Muntazirat Hastam by Neha Imtiaz NovelR50532 Muntazirat Hastam (Episode 04)
Rate this Novel
Muntazirat Hastam (Episode 04)
Muntazirat Hastam by Neha Imtiaz
عید کو گزرے مہینا ہو چکا تھا آبی ابھی تک طبیعت خرابی کی وجہ سے ملتان میں ہی تھیں۔ یَشل کا آج سیکنڈ لاسٹ پپیر تھا وہ ڈیپارٹمنٹ کے سامنے بینچ پر بیٹھی تھی کیونکہ ابھی پیپر شروع ہونے میں آدھا گھنٹا تھا جب ارمغان اُسکے پاس آیا اور مٹھی اُس کے سامنے کردی وہ ارمغان کی بند مُٹھی دیکھتے ہوئے سوال کرنے لگی
”اِس میں کیا ہے؟”
”تم ہاتھ آگے کرو نہ”
ارمغان کی بات سُن کر وہ کبھی مُٹھی کو دیکھتی تو کبھی ارمغان کو جو مُسکُرا رہا تھا۔۔۔ نہ جانے کیوں مگر اُسکا دل اچانک ہی زور سے دھڑکا تھا وہ اپنا ہاتھ آگے کر گئی اور نظریں مُٹھی پر جما دی مگر اگلے ہی پل اُسکا دِل کیا کہ سامنے کھڑے ارمغان کو کُچھ کر دے
اُسکی مُٹھی میں چند دس دس رُوپے کہ سِکے تھے جنہیں اپنی ہتھیلی پر دیکھتے ہی یَشل کے چہرے کے تاثرات پل میں بدلے تھے اُسے اچانک ہی شرمندگی نے آن گھیرا ہونٹ ایک دوسرے میں پیوست ہوئے تھے اور نظریں ہتھیلی پر رکھے اُن سِکوں پر جم کر رہی گئی تھی۔ ارمغان جو ہنسی کنٹرول کرتے غور سے اُسکے تاثرات دیکھ رہا تھا اُس کے فلک شگاف قہقہہ پر یَشل نے ارمغان کی طرف دیکھا جو اپنی طرف سے اُس کے ساتھ مزاق کر گیا تھا لیکن یَشل کا دِل حد درجہ اُداس ہوا تھا اور شاید ٹوٹ گیا تھا۔۔۔
”وہ واقعی اُسکا مزاق اُڑا رہا تھا یا ہمیشہ کی طرح عام سا مزاق کر رہا تھا؟”
وہ خاموشی سے ارمغان کو دیکھتے ہوئے سوچ رہی تھی۔۔پھر جلد ہی خود کو نارمل کیا اور اُس کے بازو پر ایک تھپڑ رسید کیا
”شرم تو نہ آئی آپ کو مُجھے سِکے دیتے ہوئے۔۔۔کم از کم بندا فیورٹ چاکلیٹ دے دیتا ہے۔۔اِتنے بدتمیز کیوں ہیں آخر آپ”
وہ منہ بناتی ہوئی ارمغان کو گھورنے لگی اُس کے چہرے پر چِڑ واضح طور پر نظر آرہی تھی ارمغان نے اُسکا گال کھینچا تو وہ اُسکا ہاتھ پرے کرتی سِکے واپس اُسکی ہتھیلی پر رکھ گئی اور دوسری طرف دیکھنے لگی۔۔۔
”ارے یارررر۔۔۔تمہیں بُرا لگا ؟ میں تو مزاق کر رہا تھا سچ میں میرا وہ مقصد نہیں تھا پاگل۔۔۔”
ارمغان نے کندھے سے پکڑ کہ اُسکا رُخ اپنی طرف کیا اور اُسکے روٹھے ہوئے چہرے کو دیکھتا ہوا بولا تو یَشل اُنکھیں چھوٹی کر کے ارمغان کو دیکھنے لگی
”بچہ وچہ سمجھ رکھا ہے کہ ایسی باتیں دِل پر لے لوں گی ؟ ہنہہ بہت ہی نازُک دِل والی سمجھ لیا ہے آپ نے یَشل کو۔۔۔”
وہ بولتی ہوئی بینچ سے اُٹھ کر چلنے لگی تو ارمغان بھی اُٹھ کر اُس کے ساتھ ساتھ چلنے لگا
”اگر ایسی بات ہے تو یہ سِکے لے لو۔۔۔”
ارمغان کے لہجے میں یقین سا تھا کہ وہ نہیں لے گی۔۔۔اُس کی بات اور لہجے کے یقین پر یَشل کے چلتے قدم رُک گئے تھے۔۔۔چند لمحے وہ سامنے ہی دیکھتی رہی پھر ارمغان کی طرف مُڑی اور اپنا ہاتھ آگے کردیا۔۔اب کی بار اُس کے چہرے پر واقعی سنجیدگی تھی جِس دیکھ کر ارمغان سوچ میں پڑ گیا کہ کیا وہ اُس کو بُرا فیل کروا رہا؟ اب یَشل کو خاموشی سے دیکھنے کی باری ارمغان کی تھی
”ایسے مت دیکھو نظر لگا دو گے۔۔۔”
یَشل مزاحیہ انداز میں بولتی ہوئی ہنستے ہوئے اُسکا ہاتھ پکڑتے اُس میں سے سِکے نِکال کر لے گئی اور جلدی سے رُخ ڈیپارٹمنٹ کی طرف کِیا۔۔ چند قدم چلتے ہی مُسکُراہٹ اور مزاحیہ لہجہ ہوا میں کہیں اُڑ گیا اور چہرے پر سنجیدگی نے ڈیرہ جما لیا تھا
بات یہ نہیں تھی کہ ارمغان نے اُس کے ساتھ اِس طرح کا کوئی بھی مزاق پہلے کبھی نہ کیا تھا لیکن بس اِس دفع اُسے اُمید نہیں تھی کہ وہ مزاق کرے گا۔ ارمغان کو لے کر اپنی فیلنگز پر بھی وہ شیور ہوگئی تھی وہ شخص اب صرف اسکا بیسٹ فرینڈ یا کزن نہیں رہا تھا بلکہ وہ اس کی محبت تھا شاید اسی احساس کے تحت اُسے ایسا لگ رہا تھا کہ وہ واقعی اُسے کوئی چھوٹا مگر قیمتی تحفہ دے گا۔ ایسا بھی نہیں تھا کہ ارمغان نے یَشل کو کبھی کُچھ دِیا نہیں تھا۔۔ بات اگر تحفوں کی جاتی تو وہ ہمیشہ ہی کوئی چیز پسند آنے پر اُس کے لیے لے آتا تھا۔۔۔انہی سب خیالوں میں غرق وقفے وقفے سے سِکوں پر نظر ڈالتے وہ کِلاس میں آگئی اور آخری نشست سنبھال لی۔۔
☆ ★ ✮ ★ ☆
پیپر دینے کے بعد وہ اپنی کلاس فیلو ماریہ جو اُس کی دوست بھی تھی اُس کے ساتھ بیٹھی باتیں کر رہی تھی جب اپنی طرف آتے ارمغان کو دیکھا مگر ایسے نظر انداز کیا جیسے اُسے جانتی ہی نہ ہو
”یَشل۔۔تمہاری کوئی کلاس تو نہیں ہے؟ گھر چھوڑ دیتا ہوں اگر نہیں ہے تو بلکہ میرے گھر چلتے ہیں۔۔۔”
اُس نے یَشل کو مُخاطب کیا تو وہ اُس کی طرف دیکھنے لگی
”ہاں میری کلاس ہے۔۔آپ جائیں میں ڈرائیور کو بُلا لوں گی مُجھے دیر ہو جائے گی۔۔”
”اِس وقت کونسی کلاس ہے؟”
یَشل نے کہا تو ماریہ اُس کی بات پر حیران ہوتے ہوئے بولی،، یَشل نے دانت پیستے ہوئے اُسے گھورا تو ارمغان نے بھی ماریہ کی طرف دیکھا
”یَشل۔۔۔”
ارمغان کے بُلانے پر وہ اُسکی طرف سوالیہ نظروں سے دیکھنے لگی
”اُٹھو یار کیا ہوا ہے پانچ بج گئے ہیں پہلے ہی”
ارمغان کے بولنے پر وہ سنجیدگی سے اُسے دیکھنے لگی
”ارمغان مجھے نہیں جانا آپ جا۔۔۔”
وہ بول ہی رہی تھی جب ارمغان نے اُس کو بازو سے پکڑ کے کھڑا کیا
”ایکسکیوز اَس پلیز۔۔۔”
ارمغان ماریہ کو دیکھ کر بولتا ہوا ویسے ہی اُسکا بازو پکڑتا پارکنگ میں لے آیا اور گاڑی کا دروازہ کھولا تو یَشل ایک ناراض نظر اُس پر ڈال کر گاڑی میں بیٹھ گئی۔۔۔
”مجھے گھر چھوڑ دیں۔۔”
یَشل نے بغیر اُسکی طرف دیکھے کہا
”اپنے گھر جاکر کیا کرو گی ؟ ویسے بھی بی جان مُلتان گئی ہوئی ہیں خاموشی سے گھر چلو۔۔۔”
ارمغان کی بات سُن کر یَشل نے اُس کی طرف دیکھا جو ہر بار کی طرح گھر چلنے کا حکم چلا رہا تھا اُس پر۔۔۔۔وہ کھڑکی سے باہر شام کے ڈھلتے سائے دیکھنے لگی باقی کا سفر خاموشی سے کٹا
”مجھے عشق میں ایسا کمال دے
جو میرے ہر روپ کو نِکھار دے
میں مگن رہوں تیری راہ میں
مجھے ایسا کوئی مقام دے“
شاعر: نامعلوم
☆ ★ ✮ ★ ☆
کِس کو فون مِلا رہی ہیں؟”
رائد کی آواز پر سکینہ نے سر اُٹھا کر اُس کی طرف دیکھا جو ابھی ابھی باہر سے آیا تھا
”میں۔۔ یَشل کو کال کر رہی تھی لیکن وہ اُٹھا نہیں رہی۔۔۔”
سکینہ فون بند کر کہ سائیڈ پر رکھتی ہوئی بولی
”ماما آپ تو ایسے بول رہی ہیں جیسے وہ ہمیشہ آپ کی کال پِک کر کہ آپ سے ڈھیروں باتیں کرتی ہے۔۔۔”
رائد سکینہ کی گود میں سر رکھتا ہوا بولا اور آنکھیں بند کر گیا۔۔سکینہ نے جھُک کر اُسکا ماتھا چوما
”وہ نہیں اُٹھاتی مگر آبی کو دے دیتی ہے وہ ہی یَشل کا حال احوال بتا دیتی ہیں مگر کسی نے بھی کال پِک نہیں کی۔۔”
وہ اُسے بتا رہی تھی
”ماما چھوڑ دیں نہ جب وہ بات نہیں کرنا چاہتی۔۔عجیب ایٹیٹیوڈ ہے اُس میں”
رائد آنکھیں کھول کر اپنی ماں کو دیکھنے لگا
”تُم چُپ کرو میری بچی میں کوئی ایٹیٹیوڈ نہیں۔۔۔”
سکینہ اُسکے گال پر ہلکی سی چپیٹ لگاتی ہوئی بولی تو رائد نے منہ بنایا۔۔۔
”کل بات ہوئی تھی میری اُس سے۔۔۔میں نے دوبارا اُس کو یہاں آنے کا کہا تو ناراض ہوگئی”
سکینہ کی بات سُن کر رائد اُٹھ بیٹھا
”دیکھا۔۔ہے نہ اُس میں ایٹیٹیوڈ،، پچھلی بار بھی اپنے اُسے کہا تو کال کاٹ دی تھی اُسنے۔۔ اپنی ماں کے بُلانے پر بھی نہیں آرہی جیسے مِس یونیورس ہے۔۔اور عید والے دن کتنی بدتمیزی کی تھی اُس نے”
رائد کے بولنے کی دیر تھی سکینہ اُسکا کان کھینچنے لگی
”کتنی بار کہا ہے تُم سے فضول نہیں بولا کرو اُس کے بارے میں۔۔۔”
”ہاں ہاں۔۔اب اُس کی وجہ سے میرے کان کھینچ کھینچ کر بڑے کردیں آپ اور فضول کب بول رہا؟ کتنی پریشان رہتی ہیں آپ اُس کی وجہ سے مجھے نظر نہیں آتا کیا۔۔۔”
رائد کے کہنے پر سکینہ خاموش ہوگئی
”اچھا چھوڑو سب۔۔۔۔اتنی دیر سے کیوں آئے ہو میسج یا کال کرکہ بتایا بھی نہیں”
وہ عام طور پر تین چار بجے آجاتا تھا مگر ابھی چھ بجنے والے تھے۔ عادِل بزنس میٹنگ کی وجہ سے شہر سے باہر تھا اور ایسا جب بھی ہوتا تھا تو رائد صرف یونیورسٹی جاتا تھا اور باقی کا سارا دن وہ سکینہ کے نام کردیتا تھا
”سوری۔۔اصل میں میرا ایک دوست کل آوٹ اوف کنٹری چلا جائے گا تو بس اُس کے ساتھ تھا وقت کا پتا نہیں لگا”
رائد اُنکا ہاتھ پکڑتا ہوا بولا۔۔۔
”تمہیں پتا ہے نہ عادل بھی گھر میں نہیں ہیں۔۔یہ خالی گھر کھانے کو دوڑتا ہے مجھے وقت ہی نہیں گُزرتا۔۔۔”
اُنکی بات پر رائد خاموش ہوگیا۔۔
”اچھا نہ کل میں یونیورسٹی نہیں جاؤں گا اور ہم گھومنے جائیں گے۔۔”
”ہاں بچی ہوں نہ میں جسے گھُماؤ گے تُم،،بیٹھو تُم میں کھانا لے کر آتی ہوں “
سکینہ بولتی ہوئی کمرے سے باہر چلی گئی تو وہ مُسکُراتا ہوا اُنکی جگہ پر لیٹ گیا۔ چند لمحوں بعد تھوڑا فاصلے پر پڑا سکینہ کا فون وائیبرٹ کرنے لگا۔ سکرین پر جگمگاتا نام دیکھ کر اُسکی آنکھیں چمکی
”اسلام و علیکم۔۔۔”
دوسری طرف سے پتلی سی آواز آئی
”وعلیکم السلام۔۔کون بات کر رہا ہے”
سپیکر سے نِکلنے والی بھاری آواز پر یَشل نے فون کان سے ہٹایا اور سکیرن دیکھنے لگی۔۔نمبر تو اُس نے سہی ڈائل کیا تھا
”میں۔۔میں یَشل بات کر رہی ہوں ماما سے بات کرنی تھی مجھے اُن کی کالز آرہی تھی”
اُسے سمجھ نہ آئی فون کی دوسری طرف موجود شخص عادِل تھا یا اُس کی ماما کا بیٹا
”کون یَشل؟ اپنی ماما سے بات کرنی ہے تو یہاں کیوں کال کی ہے اور ہم نے کوئی کال نہیں کی خود سے کچھ بھی بول رہی ہو۔۔”
رائد پہلے اُسے بتانے لگا کہ سکینہ کمرے میں نہیں ہے مگر پھر اُس سے عید والے دِن کا بدلہ لینے کا سوچ کر وہ اُسے غُصّہ دِلانے لگا جِس میں وہ کامیاب بھی ہوا۔۔
”کون یَشل؟ہنہہ،،یہ میں آپ کو بتانا ضروری نہیں سمجھتی،،، اور ماما سے بات کرنی ہے تو انہی کے نمبر پر کال کروں گی نہ میں فون دو ماما کو۔۔۔”
رائد کی بات سُن کر اُسے اچھے تریقے سے اندازہ ہوگیا تھا کہ وہ عادِل تو ہرگِز نہیں ہے بلکہ یہ وہی نمونہ ہے جو اُسے زہر لگتا ہے۔ یَشل کی پہلے کبھی اُس سے کال پر یوں بات نہیں ہوئی تھی اُس کو بےاختیار ہی وہ عید کا دِن یاد آیا۔ یَشل کا حلق کڑوا ہوا
” یہ تمہاری ماما کا نمبر نہیں ہے اچھے تریقے سے یہ بات ذہن نشین کرلو،، دوبارا کال مت کرنا۔۔۔عجیب لوگ ہیں منہ اُٹھا کر فضول گوئی کرنے لگ جاتے ہیں”
رائد پھُپھو کی طرح اچھے سے آگ لگتا کال بند کر گیا تھا اور یَشل حیرت سے منہ کھولے بس اسکرین کو دیکھتی رہ گئی تھی۔۔ اُسے رائد پر شدید غصہ آرہا تھا وہ اُس کے سامنے ہوتا تو یقیناً ایک لگا دیتی،،
وہ گھر آئی اور بیگ سے فون نِکالا تو سکینہ کی دو مس کالز دیکھی تبھی وہ باہر صحن میں آگئی اور انہیں کال کرنے لگی مگر دوسری طرف موجود شخص اُسکے خراب موڈ کا بیڑا غرق کر چُکا تھا۔۔۔ اُس نے دوبارا کال کرنے کا سوچا تبھی کسی نے اُس کے ہاتھ سے موبائل فون کھینچ لیا۔۔۔
”کیا مسئلہ ہے آخر آپ کو میرے موبائل سے۔۔واپس کریں۔۔۔”
ارمغان کے ہاتھ میں فون دیکھ کر وہ غصے سے بولی۔۔۔ارمغان اُسے ڈھونڈتا ہوا باہر آیا تھا تو یَشل اُسے کال پر مصروف نظر آئی۔۔
”لے سکتی ہو تو لے لو۔۔۔”
ارمغان بولتا ہوا اندر چلا گیا یَشل دانت پیستی اُس کے پیچھے ہی اندر آگئی
”ارمغان کہاں جارہے ہو۔۔کھانا بھی نہیں کھایا تھا تُم نے۔۔۔قِرت جاؤ چائے بناؤ تُم۔۔”
عطیہ بیگم نے ارمغان کو سیڑھیاں چڑھتے دیکھا تو سوال کیا اور قِرت کو چائے بنانے کا کہا
”ماما بھوک نہیں ہے۔۔میں چینج کر کہ آتا ہوں”
ارمغان بولتا ہوا ایک نظر یَشل پر ڈالتا اوپر چلا گیا اور یَشل غصہ ضبط کرتی قِرت اور عزہ کے پاس کِچن میں آگئی۔۔
”ارے یار۔۔۔نِشہ کہاں ہے؟میں سمجھ رہی تھی کہ یونیورسٹی سے آکر سوگئی ہوگی لیکن ابھی تک نظر نہیں آئی۔۔”
یَشل نے فریج سے ٹھنڈا پانی نِکال کر پیتے ہوئے کہا
”نِشہ آپی کی ایک فرینڈ کی برتھڈے تھی آج۔۔۔گھر آئی تھی یونیورسٹی سے پھر ایک گھنٹے بعد چلی گئی”
عزہ پکوڑے فرائے کرتی ہوئی اُسے بتانے لگی تو اُس کی بات پر وہ سر ہلانے لگی۔۔
”یَشل ۔۔جاؤ ذرا ارمغان بھائی کو بُلا لاؤ چائے بن گئی ہے اور ٔتُم بھی آجاؤ۔۔”
کچھ دیر بعد یَشل کچن سے جانے ہی لگی تھی جب قِرت نے کہا
”خود چلی جاؤ ۔۔۔”
وہ بغیر مُڑے بولی
”اوففف۔۔تم چلی جاؤ گی تو کیا ہو جائے گا؟ کام کر رہی ہوں میں نظر نہیں آرہا کیا “
قِرت کی بات پر وہ منہ بناتی ہوئی اُسے دیکھنے لگی
”میں چلی جاتی ہوں۔۔”
عزہ نے فوراً سے کہا
”رہنے دو بس میں جارہی۔۔۔”
یَشل نے اِنکار کیا پھر اوپر کی طرف چلی گئی
”اب تُم کہاں جارہی ہو؟”
قِرت نے کچھ دیر بعد عزہ کو باہر جاتے دیکھا تو سوال کیا
”وہ۔۔۔مجھے دوست کو کال کرنی تھی،،پانچ منٹ میں آتی ہوں بس پکوڑے دیکھنا جل نہ جائیں”
عزہ جلدی سے بولتی ہوئی اوپر چلی گئی
”کام سے بھاگنا ہوتا ہے اِس لڑکی کو بھی۔۔۔”
قِرت نے سر نفی میں ہلایا۔۔۔
یَشل اوپر آئی تو کمرے میں کوئی نہ تھا یقیناً ارمغان واشروم میں تھا۔ وہ صوفے پر بیٹھ گئی چند لمحوں بعد دروازہ کھُلنے کی آواز پر کمرے سے باہر بھاگی اور دوبارہ واپس آئی ایسے جیسے ابھی ابھی کمرے میں آئی ہو مگر ارمغان کو شرٹ کے بغیر دیکھتے چہرا دوسری طرف کر گئی۔ ارمغان اُسکی حرکت پر مُسکُرایا
”خیریت۔۔ویسے تو اگنور کر رہی تھی اور اب پیچھے پیچھے ہی چلی آئی۔۔”
وہ الماری سے شرٹ نِکالتا ہوا وہ اُسے چھیڑتا ہوا بولا تو یَشل کمر پر ہاتھ رکھتی اُس کی طرف مُڑی جو شرٹ پہن چُکا تھا
”اتنا بھی خوش فہم نہیں ہونا چاہیے انسان کو۔۔نیچے آجائیں کھانا بھی نہیں کھایا آپ نے چائے بن گئی ہے۔۔۔”
وہ اُس کو آنکھیں دِکھاتی ہوئی بولی اور خوش فہمی دور کی۔۔
”ایک منٹ ایک منٹ۔۔تمہیں میری فِکر ہو رہی ؟”
ارمغان سینے پر بازو باندھ کر بولا تو یَشل نے گندی سے شکل بنائی
”ابھی ابھی کہا میں نے کہ اتنی خوش فہمیاں نہیں پالنی چاہیے۔۔وقت نہیں ضائع کریں میرا اور نیچے آجائیں۔۔”
یَشل بولتے ساتھ ہی باہر جانے کے لیے مُڑی۔۔۔
ارے۔۔۔ابھی تک ناراض ہو تم؟”
اُسکی آواز پر وہ رُکی اور مُسکُراتے ہوئے پلٹی تھی۔۔قدم قدم چلتی اُس کی طرف جانے لگی
”ہرگِز نہیں۔میں نے کیوں ناراض ہونا؟ میں تو صرف ڈارمے کر رہی آپ کی اٹینشن کے لیے۔۔”
وہ آنکھیں ٹپٹپا کر معصومیت سے بولتی ہوئی اُس کے کافی قریب آ کھڑی ہوئی۔۔۔ارمغان کو اِس وقت اپنے قریب کھڑی وہ لڑکی بہت پیاری لگی تھی وہ خاموشی سے اُس کے چہرے کو دیکھنے لگا جِس کا دھیان اُن دونوں کے درمیان بچے تھوڑے سے فاصلے کی طرف بلکل بھی نہ تھا ورنہ وہ ضرور پیچھے ہوجاتی لیکن ارمغان کی گہری نظروں سے کنفیوز ہوتی وہ پل میں پیچھے ہوئی تھی اور اس کی اپنی طرف اُچھالی گئی معنی خیز مُسکُراہٹ پر وہ سٹپٹا کر رہ گئی
”فف۔۔۔فون کہاں ہے میرا۔۔۔”
وہ جلدی سے کمرے میں یہاں وہاں نظریں دوڑاتے ہوئے بولی۔ پتا نہیں اُس شخص کو کیا مسئلہ تھا اُس کے فون سے جو ہمیشہ اُس سے لے لیتا تھا۔۔۔
”ڈھونڈھ لو۔۔۔پتا نہیں کہاں ہے یاد نہیں مُجھے۔۔۔”
وہ بولتا ہوا شیشے کے سامنے جا کھڑا ہوا اور بال برش کرنے لگا
”ارمغان…کیا ہے آپ کو”
یَشل منہ بناتی ہوئی صوفے پر بیٹھ گئی اور جِس انداز میں اُس نے ارمغان کا نام لیا تھا وہ تو ہمیشہ کی طرح دِل ہار بیٹھا تھا۔۔۔
”ایک ہی تو دِل ہے کتنی بار جیتو گی میری جان؟”
ارمغان چلتا ہوا اُس کے سامنے آیا اور پاکِٹ سے فون نِکال کر اُس کی طرف بڑھاتا ہوا بولا یَشل نے آنکھیں پھاڑ کر اُسے دیکھا تھا۔۔۔۔ دِل کی دھڑکن اچانک تیز ہوئی تھی اور یہ بڑا سا کمرا اُسے پل میں چھوٹا لگنے لگا تھا۔۔۔
” کِتنے بےشرم ہو تم۔۔۔”
یَشل اپنی جھنپ مِٹاتی ہوئی بولی اور جلدی سے صوفے سے اُٹھی
”اچھا ابھی آپ آپ کر کے بات کر رہی تھی اور اب بدتمیزی؟ تین سال بڑا ہوں تُم سے عِزت کیا کرو میری”
ارمغان کی بات وہ آنکھیں سکیڑ کر اُسے دیکھنے لگی۔۔۔
”ہاں تو باتیں بھی ویسی کرو کہ اگلا بندہ عِزت کرے”
وہ بولتی ہوئی پھر سے باہر جانے کے لیے مُڑی۔۔۔۔
”کیا مطلب ہے تمہارا۔۔۔۔اِتنے پیار سے کہا تھا میں نے تو “
ارمغاں اُسکے پیچھے ہی کمرے سے باہر نِکلا۔۔۔اب کی بار ارمغان کی بات سُن کر یَشل مُسکُرا دی اور کوئی جواب نہ دیا اور اُس کی مسکراہٹ ارمغان نے اچھے سے نوٹ کی تھی۔۔۔
”اچھا اب فون نہیں چاہیے کیا۔۔”
وہ دونوں سیڑھیاں اُتر رہے تھے جب ارمغان اپنے ہاتھ میں موجود اُس کا فون دیکھتا ہوا بولا تو یَشل نے اُسکے ہاتھ سے اپنا فون لے لیا۔۔
”اِس کو بند کر کہ سائیڈ کردیا کرو جب گھر آؤ یا میرے ساتھ ہو تو۔۔اپنے گھر جاکر بھی کالز کر سکتی ہو تُم۔۔۔”
”جیسا آپ کا حُکم سر۔۔۔”
یَشل ہلکا سا سر خم کر کہ بولی تو وہ ہنس دیا اور دونوں ہال میں داخل ہوگئے جہاں سب چائے سے لطف اندوز ہوتے ہوئے باتیں کر رہے تھے۔ نِشہ بھی شاید ابھی ابھی آئی تھی
”ارے بھئی تُم دونوں کہاں رہ گئے تھے۔۔”
عطیہ بیگم کے سوال پر دونوں نے بے اختیار ہی ایک دوسرے کی طرف دیکھا تھا
”کہیں نہیں۔۔میں ارمغان کو بُلانے گئی تو وہ کِسی سے کال پر بات کر رہے تھے تو میں ٹیرس میں پودوں کو پانی دے رہی تھی۔۔۔”
اِس سے پہلے ارمغان کُچھ بولتا یَشل جلدی سے جھوٹ بولتی ہوئی چائے کا کپ اُٹھا گئی اور قِرت کے ساتھ بیٹھ گئی۔۔۔
’عزہ کہاں ہے۔۔چائے ٹھنڈی ہورہی اُسکی”
صبیحہ کے کہنے کی دیر تھی جب عزہ اندر داخِل ہوئی
”دوست کی کال آگئی تھی۔۔۔”
وہ بولتی ہوئی صوفے پر بیٹھ گئی۔
”ہر وقت فضول قسم کی دوستوں سے گپے نہیں مارتی رہا کرو”
نِشہ نے لقما دیا تو عِزہ نے اُسے گھورا
”میری دوست سے بھی مسئلہ ہے کیا؟”
کوششوں کے باوجود وہ لہجہ نارمل نہ رکھ سکی
”عزہ۔۔کیا بدتمیزی ہے یہ؟ بڑی ہے وہ تُم سے”
نِشہ کے کچھ بولنے سے پہلے ہی صبیحہ نے عزہ کو ڈانٹا تو وہ غصہ پی کر رہ گئی
قِرت نے اُسے غور سے دیکھا۔ پہلے تو وہ قِرت سے یہ بول کر گئی تھی کہ”اُسے کال کرنی ہے“ اور اب وہ بول رہی تھی کہ ”کال آگئی تھی“ اوپر سے اُس کے خراب موڈ کا اچھے سے اندازہ ہو رہا تھا۔۔۔
”ویسے۔۔یہ غلطی سے آج یہاں کا رُخ کیسے کردیا؟ کہیں راستہ تو نہیں بھول گئی؟”
صبیحہ کے طنز پر وہ مُسکُرا دی جِس میں ناراضگی کا انثر بھی شامل تھا کیونکہ عید کے بعد جو سب کے منع کرنے کے باوجود وہ گئی تھی تو واپس ہی نہیں آئی تھی
”خالہ۔۔۔پیپرز ہو رہے ہیں سچ میں ٹائم ہی نہیں مِل رہا کُچھ بھی کرنے کا”
یَشل کی بات پر عطیہ نے اُسے گھورا
”تو بھئی تمہیں کون کہہ رہا تم وہاں رہو؟ کچھ دِن یہاں بھی رہ لو کیا ہوگیا ہے یَشل۔۔۔”
عطیہ شِکوہ کُن لہجے میں بولی تو وہ زبان دانتوں تلے دبا گئی۔۔۔
”نہیں امی۔۔یہ مت بولیں،،، یہاں رہنے کی بات کر لو تو خدا جانے کیا ہوجاتا ہے اسے جیسے ہم سب کھا جائیں گے اس کو۔۔”
قِرت یَشل سے تھوڑا دور کھِسکتے ہوئے بولی کہ کہیں ایک کھینچ کر لگا ہی نہ دے۔۔یَشل خونخوار نظروں سے اُس کو گھورنے لگی
”ارے ٹھیک ہے بہت خوددار ہو تم مُستقل یہاں مت رہو تُم مگر بندا کُچھ دِن کے لیے تو آہی جاتا ہے اور آبی بھی نہیں ہیں اب تو پھر بھی ملازمہ کے ساتھ اکیلے رہ رہی تُم”
انوشہ نے بھی کہا تو وہ اُس کے خوددار بولنے پر ناراض نظروں سے اُسے دیکھنے لگی۔۔
”اچھا بس آپ کُچھ مت کہنا اب۔۔”
یَشل نے ارمغان کو منہ کھولتے دیکھا تو ہاتھ اُٹھا کر اُسے بولنے سے روکا ارمغان نے اُسے آنکھیں دکھائیں۔ وہ جب بھی آتی تھی اُسے یہی سب سُننے کو مِلتا تھا ہلانکہ وہ وقفے وقفے سے آتی تھی مگر اُن کے لیے وہ بھی بہت کم تھا۔۔۔
”اچھا ٹھیک ہے پھر میں یہیں پر ہوں لیکن مُجھے نوٹس اور دوسرا کُچھ سامان لینے گھر جانا پڑے گا کل لاسٹ پیپر ہے میرا۔۔۔”
یشل کی بات پر عزہ کے علاؤہ سب کے چہروں پر مُسکُراہٹ ٹہر گئی۔۔۔
”تو وہ کون سا بڑا مسئلہ ہے۔۔چائے پی لو کُچھ دیر بعد چلتے ہیں”
ارمغان کی بات پر وہ ایک نظر اُس پر ڈال کر سر ہلانے لگی۔۔۔
”السلام علیکم ۔۔۔کیا باتیں ہورہی ہیں۔۔۔”
عدنان صاحب کی آواز پر سب نے اُن کی طرف دیکھا جو ابھی ابھی آفِس سے آئے تھے۔
”وعلیکم السلام۔۔۔۔”
سب نے ایک ساتھ جواب دیا
یَشل جلدی سے اپنی جگہ سے اُٹھتی ہوئی اُنکی طرف بڑھی
”ارے۔۔۔میری شہزادی آئی ہے اِتنے دِنوں بعد۔۔”
عدنان صاحب اُسے سینے سے لگاتے ہوئے بولے اور سر پر بوسہ دیا تو وہ مُسکُرا دی
”اتنے دِن کہاں ہوئے ہیں۔۔۔صرف پندرہ دِن ہی تو ہوئے ہیں یہاں سے گئے مجھے”
وہ بولتی ہوئی کیٹلی سے چائے کپ میں ڈالنے لگی۔۔
”صرف پندرہ دِن؟ بندہ دوسرے تیسرے دِن چکر لگا لیتا ہے بیٹا بلاوجہ میں اکیلے رہ رہی ہو۔۔۔جیتی رہو”
عدنان صاحب یَشل کے ہاتھ سے چائے لیتے ہوئے بولے اور اُسے دعا دی تو وہ واپس اپنی جگہ پر جا بیٹھی۔۔
”فِکر نہ کریں۔۔۔اگلے کُچھ دِن میں یہیں پر ہوں کل میرا لاسٹ پیپر پے پھر یونیورسٹی دو مہینے کے لیے آف ہے۔۔”
”تو کیا دو مہینے یہیں پر رہیں گی آپ؟”
عزہ کی آواز پر یَشل اور باقی سب نے بھی اُس کی طرف دیکھا جِس کے چہرے سے ہی اندازہ ہو رہا تھا کہ اُس کا موڈ ابھی تک خاصہ خراب ہے۔ عزہ کی خود کی نظریں یَشل پر ٹکی تھی۔۔یَشل کو اُس کا سوال اور پھِر دیکھنے کا انداز دونوں ہی عجیب لگے تو وہ کُچھ بول نہ سکی۔۔۔
”کیوں ؟ اِس میں اتنی حیران ہونے والی یا سوال کرنے والی کون سی بات ہے؟یَشل کہ یہاں رہنے میں کوئی بُرائی ہے کیا”
اِس سے پہلے کوئی بھی کُچھ کہتا ارمغان کی آواز پر سب نے اُس کی طرف دیکھا۔۔۔جو چہرے پر سنجیدگی لیے عزہ کو دیکھ رہا تھا ۔۔حال میں خاموشی چھا گئی
”نہیں حیران کب ہوئی میں تو بس کنفرم کر رہی تھی۔۔۔”
ارمغان کے لہجے میں چبھن محسوس کرتی وہ کندھے اُچکا کر بولی تو ارمغان نے اُسکے عجیب ایٹیٹیوڈ پر آنکھیں گھُمائی۔ خود پر یَشل کی نظریں محسوس کرتا اُس کی طرف دیکھنے لگا تو وہ اُس کو ایسے دیکھ رہی تھی جیسے کہہ رہی ہو “بچے ہو بلکل ہی”
“نہیں آبی کچھ کچھ دِن تک آجائیں گی۔۔۔”
مطلب یہی تھا کہ وہ پھر واپس چلی جائے گی
”افہام گھر نہیں آیا کیا ابھی تک؟”
عدنان صاحب نے سوال کیا۔۔
”نہیں بابا۔۔وہ آج بائیک پر آفس گیا تھا اُس نے بائیک کا کُچھ کام کروانا تھا ابھی میکنک کے پاس ہی ہے اور بائیک کل یا پرسو تک مِلے گی اُسے تو میں بھی بس اُس کو پِک کرنے کے لیے جانے لگا ہوں تھوڑی دیر بعد۔۔۔”
ارمغان خالی کپ ٹیبل پر رکھتا ہوا تفصیل سے بولا تو وہ سر ہلانے لگے۔۔۔
”اگر تُم جا ہی رہے ہو تو یَشل کو بھی لے جاؤ نہ وہ گھر سے جو سمان اُٹھانا ہوگا اُٹھا لے گی پھر افہام کو پِک کرتے ہوئے واپس آجانا دونوں۔۔۔”
انوشہ نے برتن سمیٹتے ہوئے کہا تو ارمغان نے یَشل کی طرف دیکھا جو جلدی جلدی سر اثبات میں ہِلانے لگی وہ بے اختیار ہی مُسکُرا دیا۔۔۔ اِس منظر کو دوسری چار آنکھوں نے بھی دیکھا تھا دو میں جلن جبکہ دو میں اُن دونوں کے لیے پیار تھا۔۔۔چند لمحوں بعد ارمغان نے یَشل کو مخاطب کیا
”میں گاڑی سٹارٹ کرتا ہوں آجاؤ۔۔۔”
ارمغان بولتا ہوا حال سے باہر نِکل گیا
”تم بھی ساتھ چلو نہ۔۔”
یَشل نے قِرت کا بازو ہِلاتے ہوئے ہلکی آواز میں کہا۔۔
”نہ بابا نہ۔۔۔تم ہی جاؤ میں چائے بنا کر ہی تھک گئی ہوں ابھی یہ برتن بھی دھونے مُجھے ورنہ ماما کِچن میں گھُس جائیں گی اور باتیں مُجھے سُنائے گی۔۔ تُم جاؤ نہ بھائی ویٹ کر رہے ہونگے ہم سب کل چلیں گے مووی دیکھنے”
قِرت نے اِنکار کیا اور کل کا پلان بتانا تو وہ منہ بنا کر رہ گئی
”جاؤ بیٹا۔۔ارمغان گاڑی میں انتظار کر رہا ہوگا”
عطیہ بیگم کے کہنے پر وہ سر ہلاتی ہوئی باہر کی طرف چلی گئی
”نِکل آؤ اِس فون سے۔۔۔”
صبیحہ بیگم نے عِزہ کو ٹوکا وہ بغیر کچھ کہے ہال سے ہی واک آوٹ کر گئی
”ناراض کردیا نہ بچی کو۔۔۔”
عدنان صاحب نے اپنی بہن کو دیکھا
”میں نے کچھ غلط تو نہیں بولا جب سب لوگ ساتھ بیٹھے ہیں تو فون میں گھسے رہنے کی کیا ضرورت ہے”
”چھوڑ دیں نہ اُسکا موڈ خراب ہے کسی بات پر۔۔”
قِرت نِشہ کے سمیٹ کر رکھے ہوئے برتن اُٹھاتی ہوئی بولتی ہال سے نِکل گئی
☆ ★ ✮ ★ ☆
“تمہیں ڈر نہیں لگ رہا؟”
وہ کمرے میں داخل ہوتا ہوا بولا
“ہیں؟ کِس بات کا ڈر؟”
یَشل نے الماری میں گھسا سر باہر نِکالا
“تُم اِس وقت۔۔اکیلی ہو میرے ساتھ تو تمہیں ڈر لگنا چاہیے”
یَشل نے قہقہہ لگایا
“ایک تُم ہی تو ہو جِس سے ڈر نہیں لگتا مجھے”
وہ مسکرا کر بولی تھی
“اور کیوں نہیں لگتا تمہیں مجھ سے ڈر؟”
وہ قدم قدم چلتا اُسکی طرف جارہا تھا
“کیونکہ تُم ارمغان قریشی ہو۔۔”
سادہ سا جواب۔۔۔وہ مسکرایا اور اُسکی پشت پر جا کھڑا ہوا
“آہہہہہ۔۔۔ارمغان کے بچے ڈرا دیا تُم نے مجھے”
وہ جیسے ہی کپڑے نکال کر الماری کا دروازہ بند کرتی پیچھے مڑی تو ایک قدم کے فاصلے پر کھڑے ارمغان کو دیکھ کر اُسکا دِل حلق میں آگیا۔ وہ کب پیچھے آکر کھڑا ہوا یَشل کو احساس ہی نہیں ہوا۔ ارمغان نے دِل کھول کر قہقہہ لگایا
“ابھی تو تُم کہہ رہی تھی کہ تمہیں مجھ سے ڈر نہیں لگتا۔۔۔”
وہ سینے پر بازو باندھتا ہوا بولا
“تُم آسیب کی طرح نمودار ہوجاؤ گے تو ڈروں گی ہی نہ”
وہ اُسے گھور کر بولی۔ ارمغان گہری نظر اُس پر ڈالتا ایک قدم آگے بڑھا تھا۔ وہ پل میں پیچھے ہوتی الماری سے جا لگی تھی۔۔وہ مزید آگے ہوا تھا
“ارمغان۔۔۔”
چہرے پر اُسکی سانسوں کی تپش محسوس کرتی یَشل نے گھبرا کر ارمغان کو پکارا تھا
“جی ارمغان کی جان۔۔۔”
اُسنے ایک انگلی سے اُسکا رخسار چھُوا یَشل کو لگا اُسکا دل پسلیاں توڑ کر باہر آ جائے گا۔ ارمغان غور سے اُسکے چہرے کے اُتار چڑھاؤ دیکھ رہا تھا۔ اُسکا دل میں شوخ سی خواہش اُبھری جِسے وہ دبا گیا۔۔
“میرا دِل کر رہا ہے کہ میں تمہیں۔۔۔”
وہ خمار آلود لہجے میں کچھ بولتے بولتے رُکا۔ یَشل نے پل میں ہوش سنبھالا
“لاحول ولاقوة الاباللّٰه۔۔۔بیچھے ہٹ جاؤ ارمغان قِریشی۔۔زیادہ رومینٹک ہونے کی ضرورت نہیں شرم کرلو تھوڑی”
وہ ہاتھ میں پکڑے کپڑے اُسکے مُنہ پر رکھ کر اُسے پیچھے دھکیلتی ہوئی بولی اور کپڑے بیڈ پر پھینکتی وہ واشروم گھس گئی۔ ارمغانِ کا لگایا قہقہہ اُسے واشروم میں سُنائی دیا
“اوففف۔۔۔پاگل کردے گا یہ شخص مجھے”
سینے پر ہاتھ رکھ کر اسنے بےترتیب دھڑکنوں کو محسوس کیا۔۔۔
“پیچھے کیوں بیٹھ رہی ہو۔۔۔”
یَشل نے اپنا ضروری سامان اُٹھایا تو ارمغان نے گھر کو اچھے سے لاک کیا اور دونوں گاڑی ہی طرف آئے پھر یَشل کو پچھلی سیٹ کا دروازہ کھولتے دیکھ کر اُسنے سوال کیا
“افہام بھائی کو پِک کرنا ہے نہ۔۔۔”
اُسنے یاد دہانی کروائی تو وہ “اوہ ہاں” کہتنا ڈرائنگ سیٹ سنبھال گیا
“اب تم یونیورسٹی میں میرے بغیر کیا کرو گی؟”
گاڑی سڑک پر ڈالتے اُسنے سوال کیا
“فائینلی آزادی مِل گئی مجھے۔۔۔ورنہ کسی کے ساتھ بیٹھنے کہاں دیتے ہو تُم مجھے”
وہ ایسے بولی جیسے ارمغان کی گریجویشن نے اُسکے کندھوں سے بھاری بوجھ اُتار پھینکا تھا
“بہت زیادہ خوش نہیں ہورہی تم؟”
اُسنے دانت پیسے
“بلکل ایسی ہی بات ہے۔ اور میرا خوش ہونا بنتا بھی ہے اب روز یونیورسٹی میں تمہاری شکل نہیں دیکھنی پڑے گی”
وہ آگے ہوکر اُسکا چہرا دیکھتی ہوئی بولی۔۔۔ یَشل اُسے تپانے کے فُل موڈ میں تھی
“ہاں ہاں بیٹا۔۔ جب اکیلے بیٹھ کر اسائنمنٹ بناؤ گی۔ لیپ ٹاپ اور نوٹس کی ضرورت ہوگی تو یہی ارمغان قریشی تمہیں یاد آئے گا”
وہ اپنی خفت چھپاتا جتانے والے انداز میں بولا
“ہنہہ۔۔۔جیسے میرے پاس خود کا لیپ ٹاپ ہی نہیں”
“تمہارے پاس ہر چیز ہوگی۔۔۔سوائے ارمغان قُریشی کے اور۔۔۔”
وہ بات کاٹ گئی اور خود میں بڑبڑاہٹ کی
“ارمغان قُریشی نہ ہوگیا چلتی پھرتی آکسیجن ہوگیا۔۔۔”
“ضائع ہوجاؤ گی کسی دِن میرے ہاتھوں۔۔۔۔”
وہ دانتوں پر دانت جما کر بولا ۔ یَشل دل کھول کر ہنس دی
~جاری ہے
