Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Mujhy Ishq Tera Le Doba by Yusra Shah Episode32

Mujhy Ishq Tera Le Doba by Yusra Shah Episode32

ازلان نیچے کهڑا ولیمے کی تیاریاں کروا رہا تها…. آج دونوں کا ولیمہ تها جو کہ لان میں ہی رکها گیا تها… آفرین ٹیرس پہ کہڑی، چائے کا کپ پکڑے نیچے ازلان کو ہی دیکهہ رہی تهی… موسم آج کافی حسین تها… نیلے آسمان پر بادل چهائے ہوئے تهے… سردی کچهہ زیادہ تهی… اور بادل ایسے کہ بارش برسانے کی علامتیں دے رہے تهے….
سفید شلوار قمیض پہنے، بال بکهرے ہوئے، چہرا خفا خفا….. آفرین کو اب ازلان اتنا برا نہیں لگتا تها اور نہ ہی غنڈا ٹائیپ….
اب ازلان کرسی پہ بیٹها ہوا سب کچهہ دیکهہ رہا تها.. جہاں سب کام میں لگے ہوئے تهے…
وہ بالکل ٹیرس کی ریلنگ کے نیچهے تها…
آفرین کو کچهہ شرارت سوجهی تو وہ کمرے میں جاکر ایک پانی سے بهرا گلاس لے آئی….
اور پانی ازلان پہ گرایا….
وہ جو مصروف سا بیٹها تها اپنے اوپر پانی گرنے سے یکدم بوکهلا کر اٹهہ بیٹها….
اور اوپر ٹیرس کی طرف دیکها جہاں آفرین انجان بننے کی کوشش کرتے ہوئے آسمان کو دیکهہ رہی تهی.. اور بڑے مزے سے چائے پی رہی تهی…
“تمہارا ہر وقت مجهے تنگ کرنا ضروری ہے ؟؟؟…..””””
ازلان کی غصے بهری آواز سن کر آفرین نے نیچهے دیکها جہاں ازلان کے کندهے بهیگے ہوئے تهے…
“اوو سوری نیچے تم تهے کیا.. مجهے پتا نہیں تها……”””
آفرین نے کمال کی اداکاری کرتے ہوئے مسکرا کر کہا
“ہاں، تم تو اوپر سے بیٹهہ کر نیچے پهولوں کو پانی دے رہی تهی نہ……””””
ازلان اور خفا ہوا
“کہہ تو رہی ہوں مجهے پتہ نہیں تها….”””
آفرین شانے اچکائے بولی…
“پتہ نہین تها…. پاگل کسی اور کو بناؤ تم…..”””
وہ اسکی نقل اتارتا ہوا بولا…
آفرین مسکرادی
“ایک تو پہلا ایسا دولہہ ہوں جو اپنے ولیمے کی خود ہی تیاریام کروا رہا ہوں…اور اوپر سے تم….. جو ہر وقت مجهے تنگ کرنے کے موقعے ڈهونڈتی ہو……”””
وہ واقعی زچ ہو چکا تها
اور غصہ ہوتے ہوئے پهر سے کام میں لگ گیا…
“اسکو کیا ہوگیا…. اور ویسے یہی کام کرنا چاہیئے اسکو.. زیادہ سوٹ کر رہا رہا ہے اس پر…..”””
آفرین خود سے بولتی ہوئی پهر سے سب دیکهنے میں مصروف ہوگئی…… اسکو ازلان کا خفگی سے کام کرنا مزہ دے رہا تها….
__________________________________________
حفسہ آئینے کے سامنے کھڑی تیار ہو رہی تھی اور الگ الگ جهمکے اٹھائے دیکھ رہی تھی کہ کون سا جنچ رہا ہے …. فھیم جو کہ اُس کے تیار ہونے کا انتظار کر رہا تھا بیڈ پہ بیٹھا اسکی ہر حرکت کوفت سے دیکھے جا رہا تھا…..
حفسہ نے جامنی رنگ کا فروک اور چوڑی پجامہ پہنا ہوا تھا ، ہلکا سا میک اپ کھلے ہوئے بال… فھیم کو وہ سجی دہجی بہت پسند آئی… پر اسکی دیر اسکو اکتا گئی
فھیم نے اسکن رنگ کا فل سوٹ زیب تن ہوا تھا….
وہ دونوں آفرین اور ازلان کے ولیمے میں جانے کی تیاری کر رہے تھے
“یار تم عورتوں کو تیار ہونے میں اتنا وقت کیوں لگتا ہے آخر ؟ ؟ ……”””””
فھیم نے آخر اکتا کر بول ہی دیا
“اتنا وقت تو نہیں لگتا خیر……””””
حفسہ اپنے کام میں مصروف ہی بولی
“یہ اتنا وقت نہیں ہے تو کیا ہے ؟ ایک گھنٹا ہونے کو ہے تمہیں ….امی ابو بھی چلے گئے ہیں اور تمھاری تیاری ہے کہ پوری ہی نہیں ہو رہی……”””
فھیم اُس کے پیچھے کھڑا اکتاہٹ سے بولا
“آپ غصہ کیوں ہوتے ہیں بات بات پہ ؟ تیار تو ہوگئی ہوں بس کوئی جهمکے نہیں مل رہے …….”””
حفسہ کو اُس کے غصہ کرنے پر غصہ آیا…
“اتنے جهمکے تو پڑے ہیں تمھارے پاس تمہیں کوئی پسند نہیں آراہا …. یہ دیکھو ان میں کیا خرابی ہے ؟…….”””
فھیم ڈریسنگ ٹیبل پہ پڑے اُس کے کئی سارے جهمکوں کو دیکھتا ہوا بولا اور ایک جوڑی اُس کے سامنے لہرا كہ پوچھا….
“یہ بہت بڑے ہیں…..”””
حفسہ برا سا منہ بنائے بولی . . .
“اچها…. پِھر یہ پہن لو…..”””
فھیم نے ایک اور جهمکے اٹھا کے اسکو دکھائے
“یہ بہت چھوٹے ہیں… نظر ہی نہیں آئینگے…..””””
فھیم کو اب غصہ آنے لگا…
“بڑے بھی نا ہوں چھوٹے بھی نا ہو ….. تمہیں آخر پہننا کیا ہے ؟…….””””
“کوئی اچھے لگے تو پہنو نا ایسے ہی چلی جاؤں کیا…..”””
حفسہ ناراض ہوتے ہوئے اپنا چشمہ پہنتی ہوئی بولی
“بریسلٹ کہاں ہے تمھارا ؟……””””
فھیم کی نظر اسکی کلائی پر پڑی جہان اسکا دیا ہوا بریسلیٹ نہیں تھا
“وہ وہ . . ہاں شاید واشروم میں ھوگا……”””
حفسہ گڑبڑاتی واشروم کی طرف بڑھی تو فھیم نے اسکا بازو پکڑا
“کہا تھا نا بریسلیٹ اتارنا مت … اگر میں نا دیکھتا تو تم تو اسکو واشروم میں رکھ کہ ہی چلی جاتی……””””
فھیم آنکھوں میں سنجیدگی لیئے اسکو دیکھتا ہوا بولا
“سوری……”””
حفسہ لاچار ہوئی
“سوری سے کیا ھونا ہے . . تمہاری خبر تو میں واپس آکر لونگا……””
فھیم اسکا بازو چھوڑتا ہوا بولا وہ واشروم کی طرف بھاگی اور اپنا بریسلیٹ پہن کر واپس آئی ….
“پانچ منٹ ہیں تمھارے پاس جو کرنا ہے کرو …. ورنہ میں گاڑی لے کر نکل جاؤنگا …. پِھر بیٹھی رہنا یہیں پر……”””
فھیم کمرے سے باہر جاتا ہوا بولا
“پِھر پوچهتے ہیں کہ میں ان کو جلاد کیوں بولتی ہوں…….”””
حفسہ اسکو چڑ کھاتی نظروں سے دیکھتی ہوئی بولی…………………………………………………………….
.
.
وہ دونوں سب سے مل کر سٹیج کی طرف بڑے جہاں آفرین اور ازلان ایک صوفے پہ بیٹھے تھے ….
آفرین پستائی رنگ کے پیروں تک آتے فروک میں ملبوس تھی جس پر سنهیرا کام مہارت سے کیا ہوا تھا بالوں کا جهوڑا اور ٹیکا…. میک اپ ہلکا رکھا گیا تھا وہ اس روپ میں نکهری ہوئی اور بہت خوبصورت لگ رہی تھی اور غزل سے باتوں میں مصروف تهی.
ازلان وائٹ فل سوٹ زیب تن کیئے چہرے پہ ہلکی سی مسکراہٹ لیئے بیٹھا تھا
گہرے سنهیری بال ہلکی بڑھی ہوئی شیو گلابی سے لب… بھوری آنکھوں میں پر پرکشش چمک…. اور سب سے بڑهہ کر اسکا دائیں گال کا ڈمپل م… وہ بہت دلنشین تھا … وہاں لڑکیاں تو آفرین پر رشک کرتی ہی رہ گئیں……
فھیم اور حفس آفرین اور ازلان سے ملے…. فھیم دوسرے صوفے پر جا بیٹھا تو حفسہ آفریں کے ساتھ بیٹھ گئی اور اس سے باتیں کرنی لگی….
“کتنا سَر کهپا رہی ہو آفریں کا کم نہیں بول سکتی تم ……””””
فھیم حفسہ کو دانٹتے ہوئے بولا جو کب سے آفرین اور غزل سے باتین کیئے جا رہی تهی
“بھائی تو کیا ہوا اتنے دنوں بَعْد تو ملے ہیں ہم…..””””
آفریں اپنی دوست کی سائیڈ لیتی ہوئی بولی
“دیکھو تو خوامخواہ بس رُعْب جھاڑتا رہتا ہے میری بہو پر…حفسہ بچے تم اسکی مت سنا کرو رُعْب کسی پہ نہیں چلتا تو تم پر چلا رہا ہے…….””””
غزل بھی اپنی بہو کے حق میں بول پڑی
“ہاں فھیم یار شرم کر اپنی بِیوِی پہ خوامخواہ کا رُعْب جهاڑنا بند کر……..”””
ازلان بھی موقع دیکھ کر میدان میں اُتَر آیا ….
“ہاں بیٹا تو بھی بول لے… اور توبہ ایک لفظ کیا بولا حفسہ کے لیئے ، میرے اپنے ہی پرائے ہوگئے… ساری فوج تیار ہوگئی… بس آج اپنوں نے بھی دکھ دے دیا……”””
فھیم افسوس سے بولتا گیا … بیچارے کو ایک جملے بولنے پر کتنے جملوں کا سامنا کرنا پڑا تھا…
“تمھارے ہم اپنے ہیں تو حفسہ کے بھی ہم سب اپنے ہی ہیں ……”””
غزل مسکراتی ہوئی بولی
“واہ میری بِیوِی نے تو سب کے دِل جیت لیئے …..پر مجھے اکیلا کر دیا……”””
فھیم حفسہ سے جل کر بولا
“سالے صاحب کیوں اپنی بِیوِی سے جل رہے ہو ……”””
ازلان اُس کے شانے پہ ہاتھ رکھتا ہوا بولا
“ازلان تمھارا حاَل بھی مجهہ سے زیادہ مختلف نہیں ہے ویسے، یہ بندریا تو تمہیں چین سے رہنے ہی نہیں دیتی ہوگی……”””
فھیم نے اب آفریں کو نشانہ بنایا …. اور افرین نے اسکو گهور کر دیکھا کہ ازلان کے سامنے اسکو بندریہ نا بولے ….
“بندریہ…. ؟ ؟ ؟…….””””
ازلان مسکراتا ہوا آفرین کو دیکھتے ہوئے بولا جس پہ آفرین تو تپ گئی . .
“ہاں لگتی ہے نا بندریہ جیسی ؟……..””””
فھیم نے مزید آگ لگانہ چاہی
“ہاں پر صرف ناک سے……..”””
ازلان شرارت سے اسکی ناک کو دیکھتا ہوا بولا
“خود کو دیکھا ہے.. بلکل اس بهورے بلے جیسے لگتے ہو جو ہمارے گهر آیا کرتا تها.. ہونہہہ بهورے بلے……””””
آفرین تپ کر بولی جس پر سب ہنسے اور ازلان حیرانگی سے آفریں کو دیکھے گیا … اس بیچارے کو کہاں عادت تھی ایسے عجیب سے لقب سننے کی……..
اسی دوران ایک دراز قد لڑکی چلتی ہوئی سٹیج پر آئی اور ازلان سے ہاتھ ملایا….
“سر یہ آپ کے لیئے… بہت مبرک ہو آپکو…..””””
اس لڑکی نے پھولوں کا بکے ازلان کی طرف
بڑھایا جس کو ازلان نے مسکراتے ہوئے تهاما اور تھینک یو بولا…. وہ لڑکی اب فہیم سے ملتے ہوئے آفرین کی طرف آئی
“ہیلو مسز ازلان……””””
اب وہ لڑکی آفرین سے ملی….
آفرین اسکو گهور کر دیکھے جا رہی تھی جو کہ ازلان سے اتنا فری ہوكر باتیں کر رہی تھی….
ازلان نے ساتھ بیٹھی حفسہ اور غزل کا تعارف اس سے کروایا …. باقی فھیم کو تو وہ جانتی ہی تھی…….
“آفرین یہ میری پرسنل سیکیٹری ہے تانیہ…..””””
آفریں اسکو دیکھ کر پھیکا سا مسکرا دی….
“سر آپکی وائف بہت خوبصورت ہے ماشاءاللہ… جیسا آپ بتایا کرتے تهے اس سے کئی زیادہ جوبصورت….””
تانیہ نے آفرین کی تعریف کی تو ازلان نے مسکرا کر کہا
“آخر بِیوِی کس کی ہے……””””
“ہاں ویسے یہ بھی ہے ….آپ کسی ہیرو سے کم ہیں کیا…..”””
تانیہ نے ازلان کی تعریف کی تو آفرین جو حفسہ کی باتوں سے زیادہ تانیہ کی باتوں پہ دھیان دے رہی تھی اسکو پتہ نہیں کیوں تھوڑا غصہ آیا… اسکو ازلان سے یوں باتیں کرتا دیکهہ کر
…..اسکو تانیہ بالکل اچھی نہیں لگی….
“آپ شادی شدہ ہو…..””””
آفرین بیچ مین بول پڑی… اور اسکی یہ بات سن کر ازلان فہیم اور تانیہ تینوں کے چہروں سے مسکراہٹ غائب ہوگئی….
تانیہ نے بس نفی مین سر ہلا دیا
“ویسے تانیہ اب آپکو کو بھی کوئی لائف پارٹنر ڈھونڈ لینا چاہیئے…. نہیں؟……”””
آفرین اسکو مشورہ دیتی ہوئی بولی
“آفرین….”
ازلان نے اسکو گهورا
“مین یہ خواہشیں اب رکهنا بهلا چکی ہوں….. ویسے میں تو کسی کو پسند ہی نہیں آتی پتہ نہیں کیوں، نہ ہی کوئی اپنانے کے لیئے تیار ہوتا ہے……”””
تانیہ کے لہجے میں دَرْد عیاں ہوا
“کیوں اچھی خاصی تو ہو تم…. ایسا کیوں بول رہی ہو…. تمھارے نصیب میں بھی اللہ نے کچھ بہتر لکھا ہوگا، کہتا ہوں نہ نا امید مت ہوا کرو…..””””
ازلان اسکو یوں دیکھ کر تسئلی دیتا بولا تو آفرین نے اسکو گھورا
“بڑی اچھی لگ رہی ہے اسکو یہ…. تعاریفیں کیسے کیئے جا رہا ہے….. ضرور کوئی چکر ہوگا اس کا اس کے ساتھ……” آفرین نے من ہی من ایک کہانی بنا ڈالی
ازلان نے اسکو خود کو گھورتا دیکھا تو سوالیا نظروں سے آفرین کو دیکھا … آفرین حفسہ کی طرف رخ کر کہ بیٹھ گئی….. ازلان کو نہیں سمجھ آیا کہ اسکا منہ کس لیئے اُتَر گیا ہے…..
تانیہ اب کچھ باتوں کے بَعْد وہاں سے اٹھ کر چلی گئی …
“بندریہ کو شاید تانیہ اچهی نہیں لگی…..”
فھیم نے اندازہ لگایا… وہ سمجهہ گیا کہ تانیہ کا ازلان سے بات کرنا اسکو پسند نہ آیا تها….
وہ حقیقت سے آشنا ہوتی تو کبهی ایسا نہ سوچتی…..
“ایسا کیوں ہوگا بھائی…….”””
آفرین زبردستی مسکراتے ہوئے بولی…..
“پتہ نہین شاید تمہیں جلن ہوئی ہو ازلان کو اُس کے ساتھ باتیں کرتا دیکھ کر… ہو تو بِیوِی ہی…..”””
فھیم نے آخری جملہ حفسہ کو دیکھ کر کہا…
“ہاں بہت پیار کرتی ہے مجھ سے .. شاید ہوئی ہو جلن…. سہہ نہین پاتی میرے سامنے کسی کو بس …. کیا بتاؤں تمہیں فھیم……””””””
ازلان نے موقعے پہ چونکا مارتے کہا…..
آفرین بوکهلا کر فھیم غزل حفسہ کو دیکھے گئی جو اسی کو دیکھ کر مسکرا رہے تھے
“کچھ زیادہ ہی بدتمیز نہیں ہوتے جا رہے تم………””””””
آفرین ازلان کے کان میں کهس پهسائی
“تم نے لقب دیا ہے بدتمیز کا اب اس لقب کی امیدوں پر پورا تو اتروں نا…..””””
ازلان مسکراتے بولا
“ڈھیٹ ہی رہنا تم….””””
آفرین کوفت سے بولی
اور ازلان جهنجهلا گیا ہر کسی کے منہ سے اپنا یہ لقب سنتے سنتے………..
سب جانے لگے….. پورا لان خالی ہو گیا صرف اب آفرین اور حفسہ کی فیملی ادھر موجود تھی
“آفرین بیٹا آج چلتی ہمارے ساتھ شادی کے بَعْد آئی ہی نہیں ہو …..کل حفسہ اور فھیم کا ولیما بھی ہے تو گھر رک جاؤ ایک دن…….””””
فیضان کو آفرین کی فکر تھی کچهہ دنوم سے کہ وہ خوش ہے بهی کہ نہین تو اسلیئے بول پڑا……
“یہ کل اجائیگی میں صبح میں چهوڑ دونگا اسکو … پِھر رہ لیجیئے گا اپنی بیٹی کے ساتھ سارا دن … ابھی نہیں جانے دے سکتا اسکو …….””””
آفرین نے کچھ بولنا چاہا تو ازلان نے بول دیا اور مسکراتے ہوئے بڑے پیار سے فیضان کو منع کردیا …..
“ہاں آج تھک گئے ہوں گے دونوں بچے اور آپی بھی…. تم کل آ جانا بیٹا……”””””
غزل حامی بهرتے ہوئے آفرین کو گلے لگاتی بولی ….
وہ سب چلے گئے تو ازلان عظمہ آفرین بھی اپنے اپنے کمروں مین چلے گئے…..
وہ اپنے کمرے میں آئے ازلان اپنا کوٹ اُتَار رہا تھا جب آفرین اپنا فراک سمبهالتی اسکی طرف آئی …
“کیوں نہیں جانے دیا مجھے گھر … اب تم مجھ پر پابندیاں بھی لگاوگے…….”””
آفرین اسکا کالر پکڑتی ہوئی بولی
ازلان کے چہرے پر اچانک غصے کی لہر دوڑی اور اُس کے ہاتھ اپنی ھاتھوں میں قوت سے جکڑتا نیچے کر گیا…..
“میری کالر تک دوبارہ جانے کی کوشش مت کرنا …. پہلی غلطیاں بھی بھلا نہیں ہوں میں…….””””
“میں کرونگی ایک بار نہیں بار بار کرونگی ….کیا کرلوگے تم…..””””
آفرین باز نا آتے ہوئے چلا کر بولی
ازلان نے اسکو بازو سے پکڑ کر گھمایا جس سے آفرین کی پشت ازلان کی طرف آگائی اور ازلان نے پیچھے سے ہی اُس کے ہاتھ جکڑے ہوئے تھے جو کہ.مڑنے سے دَرْد کر رہے تھے ….
“میں بہت کچھ کر سکتا ہوں….. لیکن لحاظ کر لیتا ہوں اور تم میرے صبر کا زیادہ امتحان نا لیا کرو..کچھ نہیں کہہ رہا تو اسکا مطلب یہ ہر گز نہیں کہ تم حد پار کرتی جاو……”””
ازلان اُس کے کان کے سامنے منہ کرتا بولا آفرین اپنا ہاتهہ چهڑوانے کی کوشش میں لگی ہوئی تهی
“زیادہ ہیرو بننے کی ضرورت نہیم ہے تمہیں…. تمھاری دهمکیوں سے میں ڈرنے والی نہیں ہوں……؟””
آفرین کی چوڑیاں ٹوٹ کر اسکے ہاتهہ میں چُبهہ رہی تھیں پر وہ انکی پرواہ کیئے بنا نڈر ہوتی بولی
“میں تمھارے سامنے ہی نرم پڑ جاتا ہوں کیوں کہ دِل پر راج ہے تمھارا …. ورنہ تم مجھے جانتی نہیں ہو ابهی……”””
ازلان اس کے ہاتهہ پر اور زور دیتا ہوا بولا
“ازلان چھوڑو مجھے……””””
آفرین کراہی
“کیوں…. اتنی ہی ہمت تھی تم میں ؟ ختم ہوگئی ہمت تمہاری…..”””
ازلان اسکو دلچسپ نظروں سے دیکھتا ہوا بولا
“مجھے دَرْد ہو رہا ہے ازلان……”””
آفرین کی آنکھوں میں اب آنسو آگئے. .
ازلان نے اُس کے ہاتھوں کو دیکھا جہان چوڑیاں چهبنے سے ہلکا سا خون رس رہا تھا اور اُس کے خود کے ہاتھ بھی ہلکے سے زخمی تھے جہان آفرین کی ہی چوڑیان چهبی تهیں….. .
ازلان نے اُس کے ھاتھوں پہ نظر ڈالی تو جھٹ سے اُس کے ہاتھ چهوڑ دیئے
“بدتمیز انسان ہو تم بہت … سہی ہی سوچ رکھتی ہوں میں تمھارے لیئے…..”””
آفرین پِھر سے اس پہ برس پڑی ….
جس پہ ازلان کو غصہ اگیا….
“تم سدهرنے والی چیز ہی نہیں ہو…….”””
ازلان یہ کہتے ہی بیڈ پہ بیٹھ گیا اور سگریٹ پینے لگا….
افریم اسکو گھورتی ہوئی واشروم جانے لگی جب اسکو ازلان کی آواز نے روکا
“کہاں جا رہی ہو ؟ ؟……..””””
“بھاڑ میں جا رہی ہوں چلو گے ؟ ؟ ؟…….”””
آفرین پیچھے مڑے اسکو دیکھتی ہوئی چلائی
“سیدھا جواب نہیں دے سکتی تم … اور خبردار جو آج رات یہ ڈریس چینج کیا تو……”””
ازلان چلتا ہوا اُس کے پاس کهڑا اسکی آنکھوں میں آنکھیں ڈالتا ہوا آفرین کو وارن کرنے لگا
“اچها……پر میں کرونگی چینج …….”””
آفرین یہ کہتے ہی واشروم کی جانب بڑنے لگی …. ازلان نے غصے میں آکر اسکا ہاتھ پکڑا اور کهینچنے کی وجہ سے آفرین کا توازن برقرار نا رہ سکا تو وہ زمین بوس ہوگئی. . اور ازلان کو گھورنے لگی…
ازلان اسکو سنجیدہ نظرون سے دیکهے گیا اور اسی کے ساتھ نیچے زمین پہ بیٹھ گیا ….. آفرین اُس کے قریب بهیٹهنے سے پیچھے ہٹتی ہٹتی بیڈ سے جا لگی …. ازلان اُس کے اور قریب ہوتا ہوا زمین پہ رکهے اسکے هاتهہ پر اپنا هاتهہ رکهہ دیا… اور دوسرے سے اسکی آگے کی آتی لٹ کو انگلیوں سے چهوتا ہوا بولا
“میری بات مانتی کیوں نہیں ہو تم پیار سے… کیوں مجھے مجبور کرتی ہو کے کچھ غلط کروں……..”””
ازلان نے لہجہ اس بار دهیما رکها
کمرے میں صرف ایک لیمپ جل رہا تھا جس نے سنہیری سی روشنی پھیلا رکھی تھی کمرے میں …. اور باقی اندھیرا ہوا رکھا تھا …. شیشے کے ٹیرس کے دروازے سے چاند کی روشنی چہلک رہی تھی جو چاند ہر وقت انکی نزدیکیوں کا گواہ بنا ہوا تھا…..
اِس اندھیر کمرے میں بھی آفریں ازلان کی بھوری آنکھوں کی چمک صاف دیکھ سکتی تھی ….. ایسی چمک جو آفریں کو ان آنکھوں میں دیکھنے پر مجبور کر رہی تھی وہ اپنی کانچ سی آنکھوں سے ان چمکتی آنکھوں کو دیکھے جا رہی تھی اور ازلان کے ھاتھوں کا لمس اپنے چہرے پہ محسوس کرتے ہوئے آنکھوں بند کر گئی….
ازلان نے جواب نا پاکر اپنا ہاتھ اُس کے چہرے سا ہٹا دیا . .
“بولو نا خاموش کیوں ہو ؟ کیوں میری بات نہیں مانتی تم…..””””
ازلان نے اپنا سوال دوبارہ دوہرایا….
آفرین نے آنکھیں کھول کر سامنے بیٹھے شخص کو دیکھا جسکے سامنے وہ كمزور پڑتی جا رہی تھی ….
“ازلان ہٹو … میری کلائی میں جلن ہو رہی ہے….”
آفریں اسکا ہاتهہ اپنے ہاتهہ سے ہٹاتے ہوئے بولی جو کہ اسکے ہاتهہ کے اوپر ابهی بهی رکها ہوا تھا….پر وہ ہٹا نا سکی …وہ اسکو خود سے دور رکھنا چاہتی تھی وہ نہیں چاہتی تھی کے وہ اسکی کمزوری بن جائے ….
ازلان نے اسکا ہاتھ پکڑ کر دیکھا جہان کچھ کٹس لگ گئے تھے اور ہلکا سا خون رس رہا تھا …..
“اسلیئے کہتا ہوں کہ میری بات مان لیا کرو ورنہ تمہیں ہی تکلیف ہوتی رہیگی……””””
ازلان اپنی پینٹ کی جیب سے رومال نکالتا آفریں کی کلائی پر باندهتے ہوئے بولا تو آفرین کی بھی نظر اُس کی ہتھیلی پر گئی جہان اسکی چوڑیان ٹوٹنے سے ہلکے سے زخم اسکے ہاتهہ پر بهی لگے تھے . …..
“تمھارے ھاتھوں پر بھی چوٹیں ہیں….”””
آفرین بے ساختہ بولی . .
“میرا خیر ہے… تمہیں زیادہ تکلیف تو نہیں ہو رہی ؟ ؟…..”””
ازلان نے رومال باندھ کہ اسکی آنکھوں میں دیکھے سوال کیا….
“کیسا آدمی ہے …. خود کا ہاتھ زخمی ہے اور میری پٹی کر رہا ہے….. خود دَرْد برداشت کر رہا ہے پر میرے درد کی فکر ستائی ہوئی ہے ……”””
آفرین اسکو دیکھتے ہوئے من ہی من سوچنے لگی . .
“آج کل کچھ زیادہ ہی گهور رہی ہو مجھے… نوٹ کر رہا ہوں میں……””””
ازلان نے اسکو یوں دیکھا تو آبرو اچکا کر بولا
آفرین گڑبڑا گئی اور چہرہ دوسری طرف موڑ لیا…
“نا نہیں ہو رہی ہے تکلیف بس ٹھیک ہوں……”””
آفریں جلدی سے بولی ……
ازلان اسکو دیکھتا ہی گیا اسکو وہ گھبراتی ہوئی اچھی لگی …. جو گھبراہٹ سے اپنے لب کچل رہی تھی آنکھوں میں حیا تھی
اور وہ سجی ہوئی اِس روپ میں ازلان کو خود پر مزید دیوانہ کر گئی….
“بہت خوبصورت ہو تم……”””
ازلان نے اسکو دیکھتے ہوئے کہا
آفرین نے جھٹ سے اسکو دیکھا جو بت بنا اسی کو دیکھ رہا تھا وہ آنکھیں جھکا گئی….
“یہ آنکھیں جھکا کے رکھا کرو … میرا خود پر اختیار نہیں رہتا جب ان سرمئی آنکھوں کو دیکھتا ہوں تو…….””””
ازلان اسکی پلکو کو انگلیوں سے چھوتا ہوا بولا
آفرین کی پلکین لرز رہی تهیں… وہ لرز ازلان اپنی انگلی پر محسوس کر پا رہا تها….
آفرین نے اسکا ہاتهہ جهٹک ڈالا… اور اپنی آنکهیں بند کردیں…
“میرے قریب آنے سے تم آنکھیں بند کیوں کر لیتی ہو ؟ ؟……”””
“کیوں کہ تمھارے قریب رہنے سے میرے دِل میں کچھ عجیب سا ہونے لگتا ہے…..”””
آفرین آنکھیں کھولے بے اختیار بولی
“عجیب سا مطلب کیسا……..””””
ازلان پتلیان سکڑتا بولا
“مطلب لگتا ہے کے دِل کی دهڑکنیں بے ترتیب ہوگئی ہیں…… اور سانس تک لینا مشکل ہوجاتا ہے…..”””
آفرین خفگی سے اسکو دیکھتے ہوئے بولی
“واقعی ایسا ہوتا ہے ؟ ؟ اوہ نو مجھے خطرے کی گھنٹی سنائی دے رہی ہے…یہ وہ ہی خدشات ہیں…”””
ازلان پریشانی کی ایکٹنگ کرتا ہونٹوں کو سیٹی کی شکال دیتا …. ان پہ انگلی رکھتا ہوا بولا
“خطرہ ؟ ؟ کیسا خطرہ ، اور کیسے خدشات؟ ؟ ؟ ……”””
آفرین پریشان ہوئی
“یہ سب تو ایک بری سی بیماری کے سیمپٹمس (symptoms) ہیں……”””
ازلان اسکو ڈراتا ہوا بولا جس میں وہ کامیاب ہو گیا ….. آفرین کے چہرے پر ڈر کے رنگ ظاہر ہوئے …
“بیماری ہے مجھے کوئی ؟ کیسی بیماری ہے بتاؤ جلدی ازلان ؟ ؟………””””
وہ گهبراتی ہوئی بولی
“عشق کی بیماری …جو کہ ہونے کے سیمپٹمس ظاہر ہوگئے ہیں… بس آفریں تمہیں میر ازلان سے محبت ہو رہی ہے…..”””
ازلان مسکراتا ہوا بولا
“پہلے کہتے ہو عشق کی بیماری ہے پِھر کہتے ہو کے محبت ہو رہی ہے…. پہلے ڈیسائیڈ کر لو کہ عشق کی بیماری یا محبت کی …. “
آفرین اسکی بات پہ ہی الجھی ہوئی تھی
“میرے مطابق…عشق کی پہلی سیڑہی محبت ہوتی ہے …. تمہیں پہلے مجھ سے محبت ہوگی ….. پِھر میری دوری میں تمہیں مجھ سے عشق ہوجائیگا……”””
ازلان اُس کے فراک کی ڈیزائن پر ہاتھ چلاتا ہوا بولا جو کے گھیردار تھا اور فرش پر پھیلا ہوا تھا…
“ایسا کچھ نہیں ہے …مجھے تم سے ایسا کچھ نہیں ہونے والا ورنہ تو مجھے دانیال سے محبت تھی اس وقت تو ایسا کچھ نہیں…………..”””
آفرین بولتے بولتے چپ ہوگئی اور ازلان کی طرف دیکھا جو لب بهینچے اسی کو دیکھ رہا تھا اُس کے چہرے کا بدلتا رنگ دیکھ کر آفرین نے اپنی بات ادھوری چهوڑ دی…..
“نام کیوں لیا اس کا…….”””
ازلان اسکا بازو دبوچتا ہوا بولا . .
“آہ ….. ازلان…..”””
آزلان کی گرفت کافی مظبوط تهی…
“ذکر بھی کیسے کیا اسکا تم نے……”””
ازلان اب چلا کر بولا …. پیشانی پر بل اور اسکی گردن کی رگیں آفرین کو چٹی دکھائی دیں .. اوہ اُس کے چلانے سے سہم گئی
ازلان اٹھا اور بازو سے پکڑ کر آفرین کو بھی اٹھایا اور ٹیرس کی طرف لے جانے لگا…..
باہر بہت زوروں کی بارش ہو رہی تھی . .
ازلان نے اسکو وہیں پر پھینکنے کے سے اندازِ میں چهوڑا آفرین نے سامنے پڑے لکڑی کے جھولے کا سہارا لیا…..
بارش اتنی تیز تھی کہ دونوں کے بدن بھیگ چکے تھے……
“آج رات یہیں گزارو تا کے تمھاری عقل ٹهکانے آ سکے…..”””
ازلان غصے سے کہتا ہوا اندر کی طرف جانے لگا جب آفرین نے اسکا بازو پکاڑا ازلان نے اسکو مڑ کر کہر برساتی ہوئی نظروں سے دیکھا …..
“نہ…… نہیں ازلان…..ساری رات یہاں کیسے گزاروں گی میں ….. بہت سردی ہے یہاں پر…..”””
آفرین اس سے التجا کرنے لگی . .
ازلان اپنا بازو چهڑواتا اندر گیا اور شیشے کے دروازا بند کرنے لگا آفریں شیشے کا دروازہ بجاتی رہ گئی…..
________________________________________
جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *