Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Mujhy Ishq Tera Le Doba by Yusra Shah Episode19

Mujhy Ishq Tera Le Doba by Yusra Shah Episode19

آفریں نے اپنی آنکھیں رگڑیں اور دانیال کو سب بتانے کے لیئے اسکو کال کرنے لگی……
فون میں جیسے ہی نمبر ملانے لگی تو اسکو ازلان کی دھمکی یاد آئی اسکو پهر سے غصہ آنے لگا اس بدتمیز شخص پہ اسنے غصہ ضبط کرتے موبائل بیڈ پر ہی اچھالا وہ نہیں چاہتی تھی کہ پِھر سے دانیال اس دن کی طرح اسی کو غلط سمجھ لے کیوں کہ کسی اور لڑکے کا اس کے کمرے میں آنا کوئی چهوٹی بات نہیں تھی…..
“دانیال بس شادی ہونے تک کا صبر کر رہی ہوں پِھر میں تمہیں سب کچھ خود بتا دونگی….””
وہ خود سے بولتی ہوئی موبائل لیکے اپنے کمرے سے نکل گئی اور چهت کی طرف اپنے قدم بڑها دیئے وہ اپنی مہندی والے ڈریس اور ھاتھوں پہ مہندی لگائے اسی حلیئے میں تھی
وہ چهت پہ کھڑی ہوكر ریلنگ پہ ہاتھ رکھے چاند کو دیکھ رہی تھی اور نیچے سے ایک وجود اسکی تصویریں اپنے موبائل میں قید کیئے جا رہا تها…..
اسکا فون بجا اسنے اسکریں دیکھی جس پہ دانی کالنگ لکھا آرہا تھا اسکی کال نے اسکو تھوڑا سا سکون پهونچایا اسنے کال اٹھا لی..
“اسلام و علیکم…..””
دانیال کا خوشمگین لہجہ
“وعلیکم سلام….”””
آفریں کی آواز میں دانیال کو وہ خوشی محسوس نہیں ہوئی جو ہمیشہ ہوا کرتی تھی
“کیا ہوا آفی اُداس لگ رہی ہو….””
دانیال نے سوال کیا
“تمہیں کیسے پتہ چلا ؟….”
آفریں حیران ہوئی
“تمھاری آواز سے تمھارے احساسات کا اندازہ میں با خوبی لگا سکتا ہوں آفی….”””
دانیال نے جیسے ہی کہا آفریں نم آنکھوں کے ساتھ ہلکا سا مسکرا دی
“بس اِس گھر کو چهوڑنے کا دکھ…..””
“ارے اِس گھر کو چهوڑو گی تو اپنے دوسرے گھر آؤگی میں تمہارا کوئی پرایا ہوں کیا ؟ اور دیکھنا تم میرے ساتھ رہوگی تو تمہیں تمھارا یہ گھر یاد ہی نہیں آئیگا….””
دانیال کے لہجے میں خوشی واضع تهی
“بهلے تمہارے ساتھ رہوں اِس گھر کو نہیں بھول سکتی بدهو….””
آفریں نے اِس بار مسکرا کر کہا
“دیکهینگے بچو اور سنو مہندی میں میرا نام لکھوایا ہے ؟…..”
دانیال نے آنكھوں میں چمک لیتے ہوئے آفرین سے پوچھا
“ھممم …..”
آفریں اتنا کہہ سکی
“اچها تصویر بھیجو نہ میں بھی تو دیکھوں مہندی والی کی رائیٹنگ کیسی ہے….””
دانیال نے بات کو مذاق کا رخ دیا
جس پر آفریں کا قہقہ بلند ہوا
“اسکی رائٹنگ تم شادی کے بعد دیکھ لینا….””
“یار مطلب ویٹ کرنا پڑےگا اتنا ؟……”
دانیال نے ایسے کہا جیسے صدیون کا انتظار ہو
“اچها اب میں فون رکھ رہی ہوں نیند آ رہی ہے….””
آفریں صبح سے تھکی ہوئی تھی اور اب نیند اسکو اپنی آغوش میں لی رہی تھی
“او کے گڈ نائٹ بےبی سی یو سون…..””””
“بائے….””
آفریں کال کٹ کر نیچی کی طرف چل دی……
________________________________________
.
.
فہیم کسی شخص کو ہدایت دینے میں مصروف تها جب اسنے ایک نا شناسا چہرہ دیکها.. جو چل کر فیضان کی آفس میں چلا گیا..
“سنو یہ جو ابهی ایک شخص گزرے کوں ہیں وہ ؟ میں نے ان کو پہلی بار یہاں دیکها ہے….”””
اسنے اپنے ساتهہ کهڑے سیکیٹری سے پهوچها…
“سر یہ اس کمپنی کے مالک ہیں.. آدهی کمپنی انکے نام ہے اب…”
“یہ کیا کہہ رہے ہو ؟….””
فہیم کو لگا اسنے ٹهیک سے نہیں سنا..
“سر مجهے اتنا ہی معلوم ہے…… فیضان سر نے ہی یہ فیصلہ کیا ہے….””
اسکو جتنا معلوم تها اسنے فہیم کے غوش کردیا..
چونکہ کچهہ دن پہلے ثمر خان نے فیضان سے سائن لے لیئے تهے اور اب اس آدهی کمپنی کا مالک بنا بیٹها تها….
فہیم اس بات سے انجان تها اسلیئے اچانک سن کر حیرت میں پڑ گیا کہ کون تها وہ جس کے نام فیضان نے آدهی کمپنی کردی….
ثمر خان باہر آیا تو فہیم فیضان کے آفس مین چلا گیا..
“کون تها وہ جو ابهی یہاں سے ہوکر گیا…؟؟……”
فہیم نے آتے ہی فیضان سے سوال کیا..
“تم اپنے کام سے کام رکهو.. میرے معاملات میں بولنے کی ضرورت نہیں ہے… “
فیضان تپا ہوا تها .. پہلے ثمر پہ اور اب فہیم کے اس طرح سوال کرنے پہ…… ورنہ اسنے کبهی فہیم کہ ساتهہ یہ لہجہ نہیں اپنایا تها…
“ابو آپ نے کیسے اس شخص کے نام آدهی کمپنی کردی ہے.. آخر ہے کون وہ..؟؟؟……”
فہیم نے اپنا دوسرا سوال دہرایا..
“فہیم ہیں کچهہ وجوہات تبهی ایسا قدم اٹهایا ہے اس میں ہی ہم سب کی بهلائی ہے.. اب زیادہ سوال مت کرو مجهہ سے…”””
فیضان نے بات کو ٹالنا چاہا
“آخر ایسی بهی کوں سی مجبوری ابو؟ اور ہے کون وہ آخر؟….”””
“میرے دوست کا بیٹا ہے اسکے باپ کا حصہ دیا ہے….”””
فیضان نے بہت صفائی سے جهوٹ بولا…
“حصہ آپکے دوست کا؟؟ کون دوست؟ مین نے تو کبهی ایسا ذکر نہیں سنا….””
فہیم ابهی بهی یقین نہیں کر پا رہا تها..
“اب وہ میرا مسلہ نہیں کہ تم نے سنا ہے یا نہیں.. گهر جاؤ آج مہندی کا فنکش ہے تمهارا.. شاید گهر میں ضرورت ہو..”””
فیضان فائل مین جهکتا ہوا بولا
فہیم کو تسلی ابهی تک نہیں ہوئی تهی.. پر اپنے باپ سے کتنے سوالات کرتا آخر… اسلیئے خاموشی سے اٹهہ کر چلا گیا____________________________________
.
.
آج حفسہ کی مہندی تھی
حفسہ کی رسم سثد کے لان میں رکھی گئی
حفسہ نہ سبز اور نارنجی رنگ کی قمیض پہ ییلو پٹیالا شلوار پہن رکھی تھی اور پیلا ہی نیٹ کا دوپٹہ سَر پر ٹکایا ہوا تھا
چہرے پہ ہلکا سا مک اپ کیا گیا وہ ہمیشہ کی طرح معصوم دِکھ رہی تھی اور اپنا چشمہ اسنے آج بھی پہن ہی رکھا تھا
جس پر اسکی کزنس اسکو چڑانے لگیں تھیں
“آج تو چشمہ اُتاَر لیتی ہماری چشمش دلہن ….. “
مسکان کی بات پہ سب کزنس نے قهقہ مارا
“ارے نہیں بھئی یہ کہان چشمہ اتارنی والی ہے یہ تو اپنی شادی رات کو بھی بیڈ پہ چشمش بنی بیٹھی ھوگی…””
اب کہ شنو نے ایک قہقہ مارا جس پر سب ہنسی دبائے گئیں…
“یار ایسا نا کرنا حیفی ورنہ دلہا صاحب تو تماری آنکھیں دیکھنے کو ترس جائینگے….””
اب کی بار زیبا نے فھیم پہ افسوس کرتے ہوئے کہا
“یار ایک بات تو بتاؤ کہ چشمے کے بنا سوتی ہو تو فہیم بھائی کا چہرہ خواب میں دهندلا تو نہیں دکهتا ؟؟؟….”
فوزیہ نے تاسف سے حفسہ سے سوال کیا جس پر ایک بار سبھی ہنس دی
حفسہ شرم سے بس سَر جھکائے ان کو گھورتی ہی رہ گئی
“لڑکیوں کیوں میری شرمیلی بچی کو اتنا تنگ کر رہی ہو..”””
نادیہ بیگم حفسہ کی حمایت میں بول پڑی
“ہاں ہاں آنْٹی ہمیں تو روک سکتی ہیں آپ لیکن فہیم بھائی تنگ کرینگے تو ان کو کون روکے گا…”””
زارا باز نہ آتے ہوئے بولی اور سب کی ایک بار پِھر کهلکاریوں کی آواز گونجی جن کے ساتھ نادیہ بیگم بھی ہنسدیں
تو حفسہ نے بھی اپنی ماں کو گهور کر دیکھا مانو جیسے کہہ رہی ہو کے آپ بھی انکے ساتھ مل گئی ہیں
نادیہ بیگم نے اسکو ہنس کر دیکها اور اسکو گلے لگا دیا وہ بھی مسکرا دی
اور اسی طرح یہ رسم بھی اپنے اِخْتِتام کو پھونچی
اب وہ سب لاؤنچ میں بیٹھے چائے پی رہے تھے اور نادیہ حفسہ کو ھاتھوں سے چائے پلا رہی تھی کیوں کہ اُس کے ہاتھ مہندی سے بهرے ہوئے تھے
“امی آج آفریں کیوں نہیں آئی میں نے بہت مس کیا اسکو…””
حفسہ افسردہ ہوتی ہوئی اپنی ماں سے پهوچنے لگی
“بیٹا ابھی کیسے آئے وہ خود دلہن بننے جا رہی ہے اور کچھ دنوں بعد تو ویسی بھی اسکو یہیں پر آنا ہے….”””
نادیہ بیگم کی آواز جیسے ہی دانیال کے کانوں پر پڑی تو چائے کی چسکی لیتا مسکرا دیا جس کو اسد نے دیکھ لیا
“کیا ہوا لڑکے تم کیوں خود میں ہی ہنسے جا رہے ہو…”””
اسد اُس کے کندهے پہ ہاتھ رکھتا پوچھ رہا تھا جانتا تھا کس بات پر ہنسا ہے پر پِھر بھی پوچھ بیٹها
“نہیں ڈیڈ بس ایسے ہی مسکرا رہا تھا…..””
دانیال ان سے نظر چراتے بولا تو وہ مسکرا دیئے
“ڈیڈ آپ نے میری شادی آفریں کے ساتھ کیوں رکهدی اب وہ اِس گھر میں آئیگی تو میں تو چلی جاؤنگی نا اِس گھر سے…””
حفسہ اب سلسلہ گفتگو وہی سے جوڑتی ہوئی باپ سے شکایت کرنے لگی
“ارے نا بابا تم اپنے اس گھر کو چلی ہی جاؤ تو بہتر ہے میں روز روز کے بھابهی نند کے ڈرامے ہینڈل نہیں کر سکتا…””
اِس بار دانیال جلدی سے بولا اسکو اپنی فکر ستائی ہوئی تھی
“دیکھا ڈیڈ کیسے مجھے اِس گھر سے نکالنے کو اتاولے ہو رہے ہیں اور ابھی سے ہی اپنی بِیوِی کے ہوگئے…””””
حفسہ نے روتی شکل بنا کر کہا
“دیکھا حفسہ کردی نا نندون والی بات اگائی نا اپنے اصلی فام میں تم بھی….”””
دانیال افسوس سے سر ہلاتا ہوا بولا
“نہیں دانی بھائی آفی اور میں بہت اچھی نند اور بھابهی ثابت ہوتے باقیوں کی طرح بالکل نا ہوتے ہم….””
حفسہ مسکراتی ہوئی بولی
“ہاں بھئی دانیال اِس بات پر ہم حفسہ سے ایگری کرتے ہیں….”””
اِس بار اسد حفسہ کے حمایتی بنے
“لو یو ڈیڈ….””
حفسہ نے پیار سے اسد سے کہا تو سب مسکرا دیئے
وہ اب اپنے کمرے میں جاکر بیٹھی اپنے زیور اتارنے لگی
اسکا موبائل بجا
اسنے دیکھا دانیال کی کال آ رہی ہے
اسنے کال دیکھ کر گھبراہٹ مین جھٹ سے کال بند کردی
اب اسکو فھیم کا میسج آیا
“کرلو جتنے نخرے کرنے ہیں آنا تمہیں میرے پاس ہی ہے دیکهہ لونگا……””
اور ساتھ میں ایک غصے والا ایموجی بھیجا تھا .
حفسہ نے جیسا ہی اسکا میسج پڑھا اسک_ کپکپاتے ہاتھوں سے موبائل چهوٹ کر زمین پہ جا گرا
_________________________________________
.
.
.
آفریں کی صبح آنکھ کھلی تو وہ سویٹ شرٹ اور نیچی ٹراؤزر پہنے بستر سے برآمد ہوئی اور چل کر آئینے میں خود کو دیکھا جیسے ہی خود کو دیکھا اسکا منہ کھلا کا کھلا رہ گیا تھا اسنے اپنے ھاتھوں سے آنکھیں میچی کہ کہیں نیند میں تو نہیں پر نہیں پِھر اپنا عکس اسکو اسی طرح دکھائی دیا
اسکے ناک کی چوٹی پر کالا پینٹ کیا گیا تھا اور گالوں پر بلیوں والی مونچھیں اور جگہ جگہ عجیب سی ڈیزائن….
اسکو دو منٹ میں سمجھ اگائی کہ اُس کے جان کے دشمن بھائی کا کارنامہ ہے اسنے اپنا جرسی کا شرگ اٹھایا اسکو پہنتی ہوئی ننگے پیر دانیال کے کمرے میں دوڑ لگائی وہ وہاں نہیں تھا
وہ اسکو ڈھونڈتے ڈھونڈتے لان میں آئی جہاں فھیم غزل اور فیضان کرسیوں پر براجمان چائے کی چسکیان لے رہے تھے
وہ فہیم کے سامنے لڑاکا عورتون کی طرح كمر پر ہاتھ رکھ کر اسکو گھورنے لگی فھیم آرام سے چائے پیتا رہا فہیم اپنی رات میں کی گئی کارکردگی بھول چکا تھا
“کیا ہے ؟ ؟…..”
فھیم نے بہت دیر تک اسکو خود کو گھورتے محسوس کر رہا تھا تو آخر کو اسکو دیکھا اور جیسے ہی دیکھا گالوں کو پھلائے.. ہنسی روکنے کی ناقام کوشش کرتا رہا
:یہ کیا کیا ہے آپ نے بھائی ؟…….”
آفریں غصے سے آگ بگولہ ہوتی ہوئی فہیم پر چلائی
غزل اور فیضان نے اسکو دیکھا تو وہ بھی اپنی ہنسی دبائے چائے پیتی رہے پر انکی ہنسی آفریں کو صاف دکھائی دی
اور فھیم اپنی شامت جان کر کرسی سے اٹھ کر بهاگنے لگا آفریں نے اسکو بھاگتے دیکھا تو وہ بھی اُس کے پیچھے لپکی
“رکین بھائی آج آپکا قتل ہوجانا ہے میرے ہاتھوں….””
وہ فہیم کے پیچھے بھاگتی ہوئی بولی
“پہلے اپنا منہ دھو لو بندریہ…..””
اب فھیم الٹے قدموں دوڑتا ہوا موبائل میں اسکی ویڈیو بنانے لگا
“فھیم بھائی ویڈیو نا بنائیں….””
اسنے ویڈیو کی طرف دیکھا تو فیضان کے پیچھے چُپ گئی
“ارے باندریہ بنانے دو نا اتنی کیوٹ سی بندریہ لگ رہی ہو….””
اب فہیم اُس کے پاس جاتا ہوا ویڈیو بنانے بولا
“ابو اسکو منع کریں نا پلیز….””
اب آفریں نے فیضان کی مدد لینا چاہی
“فھیم بیٹا چھوڑو میری بیٹی کو کیوں تنگ کر رہے ہو ویسے بھی چلے جانا ہے اسکو کچھ دنوں بعد…..””
فیضان مسکراتا ہوا بولا اور اَخِری بات پر افسردہ ہو گیا اسکو آفریں بہت عزیز تھی
“ابو آپ ہمیشہ اِس بندریہ کی سائڈ لیں بس اور اچھی بات ہے چلی جائے پیٹو اِس گھر کے راشن مین تو کمی آئیگی…””
اب وہ کرسی پر بیٹھتا ہوا غزل کو ویڈیو دیکھاتے ہوئے بولا
“ہاں جیسے آپکا کھاتی ہوں نا میں….. میں تو اپنے ابو کا کھاتی ہوں…..””
آفریں پیچھے سے کھڑی ہوكر فیضان کے گرد اپنے باہیں باندهتی ہوئی بولی
“ہاں ابھی تک تو ابو کو کنگال کیا کھا کھا کر اب اس دانی بیچارے کی باری مجھے تو ابھی سے ہی ترس آرہا ہے…..””
فھیم افسوس کرتا ہوا بولا
“اب ایسا بهی نہیں ہے بھائی اور آپ سے میں اِس فیس پینٹینگ کا بدلہ لے کر رہوگی….””
آفریں اُس کے سامنے والی چیئر پر بیٹھتے ہوئے اسکو کشن مارتی ہوئی بولی
اب فھیم مسکراتا ہوا آفریں کو ویڈیو دیکهانے لگا جس کو دیکھ کر اسے کے منہ سے ہنسی چهوٹ گئی
“اللہ !! کتنی بهیانک لگ رہی ہوں میں……””
وہ ہنستی ہوئے کشں سے اپنا منہ چھپاتے ہوئے بولی تو فھیم کے ساتھ غزل اور فیضان بھی ہنس دیئے
“آفی بالکل تم پہ گئی ہے غزل…..””
فیضان مسکراتے ہوئے غزل کی طرف دیکھتا ہوا بولا تو غزل بھی اسکی بات سن کر زبردستی مسکرادی کیوں کہ بچوں کے سامنے وہ کچهہ بھی ظاہر نہیں ہونے دینا چاہتی تھی
“اچھا اب میں چلتا ہوں آفس اللہ حافظ بچوں….””
فیضان کہتا ہوا لان عبور کرنے لگا جب اسکا فون بجا اسنے ان نون نمبر دیکھا اسنے کال اٹینڈ کی
“جلدی باہر آکر مجھ سے ملو تمہارے گھر کے باہر کھڑا ہوں….””
فون سے آواز ابھری
“آپ کون ؟….”
فیضان نے سوال کیا
“ایس کے…..”” جواب آیا
جواب جیسے ہی آیا اسی کے ساتھ کال بھی کاٹ دی گئی فیضان کو غصہ آیا کہ وہ اُس کے گھر تک بھی پهونچ گیا تو فیضان غصہ ضبط کیئے باہر جانے لگا ……
فیضان باہر آکر اسکی گاڑی میں بیٹھا تو ثمر نے گاڑی فیضان کے گھر سے تھوڑی دور کھڑی کی
“اپنی بیٹی کو اس دانیال سے دور رکھہ….”””
ثمر سنجیدگی سے سٹیرنگ پر هاتهہ رکهتا ہوا بولا
“وہ میری بیٹی ہے میں ہی اسکا ہر فیصلہ کرونگا، تم کوئی نہین ہوتے اس کے بارے میں کچهہ بولنے والے….””
فیضان نے غصہ ہونے کے باوُجُود دهیمے لہجے میں کہا
“تم کوئی بات سیدهے طریقے سے نہیں مانتے نہ.. جا سکتے ہو اب…..””
وہ فیضان کو دیکهتے ہوئے هلکا سا مسکرا کر بولا
اور فیضان اٹھ کر اپنی گاڑی کی طرف بڑهنے لگا
_________________________________________
.
.
.جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *