Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Mujhy Ishq Tera Le Doba by Yusra Shah Episode15

Mujhy Ishq Tera Le Doba by Yusra Shah Episode15

ان بائیک پہ جا رہا تھا جب اسکی نظر حفسہ پہ پڑی جو کہ ڈرائیور کے ساتھ مال آئی ہوئی تھی اور اب باہر کھڑی ہو کر ڈرائیور کے آنے کا ویٹ کرنے لگی
ازلان کو یاد پڑا کے یہ وہ ہی لڑکی ہے جو اس دن آفریں کے ساتھ ریسٹورنٹ میں تھی تو اسنے بائیک سائڈ پہ روکی ، اسکو اسٹیندبائے پہ رکھ کر جیب سے ایک کالا رومال نکالا…
.
.
اسکو اپنے منہ پر باندھتا ہوا حفسہ کی جانب بڑها اور اس کے ہاتھ سے اسکا بیگ چهیں کر چار قدم کے فاصلے پر کھڑا ہو گیا حفسہ آنکھیں پھاڑے اسکو دیکھے گئی اور اسکی طرف بڑهنے لگی جیسے ہی دو قدم کا فاصلہ کم ہوا ازلان سامنے والی گلی کی طرف بھاگا تو حفسہ بھی اُس کے پیچھے بھاگی جیسے ہی حفسہ اس چهوٹی سی گلی میں آئی اسکو ازلان کہی نظر نہیں آیا..
وہ ادهر ادهر نظرین گهمانے لگی….
ازلان نے اچانک پیچھے سے جاکر اُس کے منہ پہ ہاتھ رکھ دیا حفسہ کی آنکھیں خوف سے پھیل گئی اور اپنے دونوں ھاتھوں سے ازلان کا ہاتھ هٹانے کی ناكام کوشش کرنے لگی ازلان نے اسکو دیوار سے لگا کر ہاتھ اُس کے منہ پر رکھ دیا کے وہ کہیں وہ شور نہ مچا دے
“دیکھو چُپ رہو چلانا مت اور ڈرنے کی ضرورت نہیں ہے نقصان نہیں پهونچاؤں گا تمہیں، ایک دو سوال کرونگا پِھر تم اپنا بیگ لیتی ہوئی چلی جانا…..””
ازلان نے اسکو تسئلی دیتے ہوئے کہا اور اسکے منہ سے اپنا هاتهہ هٹایا، اپنا کالا رومال ابهی تک اسنے اپنے منہ سے نہیں هٹایا تها
“اس دن وہ لڑکی کون تھی جو تمھارے ساتھ تھی ریسٹررنٹ میں ؟………”
ازلان نے سوال سنجیدگی سے پوچھا
حفسہ نے اسکی بھوری آنکھوں سے اندازہ لگایا کے وہ ہی لڑکا ہے اور اسکی بات سمجھ کر جلدی سے بولی
“آ اف آفرین….””
حفسہ کو اپنی جان چهڑوانے کی پڑی تهی
“آفریں ؟ ھم سوچ سمجھ کر نام رکھا گیا ہے…..””
ازلان خود سے بولتا ہوا حفسہ کی پرس میں سے موبائل نکلانے لگا ، موبائل آن کیا تو موبائل پاسورڈ مانگ رہا تھا
“پاسورڈ بتاؤ….””’
ازلان سنجیدگی سے بولا
“فا فہیم12…….”’
حفسہ نے نظریں چرا کر کہا
ازلان نے موبائل سے نظریں هٹائیں اور اسکو دیکھ کر بولا
“واہ سب کے سب ہی لیلا مجنوں ہو تم لوگ تو…..””’
ازلان نے کہتے ہی پاسورڈ لگایا اور آفریں کا نمبر سرچ کیا جو کے اسکو آفی کے نام سے ملا
“آفی کے نام سے سیو ہے اسکا نمبر ؟…..”
حفسہ نے ہاں میں سَر ہلایا…..
ازلان نے اپنی موبائل میں آفریں کا نمبر اتارا اور اپنا موبائل جیب میں رکھا پهر حفسہ کا موبائل اور پرس حفسہ کو دیتا ہوا وہاں سے چلا گیا
“اُف میرے خدا تیرا لاکھ شکر……””
اسنے اپنے سہی سالامت ہونی کا شکر منایا
“آفی کو پتہ چلا تو مار دے گی مجھے یار آفی سوری آج اسکا کہنا نا مانتی تو وہ خطرناک غنڈا پتہ نہیں کیا کرتا……””””
وہ دِل ہی دِل میں آفریں سے معذرت کرتی اپنی کار کی طرف چلنے لگی___________________________
.
.
.
ازلان گھر آیا تو رات ہو چکی تھی عظمہ بھی سو چکی وہ دبے قدموں اپنے کمرے میں گیا اس بڑی کھڑکی کے سامنے پڑے سنگل صوفے پہ بیٹھ گیا چاندنی کی بالکل ہلکی سی روشنی اس لمبی کھڑکی کے پردوں سے چهلک رہی تھی ازلان نے جیب سے سگریٹ اور لائٹر نکالا سگریٹ ہونٹوں میں دبائے ، تھوڑی کو اگے کر کے لائٹر سے سگریٹ جلائی اور لائٹر بیڈ پہ اچھال دیا
اسنے ایک کش لگایا اور دھواں منہ سے نکلتا گیا، اسنے سَر صوفے کی پشت سے ٹکا دیا اور موبائل آن کر کے گانا لگایا
جلارخی دکها کر ، مسکرا کر لوٹ لیتے ہیں
نگاہون سے نگاہون کو ملا کر لوٹ لیتے ہیں
یہ اچهی پردا داری ہے، یہ اچهی دل نوازی ہے
هنسا کر لوٹ لیتے ہیں، رلا کر لوٹ لیتے ہیں
گانا جیسے ہی اُس کے کانوں میں پڑا آفریں کا سراپہ اسکی آنکهون کے سامنے لہرایا
حسن والے وفا نہیں کرتے
عشق والے دغا نہیں کرتے
ظلم کرنا تو انکی عادت ہے
یہ کسی کا بهلا نہیں کرتے.””
اب وہ سرمئی آنکھیں اسکی آنکھوں میں سامنے آئیں وہ دیوانہ ہو چکا شیشے جیسی چمکتی آنکھیں اُس کے دِل میں قابض ہوگئی تهیں ….
اسکو روشنی پسند نہیں تھی پر آفریں کی آنکھوں کی چمک اسکو بھا گئی تھی وہ اس چمکتی آنکھوں میں خود کو صرف خود کو دیکھنا چاہتا تھا اور پھر اچانک دانیال کا وجود اسکی آنكھوں کے سامنے آیا
ازلان نے جھٹ سے آنکھیں کھولیں
اور اپنی آنكھوں کو انگلیوں سے مسلتا ہوا خد سے مخاطب ہوا
“آفریں تم بری طرح میرے حواسون پہ چھا رہی ہو….””
ازلان نے یہ کہتے ہی موبائل میں گانا بند کیا اور صوفے سے اٹھتا ہوا کمرے کے کونے کی طرف بڑا اور اپنا گٹار اٹھا لیا ،وہ اٹھا کر بیڈ پہ بیٹھا اور ایک ہاتھ سے گٹار بجا رہا تھا تو دوسرے ہاتھ سے سگریٹ کو دو انگلیوں میں پھسائے سگریٹ پھونک رہا تھا اسکی انگلیان جیسے ہی گٹار پہ چلی ایک بیسوری سی آواز نکلی تار ٹوٹنے کی وجہ سے
اسنے خفا ہوكر گٹار نیچے رکھ دی
اور بیڈ پہ چت لیٹا ، پِھر وہ ہی آنکھیں اسکو دکهنے لگی
“آفریں کتنا تنگ کرتی ہو بار بار….””
وہ مسکراتا ہوا بولا
اور سگریٹ کا چھوٹا سا ٹکڑا زمین میں پہ پھینک دیا
اپنا موبائل اٹھا کہ کچھ سوچ سوچ کے ٹائپ کرنے لگا اور مطلوبہ نمبر پر سینڈ کرتا ہوا اٹھ کر الماری سے رات کے لیئے کپڑے نکال کر فریش ہونے چلا گیا..
فریس ہوكر واشروم سے باھر نکلا کمرے کی لائٹس آن کی ، اپنا آفیس بیگ اٹھایا اس میں سے لیپ ٹاپ اور کچھ فائلز نکال کر آفیس کے کام میں مصروف ہو گیا، کام کرتے کرتے اسکو پانچ بج چکے تھے وہ جلد اَز جلد کامیاب ہونا چاہتا تھا اور اسکے لیئے اسکو جو کرنا پڑتا وہ کر رہا تھا کیوں کہ اسکو اپنا برسوں کا مقصد پورا کرنا تھا اپنے باپ بھائی اور بہن کے قاتل کو سزا دلوانی تھی اور اپنا حق بهی لینا تها اگر وہ ایسی ہی خالی هاتهہ فیضان کے سامنے چلا جاتا تو جو انسان اپنے بهائی کو اسی کی حویلی میں مروا سکتا ہے وہ خالی هاتهہ ازلان کو بهی اپنے راستے سے هٹا سکتا هے.. اور دادی نے بهی اسکو یہی کها تها کہ جب خود میں اتنی طاقت سمجهے کہ وہ فیضان سے مقابلہ کر سکتا تب ہی کوئی قدم اٹهائے……
اس لیئے وہ خود کو کم سے کم اس قابل تو بنانا چاہتا تها کہ وہ فیضان سے اپنی جائیداد مانگے تو کسی بنا پر اسکو دهمکا بهی سکے اوراسکو یہ موقعہ نہ دے سکے کہ وہ با اسانی ازلان کو اپنے راستے سے هٹالے….
اور کیس بهی کیا جا سکتا تها پر اسکے لیئے بهی پیسون کی ہی ضرورت تهی جس کے لیئے اب وہ دن رات ایک کر کے کام کر رہا تها…
کام کے معاملے میں وہ ہمیشہ ایسا تھا جس چیز کی ٹهان لیتا اسکو پورا کر کے ہی رہتا پِھر چاہے وہ اسکول اور کالج میں اول نمبر انا ہو یا کرکیٹ میچ میں ہمیشہ فتح حاصل کرنا ہو وہ جی توڑ محنت کرتا
اسکی آنکھیں نیند سے بھر چکی تھی اور اب ازانون کی آواز آنے لگی تو اسنے فائلز سمیٹین لیپ ٹاپ بند کیا ، لائٹس اوف کر کے مسجد کی طرف نکل دیا________________
جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *