Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Mujhy Ishq Tera Le Doba by Yusra Shah Episode03

Mujhy Ishq Tera Le Doba by Yusra Shah Episode03

نہیں نگاہ مین منزل تو جستجو ہی سہی
نہیں وصال میسر تو آرزو ہی سہی💔
.
.
گرمی کا موسم تھا یہ ایک تپتا ہوا دن تھا اور سورج نے اِس دوپہر کے وقت کو اپنی چمک میں لپٹ رکھا تھا سورج نے اپنی کرنوں سے زمین پہ چمکتی ہوئی روشنی پھیلا رکھی تھی… اور یہی سورج کی روشنی اس کے کمرے میں چهن چهن کرتی اس کے پردوں سے آنے لگی اور کمرے میں ہلکی ہلکی روشنی آنے لگی اور یہ روشنی اس کو تنگ کر رہی تھی کیوں کہ اسکو اب اندهیرے پسند تھے اور اب سورج نے اسکی کوشش کو ناکام بنایا ہوا تھا…
وہ جو گھپت اندھیرا کیئے ہوئے بیڈ پہ چت لیٹا سگریٹ پی رہا تھا اور سنجیدگی سے بے مقصد چهت کو تک رہا تھا جہاں پنکھا فل سپیڈ میں چل رہا تھا پر پِھر بھی اِس گرمی کا مقابلہ نا کر سکا تھا اور اس کے پسینے سے شاروبار ہوتے بدن سے پسینا سکھانے میں ناكام رہا…
اس کے چہرے سے اُس کے احساسات نمایاں تھے پر چہرے پر کوئی ایک احساس نہیں کئی سارے احساسات نے ڈیرا جمایا ہوا تھا
بےبسی ، ناکامی ، ہار ، دکھ ، غصہ ، اور انتقام کی آگ جو کئی سالوں سے اس کے دِل میں جل رہی تھی اور وہ اسکو بُجھا نہیں پا رہا تها…. اسی آگ نے اسکی زندگی اندھیر کر رکھی ہوئی تھی
اسکی بھوری آنکھیں سرخی مائل ہوئی رکھی تھی اور اسکی بیخوابی کی گواہ بنی ہوئی تھی اسکے ، عنابی گلابی سے لب ، بڑھی ہوئی شیو ، مغرور کھڑی ہوئی ناک ، گورے گال جو اب شدید گرمی کی وجہ سے لال پڑھ رہے تھے اور اسکے بڑھے ہوئے سنهیرے بال جو بالکل باپ پہ گئے تھے اور اسکی گرین اور بلیک چیک پہ شرٹ جس کے سارے بٹنس کھلے جس میں سے اسکی سفید بنیان دکهائی دے رہی تهی وہ اپنے سنگل بیڈ پہ لیٹا تھا
عیش ٹرے بہت سی راکھ اور سگریٹ کے چهوٹے ٹکڑوں سے بھر چکی تھی …. وہ سگریٹ بہت پیتا تھا اور پریشانی میں تو کافی زیادہ …. اسکا خستہ حاَل چھوٹا سا اندھیرے میں ڈوبا کمرا جس پر پردوں سے بس تھوڑی ہی روشنی آ رہی تھی ، جس میں بس ایک سنگل دراز والی الماری جس میں سامان پورا نا آنے کی وجہ سے اوپر بیگ رکھا ہوا تھا ، ایک ٹوٹا ہوا لکڑی کا ڈریسنگ ٹیبل بیڈ کے سائڈ میں چھوٹا سا ٹیبل جس پر اسکا فون اور بائیک کی چابیاں رکھی ہوئی تھی ، ایک صوفہ جو کی بڑی کھڑکی کے سامنے رکھا ہوا تھا اور اسکی بہت ساری چیزیں اُدھر ادھر بکھری ہوئی تھی وہ بہت کئیرلیس تھا کوئی چیز جگہ پہ نہ رکھتا….
وہ اپنی دُنیا میں غائب خود کو من ہی من گالیاں دیتا رہا جب ایک سادہ سی عورت اسکے کمرے میں داخل ہوئی … سادہ سا لون کا پرانا جوڑا چہرے پہ محنت و مشقت کے آثار نمایاں تھے ، وہ اسکی ماں تھی اسکی زندگی اسکی امید اسکی سب کچھ…
جس نے باپ کے مرنے کے بَعْد کئی مشکلات کا سامنہ کیا تھا ،سلائی اور ٹیوشنس پڑھا کر گھر چلایا کرتی اپنے بیٹے کو تعلیم مکمل کرائی اور اسکی ہر خواہش پوری کیا کرتی جس بھی حَال میں پر پوری کرتی…..
“کیا ہوا میرے بچے ایسے کیوں پریشان سے خود کو بند کر کے بیٹھے ہو سب ٹھیک تو ہے نا ؟ ؟…..”
انہوں نے اندر آکے اپنے جگر کے ٹکڑے کو اس اندھیرے کمرے میں پریشان بیٹھا دیکھا تو فکر مندی سے بیڈ پر بیٹھ کر بولی
ازلان نے ان کو دیکھا تو جلدی سے اٹھ کر سگریٹ عیش ٹرے میں مسلی اور اپنے بکھرے بالوں پہ ہاتھ پھیرا جو کے بکھرے ہوئے اس کے ماتھے پر گرے ہوئے تھے
وہ کہنیاں گهٹنون پر ٹکائے هاتهوں مین سر گرا کر بولا
“آج بھی وہ ہی ناکمی میرے پلے پڑی پِھر وہ ہی بےبسی ، نہیں ملی آج بھی کوئی جاب……”
اس کی پشت اپنی ماں کی طرف تھی
“یہاں آؤ میرے بچے …” انہوں نے پیچھے سے اُس کے کندهون پر ہاتھ رکھ کر کہا اور وہ بنا کچھ بولے انکے پاس آکر گود میں سَر رکھ کر آنکھیں میچ گیا اپنی ماں کے پاس اسکو سکون ملتا تھا…..
“تم نا امید کیوں ہو رہے ہو بیٹا اللہ کوشش کرنے والوں کے ساتھ ہوتا ہے اور مجھے معلوم ہے تم اپنے تن من سے کوشش کر رہے ہو اور میری دعا ہے کہنتمہیں کامیابی ملے گی بہت جلد—
اللہ محنت کرنے والو کو کبھی بھی مایوس نہیں کرتا بس یہ تمہارا امتحان ہے صبر کرلو صبر سے کام لو اِس صبر کے امتحان میں تم کامیاب ہوگئے تو یقین جانو تمہیں کبھی اِس طرح تڑپنا نہیں پڑھے گا … مایوسی کفر ہے میرے بچے….”
اب اسکی ماں اسکو همیشہ کی طرح صبر کا سبق پڑها رہیں تهیں جو کہ ازلان کو کم ہی سمجهہ مین آتا
“ھمممم……”
اسنے اتنا ہی کہا اور اپنی ماں کے ہاتھ آنكھوں پہ رکھے وہ نہیں چاہتا تھا اسکی ماں اسکی آنكھوں سے اسکی پریشانی پڑھ لے اور وہ خود بھی پریشان هوجائے پہلے ہی زندگی نے اس کو اتنا سکھ نہیں دیا تھا اور وہ ان کو مزید پریشان نہیں دیکھنا چاہتا تھا
“كھانا تیار ہے ؟ بہت بھوک لگی ہوئی ہے ……”
وہ اپنی ماں کی گود سے اٹھتے ہوئے بولا
“ہاں تم فریش ہوکر آؤ میں لگاتی ہوں كھانا….”
اور ازلان اٹھ کر الماری کی طرف بڑھا اور اپنی ماں سے پوچھا
“آپنے کهانا کهایا؟؟…..”
جانتا تھا اسکی ماں نے اس کے بغیر كھانا نہیں کھایا ہوگا
“بیٹا تمھارے ہی انتظار میں تھی تم باہر آؤ میں كھانا نکالتی ہوں……”
وہ سر ہلا کر واشروم میں گھس گیا
وہ اب اسکا بکھرا ہوا کمرا سیٹنے لگی جہاں کوئی بھی چیز ترتیب سے نہیں پڑی ہوئی تھی
کہیں پہ کتابیں کہیں پہ اسکی شرٹس زمین پہ اس کے جوتے ادھر اُدھر پڑے ہوے تھے گٹار جو کے بیڈ پہ پڑا ہوا تھا اور تاریں پِھر سے ٹوٹی ہوئی تھی وہ سمجھ گئی کہ پِھر سے انکے بیٹے نے تارین جوڑنے کی ناكام کوشش کی ہوگی
اسکو میوزک سے بہت لگاؤ تھا اور انہوں نے ہی اسکو پیسے جوڑ توڑ کے گٹار لے کے دیا تھا اور اب اسکی تارین جڑوانے تک کے پیسے نا تھے وہ افسوس سے گٹار کو دیکھ کر ایک کونے میں رکھ کر کمرے کے دروازے کی طرف بڑھنے لگی تو انکا پیر کسی چیز سے ٹکرایا انہوں نے نیچے دیکھا اسکی بیٹ پڑی ہوئی تھی وہ ٹھرا کرکٹ کا بھی دیوانہ اپنے مرحوم باپ اور بهائی کی طرح اور اپنے بهائی کی بیٹ اپنے پاس رکھی ہوئی تھی
‘ایک تو یہ لڑکا کوئی چیز اپنی جگہ پہ نہیں رکھتا بے ترتیب انسان……”
وہ بیٹ سائڈ پر رکھتی بڑبڑاتی چلی گئی
انکا چھوٹا سا گھر تھا چھوٹا سہن اور دو کمرے ، سہن کے لیفٹ میں ایک چھوٹا سا کچن اور سہن میں ایک ٹیبل اور تین کرسیان رکھی ہوئی تھی انہوں نے كھانا لگایا اور ازلان اپنے کمرے سے باہر آیا اور ان دونوں نے مل کر كھانا کهایا_____________________________________
.
تیرے سوا تیرا اس جہان میں ہے ہی کون
اے انسان،،،،
…. جس سے تو امیدین لگا رہا ہے
کیون خود کو لوگوں کے دهوکوں سے چهنی کر رہا ہے
تیرا صرف خدا ہے اسکی بتائی رہا اختیار کر
کیون خود کو خالک سے جدا کر کے گنهگار کر رہا ہے
نادان هے تو بهی!! تجهہ کو سمجها رہا ہوں اور تو اسکو شاعری سمجهہ رہا ہے ؟؟________________________
.
“امی بھائی کو بولیں مجھے اپنا بیگ واپس کریں مجھے یونیورسٹی کے لیئے دیر ہو رہی ہے……”
آفریں نے روتی ہوئی شکل بنا کر غزل کو شکایت لگائی جو کہ ناشتہ بنانے میں مصروف تھی
“تم دونوں کو تو اللہ پوچهے گا جب دیکھو لڑائی جهگڑا کرتے رہتے ہو.. اور پِھر آکر میرا سَر کهپاتے ہو… تم دونوں کی لڑائی ہے خود ہی جانو تم لوگ …..””
غزل ان دونوں کی روز کی حرکتوں سے تنگ ہوکر بولی اور ناشتہ لے کر کچن سے باہر نکل گئی
“امی آپکو ذرا سا بھی ترس نہیں آتا مجھ غریب پر کب سے فهیم بھائی کی پیچھے بھاگ رہی ہوں ٹانگوں میں ہی دَرد ہو گیا ہے اُف……”
وہ غزل کے ساتھ ڈائینگ ٹیبل پر بیٹھی اور وہ روتی ہوئی شکل بنا کر گھٹنوں کو دبا نے لگی اور امائون کی ایکٹنگ کرنے لگی
“چُپ کر آفی مار کهائیگی تو مجھ سے ایک دن ، سدهر جا چهوڑ دے اب اپنا بچپنا……”
غزل آفریں کا کان کهینچتی ہوئی بولی
“چوڑدین اِس بندریا کو امی نازک ہے بہت ..ایسا نا ہو دو منٹ کے بعْد دیکھیں تو اس کا کان آپکے ہاتھ میں ہو…..”
فھیم آفریں کا لیڈیز بیگ اپنے کندھوں پر لاٹکائے غزل کی پلیٹ سے اومیلیٹ منہ مین لیتا ہوا بولا
“اب اتنی بھی نازک نہیں میں بھائی جتنا آپ مجھے سمجھتے ہیں اور دیں اب مجھے میرا بیگ…..”
وہ اس کے کندھے سے بیگ اتارنے کی کوشش کرنے لگی
“چھوڑو بندریا ….پڑھ کر کیا کروگی ویسے بھی شادی کے بَعْد برتن ہی تو مانجنے ہیں تمہیں…….”
وہ بیگ مضبوطی سے تھامے مسنوئی غصے سے آفرین کو تنگ کرتے بولا
“ابھی مجھ میں تو دیر ہے بھائی پہلے آپکی شادی ہونی ہے اور مین برتن تو مانجنے والی نہیں لیکن ہاں آپکی بِیوِی سے منجوانے والی ضرور ہوں……”
آفریں فھیم کو غصے سے بات کرتا دیکھ کر تڑخ کر بولی
“دیکھتا ہوں میں بھی کیسے منجواتی ہو برتن وہ بھی میر فھیم حسن کی بِیوِی سے…….”
وہ اسکی غصے سے لال ہوتی ناک کو انگھوٹے اور شہادت کی انگلی سے کھینچتا ہوا بولا
“شرم بھائی ! پہلے سے ہی کیسے سائیڈ لی جا رہی ہے توبہ آج کل کے لڑکے تو ماں کے سامنے کیسے بے باک ہوئے جا رہے ہیں……”
غزل چُپ کر کے سَر تھامے اپنے ان دونوں بچون کو دیکھ رہی تھی
آفریں اب کچھ نہیں کر سکتی تھی یہ دیکھ کر اب فھیم کو امی سے پِٹوانا چاہتی تھی اور کرسی پر بیٹهتی ہوئی بولی اور اب اسکی پشت فھیم کی طرف تھی
فھیم نے بیگ اسکے سر پر مارا اور دانت نکالتے بولا
“بول کون رہا ہے امی دیکھیں تو خود اپنے منگیتر سے سب کے سامنے باتیں کرتی ہے اور مجھ معصوم شخص پہ الزام لگا رہی ہے بیباکی کا…..”
“بهائی بہت برے ہیں آپ……” وہ اب سہی معنوں میں چڑ گئی تھی اور سَر پر اپنی دو انگلیاں مسلتی ہوئی بیگ لٹکا کر یونیورسٹی کے لیئے نکل گئی
“ناشتہ تو کر کے جا آفی بیٹا…..”
غزل نے پیچھے سے آواز لگائی
“مجھے نہیں كھانا کوئی ناشتہ واشتا بھوکی رہ کر مرجائوں گی بس پِھر آپ دونوں کو سکون ملے گا…..”
وہ بنا منہ موڑے اپنی ناراضگی اور غصے کا اعتراف کر کے باہر نکل گئی
“دیکھا ناراض کر دیا بچی کو اب سارا دن کیسے بھوکی رہیگی……”
غزل فهیم کو ڈانٹتی ہوئی بولی
“کچھ نہیں ہونا اِس پیٹو کو ، دو منٹ کی بھی بھوک برداشت نہیں ہوتی اِسے ، کھا لے گی کچھ نا کچھ فکر نا کریں ، اب اِس غریب کو بھی کچھ کھلا دیں ، آفس جانا ہے…..”
وہ اب ماں کو تنگ کرنے کے موڈ میں تها
“آیا بڑا غریب ، لاتی ہوں ناشتہ……”
وہ اسکو گھوری نوازتی کچن کی طرف بڑھنے لگی_________________
جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *