Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Mujhy Ishq Tera Le Doba by Yusra Shah Episode29

Mujhy Ishq Tera Le Doba by Yusra Shah Episode29

ازلان اور آفریں گھر آئے تو آفرین سیدھا کمرے میں آرام کرنے چلی گئی اور بنا ڈریس چینج کیئے تھکاوٹ سے دوپٹا گلے سے اُتَار کر بیڈ پر لیٹ گئی
کچھ دیر بعد ازلان آیا تو اسکو اپنی لائی ہوئی ڈریس میں بس دیکھتا ہی رہ گیا وہ پری وش اِس طرح نیند کی گہرائیوں میں ازلان کے دِل پر جادو چلا رہی تھی اسنے کیز اور موبائل ٹیبل پر رکھے اور کسی ٹرانس کی مانند چلتا ہوا آفریں کے سامنے بیٹھ گیا
اُس کے دائیں بائیں بیڈ پر بازو ٹکاتا ہوا جھک کر اُس کے نقش و نگار دیکھنے لگا اور اسکی ایک آوارہ لٹ جو کہ چہرے پر جھول رہی تھی اور ازلان کے دیدار میں خلل پیدا کر رہی تھی اسکو اپنی انگلیوں سے ہٹایا تو آفریں تهورا کسمساتی ہوئی اٹهی اور دیکها کہ ازلان اس پر جهکا ہوا تها
“ہٹو میرے سامنے سے…..”””
آفرین اُس کے سینے پر ہاتهہ رکهے اسکو ہٹاٹے ہوئے اٹهی…..
ازلان بهی پیچهے ہٹ کر بیٹهہ گیا
“ٹهیک ہے ہٹ گیا…. گبهراو مت… اور یہ آج تم کچهہ زیادہ ہی نہیں اڑ رہی تهی….”””
ازلان اسکی کلاس لینے کو تیار ہوگیا……اور سنجیندگی سے بولا…
“میں نے کیا کیا اب….”””
آفرین بهی تهیکهے تیور لیئے بولی
“دماغ بہت کمزور ہوگیا ہے تمہارا شاید…. پہلے بال نہیں باندهے، اسکے بعد کار میں آگے نہیں بیٹهی، اور پهر تو حد ہی کردی… اپنی اس سہیلی حفسہ سے میری برائیاں کرنا شروع ہوگئی…..””””
ازلان نے سکو اپنی ہر بات یاد دلا ڈالی
“تو اسکے لیئے سوری کہا تها نہ… اور رہی تمہاری کار اور بالوں والی خواہش تو تمہاری یہ بیکار خواہشیں میں پوری کرنے کی پابند نہیں ہوں….””””
آفرین خشمگین نظروں سے اسکو دیکهتی ہوئی بولی اور بیڈ سے اٹهہ کر الماری کی طرف بهاگی
ازلان منہ موڑے اسکو دیکهے گیا…
آفرین نے وہ ہی اپنی پکچر اسکے سامنے لہرائی
“یہ کیا ہے……””””
آفرین غصے سے بولی
“نظر نہیں آرہا کیا پکچر ہے اور کیا…….”””””
ازلان خفا ہوتے ہوئے بولا
“وہ تو مجهے دکهہ رہا ہے پر کب لی تهی تم نے اور کیوں لی…..”””
ازلان کهڑا ہوا تو آفرین اسکو دیکهتے ہوئے بولی
“میری الماری کی جاسوسی کر رہی تهی تم….؟؟””””””
ازلان کو بالکل اچها نہیں لگا کہ اس نے اسکی الماری کهولی… وہ ان سب چیزوں کا عادی نہیں تها
“ہاں وہ مین چابی ڈهونڈ رہی تهی تو مل گئی یہ بهی….”””
ازلان کے آگے بڑنے سے آفرین الٹے پیر پیچهے جاتی بولی….ازلان کی سنجیدہ انکهوں نے پهر سے اسکو خوف میں آن گہیرا…
“تم وہ غلطیان کرتی ہو جن سے مجهے….. سخت چڑ ہے……”””
آفرین دیوار سے جا لگی تو ازلان نے ایک ہاتهہ دیوار پہ ٹکائے کہا
“دور ہٹو مجهہ سے……”””
“نہیں ہٹونگا……””””
آفرین نے نکلنے کی کوشش کی تو ازلان نے اسکا ہاتهہ پکڑ لیا…
“ڈرو مت….. کچهہ نہیں کرتا تمہیں اور تمہیں کچهہ دینا تها…..”””
ازلان اسی سنجیندگی سے بولا
آفرین نے اسکو سوالیا نگاہوں سے دیکها
ازلام نے اپنے کوٹ کی جیب سے ایک سرخ مخملی ڈبی نکال کے افرین کو تهمادی
آفرین نے وہ کهولی تو ایک خوبصورت سا سونے کا لاکٹ تها…. جس میں خوبصورت سا چمکتا ڈائیمنڈ لٹک رہا تها
‘یہ کیون دے رہے ہو مجهے….”””
“پہلی رات کو دیتے ہیں تو میں بهی لے آیا پر پہلی رات ہی ایسی بن گئی کہ دینا ہی یاد نہ پڑا…..”””
ازلان افسوس سے اس رات کو یاد کرتے ہوئے بولا..
“مین یہ نہیں پہنونگی….”””
آفرین نے ڈبی اسکی طرف بڑہاتے ہوئے کہا
“نہ پہنو…. جب دل کرے تب ہی پہننا… پر اب یہ تمہارا ہوا رکهہ لو اپنے پاس…..””””
ازلان یہ کہتا ہوا اسکے سامنے آیا اور اسکے دونوں ہاتهوں کو تهام لیا
“ازلان چهوڑو….”””
آفرین نظرین جهکائے بولی
“کیون چهوڑوں…”””
“میں نہیں چاہتی تم میرے پاس آؤ….”””
آفریں نے سر اٹها کر دیکها تو اسکی آنکهیں نم تهیں…
“کیوں ؟ ؟…””””
ازلان سنجیدہ تھا
“کیوں کہ تم میرے پاس آتے ہو تو گناہ سا لگتا ہے مجھے کہ ایک قاتل کو اپنے پاس آنے دوں….”””
آفریں نفرت بھری نگاہ اُس پر ڈالتی ہوئی بولی
“اور جب وہ دانیال تمہارے پاس آتا رہا تب کیوں نہیں روکا اسکو ؟ وہ تمھارا محرم بھی نہیں تھا.. منگیتر تھا اور منگیتر بھی.. نہ محرم جیسا ہی ہوتا ہے….. اُس وقت تمہیں گناہ نہیں لگتا تھا کیا ؟ جب کہ گناہ تو تم اُس وقت کرتی تھی…..””
ازلان غصے سے بولا
“منگیتر تھا وہ میرا……”””
آفرین دھیمی آواز میں اتنا ہی بول پائی اسکو ازلان کی بات کہیں نا کہیں سہی لگی تھی جو کہ دادی بهی اسے کہا کرتی تهی
“منگیتر نا محرم ہوتا ہے …….”””
ازلان کہتا ہوا ہٹا اور اپنا کوٹ صوفے پہ پھینکتا ہوا ٹیرس کی طرف چل دیا
اور آفرین پر سوچ نگھاوں سے اسکو دیکھتی رہی…. آنکھیں ڈبدبائی ہوئیں تھیں اسکا دماغ یہ سمجهنے سے قاصر ہو چکا تھا کہ……
ازلان کی بات سہی ہے یا نہیں .. وہ کہاں جانتی تھی یہ سب باتیں…
ازلان باہر ٹیرس کے جہولے پر بیٹھا آنکھوں میں وہ ہی سنجیدگی لیئے ، سگریٹ پھونک رہا تھا ہر بار کی طرح آج بھی آفریں نے اسکا دِل زخمی کر لیا تھا ….. آفریں اسکو اُس گناہ کی سزا دے رہی تھی جو کے اسنے کیا ہی نہیں تھا
“تم میرے پقس آتے ہو تو گناہ سا لگتا ہے مجھے….”””
ازلان کے کانوں میں آفریں کی وہ ہی آواز گونجی اور ایک موتی ضبط کے باوجود بهی اسکی آنکھوں سے گرا… وہ اپنی آنکھیں بند کر گیا
“آخر کیسے دلاوں اسکو میں اپنی محبتوں کا یقین ؟ کیسے ثابت کروں خود کو بےگناہ…..””
ازلان سوچتا ہی رہ گیا اور کچهہ سگریٹ پھونکنے کے بعد جب کمرے میں آیا تو اسکو آفریں کہیں بھی نظر نہ آئی وہ سَر جھٹک کر الماری سے کپڑے نکالے واشروم چلا گیا
آفریں سادہ سی ڈریس میں نیچی آئی تو یوں ہی چلتے ہوئے عظمہ کے کمرے میں گئی عظمہ سَر پہ دوپٹہ لیئے جائے نماز تہہ کر رہی تجی
“آؤ نا آفریں بچے بیٹھ جاو ادهر……”
آفریں وہیں بیٹھ گئی تو عظمہ بهی اسکے ساتهہ آکر بیٹهہ گئی
“ازلان گیا نماز پڑهنے ؟ ؟……”
عظمہ اپنا دوپٹہ گلے میں لیتی ہوئی بولی
“وہ نماز بھی پڑھتا ہے کیا ؟ …..””
آفریں پر سوچ نگھائیں عظمہ پہ مرکوز کیئے بولی
“ہاں اسکو تو بچپن سے عادت ہے ….. تمہیں نہیں معلوم کیا ؟ …..”””
عظمہ مسکراتی ہوئے بولی
آفریں اپنی ہتھلیوں کو دیکھنے لگی
“بیٹا کچھ بات کرنے آئی تھی تم ….””
“نہیں وہ آنٹی بس مجھے بہت اکیلا محسوس ہو رہا تھا تو اسلیئے آپ کے پاس آگئی….”””
“چلو اچھی بات ہے …. جب بھی اکیلا محسوس کرو تو آجایا کرو میرے پاس….””
عظمہ مسکراتی ہوئی ولی
“خالہ کیا منگیتر محرم نہیں ہوتا…..””
آفرین تھوڑا کمفرٹیبل ہوئی تو اپنی الجھن عظمہ کے سامنے عیاں کرنے لگی
“ہاں بالکل نہیں ہوتا……..””
عظمہ نے مختصر کہا
آفریں یہ سننا نہیں چاہتی تھی اور یہ سن کر آفرین کو خود پر کئی زیادہ افسوس ہونے لگا
“کیا ہوا پریشان لگ رہی ہو تم…..””
عظمی نے اُس کے چہرے کا جائزہ لیا
“ایسی بات نہیں ہے خالہ مین چلتی ہوں سونے….”
افرین کہ کہتے ہوئے اپنے کمرے مین چلی گئی
جہاں ازلان بیٹھا ہوا سگریٹ پی رہا تھا
آفرین کو ایک دم سے غصہ اگیا
اور بڑھ کر اُس کے لبوں سے سگریٹ نکال کر ڈسٹ بن میں پھینک دی ازلان شاکڈ سا اسکو دیکھتا رہا اور پِھر چہرے پہ غصہ نے جگہ لے کی
“دماغ خراب ہو گیا ہے تمہارا ….کچھ نہیں کہتا اس کا مطلب یہ نہیں کے تم کچھ بھی کرتی پهرو….”””
ازلان کو اسکی یہ بدتمیزی بالکل نا بھائی اور اوپر سے دِل پر زخم لگے ہوئے تھے تو آفرین کا بازو دبوچتا ہوا چلا کر بولا
آفرین اسکا یہ روپ دیکھ کر سہم گئی تھی اُس کے ساتھ تو کبهی کسی نے بھی تلخی نہیں برتی تھی وہ ڈانٹ سننے کی عادی نہیں تھی اور اس طرح ازلان کی گرجدار آواز سن کر اسکی آنکھوں سے آنسو نکلنے لگے
“مجھے نہیں پسند اِس سگریٹ کی بو مجھے الجھن ہوتی ہے…..”””
آفرین روتے ہوئے بولی
“یہ کوئی بٹن لگا ہوا ہے کیا تم میں ؟ کہ جب میں تمھارے سامنے آتا ہوں اپنے یہ آنسوؤں کا سیلاب بہانا شروع کردیتی ہو ؟ ویسے تو بڑی شیرنی بنی پھرتی ہو تم…..”””
ازلان اب اُس کے بار بار رونے پر جهنجلا گیا اور اِس بار آواز دھیمی رکھ کر بولا
آفرین اور رونا چالو ہوگئی
ازلان نے بےبسی سے اپنے چہرے پر ہاتھ پھیرا
“بند کرو یہ رونا میں کہہ رہا ہوں….”””
ازلان انگلی سے اُس کے آنسو کی طرف اشارہ کرتا ہوا بولا
چمیں تمہاری بات کیوں مانوں….؟؟……”
آفرین روتی اکهیوں کے ساتھ لہجے میں غصہ لیئے بولی
“کیوں کہ شوہر ہوں میں تمہارا اور تمہیں میری بات ماننی ہوگی…..””
ازلان سنجیدہ ہوتے بولا
آفریں رونا بھول کر پھر سے غصے میں آگئی اور ازلان کو ہٹاتی ہوئی ائینے کی طرف چلتی ہوئی بولی
“میں نہیں مانتی تم جیسے بدتمیز انسان کو اپنا شوہر…””””
وہ اب سنگھار شیشے کے سامنے کھڑی اپنے بال باندھ رہی تھی
ازلان اُس کے پیچھے کھڑا ہو گیا
“گهٹیا ہوں ، قاتل ہوں ، بدتمیز ہوں ، جو بھی ہوں پر تمہارا شوہر ہی ہوں……””””
ازلان نے جتلانے والے اندازِ میں اسکو دیکھتے ہوئے کہا
آفرین اسکو نظرانداز کرتی ہوئی اپنے بالوں میں کنگی چلانے لگی
“اگنور کر رہی ہو مجھے ؟…..””””
ازلان نے اُس کے بالوں سے ربر بینڈ نکالتے ہوئے کہا
آفریں نے نتهنے پھیلا کر اسکو آئینے سے دیکھا اور بولی
“بال کیوں کھول دیئے میرے ؟…..”””
“اچھی لگتی ہو مجھے کھلے بالوں میں تم…..”””
ازلان اُس کے شانے پر ٹھوڑی ٹکاتا ہوا بولا
“تو بھائی کی رخصتی پر بال بناندهنے کو کیوں کہہ رہے تھے ؟…….”””
آفرین نے نا پسندیدگی والی نظریں اُس پر جما کر کہا
“کیوں کہ میں چاہتا ہوں کر اِس روپ میں تمہیں میرے علاوہ کوئی اور نا دیکھے……””
ازلان اُس کے بالوں سے کهیلتا ہوا بولا
“ازلان در ہٹو مجھے سونا ہے…. “
ازلان پیچهے ہٹ گیا
اور آفرین ایک نظر اسکو دیکھ کر بیڈ کی طرف بهاگی
_________________________________________
.
.
رات کے دو بج رہے تهے… آفرین کروٹیں لیتی رہی لیکن اسکو نیند نہیں آرہی تهی…..
ایک تو اندهیرے مین ڈوبا ہوا کمرہ اور اوپر سے باہر کتوں کے بهونکنے کی آوازیں…. وہ کبهی بهی گهپت اندهیرا کر کہ نہ سویا کرتی… یا تو کهڑکی کهلی رکهتی یا تو لیمپ جلا ہوا ہوتا….
پر ازلان تو چاہتا کہ روشنی کا ایک تنکہ بهی کمرے میں نہ آئے…..
“کیسا آدمی ہے..؟ اتنے اندهیرے میں اسکو نیند آتی کیسے ہے… دن مین اندهیرا، رات مین اندهیرا.. تهوڑی سی روشنی سے بهی اس آدمی کو مسئلا ہے….””””””
آفرین نے اسر اٹها کر ازلان کو دیکها جہان وہ سوفے پہ لیٹا لحاف پیشانی تک رکهتا گہری نیند میں تها…
پر آفرین کو اس اندهیرے کمرے میں بس اتنا ہی نظر آیا کہ وہ لیٹا ہوا ہے…
ایک دم باہر سے کچهہ ٹوٹنے کی آواز آئی تو وہ بیڈ سے اٹهہ کر ازلان کے صوفے کے سامنے زمین پہ بیٹهہ گئی.. اور منہ پہ ہاتهہ رکهے اپنی چیخ دبانے کی کوشش کر رہی تهی..
“ازلان ازلان…….”
آفرین نے اسکا لحاف کهینچ کر کہا…
“کیا ہوا اب آفرین….”””
ازلان کی نیند مین ڈوبی ہوئی آواز ابهری
“اٹهو ازلان اٹهو……”””
آفرین اسکی نیند توڑنے کی کوشش کر رہی تهی…
“آفرین میں ابهی تم سے لڑنے کے موڈ میں نہیں ہوں سوجاو چپ کر کہ.. صبح کو لڑ لینا…….”””
ازلان نے اس بار بهی آنکهیں بند ہی رکهیں اور کروٹ لیتا ہوا بولا….
آفرین اسکی بات سن کر منہ بنا گئی.. اسکو میں لڑائی خور لگتی ہوں کیا…
افرین نے اسکو گهورتے ہوئے سوچا اور سر جهٹک کر بولی
“ازلان مجهے ڈر لگ رہا ہے اٹهو پلیز…..”””
“آفرین مزاق مت کرو… میں آج بہت تهکا ہوا ہوں آرام کرنے دو…..”””
ازلان کے یہ کہتے ہی افرین بے بس ہوکر اسکو دیکهے گئی بیڈ پر جانے کا سوچا تو پهر سے وہی کتون کی آواز..
“لائٹ آن کرلوں میں؟…….”””
آفرین دهیرے سے بولی…
“کوشش بهی مت کرنا لائٹ آن کرنے کی….”””
ازلان کی لحاف سے آواز آئی…
اور آفرین اب بے بسی سے رونے کو تهی… اور ڈبڈبائی آنکهوں کے ساتهہ ازلان کو دیکهنے لگی…
ازلان نے محسوس کیا کہ وہ ابهی تک یہیں ہے تو موبائل کی ٹارچ آن کر کے کروٹ لی جہاں آفرین پاس زمین پہ بیٹهی ہوئی آنکهوں مین نمی لیئے اسی کو دیکهہ رہی تهی…
“رو کیون رہی ہو یار…..””””
ازلان حیرت سے بولا اور آنکهیں مسلتا ہوا اٹهہ بیٹها…
“ڈر لگ رہا ہے مجهے….”””
معصومیت کی انتہا تهی جس کو دیکهہ کہ ازلان پگهل گیا..
“اچها تو اب کیا کیا جائے…””””
ازلان نے جلدی سے حل نکالنا چاہا..
“لائٹ آن کرلو….”””
“ایسا تو ممکن نہیں…… کچهہ اور….”””
ازلان نفی میں سر ہلاتا ہوا بولا……
“تم بیڈ پر سو لو……””””
آفرین کچهہ سوچتے ہوئے بولی…
“تم کہاں سوگی پهر…”””
“میں بهی بیڈ پر…..”””
آفرین جلدی سے بولی…
“آر یو شیور ؟؟ نیند ویند میں تو نہیں ہو نہ….”””
ازلان کو اسکی دماغی حالت پر شبا ہوا.. ورنہ جو اسکو اپنے قریب نہیں آنے دیتی آچانک سے ایسی فرمائش کر بیٹهی ہے… تو آبرو اچکا کر ایک بار ازلان نے جاننا مناسب سمجها….
“نہیں ہوں نیند میں.. تم آو… زیادہ سوال مت کرو….”””
افرین اب بیڈ پر جاتے ہوئے اکتا کر بولی…
ازلان جب بیڈ پہ لیٹا تو موبائل کی روشنی آفرین پر کی تو وہ تکیوں سے بهیچ میں دیوار بنا رہی تهی….
“یہ کیا کر رہی ہو….”””
ازلان نے تکیوں کو دیکها… جن کی آفرین نے بهیچ میں سیدهی لائن بنا دی تهی
“دیوار… ہم دونون کے بهیچ کی دیوار…. تمہیں کہا تها نہ زیادہ خوش فہمیوں میں مت رہنا….”””
آفرین صوفے سے کمبل اٹهائے اس پر پهینکتی ہوئی بولی
“اب لگ رہی ہو نہ کہ آفرین ہی ہو ورنہ میں تو کچهہ دیر کے لیئے سکتے میں ہی چلا گیا تها.. اور یار بڑی خود غرض ہو……”””
ازلان لحاف اپنے اوپر لیتا ہوا بولا
آفرین نے جواب” کندهے اچکا دیئے…
ازلان بهی موبائل کی ٹارچ بند کرتا کروٹ لیئے سو گیا… اب نیند مشکل سے ہی آنی تهی اسکو.. وہ اگر ایک بار نیند سے اٹهہ جائے تو دوبارہ آنے کے چانسس بہت کم ہوتے….
تهوڑی دیر بعد جب پهر سے کتون کی آواز آئی تو آفرین بول پڑی
“ازلان………..””””
“سر مت کهاو اب…چپ کر کے سو جاو…..”””
ازلان اسکی طرف کروٹ لیئے سختی سے بولا….
آفرین کو جب نیند نہ آئی تو بیڈ پر ہاتهہ مارتے ازلان کا ہاتهہ تلاش کرنا چاہا جب اسکے ہاتهہ تکیئے پر رکهے ازلان کے ہاتهہ پر لگا تو اسکے ہاتهہ کی چهوٹی انگلی کو نرمی سے پکڑ گئی….
اسکے خیال سے ازلان سو رہا تها… جب کہ وہ صرف ایکٹنگ کر رہا تها سونے کی…… اسنے کوئی رد عمل ظاہر نہ کیا کہ آفرین کو ایسا کرنے سے تحفظ محسوس ہو رہا ہے…..
افرین کا ڈر کم ہوا…
“پاگل… دور بهی مجهہ سے جاتی ہے اور تحفظ بهی مجهہ سے ہی چاہیئے…..”””
ازلان مسکراتا ہوا سوچے گیا اور سونے کی کوشش کرنے لگا……
_________________________________________.
.
صبح آفرین عظمہ کے ساتھ ڈائینگ ٹیبل پر بیٹھی ناشتہ کر رہی تھی جب ازلان ٹائی گلے میں ڈالتا ہوا سیڑھیاں اتر رہا تھا ٹائی وہ ہمیشہ عظمہ سے بندهواتا تھا اور جب آفریں کو بیٹھے دیکھا تو شرارت سے بولا
“آفریں میری ٹائی باندہ دو…..””””
آفرین نے چائے کا کپ نیچے کیئے حیرت سے اسکو دیکھا
“میں باندہوں…..”””””
آفرین نے سوال کیا
“میں باندھ دیتی ہوں نا ازلان……”””
عظمہ اٹهتے ہوئے بولی
“نہیں امی آفرین باندهے گی میری ٹائے……””””
ازلان شرارت سے بولا اور ایک ڈمپل اُس کے گل پر نمودار ہوا
آفرین نے ہڑبراتے عظمہ کو دیکھا عظمہ مسکرا رہی تھی آفریں غصہ ضبط کیئے ازلان کے پاس کھڑی ہوگئی اور ٹائی باندھنے لگی
“کوئی بچے ہو جو ٹائی بھی باندھنا نہیں آتی تمہیں ؟ ویسے تو ہر کام میں ہی محارت حاصل کی ہوئی ہے ماشاءاللہ سے….””
آفرین تڑخ کر دھیمی آواز میں بولی
“مثلاً ؟ کس کس کام میں محارت حاصل ہے…..””””
ازلان نے مسکرا کر پوچھا
“بد تمیزی کرنے میں ، گھٹیا پن میں ، اور سب سے زیادہ ڈھیٹ پنے میں…..”””
آفرین کا آخری جملہ سن کر ازلان کو ہنسی اگائی.. وہ دبا گیا
ازلان نے اسکی کلائی پکڑتے ہوئے مسنوئی غصے سے کہا
“مین ڈہیٹ ہوں ہم؟؟؟…….””””
“ہاں بہت……”””
آفرین نے کہنے کے ساتھ اسکی ٹائی کو زور سے اُس کے گلے پر کھینچ لیا
ازلان نے ایک جهٹکے سے اسکا ہاتھ چهوڑ لیا
اور گهور کر آفرین کو دیکھا …
اور دونون پهر سے کهانے میں مصروف ہوگئے
ازلاب بھی بیٹھا ہوا چائے پینے لگا اور نظریں آفریں پہ مرکوز تھی اب وہ نظروں سے اسکو تنگ کر رہا تھا
آفرین اسکی نظروں سے پزل ہو رہی تھی اور بار بار عظمہ کو دیکھ رہی تھی جس نے یقیناً ازلان کی نظروں کا نوٹس لے لیا تھا اور اب مسکراتی ہوئی چائے کی چسکیاں لی رہی تھی
“ازلان کیوں بچی کو تنگ کر رہے ہو ایسے دیکھ کر اور ماں کے سامنے بیٹھو ہو کچھ تو شرم کر لو….””
عظمہ نے آفرین کو گھبراتے ہوئے دیکھا تو ازلان کو ٹوکا
“ہاں تو ماں کے سامنے انکی بہو کو ہی دیکھ رہا ہوں نا اِس میں شرم کی کیا بات؟…..”””
ازلان نے ایک سیکنڈ کے لیئے بھی آفریں سے نظر نا ہٹائی اور آفرین کو دیکھتے ہوئے ہی عظمہ کو جواب دیا
“پتہ نہیں کس پہ گئے ہو تم ؟ نہ میں ڈھیٹ ہوں نا تمھارے ابا تھے پر تم نے تو ڈھیٹ پن کی حد ہی کردی ہے….”””
عظمہ اپنے ڈھیٹ بیٹے پر تعجب کھاتی بولی
تو آفرین کے چہرے پر مذاق اڑانے والی مسکراہٹ اگائی پر پِھر بھی ازلان کے تاثرات میں فرق نا آیا
“میں اپنے چچا فیضان پہ گیا ہوں نا…..”””
ازلان نے اسی طرح آفرین کو دیکھتے ہوئے کہا ….. آفرین نے سنا تو اُس کے چہرے پر سے مسکراہٹ غائب ہوگئی
“کچھ تو شرم کر لو ازلان اپنے چچا کے بارے میں ایسا کہہ رہے ہو تم…..”””””
عظمہ نے خفگی سے کہا
“ویسے امی ڈھیٹ تو انکی بیٹی بھی بہت ہے……”””””
ازلان نے اسی طرح آفرین کو دیکھ کر کہا اور چائے کا سپ لینے لگا
“میں نہیں ہوں ڈھیٹ…..”””
آفرین نے عظمہ کو دیکھ کر کہا
“اچها… تم لوگوں کی بہت ہوئی اور ازلان میں کیا سوچ رہی تھی کہ اسی ہفتے ولیما رکھ لوں تم نے نکاح وغیرہ تو سب سادگی میں کرلیا اب مجھے اپنے ارمان تمہارے ولیمے میں پورے کرنے دو ……”””
عظمی نے اپنے خیالات کا اظہار کیا
“جی بالکل امی مجھے تو کوئی اعتراض نہیں آپکی بہو بھی شکایت کرتی ہے مجھ سے کہ اتنی سادگی سے سب کچھ کیوں کیا ہے…. اب آپ اور آپکی بہو دونوں اپنے ارمان پورے کرلینا ولیمے پر ……””””
ازلان افرین کو مزید تنگ کرنا چاہتا تھا تو آنکھوں میں شرارت سموئے جهوٹ بولنے لگا
“نا نہیں خالہ ایسی بات نہیں ہے…..”””
آفرین ہر بڑا کر بولی
“پتہ ہے مجھے بچے …. شرارت دِکھ رہی ہے مجھے اِس ڈھیٹ کی آنکھوں میں…..””””
عظمہ آفرین کا ساتھ دیتی ہوئی بولی
“واہ بہو کے آتے ہی بیٹی کو بھول گئی… ہاں بھئی دو عورتین ملی ہیں مجھ معصوم کو… اکلوتے مرد کو تو اکیلا کرینگی نا…..”””
ازلان نے اب عظمہ کو دیکھ معصومیت سے کہا
“تم مت سدهرنا ازلان….”””
عظمی تاسف سے سر ہلاتی بولی
اب ازلان ٹشو سے ہاتھ پونچھتا ہوا اٹھا ، اپنا آفس بیگ اٹھایا اور آفرین کی پشت کے پیچھے کهڑا ہو گیا اور سنجیدگی سے عظمہ کو بولا
“امی منہ دوسری طرف کرلیں ورنہ آپکو شرم اجائے گی….””
آفرین نے پیچھے مڑ کر اسکو گھورا وہیں عظمی نے بھی ساوالیا نظروں سے اسکو دیکھتے ہوئے پوچھا
“کیوں اب کیا ارادے ہیں تمھارے…..”””
ازلان نے اپنی واچ دیکھی اور بولا
“دیکھ لیں بھلا خود ہی کہ کیا ارادے ہیں……”””
یہ بولنے کے ساتھ ہی ازلان اپنے لب آفرین کے گال پر رکھتا ہوا پیچھے ہٹا
عظمہ نے افسوس سے اپنے اُس ڈھیٹ بیٹے کو دیکها تو وہیں
افرین شرم سے لال ہوتی ہوئی گهور کر ازلان کو دیکھتی رہی تو وہ مسکرا کر چلا گیا
“کچھ نہیں ہو سکتا اس کا…..”””
عظمہ آفرین کے چہرے پر شرم کے رنگ دیکھتے ہوئے بولی
“ڈهیٹ…..”””
آفرین نے روتی شکال بنا کر کہا اور جلدی سے اٹھ کر زینے ابور کرتی اپنے کمرے میں چلی گئی
عظمہ ازلان پہ بس غصہ ہی کرتی رہ گئی……
جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *