Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Mujhy Ishq Tera Le Doba by Yusra Shah Episode42

Mujhy Ishq Tera Le Doba by Yusra Shah Episode42

“آئی عشق یو ٹُو آفریں کی جان…..””””
________________________________________
کچھ مہینون بعد
حفسہ کی گود میں ایک ننهی سی پری تھی …اور فھیم اسکو تکتا ہی جا رہا تھا کہ یہ گئی کس پر ہے … سب ہی کافی خوش تھے
اور سب کے بهیچ میں غزل ابھی تک خود کو خوش نہیں رکھ پا رہی تھی… چہرے پر زبردستی مسکراہٹ لیئے تو کهڑی تهی لیکن دل مر سا گیا تها….
خوش قسمتی سے فیضان کو سزا مل ہی گئی تھی… اور اپنی بقایا زندگی اب جیل میں کاٹ رہا تھا … ازلان کا سب سے بڑا مقصد پورا ہو چکا تھا …. اسکی زندگی میں اب مکمل سکون تها…. اپنے باپ بھائی اور بہن کے قاتل کو سزا دلوا کر اب وہ اپنی زندگی سے کئی زیادہ مطمئن تها….
آفریں کو جب اپنے باپ کی سچائی پتا چلی پہلے تو اسکو یقین نہیں ہوا کہ جس باپ سے وہ اتنی زیادہ محبت کرتی ہے وہ اِس طرح کا انسان نکلے گا … جس نے دولت کے خاطر اپنوں کا نا بخشا….. یہاں تک کے اپنے بیٹے کی بهی جان لینی چاہی… اور خود کے عیب چھپانے کے لیے اپنی بیٹی کا سودا بھی کرلیا … لیکن وقت کے ساتھ ساتھ اس نے بھی حقیقت کو تسلیم کر ہی لیا اور خوش تھی کہ ایک مجرم کو سزا مل گئی ہے ….اور ازلان کو بھی انصاف مل گیا ہے… یہین پر اچهائی کی جیت اور برائی کی ہار ہوئی….
غزل جس نے فیضان کو ایک اور موقعہ دیا ہوا تها… اسنے ایک بار پهر سے ہی اپنی اوکات دکها دی تهی… وہ کئی سال سے اس سے جهوٹ بولتا رہا کہ حویلی میں آگ خود با خود لگی تهی پر در حقیقت یہ جاہلانا کام فیضان کا ہی تها… غزل نے کبهی سوچا بهی نہ تها… اور اسی طرح ایک بار پهر یقین ٹوٹنے پر وہ خود سے ہی خفا تهی کہ اسنے بہت ہی ایک گهٹیا شخص سے ساتهہ محبت کی تهی اور اسکے ساتهہ رشتہ کیا قائم تها… یہاں تک کہ یہ سنتے ہی اسنے طلاق کا بهی فیصلہ کر لیا تها.. پر فیضان ہر گز نہیں تیار تها کہ ایسا ہو.. غزل بهی مجبورا بچوں اور خاندان کی عزت کا سوچ کر چپ ہوگئی.. پر وہ دل سے فیضان سے ہر رشتہ ختم کر چکی تهی….
اور تانیہ کو بهی ازلان اور آفرین نے اسکا حق دلا دیا تها جو کہ دانیال نے اسکو اپنی بیوی کی حیثیت سے نہین دیا ہوا تها…
اسد کو کافی افسوس ہوا یہ سن کر کہ دانیال ایسا بهی کر سکتا ہے.. حقیقت کافی کڑوی تهی.. پر تهی تو حقیقت.. اسد کو اس حقیقت کو تسلیم کرنے میں کافی وقت لگا.. البتا نادیہ نے دادی بننے کے خواب سجا لیئے تهے اور ہر وقت کہا کرتی کہ دانیال آنے والا ہے.. اسکو دانیال کی اولاد میں دانیال دکهنے لگا تها تو اسنے تانیہ کو اپنی بہو تسلیم کرلیا تها.. مجبوراً اسد کو بهی اسکو اپنی بہو کا مقام دینا پڑا… اور تانیہ نے پوری کوشش کی تهی اسد اور نادیہ کا دل جیتنے میں… اسد نے جب اسکو دیکها کہ وہ بالکل بیٹیون کی طرح انکے ساتهہ پیش آرہی ہے اور دن رات صرف نادیہ اور اسد کا ہی خیال رکهتی ہے تو اسد کا رویہ بهی تانیہ کے ساتهہ نرم ہوا… تانیہ کے آگے پیچهے کوئی نہ تها سواء ایک نانی کے جو سب کچهہ جانتی تهی دانیال اور تانیہ کے نکاح کے بارے میں بهی…. تو اتنی مشکلات پیش نہیں آئی….
اور تانیہ کا تین ماہ پہلے ہی ایک بیٹا ہوا تها… جس کا نام نادیہ نے ‘تبریز’ رکها تها……
ازلان اور آفریں کے بچے کو آنے میں بھی صرف دو مہینے باقی تھے اور ان کو بیٹے کی خوشخبری ملی تھی….
“فھیم اتنی دیر کیا تک رہے ہو بچی کو…..”””
عظمہ نے فھیم کو دیکھ کر کہا … جو کب سے بچی کو یک ٹک دیکھ رہا تھا….
“دیکھ رہا ہوں کس پر گئی ہے…..”””
فھیم اسی طرح اسکو بغور دیکھتا ہوا بولا….
“کس پر گئی ہے بتا دو پِھر….”””
زرمینا بیگم بولیں…
“ہونٹ تو مجھ پر ہے اس کے پتلے سے.. پیارے… آنکھیں حیفی پہ ہیں بڑی بڑی…. اور ناک…. ناک اسکی…..ہاں ناک اسکی بندریہ یعنی آفی جیسی ہے……”””
فھیم بچی کا ایک ایک نقش دیکھتا سوچے سوچے بولا….
“بھائی اب تو سدہر جائیں…..”””
آفریں فھیم کو گھورتی ہوئی بولی…
“سہی تو کہہ رہا ہے یہ موٹی… ناک واقعی تم جیسی ہے اسکی….”””
ازلان بھی اس بچی کو دیکھتا ہوا بولا … اور جب سے آفریں تھوڑی موٹی ہوئی تھی وہ اسکو روز موٹی موٹی کہہ کر تنگ کیا کرتا اور آفریں کو بہت ہی زیادہ چڑ لگتی جب وہ اس کو موٹی بولتا … حالانکہ بیچاری اتنی موٹی ہوئی نہیں تھی… بس پیٹ نکلنے کی وجہ سے لگ رہی تهی.. پر ازلان موقعے کا پوار فائدہ اٹهاتا .. اسکو موٹی موٹی بول کر…
“ازلان مجھے موٹی مت کہا کرو…..”””
آفریں اکتا کر بولی….
“اچھا…جو آپکا حکم.. موٹی نہیں کہتا…. بھینس کہتا ہوں….. پرفیکٹ ہے….”””
ازلان ابھی بھی ڈھیٹ ہی تھا…..
“اور تم …. تم بهورے بلے….”””
آفریں ٹڑخ کر بولی….
آفرین بهی اسکو چڑانے کے لیئے یہی بولتی… جس پر ازلان اچها خاصہ تپ جاتا… ازلان کو یہ لقب پسند نا تھا بالکل بھی….
“ڈھیٹ بولا کرو…، بدتمیز بولا کرو…. کچھ بھی … پر یہ بھورا بلا نہیں…..”””
ازلان اکتایا
“اب تو میں بھورا بلا ہی کہونگی…..”””
آفریں ڈہٹائی سے مسکراتی بولی ….
ازلان نے بس اسکو گھورنے پر اکتفا کیا….
“اس کا نام م…..”””
“خبردار نام میں ہی رکهونگی بے بی کا……..”””
فھیم نے کچھ بولنا چاہا جب آفریں نے اسکی بات کاٹ دی…
“ہاں بھئی … رکھ لو نام تم … کون روک سکتا ہے تمہیں….”””
فھیم نے ہار مانلی….
“اس کا نام ثناء رکهینگے ہم…..”””
آفرین نے ازلان کی بہن کا نام لیا.. اور مسکرا کر ازلان کو دیکھتے ہوئے کہا اور پِھر باقی سب کو دیکھا…. جو اسی کو دیکهہ رہے تهے…
“اسکی پهوپھی کا نام ہے… کسی پر تو ہونا چاہیئے نا….”””
آفریں نے مسکرا کر کہا…..
“ہاں ہاں کیوں نہیں … ثناء تو بہت پیارا نام ہے…..”””
فھیم مسکراتا ہوا بولا….
“سبهی کو نام پسند آیا اور سب نے خوشی خوشی ہامی بهر لی……
ازلان کو اچھا لگا تھا کہ آفریں بھی اُس کے اپنوں کو اب اپنا سمجھنے لگی تھی………
__________________________________________
.
.
ازلان فیضان سے جیل میں ملنے آیا تها… اسکا سلاخوں کے پیچهے چہرہ تو دیکهہ سکے نق… فیضان چہرے پہ سختی لیئے خستہ حالت میں ….سلاخو کے پیچھے تھا…. سفید کپڑے جن پر کئی زیادہ نشان تهے… کہان وہ سوٹ بوٹ پہننے والا فیضان اب اسکے گهر کے ملازموں سے بهی بدتر حالت میں تها…
“کیسے ہو فیضان… مزہ آرہا ہے نہ اپنی اصلی جگہ پر رہ کر…… ویسے گرمی کافی زیادہ ہے یہاں… گهر کی اے سی تو یاد آتی ہی ہوگی……”””
ازلان اسکو تپاتا ہوا بولا…..
“تم نے اچھا نہیں کیا…. مجھ سے سب چہین لیا تم نے……”””
فیضان تیش میں آکر اپنی حالت دیکهتا ہوا بولا… وہ کانپ جاتا جب جب خود کو اس حالت میں دیکهتا….
“تمہیں ایسے دیکھ کر مجھے بہت مزہ آرہا ہے یقین جانو … یہ تو بس دنیا کی بنائی ہوئی دوزخ ہے فیضان … ابھی تو تمہیں اوپر والے کو بھی منہ دکھانا ہے…..”””
ازلان نے اسکی حالت کو دیکھتے ہوئے کہا….
“غزل کیسی ہے ؟ اسکو تو تم نے مجھ سے بدگمان ہی کردیا… طلاق لینے کو تیار تھی مجھ سے …. میں کبھی معاف نہیں کرونگا تمہیں……””””
فیضان کو غزل کی قدر اب ہوئی تھی….
“تم لائق ہی اسی کے تھے…..”””
“تم نے مجھ سے میری محبت کو چهینا ہے … میں تمہیں تمہاری محبت کا بھی نہیں ہونے دونگا…..”””
فیضان بدلے کی آگ میں جلتا ہوا بولا . .
“رسی جل گئی پر بل نہیں گیا…. ابھی بھی وہ ہی بدلے… کب سدهروگے آخر تم……”””
ازلان اس پر حیرت کھاتا بولا جو ابھی بھی اپنی فطرت سے باز نا آیا تھا…..
ازلان کہتا ہوا وہاں سے چلا گیا
__________________________________________
.
.
“زندگی کافی حَسِین ہے …کبھی سوچا بھی نہیں تھا کے اِس قدر خدا نے میری زندگی کو حَسِین لکھا ہے … مجھے ازلان جیسے شخص کے ساتھ میں جوڑے میں بنا کر بھیجا گیا ہے… میں تو شکر کرتے نہیں تھکتی کہ ازلان جیسا محبت اور عزت دینے والا شوہر میرے نصیب میں ہے … اب تو لگتا ہے جیسے سانسوں کے چلنے کی وجہ ہے وہ… جیسے دِل کی دہڑکنیں اسکی دھڑکنوں کی محتاج ہوں … اسکا ہاتھ تھام کر مجھے احساس ہوا کے عشق کس کو کہتے ہیں …مجھے اچھا لگتا ہے… اسکی ایسی حرکتیں دیکھنا جو صرف میرے چہرے پر ہنسی لانے کے لیئے ہوتی ہیں.. اسکا ہر چهوٹی سے بڑی خوشی میرے ساتھ سیلیبریٹ کرنا…. میری بے جا ضدیں ماننا
… . اور ہاں مجھے ہر سہی اور غلط بات کی پہچان سکھانا… میں پھول ہوں تو وہ میری خوشبو ہے ….میں دِل ہوں تو وہ میری دہڑکن ہے …میں سمندر ہوں تو وہ کنارہ ہے… یہ کنارہ نا ہوتا تو میں بہتی ہی چلی جاتی … اس نے مجھے تھامے رکھا ہے….
ازلان کہتا ہے کہ میں چاند جیسی ہوں اور میں اسکو کہتی ہوں کے تم سورج جیسے ہو…. کیوں کہ چاند کو روشنی تو سورج ہی بخشتا ہے … اور اگر آج چاند خوبصورت بھی ہے تو وہ صرف سورج کی دی ہوئی روشنی کی وجہ سے… ورنہ کوں اتنی شدت سے دیکھتا اِس بھجے ہوئے چاند کو… اسی طرح ازلان نے ایک سورج کی طرح میری زندگی میں روشنی پھیلا رکهی ہے.. ازلان ہی میری سب سے بڑی طاقت ہے.. برے وقت میں مجهے ازلان نے سمبهالا… اور دنیا کی ہر جنگ میں ازلان کے ساتهہ کهڑے ہو کر لڑ سکتی ہوں…… یہ زندگی تو اب کچھ نہیں ازلان کے بغیر….. بس خواہش یہ ہے کے جب تک سانسیں ہیں بس ازلان کے ساتھ چلتی رہیں….””””
آفرین لان میں بیٹھی ہوئی ڈائری لکھی رہی تھی …جس میں وہ کچھ نا کچھ روز لکھا کرتی صرف ازلان اور اپنے بارے میں…
موسم سہانا سا تها…. بارش برسنے کی دلیل دے رہا تھا…. ٹھنڈی ہوا مہکتے پھولوں کی خوشبو اپنے ساتھ لا رہی تھی….
آفریں ہلکے گلابی پلین فروک اور بجامے پر ہم رنگ نیٹ کا دوپٹہ پہنے بیٹھی ہوئی تھی… وہ ابهی ابهی نہا کر آئی تهی اور بهیگے بال ہوا سے اڑتے اسکا چہرہ چهو رہے تهے….
ازلان اُس کے سامنے آکر بیٹھا اور دھیرے سے اُس کے اڑتے ہوئے بالوں کو اُس کے چہرے سے ہٹایا
آفریں نے جلدی سے اپنی ڈائری بند کردی… اور ازلان کی طرف دیکها…..
“چھپاتی کیوں ہو اِس ڈائری کو مجھ سے…..”””
ازلان اسکا چہرہ اپنی انگلیوں سے چھوتا ہوا مسکرا کر بولا…
“یوں ہی… اور تم آفس نہیں گئے… ارادہ نہیں کیا آج؟….”””
آفریں نے نظرین جهکا کر کہا
اور اپنی ڈائری اور پین سامنے بینچ پر رکھ دیے…..
“جا رہا ہوں …پر دِل بالکل نہیں کہہ رہا….”””
ازلان اُس کے ھاتھوں کو تھامتا ہوا منہ بناتا بولا
اور آفرین کی جهکی ہوئی نظروں کو دیکهے گیا…. گهنی پلکون کی جهالر میں چهپی ہوئی خوبصورت آنکهیں …
“تو مت جاؤ اگر دِل نہیں کہہ رہا تو…..”””
آفرین نظرین اٹهائے اسکی آنکھوں میں جھانکتی ہوئی بولی …
“نا جاتا… اگر ایک ضروری میٹنگ نا ہوتی تو…..”””
ازلان اسکو سینے سے لگاتا ہوا بولا….
“ھم…. جلدی آنا…..”””
آفرین اُس کے کوٹ کے بٹن سے کهیلتی ہوئی بولی…
“اچها… وہ کیوں…..”””
ازلان اُس کے بالوں میں ہاتھ چلاتا بولا…. آفرین کبهی کبهی اس سے یہ فرمائش کر دیتی تهی… اور وہ ہر بار ہی وجہ جاننے کے باوجود بهی سننا چاہتا….
“ایسے ہی تمھاری یاد آتی ہے… اتنے گھنٹے تم سے دور جو رہتی ہوں….”””
“میری اتنی عادت مت ڈالو آفریں……”””
ازلان اسکو خود سے الگ کرتا بولا…..
“اب تو ہو چکی عادت…..”””
آفریں نے شانے اچکا کر کہا…
ازلان نے مسکرا کر دو منٹ اسکی خوبصورت آنکهوں میں دیکها… اور دیکهتا ہی رہ گیا…..
“یہ عشق محبت ٹهیک ہے مگر تم تو جان بنتی جا رہی ہو….”””
ازلان اسکی آنکهوں میں آنکهیں گاڑتا ہوا بولا….
“کوشش کرونگا جلدی آنے کی…. چلتا ہوں میری جان…..”””
ازلان اُس کے ہاتھ چومتا ہوا بولا … اور وہاں سے اٹھ کهڑا ہوا…
“ازلان آئے عشق یو…..”””
آفرین اسکا ہاتھ پکڑ کر مسکراتی بولی …
“ازلان نے مڑ کر اسکی طرف دیکھا جو اسکا ہاتھ پکڑے اسی کو دیکھ رہی تھی….
آزلان نے کچھ پل ان خوبصورت چمکتی آنکھوں میں دیکھا جن میں وہ ہر وقت اب صرف اپنا ہی عکس دیکهتا تها…اور پِھر ہلکا سا ہنس دیا…
آفریں نے اُس کے ڈمپل کو دیکھا… جو اسکو کافی اچھا لگنے لگا تها….
“آئی عشق یو ٹو آفریں……”””
ازلان مسکرا کر بولتا وہاں سے جانے لگا تو آفرین جلدی سے اٹهہ کر اسکے سامنے کهڑی ہوئی اور اسکے ڈمپل پر اپنے لب رکهتی پیچهے ہٹی….
ازلان وہیں ساکت سا کهڑا اسکو حیرانگی سے دیکهہ رہا تها.. ایسا پہلی دفع ہو رہا تها… ازلان کا یقین کر پانا مشکل ہو رہا تها…
“آج یہ تم نے نہیں کیا اسلیئے سوچا میں ہی کر دوں…”””
آفرین مسکراتی نظریں نیچے کرتی بولی…
“بس اب تو روز جان بوجهہ کر بهولا کرونگا.. تاکہ یہ کرم روز ہوتا رہے مجهہ پر……”””
ازلان نے اپنے دل پر ہاتهہ رکهے شوخ پن سے کہا….
“ازلان……”””
آفرین نے اسکے کندهے پہ ہلکی سی چپت رسید کرتے.. اور ہنستے ہوئے اسکو گهورا…
“چلتا ہون ازلان کی جان.. اپنا خیال رکهنا.. اور ہاں ہمارے بچے کا بهی خیال رکهنا….”””
ازلان روز کی طرح اسکو نصیحت کرتا چلا گیا…
آفرین سینے پہ بازو باندهے اسکو جاتا ہوا دیکهتی رہی…
ازلان نے مڑ کر آفرین کو بائے کیا…
آفرین نے بهی مسکرا کر ہاتهہ ہلاتے اسکو بائے کیا…
اور پهر سے ازلان کی پشت دیکهنے لگی…
آفریں اسکو جاتا ہوا دیکھتی رہی….
وہ چلتا گیا… چلتا گیا… چلتا گیا…. اور نظروں سے اوجھل ہوگیا……
_________________________________________
.
.جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *