Mujhy Ishq Tera Le Doba by Yusra Shah NovelR50767 Mujhy Ishq Tera Le Doba by Yusra Shah Episode12
Rate this Novel
Mujhy Ishq Tera Le Doba by Yusra Shah Episode01 Mujhy Ishq Tera Le Doba by Yusra Shah Episode02 Mujhy Ishq Tera Le Doba by Yusra Shah Episode03 Mujhy Ishq Tera Le Doba by Yusra Shah Episode04 Mujhy Ishq Tera Le Doba by Yusra Shah Episode05 Mujhy Ishq Tera Le Doba by Yusra Shah Episode06 Mujhy Ishq Tera Le Doba by Yusra Shah Episode07 Mujhy Ishq Tera Le Doba by Yusra Shah Episode08 Mujhy Ishq Tera Le Doba by Yusra Shah Episode09 Mujhy Ishq Tera Le Doba by Yusra Shah Episode10 Mujhy Ishq Tera Le Doba by Yusra Shah Episode11 Mujhy Ishq Tera Le Doba by Yusra Shah Episode12 (Watching)Mujhy Ishq Tera Le Doba by Yusra Shah Episode13 Mujhy Ishq Tera Le Doba by Yusra Shah Episode14 Mujhy Ishq Tera Le Doba by Yusra Shah Episode15 Mujhy Ishq Tera Le Doba by Yusra Shah Episode16 Mujhy Ishq Tera Le Doba by Yusra Shah Episode17 Mujhy Ishq Tera Le Doba by Yusra Shah Episode18 Mujhy Ishq Tera Le Doba by Yusra Shah Episode19 Mujhy Ishq Tera Le Doba by Yusra Shah Episode20 Mujhy Ishq Tera Le Doba by Yusra Shah Episode21 Mujhy Ishq Tera Le Doba by Yusra Shah Episode22 Mujhy Ishq Tera Le Doba by Yusra Shah Episode23 Mujhy Ishq Tera Le Doba by Yusra Shah Episode24 Mujhy Ishq Tera Le Doba by Yusra Shah Episode25 Mujhy Ishq Tera Le Doba by Yusra Shah Episode26 Mujhy Ishq Tera Le Doba by Yusra Shah Episode27 Mujhy Ishq Tera Le Doba by Yusra Shah Episode28 Mujhy Ishq Tera Le Doba by Yusra Shah Episode29 Mujhy Ishq Tera Le Doba by Yusra Shah Episode30 Mujhy Ishq Tera Le Doba by Yusra Shah Episode31 Mujhy Ishq Tera Le Doba by Yusra Shah Episode32 Mujhy Ishq Tera Le Doba by Yusra Shah Episode33 Mujhy Ishq Tera Le Doba by Yusra Shah Episode34 Mujhy Ishq Tera Le Doba by Yusra Shah Episode35 Mujhy Ishq Tera Le Doba by Yusra Shah Episode36 Mujhy Ishq Tera Le Doba by Yusra Shah Episode37 Mujhy Ishq Tera Le Doba by Yusra Shah Episode38 Mujhy Ishq Tera Le Doba by Yusra Shah Episode39 Mujhy Ishq Tera Le Doba by Yusra Shah Episode40 Mujhy Ishq Tera Le Doba by Yusra Shah Episode41 Mujhy Ishq Tera Le Doba by Yusra Shah Episode42 Mujhy Ishq Tera Le Doba by Yusra Shah Episode43 Mujhy Ishq Tera Le Doba by Yusra Shah Last Episode
Mujhy Ishq Tera Le Doba by Yusra Shah Episode12
Mujhy Ishq Tera Le Doba by Yusra Shah Episode12
آفریں حفسہ کے کمرے میں آئی تو حفسہ بیڈ پر بیٹھے سینڈل پہن رہی تھی
حفسہ لائٹ پنک پیروں تک آتی فروک میں ملبوس تھی اور اس پر نارنجی دوپٹہ سر پر ٹکایا ہوا تھا بال کرلی کر کے اگے کو ڈالے ہوئے تھے ایک سلور چوکر کے علاوہ کچھ نا پہنا تھا وہ اس روپ میں کھل اٹھی تھی_
“چھپی رستم کہیں کی، میرے بھائی سے چکر چلایا اور مجھے کانوں کان خبر نا ہوئی…….”
آفریں بیڈ پر اُس کے پاس بیٹھی اور ایک مکا اُس کے شانے پر رسید کرتی ہوئی اسکی کلاس لینے کے موڈ میں بولی..
“یار آفی کیسی باتیں کر رہی ہو میرا کوئی چکر وکر نہیں ہے تمھارے اس جلاد بھائی سے وہ تو خود جلاد نے ہی رشتہ بھیجا تو مام ڈیڈ نے ہاں کرلی…..”
حفسہ اپنا شولڈر سہیلاتی ہوئی بولی
“بڑی چالاک ہو حفی جلاد جلاد بول کر جال میں ہی پھنسا لیا میرے بھائی کو…..”
آفریں اسکو شرارت سے دیکھتی ہوئی بولی
“اُف آفی تم تو بس پتہ نہیں کیا سے کیا بولتی ہو اور یوں آرام سے بیٹھی ہوئی کیوں ہو میری تعریف کرو آج، یار میں نے بھی تمہاری انگوٹهی کی رسم میں کی تھی نہ تعریف تمہاری…”
اب حفسہ بگڑ کر بولی تو آفریں اسکی بات پر ہنس دی
“چلو سنو میری جان اپنی تعریف… آج تم بالکل ایک مرجھایا ہوا پھول لگ رہی ہو،،،، لو کرلی تعریف کیا یاد رکهو گی کہ آفریں حسن نے تمہاری تعریف کی ہے…..”
آفریں مسنوئی کالر جهاڑتے ہوئے بولی اور حفسہ کا منہ بن گیا اسکی اتنی عجیب سی تعریف سن کر اور برا سا منہ بناتی بولی
“بھاڑ میں جاؤ تم تو آفی……”
“اچھا اب چلو تمہارا جلاد بیٹھا ہے نیچے تمھارا ہاتھ پکڑنے کے لئیے بیتاب ہو رہا ہے…..”
آفریں اسکا ہاتهہ پکڑتی ہوئی نیچے لائی اور فهیم کے سامنے بٹھا دیا آنگوٹهی کی رسم کے بعد سب نے ایک دوسرے کو مبارک باد دی اور سب ایک دوسری سے خوش گپون میں مصروف ہوئے تو حفسہ نے آفرین کو اوپر چلنے کا بولا، آفریں اسکو لیئے اوپر اپنے کمرے میں لے گئی اور غزل کی آواز پہ واپس نیچے آگائی …
اب وہ فھیم کے پاس بیٹھی تھی تو فھیم نے موقع دیکھ کر اسکو هلکی آواز میں کہا
“آفی سن .. یار حفسہ سے ملا سکتی ہو ابھی کے ابھی…..””
“بھائی ابھی تو منگنی ہوئی ہے آپکی، اتنے بے صبرے کیوں ہو رہے ہیں آپ…..””
آفریں حیران ہوتی بولی
“تمہیں جتنا کہا ہے اتنا کرو بندریا زیادہ لیکچر مت دو….”
فھیم اب اس پہ بگڑا
“اب تو دیکھتی ہوں میں بھی کہ کیسے ملتے ہو آپ اپنی منگیتر سے…..””
آفرین بهی موقعے کا فائدہ دیکھ کر اسکو دهمکانے لگی
“چل نا آفی ملاؤ پلیز…..””
فھیم بےبسی سی بولا
“پہلے سوری……””
آفریں نے آبرو اچکا کر اُسے سوری کی فرمائش کی
“سوری آفی میری پیاری بہنا ….. اب جلدی کچهہ کرو جاؤ…..””
فھیم دانت پییستا ہوا بولا
“جاتی ہوں کیا یاد رکهیں گے……”
آفریں بالوں کو ایک ادا سے جهٹکتے ہوئی اٹھی اور لان سے نکل کر گھر کے اندر داخل ہوئی، حفسہ کو چهت پر لیکر گئی حفسہ اسے پوچھتی رہ گئی مگر افرین نے اسکو کچھ نا بتایا اب آفریں نے فھیم کو میسج کر کے چهت پہ بلایا تو فھیم واشروم کا کہہ کر اندر آگیا اور چهت پر گیا
حفسہ نے فہیم کو دیکھا تو آفریں کی پوری کارستانی سمجھ گئی . اور آفریں دانت نکالتی ہوئی وہاں سے چلی گئی اور باہر کا پہرہ دینے لگی
حفسہ اسے پُکارتی رہ گئی پر اسنے حفسہ کی سنی ان سنی کردی …
“یہ منگنی مبارک ہو جلادنی…..””
فھیم اُس کے پاس کھڑا سینے پہ بازو باندھتا ہوا بولا
“میں جالادنی تو نہیں ہوں…..””
وہ بگڑی اور آفریں پہ غصہ الگ سے
“جالادنی تو ہو جو اِس جلاد کو اپنے پیار میں دیوانہ کر دیا ہے…..””
وہ مسکراتا ہوا بولا
“آپ دیوانے ہوئے ہو تو اِس میں میرا کیا قصور…..””
حفسہ نے اسکو نا سمجھی سے دیکھا
“پاگل ہو یار تم تو بلکل….””
اب فھیم بھڑک کر بولا
“میں نے کیا کیا……””
حفسہ نے اپنا قصور جاننا چاہا
“یار مطلب آدمی رومینٹک ہونے کی کوشش کر رہا ہے اور تم ہو کے اوٹ پٹانگ باتیں کر کے رومینس کا حلوہ بنا دیتی ہو….””
فھیم بیچارگی سے بولا … بیچارے کا رومینٹک موڈ کا حلوہ جو بن گیا تھا
“یہ رومینس وغیرہ شادی کے بعد ہی اچها لگتا ہے…””
حفسہ کی بات پِھر سے اسکو هنسے پر مجبور کر گئی پر وہ ہنسی دبا گیا
“ھممم.. سہی ہے اور یہ لو تمھارے لیئے لایا تھا…..””
فھیم نے اسکی بات پر سر ہلایا اور جیب سے ایک بریسلیٹ نکالا جو کہ گولڈ کی پتلی چین سے بنا ہوا تھا اور بیچ میں دِل بنا ہوا تھا
“آپ یہ کیوں لائے میں یپ نہیں پہنوگی آپ رکھ لیں اپنے پاس….””
حفسہ سٹپٹاتی ہوئی بولی اور فھیم نے ایک جهٹکے سے اسکا ہاتھ پکڑا اور اسکو وہ بریسلیٹ پہنایا
“اب میں اسکو تمہارے ہاتھ سے اترتا ہوا نا دیکھوں…..””
فھیم نے جیسے ہی کہا حفسہ نے جلدی سے اپنا ہاتھ اس سے آزاد کیا اور وہاں سے نکل دی اِس بار فھیم نے اسکو جانے دیا اسکو روکنے کی کوشش نا کی ویسے بهی اب حفسہ کو پا کر اُس کے چہرے پر اطمینان تاری تها….___________________________________
.
.
آفریں اور حفسہ یونیورسٹی سے واپسی پر ایک پارْک میں آکر بیٹھی ہوئی تھیں .. ہر جگہ سبزی تھی سورج بھی ڈوبنے کو تھا اور ہلکی ہلکی هوا نے وہاں کا ماحول پرسکون بنایا ہوا تھا وہ دونوں بینچ پر بیٹھی ہوئی باتیں کر رہی تھی
آفریں بلیک گھٹنوں سے اوپر آتی ہالف سلیوز شرٹ اور نیوی بلو پینٹ پہنے، گردن میں اسکن کلر کا اسکارف لپیٹے ہوئے بیٹھی تھی… اور حفسہ پرپل کرتی پہ بلیک شلوار اور بلیک دوپٹہ سینے پہ پھیلائے بیٹھی تھی
دونوں باتوں میں مگن تھی جب آفریں کی نظر ایک شخص پہ پڑی
سنجیدہ چہرہ لیئے نیوی بلیو اور ییلو چیک پہ شرٹ، بلیو جینس اور ھاتھوں میں وہ ہی بینڈس …
وہ اس شخص کو دیکھ کر اپنی جگہ برف کی بن گئی اسکو حفسہ کی بولتی ہوئی آواز نہیں سنائی دے رہی وہ ہوش کی دُنیا میں تب لوٹی جب حفسہ نے اسکو کندہوں سے جنجهوڑا
“تم سے ہی بات کر رہی ہوں ، کہان گم ہوگئی…..”
“حفسہ یہیں بیٹھو میں پانچ منٹ میں آتی ہوں….””
وہ حفسہ کی بات کا بنا جواب دیئے وہاں سے اٹھی اور اپنا کلچ اٹها کر تیز قدموں ازلان کا پیچھا کرنے لگی
وہ موبائل میں ٹائیپنگ کرتا مصروف انداز میں چل رہا تھا آفرین تیز تیز قدم اٹھا رہی تھی
اب ازلان پارْک کے ایک کونے میں آیا تھا جہاں آس پاس کوئی شخص نہ تھا اور ایک گھنے پیڑ کے نیچے ایک لکڑی کی بینچ کو دیکھ کر اسکی طرف بڑا، وہاں بیٹھ گیا پِھر موبائل میں ایک نمبر ڈائل کرنے لگا اور موبائل کان سے لگائی
“ہاں سر کل تک پروجیکٹ ریڈی ہوجائیگا ……”
وہ اپنے باس سے بات کر رہا تھا جب اسکی نظر تیز قدموں چلتی ہوئی آفریں پہ پڑی جو اسی کو دیکھ کر اسکی طرف بڑھ رہی تھی
“او کے سر اللہ حافظ….”
اسنے فون کاٹ کر فون جیب میں رکھا پر اِس کاروائی میں اسنے ایک بار بھی نظریں آفریں پر سے نا هٹائی
وہ کبھی بھی لڑکیوں میں دلچسپی نہیں لیتا تھا پر وہ چلتی ہوئی نازک سی لڑکی جسکے لمبے کمر تک آتے بال جو کہ ہوا سے اڑ کر اسکا چہرہ چھو رہے تھے اور وہ ان کو هٹانے کی بھی تکلیف نہیں کر رہی تھی وہ اسکو خود پر نظریں ٹکانے پر مجبور کر گئی وہ اب اُس کے سامنے کھڑی تھی اور لمبی لمبی سانسیں لے رہی تھی تیز چلنے کی وجہ سے اسکی سانس پھول گئی تھی
ازلان کو اپنے کان سن ہوتے محسوس ہوئے آس پاس کا ہر ایک منظر اسکو بلیک اینڈ وائٹ دکهنے لگا اور فوکس تھا تو صرف اس پری جیسی لڑکی پر ، اسکو ساری دُنیا رکتی ہوئی محسوس ہونے لگی ، وہ اپنی جگہ سے ہل نہیں پایا
جب آفریں نے اسکی نظریں خود پر مرکوز ہوتے دیکھیں تو گهور کر اسکو دیکھا
اسکا سرمئی رنگ کا آئی بال بڑا ہو گیا اور گهنی لمبی پلکیں اوپر کو اٹھی ، آنکھوں میں غصہ تھا جو کہ ازلان کو پاگل کر گیا ، ازلان کی دھڑکنیں بے ترتیب سی چلنے لگی ازلان کو آفریں کی آنکھیں بھا گئی اور اسکو لگا اسنے ایسی خوبصورت آنکھیں پہلے کبھی نہیں دیکھی ازلان کو یوں محسوس ہوا مانو کہ وہ اسکی جھیل سی آنکھوں میں ڈوب گیا ہو اور بے اختیار اُس کے لبوں سے ایک لفظ پھسلا
“لاجواب……””
جیسے ہی آفریں نے سنا اسکی ناک غصے سے لال ہوئی اور وہ چلا کر بولی
“کیا کہا اپنے ؟…..”
ازلان اُس کے چلانے پر ہوش میں آیا اور وہ تو خود بھی حیران تھا کہ وہ کیسے اس میں کھو گیا اور خود کو سنبھالتا ہوا اس پر سے نظریں ہٹاتا ہوا بولا
“تم یہاں بھی اگائی…..””
“کیا مطلب…….” آفریں اسکی بات نہیں سمجھی
“کیوں کر رہی ہو تم میرا پیچھا ؟ پہلے ریسٹورنٹ اور اب یہاں پارْک میں بھی ؟ مسئلہ کیا ہے تمہارا ….”
اب ازلان کے لہجے میں غصہ تھا اور وہ اسکی آنكھوں میں آنکھیں ڈالتا ہوا بولا آفریں کو اسکی بھوری اور چامکدار آنکھون سے خوف آنے لگا اور اسکی بات سن کر وہ شرمندہ ہوئی کہ وہ کیا کر رہی تھی کچھ دنوں سے تو آفریں نے اپنی نظریں جھکا لیں..
“تم جیسی لڑکیون کا کچھ نہیں ہو سکتا …..”
ازلان نے اسکو چُپ دیکھا تو ایک اچهاتری نظر اس پہ ڈالتا ہوا بولا
اور پِھر وہ ہی جملے جنہوں نے آفریں کو اتنے دن سے بیچین کر رکھا تھا وہ ہی جملے دوبارہ سن کر وہ اپنے آپے سے باہر نکلی اور بهڑکتی ہوئی اسکے گریبان میں ہاتھ ڈَلا اور آنکھیں اس کی آنكھوں میں ڈالتی ہوئی بولی
“اس “میری جیسی” کا کیا مطلب ؟ اور اس دن بھی تم نے یہ جملے کہے تھے نا …. تمہارے ان گھٹیا جملون کی وجہ سے میں کتنے دن بیچین رہی ہوں اور اسی لیئے تمہیں ڈھونڈتی رہی کہ تمہیں سیدھا جواب دے سکوں اِس بات کا تاکہ میرے دِل کو تو سکون پڑے …. اور اپنی اِس بیتوکی بات کا مفہوم بھی آج مجھے بتا ہی دو تم…..”
ازلان حیران ہو گیا اس لڑکی کی جُرت دیکھ کر یہ پہلی بار تھا کہ ازلان کا کسی نے گریبان پکڑا تھا اور سہی سالامت تھا ورنہ کوئی اور ہوتا تو ازلان ضرور اسکو سبق سکھاتا جو کہ وہ کئی بار کر بھی چکا تھا …. ازلان کو تو ان سرمئی آنکھوں نے روک لیا تھا جن میں وہ اب اپنا عکس دیکھ رہا تها
ازلان نے نرمی سے اُس کے ہاتھ اپنے گریبان سے ھٹائے اور اب اُس کے دونوں ھاتھوں کو مضبوطی سے تھامتے آفرین کو اپنی طرف کهینچ دیا جسکی وجہ سے آفریں سیدهہ بینچ پر گرنے کے سے انداز میں بیٹھتی چلی گئی اور ازلان نرم لہجہ اپناتے ہوئے بولا
“ڈریسنگ دیکھی ہے تم نے اپنی …. اس دن اسی ڈریسنگ کی وجہ سے ان لڑکوں کی گندی نظریں تھی تم پر اور اسی وجہ سے انہوں نے تمہیں چهونے کی کوشش کی تھی اور اسلیئے میں نے وہ جملہ بولا اور ہاں رہی اب کی بات تو میں نے غلط سمجھ لیا اور آئیندہ کسی کی باتوں کو دِل پر لے کر اسکا پیچھا مت کرنے لگ جانا ورنہ لوگ غلط ہی سمجهلیں گے…..”
اب ازلان نے اُس کے چہرے سے نظر ہٹائی اور اُس کے ھاتھوں کو دیکھا “
“اور یہ جو ہاتھ ہیں نا پہلی لڑکی کے ہاتھ ہیں جو میرے گریبان تک گئے ہیں …. اسکی سزا تو تمہیں مل کر رہے گی…..”
ازلان وارننگ بھی نرم لہجے میں دے رہا تھا آفریں اسکی باتیں سن کر سن ہوگئی تھی اسکو اسکی ڈریسنگ پہ کی گئی بات کہیں نا کہیں سہی لگی پر دماغ اِس بات سے انکاری تھا
اور آفریں سن ہوكر ازلان کی چامکدار آنكھوں میں دیکھے گئی
“ایسے دیکھو گی تو میں واقعی میں غلط سمجھ لونگا….”
ازلان سنجیدگی سے بولا تو آفریں نے جھٹ سے اُس کے ھاتھوں سے اپنے ہاتھ آزاد کیئے اور اس بینچ سے اٹھ گئی
“تم میری سوچ سے بھی زیادہ گھٹیا نکلے….””
آفریں دانت پییستی ہوئی بولی
“اچها……””
ازلان نے ایسے کہا جیسے اپنے بارے میں ایک خوبی جان لی ہو
“ڈهیٹ کہیں کے……””
آفریں یہ کہتی ہوئی وہاں سے چلی گئی اور ازلان اسکو دیکھتا رہ گیا ازلان کو اسکی ہمت امپریس کرگئی تھی اور اسکی آنکھیں ازلان کو دیوانہ کر گئی تھیں وہ ان آنکهون میں ڈوبنے کا خواہشمند ہوا..
اُس کے دِل میں ایک خواہش نے جنم لیا کہ وہ اب صرف خود کو ہی ان آنكھوں میں دیکھنا چاہتا ہے ، ازلان نے اب اسکو حاصل کرنے کی ٹهان لی تھی اور یہیں سے اس عشق کی داستان شروع ہونے کو چلی تهی… _____________________________
.جاری ہے
