Mujhy Ishq Tera Le Doba by Yusra Shah NovelR50767
Last updated: 10 July 2026
Mujhy Ishq Tera Le Doba by Yusra Shah Episode01Mujhy Ishq Tera Le Doba by Yusra Shah Episode02Mujhy Ishq Tera Le Doba by Yusra Shah Episode03Mujhy Ishq Tera Le Doba by Yusra Shah Episode04Mujhy Ishq Tera Le Doba by Yusra Shah Episode05Mujhy Ishq Tera Le Doba by Yusra Shah Episode06Mujhy Ishq Tera Le Doba by Yusra Shah Episode07Mujhy Ishq Tera Le Doba by Yusra Shah Episode08Mujhy Ishq Tera Le Doba by Yusra Shah Episode09Mujhy Ishq Tera Le Doba by Yusra Shah Episode10Mujhy Ishq Tera Le Doba by Yusra Shah Episode11Mujhy Ishq Tera Le Doba by Yusra Shah Episode12Mujhy Ishq Tera Le Doba by Yusra Shah Episode13Mujhy Ishq Tera Le Doba by Yusra Shah Episode14Mujhy Ishq Tera Le Doba by Yusra Shah Episode15
Mujhy Ishq Tera Le Doba by Yusra Shah
ٹہنڈی بارش ، گرجتے ہوئے بادل، آندهی ، طوفان ..
اس بے آوارا موسم اور رات کے گہنے اندهیروں میں وه بے ترتیب قدم اٹہاتے ہوئے گم سم روڈ پر چلتے جا رہی تهی... سب لوگ اپنی بهاگ دوڑ میں لگے ہوئے تهے.. سب اپنے گهروں کو لوٹ رہے تهے...
اسنے رک کر یوں ہی بے مقصد آس پاس کی دکانوں کو دیکها جن پہ اب شٹرس چڑہ چکے تهے...
کهلا میدان ، بهیگتی ہوئی سڑک ، جب آسمان میں بجلی چمکتی تو وہ بهیگی سڑک اس کی چمک خود مین لیئے دکها دیتی... پیڑوں کے بارش میں بهیگے پتے زوروں شور سے هلتے ہوئے اپنی موجودگی کا احساس دلا رہے تهے... اب اس کی شیشے سے چمکتی سرمئی انکهین جن میں نمی اور سرخی اسکے رونے کی گواہی دے رہی تهیں ادهر ادهر خوف سے گهومنے لگیں مانو کسی کی تلاش کر رہی ہوں، پهر اچانک اسکے کانوں مین گولی کی آواز گونجی ( وہی گولی کی آواز جو ہر رات اسکے کانوں مین گونجتی رہتی ، جو اسکو سونے نہیں دیتی ، جو اسکو پهر سے ماضی میں لے جاتی..) اسنے خوف سے اپنی بڑی بڑی سرخی مائل آنکهوں پہ اپنی بڑی سی نم ہوئی پلکین گرا دیں اور دو سیکنڈس کے اندر کهول دی
کیوںکہ آفرین بار بار وہ منظر نہیں دیکهہ سکتی تهی جب اسکی زندگی اس سے ہمیشہ کے لیئے دور چلی گئی تهی!!
آفرین کا پتلا سا ، 5 فٹ کا وجود دہڑام سے زمین پہ گرا.. وہ گٹهنوں کے بل بیٹهی ٹپ ٹپ آنسو بہانے لگی..
بارش اسکی آنکھوں سے بهی بہنے لگی اور ایسی کہ تهمنے کا نام نہیں لے رہی تهی.. آنسون اسکے گورے چہرے کو بہگو رہے تهے.. اسکے گلابی لب جو کہ اب رو رو کے لال هوگئے تهے
اسکی خوبصورت چهوٹی سی ناک لال پڑ گئی تهی..
اسکے ڈارک براون گہنے بال لٹوں کی مانند کچهہ آگے تو کچه اسکے سفید گلابی چہرے پہ جہول رہے
تهے..
اب آفرین بالون کو نوچے چلا رهی تهی
"کیون چلے گئے تم مجهے تنہا کرکے ؟ کیسے دلاؤں تمارے مجرم کو سزا ؟ کہان ڈهونڈوں تمہیں....دیکهو تمہارے بعد میرا کیا حال ہے.......""""
وہ روتے ہوئے اپنی مرحوم محبت کو آوازیں دینے لگی
اب وه ٹہرکے آہستہ سے روتے ہوئے بولی
"تمہارے بنا کیسے لڑوں یہ جنگ؟؟.."
اب وہ گهٹنوں مین سر دیئے روتے روتے بڑ بڑانے لگی.. بیچوں بیچ اس سنسان سڑک میں آدہی رات مین کوں دیکهتا اسکو
لیکن نہیں.. ایک وجود کی نظر اسکی ہر ایک ادا و حرکت دیکهہ چکی تہی
سڑک کے بیچ شارٹ گهٹنون سے اوپر آتی، ہالف سلیوز نیوی بلیو کمیض اور لائیٹ بلیو جینز مین اس لڑکی کا وجود اسکو غصہ دلا گیا.. وہ ضبط کرتا گیا
_________________________________________
