Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Mujhy Ishq Tera Le Doba by Yusra Shah Last Episode

Mujhy Ishq Tera Le Doba by Yusra Shah Last Episode

اپنے لیئے نہ سہی لیکن اِس بچے کے لیئے ہی….
__________________________________________
.
کچھ دنون بعد…..
آفریں کی آنکھوں میں غصہ اُتَر آیا وہ ایک چادر لیئے الماری کی طرف بڑہی…. اور وہاں سے ازلان کی پستل لیئے …. اسکو چادر میں چھپائے باہر کی طرف بڑی…..
“پتا چلا ہے کہ ابو نے کسی طرح اپنے بندوں کو فون کر کے ازلان کو مروانے کا کہا تھا… پولیس کو انکی اِس کارستانی کا پتا چل گیا ہے … رات میں اس نے چوکیدار کا فون ہی استعمال کیا تھا …اور اُس کے فون سے ساری ڈیٹیلز لی گئی ہیں……”””
فھیم کی کچهہ دیر پہلے کی ہوئی بات اسکے کانوں میں ایک اور بار گونجی… وہ جو لاؤنچ میں بیٹھا ہوا غزل اور عظمہ کو بتا رہا تھا اور آفریں نے بھی اس کی بات سن لی تھی…
آفرین نے من ہی من آج پکا ارادہ کرلیا تها….
“آفرین کہاں جا رہی ہو….”””
حفسہ نے اسکو آواز لگائی… پر وہ گاڑی میں بیٹهے گیٹ ابور کر چکی تهی…
“فہیم…. ممانی…. وہ آفرین باہر کی طرف گئی ہے پتا نہیں کہاں….. آپ لوگ جلدی دیکهیں اسکو…..”””
حفسہ نے پریشان ہوتے ہوئے جلدی جلدی کہا…
فہیم غزل عزمہ اسکی بات سن کر پریشان ہوئے اور جلدی سے باہر کی طرف بڑے…….
آفرین تھانے جا کر….. فیضان کی طرف بڑی……
“آفریں تم آ ہی گئی …باپ کی محبت تمہیں کھینچ لائی نا…..”””
فیضان اسکو دیکھتا ہوا اٹھ کهڑا ہوا….
آفرین اس سے پہلی بار جیل ملنے آئی تهی اور شاید آخری بار بهی….
آفریں اسکو نفرت بھری نگھاوں سے دیکھ رہی تھی….. آفرین کی آنکهیں سرخی مائل تهیں…..
“ازلان کا سنا میں نے … بہت افسوس ہوا مجھے….”””
فیضان کی بات سنتے ہی آفرین نے حیرت سے اسکو دیکھا جو ابھی تک ایکٹنگ کیئے جا رہا تھا….
“آپکو شرم آنی چاہیئے …ابھی بھی آپ…. چهی…. مجھے شرم آتی ہے آپکو اپنا باپ کہتے ہوئے بھی……””””
“دیکھو آفرین پولیس خوامخواہ بکواس کر رہی … میں نے کچھ نہیں کیا … میرا یقین کرو…. اسی ہفتے مجھے پھانسی ہونے جا رہی ہے … جب کہ میرا کوئی قصور نہیں ہے ….مجھے بچا لو میری بیٹی…….”””
فیضان نے رونے کی ایکٹنگ کی….
پر آفریں آج اسکی ایک نہیں سنے والی تھی ….
“آپکو پھانسی نہیں ہوگی ابو…..”””
آفریں کے کہتے ہی فیضان نے امید بھری نظروں سے اسکو دیکھا ….
“بلکہ آج ہی آپکی موت ہوگی میرے ھاتھوں…..”””””
آفریں نے اپنی چادر سے پستل نکال کر اس پر تانی….
آفریں شاید پہلی ایسی بیٹی تھی جو اپنے اس مکار باپ پر پستل تانے کھڑی تھی … اپنی محبت کا انتقام لے رہی تھی
فیضان اسکو حیرت زدہ نظروں سے دیکھ رہا تھا…
“اپنے باپ پر گولی چلاوگی تم….اچھا … یہ سکھایا تھا میں نے تمہیں…..”””
فیضان نے پستل کو دیکھ کر کہا….
آفریں نے ٹرگرڈ نیچے کیا….
آفریں نے جیسے ہی گولی چلانے کی ہمت کی غزل نے آکر اُس کے ھاتھوں سے پستل چهین کر فیضان کے سینے پر گولی چلا دی…..
آفریں ابھی بھی ڈَر اور حیرت کی کیفیت میں مبتلا تھی ….
غزل اپنا رونا ضبط کیئے فیضان کو دیکھ رہی تھی جو سینے پہ ہاتھ رکهے زمین پر بے سدھ لیٹتا چلا گیا ….
آفرین کے ہاتهہ کانپ رہے تهے.. اسکو ابهی تک سمجهہ نہیں آرہا تها کہ کیا ہوگیا یہ سب…
ایک دم سے ہلچل مچ گئی…. . لوگوں کا شور آفریں کو ڈرا رہا تھا…. پولیس والوں نے آکر غزل کے ہاتھ میں پستل دیکھی تو اُس کے ھاتھوں میں ہتھ کڑی پہنائے اسکو لے کے جا رہے تھے …
غزل نہیں چاہتی تھی کہ فیضان کے خون سے ہاتھ رنگ کر وہ اپنی زندگی برباد کر بیٹھے کیوں کہ آفریں کو ابھی ایک اور زندگی کا سہارا بهی بننا تھا… اسلیئے اسنے یہ گناہ اپنے سر لے لیا تها……
آفریں کا اس ماحول کو دیکھ کر دماغ چلنا بند ہو گیا …آنکھوں پہ اندھیرا سا چھا گیا تھا .. آس پاس کی دُنیا دھندلی سی ہو گئی تھی…. وہ یک دم بے ہوش ہونے لگی اور جب گرنے لگی تو فہیم اور عظمہ نے اسکو تهام لیا……._________________________________
ڈیڈهہ مہینے بعد……
آفریں اپنے کمرے میں بیڈ پہ بیٹھی ہوئی ڈائری لکھ رہی تهی….
آفرین پہلے سے کئی زیادہ کمزور ہو چکی تهی.. پتلا سا وجود… زرد ہوتی رنگت… چہرہ بجها بجها…..
سورج کی روشنی ٹیرس سے آکر کمرے میں پڑ رہی تهی… پر اب اس سنسان ویران کمرے میں اس سورج کی روشنی بهی اسکو روشن نہ کر پاتی تهی……
“گزر تو رہی ہے تمہارے بغیر بهی لیکن بهت اداس بہت بیقرار گزر رہی ہے…. زندگی کے اتنے دن بھی تمھارے بغیر کٹ گئے …. زندگی ایک عذاب لگنے لگی ہے مجھے تمھارے بَعْد… سب جیسے خالی خالی سا ہو گیا ہے …. میرا دِل ، یہ کمرا ، یہ گھر ، یہ دُنیا..
صرف ہماری محبت کی نشانی سمبھالنے کو جی رہی ہوں میں… زندگی کے رنگ اب مجھ سے پہچانے ہی نہیں جاتے ازلان ، بھول گئی ہوں کہ کوئی خوشی کے رنگ بهی ہوتے ہیں … کیسے ہوتے ہیں… پتہ ہی نہیں چلتا کب اندھیرا ہے کب اجالا… بس اجالوں میں بھی اندھیرا نظر آتا ہے… تمھاری خوشبو کے ساتھ جی رہی ہوں … ہر رات سونے سے پہلے اور ہر صبح اٹھنے كے بعد تمھاری تصویر دیکھتی ہو… تمھارے وہ پرفیومز سونگها کرتی ہوں جو تم یوز کیا کرتے تھے .. ان سے کم سے کم تمہارے ہونے کا احساس سا ہوتا ہے… کبھی کبھی تو تمھارے کپڑے ہی پہن لیتی ہوں کہ احساس ہوتا ہے کے تم مجھ سے ابھی تک جڑے ہوئے ہو… تمھاری یادیں ابھی تک میرے دِل و دماغ سے جڑی ہوئی ہیں… تم میرے دل کی ڈهڑکنوں سے جڑے ہوئے ہو.. تمہاری ہر بات میرے کانون میں گونجتی رہتی ہے.. اب رات کو وہ انگلی نہیں ہوتی.. جس کو مین پکڑ کر سوتی ہوں… ازلان ڈر لگتا ہے مجهے اکیلے…. کون دے گا سکون ان آنکهون کو.. کس کو دیکهوں کہ نیند آجائے؟…. روز چاند اور سورج کو تکتی ہوں … چاند دیکھ کر تمہاری باتیں یاد کرتی ہوں …. اور سورج دیکھ کہ تمہیں …. تمھاری ویڈیوز اور پکچر دیکھ دیکھ کے نہیں تھکتی میں…. وہ کمرا ابھی بھی اسی طرح سجا ہوا ہے جس میں ہم نے اظہار عشق کا جشن منایا تھا…. ہاں پر اسکی بھی بتیان بجھ گئی ہیں … روشنی اب رہی ہی کہاں ہے .. پر اس کمرے میں ہماری یادیں تو آج بھی بسی ہوئی ہے … گھر کی ہر ایک جگہ تم دکھائی دیتے ہو تمھاری یادیں دکھائی دیتی ہیں تمہاری باتیں سنائی دیتی ہیں… خالہ بھی اب تمھاری شرارتون کو مس کرتی ہیں.. جن سے پہلے وہ تنگ ہوا کرتیں تهیں.. اور اب نا جانے زندگی کتنے امتحان لے گی میرے… اور نا جانے کتنا جینا پڑے گا مجھے…. ہر رات مرنے کی دعا کر کے سوتی ہوں پر پِھر صبح آنکھ کھلتی ہے اور دعا رد ہوجاتی ہے………..””””
اچانک سے ایک آواز آئی رونے کی…. آفریں نے ڈائری بند کر کے سامنے لیٹے پڑے ایک ننهی سی جان کو دیکھا… جو کے وہ ان دونوں کے عشق کی نشانی تها…. سرمئی آنکھیں… ڈارک برائون بال…. عظمی کہا کرتی کہ بالکل ازلان پہ گیا ہے مانو ازلان کے چہرے میں کسی نے آفریں کی آنکھیں لگا دی ہوں … ازلان کو جو آنکھیں عزیز تھی آج اس ننهی سی جان وہ آنکھیں لیئے بیٹھا تھا .. هو بھو مانو ازلان دکھتا تھا …وہ پانچ چهہ دنوں کا بچہ کتنی مشکلوں سے بچہ تھا.. آفریں جو کہ بالکل ہی كمزور پڑ گئی تھی تو بہت ساری کامپلیکیشنز درپیش آئی تھیں ….پر وہ بچ گیا … نام آفریں نے اسکا اذہان رکھا تھا …. جو کے ازلان سے ملتا جلتا تھا….
آفریں نے سائڈ ٹیبل پر پڑا فیڈر اٹھا کے اسکو گود میں اٹھائے پلانے لگی…..
اور اسکی پیشانی پر ہاتھ پھیرتی رہی…
“ازلان دیکهہ رہے ہو اسکو بالکل تم پہ گیا ہے.. اور لو جو آنکهین پسند تهی تمہیں وہ ہی آنکهیں ہیں اسکی.. ہماری عشق کی نشانی … ہماری محبت ….. میرے ازلان کا بیٹا…..”””
آفریں آنکھوں ہی آنکھوں میں اسکی نظر اتارتی خود سے بولے گئی… اور اسکی پیشانی چومی__________________________
5 سال بعد……….
گھنے پیڑ، کچهہ سوکهے ہوئے تو کچهہ سبز… تیز ٹهنڈی ہوا ، اور ٹھنڈی ہلکی سی بوندا باندی ہو رہی تھی … پیڑوں کے پتے فضا میں اڑ رہے تھے …… سردی میں سورج کی روشنی جسم کو گرمائش بخش رہی تهی….
چھوٹا اذہان اپنی دادی کی انگلی پکڑ کر چل رہا تھا….
وہ دونوں آج قبرستان آئے تھے …عظمہ کے ہاتھ میں پھولوں کی شوپر تھی…..
ڈارک برائون گهنے بال ،سرمئی آنکھیں ، گوری رنگت ، اور وہ ہی ازلان کے دائیں گال والا ڈمپل … معصوم سا چہرہ… ہو بہو ازلان کی کاپی تھا وہ… پر آنکھیں آفریں جیسی…….
وہ جیکٹ میں سردی سے ڈھکا چھپا رنگ رنگ کے پھولوں کو چھوتا ہوا چل رہا تھا…..
وہ دونون ازلان کی قبر پر آئے …. عظمہ نے اس پر پھول چڑائے… اور دعا لیئے ہاتھ اٹھائے…. اذہان بھی چہرہ اوپر کیئے ان کو دیکھ رہا تھا اور انکو ہی دیکهتے.. دعا کے لیئے ہاتھ اٹھ لیئے….. اور انتظار رہا تھا کہ کب وہ اپنے ہاتھ نیچے کرتی ہیں.. تاکہ وہ بهی کرے…عظمہ نے ہاتھ اپنے منہ پہ پھیر کر نیچے کیئے… اذہان نے بهی اسکو دیکهہ کر.. اسکی کاپی کی….
“ماما کی قبر پر میں پھول بچهاوں ؟ ؟……”””
اذہان نے عظمی سے فرمائش کی….
عظمی نے مسکراتے ہوئے پھولوں کی شوپر اسکو تھما دی… اور اذہان اپنے چهوٹے موٹے ہاتهوں سے پهول پکڑ کر آفریں کی قبر پر بھی پھول پچهانے لگا….. اور تهوڑے پهول پچهانے کے بعد تهک کر شوپر عظمہ کو دے دی.. اور خود اپنے ہاتهون سے پهولوں کی خوشبو سونگهنے لگا… وہ ہمیشہ ہی ایسا کرتا تها… اسکو وہ خوشبو اچهی لگتی تهی….
آفریں بس اذہان کے بَعْد دو ہی ہفتے بمشکل زندہ رہ پائی اور طبیعت خراب رہنے کی وجہ سے اِس دنیا سے رخصت ہوكر چلی چلی گئی…. اسکو ازلان کا غم کھا گیا تھا…..
عظمی نے ازلان اور آفریں کی قبریں دیکھی …. جس میں دو مردے نہیں ….بلک عشق دفن تھا … دونوں کی قبرین ایک ساتھ تھیں ….
عظمہ نے اپنی آنکھوں کی نمی صاف کی…..
“گرینی.. کیا ماما پاپا خوش ہوتے ہیں … جب ہم ہر فرائیڈے انکے پاس آتے ہیں ……”””
اذہان نے معصومیت سے سوال کیا…
“ہاں وہ تو بہت خوش ہوتے ہیں …..”””
عظمہ اسکا ہاتھ پکڑ کے وہاں سے لے جانے لگی….
“کیا وہ مجھ سے بہت محبت کرتے تھے گرینی……”””
اذہان عظمی کی روز کی بتائی باتوں کو دہرا کر پهر سے سوال کر رہا تها…
“ہاں بہت ہی زیادہ…….”””
“تو پِھر چلے کیوں گئے وہ دونوں…..”””
ایک اور ماصومیت سے کیا گیا سوال….
“کیوں کہ اللہ نے ان کو اپنے پاس بلا لیا…..”
عظمی نے مسکرا کر اذہان کو جواب دیا
__________________________________________
.
ٹھنڈ اتنی کہ جسم میں ایک کپکپاہٹ سی محسوس ہو رہی تهی…. پھولوں کی خوشبو ہر سو ہوا میں تازگی بخشے ہوئے تھی… سُندر سے رنگ رنگ کے پیڑ جن میں طرح طرح کے پھل لگے ہوئے تھے… انکی پتیوں سے شبنم ٹپک رہی تھی… گلابوں کی پتیاں ہوا میں رقس کر رہی تھیں… خوبصورت سے پرندون کی چہکنے کی آواز اس ماحول میں ایک میٹهی دہن پیدا کر رہی تهی…اور سامنے جهیل کنارے.. جہاں صاف نیلا پانی چمکتا ہوا لہرا رہا تها.. وہ سفید گاؤں پہنے…. اپنے سفید سے قدم اس جهیل کے پانی میں ڈال اس پانی کی ٹهنڈک کو محسوس کر رہی تهے.. وہ خود کو بہت ہلکا سا محسوس کر رہی تھی… اس نے اچانک ادهر ادهر دیکهہ کر ایک میٹهی سی سی خوشبو سونگهی… اور آنکھون کو ادهر سے ادھر گھمایا.
.. . جو کہ کسی کی تلاش میں تھیں … جب اسکو کوئی نظر نا آیا تو برا سا منہ بنا گئی…. اور دونوں ہاتھوں کو مٹهیوں کی صورت بنائے.. باہوں کو اپنے گود پر ٹکائے… ہاتهوں پر اپنا چہرہ رکھ دیا….
ہوا سے اسکے لمبے بال اڑ اڑ کر اسکا چھو رہے تھے…
اچانک ایک شخس آیا اور اُس کے بالوں میں ایک خوبصورت سا گلاب کا پھول لگا دیا….
اس نے مسکرا کر اسکی طرف دیکھا…. اور آنکھیں خوشی سے جگمگا اٹھی….
وہ آفریں کا ازلان ہی تھا…..
جو سفید کپڑوں میں بیٹھا… اسی کو محبت بھری نگھاوں سے دیکھ رہا تھا…..
“آگئے تم…..”””””
آفریں خوشی اور حیرت کے ملے جلے تاثرات سے بولی …
“ہاں…. تمہارا ازلان تمہارے سامنے ہی تو ہے…..”””
ازلان نے مسکرا کر کہا…..
دونوں کے چہروں پر ایک سکوں اور خوشی تھی….
“میں بہت خوش ہوں تم سے مل کر……”””
آفریں چہکتی ہوئی بولی……..
“دُنیا والو نے تو ملنے نہیں دیا … اسلیئے اب ایک اور ہی جہاں میں ملے ہیں ہم…..جہاں سے ہمیں کوئی جدا نہیں کر سکتا……”””
ازلان نے اسکا ہاتھ تھاما اور دونوں اٹھ کر ایک ساتھ اس ٹهنڈی گیلی گهاس پر ننگے پیر چلنے لگے…..
ان دونون کے ہلکے سے وجودوں پہ ڈہیلے کپڑے ہوا سے اڑ رہے تهے….
“دیکهون دنیا سے لڑ کر تمہارے پاس آ ہی گئی نہ میں…””””
آفریں نے مسکرا کر اسکو دیکھا ….
“وفا نبهانے کی انتہا کردی تم نے تو آفرین…”””
ازلان نے بهی مسکرا کر اسکو دیکهہ کر کہا…
“کیا یہ ہی عشق ہے ازلان؟……”””
آفرین نے اسکے ڈمپل کو ایک نظر دیکهہ کے کہا.. اور پهر سے اپنی نظریں اس خوبصورت سے راستے پر ڈالی جہاں پیڑون سے رنگ رنگ کے پتے گر کر راستے میں بهچے ہوئے تهے……
ازلان نے اسکی سرمئی آنکهوں میں دیکھا…..
“ہاں دیکھو ہم ساتھ ہیں… یہ ہی تو عشق ہے…..”””
ازلان بهی مسکرایا…..
اور دونوں ساتھ قدم اٹھاتے چلنے لگے … سُندر پیڑ دونوں طرف کھڑے ان کو سلامی پیش کر رہے تھی …تتلیاں انکی اوپر سے اڑ کر طرح طرح کے رنگ بکهیر رہیں تھیں…. شبنم کے قترے پیڑون سے گر کر ان پر براسنے لگے…. آفریں نے اُس کے شانے پر سَر ٹکا دیا … اور ہاتھ پکڑے اسی کے ساتھ ساتھ قدم اٹھانے لگی….
سفر کے اِخْتِتام پر دونوں ساتھ تھے…. اور چلتے چلتے ایک خوبصورت سی چمکتی ہوئی روشنی میں اوجھل ہو گئے……”””
.
عظمہ کا سپنا ٹوٹا… عظمی نے نیند سے اٹھ کر جلدی سے آنکھ کھولی … وہ سپنے میں ان دونوں کو خوش دیکھ کر خود بھی مسکرا دی … کافی سہانہ سپنا تها جو وہ دیکهہ چکی تهی… اور سامنے سوئے ہوئے اذہان کو دیکھا جو دُنیا سے بے خبر سویا ہوا تھا…..
“آفرین اور ازلان کا عشق……”””
عظمہ نے اذہان کی پیشانی چومی اور پِھر سے اُس کے سینے پر ہاتھ رکهے سونے لگی_______________
💕💕💕💕💕ختم شد💕💕💕💕💕💕💕

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *