Muntazirat Hastam by Neha Imtiaz NovelR50532 Muntazirat Hastam (Episode 08)
Rate this Novel
Muntazirat Hastam (Episode 08)
Muntazirat Hastam by Neha Imtiaz
“ہیلو سٹیپ سسٹر۔۔۔واپس جارہی ہو کیا؟”
دوپہر کا ایک بج رہا تھا کل یشل کی فلائیٹ تھی سو وہ ڈریسنگ ٹیبل پر پڑا اپنا سامان اٹھا کر بیگ میں ڈال رہی تھی جب وہ بھاری آواز اور شوخ لہجہ اسکی سماعتوں سے ٹکرایا۔ آنکھیں بند کرکہ گہرا سانس لیتی وہ اسکی طرف مڑی۔ وہ دروازے کے فریم سے ٹیک لگا کر سکون سے کھڑا مسکرا رہا تھا۔ یقیناً وہ زہریلی کافی کا بدلہ لینے یہاں موجود تھا۔
“تمہارا مسئلہ کیا ہے آخر؟ میں تمہارے گھر میں رہ رہی اسکا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ جب بھی تمہارا دل کرے گا تم منہ اٹھا کر میرے کمرے میں گھسے چلے آؤ گے”
وہ سُلگ کر بولی تھی
“اوف اتنا غصہ؟لگتا ہے دل پر جبر کرکہ جارہی ہو۔۔”
وہ ابھی بھی پرسکون تھا ہونٹ ویسے ہی مسکرا رہے تھے
“ہنہہ۔۔۔دل پر جبر کیا کرنا؟ وہ بیچارہ تو رائد خٹک جیسے فضول انسان کی شکل دیکھ دیکھ کر ویسے ہی جل گیا ہے!”
وہ دانت پیس کر بولتی ہوئی الماری سے کپڑے نکالنے لگی
رائد نے قہقہہ لگایا اُسے یقیناً لطف آرہا تھا
“تمہارے دِل کی آنکھیں بھی ہیں؟”
یَشل اسکی انتہائی بےتکی بات پر خاموش رہی تو چند لمحوں بعد وہ اندر جانے لگا
“کوئی ضرورت نہیں ہے اپنا تشریف کا ٹوکرا لے کر یہاں آنے کی وہیں کھڑے رہو”
وہ دوسرا قدم لیتا یشل اُسے سختی سے ٹوک چکی تھی
“روک سکتی ہو تو روک لو”
وہ ڈھٹائی سے بولتا ڈھپ کر کہ صوفے پر بیٹھ گیا۔ یَشل کا چہرا مارے غصے کے سرخ ہوا۔ وہ مٹھیاں بھینچ کر اُس ڈھیٹھوں کے سردار کو دیکھنے لگی
“اب اتنی گندی شکل بھی نہیں میری کہ تُم یوں غصے سے مجھے گھورنے لگ جاؤ۔۔۔”
وہ اُسے مزید تپاتا ہوا بولا
“مسئلہ کیا ہے آخر تمہارا۔۔؟”
وہ زچ ہوتی بےبسی اور غصے سے چِلائی تھی۔ پتا نہیں کتنے پیسے ملتے تھے اُس واحیات شخص کو اسکا دماغ خراب کرنے کے
“اتنا بُرا کیوں لگتا ہوں میں تمہیں۔۔۔؟”
وہ پُر سوچ نگاہوں سے اُسکے غصے سے سرخ ہوتے چہرے کو دیکھ رہا تھا۔ یَشل نے ہنکار بھرا۔
“جِس نے بھی بتایا ہے غلط بتایا ہے۔ کیونکہ تُم مجھے بُرے نہیں زہر لگتے ہو”
وہ اُسکی تصحیح کرتی ہوئی بولی چند لمحے وہ خاموش ہوگیا
“کوئی خاص وجہ۔۔۔؟”
وہ اُسکی پشت کو دیکھتے ہوئے پوچھا رہا تھا۔ لہجے میں اب وہ شوخی نہ تھی
“کوئی ایک وجہ ہو تو بتاؤں۔۔ لیکن تمہارے ساتھ بیٹھ کر تمہاری ہی بُرائیاں کرنے کا فالتو وقت نہیں میرے پاس۔۔۔”
وہ مصروف انداز میں بغیر دیکھے بولی
“یَشل میں بہت اچھا لڑکا ہوں یار۔۔اتنی پیاری شکل ہے میری اور اتنی ہاٹ باڈی بھی ہے،، لڑکیاں مرتی ہیں مجھ پر”
وہ اپنے منہ میاں مٹھو بنتا دوستانہ لہجے میں بولا تو یَشل استہزائیہ انداز میں ہنسی
“جو تُم پر مرتی ہیں وہ واقعی مرجائیں تو دھرتی کا بوجھ کم ہوگا ہی ہوگا لیکن ساتھ ہی ساتھ اندھے لوگوں میں بھی خاصی کمی آجائے گی”
یَشل کی بات پر رائد اندر تک کڑھ کر رہ گیا
“بتایا نہیں تُم نے مجھے۔۔کیوں بُرا لگتا ہوں میں تمہیں؟”
وہ دوبارہ سنجیدہ ہوا تو یَشل رُخ اُسکی طرف کرتی بیڈ پر بیٹھی۔ رائد دونوں کہنیاں گھٹنوں پر رکھ کر انگلیاں آپس میں پھنسائے تھوڑا جھُک کر بیٹھا ہوا تھا۔ یَشل نے گہرا سانس لیا شاید وہ سہی لفظ تلاش کر رہی تھی۔
“کتنی عُمر تھی تمہاری جب۔۔(وہ ایک پل کو رُکی) جب تمہاری ماما ڈائیورس لے کر گئی تھی؟”
“چھ سال۔۔”
وہ سپاٹ لہجے میں بولا
“میں ساڑھے چھ سال کی تھی جب بابا کا انتقال ہوا۔ ٹھیک ایک سال بعد امی کی شادی عادِل انکل سے ہوئی اور اُنکی شادی کے چھ ماہ بعد یعنی میری آٹھویں سالگرہ کے فورن بعد امی مجھے ماموں کے گھر واپس چھوڑ آئی۔ تقریباً ڈیڑھ سال کے عرصے میں باپ کے ساتھ ساتھ ماں کا سایہ بھی میرے سر سے چھین لیا گیا تھا۔۔۔”
وہ اُسکی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے اُسے بتا رہی تھی۔ وہ اچھے سے اُسکی آنکھوں میں ظاہر ہونے والی تکلیف دیکھ سکتا تھا۔
“مجھے تپتی دھوپ میں چھوڑ کر۔۔۔امی تُم پر سایہ فگن ہوئی تھیں”
باوجود ضبط آواز اُونچی اور آنکھیں نم ہوئی تھی۔ اُسنے گہرا سانس کے کر جیسے خود کو رونے سے روکا۔ رائد نے لب کاٹے
“مُمانی جان کے اتنے پیار اتنی توجہ کے باوجود میں اُنکو کبھی ”امی“ نہیں بول سکی، اور جِس کو ”امی“ بولا انہوں نے ماں جیسا پیار دیا ہی نہیں۔ میرے حصے کی ساری توجہ، ساری محبت اُس شخص کے حصے میں آئی جو اُنکی سگی اولاد بھی نہیں تھا۔۔۔”
وہ بات کرتے کرتے ٹہر گئی
“اور مجھے لاہور واپس چھوڑ کر آنے کی وجہ تو تُم جانتے ہی ہوگے۔ اس محل جیسے گھر میں رہتے ہوئے بھی میں محفوظ نہیں تھی۔ وہ تمہارے دور کے چچا, عادل انکل کے کزن سے میری حفاظت نہیں کر سکتی تھیں کیونکہ اُنکا ”شوٹ“ مجھ سے زیادہ ضروری تھا۔۔۔”
آنسوؤں کا گولا حلق میں اٹک گیا تھا۔ شکیل کے زکر پر رائد نے سختی سے جبڑے بھینچ کر رہ گیا
“لیکن۔۔۔کیونکہ ‘رائد خٹک’ کو توجہ کی ضرورت تھی (اُس نے نام پر زور دیا) تو مجھے لاہور چھوڑنے کے ٹھیک تین سال بعد انہوں نے ڈراموں میں کام کرنا بھی چھوڑ دیا۔”
وہ ہلکا سا ہنسی جیسے اپنا مذاق اُڑا رہی ہو
” اُس وقت تو میں بچی تھی لیکن گزرتے وقت نے جب مجھ پر حقیقت آشنا کی تو میں چاہ کر بھی خود کو بدگمان ہونے سے نہ روک سکی۔ اور اب تُم جتنی مرضی کوشش کرلو رائد مجھے نہیں لگتا کہ تُم مجھے کبھی اچھے لگ سکتے ہو۔۔۔!”
آخری جملہ پھنکارتے ہوئے ادا کیا گیا تھا۔ بات مکمل کرتی وہ رُکی نہیں بلکہ ایک زخمی نظر اُس پر ڈالتی کمرے سے نکلتی چلی گئی۔۔ وہ اپنے لفظوں سے رائد کو ساکت کر گئی تھی۔ کتنی ہی دیر وہ بت بنا وہاں بیٹھا اُسکی باتوں کے بارے میں سوچتا رہا۔
‘اُس لڑکی کی کیا غلطی تھی؟’ عید والے دِن یشل کی باتیں سُننے کے بعد دل میں اُبھرنے والا وہ سوال یاد آیا تھا
‘اُس معصوم لڑکی کی تو کوئی غلطی تھی ہی نہیں۔ یہ تو بس آزمائشیں تھی جو اُس پر کھُل کے برسی تھی اور اُسے اِس قدر مضبوط بنا گئی تھی۔۔۔’
شاید یہی جواب تھا اُسکے سوال کا۔ وہ سوچتا ہوا اُسکے کمرے سے نکل گیا
کمرے سے نکل کر وہ سیدھی چھت پر آئی تھی اور پچھلے بیس منٹ سے ہی رو رہی تھی۔ وہ نہیں جانتی تھی کہ اُسنے رائد کو اتنا تفصیلی جواب کیوں دیا لیکن جو بھی تھا۔دل کا غبار نکالنے کے بعد اب وہ تھوڑا بہتر محسوس کر رہی تھی اسے اپنا دل ہلکا محسوس ہو رہا تھا اور انکھ سے نکلنے والا ہر آنسو اُسے تکلیف نہیں سکون دے رہا تھا۔۔۔
☆ ★ ✮ ★ ☆
“کیا کر رہی ہو تُم؟”
انوشہ نے کچن کے شیلف پر بکھرا سامان دیکھ کر سوال کیا تو وہ پیچھے مڑی
“براونیز بیک کر رہی ہوں۔۔۔”
مصروف سا انداز۔۔۔
“ہیں؟ اور یہ کس خوشی میں؟”
وہ اُسکی طرف آئی اور پلیٹ میں پڑا چاکلیٹ کا ٹکڑا منہ میں رکھا
“ویسے ہی۔۔۔”
“تُم اور کچن میں؟ وہ بھی ویسے ہی؟میں مان ہی نہیں سکتی۔۔۔۔”
وہ سر نفی میں ہلاتی ہوئی بولی تو میدا اور کوکو پاؤڈر چھانتے اُسکے ہاتھ رُکے وہ نشہ کو گھورنے لگی
“آنکھیں نہیں دکھاؤ زیادہ۔۔۔”
نشہ نے ڈبل گھورا تھا اور دوبارہ چاکلیٹ کا ٹکرا اُٹھایا
“نِشہ آپی مجھے تنگ نہیں کریں جاکر اپنی چاکلیٹ منگوائیں۔۔۔”
اُسنے چاکلیٹ کی پلیٹ اُٹھا کر دوسری طرف رکھی
“چاکلیٹ بھی دنیا کے دوسرے کونے سے آئی ہے نہ۔۔”
وہ بڑبڑا کر سلیب پر چڑھ کے بیٹھی۔ اُسکی پر سوچ نظریں عِزہ پر تھیں۔۔۔
“ایسے مت دیکھیں آپی۔۔ مجھے ہنسی آرہی”
وہ مسکرا کر بولی تو انوشہ بھی ہنس دی
“میں کچھ سوچ رہی ہوں۔۔پتا نہیں پوچھنا چاہیے یا نہیں”
وہ تھوڑے سیریس لہجے میں بولی تو پاوڈر مکسچر میں انڈے ڈالتے ہوئے عزہ نے ایک نظر نِشہ کو دیکھا جیسے اندازہ لگانا چاہ رہی ہو کہ وہ کیا کہنا چاہتی ہے۔۔۔
“ایسا کونسا مشکل سوال ہے جو اتنا سوچنا پڑ رہا۔۔۔”
اب وہ سب اجزاء کو مِکس کر رہی تھی
“سوال میرے لیے نہیں تمہارے لیے مشکل ہوسکتا۔۔۔”
نِشہ کے انداز پر عِزہ کے ہاتھ رُکے۔ اُسنے چونک کر نِشہ کو دیکھا۔ کہیں نہ کہیں دل میں تجسس کے ساتھ ڈر پیدا ہوا۔
“اب سوال کریں گی یا مجھے کیورییس (curious) چھوڑ دیں گی۔۔”
وہ خود کو پر سکون ظاہر کرتی دوبارہ کام کرنے لگی لیکن نِشہ کے سوال پر وہ گھبرا کر رہ گئی اُسے سمجھ ہی نہ آیا کہ وہ کِس طرح ریکٹ کرے۔
“قِرت اور افہام کے درمیان کیا چل رہا۔۔۔؟”
” مجھے نہیں پتا۔۔آپ سے کِس نے کہا؟”
اُسنے تھوک نگلی اور بامشکل بولی
“کسی نے کہا تو نہیں۔۔اُس دِن قِرت کی باتیں سُن لی تھی میں نے۔۔”
“باتیں ؟ کونسی ؟”
عِزہ کو حیرت ہوئی کیونکہ جس دن قرت اور عزہ کی افہام کے بارے میں بات ہوئی اُس دن انوشہ گھر نہیں تھی اُسے اچھے سے یاد تھا
“شاید افہام نے تمہاری اور قِرت کی کچھ باتیں سُن لی تھی اور قِرت کو کچھ کہا بھی تھا تو وہ خود سے باتیں کر رہی تھی کمرے میں بیٹھی۔ مجھے سہی سے پتا نہیں۔۔اسی لیے جو پوچھا ہے شرافت سے اُسکا جواب دو”
آخری جملہ بولتے وہ سنجیدہ ہوئی اور عزہ کو گھورا تاکہ وہ کوئی بھی چلاکی نہ کرے اور ساری بات اُسے بتا دے
“لعنت ہے۔۔۔”
اُسنے دل میں قرت کو گالیوں سے نوازا
“نشہ آپی۔۔قِرت نے مجھ پر بھروسہ کر کہ مجھے اپنا راز بتایا ہے۔ میں اُسکا بھروسہ نہیں توڑ سکتی اُسکی بات یہاں سے وہاں کرکہ۔۔۔”
وہ واقعی ایسا نہیں کرنا چاہتی تھی دوستی اور راز رکھنے کے معاملے میں وہ بہت پکی تھی۔ اُسکی بات سُن کر انوشہ کو اپنا اندازہ ٹھیک لگنے لگا
“عزہ تُم ایسے بول رہی ہو جیسے میں اُسکی دشمن ہوں۔ اگر میں پوچھ رہی ہوں تو یقیناً اُسکی بھی کوئی وجہ ہے میں اُسکا بُرا نہیں چاہتی۔۔۔”
نِشہ سلیب سے اُتر کر عزہ کے ساتھ کھڑی ہوئی تو عِزہ پوری طرح اُسکی طرف مڑی اور آنکھیں چھوٹی کرکہ نشہ کو دیکھا
“کیا مطلب ہے آپ کا کہ آپ اُسکا بُرا نہیں چاہتی؟”
عزہ ایک ہاتھ شیلف پر رکھا اور اسکی بات کا مقصد جاننا چاہا۔
“کچھ نہیں ویسے ہی بولا ہے میں نے۔۔”
اُسنے سلیب سے ٹیک لگائی۔ عزہ نے گہرا سانس لیا
“تو آپ قِرت سے پوچھ لیں نا۔۔۔”
اُسنے باؤل اُٹھایا اور براؤنی بیٹر کو بیکنگ پین میں اُنڈیلنا شروع کیا
“مجھے کوئی مسئلہ نہیں پوچھنے میں لیکن بس۔۔۔میں نہیں چاہتی کے وہ ان ایزی فیل کرے یا اُسے میرا پوچھنا بُرا لگے اور اُسنے مجھے بتانا ہوتا تو وہ خود بتا دیتی۔۔”
اُسے انجان رکھا گیا یہ بات کہیں نہ کہیں نِشہ کو بُری لگی تھی
“اسنے مجھے اپنی مرضی سے نہیں بتایا تھا۔ بلکہ میں نے اُس سے تفتیش کی تھی بلکل اسی طرح جیسے ابھی آپ مجھ سے کر رہی ہیں۔۔”
اسنے پین کو اوون میں رکھا پھر ٹمپریچر اور ٹائم سیٹ کرنے لگی۔۔۔
“میں نے شروع میں کہا تو سہی کہ مجھے اتنا ٹھیک سے نہیں پتا۔۔۔۔”
نِشہ نے کندھے اُچکائے اور چئیر پر بیٹھی تو عزہ نے بھی اُسکے سامنے والی نشست سنبھالی۔۔
“جب ٹھیک سے نہیں پتا تو خود سے اندازے مت لگائیں نا۔..”
اُسے جیسے نِشہ کی بات اچھی نہیں لگی تو نِشہ نے اُسے گھورا
“تُم سے جو میں پوچھ رہی وہ تُم بتاؤ گی یا نہیں۔۔۔”
وہ ساری باتیں سائڈ کرتی ہوئی بولی
“آپ کریں گی کیا جان کر؟ بھائی کی کوئی گرل فرینڈ ہے کیا؟”
عزہ تھوڑی آگے کو ہو کر رازدانہ انداز میں پوچھنے لگی۔ چند لمحے نِشہ خاموش ہوگئی پھر اُسکے کندھے پر تھپڑ مارا
“کتنی فضول بکواس کرتی ہو۔۔ اگر اتنا تجسس ہورہا اسکی گرلفرینڈ کا تو جاکر اُسی سے پوچھو۔۔”
نِشہ کی بات پر عزہ منہ بناتی پیچھے ہوئی
“اچھا جو بھی ہے۔۔ مجھے اس بات کی گیرنٹی چاہیے کہ آپ ایٹلیسٹ جاکر قِرت کے سر پر اپنے سوالوں کی گولہ باری نہیں کریں گی۔۔۔”
عزہ نے نشہ کو دیکھتے ہوئے یقین دھانی چاہی کہیں وہ ایسے ہی موت کے فرشتے کی طرح جاکر اُسکے سر پر نہ کھڑی ہوجائے۔
“تو مطلب میرا اندازہ ٹھیک تھا۔۔۔قرت افہام میں انٹرسٹڈ ہے”
سکون سے بولتے ہوئے اسنے کرسی کی پشت سے ٹیک لگائی
“اوفف آپی جائیں جائیں جاکر مسجد میں علان کردیں۔۔۔آرام سے نہیں بول سکتی ہیں آپ؟ اور میں نے ابھی کنفرم نہیں کیا کہ آپکا اندازہ ٹھیک ہے یا غلط۔۔۔”
عزہ نے اپنا ماتھا پیٹا تھا نشہ آنکھیں گھماتی اُٹھ کھڑی ہوئی
“سب تمہاری کنفرمیشن کی ضرورت نہیں کیونکہ مجھے یقین ہے کہ میرا اندازہ سو فیصد درست ہے۔۔۔”
وہ بولتی ہوئی دروازے کی طرف جانے لگی۔
“میں دوبارہ کہہ رہی انویسٹیگیشن کرنے مت چلی جائیے گا اُسکے پاس۔۔۔”
انوشہ کو کچن سے نکلتا دیکھ کر وہ دوبارہ بولی تو پیچھے مڑے بغیر نشہ بائے بائے کرتی کچن سے چلی گئی
“یا اللّٰہ۔۔۔قرت کیوں اتنی بیوقوفیاں کرتی ہو تُم”
عزہ نے سر ہاتھوں میں گرایا۔
☆ ★ ✮ ★ ☆
“پلیز پلیز پلیز یار آج آخری بار چلی جاؤ۔۔۔”
اسنے عزہ کی منت کی
“ہرگز نہیں۔۔بھائی کی گرج برس کا نشانہ بلکل نہیں بننا چاہتی میں ۔۔”
اُسنے ہاتھ اوپر کیے تھے۔
“ٹھیک ہے پھر۔۔۔میں یہ یہیں رکھ رہی آگے تمہاری مرضی”
چائے اُسکے سامنے رکھتی اور لاونج سے نکل گئی ناچار عزہ کو ہی افہام کا سامنا کرنا پڑا۔۔۔
آج بھی قِرت کی جگہ عزہ کو چائے لاتا دیکھ کر افہام کا صبر جواب دے گیا۔ عزہ نے چائے کا کپ سائیڈ پر رکھا اور افہام کو دیکھنے لگی جیسے کسی کچھ کہنا چاہتی ہو یا کسی چیز کا انتظار ہو
“کیوں کھڑی ہوگئی ہو۔۔؟” افہام نے آئیبرو اچکائی
“پوچھیں گے نہیں آپ ؟” اُسے جیسے یقین نہ آیا
“کیا پوچھوں؟”
افہام کی آنکھوں میں سوالیہ نشان تھے
“یہی کہ یہ چائے تُم نے بنائی ہے؟ قرت کیوں نہیں دینے آئی؟ قرت کدھر ہے؟”
سادگی سے افہام کی نقل کرتی وہ جلتی پر تیل کا کام کرگئی۔۔۔
“عزہ۔۔۔میں نہیں چاہتا کہ میں تُم پر غصہ کروں اور تُم کمرے میں جاکر ندیاں بہانے لگ جاؤ اسی لیے اپنا رستہ ناپو۔۔۔”
وہ کلس کر بولتا چائے کا کپ اٹھا گیا عزہ نے اسکی باتوں پر منہ بنایا
“کیا ہے آپ کو بھائی اگر اُس پر غصہ آرہا تو جاکر اُسے سُنائیں نہ شاید وہ بھی انتظارِ یار فرما رہی ہو مجھے مت ڈانٹیں”
یقیناً عزہ نے افہام کی باتوں کو دل پر لیا تھا تبھی وہ جذباتی ہوگئی اور اُسے احساس بھی نہ ہوا وہ کیا بول رہی ہے۔ اپنی بات مکمل کرتی عزہ تن فن کرتی کمرے سے نکل گئی
“انتظارِ یار؟؟”
اُسنے بڑبڑاہٹ کی اور کچھ سوچتا بیڈ سے اُٹھ کر کمرے سے نکل گیا
وہ اُسے ڈھونڈتا سب سے پہلے اُسکے کمرے میں گیا جہاں گھپ اندھیرا تھا اور وہاں کوئی نہ تھا پھر اُسنے بالکونی کا رُخ کیا افہام کی توقعہ کے مطابق وہ وہیں جھولے پر بیٹھی چائے سے لطف اندوز ہورہی تھی۔ وہ بغیر کسی لحاظ کے آیا اور بازو سے پکڑ کے کھڑا کیا۔ قِرت تو اِس افادے کے لیے تیار ہی نہ تھی چائے چھلک کر اُسکے کپڑوں اور ہاتھ پر جاگری۔
“کیا ہوا۔۔۔؟”
اُسںے جلدی سے گھبرا کر سوال کیا۔ ہاتھ پر اچھی خاصی جلن ہوئی تھی۔
“کیا ہوا؟یہ تُم مجھ سے پوچھ رہی ہو۔۔”
وہ دانت کچکچا کر غصے سے بولا تھا
“مم۔۔میں نے کیا کِیا ہے؟”
وہ تھوک نگلتی بامشکل بولی۔
“ہر چیز میں بتاؤں تمہیں کچھ نہیں پتا؟”
وہ پھاڑ کھانے والے انداز میں بولتا بازو پر گرفت سخت کرتے اپنی طرف کھینچا تھا۔ وہ خاموش رہی اور چہرا تھوڑا پیچھے کیا
“کِس سے بھاگتی پھر رہی ہو تُم؟ میں کوئی آدم خور ہوں بھوکا شیر ہوں جو تمہیں کچا چبا جاؤں گا؟”
قرت نے ہونٹوں پر زبان پھیرتی اسے دور دور تک یاد نہیں پڑتا تھا کہ آخری بار افہام نے اس پر اتنا غصہ کب کیا تھا۔ شاید دو سال پہلے یونیورسٹی ختم ہونے کے بعد۔ تب تو وہ واقعی بھوکا شیر بنا گھومتا تھا کسی کے کچھ بھی بولنے پر اُسے ایسے گھورتا تھا جیسے آنکھوں سے کھا جائے گا اور آج تک قِرت اُس غصے کی وجہ نہ جان سکی تھی لیکن بہرحال۔۔افہام کو اِس وقت غصے میں دیکھ کر وہ خوفزدہ ضرور ہوئی تھی
“ہاتھ تو چھوڑیں میرا۔۔”
وہ ہمت کرتی ہوئی بولی چائے تھوڑی گرم تھی ہاتھ پر جلن محسوس ہورہی تھی۔ افہام نے اُسکی کلائی چھوڑی تو وہ جلدی سے پیچھے ہوئی اور نظریں تو مانو زمین کی خوبصورتی کو سراہنے لگیں
“اب بتاؤ کیا مسئلہ ہے تمہارے ساتھ؟”
وہ گہرا سانس لے کر بولا لہجے میں ابھی بھی تھورا غصے کا انثر شامل تھا
“میں نے کب کہا کوئی مسئلہ ہے۔۔۔اور میں تو نہیں چھپ رہی۔۔”
وہ منمنائی تھی
“تو یہ کون سا نیا ڈراما ہے عزہ کو چائے دے کر بھیجنے کا؟”
اُسنے سینے پر بازو باندھے۔
“ڈراما کون سا۔۔۔بہن ہے آپ کی اُسکا دل کر رہا تھا تو بس۔۔”
وہ ویسے ہی زمین کو گھورتی ہوئی بولی
“اوہ واو۔۔۔بہن محترمہ کو پچھلے دو تین سالوں میں تو کبھی خیال نہیں آیا مجھے چائے دینے کا”
اُسکے طنزیہ انداز پر قِرت نے ہونٹ چبائے۔۔
“ہاں تو میں کیا کر سکتی۔۔اگر اُسے خیال نہیں آیا”
وہ ہنوز اسی پوزیشن میں کھڑی تھی افہام نے گہرا سانس لے کر جیسے غصہ کم کرنا چاہا
“قِرت میں پہلی اور آخری مرتبہ بول رہا ہوں۔ اگر خود چائے دینے آؤ تو ٹھیک ہے ورنہ آج کے بعد میرے لیے چائے بنانے کی قطعاً ضرورت نہیں ہے”
وہ اُسے سختی سے باور کرواتا جانے کے لیے مڑا
“اگر عِزہ چائے دینے آگئی تو اتنا ریکٹ کیوں کر رہے آپ؟ بہن ہے یار وہ آپ کی اِس میں بُرائی ہی کیا ہے۔۔”
اُسکی پشت دیکھتے ہوئے وہ آنسو پیتی ہوئی بولی۔ بالکونی کی دہلیز پار کرتے افہام کے قدم رُکے۔ وہ پیچھے مڑا۔
“بُرائی تو کوئی نہیں لیکن اگر بہن کی بھابھی چائے دینے آجائے تو اچھائی ضرور ہوجائے گی۔۔۔”
وہ جتنی سنجیدگی سے لفظوں پر زور دے کر بولا اُتنی ہی آنکھیں پھاڑ کر قِرت نے اُسے دیکھا تھا۔۔
“ہاں تو جاکر۔۔۔بھابھی لائیں عزہ کی میں کیوں چائے دیتی پھروں آپ کو۔۔۔”
قرت اسکی بات کا مقصد جان کر بھی انجان بنتی دوسری طرف مڑی۔ افہام نے مسکراہٹ روک کر اُسکی پشت کو دیکھا
“بھابھی ڈھونڈ تو لی ہے لیکن وہ بلاوجہ میں ڈرتی بہت ہے”
وہ سکون سے اُسکے ساتھ آکر کھڑا ہوا تو قِرت نے بےاختیار ہی اُس کی طرف دیکھا۔ وہ پہلے ہی اُسکی طرف دیکھ رہا تھا۔ نظریں ملی تھی اور قِرت کی دھڑک میں اشتعال پربا ہوا تھا۔۔
“اگر محبت کرتی ہو تو کترانا کیسا؟”
وہ اُس پر سے نظر ہٹا کر بولا۔ قِرت کا دل کیا کے زمین پھٹے اور وہ اس میں سما جائے۔
کتنے سکون سے اُسنے وہ بات کہی تھی جِسے تسلیم کرنے میں اُسے خود اچھا خاصہ وقت لگا تھا اور اسنے تو خواب کے خواب میں بھی نہیں سوچا تھا کہ افہام پر اسکی محبت کا انکشاف کچھ اس طرح ہوگا اور وہ روبرو اُسے ایسا کچھ بول بھی دے گا۔۔وہ بےیقین سی ہوتی اندھیرے میں نظر آنے والے صحن کو دیکھنے لگی۔۔افہام نے کندھے سے پکڑ کر اُسے اپنی طرف موڑا
“قرت کیا ہے یار۔۔۔”
وہ نرمی سے بولا لیکن قرت کی آنکھ سے قطرہ ٹپکتا زمین کر جا گرا۔۔ یکلخت کئی آنسو آنکھوں سے نکلے تو افہام سٹپٹا گیا
“قِرت۔۔۔ارے پاگل لڑکی رو کیوں رہی ہو؟”
افہام کے سوال پر مزید رونے میں روانی آئی
“بیٹھو یہاں۔۔۔ادھر میری طرف دیکھو”
افہام نے اُسے واپس جھولے پر بٹھایا اور چہرا اُوپر کرنا چاہا۔ قِرت نے اُسکا ہاتھ پرے کیا
“میری وجہ سے رو رہی ہو؟ مجھے اندازہ نہیں تھا کہ تُم ہرٹ ہو جاؤ گی آئی سویر۔۔”
وہ پنجوں کے پل زمین پر بیٹھا اور اُسکا چہرا دیکھنے کی کوشش کی۔ قِرت نے آنسو صاف کیے
“واقعی میری وجہ سے رو ہی ہو؟”
اُسے رخسار رگڑتے دیکھ کر افہام نے دوبارہ سوال کیا۔ قِرت نے خاموشی سے سر نفی میں ہلایا۔
“تو کیوں رو رہی ہو۔۔۔”
افہام نے اُسکا چائے گرنے کے باعث سرخ ہوتا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لیا
“نہیں رو رہی میں۔۔”
وہ سوں سوں کرتی ہوئی بولی تو افہام کو اُس پر ٹوٹ کر پیار آیا اُسنے ہاتھ بڑھا کر اسکی نم آنکھوں کو چھوا وہ بےاختیار ہی آنکھیں بند کر گئی
“ائی ایم سوری۔۔ لیکن مجھے غصہ آگیا تھا”
وہ آہستہ آواز میں بولا قرت کے دھڑکنوں میں شور پیدا ہوا
“مم۔۔اُس وجہ سے نہیں رو رہی”
آنکھیں پر اسکے انگوٹھے کا لمس محسوس کرتی وہ بامشکل بولی۔۔
“تو کیا تُم اس وجہ سے رو رہی ہو کہ مجھے تمہاری فیلنگز کے بارے میں پتا لگ گیا ؟”
وہ جھولے پر اسکے ساتھ بیٹھا۔ قرت نے آنکھیں کھولی اور خاموش رہی
“ارے سچ میں؟ اچھی بات نہیں ہے یہ؟ کبھی نا کبھی تو مجھے پتا لگنا ہی تھا نہ۔۔۔”
وہ اپنے ہاتھوں میں اسکا ہاتھ دباتا ہوا بولا۔ قرت کی دل تو جیسے ڈھول بجا رہا تھا
“آپ غلط سمجھ رہے تھے۔۔۔”
ناجانے کیا سوچ کر وہ بھرائی ہوئی آواز میں بولی افہام نے گہری نظر سے اسکا چہرا دیکھا
“ایسا بھی ہو سکتا ہے۔ آنکھوں دیکھا بھی جھوٹ ہو سکتا ہے اور میں نے تو صرف سُنا ہے بلکل جھوٹ ہوسکتا ہے”
عام سے لہجے میں بولتے ہوئے قرت کا ہاتھ چھوڑا
“جھوٹ نہیں ہے یہ۔۔۔”
وہ جھٹکے سے اسکے پہلو سے اُٹھ کر اُسکے سامنے کھڑی
ہوئی۔۔۔
“بلکل ٹھیک سُنا ہے آپ نے جو بھی سُنا ہے میں کب انکار کر رہی؟”
وہ جزباتی انداز میں بولی
“لیکن ابھی تو تم نے کہا کہ میں غلط سمجھ۔۔”
“آپ کچھ غلط نہیں کہہ رہے میں غلط کہہ رہی تھی۔۔”
وہ جھٹ سے اُسکی بات کاٹ گئی تھی۔ افہام مسکراہٹ روکتا اُٹھ کھڑا ہوا
“ہمم۔۔یعنی قرت عدنان کو واقعی مجھ سے محبت ہے۔۔”
وہ سینے پر بازو باندھے مدھم مسکراہٹ کے ساتھ بولا قرت نظریں جھکا گئی
“خود پر اتنا بھی یقین نہیں ہے کیا؟”
وہ آہستگی سے بولی تو افہام ہنس دیا اور اسکو دونوں بازو سے پکڑ کر اپنے قریب کھڑا کیا
“ادھر دیکھو۔۔۔”
“جی نہیں۔۔چھوڑیں مجھے”
وہ اپنا بازہ چھڑوانے کی کوشش کرتی ہوئی بولی تو افہام نے اُسکو چھوڑ دیا۔ ایک پل میں وہ بالکونی سے نکلی تھی۔
“چائے دینے تو آؤ گی نہ اب؟”
پیچھے پیچھے چلتے اُسنے پوچھا تھا
“ہرگز نہیں۔۔”
وہ بولتی ہوئی کمرے میں گھسی
“ہاتھ پر کچھ لگا لینا۔۔۔”
دروازہ بند کرتے وقت افہام کی آواز کانوں میں پڑی تھی۔ وہ دروازے سے ٹیک لگا کر کھڑی ہوگئی۔ دھڑکنیں اُتھل پُتھل ہورہی تھیں ہونٹوں پر گہری مسکراہٹ تھی۔ آنکھیں بلاوجہ ہی نم ہونے لگی
“کیا انہیں بھی مجھ سے محبت ہے؟”
خود سے سوال کرتی وہ بیڈ پر بیٹھی لیکن کیا فرق پڑتا تھا؟ وہ افہام سے محبت کرتی تھی اور یہ بات افہام جانتا تھا۔ صاف لفظوں میں نہ سہی لیکن وہ اُسکی محبت تو قبول بھی کرچکا تھا. عورت کے لیے تو یہ بھی بہت ہوتا ہے۔ وہ سوچ کر پُرسکون ہوئی۔
