Muntazirat Hastam by Neha Imtiaz NovelR50532 Muntazirat Hastam (Episode 23)
Rate this Novel
Muntazirat Hastam (Episode 23)
Muntazirat Hastam by Neha Imtiaz
ولیمے کی اگلی صبح ہونے والی سکینہ کی موت پر گھر میں صفِ ماتم بچھ گیا تھا۔ سفید کفن میں لپٹے سکینہ کے مردہ وجود نے گھر میں چیخ و پُکار برپا کردیا تھا۔
ٹی وی اور سوشل میڈیا پر نشر ہوتی خبریں دیکھ کر لوگ پہلے حیران ہوتے پھر افسوس کا اظہار کرتے
“کل ہی تو اتنا بڑا ولیمے کا فنگشن کیا تھا اسنے بیٹے کا اور آج خدا نے سانس چھین لی۔ یہی ہے زندگی…”
“جانتی ہوتی زندگی نہیں بچی تبھی تو ہسپتال سے نکلتے ہی جھٹ پٹ بہو لے آئی۔۔”
اب وہ جو “بہو” لے آئی تھی در حقیقت اسی کی سگی اولاد تھی اس بات سے تو فلحال سبھی بےخبر تھے۔۔گھر کے نچلے حصے میں لوگ چونٹیوں کی مانند جمع تھے۔ ڈاکٹر کے اطلاع دینے پر کوئی بھی یقین کرنے کو تیار نہ تھا مگر جب میت کو گھر لایا تو سب کی آنکھوں سے آنسوؤں کا ایک سمندر رواں ہوگیا۔
یَشل کی چیخ و پکار نے سب کے دل دہلا دیئے تھے۔ جہاں اسکی حالت دیکھتے گھر والوں کا کلیجہ منہ کو آیا تھا وہیں افسوس کے لیے آئی عورتیں حیرت سے اس کل کی آئی دلہن کو دیکھ رہے تھے جو اس رش میں میت کے پاس بیٹھی سب سے زیادہ عیاں ہوتی لوگوں کی توجہ کا مرکز اور چہ مگوئیاں کرنے کا باعث بن رہی تھی۔
جب میت کو چار کندھوں پر اٹھایا گیا تو وہ ہوش و ہواس سے بیگانہ ہوتی بانہوں میں جھول گئی۔ ڈاکٹرز کا کہنا تھا صبح سات بجے سکینہ کا کی ڈیتھ ہوئی تھی،، نو سے پانچ تک میت کو گھر کے صحن میں رکھا گیا تھا،،، عصر کے بعد نمازِ جنازہ اور تدفین کی گئی تھی۔
بہت کوششوں کے بعد بھی ارمغان کو ٹکٹ نہ ملی تھی سو عدنان صاحب نے بھی اسے آنے سے منع کردیا۔ اس نے کال کرکہ رائد سے نہیں مگر عادل سے افسوس کا اظہار اور معذرت کرلی تھی۔ سکینہ کے انتقال کی خبر نے اسکو بھی سناٹوں میں دھکیل دیا تھا۔ ٹی وی کے سامنے بیٹھا وہ مسلسل اس گھر میں رہنے والے مکینوں کا ہی نام سنتا رہا تھا، نہ صرف نام بلکہ ان کے چہرے بھی جن میں یَشل کا آنسوؤں سے تر چہرا بھی بار بار دکھایا جارہا تھا۔ ارمغان ایک بار پھر دل چاہا وہ اڑ کر اس کے پاس پہنچ جائے اور اسے سمیٹ کر خود میں چھپا لے۔غصہ اور غم دونوں تھے۔ یشل کو سکینہ کا ہی اداکار ہونا نہ گوارہ گزرتا تھا اسے شاید اندازہ نہیں تھا کہ سکینہ کی بہو اور رائد کی بیوی کی حیثیت سے روتی ہوئی کئی بار ٹی وی پر دکھائی گئی تھی اور سوشل میڈیا پر وائرل ہوتی ویڈیوز کا بھی اسے اندازہ نہ تھا۔ ارمغان کو یہ سب ناگوارہ گزرا تھا یقیناً اسے خود کو بھی اچھا نہ لگتا۔ صبر کا دامن چھوٹنے لگا تو اسنے ٹی وی بند کرتے آنکھیں چھپکائی۔
زندگی اچانک ہی بدل گئی تھی، وہ جو لڑکی سب سے قریب ہوتی تھی آج اسکی یادوں اور تصویروں کے سوا کچھ نہ تھا۔ دل تو پہلے بھی اپنا نہ تھا اب وجود بھی پرایا سا لگنے لگا تھا۔ تیزی سے چلنے والا دماغ اچانک ہی خالی سا ہوگیا تھا دل تو صرف اسکے نام اور یاد پر ہی دھڑکتا تھا۔ پتا نہیں یہ اذیت کب تک برداشت کرنی تھی۔
یشل کو اگلے دن ہوش آیا تو نرم گرم بستر میں چھپی وہ اپنے کمرے میں تھی۔ قریب ہی عزہ بیٹھی شاید سپارہ پڑھ رہی تھی۔ سکینہ کا خیال آتے ہی وہ حواس باختہ ہوتی اٹھ بیٹھی۔ نقاہت اور وجود میں درد اس قدر تھا کہ کسی نے بیہوشی میں کوڑے برسا دئیے ہوں۔ پور پور بخار کی حدت سے جل رہا تھا۔ عزہ کے بامشکل اسے سنبھالنے پر وہ اسی کی بانہوں میں بلک کر روتی اسکا چہرا بھی بھگو گئی۔ سکینہ کو گولی لگنے سے لےکر اب تک ملنے والی تکلیفوں نے اسے توڑ پھوڑ کر رکھ دیا تھا مگر اسکا رونا یہیں تک تھا۔ رو رو کر اسنے اپنے آنسو حقیقتاً ختم لئیے تھے۔ سوجھی ہوئی آنکھوں میں ویرانی نہیں وحشت بھی تھی۔۔۔عجیب سی وحشت اور سرد پن۔۔ آنکھیں نم تو ہوتی مگر رخسار نہ بھگوتی۔ اسکا ضبط، اسکا پتھر ہوجانا اسکے رونے اور اور ہوش و حواس کھونے سے زیادہ پریشان کن تھا۔ وہ روتی، چیختی، چلاتی مگر یوں خاموشی نہ ہوتی۔ اسکا یہ ضبط سب سے بڑھ کر رائد کو خوف زدہ کر رہا تھا۔
ایک ہفتے بعد نہ چاہتے ہوئے بھی عدنان صاحب اور افہام کا آفس، نشہ، ہادی، قرت اور عزہ کی پڑھائی کے باعث انہیں واپس جانا پڑا تھا مگر صبیحہ اور عطیہ کو عدنان صاحب نے یہیں رہنے کو کہا تھا کیونکہ ان کا یہاں رکنا ضروری تھا۔ یشل کی حالت، ہمہ وقت رہنے والی لوگوں اور رشتےداروں کی ریل پیل، ضعیمہ کے لیے سب کچھ اکیلے سنبھالنا بہت مشکل ہوجاتا۔ وہ کسی عام سکینہ کی نہیں بلکہ دلوں پر راج کرنے والی اداکارہ سکینہ کی موت تھی۔ گھر ایک پل کو بھی خالی نہ ہوتا صرف رات کا وقت گھر میں کچھ خاموشی ہوتی اور سکون ہوتا مگر دور دراز سے آئے رشتے دار بھی یہیں رکے تھے۔ ملازموں کی بھی کام کر کر کے ٹانگیں دکھنے لگی تھی۔
ان سب کو دیکھتے یشل کو اتنی وحشت ہوتی کہ ہفتہ ہوگیا ہوش میں آنے کہ بعد صرف ایک بار باہر آئی تھی اور پھر اسنے کمرے سے باہر قدم نہ رکھا لوگ پوچھتے رہ گئے مگر وہ تو جیسے زمیں سے ہی غائب ہوئی تھی۔
اسکی حالت نے رائد کو جھنجوڑ کر رکھ دیا تھا۔ نہ وہ روتی تھی، نہ بات کرتی، نہ کوئی تاثر دیتی برف کا مجسمہ لگتی تھی۔ رنگت ایک دم ہی زرد اور پھیکی ہوئی تھی مگر رائد کی حالت دیکھتے یشل کو وہ پہلے والا رائد نہ لگا تھا۔ دور سے دیکھنے والے اسے رائد کا ہم شکل مان لیتے۔ چار دن تو وہ یشل کو دِکھا ہی نہ پھر جب آیا تو اسکی وجیہہ شخصیت کہیں نہ تھی۔ کمزور وجود، سوجھی آنکھیں، مرجھایا زرد چہرا اور کھوکھلے سے وجود کے ساتھ کمرے میں آیا تھا۔ خوبصورت چہرے پر آنکھوں کے گرد حلقے دیکھتے ہی دل مسوس جاتا۔ ان دونوں نے اپنی اپنی ماں کھوئی تھی اور ان دونوں نے ہی ایک دوسرے کو سنبھالنا تھا۔ خدا نے انہیں ایک دوسرے کا ہمسفر متعین کیا تھا، سب کے چلے جانے کے بعد دکھ سکھ کا کوئی ساتھی بچتا تھا عادل کے سوا وہ دونوں ہی تھے۔
☆ ★ ✮ ★ ☆
“کیسی ہے وہ۔۔۔۔؟”
دل کے ہاتھوں مجبور ہوتے اسنے عطیہ سے وہ سوال کر ہی لیا۔
“مرجھائے ہوئے گلاب جیسی۔۔۔”
لاونج میں بیٹھے انہوں نے کمرے کے کھلے دروازے سے سکون سے سوئی یَشل کی جانب دیکھا تھا۔ رات کے بارہ بج رہے تھے مگر روٹین بدل کر رہ گئی تھی۔ رات گئے تک وہ سب بیٹھی سکینہ کو بخشتی رہتی۔ یَشل کو کبھی سلیپنگ پل دینی پڑتی تو کبھی آبی اسکے بالوں میں ہاتھ پھیر کر سکون دیتی پھر وہ خود ہی نیند سے بوجھل آنکھیں بند کرتی غنودگی میں چلی جاتی۔
“طبیعت ٹھیک نہیں اسکی؟”
وہ یقینا اسکے متعلق تفصیلی جواب چاہتا تھا
“نہیں۔۔بخار جاتا ہی نہیں،،پچھلے دس دنوں میں سات مرتبہ تو نیند کی دوائی لے چکی ہے۔ کھانا بھی میں زبردستی کھلاتی ہوں”
(کھانا کھلانا رائد کا کام تھا۔۔)
“اپنی یشل تو لگتی ہی نہیں۔۔ خدا اسکے لیے آسانی کرے پتا نہیں یک بعد دیگر ملنے والی اذیتیں کیسے برداشت کر رہی ہے۔۔ نہ روتی ہے نہ ہی کچھ کہتی ہے پتا نہیں کیسے کر رہی اتنا صبر۔۔”
عطیہ کی آواز رندھ گئی تھی،،ارمغان کو اپنا دل ڈوبتا ہوا محسوس ہوا۔
“آپ اسکا خیال رکھیں نہ۔۔۔”
“تم فکر مت کرو میری جان۔۔۔وقت لگتا ہے ہر چیز میں وہ ٹھیک ہو جائے گی۔۔”
ہونٹ چباتے ہوئے اسنے بات سنی پھر سر اثبات میں ہلا دیا۔
“آپ کب آرہی ہیں۔۔۔؟”
دل میں اٹھتا درد محسوس کرکہ اسنے ٹاپک بدل دیا
“ضعیمہ تو کہہ رہی تھی وہ کرلے گی مگر رشتے دار ابھی تک تہیں ہیں اسے مشکل ہوگی بس یہ ذرا کم ہو جائیں یَشل بھی کچھ بہتر ہوجائے تو آجاؤں گی۔۔ آبی کو تو کل اصغر (آبی کا بیٹا) انہیں لینے آرہا ہے،،رضیہ اور بریرہ (اصغر کی بیوی اور بریرہ بیٹی) بھی ساتھ آئیں گی۔ ایک دن یہاں رکیں گے پھر آبی کے ساتھ چلے جائیں گے۔۔”
عطیہ نے اسے خاصہ تفصیل سے بتایا تو ارمغان خاموش رہا۔۔۔
“اچھا۔۔۔پھر بات کرتا ہوں نیند آرہی۔۔”
الوداعی کلمات ادا کرتے اسنے فون سائیڈ پر رکھا اور کروٹ لیتے سائیڈ ٹیبل پر پڑے فریم کو دیکھنے لگا۔۔چہرے پر بھرپور مسکراہٹ لئیے اسکے ساتھ کھڑی تھی۔ گردن میں وہ جھولتا وہ سرخ موتی بھی واضح تھا۔ گزری عید پر بنائی گئی یہ چند تصویریں ہی اسکے ساتھ بنائی گئی آخری یادیں تھی۔ اسکو دیکھ کر سکون حاصل کرتا وہ کب نیند کی وادیوں میں اترا اسے اندازہ بھی نہ ہوا۔
☆ ★ ✮ ★ ☆
دسمبر کی سردیاں ہر طرف اپنی چادر پھیلائے ہوئے تھی۔ سب کی زندگی اپنے ڈگر پر چلنے لگی تھی۔ گھر میں اگر کچھ بچا تھا تو یادیں اور ویرانیاں ہی تھی۔ اسے گھر میں چلتے پھرتے پہلے صرف ایک عکس نظر آتا تھا مگر اب۔۔دوسرا بھی کہیں کہیں نظر آنے لگا تھا۔ سب نے کہا تھا وقت لگے گا زندگی سہل ہو جائے گی۔ تین مہینے ہونے کو آئے تھے سکینہ ابدی نیند سو گئی تھی اور چار ماہ سے وہ اس گھر میں رائد کی بیوی کی حیثیت سے رہ رہی تھی مگر زندگی ذرا برابر بھی سہل نہ ہوئی تھی البتہ پہلے سے زیادہ کٹھن ضرور ہوگئی تھی۔ اسے لگا تھا وہ خوبصورت الیوژن ختم ہو جائے گا مگر یہ اسکی غلط فہمی تھی کیونکہ اسکا چہرا پہلے سے زیادہ نظر آنے لگا تھا اب تو سکینہ کی آواز بھی کانوں میں گونجنے لگی تھی۔ رائد نو بجے آفس جاتا اور دو تک واپس آجاتا اور واپس آتا تو وہ اسے کچن میں گم سم سی کھڑی کام کرتی نظر آتی۔ خود کو مصروف رکھنے کا یہی طریقہ تھا۔
“میرے واپس آنے سے پہلے تو کمرے میں چلی جایا کرو۔۔ بیوی جب شوہر کا انتظار کرتی ہے تو شوہر خوش ہوتا ہے۔۔”
وہ شیلف کے پاس کھڑی پیاز کاٹ رہی تھی جب رائد نے اس کو پیچھے سے حصار میں لیا۔۔ اسکی اچانک آماد پر سوچوں سے نکلتی وہ چونکی تھی۔ جبکہ ملازمہ رائد کو آتا دیکھ کر کچن سے ہمیشہ کی طرح غائب ہوئی تھی
“شوہر کا اس وقت کون انتظار کرتا ہے؟ یہ کھانا بنانے کا وقت ہے”
اسے کیا بتاتی انتظار تو وہ بھی کرتی تھی مگر اسکا نہیں۔۔۔یشل کے ہاتھ پیاز والے نہ ہوتے تو وہ ضرور اسکا حصار توڑ دیتی۔۔
“میں تمہارے لیے ہی تو جلدی آتا ہوں جانِ رائد۔۔۔خوشی کا اظہار بھی کرلیا کرو مجھے دیکھ کر”
رائد کچھ خفا ہوا تھا۔۔
“”آپ کو دیکھ کر خوشی ہوئی۔۔۔”
احساس سے عاری لہجے میں بولتے اس نے تو رائد کو آگ ہی لگا دی
“یہ کیسا اظہار ہے؟ تمہیں پیار کرنا بھی سکھانا پڑے گا اب؟”
جل کر کہتے اسنے یشل کے گرد بندھے بازو ہٹائے تو یشل کو جیسے آزادی سی محسوس ہوئی۔
“تمہیں آتا ہے نہ پیار کرنا۔۔کافی ہے”
اسکی سنجیدگی سے کہی گئی بات کو وہ کافی ذومعنی انداز میں لے گیا تھا۔
“تو تم چاہتی ہو میں تمہیں پیار کروں؟”
اسنے شریر لہجے میں کہتے دائیں بائیں ہاتھ شیلف پر ٹکاتے جیسے اسے قید کیا تھا۔ پیاز کاٹتا یشل کا ہاتھ رک گیا
“پیار کے بغیر بھی زندگی گزاری جاسکتی ہے۔۔”
آبی کا پڑھایا یہ سبق اسے پل پل یاد رہتا تھا۔بےحد قریب کھڑے رائد کی جانب مڑتے اسنے وہی سبق اسے بھی پڑھانا چاہا
“تمہیں ابھی تک مجھ سے پیار نہیں ہوا۔۔؟”
پیاز کاٹنے سے رخسار پر بہتا خارہ پانی رائد نے بڑی نرمی سے صاف کیا تھا۔
“نہیں ہوا۔۔۔!”
وہ کہنا چاہتی تھی مگر اس گھر میں رہتے اسے اس رشتے کی ضرورت تھی۔ وہ شوہر تھا اس کا اسے بدگمان کرنا اسکی زندگی کی سب سے بڑی غلطی ثابت ہوسکتی تھی۔ اسنے دو ماہ میں نہ تو نفرت کا اظہار کیا تھا نہ ہی محبت کا۔ نفرت ویسے بھی بچی ہی نہ تھی مگر محبت تو کیا۔۔ذرا سی کشش کا احساس بھی ابھی تک نہ ہوا تھا۔
“تم کیا سوچنے لگ جاتی ہو یار۔۔۔”
وہ اسکے ہمیشہ کی طرح غائب ہوجانے پر زچ ہوا تھا۔
“وہ۔۔۔وہ صبح کوریئر والا کچھ دے کر گیا تھا تمہارے لیے وہی یاد کر رہی تھی کہ کہاں رکھا ہے۔۔روم کی ڈریسنگ ٹیبل پر رکھا تھا شاید۔۔تم نے دیکھا؟”
کوریئر یاد آتے ہی اسنے فوراً سے بات گھمائی تھی۔
“ڈریسنگ پر؟ میرا نہیں خیال کہ کچھ پڑا تھا۔۔۔”
رائد نے ذہن پر زور دیا مگر ڈریسنگ پر پڑا کچھ بھی اسے یاد نہ آیا۔
“اچھا۔۔۔ لاونج میں دیکھ لو”
اسنے انگلی سے باہر کی جانب اشارہ کیا
“تم چاہتی ہو میں یہاں سے چلا جاؤں۔۔۔؟”
وہ مزید خفا ہوا
“کچن میں کھڑے ہوکر کیا کرو گے؟”
“باہر سردی ہے یار۔۔۔کچن کچھ گرم ہے۔۔۔”
دسمبر کا مہینہ تھا،،سردی تو واقعی زیادہ ہوگئی تھی۔ رائد وہیں سائڈ پر پڑی چئیر پر بیٹھ گیا
“کھانا بننے میں کچھ وقت ہے۔۔ کافی بنوا دوں؟”
اسنے دوبارہ پیاز کاٹنا شروع کئیے
“اگرتم بنا کر دو گی تو ٹھیک ہے۔۔۔”
اسکا ہاتھ تھما تھا۔۔
“میں صرف یَشل کے ہاتھ ہی کافی پیوں گا۔۔۔”
ذہن میں ایک دل چھو لینے والی آواز کے ساتھ چہرا بھی ابھرا تھا۔۔پل میں یشل نے پل میں ذہن جھٹکا
“میرے ہاتھ صاف نہیں رائد۔۔”
اسنے دیگچی میں پیاز ڈالے اور میڈ کو آواز دیتے کافی بنانے کا کہا۔
“میں چینج کرکہ آتا ہوں۔۔۔”
وہ کچن سے نکلا تو یشل نے پلٹ کر اسے دیکھا جب تک وہ نظروں سے اوجھل نہ ہوا۔ وہ شخص اس پر سب لٹانے کو تیار تھا اور لٹا بھی رہا تھا مگر بدلے میں اسے مکمل توجہ بھی نہ دے رہی تھی،،شاید اسے رائد پر افسوس ہوا تھا۔
☆ ★ ✮ ★ ☆
“امی پلیز۔۔ آپ مجھے فورس نہیں کر سکتی ہیں۔۔۔!”
صبیحہ کی مسلسل باتیں سنتے افہام کا صبر جواب دے گیا۔
“فورس کہاں کر رہی ہوں بھئی۔۔۔! تم ہی بلاوجہ کی ضد لگائے بیٹھے ہو،،،تم نے تو عقل بیچ کھائی کے خدا جانے کیا ارادے ہیں مگر میں تو ماں ہوں مجھے تو ہے نہ تمہاری شادی کی فکر اور اب جب اتنی اچھی بھلی لڑکی ہے تو مسئلہ کیا ہے آخر تمہیں؟ میں نے تمہیں پہلے ہی کہہ دیا تھا اگر تم نے لڑکی پسند نہ کی تو میں خود کرلوں گی اور اب کرلی ہے کچھ نہیں سنوں گی میں۔۔۔!”
صبیحہ کو اسکی ضد ، انکار اور بہانے ایک آنکھ نہ بھائے تبھی اسے سنا ڈالی اور کڑے لہجے میں اسے اپنے ارادوں سے آگاہ بھی کیا۔
“میری عمر نکلی جارہی ہے کیا۔۔؟”
غیر ارادی طور پر آواز اونچی ہوئی
“افہام۔۔۔! مسئلہ کیا ہے آخر تمہیں شادی سے؟”
انوشہ نے زچ ہوتے سوال کیا تھا۔
“تم تو خاموش ہی رہو۔۔۔ امی کو سمجھانے کے بجائے مجھے بول رہی ہو۔۔ان سے پوچھو نہ آخر اتنی کیا جلدی ہے میری شادی کی؟”
“کہاں کر رہی ہیں یار شادی؟ رشتہ تو ہوا نہیں اور سکینہ خالہ کی ڈیتھ کو ٹائم ہی کتنا ہوا ہے؟ تمہیں لگتا ہے شادی ہوسکتی ہے؟”
اسکا دل کیا تھا وہ افہام کا ماتھا پیٹ دے۔ جو انوشہ اس سے اگلوانہ چاہ رہی تھی وہ تو اگل نہیں رہا تھا بس بلاوجہ کی بحث کئیے جارہا تھا۔
“وٹ ایور۔۔!! نہ تو مجھے شادی میں دلچسپی ہے نہ ہی رشتہ پکا کرنے میں۔۔۔اگر آپ نے زور زبردستی کرنا چاہی تو میں جاب ٹرانسفر کروا لوں گا آپ کو بتا رہا ہوں۔۔”
وہ بولتا ہوا لمبے لمبے ڈگ بھرتا کمرے سے نکل گیا تھا۔ نشہ نے صبیحہ کی طرف دیکھا تو چہرا تاریک تھا۔ افہام نے پہلی بار صبیحہ کے ساتھ ایسا ناگوارہ لہجہ اپنایا تھا اور بدلحاظی کا مظاہرہ کیا تھا
“امی پریشان مت ہوں۔۔۔ آپ دیکھیے گا میں اس کو سیدھا کیسے کرتی ہوں”
اسنے صبیحہ کو حوصلہ دینا چاہا۔
سخت خراب موڈ کے ساتھ وہ کمبل ٹانگوں پر ڈالے لیپ ٹاپ پر کام کرنے میں مصروف تھا جب ارمغان کمرے میں داخل ہوا۔
“کس بات پر پھپھو سے لڑ رہے تھے تم۔۔۔؟”
وہ کم ہی خود سے کسی کو مخاطب کیا کرتا تھا تبھی افہام نے خراب موڈ کے ساتھ ہی جواب دینا ضروری سمجھا
“بہو لانا چاہ رہی ہیں پھپھو تمہاری۔۔۔”
“تو اس میں اتنی بھڑکنے والی کیا بات تھی؟ پچیس سال کا تُو ہونے والا ہے اور کب کرنی ہے شادی؟”
ارمغان نے ایک نظر اس پر ڈالتے ہوئے کہا اور جیکٹ کی زپ کھولی
“تم کرلو نہ اگر اتنا ہی انکی بات ماننے کا شوق ہورہا ہے تو۔۔”
افہام کی بات پر جیکٹ اتارتا اسکا ہاتھ رکا تھا۔ اسنے پلٹ کر افہام کو دیکھا
“سوری سوری سوری۔۔۔وہ میں۔۔۔میں کرلوں گا شادی”
افہام کو جلد ہی احساس ہوا وہ اسکے زخم ادھیڑ گیا ہے اور اس سے پہلے زخموں سے نکلتا خون اسکے اوپر گرتا اس نے جلدی ہی کانوں کو ہاتھ لگاتے معذرت کی۔
“کب کرو گے بھئی۔۔۔؟” وہ جھنجھلاہٹ سے بولا
“جب اسکی پڑھائی مکمل ہوجائے گی۔۔۔”
اسنے لیپ ٹاپ کے کی بورڈ پر انگلیاں چلانا شروع کی
“کیا۔۔۔۔؟ کس کی؟”
وہ حیرت سے بولتا اسکی جانب آیا
“وہ۔۔ ہے ایک”
افہام کو جلد ہی احساس ہوا کہ منہ بند ہی رکھنا چاہیے تھا جبکہ ارمغان کو تجسس ہوا تو وہ اسکے ساتھ ہی بیٹھ گیا اور کسی بھی بات پر یہ تجسس اسے بہت عرصے بعد ہوا تھا ورنہ وہ کسی چیز میں بھی دلچسپی نہ لیتا تھا لیکن یہ معاملہ دلچسپی لینے پر مجبور کر گیا تھا۔
“تیرے آفس کی ہے۔۔؟”
افہام نے آنکھیں ٹیڑھی کرکہ اسے دیکھا۔
“ابھی تو کہا کہ پڑھائی مکمل ہونے کے بعد۔۔۔ آفس میں کہاں سے آگئی بھئی؟”
وہ جھنجھلایا
“اوہ ہاں۔۔۔سہی سہی”
ارمغان اسکے پاس سے اٹھ گیا مگر پھر دو قدم چلتے ہی رک گیا
“تو تم ملے کہاں اس سے؟ بتاؤ نہ سب کیسے ہوا؟”
وہ دوبارہ واپس بیٹھا تو افہام کا جی چاہا لیپ ٹاپ بند کرکہ اس کے سر میں دے مارے لیکن وہ ایسا کر نہیں سکتا تھا۔ ارمغان بہت ٹائم بعد پہلے جیسا لگا تھا۔
“یاد نہیں کیسے ملے تھے۔۔۔”
افہام نے گردن کی پشت پر ہاتھ پھیرا
“آفرین ہے تم پر۔۔۔! کب سے چل رہا یہ سب؟ تو نے کسی بچی کو تو نہیں پھسا لیا؟”
ارمغان نے مشکوک نظروں سے اسے دیکھا
“شرم کر کچھ۔۔بچی نہیں ہے مگر۔۔۔یونیورسٹی سٹوڈنٹ ہے،، ہوگی کوئی۔۔۔چوتھے یا پانچویں سیمسٹر میں”
“تجھے یہ بھی کنفرم نہیں۔۔؟”
اسنے کچھ حیرت کا اظہار کیا
“کنفرم تو ہے بھائی مگر تجھے نہیں بتا سکتا نہ۔۔۔”
افہام نے صاف گوئی سے بولا تو ارمغان نے باقاعدہ ہاتھ کا پنجہ کھولتے اسکے منہ کے سامنے کیا
“صرف ہادی نہیں۔۔۔تو بھی یہی ڈیزرو کرتا ہے”
وہ اٹھ گیا تو افہام نے ہنستے ہوئے اسے دیکھا پھر گلا کھنگالا
“اچھا سن پھر۔۔۔ اکیس سال کی ہونے والی ہے”
اسنے ارمغان کو دیکھتے ہوئے بتایا مگر اسکے تیزی سے پلٹنے پر وہ نظر بھی اتنی ہی تیزی سے چرا گیا۔
“ایج ڈِفرنس تو کافی ‘کیوٹ’ ہے”
ڈریسنگ سے ٹیک لگاتے اسنے لفظ پر زور دیتے ہوئے کہا
“لعنت ہے۔۔۔”
بلاوجہ ہی افہام کو اسکی بات طنز لگی تھی۔
“اچھا آگے بتا۔۔۔تو نے پروپوز کیا تھا؟”
ارمغان کا تجسس کچھ بڑھا تھا۔
“پروپوز تو کسی نے بھی نہیں کیا تھا۔۔”
پہل قرت نے ہی کی تھی مگر کوشش کے باوجود افہام کو ایسا لمحہ یاد نہ آیا جہاں قرت نے صاف لفظوں میں محبت کا اظہار کیا ہو۔
“کیا مطلب۔۔۔؟” ارمغان نے ناسمجھی سے اسے دیکھا۔
“پہل اسنے کی تھی مگر صاف لفظوں میں نہیں۔۔”
کافی منمنا کر کہی گئی بات ارمغان کو ٹھیک سے سمجھ نہ آئی
“صحیح سے بول نہ۔۔۔!”
وہ جیسے تنگ ہوا
“اوففف۔۔۔مجھے کسی سے پتا لگا تھا کہ وہ مجھ میں انٹرسٹڈ ہے تو میں نے اسے آڑے ہاتھوں لیا لیکن میری نظروں میں وہ پہلے بھی کئی بار آئی تھی”
اسکی پہیلی جیسی باتوں پر ارمغان الجھن کا شکار ہوا۔
“تو بولنا کیا چاہ رہا تجھے خود کو پتا ہے؟”
“ہاں تو۔۔۔تو دفع کر نہ جب رشتہ ہوگا تو پتا لگ جائے گا۔۔”
اسنے جیسے بات ختم کرنا چاہی
“اچھا میری بہن تو دکھا ذرا۔۔۔”
“تیری بہن۔۔۔؟”
اسنے آنکھیں پھیلا کر ارمغان کو دیکھا
“تیری بندی میری بہن ہی ہوگی نہ؟ یہ بھابھی والی بکواس شادی سے پہلے مجھے نہیں پسند”
افہام کا اٹکا ہوا سانس بہال ہوا اسنے چہرا دوسری طرف موڑتے خود کو نارمل کرنا چاہا۔
“پردہ کرتی ہے میں نے بھی نہیں دیکھا اسے۔۔۔”
اسکے جواب پر ارمغان کا دل کیا افہام کی ایسی حالت کردے کہ اسے بھی پردہ کرنا پڑ جائے۔۔۔
☆ ★ ✮ ★ ☆
ریسٹورنٹ میں سامنے والی نشست پر بیٹھی وہ لڑکی پہلے سے زیادہ پر اعتماد لگی تھی۔ ہر بار کی طرح گھبرائی ہوئی نہیں تھی جس کا کانفیڈنس لیول اس کے سامنے زیرو ہوجاتا تھا۔ ہمیشہ کی طرح پلکوں کے جھالر میں لرزش نہ تھی، نہ گردن جھکی ہوئی تھی نہ ہی وہ انگلیاں مروڑتی ان کی حالت بگاڑ رہی تھی۔ وہ اسکی توقع کے برعکس بدلی ہوئی تھی اور اس بات کو زبان پر لانے سے وہ روک بھی نہ سکا۔
“کافی بدل گئی ہو۔۔۔”
مقابل کے ہونٹوں پر ہلکی مسکراہٹ آئی تھی۔
“مجھے لگا تھا آپ پوچھیں گے کیسی ہو۔۔۔”
ہاں۔۔اس کا ” آپ ” کہنا آج بھی نہ بدلا تھا۔
“اور تم ہمیشہ کی طرح کہتی کہ پہلے جیسی ہوں۔۔”
وہ ہنسا تھا
“ابھی آپ نے خود کہا بدل گئی ہو۔۔۔پھر میں جھوٹ کیوں بولتی؟”
وہ بولتی ہوئی پہلے جیسی ہی معصوم لگی تھی۔
“ہاں تم نے تو سچ کی کتابیں پڑھ رکھی ہیں۔۔”
“کاش آپ بھی پڑھ لیتے۔۔۔”
عام سے لہجے میں کہی بات گئی بات اسے کافی زیادہ چبھی تھی۔ ہونٹوں کی مسکراہٹ سمٹ گئی۔ وہ لڑکی جو اسکے سامنے لاجواب ہوجاتی تھی آج اسکے سامنے وہ لاجواب ہوا تھا۔
“ابھی تک دل میں باتیں رکھے ہوئے ہو۔۔۔”
شاید اسے توقع نہیں تھی
“باتیں تو دماغ سے نکل جاتی دل سے نہیں۔۔۔ہاں لوگ دل سے نکل جاتے ہیں وہ بات الگ ہے”
سامنے بیٹھے شخص کا دل دھک کر رہ گیا۔ وہ اچانک ہی کشیدگی اور اضطراب کا شکار ہوا تھا۔
“میں آپ کو پوائنٹ آؤٹ نہیں کر رہی تھی۔۔”
وہ شاید اسکے چہرے کے تاثرات پڑھ چکی تھی۔
“اس جملے کے بعد تو مجھے لگ رہا ہے تم واقعی مجھے ہی پوائنٹ آؤٹ کررہی تھی۔۔۔”
اسنے مسکرانے کی کوشش کی مگر مقابل نے معذرت تک نہ کی اور سر اثبات میں ہلا دیا۔ اس قدر پیچیدہ سورت حال پر وہ دل گرفتہ سا ہوا تھا۔
“انگیجمنٹ ہوگئی تمہاری۔۔۔؟”
اسکی چوتھی انگلی میں جگمگاتی خوبصورت انگوٹھی دیکھ کر بڑی کشمکش کے بعد اسنے سوال داغا۔
“آپ کو کیا لگتا ہے۔۔؟”
اسنے دوسرے ہاتھ کی انگلی سے اس انگوٹھی کو بڑی محبت سے چھوا لہجہ کچھ خوشگوار سا تھا۔ اسے سمجھ نہ آیا وہ کیا کہے،، لگ رہا تھا وہ کسی اور کے نام سے منسوب ہوگئی ہے مگر پھر بھی وہ انکار سننا چاہتا تھا۔
“اندازہ نہیں لگا پا رہا کچھ۔۔۔”
“پھر تو اور بھی اچھی بات ہے۔۔۔”
وہ دلکشی سے مسکرائی تھی،، سوال کا جواب نہ دیتے پہلی بار کی طرح اس بار بھی اسے الجھا گئی تھی
“آپ کی شادی ہوگئی نہ؟”
وہ جواب جانتی تھی پھر بھی سوال کر رہی تھی۔ وہ اسے ماضی میں دھکیلنے کی کوشش کرنے میں کامیاب ہوئی۔
“ہاں یاد نہیں کیا تمہیں؟۔۔ بچے بھی ہیں”
اس بار وہ چند لمحے سناٹوں میں آگئی تھی۔ شادی کا تو اسے معلوم تھا مگر بچے۔۔۔
“ماشاءاللّٰہ۔۔۔”
حلق میں کانٹے اُگ آئے تھے۔
“مجھے چلنا چاہیے۔۔۔”
وہ فوراً اپنی جگہ سے اٹھی اور اسے کچھ کہنے کا موقع دئیے بغیر جانے لگی
“نِشہ۔۔۔۔”
اسکے قدم رکے تھے،، چند لمحے اسکی طرف پشت کئیے ہونٹ کچلتی رہی پھر تاثرات درست کرتی اسکی جانب مڑی۔
“کچھ دیر بیٹھ جاؤ۔۔”
شاید وہ کچھ اور کہنا چاہتا تھا،،،وہ سننا بھی کچھ اور ہی چاہتی تھی۔
“نہیں۔۔۔میں ویسے ہی کچھ دیر بیٹھنے کے لیے یہاں آئی تھی۔ اندازہ نہیں تھا کہ آپ سے ملاقات ہوجائے گی۔۔مجھے چلا چاہیے”
وہ پلٹ گئی تھی۔ وہ ویسے ہی کھڑا اسے دور جاتے دیکھ رہا تھا۔ آخری ہونے والی ملاقات بےاختیار ہی آنکھوں کے آگے گھوم گئی،، تب بھی تو وہ ایسے ہی پلٹ گئی تھی۔
☆ ★ ✮ ★ ☆
“میں تمہیں افہام کا نمبر نہیں دے سکتی۔۔۔!”
وہ آواز سنتی دروازے کے باہر ہی رک گئی
“مجھے فورس مت کرو بینا۔۔۔جو باب بند ہوچکا ہے وہ تم دوبارہ کیوں کھولنا چاہتی ہو؟”
اسکی آواز اونچی ہوئی تھی
“رونا بند کرو۔۔۔!”
اسکے لہجے میں جھنجھلاہٹ آئی تھی
“میں افہام سے کہہ دونگی پلیز مجھے دوبارہ اس بارے میں بات کرنے کے لیے کال مت کرنا۔۔۔!”
کال کاٹ کر اسنے فون بیڈ پر پٹخا تھا۔
“کس سے بات کر رہی تھی تم؟”
اسنے اندر داخل ہوتے سنجیدگی سے سوال کیا تو نشہ اسکی اچانک آماد پر بوکھلا گئی
“وہ بینا تھی۔۔۔دوست پرانی”
اسنے خود کو نارمل ظاہر کیا
“اگر تمہاری دوست ہے تو تم تک رہے،،،میرے بندے میں کیا دلچسپی ہے؟”
وہ تیز لہجے میں بولتی اسکی طرف آئی۔ نِشہ کو اندازہ ہوا وہ سب سن چکی تھی۔
“وہ یونیورسٹی میں افہام کی بھی دوست ہوتی تھی۔۔۔”
قرت چند لمحے اسے دیکھتی رہی تھی
“پھر اب کیا مسئلہ ہے؟ کون سا باب بند ہوگیا ہے؟
لہجہ کچھ دھیما تھا اس بار۔۔۔
“چھوڑو نہ تم دفع کرو۔۔۔”
“کچھ پوچھا ہے میں نے نشہ۔۔۔”
نِشہ نے بات گھمانا چاہی مگر قرت جیسے اڑ گئی تھی۔
“اوف قِرت کیا ہے۔۔وہ دوست ہوا کرتی تھی افہام اور میری پھر۔۔مِس انڈرسٹینڈنگز ہوگئی تھی”
وہ کچھ جھنجھلاہٹ سے بولی
“کیسی مِس انڈرسٹینڈنگز؟”
اسکی جھنجھلاہٹ نظر انداز کرتے اسنے دوبارہ سوال کیا۔
“چھوڑو تمہیں نہیں پتا۔۔۔۔”
“نہیں پتا ہے تبھی پوچھ رہی ہوں۔۔۔!”
قرت نے ضبط کا مظاہرہ کیا
“رہنے دو تم۔۔۔میں افہام سے پوچھ لوں گی”
وہ کمرے سے باہر جانے لگی۔
“قرت نہیں یار۔۔۔تم۔۔افہام بھائی سے نہیں۔۔اوف”
ادھورے جملے بولتے اسنے سر پیٹا تھا
“تو پھر بتاؤ۔۔۔؟”
نِشہ نے گہرا سانس لیا اور دروازہ لاک کرکہ اسکی بازو پکڑتی بیڈ پر بیٹھی
“تم افہام سے ذکر مت کرنا ٹھیک ہے؟”
وہ جانتی تھی قرت افہام سے شاید ذکر کرے گی مگر کہیں نہ کہیں وہ چاہتی بھی تھی کہ ایسا ہو جائے۔۔۔
