Mujhy Ishq Tera Le Doba by Yusra Shah NovelR50767 Mujhy Ishq Tera Le Doba by Yusra Shah Episode09
Rate this Novel
Mujhy Ishq Tera Le Doba by Yusra Shah Episode01 Mujhy Ishq Tera Le Doba by Yusra Shah Episode02 Mujhy Ishq Tera Le Doba by Yusra Shah Episode03 Mujhy Ishq Tera Le Doba by Yusra Shah Episode04 Mujhy Ishq Tera Le Doba by Yusra Shah Episode05 Mujhy Ishq Tera Le Doba by Yusra Shah Episode06 Mujhy Ishq Tera Le Doba by Yusra Shah Episode07 Mujhy Ishq Tera Le Doba by Yusra Shah Episode08 Mujhy Ishq Tera Le Doba by Yusra Shah Episode09 (Watching)Mujhy Ishq Tera Le Doba by Yusra Shah Episode10 Mujhy Ishq Tera Le Doba by Yusra Shah Episode11 Mujhy Ishq Tera Le Doba by Yusra Shah Episode12 Mujhy Ishq Tera Le Doba by Yusra Shah Episode13 Mujhy Ishq Tera Le Doba by Yusra Shah Episode14 Mujhy Ishq Tera Le Doba by Yusra Shah Episode15 Mujhy Ishq Tera Le Doba by Yusra Shah Episode16 Mujhy Ishq Tera Le Doba by Yusra Shah Episode17 Mujhy Ishq Tera Le Doba by Yusra Shah Episode18 Mujhy Ishq Tera Le Doba by Yusra Shah Episode19 Mujhy Ishq Tera Le Doba by Yusra Shah Episode20 Mujhy Ishq Tera Le Doba by Yusra Shah Episode21 Mujhy Ishq Tera Le Doba by Yusra Shah Episode22 Mujhy Ishq Tera Le Doba by Yusra Shah Episode23 Mujhy Ishq Tera Le Doba by Yusra Shah Episode24 Mujhy Ishq Tera Le Doba by Yusra Shah Episode25 Mujhy Ishq Tera Le Doba by Yusra Shah Episode26 Mujhy Ishq Tera Le Doba by Yusra Shah Episode27 Mujhy Ishq Tera Le Doba by Yusra Shah Episode28 Mujhy Ishq Tera Le Doba by Yusra Shah Episode29 Mujhy Ishq Tera Le Doba by Yusra Shah Episode30 Mujhy Ishq Tera Le Doba by Yusra Shah Episode31 Mujhy Ishq Tera Le Doba by Yusra Shah Episode32 Mujhy Ishq Tera Le Doba by Yusra Shah Episode33 Mujhy Ishq Tera Le Doba by Yusra Shah Episode34 Mujhy Ishq Tera Le Doba by Yusra Shah Episode35 Mujhy Ishq Tera Le Doba by Yusra Shah Episode36 Mujhy Ishq Tera Le Doba by Yusra Shah Episode37 Mujhy Ishq Tera Le Doba by Yusra Shah Episode38 Mujhy Ishq Tera Le Doba by Yusra Shah Episode39 Mujhy Ishq Tera Le Doba by Yusra Shah Episode40 Mujhy Ishq Tera Le Doba by Yusra Shah Episode41 Mujhy Ishq Tera Le Doba by Yusra Shah Episode42 Mujhy Ishq Tera Le Doba by Yusra Shah Episode43 Mujhy Ishq Tera Le Doba by Yusra Shah Last Episode
Mujhy Ishq Tera Le Doba by Yusra Shah Episode09
Mujhy Ishq Tera Le Doba by Yusra Shah Episode09
” ماضی “
حسن صاحب اب اپنی زندگی کے آخری دن دیکھتے ہوئے ساری جائیداد ایک محفوظ ہاتھوں میں دینا چاہتے تھے….
طارق نے ان کو بولا تھا کہ اگرچہ چاہیں تو فیضان کے نام سب کر دیں وہ اپنی جاب سے گزارا کرلے گا اِس طرح روز کے جهگڑے بهی ختم ہوجائینگے پر حسن صاحب کو پتہ تھا فیضان کے ہاتھ اگر جائیِداد آئی تو وہ کچهہ نہیں چهوڑے گا سب ختم ہوجائیگا جو انکا خاندان برسوں سے جڑتا چلا آیا ہے اور اب حسن صاحب سب طارق کے نام کر کے تین مہینے پہلے چل بسے تھے فیضان کو ابھی اِس بات کا علم نہیں تھا کہ حسن صاحب نے سب طارق کے نام کر دیا ہے آج وہ اسی کا پوچهنے اور جائیداد کا بٹوارہ کرنے پاکستان آیا ہوا تھا، غزل اور بچوں کو وہی لندن چوڑ آیا تھا
عظمہ ازلان کے ساتھ قریبی شادی پہ گئی ہوئی تھی اور گھر میں اب صرف طارق عمیر ثناء اور زرمینا بیگم ہی موجود تھے
طارق اپنے کمرے میں کچھ ضروری کاغذات میں مصروف تھا جب فیضان اچانک اندر داخل ہوا
“فیضان تم ؟ تم کب آئے لندن سے…..””
طارق خوش دلی سے بولا
“بابا سب تمہارے نام کر کے گئے ہیں یا کچھ میرے لیئے بھی چھوڑا ہے….””
فیضان شکی نظروں سے اسکو دیکھتا ہوا بولا
“ہاں تمھارے نام کچھ زمینیں اور رقم ہے میں تمہیں دے دیتا ہوں پیپرز…..””
طارق تحمل سے بولا اور فیضان نے بگڑتی ہوئی شکل بنا کر کہا
“اور حویلی ساری تمہارے نام کردی واہ…..””
“تمھارے نام حویلی کا آدھا حصہ تھا جس کو تم بسا نہیں پائے اور بابا تمھارے نام اتنا کچھ کر ہی گئے ہیں جن سے تمہارا خاندان لندن میں ایشو آرام کی زندگی آرام سے گزر سکتا ہے….”
طارق کاغذات بند کرتا ہوا بولا اور فیضان اسکی طرف بڑها اسکی کالر پکڑی اور کہا…
“ابھی کے ابھی آدھی حویلی میرے نام کر….””
“میں ایسا کبھی نہیں کرونگا…..””
طارق نے اسکو پیچهے دھکا دے کر کہا
“میں بھی دیکھتا ہوں کیسے نہیں کرتا تو….””
وہ اسکی طرف بڑا ہی تھا کہ زرمینا بیگم آئی اور ایک زور دَار تھپڑ فیضان کے گال پر رسید کر لیا
“شرم نہیں آتی تمہیں بڑا بھائی ہے تمہارا .. کس لہجے میں بات کر رہے ہو ، حویلی کے حصے کرنے میں تم نے کوئی قصر نہیں چهوڑی اِس حویلی کو بسنے نہیں دیا اپنے باپ کو دِل کا دورہ پڑوا دیا اب کوئی قسر باقی رہ گئی ہے جو وہ پوری کرنے آئے ہو تم…..””
زرمینا بیگم چلاتی ہوئی بولی تو طارق نے انکو شانون سے پکڑ کر صوفے پہ بٹھا دیا انکا وجود غصے سے پوری طرح لرز رہا تھا
“میرے بیٹے طارق نہیں کروگے تم اسکے نام ایک پھوٹی کوڑی بھی ، نہیں ہے یہ اِس جائداد کا کوئی وارث ، میرا ایک ہی بیٹا ہے طارق بس….”
وہ روتے ہوئے طارق کا ہاتھ چُومتی ہوئی بولیں
طارق نے ان کو پانی کا گلاس تھما دیا
“یہ تھپڑ آپکے بیٹے کو بہت مہنگا پڑے گا یہ حویلی میری نہیں تو کسی اور کی بھی نہیں ہونے دونگا میں…..”
فیضان اپنے گال پر جہاں تھپڑ کا نشان ابھی تک نمایاں تھا اُس پر ہاتھ رکھتا ہوا آنکھوں میں آگ لیئے بولا اور وہاں سے چلا گیا
“بیٹا طارق مجھے لان میں لے چلو تھوڑی دیر…..”
زرمینا بیگم نے طارق سے کہا اور وہ ان کو لان میں چھوڑتا ہوا پِھر سے اپنے کمرے میں چلا آیا _______________
.
“جلدی کچھ لوگوں کو بهیجو مجھے آگ لگوانی ہے اِس حویلی میں…..”
فیضان نے اپنے خاص بندے کو فون ملاتے ہوئے کہا______
.
.
.
اور تھوڑی ہی دیر میں پوری حویلی آگ میں جل رہی تھی ازلان اور عظمہ جیسے ہی آئے یہ خوفناق منظر دیکھ کر وہی دنگ رہ گئے ہر طرف آگ لگی ہوئی تھی آگ نے پوری حویلی کو اپنی لپٹ میں لے لیا تھا عظمہ رو رَو کر چلانے لگی اور اپنے بال نوچنے لگی اسکی تو پوری دنیا لٹ گئی تهی اور کبھی طارق کبھی عمیر تو کبھی ثناء کو پُکار رہی تھی وہ اپنے حواس بالکل کھو چکی تھی ازلان کی آنكھوں میں آنسوں کی برسات جاری تھی پر چہرہ بنا تاثر کے تھا،
وہ لال ہوتی آنکھوں سے اس بھیانک منظر کو دیکھ رہا تھا بہت سارے لوگ وہاں جمع تھے جو آگ بجهانے کی کوشش کر رہے تھے ایک عجیب خوفناک سی ہلچل مچی ہوئی تھی…. وہ اس جلتی ہوئی آگ میں اس جلتی ہوئی حویلی میں اپنا بچپن دیکھنے لگا…..
“بھائی گندے …..” ثناء کی ناراضگی بھری آواز
“یار ازلان مجھے آؤٹ کروگے تو تمہاری باری آئیگی نا….” عمیر کی آواز اُس کے کانو میں گونجی
“میرے شیر مجھے پتہ ہے تم کرلوگے…..””
ایک پر جوش آواز اُس کے جان سے پیارے باپ کی اُس کے کانو میں گونجنے لگی تو وہ اس آگ کی پرواہ کیئے بغیر اس شعلے برساتی حویلی میں گھس گیا…
وہ کہیں سے اس وقت آٹهہ سال کا بچہ نہیں لگ رہا تها اسکا تو بچپن اس حویلی کے ساتهہ جل گیا…
عظمہ اسکو پُکارتی رہ گئی اسکو لگا اسنے ازلان کو بھی کھو دیا عظمہ اُس کے پیچھے جانے کو اٹهی پر اسکی ہمت جواب دے گئی وہ وہیں گر گئی وه اب اٹهنے کا اختیار نہیں رکهہ پائی اور چلانے لگی
ازلان آگ سے بچتا بچاتا لاؤنج کی طرف بڑھا جہاں عمیر اور ثناء کے وجود پہچاننے میں نہیں آرہے تھے وہ آنکھیں میچ گیا اور طارق کے روم میں جانے والا ہی تھا کی پیچھے سے کسی نے اسکو پکڑ کر باہر کی طرف لایا وہ زرمینا بیگم تھی جو لان میں رہنے کی وجہ سے بچ گئیں…..
ازلان نے اپنی دادی کو سہی سالامت دیکھا تو انکے گلے لگ گیا اور روتا ہوا بولا
“دادی یہ کیا ہو گیا ؟ کس نے کیا یہ سب ؟……..”
“یہ لو چابی تمھارے بابا کے لاکر کی ہے ان میں جائِداد کے کاغذات موجود ہیں ان کو ابھی کے ابھی بینک جاکر اپنے ساتھ لیکر یہ شہر چهوڑ کر اپنی ماں کو لے کر یہاں سے نکل جاؤ ورنہ فیضان تم دونوں کو بھی ماردے گا یہ سب اسی کا کیا دهرا ہے اور یہ کچھ پیسے رکھو اپنے پاس اور تب تک فیضان کے سامنے مت آنا جب تک تم یہ نہ سمجھو کے تمھارے پاس اتنی طاقت ہے کہ وہ تمھارا کچھ نا بگاڑ سکے…..”
زارمینا بیگم نے ساڑهی کے پلو سے کچھ پیسے اور چابیاں ازلان کو دے کر جلدی سے اسکو ہدایت دی اور خود ازلان کو لے کر باہر آئی جہاں عظمہ نیچی پڑی ہوئی سسک رہی تھی
“نکل جاؤ بہو یہاں سے جلدی کرو اور ازلان فیضان کو سزا دلانا اب صرف تمھارے ہاتھ میں ہے….”
وہ عظمہ کو اُٹھاتی ہوئیں ازلان کا ہاتھ پکڑتی ہوئیں بولیں
اور ازلان ہاں میں سر ہلا کر عظمی کو لیئے وہاں سے نکل گیا______________________________________
.
.
زرمینا بیگم کو پڑوسیوں نے اپنے گھر میں رکهوا لیا
اور ازلان عظمہ کو لیئے بھاگتا ہوا کوئی جگہ تلاش کرنے لگا وہ نہیں چاہتا تھا کہ کسی جاننے والے کے پاس رکے کیوں کہ کبھی بھی فیضان کو اِس بات کا علم ہو سکتا ہے یہ حادثہ ایک چھوٹے سے بچے کا ذہن پکا کرنے کے لیئے کافی تھا وہ اپنی عمر سے زیادہ بڑا لگا آج عظمہ کو، ازلان جانتا تھا کہ اب جو بھی کرنا ہے اسکو ہی کرنا ہے
اسکو ایک چهوٹی سی جگی نظر آئی تو اسکو دیکھتا ہوا اسکی طرف بڑنے لگا عظمہ جس نے چادر سے اپنا چہرہ ڈھکا ہوا تھا بڑی سی چادر لی ہوئی تھی جو وہ باہر جانے سے پہلے ہمیشہ لیا کرتی تھی طارق کے کہنے پر …. اب عظمہ کے پیروں نے دَرْد کرنا شروع کر دیا تھا
جگی بلکل خالی تھی ازلان اسکو وہاں چهوڑ کر جانے لگا تو عظمہ بولی
“ازلان کہاں جا رہے ہو تم اکیلے ؟ مت جاؤ بیٹھ جاؤ یہاں….””
عظمہ پھولی ہوئی سانس کے ساتھ بولی آنکھیں اسکی ابھی بھی نم تھیں
“امی بس ایک کام کر کے آیا … بیس منٹ لگینگے آپ فکر نہ کرین میں اجاؤنگا….”
وہ عظمہ کو تسلی دیتا وہاں سے چلا گیا اور عظمہ اسکو پُکارتی رہ گئی پر ازلان نے ایک نہ سنی کیوں کہ اسکو پتہ تھا یہ کام ہر حَال میں کرنا ہے
وہ جلدی سے بینک گیا جو اسنے دیکھی ہوئی تھی وہ اکثر طارق کے ساتھ یہاں آیا کرتا تھا تو بینک والے اسے پہچان گئے وہ ان کو پوری بات تریقے سے بتاتا چلا گیا اور زرمینا بیگم نے بهی کال کر کے بینک مین کہہ دیا تها.. تو کچھ کاروائیوں کے بعد وہ انکے لاکر سے ساری چیزین ایک تھیلے میں لیئے چلا گیا اور عظمہ کے پاس پهونچا___________
.
.
آگ بجھ گئی تھی اور حویلی اب پہچاننے میں نہیں آ رہی تھی فیضان وہاں کھڑا اپنی جیت کی خوشی منا رہا تھا وہ حویلی میں پھونچا تو ادھر ادھر دیکھا کئی ملازم اور لوگوں کی جلی هوئی ڈیڈ باڈیز کو اٹھایا جا رہا تھا اور وہ پہچاننے میں نہیں ارہے تھے کہ کون سی باڈی کس کی ہے وہ طارق کے کمرے میں گیا تو وہاں اسکو کوئی لاش نظر نہیں آئی شاید لاش اٹھائی جا چکی تھی وہ کمرہ پوری طرح جلا ہوا تها اسنے جلی ہوئی لکڑی کی الماری دیکهی جو پوری طرح سے جل چکی تهی اور اندر کا سامان بهی..
اسنے اندازہ لگایا کہ سارے جائیداد کے پیپرز بهی جل چکے ہونگے، چہرے پر مسکراہٹ پهیلی..
فیضان نے بینک فون گھمایا اور طارق کے متعلق پوچھا کہ ان کے کوئی پیپرز وہاں موجود ہیں تو بینک والوں نے نا کر دیا کیوں کہ جب ازلان پیپرز لینے آیا تھا انہوں نے زرمینا بیگم سے کنفرم کرنے کے لیئے فون گھمایا تھا اور زرمینا بیگم نے کسی کو بھی کچھ بتانے سے ان کو منع کر دیا تھا
فیضان نے اب سکون کا سانس لیا ک¥ سب ثبوت جل گئے ہیں..
“دیکھا طارق کیسے برباد کر دیا میں نے تمہیں نا تم رہے نا تمہارا کوئی وارث…..
“چلو اچھا ہوا اپنے تین بچوں اور بِیوِی کے ساتھ تم بھی اللہ کو پیارے ہوگئے ……”
فیضان اب خباثت سے ہنستے ہوئے خود سے ہم كلام تھا
اور ازلان جو کے حویلی کا آخری بار رخ کرنے آیا تھا دروازے سے جھانکتا ہوا آنكھوں میں نَفرت لیئے دیکهتا رہا اور فیضان کی باتین سن کر اسکے دل مین نفرت کی آگ بهڑکنا شروع هوگئی…_________________________________
.
.
بعد میں فیضان باہر گیا تو اسکو معلوم ہوا کہ زرمینہ بیگم زندہ ہیں اور پڑوسیوں کے گھر پر موجود ہیں اسکو اب فکر ستانے لگ گئی کے کہین وہ کسی کو بتا نا دیں وہ جلدی سے انکے پاس گیا
وہ ایک چیئر پہ بیٹھی رَو رہیں تھی اپنوں کا ماتم منا رہی تھی اور فیضان اپنی آنكھوں میں جھوٹ موٹ کے آنسوں لیئے انکی طرف بڑھا
“اماں یہ کیا ہو گیا ؟ حویلی میں آگ کیسے لگی….””
وہ نیچے اُن کے گھٹنوں پر ہاتھ رکھتا ہوا بولا تو زرمینا بیگم نے جھٹ سے اُس کے ہاتھ ھٹائے اور غصے سے بولنے لگیں
“کمینے انسان مجھے اپنے اِس غلیظ منہ سے اماں مت بول ، ذرا سی شرام نہیں تمہیں ؟ ماں سے جھوٹ بولتا ہے میں جانتی ہوں یہ سب تم نے کیا ہے اور تمہیں میں سزا دلا کے رہونگی اور چلا جا یہاں سے ، ایک ماں کی بددعا ہے کہ تو کبھی خوش نہیں رہیگا تجھے سکوں کہیں بھی میسر نہیں ہوگا….””
زرمینا بیگم کی آنکھوں میں ایک بار پِھر برسات جاری ہو چکی تھی
“اما یہ آپ کیا کہہ رہی ہیں میں نے کچھ نہیں کیا میں کیوں کرونگا اپنے بھائی کے ساتھ ایسا…..””
فیضان نے کمال کی اداکاری کرتے ہوئے کها
“دفعہ ہوجا میری نظروں سے….””
زرمینا بیگم اب مزید اسکی شکل نہیں دیکهنا چاہتی تھیں
“اچھا آپ چلیں تو میرے گھر میرے ساتھ….””
وہ اٹهنے لگا اور زرمینا بیگم کو بھی اٹھانے لگا تو انہوں نے ہاتھ کے اشارے سے اسکو روکا
“چلا جا یہاں سے اور رہ لونگی میں کہیں بھی، سو لونگی سڑکوں پر …. پر تیرے ساتھ میں نہیں جائونگی چلا جا….”
وہ چلانی لگی تو فیضان چلا گیا کہیں گھر میں موجود کوئی فرد سن نا لے اور اب ساری جائِیداد اور ملکیت فیضان نے اپنے نام کروادی کیوں کہ اب صرف وہ ہی ایک وارث رہ گیا تھا…..
پِھر کئی دنوں بعد اسکو اسپتال سے فون آیا کہ زرمینا بیگم کی طبیعت خراب ہو چکی ہے تو غزل اور فیضان وہاں پهونچے اور ان کو اپنے ساتھ لندن لے گئے
زرمینا بیگم نے پاکستان جانے کی بہت ضد کی پر غزل نے ان کو روک رکھا تھا اور غزل کی کئی منتوں اور منانے پر وہ بددلی سے یہاں رک گئی اور ایک شرط رکھی کے پاکستان میں ہی رہینگے تو غزل نے فیضان کو سمجھا کر اسکو منا لیا تھا فیضان کو بھی بھلائی اسی میں نظر آئی کے کہیں زرمینا بیگم ضد میں کچھ بول نا دیں اور اسنے اسلام آباد میں گھر کا کام شروع کروا دیا تھا
فیضان نے گھر آکر سب کو یہی کہانی سنائی کہ وہ جیسے ہی حویلی گیا حویلی میں آگ لگی ہوئی تھی اور یہ ایک حادثہ ہے جو کے کسی الیکٹرک چیز کے پھٹنے کی وجہ سے ہوا ہے اور دادی لان میں رہنے سے بچ گئیں …
اور دادی نے بھی غزل کو ابھی تک کچھ بھی بتانا مناسب نہ سمجها تها وہ نہیں چاہتی تھیں کہ غزل کا بهی گھر خراب ہوجائے …
اور دو سال بعد گھر کا کام پورا ہو چکا تھا تو وہ سب ہمیشہ کے لیئے اسلام آباد شفٹ ہوگئے__________________
.
.
اور وہاں عظمہ نے کرائے پر ایک چھوٹا سا مکان لے لیا تها اور فیکٹری میں بهی کام کرنے لگی شام کو بچوں کو ٹیوشنز دینے لگی اسی طرح وہ گھر چلاتی اور ازلان کی پڑھائی بھی مکمل کرواتی رہیں
نو سالا ازلان اسکول کہ بعد لوٹتا تو عظمہ کو بنا بتائے مزدوری کرنے لگتا وہ اپنا بچپن بالکل گنوا بیٹھا تھا اس میں کوئی بھی بچوں والی ادا یا حرکت باقی نہیں رہی تھی ، اسنے تین سال لگاتار یہی کیا اور جب عظمہ کو پتہ لگا تو وہ بہت غصہ ہوئی اور اسکو یہ کام کرنے سے سخت منع کر دیا پِھر بھی وہ ہار نا مانتا عظمہ سے ضد کر کے ایک دکاندار کے ساتھ مل کر اُس کے ساتھ کام کرنے لگا_ اسنے انٹر تک ایسا ہی کیا اور پهر یونیورسٹی میں ایڈمیشن ہونے کی وجہ سے وہ کوئی کام نا کر پاتا اپنی اسٹیڈیز میں بزی رہتا راہا____
“حال”
غزل کمرے میں بیٹھی ہوئے ایک تصویر تھامے اسکو دیکھ رہی تھی
کمرے میں نائٹ بلب جل رہے تھے جنهوں نے رات کے اِس پہر کمرے میں ہلکی نارنجی روشنی پھیلا رکھی تھی کھڑکی سے ہوا اڑ کر غزل کے چہرے کو چهو رہی تھی جسکی وجہ سے اُس کے بال ہلکے سے اڑ رہے تھے اسکی آنکھیں نم ہوئی رکھی تھیں
وہ اس تصویر پہ اپنی انگلیاں چلانے لگی جس میں اسکی بہن عظمہ نکاح کے جوڑے میں طارق کے ساتھ بیٹھی ہوئی تھی
“کیوں چلی گئی تم آپی مجھے یوں اچانک چوڑ کر…. مجھے معاف کرنا آپی تمھارے جیتے جی میں تم سے ملنے تک نا آ سکی…..”
غزل کو یہی علم تھا ک9 اسکی بہن مرگئی ہے جو کہ فیضان نے اسکو یہی بتایا تھا
اسی دوران فیضان کمرے میں داخل ہوا اور غزل کو یوں روتا ہوا دیکھ کر اُس کے پاس بیڈ پر بیٹھ گیا
غزل نے آنکھیں پونچھ کر اسکو ایک نظر دیکھا اور واپس اپنی نظریں اس تصویر پہ مرکوز کرلیں
“کیا ہوا غزل ایسے کیوں رَو رہی ہو ؟…….”
فیضان اُس کے ھاتھہ اپنے ھاتھوں میں لیتا بولا
“مجھ سے دور ہٹو فیضان….””
وہ اپنے ہاتھ اُس کے ھاتھوں سے نکالتی ہوئی بولی
“آخر خود کو مجھ سے دور رکھ کر کب تک مجهے سزا دیتی رہوگی تم ؟……”
فیضان کے لہجے میں بے بسی نمایاں تهی
“جب تک میں مر نہیں جاتی تب تک تمہیں اِس سزا میں قید رکهونگی…..””
وہ تصویر سائڈ ٹیبل پر رکھتی ہوئی یکدم اٹھی اور اسکے پیر مین موچ آئی
“آہ___”” وہ کراہی اور واپس بیڈ پر بیٹھ گئی
“کیا ہوا تمہیں غزل…..””
فیضان جلدی سے اٹھ کر گھٹنوں کے بل بیٹھے اُس کے پیر کو ہاتھ لگانے والا ہی تھا کے غزل نے یکدم اسکا ہاتھ پیچھے کیا اور بولی
“ہلکی سی موچ ہے اور تم ہٹو یہاں سے…..””
“دیکھنے دو مجھے غزل….””
فیضان اسکی نا سنتا ہوا اسکا پیر پکڑ کر دیکھنے لگا اور سائڈ ٹیبل کی دراز کھول کر اس میں سے بام نکال کر اسکو لگانے لگا
غزل اسکو دیکھتی رہی آج فیضان بالکل اسکو بہت پہلے والا فیضان لگا جب وہ اسی طرح اُس کے ہاتھ پر ٹیوب لگا رہا تھا عظمہ کی شادی والے دن
وہ ہی فکرمند آنکھیں جن پہ اب گلاسس چڑھ چکے تھے ، وہ سختی سے بینچے ہوئے لب جن کے اوپر اب سفید کالی موچهیں آ چکی تھیں…..
وہ اسکو دیکھتی رہی اور اچانک اسکو وہ دن یاد آگئے جب وہ اُس سے لندن لے گیا تھا اور عظمہ سے ملنے نہیں دیتا تھا غزل نے یکدم اپنا پاؤں بیڈ پر رکھا اور لحاف اپنے اوپر کهینچا
فیضان پِھر بیڈ پہ بیٹھا اور بولا
“معاف کر بھی دو اب غزل_ بھول جاؤ پرانی باتیں….”
وہ گهیرا سانس خارج کرتا ہوا بولا
“بھول جاؤں ؟ بھول جاؤں کہ تم نے مجھے میری بہن سے دور رکھا ؟ بھول جاؤن کہ تم نے مجھ سے شادی صرف اپنی لالچ میں کی تھی ؟ بھول جاؤن کہ مجھے میرے ماں باپ کا آخری بار چہرہ بھی نہیں دیکھنے دیا ؟ بھول جاؤن وہ تنہا راتیں جب اس انجان ملک میں گھر پر اکیلی بیٹھی ڈر رہی ہوتی تھی اور تم ساری رات عیاشی کر کہ صبح کو گھر لوٹتے تھے ؟ اور کیسے بھول جاؤن کے تم نے کبھی میرے ساتھ بیویوں جیسا سلوک نہیں کیا ویسی عزت تم نے مجھے کبھی نہیں دی…….
نہیں بھول سکتی میں یہ سب میر فیضان کبھی نہیں بھول سکتی…..””
غزل کے ہونٹوں پہ شکوہ تھی اور آنكھوں میں نمی اسنے فیضان کو اپنی ہر غلطی یاد دلا ڈالی تھی
“میں مانتا ہوں میں نے تمھارے ساتھ بہت غلط کیا ہے… . پر میں نے سب بیوقوفی میں کیا تھا جس کا اب مجھے احساس ہے… جس پر اب مجهے ندامت ہے اور میں نے تمہیں تمہاری بہن سے ملنے کو منع کیا وہ بھی صرف طارق کی وجہ سے…. مانا کہ میں نے تم سے شادی لالچ میں کی پر تم مجھے پہلے دن ہی پسند آئی تھی جب میں نے تمہیں منگنی پر دیکھا تھا اور شادی کے بعد میں نے اوارہ گردیاں بھی کی
… میری ہوس نے مجھ سے یہ سب کروایا پر اللہ گواہ ہے مجھے محبت تمہارے بعد تمھارے سوا کسی اور سے نہیں ہوئی اور اب جب میں سب ٹھیک کرنے کی کوشش کر رہا ہوں تو کیوں تم مجھ سے منہ موڑے بیٹهی ہو غزل ؟ محبت تو تم بھی مجھ سے کرتی ہو نا پِھر کیوں سزا دے رہی ہو خود کو بھی اور مجھے بھی…..””
فیضان نے اپنی ہر غلطی مان کر اسکی وضاحت بھی دے دی اور نم آنكھوں سے غزل کی نم ہوتی آنكھوں کو دیکھتے ہوئے جواب کا منتظر تھا ….
دونوں کی آنكھوں میں شکوے تھے دونوں کی آنکھیں برس رہی تھی ایک کی آنكھوں میں بے بسی تھی تو دوسرے کی آنكھوں میں سب کچھ ٹھیک ہونے کی امید_
“نہیں فیضان، نہیں ہے اب مجھے تم سے محبت …”
غزل روتے ہوئے سَر نفی میں ہلا کر کہنے لگی
“فیضان تمہیں پتہ ہے عورت جب محبت کرتی ہے تو اسکی محبت سے کوئی جیت نہیں سکتا دُنیا کی کوئی چیز اس محبت کو ہارا نہیں سکتی سوائے ایک چیز کے جو عزت ہے جو کے تم نے مجھے کبھی نہیں دی اور مجهے تمهاری محبت مین سکون کبهی حاصل ہی نہیں ہوا.. میں اپنے دِل میں تمہاری محبت کو مارتی رہی ، تمہیں پتہ ہے جب محبت نے دم توڑ لیا تو مجھے سکون سا آگیا تھا مجھے میری طاقت میری اولاد مل گئی تھی اور ہاں شاید تم ٹھیک کہہ رہے ہو سب کچھ ابھی بھی ٹھیک ہو سکتا ہے اور شاید تمہیں احساس بھی ہو پر میر فیضان حسن جب مجھے تمھاری سب سے زیادہ ضرورت تھی تب تم میری پاس نہیں تھے اور اب … اب تو مجھے تمہاری ضرورت بالکل نہیں رہی اور جہاں تک تمہارے احساس کی بات ہے تو تمہیں احساس ہوتے ہوتے بہت دیر لگ گئی … کیوں کہ اب میرے احساس تمہارے لیئے مر چکے ہیں…..””
اب کی بار غزل کی آنكھوں میں نمی ضرور تھی پر لہجہ مضبوط تھا
“غزل ایسا نہیں کرو پلیز ، تم جو کہوگی وہ میں کرونگا پر خدا کے واسطے ہماری محبت کا اختتام اِس طرح مت ہونے دو غزل….”
فیضان اب اپنا ضبط کھو چکا تھا اور باقاعدہ روتے ہوئے اُس کے اگے محبت کی بھیک مانگنے لگا تھا
“فیضان اِس محبت کا انجام یہ ہی ہونا تھا…..””
غزل اب روتے ہوئے سسکیاں لی رہی تھی کیوں کہ اسنے اپنی انا کی خاطر ایک بار پِھر اپنی محبت کا گلا گھونٹا تھا
فیضان ایک دم سے غصے میں اٹھا اور پانی سے بھرا جگ تیش میں آکر زمین پر توڑ ڈاَلا اور لمبی لمبی سانسیں لے کر اپنا رونا روک رہا تھا ، بیڈ کی دوسری سائڈ پر جاکر لیٹ گیا غزل اب آنکھیں میچ گئی اور آنسوں قطروں کی صورت اسکی ٹھوڑی سے جاکر گردن کا سیر کرنے لگے
وہ دونوں ہی ایک بار پِھر اپنی ناقام محبت کا ماتم منا رہے تھے
کیوں کہ وقت اب بہت آگے کو چلا گیا تھا اور سب کچھ سدهارنے کے موقعے بھی بہت پیچھے کو ہی رہ گئے تھے اب تو صرف پچھتاوے اور شکوے رہ گئے تھے جن کے سہارے ان دونوں کو اپنا بچہ ہوا سفر کاٹنا تھا …
کیوں کہ وقت بہت بے رحم ہوتا ہے اور یہ ہر بار موقع نہیں دیتا_
سب کو وقت کے آگے جھکنا ہی پڑتا ہے اور غزل نے بھی وقت اور انا کے آگے اپنی محبت کو جھکا کر اسکا سَر قلم کروا لیاتھا___________________________
ایک وقت تھا محبتوں کا
جس میں سفر کٹ رہا تھا دونوں راحیون کا
یوں تو کہا کرتے تھے وہ کے حاصل ہیں تمہارے
اب پتہ نہیں کیوں اجنبی سے لگتے ہیں ہمارے
وعدہ تو تھا کہ توڑ لائینگے یہ چمکتے تارے
پر اس ناداں کو کیا پتہ کے یہ آسْمان کے ہیں سارے
رہ گیا اب تو بس ہجر صرف محبتوں کا
ہم نے بھی اب جی لی اور مکمل کر لیا سفر زندگی کا …. !!!____________________________________
جاری ہے
