Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Muntazirat Hastam (Episode 14)

Muntazirat Hastam by Neha Imtiaz

“لیکن رائد نے کہا تھا کہ ماما ٹھیک ہو جائیں نکاح اس کے بعد ہوگا۔۔۔”

“سکینہ خالہ کو تین دن سے ہوش نہیں آیا یشل اسی لیے یہی فیصلہ ہوا ہے کہ آج یا کل میں ہی تم دونوں کا نکاح کردیا جائے۔۔۔”

نِشہ کی بات سن کر یَشل نے سر ہاتھوں میں تھام لیا۔ صبح کے نو بج رہے تھے ساری رات جاگنے کے بعد فجر کی نماز ادا کر کہ وہ بمُشکل سوئی تھی اور نِشہ نے اسے اٹھاتے ہوئے نیا دھماکہ کیا تھا۔

“یا میرے اللّٰہ۔۔۔آجائے گا امی کو ہوش تو کرلیں گے نہ! کہیں بھاگ رہی ہوں کیا میں؟”

یَشل اچھی خاصی چِڑ گئی تھی تبھی نِشہ بیزار ہوتی غصے سے بولی۔

“یَشل۔۔ نکاح آج ہو یا کل کیا فرق پڑتا ہے تم نے جب نکاح کے لیے ہامی بھر لی ہے تو اب کیا مسئلہ ہے؟”

نِشہ کو اسکی چِڑ ایک آنکھ نہ بھائی تھی۔ یَشل خاموش رہی کتنی ہی بار اسے یہ خیال آیا کہ ہوسکتا ہے سکینہ جب ٹھیک ہو جائے تو اپنا فیصلہ بدل دے لیکن یشل ریحان کے ستارے گردش میں تھے۔۔

“مجھے نہیں کرنا۔۔۔” بےاختیار ہی آنکھوں میں نمی اتری تھی

“تمہارا دماغ تو نہیں خراب یَشل؟ تم خود پاگل ہو یا ہم سب کر رہی؟”

نِشہ غصے میں اسکی طرف آئی اور اسکے سامنے بیٹھی تو یَشل نے نم آنکھوں سے اسکی طرف دیکھا۔ خارا پانی بہنے کو بیتاب تھا۔

“تم کیا ہر روز ایک نیا شوشہ چھوڑ دیتی ہو؟ پہلے تمہیں اس سے نفرت تھی پھر تم نکاح کے لیے مان گئی اور اب انکار؟ تمہیں خود کو پتا ہے کہ کرنا کیا ہے؟ اگر ماموں کو بھنک پڑ گئی نہ کہ تم انکی لاڈلی بہن کی خواہش کو رد کر رہی تو دماغ درست کردیں گے وہ تمہارا بلکل اسی طرح جیسے میرا کِیا تھا! اگر اتنی ہی کنفیوزڈ تھی تم تو وقت مانگ لیتی نہ سوچ سمجھ کر فیصلہ کرتی۔۔ اب تم سکینہ خالہ کو ہاں کر چکی ہو بھول جاؤ کہ تم ان کی بیہوشی کی حالت میں انکار کرکہ اس نکاح سے بچ سکتی ہو!”

نِشہ نے غصے میں اسکو سو سلواتیں سنائی تو یشل کے رُکے ہوئے آنسو بہہ نکلے۔۔

“سوری یشل میں غصہ نہیں کرنا چاہتی تھی۔۔۔لیکن تم بھی تو دیکھ۔۔۔”

یشل کے رونے پر نِشہ کو جلد ہی احساس ہوا کہ اس کی پوزیشن جانتے ہوئے بھی وہ بلاوجہ ہی اس پر غصہ کر گئی ہے تو معذرت کرتی اس کے قریب ہونے لگی لیکن یَشل کمفرٹر دور پھینکتی بیڈ سے اتری اور واشروم میں بند ہوگئی۔۔۔

“یا اللّٰہ میں کدھر جاؤں۔۔۔” نشہ نے اپنا ماتھا پیٹا تھا۔۔۔

☆ ★ ✮ ★ ☆

آمنہ اور عزہ کا تو جیسے معمول ہی بن گیا تھا ہر دوسرے دن ایک دوسرے کے گھر چکر لگانا۔ سکینہ کی سرجری والے دن آمنہ اسکے گھر آئی تھی اور آج وہ صبح کے وقت اسکی طرف گئی تھی۔ اس وقت دوپہر کے دو بج رہے تھے عزہ نے ہادی کا کال کی کہ وہ اسے پک کرنے آجائے جس پر اسنے بتایا کہ وہ یہاں قریب ہی آیا ہوا پانچ منٹ میں آجائے گا اور عزہ بی بی بیوقوفانہ حرکتیں کرتی آمنہ کے گھر سے نکل آئی۔ آج تو موسم بھی پچھلے دنوں جیسا خوشگوار نہ تھا بلکہ لگ ہی نہیں رہا تھا کہ سردیوں کی شروعات ہوئی ہے۔ سورج عزہ کے سر پر کھڑا اسے اچھی خاصی آنکھیں دکھا رہا تھا تبھی اسنے ہادی کا نمبر ڈائل کیا۔۔

“کہاں رہ گئے ہو ہادی؟ اتنی گرمی میں لُڑک جانا میں نے۔۔۔”

“جلدی کرو پلیز۔۔۔جہنم کو بھی تمہاری یاد آرہی ہوگی”

ہادی کی بات پر وہ چڑ گئی

بکواس بند کرو اور ادھر مرو۔۔۔انتظار کر رہی میں کب سے اگر آنے میں وقت تھا تو باہر آنے کے لیے کیوں کہا!”

اسکے چیخنے پر ہادی نے فون کان سے دور کیا۔۔۔

“جھوٹی استغفرُللّٰہ استغفرُللّٰہ۔۔۔میں نے یہ نہیں کہا تھا کہ پھولن دیوی بن کر میرا انتظار کرو میں نے صرف یہ بتایا تھا کہ۔۔۔اوفف لعنت بھیجو آرہا ہوں میں!”

ہادی نے کال کاٹی تو عزہ نے منہ بناتے ہوئے فون بیگ میں رکھا پھر نہ جانے کس خیال کہ تحت گلی سے نکل کر سامنے پارک میں جا بیٹھی۔۔۔اسے پارکس میں بیٹھنا سخت نہ پسند تھا مگر یہ جگہ بلاوجہ ہی اسے اچھی لگتی تھی۔ عجیب سا سکون تھا یہاں جو اسے گھیرے رکھتا۔ پارک میں اس وقت سکولز کی چھٹی کی وجہ سے کافی لوگ اور بچے موجود تھے جو یہاں وہاں بھاگ دوڑ کر رہے تھے اور وہ بڑے انہماک سے انہیں دیکھ رہی تھی

“السلام و علیکم۔۔۔”

بھاری آواز پر اس نے دوسری طرف دیکھا۔ پیلے رنگ کی ٹی پہنے وہ کوئی بیس بائیس سالہ خوش شکل نوجوان تھا۔ بال نفاست سے سیٹ تھے چہرے پر نرم تاثر تھا۔

“وعلیکم السلام۔۔۔”

اس نے بےحد آہستہ آواز میں جواب دیتے اس پر سے نظر ہٹائی۔

“کیا میں یہاں بیٹھ جاؤں۔۔؟”

اس نے بینچ کے دوسرے کونے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا تو اس نے آنکھیں چھوٹی کرکہ اسے دیکھا۔۔۔

“پارک میں یہ آخری جگہ بچی ہے بیٹھنے کے لیے؟”

اسںے سنجیدگی سے اسے دیکھا جو شکل سے تو کافی تمیز دار لگتا تھا لیکن اب اسے ایک فلرٹ لگنے لگا تھا۔

“جی ہاں ایسا ہی ہے۔۔۔”

وہ بڑے احترام سے جواب دیتا بیٹھنے ہی لگا تھا جب وہ بولی

“آپ ادھر بیٹھ جائیں جاکر۔۔۔”

اس نے خود کو بدلحاظ ہونے سے روکتے ہوئے ایک بینچ کی طرف اشارہ کیا جہاں ایک بوڑھے انکل چھوٹی بچی کے ساتھ بیٹھے تھے۔۔۔

“لیکن میں یہیں بیٹھنا چاہتا ہوں۔۔۔”

وہ اچھا خاصہ بدتمیز تھا۔۔۔

“لیکن میں آپ کے ساتھ نہیں بیٹھنا چاہتی۔۔۔”

عزہ نے دانت پیسے۔۔۔

” آپ کو یہ خلط فہمی کیوں ہوئی کہ میں آپ کے ساتھ بیٹھنا چاہتا ہوں؟میں تو اس بینچ پر بیٹھنا چاہتا ہوں۔۔۔”

وہ اپنی بات سے اسے اچھا خاصہ سُلگا گیا اور بینچ کے دوسری سائیڈ پر بیٹھا۔ وہ حیرت سے منہ کھولے اس بدتمیز انسان کو دیکھ رہی تھی جو بغیر کسی کا لحاظ کئیے بغیر کسی ڈر کہ اسے چھیڑ رہا تھا۔۔

“مرو تم یہیں پر۔۔!”

وہ غصے سے کہتی اپنی جگہ سے اٹھی

“آپ کا نام۔۔۔عزہ خان ہے نہ؟”

وہ پانچ قدم ہی چلی تھی جب اس نے پیچھے سے اسے مخاطب کیا تھا۔ چند لوگوں نے اسکی اونچی آواز پر ان دونوں کو دیکھا تھا جن کو سراسر اگنور کرتا وہ اس کو سوالیہ نظروں سے دیکھ رہا تھا۔۔وہ رک گئی اور حیرت سے آنکھیں پھاڑے اس کی طرف پلٹی۔۔

“آپ سے۔۔۔کِس نے کہا؟”

وہ بامشکل بول پائی تھی۔ حیرت میں ڈوبی آواز سن کر وہ مسکرایا اور اٹھ کر اسکی طرف آیا۔

“اچھا لگا تم سے مل کر۔۔امید ہے دوبارہ ملاقات ہوگی”

وہ “آپ” سے “تم” کا سفر تہ کرتا مسکرا کو بولا تو عِزہ کو اس شخص سے بےاختیار خوف اور گھبراہٹ نے اپنے گھیرے میں لیا۔ اسکا دل ڈوب کر ابھرا تھا۔ وہ اسکے چہرے پر ایک مسکراتی گہری نظر ڈالتا وہ اسے اطراف سے ہوتا ہوا بیرونی راستے کی طرف بڑھ گیا جبکہ وہ وہیں شاک کی کیفیت میں کھڑی تھی۔ اسکی زندگی میں پہلی بار ایسا ہوا تھا کہ یوں کسی لڑکے سے اس نے بات کی ہو اور بری طرح سے الجھ بھی گئی ہو۔ وہ کافی دیر ویسے ہی کھڑی رہتی اگر اسے ہادی کی کال نہ آتی۔

“کہاں مر گئی ہو اب تم۔۔۔؟”

اگر وہ الجھن کا شکار نہ ہوتی تو اس کے جملے پر اچھی خاصی سنا دیتی

“وہیں کھڑے رہو آرہی ہوں۔۔۔”

وہ بولتی ہوئی اس شخص کے پیچھے ہی جانے لگی جو پارک سے نکل کر سائڈ پر کھڑی اپنی بائیک سٹارٹ کر رہا تھا۔ عزہ کو پارک سے نکلتا دیکھ کر ہادی خود ہی اسکی طرف آیا لیکن بائیک سٹارٹ کرکہ جانے والے شخص کو دیکھ کر وہ ٹھٹھک گیا

☆ ★ ✮ ★ ☆

ہر دوسری بےبس لڑکے/لڑکی کی کہانی۔ کیسے زندگیاں مرتے ہوئے انسان کی آخری خواہش کی بھینٹ چڑھ جاتی ہیں۔ وہی ٹیپیکل نکاح کی خواہش۔

یَشل کے ساتھ بھی یہی ہوا تھا۔ اسکی خواہشات اور خواب بھی سکینہ کی آخری خواہش کے آگے دم توڑ گئے۔

اگر اُسے معلوم ہوتا کہ یہاں آکر اُسکی زندگی مکمل طور پر پلٹ جائے گی تو وہ کبھی اِس دہلیز پر قدم ہی نہ رکھتی وہ کبھی یہاں کا رُخ ہی نہ کرتی۔۔وہ دُنیا کہ کِسی کونے میں جاکر چھُپ جاتی مگر یہاں آنے کے بارے میں بھی نہ سوچتی مگر یہ ساری سوچیں اپنی ماں کا خیال آتے ہی دم توڑ جاتی تھی۔۔۔وقعی اُس کی ماں نے اُس سے زندگی میں پہلی بار کُچھ مانگا تھا۔۔وہ کیسے اِنکار کرتی؟ وہ کیسے اپنی ہی نظروں میں گِر جاتی؟کیا وہ اپنی ماں کی برستی آنکھیں بھول جاتی؟ وہ ساری زندگی اِس احساس کے ساتھ کیسے گُزارتی کہ وہ اپنی ماں کی خواہش پوری نہ کر سکی۔

پورا وجود احساس ندامت میں تھا اس کا دل رو رہا تھا وہ ایک شخص کو آس دلائے امیدیں دلائے بےپناہ وعدے کئیے یہاں کسی اور کا نام اپنے نام سے جوڑنے لگی تھی۔ اس کے دل میں کئی بار یہ خیال آیا کہ وہ بھاگ جائے ادویات کا استعمال کرکہ خود کو کچھ کرلے لیکن اسکے ہاتھ پاوں جیسے کٹ گئے تھے۔ نِشہ نے صبیحہ کے کہنے پر خود پر بامُشکل ضبط کرتے اسے تھوڑا سا تیار کردیا تھا لیکن اسکی آنکھوں سے بہتے آنسو اُن حسین آنکھوں میں لگا کاجل پھیلا گئے تھے۔

“اٹھو۔۔مولوی صاحب آگئے ہیں۔ تیار تو ہو ہی گئی ہو زندگی برباد کرنے کے لیے اب آخری سیڑھی بھی پار کرلو اور گر جاؤ کنویں میں۔۔۔”

نشہ کے تلخ جملوں پر اسنے آنکھوں میں نمی لئیے اس کی طرف دیکھا تھا۔

“بعد میں رو لینا ابھی باہر چلو عصر کی اذان ہوگئی ہے سب انتظار کررہے ہونگے۔۔۔”

انوشہ اپنی آنکھوں میں امڈنے والی نمی چھپانے کے چکر میں اس سے نظریں چراتی ہوئی بولی اور اسے کھڑا کیا۔

اسنے سادہ سا ہالف وائیٹ رنگ کا جوڑا پہن رکھا تھا جس پر ہلکا سا کام ہوا تھا اور سرخ بھاری دوپٹہ کندھے اور سر پر سیٹ تھا۔ اصل چڑ تو یہ خوبصورت دوپٹہ دیکھ کر اسے ہوئی تھی جو صبیحہ نے منگوایا تھا یا خود بازار سے لائی تھی۔ بہرحال جو بھی تھا یَشل کا دل کر رہا تھا اس دوپٹے کو آگ لگا دے۔ میک اپ برائے نام ہی تھا۔ نِشہ کے ہمراہ وہ کمرے سے باہر نکلی اور ہال کی طرف بڑھی۔

اٹھانے والا ہر قدم بھاری ہوتا جارہا تھا وہ سہی معنوں میں اپنے پیروں پر کلہاڑی مار رہی تھی اور زندگی میں عزاب کو دعوت دے رہی تھی۔

وہ جیسے ہی ہال میں داخل ہوئی عطیہ اسکی طرف آئی اور اسکا ہاتھ پکڑ کر اسے صوفے پر بٹھایا۔ یَشل اور عطیہ کے درمیان کوئی بات نہ ہوئی تھی۔ نہ اسنے کوئی شکایت یَشل سے کی تھی نہ غصہ کیا تھا۔ اسکی آنکھوں میں یَشل نے اپنے لیے اتنی ہی محبت دیکھی تھی جتنی وہ پہلے دیکھتی آئی تھی۔ لیکن یہ بھی حقیقت تھی کہ عطیہ دل ہی دل میں بہت پریشان اور دکھی تھی۔ وہ رائد کے بارے میں نہیں جانتی تھی مگر ارمغان اور یَشل کے بارے میں اسے معلوم تھا اس وقت یَشل کی دلی حالت کیا ہوگی اسے اندازہ تھا اور ارمغان کو جب سب کچھ معلوم ہوگا تو وہ کیسا ردعمل دے گا وہ یہ بھی جانتی تھی مگر وہ کچھ نہیں کر سکتی تھی۔

اسنے یشل کو صبیحہ کے ساتھ صوفے پر بٹھایا اور خود بھی اسکے دائیں جانب بیٹھ گئی جبکہ نِشہ اسکے پیچھے جا کھڑی ہوئی چند لمحے ہی گزرے تھے جب رائد ہال میں داخل ہوا۔

چوڑا سینہ، صاف شفاف رنگت، سفید شلوار قمیض میں کندھوں پر براؤن شال پھیلائے چہرے پر سنجیدہ تاثرات کے ساتھ بھرپور وجاہت سے چلتا ہوا وہ روم کا شہزادہ ہی تو لگ رہا تھا لیکن وہ شہزادہ لگے یا ہیرے موتی کا بن کر آجائے

یَشل ریحان کے دِل میں وہ کبھی جگہ نہیں بنا سکتا تھا۔

“تیار تو ایسے ہوا ہے جیسے بڑے ہی خوشگوار ماحول میں نکاح ہو رہا۔۔۔”

نِشہ نے اسکی تیاری دیکھ کر کڑھتے ہوئے دل میں سوچا اور اسے یَشل کے سامنے والے صوفے پر براجمان ہوتا دیکھ کر مٹھی بھینچی۔ اسکا بس چلتا وہ رائد کا منہ نوچ لیتی۔ نہ جانے کیوں سارے فساد کی جڑ یہی شخص لگ رہا تھا اسے۔

رائد نے یَشل کو دیکھا تو وہ اسکی سانس رک گئی تھی۔ وہ سادہ سے میک اپ میں بھی غضب ڈھا رہی تھی۔ عید کے بعد وہ آج اسے سجا سنورا دیکھ رہا تھا۔ وہی سوجی آنکھیں اور ہلکی سی سرخ ہوتی ناک۔ بس عید والے دن کی طرح چہرے پر وہ چمک نہیں تھی۔ وہ آج بھی گلاب کا پھول لگ رہی تھی مگر مرجھایا ہوا اور رائد نے اس پھول کو دوبارہ تازہ کرنا تھا اسکی مہک کو واپس لانا تھا۔

نکاح میں صرف قریبی چند لوگ ہی شامل تھے جبکہ ہسپتال میں سکینہ کے پاس رائد کی چچی موجود تھی جو کچھ دو دن پہلے ہی لندن سے یہاں پہنچی تھی۔

“مولوی صاحب نکاح شروع کریں۔۔۔”

عدنان صاحب نے رائد کے ساتھ بیٹھے مولوی صاحب کو مخاطب کیا تو انہوں نے نکاح پڑھنا شروع کیا۔

“یَشل ریحان ولد ریحان احمد آپ کا نکاح رائد خٹک ولد عادل خٹک سے سکہ رائج الوقت پندرہ لاکھ روپے تہ پایا ہے۔ کیا آپ کو یہ نکاح قبول ہے؟”

دھڑکن آہستہ ہوگئی۔ ایک بار پھر اسکا دل کیا تھا کہ وہ بھاگ جائے وہ اپنا آپ خدا کے حوالے کرتی اس گھر سے چلی جائے لیکن پورا وجود مفلوج ہوگیا تھا۔

“قبول۔۔ہے۔۔۔”

تھوک نگلتے وہ اتنی آہستہ بولی تھی کہ مولوی صاحب تک بھی بامشکل آواز گئی تھی۔ رائد کی دھڑکن تیز ہوگئی تھی۔انہوں نے دوبارہ اپنا جملہ دوہرایا اور پھر تیسری بار بھی۔۔۔

“یَشل ریحان ولد ریحان احمد آپ کا نکاح رائد خٹک ولد عادل خٹک سے سکہ رائج الوقت پندرہ لاکھ روپے تہ کیا گیا ہے۔ کیا آپ کو یہ نکاح قبول ہے؟”

خارے پانی سے دھندھلائی آنکھوں کے سامنے اندھیرا آرہا تھا۔ اسے اپنا وجود برا لگ رہا تھا وہ بے وفائی کر رہی تھی۔ ارمغان سے، خود سے بھی۔

“قب۔۔۔قبول ہے”

اسنے آنکھیں بند کرلی تھی موتی کا قطرہ رخسار پر پھسلنے لگا۔ گہری سانس لینے کی کوشش کی گئی لیکن اسے سانس نہیں آرہا تھا۔ اگر اسکے چہرے پر گھونگھٹ ہوتا تو وہ ضرور رو دیتی۔ سامنے بیٹھا شخص بغور اسکا چہرا دیکھ رہا تھا اور اسکی حالت بھی سمجھ رہا تھا۔

“سب ٹھیک ہو جائے گا۔۔۔میں اپنی محبت سے اسے ٹھیک کردوں گا”

اسنے دل ہی دل میں جیسے خود کو تسلی دی تھی۔ عدنان صاحب نے یَشل کے سامنے نکاح نامہ رکھا تو صبیحہ ںے یَشل کا ہاتھ پکڑتے اسے ہلایا۔ آنکھیں کھول کر اسنے نکاح نامے کو ایسے دیکھا جیسے وہ نکاح نامہ نہیں بلکہ ڈیتھ نوٹ ہو۔ عدنان صاحب کے ہاتھ سے اس نے بڑھا ہوا پین پکڑا اور بےجان ہاتھوں سے نکاح نامے پر دستخط کرنے لگی تبھی نِشہ کے ہاتھ میں پکڑا فون اچانک بجنے لگا تو سب نے اسکی طرف دیکھا جس کی نظر فوں پر جگمگاتے قرت کے نام پر تھی۔ کل سے وہ سب اسے بےشمار کالز کر چکے تھے اور وہ بس ان کو ایک میسج کردیتی تھی کہ ابھی مصروف ہے بعد میں بات کرے گی۔ لیکن اس بار اس کا دل کیا وہ کال اٹھا لے اور انہیں بتا دے کہ یہاں کیا ہورہا تھا۔

“کس کی کال ہے؟”

عدنان صاحب ہی آواز پر اسنے سکرین سے نظر ہٹا کر ان کی طرف دیکھا۔۔

“قرت کی۔۔۔”

اسنے کال کاٹ دی۔ جانتی تھی عدنان صاحب بھی یہی کرنے کے کو کہیں گے۔ فون کی آواز بند ہوئی یَشل نے نکاح نامے پر دستخط کئیے تو مولوی صاحب نے رائد کو نکاح پڑھانا شروع کیا۔

“رائد خٹک والد عادل خٹک آپ کا نکاح یشل ریحان والد ریحان احمد کے ساتھ سکہ رائج الوقت پندرہ لاکھ کیا جاتا ہے کیا آپ کو یہ نکاح قبول ہے؟”

یَشل اسکی نظریں خود پر ٹکی محسوس کر سکتی تھی پھر اسکی آواز یَشل کے کانوں سے ٹکرائی تھی۔

“قبول ہے۔۔۔”

وہ تیز دھڑکتے دل کے ساتھ بولا تھا۔

دوسری بار اور پھر تیسری بار بھی۔۔ وہ اسے مل گئی تھی۔ بغیر مانگے بغیر دعائیں کئیے وہ اسکی ہوگئی تھی اسے لگا جیسے ساری دنیا اسکی ہوگئی ہو۔ اسے لگ رہا تھا جیسے وہ سکون کے دریا میں ڈوب گیا ہو۔۔۔

“بیٹا یہاں سائن کرو۔۔۔”

رائد کے سائن کرنے کے سب نے دعا کے لیے ہاتھ اٹھائے اور پر مبارک باد کا شور گونج اٹھا۔۔۔۔

رائد کس قدر مطمئن تھا یہ اس کے چہرے سے جھلک رہا تھا۔ جس گہری مسکراہٹ کے ساتھ وہ وہاں موجود مردو سے بغلگیر ہورہا تھا یَشل حیران تھی۔ اسے نشہ کی تمام باتیں اچانک ٹھیک لگنے لگی۔۔

رائد جیسے ہی عادل کی طرف بڑھا تو اسنے اسکے سینے سے لگانے میں پہل نہیں کی تھی۔ یہ چیز کسی نوٹ کی تھی یا نہیں مگر نِشہ نے کی تھی۔ عادل ویسے بھی رائد سے کچھ کھچا کھچا تھا اگر اس چیز کو ان سب نے محسوس کیا بھی تھا تو کسی نے کچھ کہا نہ تھا۔

رائد نے اس دن بات کرنے کے بعد یَشل کا دوبارہ مخاطب نہیں کیا تھا۔ وہ بلاوجہ اسکے سامنے بھی نہیں آتا تھا۔ کل ہی یَشل دعا کر رہی تھی کہ وہ نکاح میں آنے کے بعد بھی ایسا انجان بنا رہے لیکن یہ تو ناممکن سی بات تھی۔ اس کے تو وہم و گمان میں بھی نہیں تھا وہ شخص کیا کچھ کرنے والا تھا۔

صبیحہ نے مٹھائی اٹھائی اور یشل کی طرف بڑھائی تو وہ غیر محسوس انداز میں چہرا تھوڑا دور کرگئی جس صبیحہ نے نہ کوئی ردعمل دیا نہ دوبارہ مٹھائی کھلانے کی کوشش کی۔ وہ جانتی تھی یَشل کچھ ایسا ہی کرے گی۔

“ہمیشہ خوش رہو۔ خدا تمہیں اپنے حفظ و امان میں رکھے اور تمہارے نصیب اچھے کرے۔ سدا سہاگن رہو”

ایسی ہی کچھ دعائیں اسنے عطیہ اور صبیحہ کی طرف سے سنی تھی۔ وہ نہیں جانتی تھی اسے نِشہ، عطیہ اور صبیحہ میں سے مبارک باد کس نے دی تھی۔ اگر دی بھی تھی تو شکر کررہی تھی کہ اس نے نہیں سنی تھی، وہ سننا بھی نہیں چاہتی تھی۔

“تم بہت خوش رہو گی۔ انشاللّٰہ”

نِشہ کہ آواز پر یشل نے اسے ایسی نظروں سے دیکھا جیسے کہہ رہی ہو “واقعی میں اب خوش رہ سکتی ہوں؟” نشہ نظریں چرا گئی۔ عدنان نے فلوقت اسے کچھ نہیں کہا تھا۔ وہ تمام مردوں کے ہمراہ وہاں سے جا چکے تھے۔

” میں روم میں جانا چاہتی ہوں”

اسنے صبح سے خود اٹھ کر پانی تک نہیں پیا تھا۔ مگر اسکا پور پور تھکن میں ڈوبا ہوا تھا۔ وہاں انکے پڑوس کی ایک عورت اپنی بیٹی کے ساتھ بھی موجود تھی جو اب اسکی طرف آرہی تھی۔

“بہت بہت مبارک ہو۔ ماشاءاللہ چاند سورج کی جوڑی ہیں رائد اور یَشل ۔ میری نظروں کے سامنے پلا بڑا ہے بہت اچھا بچا ہے خدا تم دونوں کو اپنے سائے میں رکھے۔۔”

وہ اس کے ساتھ بیٹھ گئی تھیں اسکی گود میں پانچ ہزار کا نوٹ رکھتے اپنی بیٹی سے تصویر نکالنے کا کہا تو یَشل نے التجائی نظروں سے عطیہ کی طرف دیکھا جنہوں نے آنکھوں ہی آنکھوں میں اسے تسلی دی رو بدقت مسکراتے اس نے ان دونوں کے ساتھ تصاویر نکلوائی۔

“برائے مہربانی ان تصویروں کو کہیں پوسٹ مت کیجئیے گا۔ یہ ایک بہت پرائیویٹ تقریب تھی امید ہے دوسروں تک اس کے بارے میں افواہیں نہیں جائیں گی۔۔۔”

نِشہ جتنا کر سکتی تھی اتنے نارمل لہجے میں اس نے تصوریں نکالنے والی اس لڑکی کو مخاطب کیا تو وہ اسکی باتوں پر کچھ کہہ نہ سکی۔ انوشہ نے یَشل کا ہاتھ تھاما اور کمرے میں لے آئی اور واپس باہر نکل گئی۔

کمرے میں آتے آنسوؤں کا ایک ریلا تھا جو بہہ نکلا تھا۔ اس نے دوپٹہ سر سے نوچ کر دور پھینکا تھا اور بیڈ پر بیٹھتے وہ بلک بلک کر رونے لگی۔ چند دن میں وہ آسمان سے زمین پر آگری تھی۔ ناجانے کیسی آزمائش تھی جو ختم نہیں ہوئی تھی بلکہ زندگی بھر کے لیے اسکا مقدر بن گئی تھی۔

بچپن سے جو پریوں کی کہانی وہ سُنتی آئی تھی اور وہ کہانیاں سُن کر جو خوبصورت خواب اُس نے آنکھوں میں سجائے تھے،،اُس کی زندگی تو اُن خوابوں سے بلکُل ہی مُختلف سِمت میں چل رہی تھی۔۔اُسے لگ رہا تھا جیسے اُسکی خوبصورت کہانی کا اختیام بہت بھیانک طریقے سے ہوا تھا یا پھر ابھی اُس کی کہانی مُکمل نہیں ہوئی تھی۔۔۔کیا وہ شہزادی تھی بھی سہی جِس کو شہزادہ چاہیے تھا؟ نہیں،،،اگر وہ شہزادی ہوتی تو اُن کہانیوں کی طرح اُس کی زندگی بھی حسین ہوتی۔ جہاں شہزادہ آکر ہر مُشکِل سے بچا لیتا ہے،،اُس نے بھی اُس شہزادے کا انتظار کیا تھا مگر وہ نہ آیا وہ اُسکی راہ دیکھتی رہی مگر بہت انتظار کے بعد بھی وہ نہیں آیا اور نہ ہی اُسے آنا تھا یا پھر شاید اُس کی کہانی کا شہزادہ یہ تھا جِس کہ نِکاح میں وہ زبردستی لِکھ دی گئی تھی۔۔۔

زبردستی؟ ہاں۔۔۔ایک طرح سے اپنی ماں کی طرف سے کی گئی یہ زبردستی اور قسمت کی زیادتی ہی تھی۔ جس سے شاید زندگی بھر اس نے جھیلنا تھا۔

شاید۔۔۔

☆ ★ ✮ ★ ☆

رات بارہ بجے کا وقت تھا جب اسے ارمغان کا میسج ریسو ہوا۔

“عزہ قِرت سورہی ہے کیا۔۔۔؟”

عزہ نے قِرت کو دیکھا جو کچھ دیر پہلے ہی نیند کی وادیوں میں ڈوبی تھی پھر میسج ٹائپ کرنے لگی۔

“سوگئی ہے۔۔۔۔کیا ہوا خیریت؟”

پانچ منٹ تک رپلائی نہ آیا تو وہ کمرے سے نکل آئی اور ارمغان کے کمرے کی طرف بڑھی۔ دروازہ ناک کئیے بغیر ہی وہ اندر داخل ہوئی تو ارمغان ٹانگیں لٹکائے لیٹا ہوا تھا۔ آہٹ پر بھی اس کے وجود میں حرکت نہیں ہوئی تھی۔ وہ آہستہ سے اسکی طرف بڑھی جس کی آنکھیں بند تھی فون سینے پر پڑا تھا۔ وہ شاید سو گیا تھا۔

“ارمغان۔۔۔۔ارمغان۔۔”

پہلے اسنے آہستگی سے ارمغان کو پکارا مگر پھر اسنے اپنا ہاتھ اسکے کندھے پر رکھ کر اسے ہلایا تو اسنے نیند کے خمار سے سرخ ہوتی آنکھیں کھولی۔ ارمغان کو چند لمحے کچھ سمجھ نہ آیا وہ اسے دیکھے گیا۔ دونوں کی نظریں ملی تھی اور وہ دیوانی تو اسکی آنکھوں میں جیسے کھو گئی۔

“ارے۔۔عِزہ تم ہو”

اسکا ذہن بیدار ہوا تو وہ سیدا ہوکر بیٹھا۔

“آپ کوئی اور سمجھ رہے تھے۔۔؟”

ہلکی مسکراہٹ لیے وہ اسکے چہرے کو دیکھ رہی تھی۔

“ہاں۔۔۔۔” وہ ہلکا سا ہنسا تو عزہ کی مسکراہٹ سمٹ گئی۔ اسنے تو ویسے ہی بول دیا تھا مگر ارمغان نے اسے واقعی کوئی اور ہی سمجھا تھا۔۔۔لیکن اسنے یَشل کے خیال کو ذہن پر حاوی نہ ہونے دیا اور قرت کا سوچ کر کچھ پرُسکون ہوئی۔۔

“آپ کی طبیعت ٹھیک نہیں کیا؟”

اُسنے آگے کو ہو کر اسکا ماتھا چھوا تو وہ چند لمحے کچھ بول نہ سکا پھرسر نفی میں ہلایا۔

“نہیں سر میں درد ہے اور کچھ نہیں۔۔”

اسنے مسکرانے کی کوشش کی۔ عزہ کا رویہ دن با دن اسے عجیب لگنے لگا تھا۔ وہ سمجھ نہ پا رہا تھا وہ اچانک اسکے کلوز کیوں ہونا چاہ رہی شاید وہ غلط تھا لیکن اسکے رویے سے اس نے یہی اخذ کیا تھا۔

“اوہ۔۔۔زیادہ سر درد ہونے پر آپ کو تو نیند بھی نہیں آتی ٹھیک سے۔ میں پیناڈول لے کر آتی”

وہ بولتی ہوئی پلٹ گئی۔ وہ واپس سیدھا ہوکر لیٹ گیا تھا۔ اس کا سر پھٹ رہا تھا ایسے میں وہ اسکی باتوں یا رویہ پر غور و فکر ہرگز نہیں کرنا چاہتا تھا چند لمحے ہی گزرے تھے جب وہ پیناڈول لئیے کمرے میں واپس آئی۔

“اسکی ضرورت نہیں تھی عزہ۔۔۔”

وہ اس کے ہاتھ میں دودھ کا گلاس دیکھ کر بولا۔ عِزہ کے قریب آنے تک وہ دوبارہ اٹھ کر بیٹھ گیا تھا۔

“اسی کی ضرورت تھی۔۔۔ یقیناً آپ نے کھانا بھی نہیں کھایا ہوگا”

ارمغان کے اسکے ہاتھ سے پیناڈول لے کر منہ میں رکھی اور دودھ کے گھونٹ بھرنے لگا۔

“بہت زیادہ لاپرواہی کرنے لگے ہیں آپ ویسے گھر آنے کا بھی کوئی ایک وقت نہیں کھانا بھی ٹھیک سے نہیں کھاتے۔۔۔مانا کہ آپ کی جاب شروع ہوئی ہے مگر اتنی بھی کیا مصروفیات۔۔۔”

وہ اسے دودھ پیتا دیکھتے ہوئے مسلسل بولتی ہوئی اسکے سامنے ہی براجمان ہوگئی تو ارمغان خالی گلاس سائڈ ٹیبل کر رکھتے ہلکا سا مسکرایا اور پھر اسے دیکھنے لگا۔۔ وہ اسے کیوں دیکھ رہا تھا عزہ نہیں جانتی تھی مگر وہ گڑبڑانے لگی تھی۔

“تم فکر مت کرو اس کام کے لیے ایک قرت کافی ہے۔۔”

وہ ہلکا سا ہنسا۔ اسے لگا وہ اٹھ کر چلی جائے گی مگر ایسا نہیں ہوا۔

“تم سوئی کیوں نہیں۔۔۔؟”

“ویسے ہی نیند نہیں آرہی تھی۔۔۔۔”

اسنے مسکرانے کی کوشش کی۔ نیند اسے واقعی نہیں آرہی تھی۔ دو دن پہلے پارک میں ملنے والے اس شخص نے عجیب سے انداز میں اسے بیچین کیا تھا۔ وہ بس سمجھنے سے قاصر تھی کہ وہ جو مرضی تھا اسکی بلا سے مگر وہ اسے کیسے جانتا تھا؟

“ویسے۔۔۔قرت کا کیوں پوچھ رہے تھے آپ؟”

“یہی۔۔۔سر درد تھا تو اسی لیے اگر وہ جاگ رہی ہوتی تو سر دبا دیتی”

“میں دبا دیتی ہوں ایسے آپ کو سکون نہیں آئے گا۔۔۔”

وہ جھٹ سے بولی تو ارمغان اسے خاموشی سے دیکھنے لگا۔

“لیٹ جائیں نہ۔۔قرت ہمشیہ آپ کا سر دباتی ہے عادت ہوگی آپ کو”

بڑھتا ہوا سر درد ہی تھا کہ وہ انکار نہ کر سکا تھا اور خاموشی سے ٹانگیں سیدھی کرتا لیٹ گیا تھا۔ وہ تھوڑی قریب ہوتی اپنا ہاتھ اسکے ماتھے پر رکھ گئی تو وہ آنکھیں بند کر گیا۔ وہ خاموشی سے اسکا سر دبانے لگی مگر ارمغان کا ذہن پر سکون نہ ہوا۔

“زیادہ سر درد ہونے پر آپ کو تو نیند بھی نہیں آتی ٹھیک سے”

“عادت ہوگی آپ کو۔۔۔”

عزہ کے الفاظ کانوں میں گونجے تھے۔۔۔

ارمغان ہر کسی کو اپنے مرض اپنے مسائل اپنی تکلیف یا ایسی کوئی بات نہیں بتاتا تھا اور عزہ کو تو بلکل نہیں۔ نہ جانے کیوں ان دونوں کے درمیان تکلف کی ایک دیوار حائل رہی تھی۔ ایک وہ تھا جو ایک گھر میں رہتے ہوئے بھی اس کے بارے میں زیادہ کچھ نہیں جانتا تھا اور ایک عزہ تھی جو اس کے بارے میں ہر وہ بات جانتی تھی جو ارمغان نے کبھی اسے بتائی نہ تھی اور اس بات کا احساس وہ پچھلے کچھ دنوں میں کئی بار اسے دلا چکی تھی۔ وہ تو یہی سمجھتا آیا تھا کہ اگر کوئی اس کو گہرائی تک جانتا ہے تو وہ صرف یَشل ہے اور اس کا اندازہ ٹھیک بھی تھا کیونکہ عزہ صرف چیزوں میں اسکی پسند نا پسند تک ہی جانتی تھی لیکن یَشل اور بھی بہت کچھ جانتی تھی جو ارمغان نے اسے بھی تفصیل سے نہیں بتایا تھا۔ حقیقت تو یہ تھی کہ ان دونوں نے کہیں سکون سے بیٹھ کر ایک دوسرے کو جاننے کی کوشش کی ہی نہیں تھی وہ بس جان گئے تھے۔ پسند نا پسند سے بہت آگے۔

وہ عزہ کا سوچتے ہوئے یَشل تک آ پہنچا تھا۔ اور یہ کوئی نئی بات نہیں تھی۔ جب سے وہ گئی تھی اسکی سوچ کہیں سے بھی شروع ہو وہ ختم یشل پر ہی ہوتی تھی۔ انٹرویوز دیتے وقت کتنی بار اسکے منہ سے یَشل کا نام پھسل گیا تھا۔ کئی دفع اسنے عزہ اور قرت کو یَشل کہہ کر مخاطب کیا تھا۔ فون بجنے پر وہ اس کی طرف ایسے لپکتا تھا جیسے یشل کی کال ہو۔ اسکے فون کی ڈائل لسٹ یَشل کے نام سے بھری پڑی تھی۔ ہفتہ ہونے کو آیا تھا اگر یَشل کی طرف سے کچھ موصول ہوا تھا تو وہ ایک مختصر سا ٹیکسٹ تھا۔

“وقت ملتے ہی تفصیل سے بات کروں گی امی کے لیے دعا کرنا”

ناجانے وہ کون سا وقت تھا جو اسے مل ہی نہیں رہا تھا۔ اسے نہیں یاد پڑتا تھا کہ کبھی اتنے دنوں تک ان کے درمیان کوئی رابطہ نہ ہوا ہو۔ اچانک ہی جیسے اسکی زندگی رک گئی تھی۔

سردیاں رخست ہونے کو تھی۔ بہت منتوں کے بعد آخر کار آج اس نے ارمغان کو باہر ناشتہ کرنے کے لیے لے جانے پر منا ہی لیا تھا۔ ایک ریسٹورنٹ کے اوپن ایرئیا میں وہ دونوں آمنے سامنے بیٹھے تھے۔

“ارمغان۔۔۔کیا آپ مجھے کبھی بھول سکتے ہیں؟”

وہ گرم چائے کا سپ لیتی سوال کر رہی تھی۔

“ارمغان قریشی کی یاداشت ختم ہوجائے تو بھی وہ تمہیں نہیں بھول سکتا۔۔”

یَشل کے ہونٹوں پر مسکراہٹ کے ننھے پھول بکھر گئے۔۔

“لیکن تم بھول سکتی ہو۔۔۔۔”

وہ اپنے سامنے پڑا انڈا پراٹھا کھا رہا تھا۔ یہ اسکا ناشتہ نہیں تھا کیونکہ وہ اپنا ختم کر چکا تھا اور یہ یَشل کا تھا جو پسند نہ آنے پر وہ زبردستی اسے کھانے کے لیے دی چک تھی۔

“میں بھول سکتی ہوں؟”

وہ کچھ شاک میں بولی تھی اسے ارمغان کی طرف سے اس بات کی امید نہیں تھی۔۔۔ارمغان نے سر اثبات میں ہلایا تو وہ آگے کو ہوئی اور بازو پر ایک تھپڑ رسید کیا

“لوگ دیکھ رہے ہیں کچھ تو خیال کرو۔۔۔۔”

ارمغان نے اسے گھورا تو وہ واپس بیٹھی۔۔

“ہاں تو آپ بھی خیال کریں کچھ۔۔۔بلاوجہ میں الزامات لگا رہے اور غلط باتیں کر رہے۔۔۔”

وہ خفیف ہوئی تھی

“استغفرُللہ اسے الزام لگانا کہتے ہیں؟”

“تو اور؟ آپ سے کس نے کہا میں بھول جاؤں گی؟”

وہ واقعی اسکی بات پر خفا ہوئی تھی۔

“کوئی نئی بات تو نہیں۔۔۔ جب تم مصروف ہوجاتی ہو، جب آبی کے ساتھ ملتان جاتی ہو، جب کچھ دن ہماری ملاقات نہیں ہوتی، جب تمہارے ایگزیزم ہوتے ہیں اور جب تم بیمار ہوتی ہو”

یَشل نے آنکھیں گھمائی کیونکہ اسکی باتیں بےتکی لگی تھی۔ ایک دن رابطہ نہ کرنے کو اگر وہ بھول جانا کہہ رہا تھا تو وہ غلط تھا۔

“یہ کچھ زیادہ نہیں ہورہا؟” وہ دوبارہ چائے پی رہی تھی

“تو کیا تمہیں اندازہ نہیں میں کتنا پوزیسو ہوں تمہارے لیے؟ جان نکلنے لگتی ہے میری تم زیادہ وقت دور رہو تو”

یشل بےاختیار ہی بلش کرتی چہرا جھکا گئی تھی۔ ارمغان نے گہری نظروں سے اسے دیکھا تھا جو شرم مٹانے کی کوشش میں ویسے ہی چہرا جھکائے چائے پی رہی تھی۔ وہ سٹرانگ تھی مگر بہت زیادہ بولڈ نہیں تھی ارمغان کے لیے تو بلکل نہیں تھی۔ وہ کبھی کبھی ایسے ہی شرماتی گھبراتی رہتی تھی تو کبھی اس پر چڑھائی کرنے لگتی۔

“ایسے مت دیکھیں۔۔۔” وہ اسکے دیکھنے پر اب اسے گھور رہی تھی۔

“ہاں دیکھنے سے بھی کیا فرق پڑے گا۔ اتنا بولنے کے بعد بھی کرتی تو تم وہی ہو جس پر مجھے غصہ آتا ہے۔۔۔”

وہ دوبارہ ناشتہ کرنے لگا تھا

“اوف او۔۔۔اچھا نہ آئی پرومس آئیندہ کے بعد چاہے جو بھی ہو جائے میں زیادہ دیر رابطہ ختم نہیں کروں گی”

وہ ہمشیہ ایسے وعدے کرتی رہتی تھی اسنے اس کے بعد سے یہ وعدہ نبھایا بھی تھا لیکن اب شاید اسے ایسا کوئی وعدہ یاد نہیں تھا اگر ہوتا تو وہ اسے ضرور بات کرتی اسے تکلیف نہ پہنچاتی اسے پریشان نہ کرتی۔

پچھلے آدھے گھنٹے سے وہ اسکا سر دبا رہی تھی۔ جانتی تھی وہ سو گیا ہے مگر اسے اچھا لگ رہا تھا اسے قریب رہنا اسکی خدمت کرنا۔ وہ تو ہمیشہ سے اسے سکون دینا چاہتی تھی اگر وہ اس وقت سکون میں نہیں بھی تھا تو وہ تھی بہت پرسکون۔

وہ شخص اسکے لیے جنت کی ہوا جیسا تھا۔ جس کے مخاطب کرنے پر بھی وہ سرشار ہوجاتی تھی۔ ناجانے کیسا احساس تھا کہ وہ بےاختیار اس کی طرف جھکی تھی اور غور سے اسکا چہرا دیکھنے لگی۔

گندمی صاف رنگت، ماتھے پر بکھرے بال، سیدھی کھڑی ناک، ہلکی موچھوں تلے عنابی ہونٹوں جو اس وقت بھینچے ہوئے تھے۔ وہ خوبصورت تھا، پرکشش تھا، وہ کسی کو بھی اپنی طرف کھینچ سکتا تھا۔ اسکے حلقہ احباب میں لڑکیاں تھی سب جانتے تھے مگر وہ دوستی میں بھی ایک لمٹ رکھتا۔ دوستانہ رویہ رکھتے ہوئے بھی وہ بہت زیادہ کسی کے ساتھ فرینک نہ ہوتا اور نہ ہونے دیتا تھا۔ یہ چیز اسے زیادہ پرکشش بناتی۔ یونیورسٹی میں ان کے دوستوں کے دوست بھی یَشل اور ارمغان کے بارے میں جانتے تھے۔ کئی لڑکیوں نے ان دونوں کے درمیان آنے کی کوشش بھی کی تھی مگر بری طرح ناکام ہوئی تھیں۔ یہ ساری باتیں قرت اسے مرچ مصالحے لگا کر بتاتی رہتی اور وہ صبر کا دامن تھامے سنتی رہتی تھی۔

یَشل کا سوچتے وہ بری طرح بدمزہ ہوتی پیچھے ہوئی پھر اپنی جگہ سے اٹھی۔

“خدا تمہیں میرے مقدر میں ہی لکھے گا۔ کیونکہ صرف وہی جانتا ہے کہ مجھے تم سے جس قدر محبت ہے اور کس حد تک میں تمہیں چاہتی ہوں۔ وہ کبھی مجھے تم سے دور نہیں کرے گا کیونکہ وہ اپنے بندے کا دل نہیں توڑتا۔”

ہاتھ بڑھا کر اسکے بالوں میں پھیرتے ہوئے وہ دل ہی دل میں اس سے مخاطب تھی۔ وہ چاہتی تھی جھک کر اسکا ماتھا چوم لے مگر اسنے ایسا نہیں کیا تھا۔ کمرے کے لائیٹ آف کرتی وہ باہر نکل گئی تھی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *