہیں”

نِشہ نے اسکے پاس آتے بیڈ سے اٹھانا چاہا تو یشل اسکی چلتی زبان پر اسے گھور کر رہ گئی بیڈ سے بامُشکل اتر کر وہ نشہ کی مدد سے واشروم تک گئی۔

ناشتہ کرنے کے بعد عطیہ نے اسے دوائیاں کھلائی اور ساتھ ہی رات ایک بجے اپنی واپس کا بتایا

“کیا مطلب؟ آپ نے کہا تھا ایک دو دن تک واپس جائیں گے۔۔۔”

اسکا دل ڈوبنے لگا۔

“ہاں تو ایک دن گزر گیا نہ کل کا اور آج والا بھی گزر جائے گا”

عطیہ برتن سمیٹتے ہوئے کہا اور باہر چلی گئی۔

“آبی کو بلاؤ۔۔۔۔” اسنے نِشہ کو دیکھا جو مسکرا مسکرا کر فون استعمال کررہی تھی۔

“اچھا آبی آئیں گی تمہارے پاس۔۔اتنی نواب زادی ہو؟”

نِشہ کی بات پر یَشل نے چپ کرکہ اسے دیکھا تو نشہ کو احساس ہوا یَشل باجی چلنے پھرنے سے قاصر ہیں

“اچھا بھئی آنکھوں سے ہی نگل لو گی کیا ؟ جارہی ہوں۔۔”

وہ منہ بناتی باہر چلی گئی۔۔

☆ ★ ✮ ★ ☆

لان میں یہاں سے وہاں چکر کاٹتا گہری سوچ میں گم تھا۔ اسکی اور یَشل کی عادت ہوتی تھی ٹھنڈی راتوں میں ننگے پیر گھاس پر واک کرنا۔ وہی تھی جس نے ارمغان کو بھی یہ عادت ڈال دی تھی۔ اس کے بارے میں سوچتے اسے ایسا لگا جیسے وہ بھی اس کے ساتھ ساتھ قدم اٹھا رہی ہو مزید چند قدم چلا تو اسے اپنے پیچھے کسی کا احساس ہوا۔ پلٹنے پر پیچھے عزہ کو کھڑا پایا۔

وہ خاموشی سے اندر کی جانب بڑھا۔ عزہ چند لمحے کھڑی انگلیاں مروڑتی رہی پھر اسکے پیچھے چلی گئی۔ وہ ہال میں نہیں تھا۔۔کچن کی لائیٹ آن دیکھ کر ادھر ہی آگئی۔

“میں بنا دیتی۔۔۔”

اسکے ہاتھ میں کافی کی جار دیکھ کر وہ جلدی سے اسکی طرف آئی اور ہاتھ سے جار لے لی۔۔

“میرے ہاتھ نہیں ٹوٹے میں بنا لوں گا!”

اسنے کافی کی جار واپس لی تو عِزہ شرمندہ ہوگئی اور خاموشی سے جاکر کرسی پر بیٹھ گئی

“ارمغان۔۔۔”

“بولو۔۔”

وہ کافی اور چینی کو ایک کپ میں ڈال کر اسے کانٹے کی مدد سے بیٹ کر رہا تھا

“آئی ایم سوری۔۔۔”

کانٹے اور کپ کے آپس میں ٹکرانے کی آواز چند لمحوں کے لیے رک گئی

“کس لیے۔۔۔”

وہ جان کر انجان بن رہا تھا۔۔آواز دوبارہ شروع ہوگئی۔

“جو دوپہر میں ہوا اس کے لیے۔۔۔۔”

وہ خاموش رہا

“میں بہت زیادہ شرمندہ ہوں۔۔۔”

وہ سر جھکائے ہلکی آواز میں بولی۔ کافی بیٹ کرتے ارمغان کے کانوں تک اسکی آواز بامشکل پہنچی۔

“میں آج کے بعد جھوٹ نہیں بولوں گی۔۔۔”

کچھ دیر کی خاموشی کے بعد وہ دوبارہ بولی۔ ارمغان نے چولہے کی آگ جلائی اور دودھ ابالنے لگا۔

“مجھے آمنہ نے بھی ڈانٹا کہ مجھے جھوٹ نہیں بولنا چاہیے تھا۔۔۔مجھے نہیں یاد پہلے کبھی آپ نے اتنی بری طرح مجھے شرمندہ کیا ہو اور ڈانٹا ہو۔۔۔”

“میں مانتی ہوں میری غلطی تھی۔۔۔ مجھے لگا تھا اگر میں ایسے ہی کہیں چلنے کا کہوں گی تو آپ کو عجیب لگے گا کیونکہ ہم کبھی اتنے فرینک نہیں رہے مگر میں نے ہمیشہ آپ سے دوستی کرنا چاہی ہے۔۔۔ آپ ہی دور دور رہتے جیسے میں کوئی غیر ہوں۔۔”

ٹہرے ہوئے لہجے میں بولتے اسکی آواز رندھ گئی تھی۔ ارمغان کو اسکی ساری بات سن کر کچھ حیرت ہوئی جسے اسنے ظاہر نہ کیا۔۔ چند لمحوں بعد وہ دو کافی کے کپس لئیے اس کے سامنے بیٹھ گیا اور دھوئیں نکالتا کافی کا کپ اسکی طرف بڑھایا۔ عزہ نے آنسوؤں سے بھری آنکھیں اٹھا کر اسے دیکھا۔

“تم شرمندہ ہو اپنے کئیے پر؟”

وہ سنجیدگی سے سوال کر رہا تھا

“آپ کو ابھی بھی یقین نہیں۔۔۔”

اسکا اشارہ یقیناً اپنے آنسوؤں کی طرف تھا

“اگر تم واقعی شرمندہ ہو تو تمہیں اتنا کچھ کہنے کی ضرورت ہی نہیں۔۔۔”

“تو کیا آپ نے مجھے معاف کیا؟”

اسکے سوال پر ارمغان ہلکا سا سر اثبات میں ہلا گیا

“اتنا ڈانٹا تو تھا میں نے تمہیں اور تمہیں اپنی غلطی کا احساس بھی ہے۔۔۔اب معاف کرنے کے علاؤہ میرے پاس اور کوئی آپشن ہی نہیں۔۔”

وہ آخر میں کاندھے اچکا گیا تو عِزہ اسے دیکھتی رہ گئی۔۔۔ کتنا آسان تھا اس شخص کو منانا مگر مشکل تھا اس کے دل میں جگہ بنانا اور اسے جیت لینا۔ مگر وہ جانتی تھی جیسا وہ باہر سے ہے ویسا ہی اندر سے بھی ہے۔۔ایک یقین سا تھا اسے خود پر کہ وہ اسے جیت لے گی۔

“ایسے کیا دیکھ رہی؟ واقعی میرے دل میں تمہیں لے کر کوئی بات نہیں۔۔ بہرحال میں چلتا ہوں نیند آرہی”

وہ کافی کا کپ اٹھا کر ہلکی مسکراہٹ اسکی طرف اچھالتا کچن سے نکل گیا۔ عزہ کے ہونٹوں پر بھی خوبصورت مسکراہٹ نے احاطہ کیا۔

☆ ★ ✮ ★ ☆

“پلیز آبی آپ مت جائیں نہ۔۔۔”

ان کے سینے سے لگی وہ انہیں یہاں رکنے کے لیے منا رہی تھی مگر آبی ترس نہیں کھا رہی تھی۔ وہ سب لوگ اس کے کمرے میں موجود تھے کچھ دیر بعد ان کی فلائیٹ تھی۔

“یَشل میں کیسے رک سکتی ہوں؟ میں تمہارے کہنے پر آئی ضرور تھی مگر رک نہیں سکتی بچے۔ پرایا گھر ہے یہاں بسیرا کرلوں؟”

“میں بہت اکیلی ہو جاؤں گی۔۔۔ آپ سب ایک ساتھ کیوں جارہے؟” وہ رو دینے کو تھی۔ عدنان صاحب اسکی بات پر مسکرا دئیے۔

“لو بھئی۔۔تم کیا چاہتی ہو قسطوں میں جائیں؟”

صبیحہ کی بات پر اس نے منہ بناتے ہوئے اسے دیکھا

“اللّٰہ سے دعا کرو تمہاری ماں کو صحت دے پھر دیکھنا سب ٹھیک ہو جائے گا اور اکیلے کہاں ہو؟ پہلے میرے ساتھ رہا کرتی تھی اب تو رائد ہے گھر میں اتنے ملازم ہیں اور ضعیمہ کہہ رہی تھی کل آجائے گی پھر تمہارے ٹھیک ہونے تک یہیں رہے گی۔۔مجھے بھی روزانہ کال کرلیا کرنا نہ۔۔۔”

آبی کے سمجھانے پر وہ ان سے دور ہوئی۔۔ جتنی مرضی کوششیں کرلے اب انہوں نے نہیں رکنا تھا۔۔ضعیمہ آئے یا نہ آئے اسنے کون سا کسی کی کمی پوری کر لینی تھی اور رائد کی بات کر رہی تھی وہ۔۔اسی جلاد سے تو بچنا چاہ رہی تھی۔ ان سب کے جانے کے بعد اتنے بڑے گھر میں اس کے ساتھ رہنا۔۔جس نے کل نشہ کا لحاظ تک نہ کیا وہ اس کے ساتھ اکیلے میں کیا کرے گا سوچ سوچ کر اسے ہول اٹھ رہے تھے۔

“آپ کو کال کرنے سے کون سا آپ میرے پاس آجائیں گی۔۔۔”

وہ ادسی سے بولی۔ یہ تمام لوگ اس کے لیے بہت ضروری تھے ایک بھی پاس نہ ہوتا تو سکون نہ آتا تھا وہ ان کے بغیر کچھ نہ تھی اسے اس چیز کا احساس اس گھر میں آنے کے بعد ہوا تھا۔

“اچھا بس چپ کرو۔۔۔ایڈجسٹ کرنا سیکھو یشل۔۔اس گھر میں تمہاری زندگی گزرے گی تمہیں خود کو عادت ڈالنی ہوگی ان سب چیزوں کی۔ پریکٹیکل ہو کر سوچو۔۔وقت لگے گا مگر ٹھیک ہو جاؤ گی”

عدنان صاحب نے گفتگو میں حصہ لیا تو وہ خاموش ہی رہی۔ یہ گھر نہیں زندان تھا اس کے لیے۔

“اور ہاں خبر دار آئیندہ کے بعد تم نے الٹی سیدھی دوائیوں کا استعمال کیا ہے تو۔۔۔!”

عدنان صاحب سختی سے بولے تو اسنے حیرت سے انہیں دیکھا

“میں نے کون سی الٹی سیدھی دوائیاں کھائی ہیں؟”

اسنے الجھ کر سوال کیا.

“رائد نے بتایا تھا جو تم نے کل رات زبردستی دو پین کلرز کھائی تھی۔۔۔ بیوقوفی کی بھی حد ہوتی ہے”

عطیہ کی بات پر تو یشل کا منہ کھلا کا کھلا رہ گیا

“مگر ماموں میں نے تو۔۔۔”

“اچھا بس اب کچھ الٹا سیدھا مت کرنا اور چھلاوا مت بن جایا کرو سیڑھیاں چڑھتے ہوئے کسی دن ناک منہ تڑوا کر بیٹھ جاؤ گی”

آبی کی بات پر اسکا منہ مزید کھل گیا مطلب حد ہوگئی سب ہی اس پر چڑھائی کرنے میں لگے ہوئے تھے کسی کو رحم بھی نہیں آرہا تھا۔

“چلو بھئی دیر ہورہی ہے اب اس لڑکی نے تو فلائیٹ مس کروا دینی ہے۔۔۔”

صبیحہ کی بات پر وہ سب اپنی اپنی جگہ سے اٹھے

“میں بھی آپ لوگوں کے ساتھ باہر تک چلتی ہوں۔۔۔”

اسنے سیک ٹانگ بیڈ سے نیچے اتاری

“کوئی ضرورت نہیں۔۔۔درد ہے تمہیں ٹانگ میں باہر ملنے اور یہاں ملنے میں فرق ہی کیا ہے؟”

نشہ نے اسکی ٹانگ واپس بیڈ پر رکھی۔ وہ آنکھوں میں نمی لئیے اس ظالم سماج کو دیکھنے لگی۔

ایک ایک کرکہ سب اس سے ملنے لگے اور یَشل کی آنکھوں سے برسات ہونے لگی۔

“بس کرو ابھی سے اتنی کمزور پڑ رہی ہو آگے کیا کرو گی؟ اللّٰہ پر بھروسا رکھو وہ اپنے بندے کے لیے آسانیاں پیدا کرتا ہے۔۔۔”

عطیہ نے جھک کر اسکا ماتھا چوما اور آنسو صاف کئیے

“ارمغان کی فکر مت کرنا۔۔تمہارا نصیب یہی تھا خدا کی رضا میں راضی ہو جاؤ وہ سب ٹھیک کردے گا۔۔ زندگی میں آگے بڑھو۔۔”

نِشہ نے کان میں سرگوشی کرتے رخسار چوما اور آنسو صاف کیے۔

ان سب کے کمرے سے چلے جانے کے بعد وہ بچوں کی طرح بلک اٹھی تھی۔ کمرے کے در و دیوار کو بھی اس پر ترس آیا تھا۔

وہ خود کو روک نہ سکا اور سیدھا اس کے کمرے میں چلا آیا۔ توقعہ کے عین مطابق وہ رونے کا شغل زور و شور سے فرما رہی تھی۔وہ خاموشی سے اسکی طرف گیا اور ساتھ بیٹھ کر اسکے کندھے کے گرد بازو حائل کیا

“رو تو ایسے رہی ہو جیسے جیل میں ڈال دیا ہے تمہیں۔۔ میں ہوں نہ تمہارے ساتھ”

وہ نرمی سے بولتا اسکا بازو سہلانے لگا تو یَشل نے اس سے دور ہونا چاہا۔

“اب دور ہوکر کس کے پاس جاؤ گی؟ میرے علاؤ تو کوئی بھی نہیں ہے”

رائد نے اسکی کوشش ناکام بنائی

“رائد دفع ہو جاؤ یہاں سے۔۔”

وہ رندھی ہوئی آواز میں چیخی تو رائد کو بے اختیار ہنسی آئی جسے وہ دبا گیا۔

“اچھا کہاں جاؤں۔۔۔؟”

وہ اسکے بال گردن سے پیچھے کرتا سوال کر رہا تھا جب یشل نے اسکا ہاتھ جھٹکا

“بھاڑ میں جاؤ مگر یہاں سے جاؤ پلیز۔۔۔”

وہ رخسار رگڑنے لگی

“اوفف اوففف ایسے مت کرو مزید سکن خراب ہوگی۔۔۔” رائد نے اسکا ہاتھ نیچے کیا تو یَشل کو اسکا جھوٹ یاد آیا۔ رونا بھلائے وہ غصے سے اسے دیکھنے لگی

“شرم نہیں آتی تمہیں جھوٹ بولتے ہوئے؟”

اسکے اچانک رونا بھلا کر غصہ کرنے پر پہلے تو رائد کچھ سمجھ ہی نہ سکا۔

“کون سا جھوٹ بولا میں نے؟”

“یہی کہ وہ دونوں میڈیسنز میں نے اپنی مرضی سے کھائی تھی؟ تم نے کھلائی تھی مجھے زبردستی”

“زبردستی کب کھلائی؟ تم نے اپنی مرضی سے کھائی تھی”

اسکے کندھے سے بازو ہٹا کر وہ اپنے کندھے اچکا گیا۔ یَشل نے حیرت سے اسے جھوٹے انسان کو دیکھا

“تم نہ۔۔۔ آئندہ کے بعد اگر تم نے اپنا سستا میڈیکل مجھ پر جھاڑنے کی کوشش کی تو بہت برا کروں گی۔۔۔زندگی میں کبھی مجھے کوئی ایلرجی نہیں ہوئی چہرے پر اور صرف تمہاری وجہ سے بیڑا غرق ہوگیا ہے میری سکن کا۔۔۔”

یَشل کا تو یہ دکھ ہی نہیں ختم ہورہا تھا۔۔ رائد نے نظریں چرائی

“تمہیں اگر کوئی چیز سوٹ نہیں کرتی تو اس میں میری کوئی غلطی نہیں۔۔۔”

وہ اپنی غلطی ہرگز نہیں ماننا چاہتا تھا۔

“غلطی تمہاری ہی ہے۔۔میں نے نہیں کہا تھا کہ مجھے دوائیاں لا کر دو مر نہیں جاتی میں ذرا سے درد سے”

“یَشل فضول باتیں ذرا کم کیا کرو۔۔۔مر نہیں جاتی(نقل اتاری گئی) اگر مر جاتی تو؟”

رائد نے پہلے سنجیدہ ہوکر کہا اور آخری جملے میں اپنی مسکراہٹ دبائی۔ جبکہ یَشل کو تو اسکی بات اور انداز سے کوئی اور ہی یاد آگیا تھا۔۔اففف ناجانے یہ شخص اس جیسا کیوں تھا۔۔۔

“اچھا تم نے رات کا کھانا کھایا تھا؟”

“تمہیں فکر کرنے کی ضرورت نہیں ہے جاؤ یہاں سے مجھے سونا ہے۔۔”

“کل میرے ساتھ بہت سکون کی نیند سوئی تھی تم۔۔۔ آج میرے بغیر نیند آجائے گی۔۔۔؟”

رائد نے سکون سے یَشل کے اوپر بم پھوڑا تو اسنے پہلے نا سمجھی سے رائد کو دیکھا پر اسکی آنکھیں پھیل گئی۔

“تم۔۔۔کیا کہا؟”

رائد کو اس کے رییکشن پر بےاختیار ہی ہنسی آئی جسے وہ سنجیدگی کا لبادہ اوڑھتا چھپا گیا۔

“نہیں کچھ نہیں تم سوجاؤ۔۔۔”

وہ بیڈ سے اٹھ گیا

“رائد میں تمہارا۔۔۔” سمجھ ہی نہ آیا کیا کہے

“سر پھوڑ دوں گی۔۔۔” وہ چیخ اٹھی تھی۔ رائد نے قہقہہ لگایا۔ یَشل نے غصے سے سرخ چہرا لئیے اسے دیکھا جو رات کے اس پہر اس کا میٹر شاٹ کرنے میں کامیاب ہوا تھا۔

“مذاق کر رہا تھا یار میں تو صرف ایک گھنٹا لیٹا تھا پھر تمہیں اٹھا کر ایمرجنسی میں جانا پڑا۔۔۔سکون کی نیند نصیب ہوتے ہوتے رہ گئی۔۔۔”

وہ افسوس کرتا ہوا بولا تو یشل کا پارا ہائی ہوگیا۔

“نکلو یہاں سے۔۔۔”

اسنے باہر کی طرف اشارہ کیا تو رائد خاموشی سے اسکی طرف آیا اور اسکا چہرا ہاتھوں میں بھر لیا

“رونا مت۔۔۔سو جانا سکون سے”

پیار سے اسکا رخسار سہلاتا وہ کمرے سے نکل گیا۔۔۔

پیچھے یشل گرنے کے سے انداز میں لیٹ گئی۔

☆ ★ ✮ ★ ☆

ناشتے کی ٹیبل پر بیٹھا وہ مسلسل یہاں وہاں آنکھیں دوڑا رہا تھا اسکی یہ بیچینی ناشتہ کرتے افہام، قرت اور عدنان صاحب نے بھی محسوس کی تھی۔ عطیہ ان سب کو ناشتہ دے کر سونے چلی گئی تھی مگر عدنان صاحب کو آج آفس جانا تھا۔

“ابو۔۔۔” آخر کار اسنے عدنان صاحب کو مخاطب کر ہی لیا۔ انہوں نے چائے کا گھونٹ بھرتے سوالیہ سے ارمغان کو دیکھا ۔

“یَشل بھی آئی ہے نہ؟ اپنے گھر ہے کیا؟”

عدنان صاحب کے لیے اسکا سوال غیر متوقع ثابت ہوا

“ارمغان۔۔۔ اپنی ماں کو ہسپتال میں چھوڑ کر وہ یہاں آسکتی ہے؟ کامن سینس ہے؟”

ان کے سنجیدگی سے کہنے پر ارمغان چند لمحے کچھ کہہ نہ سکا۔

“مگر۔۔۔ نِشہ نے کہا تھا وہ آئے گی”

اسکے چہرے کے تاثرات بدل گئے

“نشہ نے کہا تھا ہم سب آرہے ہیں اسنے یَشل کا نام الگ سے نہیں لیا تھا اور تم خود عقل سے کام لو۔۔وہ کیسے آسکتی ہے؟”

ارمغان ایک بار پھر کچھ کہہ نہ سکا۔ ساری خوشی، بیچینی اور سکوں اڑن چھو ہوگیا۔ ایک رات میں اس نے کیا کچھ نہیں سوچ لیا تھا۔

“تو کب ہوں گی پھوپھو ٹھیک؟ آپ اسے گھر میں اکیلے کیسے چھوڑ آئے ہیں رائد ہے وہاں!!”

اچانک ہی اسکے غصے میں بولنے تینوں نفوسوں نے اسے دیکھا جس کے ماتھے پر بلوں کا جال تھا۔

“کیا مطلب ہے تمہارا کب ٹھیک ہوگی سکینہ؟ اور اگر وہ وہاں رہ رہی ہے تو اس میں چیخنے والی کون سی بات ہے؟”

انہوں نے جھڑکنے والے انداز میں کہا تو ان کی اس قدر بےفکری سے بولنے پر وہ تینوں اپنی اپنی جگہ حیران رہ گئے۔

“مگر بابا۔۔۔یَشل کا اس گھر میں رہنا مناسب نہیں پہلے تو سکینہ خالہ کی طبیعت بہتر تھی نہ اب ان کے گھر میں عادل انکل اور رائد کے علاؤہ ہوگا ہی کون؟ چند ملازمین؟ ان کے ہونے نہ ہونے سے تو کوئی فرق نہیں پڑتا۔۔۔”

قرت نے گفتگو میں حصہ لیتے کافی سمجھداری سے کہا۔ عدنان صاحب خاموشی سے چائے پیتے رہے۔ ان کے اس طرح اگنور کرنے پر قرت نے ہونٹ چبایا اور ارمغان کے اضطراب میں اضافہ ہوا۔ وہ چائے کا خالی کپ پر رکھتے اٹھ کھڑے ہوئے

“تم لوگوں کو پریشان ہونے کی ضرورت نہیں۔۔۔آفس سے واپس آکر تفصیلاً بات کرتے اس بارے میں۔۔۔”

وہ ارمغان کا کندھا تھپکتے باہر نکل گئے۔ ارمغان کی بیچین نظروں نے ان کو جاتے ہوئے دیکھا۔ دن کی شروعات ہی بہت بری ہوئی تھی۔

“چل اب فکر نہ کر۔۔سب ٹھیک ہو جائے گا اور میں آج بائیک پر جارہا تم گاڑی لے جانا”

پہلی بات ارمغان اور دوسری بات قرت کو دیکھ کر کہی گئی جو اسے کافی زیادہ محسوس ہوئی اور وہ اس بات کا مطلب بھی اچھے طریقے سے سمجھتی تھی۔

افہام شروع سے بائیک پر ہی آفس آنا جانا کرتا تھا مگر پھر قرت کو یونیورسٹی سے پک کرنے پر ارمغان نے اسے گاڑی لے جانے کو کہا اور بائیک چلانا یعنی قرت کو یونیورسٹی سے پک اینڈ ڈراپ نہیں دے گا۔

“مگر کیوں؟ قرت کو واپسی پر میں پک کروں گا کیا؟”

اسنے دونوں کو دیکھتے ہوئے سوال کیا۔

“شاید۔۔۔۔” افہام نے یک لفظی جواب دیا اور بائیک کی چاپی اٹھاتا باہر نکل گیا۔ ارمغان نے قرت کو دیکھا۔

“جی بھائی۔۔۔ میں کبھی جلدی فری ہوجاتی ہوں کبھی لیٹ۔ یونی جانے کا بھی کوئی ایک ٹائم نہیں ہے اس طرح انہیں بھی مشکل ہوتی مجھے بھی۔۔میری دوست ہمارے گھر کے راستے سے ہی گزرتی ہے اس کے ساتھ آجایا کرونگی اور ڈراپ آپ دے دینا۔۔۔۔”

اس نے تفصیلی جواب دیا تو ارمغان نے محض سر ہلانے پر اکتفاء کیا۔

☆ ★ ✮ ★ ☆

ضعیمہ کے سہارے وہ کمرے سے باہر آگئی تھی۔ کل کا پورا دن کمرے میں گزارنے کے بعد وہ شدید کوفت کا شکار ہوئی تھی۔ ناشتے کے دوران ضعیمہ سے پتا لگا کہ رائد یونیورسٹی چھوڑ کر عادل کے ساتھ بزنس جوائن کر رہا ہے۔

“کیا؟ مگر کیوں۔۔۔؟”

ضعیمہ کی بات سن کر اسنے سوال کیا۔

“کیوں کے اب اس کی بیگم آگئی ہے اور اس کا خرچا وہ خود اٹھانا چاہتا ہے۔۔”

ضعیمہ نے اسنے چھیڑنے والے انداز میں کہا تو وہ بدقت مسکرائی۔

“مگر اسکا مطلب یہ تو نہیں کہ پڑھائی چھوڑ دے وہ۔۔۔”

اسے تو اپنا ہی یونیورسٹی مس کرنے کا دکھ بہت تھا۔

“ارے پڑھائی تھوڑی چھوڑ رہا۔۔صرف یورنیورسٹی نہیں جائے گا پرائیویٹ کرے گا باقی سیمسٹرز۔۔۔کہہ رہا تھا آفس پر زیادہ دھیان دینا چاہتا ہے آج اسی سلسلے میں گیا ہوا ہے۔۔۔”

“وہ تو ٹھیک ہے لیکن اگر میری وجہ سے کر رہا ہے تو فائدہ نہیں۔۔ انشاللّٰہ ماما ٹھیک ہو جائیں گی تو میں نے واپس کراچی جانا ہے۔۔۔”

ضعیمہ کی بات کے جواب میں اس نے کہا تو وہ چونک کر اسے دیکھنے لگی۔۔۔

“کیا مطلب۔۔۔؟”

اسکے اس طرح چونکنے پر یَشل کو لگا وہ کچھ غلط کہہ گئی ہے

“مطلب۔۔ پڑھائی مکمل کرنی ہے نہ۔۔ابھی تو ماموں سے کہا ہے سیمسٹر فریز کروانے کے لیے مگر اس سیمسٹر کے ختم ہوتے ہی یونیورسٹی جوائن کرنی نہ۔۔۔”

اسکی بات پر چند لمحے ضعیمہ اسے دیکھتی رہی جو اب ناشتہ کر رہی تھی پھر خاموشی سے خود بھی ناشتہ کرنے لگی

رائد گھر واپس آیا تو یَشل کو دوائیاں کھلانے کے غرض سے اسکے کمرے میں چلا آیا۔ دوائیاں کھا کر اسنے رائد سے اس بارے میں بات کی۔

“تمہیں کوئی ضرورت نہیں پرائیویٹ پڑھائی کرنے کی۔۔۔تم لڑکی نہیں ہو”

“پرائیوٹ پڑھائی کا لڑکیوں سے کیا تعلق؟”

“ہے ناں۔۔مجبوری یا کسی دوسری وجہ سے لڑکیاں پرائیویٹ پڑھتی ہیں۔۔۔”

“جیسے تم۔۔۔؟”

اسکی بات پر یَشل سلگ اٹھی۔۔۔

“بکواس نہیں کرو رائد۔۔۔”

“یشل۔۔۔! شوہر ہوں میں تمہارا عزت کیا کرو جہنم میں جاؤ گی ورنہ”

رائد نے اسے سختی سے کہا

“کام بھی ایسے کیا کرو کہ عزت ملے۔۔۔”

اسنے سر جھٹکا۔۔۔

“اچھا پھر تم بتاؤ عزت والے کون سے کام ہوتے ہیں؟”

وہ اسکے قریب ہوا تو یَشل پیچھے ہوئی

“دور رہ کر بات کرو۔۔۔”

اسنے انگلی اٹھا کر وارن کیا

“مگر میں تو پاس آنا چاہتا ہوں۔۔”

رائد نے جھک کر اسکی انگلی چومی

“یہ کیا بدتمیزی ہے۔۔۔!”

وہ جھٹ سے ہاتھ نیچے کرکہ اسے گھورنے لگی۔ چہرا جھلس اٹھا تھا۔۔۔

“آپ میری محبت کو بدتمیزی نہیں کہہ سکتی ہیں۔۔”

رائد نے پیار سے اسکے گلابی ہوتے چہرے کو دیکھا

“محبت نہیں اسے بےشرمی کہتے ہیں۔۔” پہلے تو اسکے آپ کہنے پر حیران ہوئی پھر جتایا

“ابھی تو آپ نے کہا یہ بدتمیزی ہے۔۔۔”

“ہاں۔۔بدتمیزی ، بےشرمی ، بےحیائی اور بے۔۔۔”

وہ بولتے بولتے رک گئی

“ہاں ہاں کہہ دیں بےغیرتی بھی ہے!”

رائد جل بھن گیا

“رائد تنگ نہیں کرو۔۔۔”

وہ کچھ بےبس ہوئی۔۔۔اپنے قریب کھڑا یہ شخص اسے بیزار کر رہا تھا۔

“اچھا اتنی گندی شکل تو مت بناؤ۔۔۔”

رائد نے اسکا رخسار کھینچا اور اس کے ذہن میں ہر وہ لمحہ فلم کی طرح چلنے لگا جہاں ارمغان اسکا رخسار کھینچ رہا تھا۔ وہ ایک بار پھر سانس روکے کہیں گم ہوگئی۔ اس کو سوچتے ہوئے اب وہ اسے نظر آنے لگا۔ رائد کا چہرا ایک بار پھر بدلنے لگا۔ آنکھوں میں نرمی سمو کر رائد کو دیکھتی وہ بہت پیاری لگی تھی۔

“جب تم اس طرح دیکھتی ہو تو بہت پیاری لگتی ہو۔۔۔دل کرتا ہے میں تمہیں کھا جاؤں ۔۔۔”

رائد نے شرارت سے کہتے اسے اپنے قریب تر کیا تو یَشل کے ہونٹوں پر گہری مسکراہٹ بھکر گئی اور رائد کی حیرت کی انتہا نہ رہی۔

“کھا جاؤ۔۔۔۔”

وہ ویسی ہی گہری مسکراہٹ لئیے بولی تو رائد کی حیرت میں اضافہ ہوا۔

“خیریت ہے نہ۔۔۔؟”

وہ کچھ حیرت سے بولا تو یَشل خوبصورت ہنسی ہنس دی۔

“ہاں۔۔اتنے حیران کیوں ہو رہے؟”

وہ چمکتی مسکراتی آنکھوں سے سوال کرنے لگی۔

“کیونکہ تم حیران کر رہی ہو۔۔۔”

گہری نظر اس مسکراتے چہرے پر ڈال کر بولا تو یَشل ایک بار پھر ہنسی۔۔۔

“اچھا چھوڑیں مجھے کام ہے۔۔۔۔”

اسکی گرفت سے خود کو آزاد کرتی وہ پاؤں میں اٹھنے والا درد برداشت کرتی ہوئی ڈریسنگ ٹیبل کی طرف بڑھی مگر شیشے میں اپنے پیچھے نظر آنے والے رائد کو دیکھ کر ٹھٹک گئی۔۔وہ تیزی سے پلٹی اور وہ رائد ہی تھا جو اسے مسکرا کر دیکھ رہا تھا۔ اسے لگا وہ سانس نہیں کے سکے گی۔ زور سے آنکھیں میچ کر کھولی اور منظر ویسا ہی تھا۔۔رائد اسکی کیفیت نوٹ کرتا اسکی طرف بڑھا

“کیا ہوا۔۔۔؟ ٹھیک ہو؟”

اسنے کچھ کہنا چاہا مگر سن ہوتے دماغ کے ساتھ زبان بھی کنگ ہوگئی۔ دروازہ ناک ہوا تو دونوں اس طرف متوجہ ہوئے۔

“رائد۔۔۔اصغر (ضعیمہ کا شوہر رائد کا چاچو) بلا رہے ہیں تمہیں اور یَشل تم بھی آجاؤ عادل بھائی بھی تم دونوں کا پوچھ رہے تھے۔۔۔”

ضعیمہ کے سوال پر رائد نے سر ہلایا اور یَشل کی طرف دیکھا جو ایک نظر اس پر ڈال کر آگے جانے لگی تھی۔ رائد نے آگے جاتے اسے سہارا دیا۔

☆ ★ ✮ ★ ☆

آفس میں سارا دن اس کا بہت بیکار گزرا تھا۔ بیچینی ساتویں نہیں بلکہ آٹھویں آسمان پر جا پہنچی تھی۔ رہ رہ اسے وہ دن یاد آرہا تھا جب یَشل اس سے ویڈیو کال پر بات کر رہی تھی اور وہ منہ اٹھا کر اسکے کمرے میں چلا آیا تھا۔ سکینہ کے گھر میں ہوتے ہوئے اگر وہ ایسا کر سکتا تھا تو اس کے ہسپتال میں ایڈمٹ ہونے پر وہ اس سے بھی زیادہ کچھ کر سکتا تھا۔ ایسی ہی کئی سوچیں تھی جو اسے بیچین کئیے ہوئے تھی۔

آفس سے آتے ہی وہ سیدھا عدنان صاحب کے کمرے میں آیا اور وہ اسے اپنے ساتھ لئیے ہال میں آگئے۔۔۔

“نِشہ سب کو بلا لاؤ۔۔۔۔”

انہوں نے وہاں بیٹھی نِشہ کو مخاطب کیا تو وہ اٹھ کھڑی ہوئی اور عدنان صاحب کو دیکھا آنکھوں ہی آنکھوں میں روکنا چاہا جو قیامت اب گھر میں آنے والی تھی وہ اس سے بچنا چاہتی تھی اور ارمغان کو بھی بچانا چاہتی تھی مگر کب تک؟ آخر کو تو یہ ہونا ہی تھا۔

سب ہال میں جمع ہوئے تو افہام، عزہ، قرت، اور سب سے بڑھ کر ارمغان کا اشتعال بڑھا جبکہ ہادی نواب زادہ ہمیشہ کی طرح گھر سے غائب تھا۔

“ابو اب بتا دیں کہ کیا ہوا ہے۔۔۔یا گھر کے ملازمین کو بھی بلانا ہے؟”

قرت نے دوسرا جملہ کچھ شرارت سے کہا مگر سب کے چہروں پر ویسی ہی سنجیدگی دیکھ کر وہ خود بھی سنجیدہ ہوئی۔

“بتائیں پھر۔۔۔ یَشل کب آئے گی؟”

وہی بیچینی بھرا لہجہ۔ عطیہ نے ارمغان کو قرب سے دیکھا اور اسکے لیے دل ہی دل میں کتنی ہی دعائیں کر ڈالی۔

“وہ اب نہیں آئے گی۔۔۔”

عدنان صاحب نے سیدھے اور صاف لفظوں میں بات کرنا بہتر سمجھا کیونکہ کان یہاں سے پکڑو یا وہاں سے۔۔۔جو ہونا تھا وہ تو ویسے بھی ہوکر ہی رہنا تھا

“کیوں نہیں آئے گی۔۔۔؟ وہ اس شخص کے ساتھ اس گھر میں رہ رہی ہے آپ کو یہ بات سمجھ میں کیوں نہیں آرہی۔۔۔؟”

ارمغان بھڑک اٹھا جبکہ عزہ کو استعجاب نے آن گھیرا۔

“رائد کوئی ‘شخص’ نہیں ہے۔۔محرم ہے وہ اسکا!”

انہوں نے سیدھا سیدھا ان کے سروں ہر بم پھوڑا تھا۔ عطیہ نے آنکھیں بند کرلی جبکہ صبیحہ اور نشہ کی آنکھیں ارمغان پر ٹک گئی تھی

“کیا کہا آپ نے۔۔۔؟”

اسے لگا جیسے سننے میں غلطی ہوئی ہو اور ان تینوں کا بھی یہی حال تھا۔

“سکینہ کی خواہش پر ان دونوں کو نکاح ہوگیا ہے۔۔۔”

وہ زمین کو گھور کر بولے تو ارمغان کو لگا وہ سانس نہیں لے سکے گا۔ افہام اور عزہ کی آنکھیں پھیل گئی جبکہ قرت کا ہاتھ بےاختیار اپنے ہونٹوں پر گیا

“ہم نے تمہیں بتایا نہیں لیکن۔۔۔۔”

“یہ کیسے ہوسکتا ہے۔۔۔۔؟”

ان کی بات کاٹ کر وہ بدحواس ہوتا صوفے سے اٹھا

“ابو آپ۔۔۔مذاق ہے کیا؟”

اس کو بےاختیار ہنسی آئی جس طرح عدنان صاحب نے یہ بات بتائی تھی کوئی بھی ہوتا مذاق ہی سمجھتا

“مذاق نہیں ہے یہ۔۔۔تمہیں لگتا ہے میں ایسا مذاق کر

سکتا ہوں!!؟”

“جی ہاں آپ کر سکتے ہیں اور کر رہے ہیں کیونکہ آپ سے میں نے کہا تھا کہ جلد از جلد نکاح یا منگنی کرنا چاہتا ہوں میں اس سے۔۔۔!”

اسکی بات سن کر عِزہ کو اپنے اندر کچھ ٹوٹ کر بکھرتا ہوا محسوس ہوا۔

“اچھا واقعی ہوگیا ہے نہ نکاح؟ یَشل سے پوچھ لیتے ہیں۔۔۔”

وہ بولتا ہوا پی ٹی سی ایل کی طرف بڑھا جب ناچاہتے ہوئے بھی نشہ کو اسکا راستہ روکنا پڑا۔

“نِشہ دیکھ رہی ہو نہ کتنی فضول بات ہورہی ہے یہاں؟ تم بتاؤ ایسا کچھ نہیں ہوا۔۔۔ ہے ناں؟”

وہ حواس باختگی سے بولا تو نِشہ نے سر ہلاتے ہوئے اسے پیچھے کرنا چاہا

“اچھا ٹھیک ہے تم بیٹھو تو سہی۔۔۔”

“مجھے نہیں بیٹھنا۔۔۔!”

وہ ایک بار پھر چیخا

“ارمغان پلیز نہ میں بتاتی ہوں سب۔۔۔”

اسنے کندھوں سے اسے پیچھے کرتے ہوئے کہا اور پھاڑ کھانے والی نظروں سے افہام کو دیکھا تو وہ اپنی جگہ سے اٹھا اور ارمغان کو بازو سے پکڑتے زبردستی بٹھایا۔ ارمغان ان دونوں کے بازو جھٹک کر بیٹھ گیا

“بیٹھ گیا ہوں۔۔۔بولو اب۔۔۔”

ارمغان نے نشہ کو دیکھا تو وہ ہونٹ چبانے لگی۔ ارمغان کو یہ بات صرف وہی آرام سے بتا سکتی تھی مگر یہ زندگی کا مشکل ترین مرحلہ تھا۔ وہ ذہن میں لفظوں کو ترتیب دیتی بری طرح الجھ گئی

“کچھ پوچھ رہا ہوں میں۔۔۔۔”

وہ دھاڑا تو وہ سب ایک پل کے لیے سہم گئے

“تمیز سے بات کرو ارمغان۔۔۔!”

عدنان صاحب نے سختی سے کہا تو استہزائیہ ہنسا

“آپ کیسے ایکسپیکٹ کر سکتے ہیں کہ میں اب تمیز سے بات کروں گا؟”

براہ راست عدنان صاحب کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے اسنے کہا تو سب ہی پریشان ہوئے۔ ان دو باپ بیٹو کا غصہ یا تو ایسا ہوتا کہ ہنسی آجاتی یا پھر ایسا ہوتا کہ سب کی جان سولی پر لٹک جاتی۔

“ماموں پلیز مجھے بات کرنے دیں۔۔۔۔”

عدنان صاحب کے کچھ کہنے سے پہلے ہی نشہ بولی تو ناچار انہیں غصہ دبانا پڑا۔

“ارمغان۔۔۔حالات ایسے ہوگئے تھے۔۔۔ماموں۔۔۔ماموں ٹھیک کہہ رہے ہیں۔۔۔”

حلق میں کانٹے اگتے ہوئے محسوس ہوئے۔ ارمغان ںے بےیقینی کی کیفیت سے اسے دیکھا۔

“ادھر میری طرف دیکھو۔۔۔”

وہ کسی اور کا نہیں مگر یشل اور نِشہ کا چہرا پڑھ سکتا تھا۔ نِشہ نے اسکی طرف دیکھا تو اسکے تاثرات، چہرے پر ہلکا سا خوف، سچائی اور آنکھوں میں امڈنے والی نمی دیکھ کر ارمغان کو لگا جیسے کسی نے اس کا دل مٹھی میں جکڑ لیا ہو۔

“سکینہ خالہ نے زبردستی کروایا تھا۔۔ مطلب کہہ سکتے ہیں کہ انہوں نے اسے اپنی آخری خواہش بنا کر یَشل پر دباؤ ڈالا۔۔۔”

وہ حقیقتاً سانس لینا بھول کیا تھا جبکہ ان تینوں کی آنکھیں بھی حیرت سے پھٹی کی پھٹی رہ گئی

“جھ۔۔۔جھوٹ بول رہی ہو نہ؟”

اسے اپنی سماعت پر یقین نہ آرہا تھا آواز کسی کھائی سے آتی ہوئی محسوس ہوئی۔

“نہیں۔۔۔نہ تو میں جھوٹ بول رہی نہ ہی ماموں۔۔۔”

کہہ کر نِشہ نے میز پر رکھا اپنا موبائل اٹھایا اور چند لمحوں بعد ایک تصویر کھول کر اسکے سامنے کی۔

آنکھوں میں آنسوؤں کا سمندر لئیے سرخ ناک کے ساتھ سجی سنوری وہ کسی اور کی دلہن بنی بیٹھی تھی۔ ارمغان کو اپنے وجود سے جان نکلتی ہوئی محسوس ہوئی۔ اسنے کانپتے ہاتھوں سے نِشہ کا فون پکڑا مگر اسکے بے جان ہاتھوں سے چھوٹتا وہ زمین پر جا گرا۔۔۔

“یہ۔۔۔یہ نہیں ہو سکتا۔۔۔”

اسکے لب ہلے تھے۔۔

“کیوں ہونے دیا آپ نے۔۔۔؟”

وہ یکدم عطیہ کی طرف دیکھتا حلق کے بل چلایا تو نِشہ سہم کر پیچھے ہٹی۔

“ارمغان۔۔۔!!”

عدنان صاحب غصے میں اپنی جگہ سے اٹھے تو صبیحہ بھائی کی طرف بڑھی جبکہ عطیہ کی آنکھوں سے آنسو رواں ہوئے۔

“بس کر جائیں آپ۔۔۔! آپ نے کہا تھا کہ وہ واپس آئے گی ہماری منگنی کردیں گے اور وہاں اس کا نکاح کروا دیا؟ کیوں اسے ہمیشہ کے لیے وہاں چھوڑ آئے آپ؟”

آخری جملہ بولتے اسکی اونچی آواز رندھ گئی اور چیخنے پر چہرا سرخ ہوگیا۔ عِزہ دم سادھے کھڑی وہ سب سن رہی تھی جو اسے تکلیف دے رہا تھا۔ افہام نے آگے آکر اسے کنٹرول کرنا چاہا جسے وہ بری طرح جھٹک کر پیچھے کر گیا۔

“جب سکینہ پھوپھو نے اسے ماں بن کر پالا ہی نہیں تو وہ کون ہوتی ہیں ایسی خواہشات رکھنے والی؟ میری ماں نے اسکی پرورش کی تھی! یشل کی زندگی کا اتنا بڑا فیصلہ کرنا ان کا حق تھا! پھر آپ نے کیوں اسے ان کے حوالے کردیا جنہوں نے کبھی اسکی فکر نہیں کی اسکی حفاظت نہیں کی۔۔۔۔!”

وہ ایک ہی جست میں کہتا ہانپ گیا۔ آنکھوں میں شعلے بھڑک اٹھے تھے۔

“تمیز میں رہوں ارمغان۔۔۔۔”

عدنان صاحب کو اسکا غصہ ناگوارہ گزرا حالانکہ وہ خود کو اسکے ردعمل کے لیے تیار کئیے ہوئے تھے۔ انہوں ںے سوچا تھا وہ اسے ساری بھڑاس نکالنے دیں گے مگر انہیں غصہ آنے لگا تھا۔ شاید ندامت تھی یا کچھ اور۔۔ مگر وہ پہلے سے اضطراب میں تھے

“تو یہ بدتمیزی ہے؟یہ میرا ضبط ہے ابو۔۔کہ میں خود غلط الفاظ استعمال کرنے سے روکے ہوئے ہوں۔۔۔”

“ارمغان میرے بچے۔۔۔”

عطیہ اسکی طرف آنے لگی

“نہیں ہوں میں آپ کا بچہ۔۔۔سب جانتے ہوئے بھی اپنے بچوں کے ساتھ ایسا کون کرتا ہے؟”

“بھائی پلیز۔۔۔۔”

قرت اسکی طرف آئی۔ جانتی تھی وہ سب کو جھڑک سکتا تھا جھٹک سکتا تھا مگر اسے نہیں۔ وہ اسے دیکھنے لگا جو آنکھوں میں نمی لئیے ہوئے تھی۔

“گھر کا ماحول مت خراب کریں۔۔۔”

قرت نے اسکا ہاتھ پکڑا

“گھر کا ماحول ٹھیک رہے ۔۔جو میری زندگی خراب ہو گئی ہے اسکی فکر نہیں تمہیں؟”

قرت نے گہرا سانس لیتے خود کو رونے سے روکا

“ایسی بات نہیں ہے مگر پلیز بات سمجھیں۔۔۔”

“کیا یہ بات سمجھنے والی ہے؟”

“اگر نہیں بھی ہے تو تمہیں سمجھنا ہوگا ارمغان۔۔حالات کے آگے مجبور تھے ہم”

عدنان صاحب اس بار کچھ نرمی سے بولے تو اسکے ہونٹوں پر طنزیہ مسکراہٹ آکر غائب ہوگئی

“خود کے پیدا کردہ حالات کے سامنے مجبور تھے آپ؟”

لہجہ بھی طنزیہ تھا۔

“یہ جو ظلم آپ لوگوں نے کیا ہے نہ ۔۔مرنے کے بعد بھی نہیں بھولوں گا۔۔۔۔دو زندگیاں برباد ہوگئی ہیں”

اسکی آواز ایک بار پھر اونچی ہوگئی۔ وہ ان سب پر زخمی نظر ڈالتا باہر کی طرف بڑھا

“افہام جاؤ اس کے پیچھے۔۔۔”

صبیحہ کے کہنے سے پہلے ہی افہام اسکے پیچھے گیا۔

باقی سب کے چہروں پر نظر ڈالو تو عطیہ کا چہرا بھیگ گیا تھا آنکھوں سے گرم سیال بہتا چلا جارہا تھا۔ عدنان اپنی آنکھوں میں نظر آتی ندامت اور بیٹے کے لیے ترس چھپاتے کمرے کی جانب بڑھے۔ نِشہ کمال ضبط کا مظاہرہ کرتی عطیہ کو حوصلہ دے رہی تھی قرت اور صبیحہ تو صوفے پر ڈھ گئی ٹھی اور پیاری عزہ۔۔۔ ابھی تک وہ شاک کی کیفیت میں کھڑی تھی جیسے یقین کرنا چاہ رہی ہو کہ واقعی۔۔۔اسکی محبت کی محبت کسی اور کی محرم بن گئی ہے۔ مصلہ بچھائے بغیر ہی سب سہل ہوا تھا۔ یَشل کے لیے ارمغان کا یہ انداز دیکھ کر جو دل اس کا ٹوٹا تھا اسے بھلائے وہ یقین کرنے کی کوشش میں تھی کہ یہ خواب نہیں حقیقت تھی۔ وہ جیسا چاہتی تھی ویسا ہوا تھا۔ یَشل اس گھر کی نہیں رہی تھی۔ اس نے واپس نہیں آنا تھا۔۔۔

جاری ہے۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *