Mujhy Ishq Tera Le Doba by Yusra Shah NovelR50767 Mujhy Ishq Tera Le Doba by Yusra Shah Episode01
Rate this Novel
Mujhy Ishq Tera Le Doba by Yusra Shah Episode01 (Watching)Mujhy Ishq Tera Le Doba by Yusra Shah Episode02 Mujhy Ishq Tera Le Doba by Yusra Shah Episode03 Mujhy Ishq Tera Le Doba by Yusra Shah Episode04 Mujhy Ishq Tera Le Doba by Yusra Shah Episode05 Mujhy Ishq Tera Le Doba by Yusra Shah Episode06 Mujhy Ishq Tera Le Doba by Yusra Shah Episode07 Mujhy Ishq Tera Le Doba by Yusra Shah Episode08 Mujhy Ishq Tera Le Doba by Yusra Shah Episode09 Mujhy Ishq Tera Le Doba by Yusra Shah Episode10 Mujhy Ishq Tera Le Doba by Yusra Shah Episode11 Mujhy Ishq Tera Le Doba by Yusra Shah Episode12 Mujhy Ishq Tera Le Doba by Yusra Shah Episode13 Mujhy Ishq Tera Le Doba by Yusra Shah Episode14 Mujhy Ishq Tera Le Doba by Yusra Shah Episode15 Mujhy Ishq Tera Le Doba by Yusra Shah Episode16 Mujhy Ishq Tera Le Doba by Yusra Shah Episode17 Mujhy Ishq Tera Le Doba by Yusra Shah Episode18 Mujhy Ishq Tera Le Doba by Yusra Shah Episode19 Mujhy Ishq Tera Le Doba by Yusra Shah Episode20 Mujhy Ishq Tera Le Doba by Yusra Shah Episode21 Mujhy Ishq Tera Le Doba by Yusra Shah Episode22 Mujhy Ishq Tera Le Doba by Yusra Shah Episode23 Mujhy Ishq Tera Le Doba by Yusra Shah Episode24 Mujhy Ishq Tera Le Doba by Yusra Shah Episode25 Mujhy Ishq Tera Le Doba by Yusra Shah Episode26 Mujhy Ishq Tera Le Doba by Yusra Shah Episode27 Mujhy Ishq Tera Le Doba by Yusra Shah Episode28 Mujhy Ishq Tera Le Doba by Yusra Shah Episode29 Mujhy Ishq Tera Le Doba by Yusra Shah Episode30 Mujhy Ishq Tera Le Doba by Yusra Shah Episode31 Mujhy Ishq Tera Le Doba by Yusra Shah Episode32 Mujhy Ishq Tera Le Doba by Yusra Shah Episode33 Mujhy Ishq Tera Le Doba by Yusra Shah Episode34 Mujhy Ishq Tera Le Doba by Yusra Shah Episode35 Mujhy Ishq Tera Le Doba by Yusra Shah Episode36 Mujhy Ishq Tera Le Doba by Yusra Shah Episode37 Mujhy Ishq Tera Le Doba by Yusra Shah Episode38 Mujhy Ishq Tera Le Doba by Yusra Shah Episode39 Mujhy Ishq Tera Le Doba by Yusra Shah Episode40 Mujhy Ishq Tera Le Doba by Yusra Shah Episode41 Mujhy Ishq Tera Le Doba by Yusra Shah Episode42 Mujhy Ishq Tera Le Doba by Yusra Shah Episode43 Mujhy Ishq Tera Le Doba by Yusra Shah Last Episode
Mujhy Ishq Tera Le Doba by Yusra Shah Episode01
Mujhy Ishq Tera Le Doba by Yusra Shah Episode01
ٹہنڈی بارش ، گرجتے ہوئے بادل، آندهی ، طوفان ..
اس بے آوارا موسم اور رات کے گہنے اندهیروں میں وه بے ترتیب قدم اٹہاتے ہوئے گم سم روڈ پر چلتے جا رہی تهی… سب لوگ اپنی بهاگ دوڑ میں لگے ہوئے تهے.. سب اپنے گهروں کو لوٹ رہے تهے…
اسنے رک کر یوں ہی بے مقصد آس پاس کی دکانوں کو دیکها جن پہ اب شٹرس چڑہ چکے تهے…
کهلا میدان ، بهیگتی ہوئی سڑک ، جب آسمان میں بجلی چمکتی تو وہ بهیگی سڑک اس کی چمک خود مین لیئے دکها دیتی… پیڑوں کے بارش میں بهیگے پتے زوروں شور سے هلتے ہوئے اپنی موجودگی کا احساس دلا رہے تهے… اب اس کی شیشے سے چمکتی سرمئی انکهین جن میں نمی اور سرخی اسکے رونے کی گواہی دے رہی تهیں ادهر ادهر خوف سے گهومنے لگیں مانو کسی کی تلاش کر رہی ہوں، پهر اچانک اسکے کانوں مین گولی کی آواز گونجی ( وہی گولی کی آواز جو ہر رات اسکے کانوں مین گونجتی رہتی ، جو اسکو سونے نہیں دیتی ، جو اسکو پهر سے ماضی میں لے جاتی..) اسنے خوف سے اپنی بڑی بڑی سرخی مائل آنکهوں پہ اپنی بڑی سی نم ہوئی پلکین گرا دیں اور دو سیکنڈس کے اندر کهول دی
کیوںکہ آفرین بار بار وہ منظر نہیں دیکهہ سکتی تهی جب اسکی زندگی اس سے ہمیشہ کے لیئے دور چلی گئی تهی!!
آفرین کا پتلا سا ، 5 فٹ کا وجود دہڑام سے زمین پہ گرا.. وہ گٹهنوں کے بل بیٹهی ٹپ ٹپ آنسو بہانے لگی..
بارش اسکی آنکھوں سے بهی بہنے لگی اور ایسی کہ تهمنے کا نام نہیں لے رہی تهی.. آنسون اسکے گورے چہرے کو بہگو رہے تهے.. اسکے گلابی لب جو کہ اب رو رو کے لال هوگئے تهے
اسکی خوبصورت چهوٹی سی ناک لال پڑ گئی تهی..
اسکے ڈارک براون گہنے بال لٹوں کی مانند کچهہ آگے تو کچه اسکے سفید گلابی چہرے پہ جہول رہے
تهے..
اب آفرین بالون کو نوچے چلا رهی تهی
“کیون چلے گئے تم مجهے تنہا کرکے ؟ کیسے دلاؤں تمارے مجرم کو سزا ؟ کہان ڈهونڈوں تمہیں….دیکهو تمہارے بعد میرا کیا حال ہے…….””””
وہ روتے ہوئے اپنی مرحوم محبت کو آوازیں دینے لگی
اب وه ٹہرکے آہستہ سے روتے ہوئے بولی
“تمہارے بنا کیسے لڑوں یہ جنگ؟؟..”
اب وہ گهٹنوں مین سر دیئے روتے روتے بڑ بڑانے لگی.. بیچوں بیچ اس سنسان سڑک میں آدہی رات مین کوں دیکهتا اسکو
لیکن نہیں.. ایک وجود کی نظر اسکی ہر ایک ادا و حرکت دیکهہ چکی تہی
سڑک کے بیچ شارٹ گهٹنون سے اوپر آتی، ہالف سلیوز نیوی بلیو کمیض اور لائیٹ بلیو جینز مین اس لڑکی کا وجود اسکو غصہ دلا گیا.. وہ ضبط کرتا گیا
_________________________________________
حویلی مین رونکیں اپنی عروج پر تهیں…
بڑی سی حویل اپنی پوری چمک دهمک میں نہلائی ہوئی تهی..
آج میر حسن شعیب کے بڑے صاحبزادے میر طارق حسن کی منگنی تهی .. شادی اسکی پسند کی لڑکی عزمہ خالد (میر حسن کے دوست کی بیٹی) سے ہو رہی تهی وہ دونوں ایک شادی میں ملے تهے اور میر طارق کو وہ کهل کهلاتی لڑکی بہت پسند آئی اسنے اپنی اماں (زرمینہ) سے زکر کیا تو ان کو بهی وہ لڑکی اچهی لگی اور جان پہچان کی تهی تو انہون نے فورا رشتے کی بات چلائی خالد صاحب نے بهی ہامی بهرلی
میر حسن جو کہ میر تهے ابا و اجداد کی کافی زمینیں تهیں.. شادی کے بعد میر حسن کے دو بیٹے ہوئے بڑا طارق چهوٹا فیضان اور ایک بیٹی نادیہ سب سے چهوٹی… نام سب کے میر شعیب نے رکهے دونوں پوتے ان کی آنکهہ کا تارا تهے طارق 8 سال کے تهے جب دادا چل بسے ہارٹ اٹیک کے باعث اور ٹهیک دو سال بعد دادی بهی دنیا کو علودع کہ کر چلیں اپنے شوہر کے دکهہ میں….
طارق بہت سمجدار اور کم گو تهے برعکس فیضان کے..
فیضان بہت شرارتی رہا تھا
حسن صاحب نے دونون بیٹون کو لندن بهیج دیا پڑهائی کرنے کے لیئے.. اور نادیہ کو اسکی خواہش کے مطابق پاکستان مین ہی انٹر کرائی اسکو پڑاهی سے زیادہ ٹی وی اور ناولز کا شوق رہا تها
آٹوہیں کے بعد دونون بیٹون کو لندن بهیچ دیا گیا… طارق اول پوزیشن لیا کرتا اور فیضان اللہ اللہ کرکے بس پاس ہو جاتا.. انٹر کے بعد اس سے پڑها نہ گیا اور واپس پاکستان آگیا.. میر حسن نے بہت غصہ کیا مگر وه کہاں کسی کی سنتا.. ضد اسکی طبیعت کا حصہ بن چکا تها
اور پاکستان مین ہی اگے باپ کے پیسوں پر پڑہنے لگا.. اور طارق لندن کی اعلی یونیورسٹی مین بزنس پڑہ رہا تها..
اور فیضان تها کہ دن بہ دن بگڑ رہا تھا اور گهر میں طارق کی تعریفیں اور اپنے اوپر ملامتیں سن کر جلتا رہتا .. حسن صاحب نے آدهی زمینیں طارق اور آدھی زمینیں فیضان کے نام کردی تهیں.. اور جب وہ زمینیں سمبهالنے کے بجائے ان کو بیچ کر ایاشیون پر اتر آیا اور جب حسن صاحب کو اس بات کا علم ہوا تو انہوں نے وہ زمینیں بهی طارق کے نام کردی اور صرف چند زمینیں اس کے نام ہی رہنے دی..
جب طارق لندن سے واپس آیا اور جاب کرنے کا فیصلا پاکستان میں ہی کیا.. سب اسکے ہی گن گاتے رہتے اور ایسے ہی اسکو اپنے بهائی سے نفرت ہونے لگی.. اور بهائیون کی آپس میں کم ہی لگتی تهی.. نادیہ کی انٹر کے بعد شادی کروادی گئی اسد شاہد سے وہ انکے دور کا رشتے دار تها اور نادیہ نے بهی باپ کی مرضی کا احترام کیا اور اسد کو اپنے باپ کی زمینیں تهی اور اپنی جاب بهی ، وہ شاہد صاحب کی اکلوتی اولاد تها اور نادیہ کے لیئے اچها شوہر ثابت ہوا تها.. اور وہ دونون اب دبئی مین رہا کرتے اسد کی جاب کی وجہ سے______________________
.
.
.
“آپی تم ابھی تک تیار ہو رہی ہو اور باہر تمھارے دلہا صاحب تمہارا انتظار کر رہے ہیں….”
غزل اسکو برات کا بتانے آئی تھی اور عظمہ کو یوں آئینے کے سامنے کھڑا دیکھ کر بولی
منگنی کا فنکشن خالد صاحب کے لان میں رکھا گیا تھا
“دیکھو ٹھیک لگ رہی ہوں غزل ؟ “””
عظمہ اُس کے سامنے کھڑے ہوکر پوچهنے لگی
پرپل گولڈن پیروں تک آتا فراک ماتھا پٹی اور گلوبند ہار پہنے وہ بہت خوبصورت لگ رہی تھی
غزل اسکا جائزہ لیتے ہوئے بولی
“بالکل چاند کا ٹُکْڑا لگ رہی ہو جیجا جی کا خیر ہو اب بس…”
وہ شرارات سے بولی
“ہر وقت بیتوقی ہانکتے رہنا تم بس…”
عظمہ چڑ کر بولی
“اچھا نا اب چلو سب نیچے انتظار کر رہے ہیں اور رکو اتنا ہلکہ میک اپ کیا ہوا ہے آپی میں تهوڑا ڈارک کر دیتی ہوں…”
غزل میک اپ باکس لیئے بولی
جب صفیہ بیگم انکے کمرے میں آئی تو کہا
“لڑکیون ابهی تک تم لوگوں کی تیاری ختم نہیں ہوئی…..
چلو نیچے سب انتظار کر رہے ہیں…..”
“ہاں امی پانچ منٹ اتے ہیں…”
غزل نے کہا اور عزمہ کی گلوز کو ڈارک پنک مین تبدیل کیا
صفیہ بیگم اپنی بڑی بیٹی کی آنکھوں ہی آنکھوں میں نظر اتارتی اور دعائیں دیتی چلی گئیں
غزل عزمہ کو لیکر سٹیج پر پهولون سے سجے صوفے پر جہاں طارق بیٹها ہوا زرمینہ بیگم سے بات کر رہا تها بٹهائے چلی گئی
اور عزمہ اسکو نیٹ کے گهونگٹ سے گور کر رہ گئی
“ماشااللہ میری بہو تو چاند کا ٹکڑا ہے….”
زرمینہ بیگم نے اسکی نظر اتاری
“بیٹا مین سب کو بلا کے آتی ہوں رسم شروع کرتے ہیں….”
وہ گئین اور میر فیضان تها کہ کہیں نظر ہی نہیں آرہا تها
اب عزمہ گبهرانے لگی کیونکہ وہ پہلی دفع طارق کے سامنے بیٹہی تهی اور پهلی دفع اسکو دیکهہ رہی تهی
شادی وہ اپنے ابا کی مرضی سے کر رہی تهی
انگوٹهی کی رسم ہوگئی تو سب نے ایک دوسرے کو مبارکباد دی اور ہلا گلا اور ڈانس میں مشغول ہو گئے اور وہ دونون خاموشی سے سب دیکهہ رہے تھے
طارق کے چہرے سے خوشی واضع تھی
“اہممم عزمہ مبارک ہو…..” طارق نے خاموشی توڑی
“”ج ج جی….” اسنے گبہراتے جواب دیا جس کو طارق نے نوٹ کر لیا تها
“آپ شاید نروس ہورہی ہیں…..”
اسنے مسکراتے ہوئے اسے نیٹ کے گهونگٹ سے دیکهتے ہوے کہا
وہ چونکی اور اپنی بڑی سیاہ آنکهون سے سامنے بیٹهے شخص کو دیکها جو پل مین اسکی گبراہٹ محسوس کر چکا تها
دراز قد، کسرتی جسم، بهوری آنکهین عنابی لب اور براؤن بال اوپر کیئے ہوئے
وائٹ کرتے پر براؤن واسکٹ اور تاؤ دیتی موچهین اسکی وجاہت بہری پرسنالٹی کو چار چاند لگا رہی تهیں
عزمہ دو سیکنڈس مین اسکا جائیزہ لیتے ہوئے بولی-
“نهیں بس پہلی بار اس طرح آپکے سامنے بیٹهی ہوں تو اسلیئے…..”
وہ آنکهیں نیچے کرتی ہوئی آہستہ سے بولی
میر طارق کو اسکی حیا سے جهکی ہوئی آنکهین پاگل کر گئیں
“سمجهہ سکتا ہون… پر آپ ایک بات بتائیے کہ آپ ہمارے رشتے سے خوش ہیں؟…..”
اسنے جاننا چاہا
“میرے مان باپ نے یہ رشتہ میرے لئیے بہتر سمجها.. وہ خوش اور مطمئن ہیں_ اور مجهے انکے انتخاب پر پورا بہروسا ہے…..”
عزمہ پہلے تو اسکی بیباکی پر چونکی کہ کیسے اسنے جهٹ سے ایسا سوال پوچها پهر نارمل ہوتے ہوئے جواب دیا
طارق لندن میں رہ کر آیا تها اسلیئے بیباک تها کچه بهی کهنے یا کرنے سے ہچکچاتا نہیں تھا
کونفیڈنس اور سچائی اسکی پرسنالٹی کا ہمیشہ حصہ رہا تها
اور اب طارق کو اپنی پسند پر فخر ہوا.. وہ فخریا انداز میں مسکرا کر اس سامنے بیٹهی لڑکی کو دیکھ رہا تھا جس نے اسکے دل پر اپنی معصومیت سے راج کر لیا تها
وہ ابهی کچهہ بولنے والا ہی تها کہ غزل آگئی
“واہ بهئی یہاں تو گپ شپ بهی شروع ہوگئی ہے….”
غزل نے ان دونون کو بات کرتے دیکها تو انکو چهیڑنے کے غرض سے اسٹیج پر آتی ہوئی بولی
عزمہ نے جہان اسکو گہورا وہی طارق بولا
“جی ہاں سالی صاحبہ اب تو ہم ان پر حق رکہتے ہیں…..”
“آئے ہائے رومیو جی.. نکاح تو ہونے دیں….”
غزل عزمہ کے ساتهہ بیٹهتے ہوے بولی
‘وہ بهی ہوجائیگا بس کچهہ دنون میں….”
طارق نے عزمہ کو دیکهتے کہا تو وہ لال پڑ گئی شرم سے
“ویسے آپی تم تو بڑی شرمیلی بنتی تهی…..
اب موقع دکهتے ہوئے شروع ہی ہوگئی ہاں؟…..”
غزل نے عزمہ کو کہنی مارتے شرارت سے کہا
تو طارق نے قهقہ مارتے کہا
“نہیں اب یہ الزام ہے میری منگیتر پر .. یہ واقعی بہت شرمیلی ہیں… آپ پہ نہیں گئی شاید…..”
طارق نے عزمہ کا خفگی بهرا چہرا نوٹ کر کے اسکو مزید تنگ کرنا چاہا
عزمہ نے طارق اور غزل کو ہنستے ہوئے دیکها دونون کی بڑہتی دوستی دیکهہ کر اب بول پڑی
‘غزل بدتمیزی مت کرو میں امی کو بتاؤن گی….”
طارق کو اسکی بچون کی طرح بات کرنے پر ہنسی آگئی تو وہ اسکو غصے سے دیکهنے لگی
اور طارق نے اسکو حیرانگی سے دیکہا جو وہ سمجهہ نہیں پائی
اور گردن جهکا گئی______________
جاری ہے
