Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Mujhy Ishq Tera Le Doba by Yusra Shah Episode13

Mujhy Ishq Tera Le Doba by Yusra Shah Episode13

آفریں گھر آئی تو اپنے کمرے میں گهس گئی، دروازہ بند کر کےکلچ بیڈ پر پھینکا اور بیڈ پہ بیٹھ گئی اب اسکی آنكھوں کے سامنے پِھر وہ ہی شخص گھومنے لگا اور کانوں میں اسکی باتیں گونجنے لگیں……
“ڈریسنگ دیکھی ہے تم نے اپنی……””
اسنے جھٹ سے آنکھیں کھولی اور اپنے ھاتھوں کو دیکھا وہ ابھی بھی اپنے ھاتھوں پر اسکا لمس محسوس کر رہی تھی وہ ہاتھ کی انگلیوں سے اپنے دوسرے ہاتھ کو چھو رہی تھی
“یہ جو ہاتھ ہیں نا پہلی لڑکی کے ہاتھ ہیں جو میرے گریبان تک گئے ہیں….””
وہ ہی بهاری دل کو چیرتی ہوئی آواز گونجی اس کے کانوں میں تو گهنی پلکون کی نم ہوتی جهالر آنکهون پر گری کچھ دیر کے لیئے….
پِھر وہ ہی آواز اور لمس محسوس کرنے لگی.. اسکو نہیں معلوم تها کہ کیون اس انجان شخص کی باتین اسکے دل میں بسیرا کر رہی تهیں کیون اس شخص کے لمس کو محسوس کیئے جا رہی تهی.. عشق کا کوئی خطرہ اسکو لاحق نہیں ہوا تها نا ہی کوئی انسیئت کے جزبے کا کوئی شبہ معلوم ہوا… الجهنیں تهی بس جو کہ اس کے دماغ میں گرہیں پڑوا رہی تهی..
آفرین دل ہی دل مین دعاگو ہوئی کہ پهر دوبارہ سے اس شخص کو نہ دیکهے.. کیونکہ اس شخص کو لیکے اس کے دل مین کیا احساسات تهے وہ انسے بالکل ہی انجان تهی..
اسکی موبائل کی ٹون بجی تو وہ ہوش کی دُنیا میں واپس آئی اسکو خود نہیں پتہ تھا اسکو کیا ہو رہا ہے
اسنے سَر جھٹک کر جلدی سے موبائل دیکھا دانیال کا میسج تھا جس میں لکھا تھا
” آج ڈنر کرنے چلیں ؟… “
آفریں نے ٹائپ کیا
” آج میرا موڈ نہیں ..”
پِھر دانیال کا میسج آیا
” مجھے نہیں سننا کچھ بھی آج رات آٹهہ بجے تک ریڈی رہنا میں لینے آؤنگا ..”
آفریں نے بد دلی سے ” او کے ” ٹائپ کیا اور موبائل پھینک دیا اسکا آج کہیں جانے کو دِل نہیں تھا اتنی الجهنون کو لیئے کہان جاتی بهلا…..
پهر بهی دانیال کے اسرار پر وہ اٹهی ، واشروم میں گھس گئی اور زور زور سے اپنے منہ پہ پانی کے چهینٹے مارنے لگی…. اپنا چہرہ آئینے میں دیکھ کر خود سے مخاطب ہوئی
“یہ کیا کر رہی ہو آفریں تم ؟ کیوں اسکو محسوس کر رہی ہو کیوں اُسی کے بارے میں سوچ رہی ہو_..”
وہ واشروم سے باہر آئی اور الماری کی طرف بڑهی اسنے اپنی الماری مین کوئی ڈہنگ کے کپڑے تلاش کرنا چاہے پر سب کپڑے چوٹے اور ہالف سلیوز والے ہی تھے
ڈریسنگ دیکھی ہے تم نے اپنی……
پِھر وہ ہی آواز ……
اسنے تنگ آکر سَر جھٹکا اور غزل کے روم میں گئی جہاں غزل بیڈ پہ بیٹھی ہوئی کسی کتاب میں مصروف تھی اور فیضان صوفے پہ بیٹها لیپ ٹاپ پر کچھ کم کر رہا
“میں اجاون ؟ …… “
آفریں نے اِجازَت مانگی
“ہاں بیٹا آؤ پوچهنے کی کیا ضرورت….”
فیضان نے لیپ ٹاپ سے نظریں ہٹا کر اسکو دیکھ اور مسکراتے ہوئے کہا وہ اندر آئی اور فیضان کے پاس بیٹھی ہوئی بولی
“ابو وہ آج دانی ڈنر پہ لے جانے کو کہہ رہا تھا تو اگر آپکی اِجازَت ہو تو….”
“ہاں بچے جاؤ دانیال نے مجھ سے اِجازَت مانگلی تھی کال کر کے ….”
فیضان اُس کے سَر پر ہاتھ رکھتا ہوا بولا
“اوکے ابو……””
وہ ہلکا سا مسکرا کر بولی
اور غزل کے پاس گئی
“امی آپکا کوئی ڈریس مل سکتا ہے…..””
غزل نے اسکی آواز پر سر اٹھایا اور اسکو حیرانگی سے دیکھا … غزل کی جسم میں کچھ خاص فرق نہیں آیا تھا وہ پتلی ہی تھی تو آفریں اسکا ڈریس پہن سکتی تھی
“تمھارے پاس اتنے ڈریس تو پڑے ہیں کوئی بھی پہن لو میرے سب ڈریس لمبے ہیں اور فل سلیوز ہیں….””
غزل بولتی ہوئی پِھر سے کتاب پڑنے لگی
“ہاں مجھے کوئی فل سلیوز والا ہی چاہیئے ….ایسے باہر ہالف سلیوز پہننا ٹھیک نہیں لگ رہا….””
یہ جملہ سنتے ہی جہاں غزل حیران ہوئی وہاں فیضان بھی ،
غزل نے کتاب بند کی اور اُس کے ماتهے کو چووا
‘لڑکی کیا ہوا ؟ ٹھیک ہو نا ؟ تمہاری طبیعت مجھے ٹھیک نہیں لگ رہی…..””
غزل تو سکتے میں چلی گئی اسکی بات سن کر ورنہ وہ آفریں جو غزل کی فل سلیوز سے بھی چیڑتی تھی آج خود اسے اسکی فل سلیوز والی ڈریس مانگ رہی تھی
“امی کچھ نہیں ہوا مجھے آپ جلدی سے ڈریس دیں دانیال آتا ہی ہوگا….””
آفریں وال کلاک کو دیکھتے ہوئے بولی
غزل اسکو ابهی بھی سکتےسے دیکھ رہی تھی
“غزل دے دو بچی کو ڈریس لیٹ ہو رہا ہے اسکو…..””
غزل فیضان کی آواز سن کر اٹھی… الماری کی طرف بڑھی اور کچھ اپنے پرانے ڈریس اُس کے سامنے رکھ دیئے کیوں کہ غزل کا خیال تھا کے اُس کے اب کے ڈریس آفریں تهوڑے سے ڈهیلے پڑینگے..
آفریں نے ان کو ڈریس کو دیکھا اور عجیب سی شکل بنا لی اور بولی
“کوئی اچھا والا دکھائیں نہ…..””
“آؤ میرے ساتھ تم….””
غزل اسکو لیتی ہوئی ایک اور کمرے میں لی گئی جہاں غزل کا پُرانا سامان پڑا ہوا تھا
غزل نے لائٹس آن کی اور ایک بڑی سی پیٹی کھولی جس میں سے اسنے دو ڈریس آفریں کے سامنے کیئے وہ دونوں عظمہ کے تھے جو غزل نے اپنے پاس رکھے ہوئے تھے
“ان میں سے کوئی دیکھ لو…..””
غزل نے اسکو اوپشنز دی
آفریں کو دونوں ہی پسند آئی جس میں سے اسنے ایک سفید فروک اٹھا لی
یہ بہت خوبصورت جوڑا تھا گهٹنون تک آتی سفید فروک جس کے صرف گلے اور نیچی دامن پر ہلکا سا گولڈن کام ہوا ہوا تھا اور اس پہ گلابی رنگ کا چوڑیدار پجاما اور پنک ریشمی دوپٹہ تھا
غزل نے شوپر اس جوڑے کے اوپر سے اتاری اور اسکو دیا
وہ پہیننے گئی اور آئینے کے سامنے کھڑی ہوئی اسنے ایسی ڈریسنگ پہلی دفعہ کی تھی اور بہت خوبصورت لگ رہی تھی اور فٹنگ بھی ٹھیک لگ رہی تھی نا زیادہ تنگ نا زیادہ ڈھیلا
اُس نے بالوں کو سیدھا رکها اور اوپر سے ایک سائیڈ بریڈ بنالی…
باقی سارے بال کھلے چهوڑ دیئے اس کے بعد اسنے لائینر لگایا اور لائٹ پنک گلوس لگاتی ہوئی دوپٹہ اٹھا کر ایک شانے پر ٹکایا جو ک9 بار بار سرک کر نیچے آرہا تھا اسی دوران غزل آئی تو آفرین کو دیکھ کر غزل کو عظمہ یاد آئی غزل نے آنكھوں سے نمی صاف کی اور اسکو دوپٹے میں الجھا ہوا دیکھ کر خود اسکا دوپٹہ ٹھیک کیا اور ایک سائڈ پر کھول کر رکھ کر پن اپ کردیا
“ماشاءاللہ …. ” غزل بولتی ہوئی چلی گئی
اور اسنے پنک کلر کی سمپل سی پمپی پہن لی کلچ میں موبائل اور کچھ پیسے رکھتی ہوئی اب دانیال کا انتظار کرنے لگی پانچ منٹ بعد ملازمہ نے اسکو بلایا وہ باہر گئی تو اسنے دانیال کو دیکھا جس نے نیوی بلو شرٹ پہ بلیک کوٹ اور بلیک پینٹ پہنی ہوئی تھی اور چہرے پہ مسکراہٹ لیئے کھڑا تھا
آفریں آئی تو دانیال نے اپنا ہاتھ آگے کیا آفرین نے اسکو اپنا ہاتھ تهما دیا تو دانیال نے گاڑی کا دروازہ کھول کر اسکو گاڑی میں بٹھایا… خود بھی ڈرائیونگ سیٹ پہ بیٹھ گیا اور گاڑی چالو کردی
“آج کیا خاص بات ہے جو آج محترمہ نے ایک نئی ہی ڈریسنگ کی ہوئی ہے…. “
دانیال اسکا جائزہ لیتے ہوئے بولا
‘بس ایسے ہی کچھ نیا بھی ہونا چاہیئے نا … کیوں تمہیں پسند نہیں آئی…..”
آفریں اسکو دیکھتے ہوئے پوچنی لگی
“آج تو لگ رہا ہے چاند زمین پر اُتَر آیا ہے اور میری گاڑی میں آکر بیٹھہ گیا ہے…..””
اسنے محبت سے آفریں کو دیکھا اور آخری جملہ بولتے ہوئے آنکھ ماری
آفریں اسکی ایسی تعریف کرنے پر مسکرادی اور پِھر اتراتے بولی
“تم بھی ویسی ٹھیک ہی لگ رہے ہو…..””
“ہاہا شکر میں تمہیں ٹھیک تو لگا ، ورنہ تو مجال ہے جو تھوڑی سی بھی تعریف کرلو….””
دانیال اسکی اتنی سی تعریف سن کر ہی خوش ہو گیا
تو آفریں مسکرادی
اور وہ روڈ پر پہونچے تو گاڑی ٹریفک سگنل پر رکی… ازلان جو کہ وہ بھی ٹریفک سگنل پر رکا ہوا تھا اسکی نظر یکدم گاڑی میں بیٹھی ہوئی آفریں پر پڑی وہ وہیں تھم سا گیا اسکو اس ایسی ڈریسنگ میں دیکھ کر
اور اسی کے ساتهہ ازلان کی نظر دانیال پر پڑی جو کے ہنس ہنس کر آفریں سے بات کر رہا تھا وہیں ازلان کے ھاتھوں کی گرفت بائیک کے هینڈل پر مضبوط ہوئی اسکے ھاتھوں کی اور پیشانی کی رگیں تن گئی آنكھوں میں غصہ اگیا..
وہ لب بهینچ گیا….
جیسے ہی سگنل گرین ہوا تو وہ گاڑی آگے بڑھ گئی اور ازلان نے پیچھے سے گاڑی پہ لکھا ہوا نام پڑھا
” دانیال اسد “
اسنے زیر لب وہ نام دہرایا
“اب یہ کونسی بلا ہے….”
وہ سوچتے ہوئے بولا تو پیچھے سے گاڑیون کی آوازوں نے اسکو ہوش دلایا… ازلان اب دانیال کی ہی گاڑی کا پیچھا کرنے لگا
گاڑی ایک بڑے سے ریسٹورنٹ پر رکی اور ازلان نے بھی وہیں پارکنگ ایریہ میں بائیک روک دی
دانیال اٹھا اور آفریں کی سیٹ کی طرف آکر دروازہ کھولا.. اسنے اپنا ہاتھ اگے کیا جس کو آفریں تھام کر گاڑی سے نکلی
ازلان کا اب ضبط کرنا مشکل ہو رہا تھا… جیسے ہی آفریں گاڑی سے باہر نکلی وہ اِس پری وش کو دیکھتا ہوا رک سا گیا
ازلان کی آنکھوں کے آگے سب دهندلا سا گیا بس آنکھیں تو ایک ہی چاندنی میں لپٹے اس سراپے کو دیکھ رہی تھیں
وہ دانیال کا ہاتھ پکڑتی ہوئی ریسٹرورنٹ میں چلی گئی اور ازلان نے اس کے سراپے کو اپنی آنکھوں میں محفوظ کر لیا وہ تو ابهی بهی اسی میں ہی کهویا ہوا تها….
“یار بائیک هٹاؤگے مجھے بھی پارْک کرنی ہے…..'””
ایک لڑکا جو کے بائیک پہ تھا اور کب سے انتظار کر رہا تھا کہ ازلان بائیک پارْک کرے تو وہ بهی اگے کو جا سکے کیوں کہ ازلان نے راستہ روکا ہوا تھا جب اسنے ازلان کو بت بنا دیکھا تو بول اٹھا
“آ… ہاں ہاں کرتا ہوں….””
ازلان ہوش میں آیا اور بائیک پارْک کر کہ ریسٹورنٹ میں گهسا
یہ ایک بڑا سا اور خوبصورت ریسٹورنٹ تھا جس میں لال اور سفید کلر کے صوفے اور شیشے کی میزیں رکھی گئی تھی
اور رنگ رنگ کی موم بتیان جلائی گئی تھی جنکی قطار سی بنی ہوئی تھی جنہون نے چار چند لگا دیئے تھے اس ماحول میں، سنہیری اور لال رنگ کی اینٹین جن پر سنہیرے رنگ کی روشنیوں نے ایک الگ سا سماں پہلایا ہوا تھا مانو کی ریسٹورنٹ سنہیرے پانی میں نہیلایا ہوا تھا
ازلان ادهر اُدھر نظریں دوڑانے لگا اور آفرین اور دانیال اسکو نظر آ ہی گئے آفریں کی پشت اِس طرف تھی اور دانیال کا چہرہ ازلان کی طرف …
ازلان چلتا ہوا انکے آگے والی ٹیبل کی طرف بڑا اور ایک سفید سے صوفے پہ برا جمان ہوا اب دانیال کی پشت ازلان کی طرف تھی اور ازلان آفریں کا چہرہ ٹھیک سے دیکھ سکتا تھا … آفریں کی نظر ابھی تک اس پہ نہیں پڑی تھی وہ مسکرا کر دانیال سے باتوں میں مصروف تھی
“سر کچهہ لینا پسند کرینگے ؟……”
ویٹر ازلان کے پاس آتا ہوا بولا
ازلان اسکی آواز پر چونکا اور بولا
“ون پائن ایپل جوس پلیز….””
“اوکے سر….””
ویٹر تابعداری سے سر ہلاتا ہوا چلا گیا تو ازلان واپس سے اپنے دیدار کو لگ گیا اور ایک سگریٹ نکال کر سلگانے لگا…
اسی کے ساتهہ سنجیدہ چہرہ لیئے اس چاندنی کو ہی دیکھ رہا تھا
آفریں کی نظر اب ازلان پر پڑی جو سگریٹ سلگاتا اسکو ہی دیکھ رہا آفریں کے چہرے کا رنگ فق ہو گیا اور وہیں پتهر سی رہ گئی
“آفی کیا ہوا….””
دانیال نے آفریں کے چہرے کا رنگ اڑتا ہوا دیکها تو اسکی کی نظر کا تعاقب کرتے ہوئے پیچھے دیکھا تو اسکی نظر ازلان پر پڑی جو ابھی تک اسی پوزیشن میں آفریں کو ہی دیکھ رہا تھا اور آفریں کی بھی نظریں اس پر تھی اور چہرے پر عجیب سا خوف طاری تها
“آفریں کون ہے وہ……””
دانیال غرایا تو آفریں نے چونک کر اسکو دیکھا آفریں کو کچھ سمجھ میں نہیں آیا وہ تو بولنے کی ہمت بهی نا کر پائی
ازلان نے اپنا کام بنتے دیکھا تو مسکرایا اور ڈمپل اسکے دائین گال پڑا وہ چلتا ہوا انکے پاس آنے لگا اور سامنے پڑے گلدان سے ایک گلاب کا پھول اٹھایا
آفریں نے پِھر سے ازلان کو دیکھا جو انہی کی طرف آرہا تھا دانیال بھی حیران ہوتا ہوا ازلان کو ہی دیکھ رہا تھا
ازلان آیا… انکی ٹیبل پر ہاتھ رکھا… ایک نظر دانیال کو دیکھا جو کہ آنكھوں میں غصہ لیئے اسی کو دیکھ رہا تھا
اسنے مڑ کر آفریں کو دیکھا… ہلکا سا مسکرایا.. اور اُس کے بالون میں اسکی سائڈ بریڈ میں وہ گلاب کا پھول ڈَالا..
یہ سب اتنی جلدی ہوا آفرین کو سمجهہ نہیں آرہا تها کہ وہ کیا کرے
دانیال غصے سے اٹھ کھڑا ہوا آفریں نے جلدی سے ازلان کا ہاتھ جھٹکا ازلان سیدھا کھڑا ہوا اور بولا
“بہت خوبصورت لگ رہی ہو…..””
آفریں نے یہ سنتے ہی یکدم دانیال کو دیکھا جو غصہ ضبط کیئے ازلان کی ہمت کو دیکھ رہا تھا.. ازلان وہیں مسکراتا ہوا پهر سے آفریں کو تک رہا تھا
“کون ہو تم اور کیسے جانتے ہو اسکو…..””
دانیال اب ازلان سے پوچنے لگا
ازلان نے آفریں پر سے نظریں ہٹائی اور دانیال کو ایک آبرو اچکا کر دیکھا دو سیکنڈز دیکھنے کے بعد ازلان بولا
“یہ تم اسی سے پوچھ لو نا….””
ازلان پِھر وہ ہی مسکراہٹ لیئے بولا جو کے دانیال کو ایک دم زہر لگی تھی …. ازلان وہاں سے نکل گیا
اب دانیال نے آفریں کو گھورا تو آفریں ڈَر کے مارے سَر نفی میں ہلاتے ہوئے بولنی لگی
“ن نن نہیں دانیال م م میں اسکو نہیں جانتی….””
“چلو تم میرے ساتھ…..””
دانیال نے آفریں کے بالوں سے وہ پھول نکال کر زمین پہ پٹخا اور اسکا ہاتھ پکڑتا ریسٹورنٹ سے باہر لے گیا… اسکو گاڑی میں پھینکنے والے اندازِ میں بٹھایا
اور خود بھی آکر بیٹھ گیا اسکی پیشانی کی رنگیں تنی ہوئی تھی آنکھیں سرخ ہوگئی تھیں وہ چُپ چاپ ڈرائیو کر رہا تھا
اور سمندر پہ گاڑی روکی اور آفریں کا ہاتھ پکڑتا اسکو گاڑی سے باہر نکالا وہاں بہت ہوا چل رہی تھی ، آفریں کے بال اور دوپٹہ ہوا سے اڑ رہے تھے دانیال نے اپنا کوٹ اُتَار کر گاڑی میں پھینکا اور اُس کے بال اب ہوا لگنے کی وجہ سے بکھر چکے تھا
وہ آفریں کی طرف بڑھا… اور اسکا بازو اپنی مٹھیوں میں دبوچتا آنكھوں میں آنکھیں گاڑھ کر پوچنے لگا
“بتاؤ کون تھا وہ ؟ ؟ اور کیسے تمھارے پاس بڑہنے کی جُرت ہوئی اسکی ؟…..”
اب اس نے چلا کر کہا ” بتاؤ مجھے آفی…..”
آفریں خوف سے آنکھیں پھاڑے اسی کو دیکھ رہی تھی وہ دانیال کو غصہ ہوتے ہوئے پہلی بار دیکھ رہی تھی.. آفریں کی آنكھوں میں خوف کے ساتھ حیرت بھی تھی کہ کیسے اسنے ایک انجان کی بات کا یقین کر لیا ہے
“دانیال مجھے واقعی نہیں پتہ وہ کون ہے بس ایک دفعہ ریسٹورنٹ مین ملا تھا اُس کے ساتھ میری لڑائی ہوگئی تھی اسلیئے اب شاید اسنے مجھ سے بدلہ لینے کے لیئے یہ سب کیا……”
آفریں کو جو سمجھ آیا اسنے اسکو بتایا
دانیال نے اسکا بازو پکڑ کر خود سے اور قریب کیا آفرین کو اب دَرْد ہونے لگا تھا اور اسکی آنكھوں سے آنسوں جاری ہونے لگے
“میں کیسے یقین کرلون کے تم سچ کہہ رہی ہو ؟……”
دانیال نے گهور کر کہا اور لال آنکھیں آفریں پر گاڑ دی
“دانیال میری بات کا یقین کرو میں اسکو نہیں پہچانتی میں نہیں جانتی وہ کون ہے اور کیوں آج ایسا بول گیا ہے دانیال پلیز میرا یقین کرو اور اور دانیال تمہیں یقین نہیں نا تو تم حفسہ سے پوچھہ لو اسکو وہ ریسٹورنٹ والا سارا واقعہ پتا ہے…..””
آفریں روتے ہوئے اسکو یقین دلا رہی تھی دانیال نے سَر افسوس سے ہلایا اور ایک جهٹکے سے اسکا بازو چهوڑ دیا
“آفی گاڑی میں بیٹھ جاؤ جاکر….””
وہ دھیرے سے بولا
“دانیال میری بات کا یقین……..””
“آفی جاؤ میں نے کہا……””
آفریں نے اُس کے کندهے پہ ہاتھ رکھ کر کچھ بولنا چاہا تو دانیال نے اسکی بات کاٹ کر ہاتھ جھٹکا اور اس پہ چلاتی ہوئے بولا
آفرین کو دکھ ہوا کہ وہ کیسے کسی کی باتوں میں آکر اس سے اِس طرح بیہیو کر رہا ہے تو وہ جاکر گاڑی میں بیٹھی اور وہاں سے ہی دانیال کو دیکھ رہی تھی
جو کہ اب سمندر کنارے ریت پہ بیٹھا ہوا تھا اور بے بس ہوکر پانی کی مچلتی ہوئی لہروں کو دیکھے جا رہا تھا اُس کے بکھرے ہوئے بال شرٹ کے آگے کے اوپر والے دو بٹنز کھلے ، آفریں سے دانیال کی بکھری ہوئی حالت دیکھی نہیں جا رہی تھی .. آفرین کے چہرے پہ غصے کے آثار نمایاں ہوئے اور وہ خود سے بولی
“نفرت کرتی ہوں میں تم سے تم جو کوئی بھی ہو تمہیں میں کبھی معاف نہیں کرونگی ، نفرت ہے مجھے تم سے…..””
آفریں کی آنكھوں سے دو موتی گرے اور ازلان سے اپنی نفرت کا اظہار کرنے لگی
کہ کون ہے وہ شخص جو اسکی زندگی میں طوفان بن کر شامل ہو گیا ہے . .
اب دانیال جو اپنی سوچوں میں گم ریت کو مٹهیوں میں جکڑ چکا تھا دماغ پہ زور ڈالتا ہوا کچھ دنوں پہلے کے مناظر یاد کرنے لگا
آفریں کا ڈر کر مال سے نکلنا
کال پہ آفریں کا اپنی پریشانی کا اظہار کرنا اور پِھر وجہ نا بتانا
اور آج کا واقعہ …. جب وہ اسکو دیکھ کر جم گئی تھی
دانیال اب جو نہیں سوچنا چاہتا تھا وہ بھی اُس کے دماغ میں آرہا تھا وہ اپنے بال مٹهیوں میں جکڑ گیا
“آفی تم کیسے کر سکتی ہو میرے ساتھ ایسا….””!
وہ خود سے مخاطب ہوا اور گھڑی میں ٹائم دیکھا اسکو لگا اب ان دونوں کو گھر چلے جانا چائیے
وہ گاڑی میں بیٹھا تو آفریں کو دیکھا جو خاموش ہوكر کھڑکی سے سمندر کو دیکھ رہی تھی
“اپنا حلیہ ٹھیک کرلو نہیں تو گھر والے سوال کرینگے…..””
دانیال اسکا حلیہ دیکھتا ہوا بولا
بکھرے بال ، آنکھیں لال ، لب اور ناک بھی جو کے رونے کی وجہ سے لال تھے
آفریں نے اسکی آواز سنی تو اس کی بات پہ عمل کرتے ہوئے بنا اسکی طرف دیکھے اپنے بالو میں انگلیاں چلا کر بالو کو سیدھا کرنے لگی اور انداز ایسا کہ اس پہ احسان کیا
… وہ پِھر سے اسی پوزیشن میں بیٹھ گئی پر چہرے پر خفگی کے آثار صاف دکهائی دے رہے تهے….
دانیال خاموشی سے ڈرائیو کرتا گیا… اسنے پہلے اسکو گھر چھوڑ دیا پهر خود بھی گھر کے لیئے نکل گیا ….
جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *