Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Mujhy Ishq Tera Le Doba by Yusra Shah Episode31

Mujhy Ishq Tera Le Doba by Yusra Shah Episode31

ازلان اور آفرین گهر واپس آئے تو آفرین کو اوپر بهیجتا ہوا عزمہ کے کمرے میں گیا…..
عزمہ پریشان سی صوفے پر بهیٹهی ہوئی تهی…
“امی آپ کو بات کرنی تهی مجهہ سے کچهہ…….””””
ازلان صوفے پہ بیٹهتا ہوا بولا
“ازلان آخر چلا لی نہ تم نے اپنی… نہںن اہمیت دی نہ میری بات کو…..””””
عزمہ اس سے خفہ ہوتے ہوئے بولی
“امی آفرین کی وجہ سے آپ کیوں……””
“میں فیضان کی بات کر رہی ہوں…….”””
عزمہ نے اسکی بات کاٹ کر تصیح کی….
“فیضان کی کیا بات کرنی ہے آپکو…..””””
“فیضان کے خلاف کیس کرنے جا رہے ہو تم…..”””
عزمہ کے لہجے میں اس بار غصہ تها….
“تو اسنے آپکو شکایت لگا دی واہ… اور ہاں کرونگا میں اس پر کیس…..”””
ازلان چبا چبا کر بولا
“مطلب تم بهولے نہیں ہو نہ کچهہ بهی… ابهی سب کچهہ ٹهیک ہوا ہی ہے کہ تم پہر سے….. کیوں آخر خاندان کو ایک بار پہر تباہ کرنے پر تلے ہوئے ہو…..”””
“تباہ مین کر رہا ہوں ؟؟ اور اسکا کیا جب سالوں پہلے اسنے مجهے ، میری فیملی کو تباہ کیا تها… اور کونسے خاندان کی بات کر رہیں ہیں آپ امی ؟ جو صرف جهوٹ کی دیواروں کے سہارے ایک ساتهہ کہڑا ہے… نہیں بهول سکتا میں وہ سب کچهہ….. نہیں بهول سکتا کہ کیسے میرا بچپن مجهہ سے چهینا گیا….. کیسے میرے باپ کو مارا گیا…. خون گهولتا ہے میرا جب اس فیضان کو سہی سلامت دیکهتا ہوں……”””
ازلان کی آنکهوں مین کرب تها…
“کرو یہ سب شوق سے کرو.. پر پہلے مجهے مار دو… پهر جو دل میں آئے کرنا…. فیضان اور تم میں فرق ہی کیا رہا… اسنے بهی اپنی خواہشوں کے خاطر خاندان کو برباد کیا.. تم بهی وہ ہی کر رہے ہو……””””
“امی ایسی بات پهر کبهی مت کرنا، اللہ کرے میری عمر بهی آپ کو لگ جائے…. نہیں کهونا چاہتا میں اب اپنوں کو… اور فیضان نے اپنی خواہشون کے خاطر کیا تها.. میں بس اپنے بابا کو انصاف دلانے کے خاطر رہا ہوں…. ان کا قاتل ایسے آزاد گهوم رہا ہے……..””””
ازلان صوفے سے اٹهتا ہوا بولا…
“تم بهلے ہی فیضان نہ بنو… پر تم نے آفرین کو غزل بنا دیا ہے.. اپنے فائدے کے لیئے اس سے شادی کر کہ…….””””
عزمہ کی پیچهے سے آتی آواز نے آزلان کے قدم روک دیئے.. وہ حیرت زدہ آنکهوں سے مڑ کر عزمہ کو دیکهے گیا…
“میں نے کسی فائدے کے لیئے یہ سب نہیں کیا….. عشق کرتا ہوں میں آفرین سے……””””
ازلان سخت لہجے میں بولتا ہوا وہاں سے جانے لگا….
“کیس واپس نہیں لوگے تم…..”””
عزمہ نے ایک بار پهر پوچهنا چاہا….
“ہر گز نہیں…. سوری امی…..””””
ازلان کہتا ہوا وہاں سے چلا گیا…
اور عزمہ سر تهامے بیٹهی رہی… وہ نہیں چاہتی تهی کہ اسکی بہن غزل کا بهی گهر خراب ہو
_________________________________________
.
.
آفرین کی نیند سے آنکهہ کهلی تو گہرا اندهیرا دکها اسکو…. سامنے ازلان لیٹا ہوا تها… آفرین گنودگی میں پهر سے اسکی چهوٹی انگلی تهامے سونے لگی…….
“ویسے اس وجہ سے بهی مجهے اندهیرا پسند ہے…..””””
ازلان کی آواز سن کر آفرین نے آنکهیں کهولی اور جهٹ سے اسکی انگلی چهوڑ دی…..
“تم جاگ رہے تهے؟؟…….”””
“نہیں…. ایک خوبصورت لمس کو محسوس کیا تو آنکهہ کهل گئی……”””
اندهیرے میں ڈوبے ہوئے کمرے میں ازلان کی آواز گونجی…
“وہ تو بس نیند میں ہی ایسا ہوگیا ہوگا…..””””
آفرین یہ کہہ کر کروٹ لیئے سو گئی….
جب کچهہ دیر بعد پهر اسکو نیند نہیں آئی تو پہلے ازلان کے ہاتهہ پر انگلی رکهے چیک کرنے لگی کہ واقعی سو گیا ہے کہ نہیں جب اسکو یقین ہوا تو پهر سے اسکی انگلی پکڑ کر سو گئی… اسکو اس سے تحفظ محسوس ہوتا جو کہ اسکو سکون دینے لگا تها
_________________________________________
.
.
.
فہیم آفس لے لیئے تیار ہو رہا تها جب حفسہ اسکے لیئے چائے لے کر آئی….
“پهر سے یہ کڑوی چائے…….”
فہیم چائے کو دیکهتا ہوا بری شکل بنائے سوچے گیا…
“فہیم ابهی ابهی….. تو شادی ہوئی… ہے ہماری… اور ابهی سے ہی …. آفس……”””
حفسہ جهجهک کر بولی….
“نہیں چشمش ممکن نہیں ابهی چهٹی کرنا…….””””
فہیم چائے کا سپ لیتا ہوا بولا
“لیکن کیوں……”””
“کیونکہ بینش سے ملنے جانا ہے نہ……”””
فہیم قہقہ لگاتا ہوا بولا
“کیا مطلب……”””
حفسہ اسکو گهورتی ہوئی بولی
“اب انگریزی یا عربی تو بولی نہیں میں نے کہ مطلب بهی سمجهاؤں……”””
فہیم شرارت سے بولا…. جو ہر وقت کرنا اسکی عادت تهی
حفسہ دانت پیستی رہ گئی
“جل رہی ہو نہ تم…..”””
فہیم اپنا پلین کامیاب دیکهتا ہوا بولا
“نہیں تو میں کیوں جلوں……”””
حفسہ شانے اچکائے بولی
“ہاں ہاں…مجهے تو بو آرہی ہے کہیں سے جلنے کی……”””
فہیم کمرے میں نظرین گمائے بولا
“اچها چائے کیسی تهی……”””
حفسہ موضوع بدلنا چاہتی تهی
“بالکل تمہارے جیسی کڑوی……””””
فہیم اپنا کوٹ پہنتا مسکرا کر بولا….
“جلاد……””””
حفسہ کہہ کر کمرے سے باہر چلی گئی….
__________________________________________
.
.
.
آفرین کی آنکهہ کهلی تو ازلان کی طرف دیکها… جو اپنی شرٹ پکڑے سئی دهاگا لیئے اسی میں الجها ہوا تها….
آفرین نے اسکو دیکها.. جو سفید بنیان اور بلیک پینٹ پہنے کہڑا تها… آفرین اسکو بنیان میں دیکهتی ہوئی پهر سے کمبل اپنے سر تک چڑہا گئی
ازلان نے اسکو یوں کرتے ہوئے دیکهہ لیا تها…
“زیادہ ایکٹنگ مت کرو اب اور اٹهہ کر مجهے بٹن لگا کہ دو…..”””
ازلان اپنی شرٹ سے خفہ ہو کر اسکو بیڈ پر پهینکتا ہوا بولا
“میں نہیں لگا رہی کوئی بٹن وٹن…..””””
آفرین کی کمبل سے آواز آئی تو ازلان نے اسکی ضد سے تنگ آتا ہوا اسکے کمبل کو کهینچا….
آفرین جهنجهلا کر اٹهہ بیٹهی….
“حد سے زیادہ بدتمیز ہو تم ازلان……”””
“ہاں مجهے معلوم ہے… اب آؤ یہ بٹن لگا کر دو جلدی… کبهی تو کام آجایا کرو…..”””
ازلان شرٹ کو دیکهتے ہوئے خفگی سے بولا….
“کوئی اور شرٹ پہن لو…..”””
آفرین اپنی آنکهوں پر ہاتهہ رکهے بولی
ازلان کو وہ اس طرح بہت اچهی لگی….
“نہیں اب چینج نہیں کرونگا لیٹ ہو رہا ہے… جلدی سے لگادو…..”””
ازلان اسکو دیکهتا ہوا مسکرا کر بولا
“پہلے شرٹ پہنو… میں ایسے نہیں لگانے والی بٹن……”””
آفرین اسی طرح آنکهوں پہ ہاتهہ رکهے بولی….
“اف اللہ ایک تو تمہارے نکهرے…..”””
ازلان شرٹ پہنتا ہوا بولا…
آفرین سئی دهاگا لیئے اسکے سامنے کهڑی ہوئی
وہ ازلان کے سینے تک ہی آرہی تهی
وہ بٹن کو بمشکل لگا پا رہی تهی… اسکو یہ کام نہیں کرنا آتا تها
ازلان دلچسپی سے اسکی الجهن بهری آنکهوں کو دیکهے گیا…
“ایسی آنکهوں سے اللہ بچائے…..”””
ازلان کے یہ کہتے ہی آفرین نے سئی اسکے سینے میں چهبا دی…….
“سسس…. پاگل ہو کیا…..”””
ازلان کا لہجہ پهر سے خفا ہوا…..
“چپ کر کہ کهڑے رہو… اوکے……”””
“اوکے میری جنگلی بلی….”””
ازلان کے بٹن جڑتے ہی وہ کوٹ پہنے آفس کے لیئے نکل دیا….
کهانا کها لینا تم یاد سے……”””
ازلان آفرین کو کہتا ہوا چلا گیا…
‘بڑا آیا…کهانا کها لینا……””””
آفرین دروازے کو گهورتے ہوئے بولی.. جہان سے وہ جا چکا تها……
__________________________________________
.
.
فہیم آفس سے لوٹا تو اُس کے چہرے پر پریشانی نمایاں تھی ازلان کی باتوں کی وجہ سے….. ازلان نے آج اسکو ساری فیضان اور اپنی ملاکاتوں کی رکارڈنگز سناوائی تهیں…..
وہ ازلان سے اپنے باپ کے خلاف لڑنے کا وعدہ کر آیا تھا پر دِل میں باپ کی محبت کو وہ دبا نہیں پایا اور یہی سوچے گیا کہ کیسے انکے خلاف جائیگا…. لیکن غلط غلط ہوتا ہے…. سچ تو یھی تھا کہ اسکا باپ قاتل ہے…. وہ پریشان ہوتے ہوئے ٹائی کی ناٹ ڈھیلی کرتا بیڈ پہ بیٹھا اور حفسہ جو کہ صوفے پہ بیٹھی کوئی کتاب میں گم تھی…. فھیم نے اسکو ایک نظر اٹھا کہ بھی نہیں دیکھا تھا کہ وہ کمرے میں بیٹھی بھی ہے یا نہیں….حفسہ کو اس پہ غصہ آیا… جو کہ صبح سے اسکی صبح والی باتوں پر تها… اسنے بک زور سے بند کی اور ٹیبل پہ زور سے پٹخ ڈَالی… اسکی آواز پہ فھیم نے نظریں حفسہ کے چہرے کی طرف کی…. جہاں اسکو خفگی واضع دکھائی دی
“کیا ہوا مسئلا ہے کوئی ؟ ؟……”””
فھیم کا لہجہ سرد تھا….
‘مجھے کیا مسئلا ہونا ہے بھلا….. آپکو ہی مسئلا ہے مجھے تو لگتا ہے……”””
حفسہ ناراض ہوتے ہوئے بولی
“مجھے کچھ سمجھ نہیں آرہی تمہاری باتیں… جاؤ اور جاکر چائے لے کر آؤ میرے لیئے……”””
فھیم الماری سے کپڑے نکالتا ہوا بولا
اور حفسہ جو کہ ٹس سے مس نا ہوئی تھی… فہیم اُس کو یوں دیکھ کر غصہ ہوا….
“سنائی نہیں دیا کیا تمہیں ؟ ؟……”””
فھیم کی غصے بھری آواز سن کر حفسہ اسکو اپنا ” لقب ” دیتی ہوئی چائے لینے چلی گئی فھیم سَر جهٹکتا ہوا واشروم گھس گیا ….
حفسہ چائے لے کر آئی تو فھیم کو بیڈ پہ بیٹھا دیکھا . .
اسنے سائڈ ٹیبل پر کپ رکھ دیا اور وہاں سے جانے لگی تو فھیم نے اسکا ہاتھ پاکڑ کر اسکو روکنا چاہا
“کیا ہوا ہے تمہیں ؟ ؟……”””
“کچھ بهی تو نہیں….””
حفسہ وہیں بیٹهتی ہوئی نظریں جھکائے بولی
“خفا ہو کسی بات پر…..؟؟”””
فھیم نے اُس کے چہرے سے اندازہ لگایا . .
“آج آفس ہی گئے تھے نا آپ ؟…..”””
حفسہ کے سوال پر فھیم نے اسکو نا سمجھی سے دیکھا اور بولا
“کیا مطلب ؟ تمہیں بتایا تو تھا کے آفس جاؤنگا آج……”””
“شادی کے پہلے دوسرے دن ہی آپکو آفس یاد آگیا…..”””
حفسہ کا شکوہ لبوں سے پھسل ہی گیا….
“شادی ؟ کیسی شادی…. تم بھی جانتی ہو کن حالاتوں میں شادی ہوئی ہماری… اور کام زیادہ تھا اسکپ نہیں کر سکتا تھا…..”””
فھیم نے وضاحت دینا ضروری سمجھی… اور شادی والی بات سارا دن ٹینشن مین رہنے کی وجہ سے نکل گئی اسکے منہ سے…
“آفس بھی گئے تھے یا نہیں… کسی کو کیا معلوم….”””
حفسہ اِس بار نظریں جھکائے بولی
“کیا مطلب ؟ ؟ اور آفس نہیں جاؤنگا تو کہاں جاؤنگا میں ؟ ؟……”””
فہیم اِس بار اسکی بے اعتباری دیکهہ کر اس پہ غصہ ہوتے ہوئے بولا
“بینش سے…….””
حفسہ اتنا ہی بولی
فھیم نے اسکو جھٹ سے بازو سے پکڑ کر خود سے قریب کیا …. اسکو اسکی بات پہ پہلے غصہ آیا پهر حفسہ کی بات پر ہنسی بھی آگئی جس کو وہ چھپا گیا….
“تمہیں میں نے اسلیئے بتایا تھا کہ شک کرنے بیٹھ جاؤ…..”””
فھیم اسکی آنکھوں میں دیکھتا ہوا بولا
“شک نہیں کر رہی بس پوچھ رہی تھی میں تو…..”””
حفسہ اپنا بازو چهڑواتے بولی
فھیم کو ہنسی آنے لگی تو نیچے سَر کر کہ پهر سے اوپر اٹھایا
“شک ہی ہوا نا… اور مطلب تم مجھ پہ اعتبار نہیں کرتی نہ……..””” فھیم سنجیدہ ہوا
“کرتی ہوں اعتبار…..”””
حفسہ نے آنکھیں جھکا کر جواب دیا
“اور محبت کرتی ہو ؟…….”””
“محبت ؟ ؟ ؟ ؟……”””
فھیم نے اثبات میں سَر ہلایا . .
“نہیں تو……”””
حفسہ کہہ کر اٹھ بیٹھی اور کمرے سے باہر چلی گئی . . فھیم مسکراتا ہوا چائے پینے لگا
“آخر تو اظہار کر ہی لوگی…..””
_________________________________________
.
.
آزلان کب سے آفس سے آیا تها پر اپنے کمرے کے سامنے والے کمرے میں بیٹها ہوا تها…
آفرین سوچتی ہی رہ گئی کہ ایسا کیا کر رہا ہے وہ اتنی دیر وہاں… ورنہ تو آفرین کو ایک پل کے لیئے بهی اکیلا نہیں چهوڑتا تها وہ….
“سنو… ازلان سے پوچهہ کر آؤ کہ کیا کر رہا ہے اور اسکو کہو.. خالہ کهانے پر بلا رہی ہے…..”””
آفرین خود نہیں جانا چاہتی تهی تو ملازمہ سے بہانا بنا کر کہا
وہ سر ہلائے اس کمرے کی طرف بڑهی…
دروازہ لاک تها….
“صاحب… آپکو بڑی بیبی جی کهانے کے لیئے بلا رہی ہیں…..”””
اسنے باہر کهڑے ہی آواز دی ازلان کو…
“انکو کہو…… وہ اور آفرین کهالیں… میں بزی ہوں.. اور کها کر آیا تها….”””””
ازلان کی کمرے کے اندر سے ہی آواز آئی….
“وہ مصروف ہیں کہہ رہیں ہیں کہ آپ اور بیبی جی لها لیں.. وہ کہا کر آئیں ہیں……”””
ملازمہ آفرین کو بتائے چلی گئی….
“بیٹها رہے اندر… کچهہ گهڑی تو سکون کی نصیب ہوگی مجهے بهی….”””
آفرین یہ کہہ کر لان میں چلی گئی…..
وہاں بہت سارا ٹهلنے کے بعد وہ بینچ پر بیٹهی آسمان کو تکے گئی…. جہان ستارے چمک رہے تهے… ٹهنڈ کا احساس ہوتے ہی….. اوہ اپنے پہنے ہوے سویٹر میں اور سما گئی… ناک سردی سے ہمیشہ کی طرح لال پڑنے لگی تهی…. وہ آنکهیں بند کیئے بیٹهی رہی جب ازلان اس طرف آیا اور بینچ کے سامنے کهڑا ہوکر اسکو تکنے لگا…. لمبی سی پلکوں کی جهالر نے ان خوبصورت آنکهوں کو چهپا رکها تها.. گلابی لب آپس میں بهینچے ہوئے تهے.. اور اسکی سرخ ناک…
“میرے خوابون سے نکل آو اب…..””””
ازلان اسکی ناک چهوتا ہوا بولا… اور اسکے سامنے بیٹهہ گیا…
“تمہارے خواب میں دیکهہ ہی نہ لوں…….”””
آفرین برا سا منہ بنائے بولی….
“دیکهو گی ایک دن.. فکر ناٹ….. اور یہ لو تمہارے لیئے فون لایا تها… دینا اب یاد پڑا…..””””
ازلان اسکو فون تماتے بولا…
آفرین فون آن کیئے اسکو دیکهنے لگی…
“ویسے کمرے میں کیا رہے تهے تم اتنی دیر….”””
آفرین نے فون میں دیکهتے ہوئے سوال کیا…
“تها کچهہ کام…”””
ازلان نے پوری بات ابهی اسکو بتانا ضروری نہ سمجهی
“یہ کیا ہے…….”””
آفرین اسکے آگے موبائل کی اسکرین کرتی بولی
جس مین ازلان نے اپنا نمبر “ڈیئر شوہر” کے نام سے سیو کیا ہوا تها..
“میرا نمبر ہے اور کیا…..”””
ازلان شانے اچکائے بولا…..
آفرین اسکو گهورتی ہوئی پهر سے موبائل کو دیکهنے لگی…
اور اسکا نام مٹا کر “ڈهیٹ” کے نام سے سیو کیا…
“اب پرفیکٹ ہے…..”””
آفرین اسکو اسکا نام دکهاتی ہوئی بولی
“تمہارا ہی ہوں ، جس بهی نام سے پکار لو….””””
ازلان نے گہرا سانس لیتے ہوئے کہا……
جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *