Mujhy Ishq Tera Le Doba by Yusra Shah NovelR50767 Mujhy Ishq Tera Le Doba by Yusra Shah Episode07
Rate this Novel
Mujhy Ishq Tera Le Doba by Yusra Shah Episode01 Mujhy Ishq Tera Le Doba by Yusra Shah Episode02 Mujhy Ishq Tera Le Doba by Yusra Shah Episode03 Mujhy Ishq Tera Le Doba by Yusra Shah Episode04 Mujhy Ishq Tera Le Doba by Yusra Shah Episode05 Mujhy Ishq Tera Le Doba by Yusra Shah Episode06 Mujhy Ishq Tera Le Doba by Yusra Shah Episode07 (Watching)Mujhy Ishq Tera Le Doba by Yusra Shah Episode08 Mujhy Ishq Tera Le Doba by Yusra Shah Episode09 Mujhy Ishq Tera Le Doba by Yusra Shah Episode10 Mujhy Ishq Tera Le Doba by Yusra Shah Episode11 Mujhy Ishq Tera Le Doba by Yusra Shah Episode12 Mujhy Ishq Tera Le Doba by Yusra Shah Episode13 Mujhy Ishq Tera Le Doba by Yusra Shah Episode14 Mujhy Ishq Tera Le Doba by Yusra Shah Episode15 Mujhy Ishq Tera Le Doba by Yusra Shah Episode16 Mujhy Ishq Tera Le Doba by Yusra Shah Episode17 Mujhy Ishq Tera Le Doba by Yusra Shah Episode18 Mujhy Ishq Tera Le Doba by Yusra Shah Episode19 Mujhy Ishq Tera Le Doba by Yusra Shah Episode20 Mujhy Ishq Tera Le Doba by Yusra Shah Episode21 Mujhy Ishq Tera Le Doba by Yusra Shah Episode22 Mujhy Ishq Tera Le Doba by Yusra Shah Episode23 Mujhy Ishq Tera Le Doba by Yusra Shah Episode24 Mujhy Ishq Tera Le Doba by Yusra Shah Episode25 Mujhy Ishq Tera Le Doba by Yusra Shah Episode26 Mujhy Ishq Tera Le Doba by Yusra Shah Episode27 Mujhy Ishq Tera Le Doba by Yusra Shah Episode28 Mujhy Ishq Tera Le Doba by Yusra Shah Episode29 Mujhy Ishq Tera Le Doba by Yusra Shah Episode30 Mujhy Ishq Tera Le Doba by Yusra Shah Episode31 Mujhy Ishq Tera Le Doba by Yusra Shah Episode32 Mujhy Ishq Tera Le Doba by Yusra Shah Episode33 Mujhy Ishq Tera Le Doba by Yusra Shah Episode34 Mujhy Ishq Tera Le Doba by Yusra Shah Episode35 Mujhy Ishq Tera Le Doba by Yusra Shah Episode36 Mujhy Ishq Tera Le Doba by Yusra Shah Episode37 Mujhy Ishq Tera Le Doba by Yusra Shah Episode38 Mujhy Ishq Tera Le Doba by Yusra Shah Episode39 Mujhy Ishq Tera Le Doba by Yusra Shah Episode40 Mujhy Ishq Tera Le Doba by Yusra Shah Episode41 Mujhy Ishq Tera Le Doba by Yusra Shah Episode42 Mujhy Ishq Tera Le Doba by Yusra Shah Episode43 Mujhy Ishq Tera Le Doba by Yusra Shah Last Episode
Mujhy Ishq Tera Le Doba by Yusra Shah Episode07
Mujhy Ishq Tera Le Doba by Yusra Shah Episode07
آفریں گھر آئی تو خود کو کمرے میں بند کر دیا اور کمرے کے دروازے سے ٹیک لگائے کھڑی ہوگئی اور زارو قطر آنسو اسکی آنکھوں سے بہتے چلے گئے جو کہ اسنے کب سے ضبط کیئے ہوئے تھے اور وہ وہیں گرتی چلی گئی اسکا کلچ اور موبائل بھی وہیں زمین پہ پڑا تھا اور اب گھٹنوں میں سَر دیئے خود سے بولنے لگی…
“یہ مجھے ہو کیا رہا ہے میرے خدا ؟ کیوں ایک فضول سی بات میرے کانوں میں بار بار گونج رہی ہے ؟ آخر کیوں میں اس شخص سے آج اتنا چُهپ رہی تھی اور دانی کو بھی میں کیوں نہیں بتا پا رہی آخر کیوں ؟ ؟ ——“
وہ سَر اٹھا کر بولنی لگی اور آنسو بہتے ہوئے اسکی ٹھوڑی سے گردن تک آگئے ….
اسکو سمجھ نہیں آرہا تھا اُس کے ساتھ کیا ہو رہا ہے وہ کیوں ایک بات بار بار سوچ رہی ہے کیوں اس انجان شخص سے چهُپ رہی تھی…..
“آفی بیٹا تمہاری طبیعت ٹھیک ہے اتنی جلدی کیوں آگائی اور فہیم کہاں ہے ؟……..”
باہر دروازے پہ فیضان کھڑا اسکو آواز دے رہا تھا وہ ایک دم سے ہوش کی دُنیا میں لوٹی اور بے دردی سے اپنے آنکھیں اور گال رگڑے اور بال کو ہاتھ سے سیٹ کر کے دروازہ کھولا
اسکی آنکھیں ابھی بھی لال ہو رہی تھی اور ناک بھی فیضان اسکو اِس حالت میں دیکھتا بولا
“کیا ہوا بچے تم ٹھیک ہو ؟——“
“جی ابو میں ٹھیک ہوں بس سَر میں دَرْد ہو رہا تھا… آرام کرنا چاہتی ہون کچهہ وقت….”
وہ نظریں چراتی ہوئی بولی
“بیٹا اگر طبیعت زیادہ خراب ہے تو بتاؤ مجھے ڈاکٹر کے پاس چلین….”
اب فیضان فکرمند ہوا اور آفریں کے سَر پر ہاتھ رکھتا ہوا پوچهنے لگا….
“نہیں ابو میں بس آرام کروں گی پِهر بالکل ٹھیک ہوجاونگی……”
آفریں اپنے باپ کا ہاتھ اپنے ھاتھوں میں تھام کر مسکراتی ہوئی بولی
“ٹھیک ہے بیٹا کرلو آرام اور کسی بھی چیز کی ضرورت ہو تو آواز دے دینا……..”
فیضان مسکراتا ہوا چلا گیا وہ اسکو جاتا ہوا دیکھتی رہی اور جب اسنے دیکھا فیضان چلا گیا ہے وہ جلدی سے پلٹی اور پِھر سے دروازہ بند کر کے نیچی سے اپنا کلچ اٹھایا اور بیڈ پہ بیٹھ کر سائڈ ٹیبل کا دراز کھولا اس میں سے سلیپنگ پلس نکالی اور وہ کھا کر سوگئی.. کیوں کہ اسکو پتہ تھا اسکو ایسے نیند نہیں آنے والی تھی ….
_______________________________________
.
.
کمرا دستوراً پورے اندھیرے میں ڈوبا ہوا تھا کھڑکی سے بالکل نیم روشنی چهلک رہی تھی اور وہ اوندهے منہ لیٹا ایک بازو بیڈ سے نیچی لٹکائے نیند کی وادیوں میں تھا جب الارم کے بجنے سے اسکی نیند میں ڈوبی آنکھیں یکدم سے کھلیں وہ نیند کا بہت کچہ تھا بلکل تھوڑی سی آواز پر اٹھ جایا کرتا . . وہ سیدھا ہو کر بیٹھا، اپنے چهرے پہ ہاتھ پھیرا اور بیڈ پر ادھر اُدھر موبائل ڈهونڈنے لگا اُس کے ہاتھ اسکا موبائل لگا اسنے موبائل کا لاک کهول کر عادت کے مطابق یوں ہی چیک کیا اور موبائل سائڈ ٹیبل پر رکھتا وہی بیٹھ کر سگریٹ کی ڈبی سے سگریٹ نکالنے لگا اور سگریٹ منہ میں دبائے لائٹر سے سگریٹ جلائی..
لائٹر بیڈ پر پٹختا ہوا اٹھا اور اب سامنے والی بڑی کھڑکی سے پردے ھٹائے … تو روشنی سے وہ آنکھیں میچ گیا اور یکدم سے پردے واپس کهڑکیوں پر چڑهائے ، اور پیشانی پہ بل چڑھائے… اسکو سورج کی جلتی ہوئی روشنی کچهہ خاص پسند نہ تهی جو کہ اسکو ماضی کے بهیانک آگ کی یاد دلا دیتی تهی…….
وہ سگریٹ ہونٹوں میں دبائے الماری کی طرف بڑھا اور کپڑے نکالنے لگا وہ بلاشبہ چین سموکر ہی تھا…
کپڑے نکال کر اب واپس بیڈ پہ بیٹھ کر اپنی سگریٹ پھونک رہا تھا اور بھوری آنكھوں میں سنجیدگی لیئے ایک جگہ نظر ٹکاتا کش لگانے لگا اور پِھر ایک ماضی کا نظارہ اسکی آنکھوں کے آگے گھوما…………..
“میری بیٹنگ کب آئیگی بھائی؟….”
چھوٹا ازلان شورٹس اور ٹی شرٹ پہنے گرمی میں لال ہو چکا تھا اور اپنے بھائی سے اپنی باری کا پوچھ رہا تھا
“ازلان یار مجھے آؤٹ کرو پِھر ہی تمہاری باری آئیگی نا……”’
عمیر بیٹ شانے پہ رکھتا ہوا بولا
طارق اور عظمہ چائے پیتے اپنے بچون کو دیکھ رہے تھے اور چهوٹی ثناء عظمہ کی گود میں بیٹھے اُس کے ہاتھ سے بسکٹ کھا رہی تھی
اب ازلان خفا ہو چکا تھا بے چارہ کب سے صرف بالنگ کروا رہا تھا اب مجبور ہوکر سست قدموں کے ساتھ چهوٹی سی دوڑ لگا کر بال عمیر کی طرف اچھالا اور عمیر نے جیسی ہی بیٹ گھمائی اور بال ہوا میں اڑتا ہوا دور جا کر بڑے سے پیڑ سے ٹکرایا جہاں انہوں نے اس پیڑ کو باؤنڈری بنایا ہوا تھا
“چهکا…..” جہاں عمیر خوشی سے چلایا وہیں ازلان کا منہ اُتَر گیا
“میں نہیں کھیل رہا اب، آپ آؤٹ ہی نہیں ہو رہے بھائی…..”’
وہ اب طارق کے ساتھ کرسی پہ بیٹهتے پیر لاٹکائے بولا
“کیا ہوا ازلان میرے شیر ہار مان لی تم نے ؟…….”
طارق اسکی لٹکتی ہوئی شکل دیکھ کر بولا
“بھائی آؤٹ ہی نہیں ہو رہے ابو میں تھک گیا ہوں میری بھی تو بیٹنگ آئے….”
ازلان طارق کو دیکھتے ہوئے ناراضگی سے بولا
“ازلان تم تو میرے شیر ہو …. اور میرے شیر ہر چیز کا ایک وقت ہوتا ہے جو کے ہمہیں خود لانا پڑتا ہے اپنی کوششوں سے…. ورنہ ایسے ہر مان کر تو ہم اپنا موقع بھی گنوا دیتے ہیں اور یاد رکھنا جو لوگ جلدی ہار من لیتے ہیں وہ لوگ کمزور پڑنے لگتے ہیں…..”’
چھوٹا ازلان نا سمجھی سے اپنے باپ کو دیکھ رہا تھا جو اتنی بڑی باتیں کر رہا تھا اور وہ بڑی باتیں اس وقت ازلان کے چهوٹے سے دماغ میں نہیں بیٹھ رہی تھیں
“ابو مجھے کچھ بھی آپکی بات سمجھ نہیں آئی….”’
وہ سنجیدہ ہوتے بولا
اور طارق اور عظمہ اُس کے انداز پر ہنس پڑے
“کیا طارق آپ بھی اتنے چھوٹے سے بچے سے اتنی بڑی باتیں کر رہے ہیں کہاں سے اُس کے دماغ میں بیٹهیں گی….”
عظمی ثناء کو نیچے اتارتی بولی جو اب ٹیبل کے سہارے عمیر کے پاس جانے لگی تھی
“ابهی نہیں آئی سمجھ میں تو کیا ہوا عظمی بیگم بعد میں اجائینگی… اور میرا ازلان دیکھنا عمیر کو کیسے آؤٹ کر کہ اپنی باری لیتا ہے …. یہ آؤٹ کرلیگا اچھا بالر ہے میرا ازلان…..”
طارق اب ازلان کا حوصلہ بڑهانے لگا اور ازلان بھی ہواؤن میں اڑتا ہوا پِھر سے بالنگ کرانے لگا ایک بال…. دوسرا بال…. تیسرا بال.. وہ آؤٹ نا کر سکا اور بےبسی سے اپنے باپ کو دیکھا جو اسکو دیکھ کر مسکرا رہا تها
“تم کرلوگے مجھے بھروسہ ہے…!'”
طارق نے جیسے ہی بولا ازلان کے چہرے پر مسکراہٹ آئی اور اب بال پھینکا اور بال سیدھا وکٹ پر لگا اور ازلان خوشی سےچلاتا ہوا اپنے باپ کے گلا لگا
“کرلیا نا تم نے …. آخر کیسے نا کرتے میں جو تمھارے ساتھ تھا…..”
وہ اسکو زور سے گلے لگاتا بولا اور عظمہ جو کہ عمیر کی ٹیم کی تھی عمیر کو حوصلہ دینے لگی اور بولی
“اب تم بھی اسکو جلدی سے آؤٹ کر کے دکھاو….”
عمیر بھی خوش ہوتا ہوا ازلان کے گلا لگ اور بولا
“چلو بیٹا اب میرا کمال دیکھنا…..”
اور میچ پِھر سے شروع ہوگئی……………………..*
.
.
ازلان ہوش کی دُنیا میں واپس آیا اور سگریٹ دیکھا جس کا اب آخری چھوٹا سا ٹکْڑا بچہ ہوا تھا اور اسکو عیش ٹرے میں مسلتا ہوا خود کلام ہوا…
“ابو آپکو مجھ پر بھروسہ تھا نا دیکھیئے میں کچھ نہیں کر پا رہا دیکھیئے ابو آپکا شیر آپکا ازلان كمزور پڑ رہا ہے پر ابو میں ہار بھی نہیں مان رہا اور نا ہی مانونگا… کیوں کہ مجھے پتہ ہے کل بهی آپ میرے ساتھ تھے اور آج بھی ہیں اور ہمیشہ رہینگے….. کاش آج آپ میری آنكھوں کے بھی سامنے ہوتے….”
وہ سارا جملہ ہمت سے بول گیا اور آخری جملے پہ اسنے کرب سے آنکھیں میچ لیں اور اٹھ کر واشروم میں چلا گیا اب وہ باہر نکلا اور ٹوٹی ہوئی ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے کھڑا ہو گیا اور اپنے سلکی برائون بالو میں کنگی چلانے لگا اور آخری نظر خود پہ ڈالتا موبائل اور کیز اٹھاتا ، ہاتھ میں دو بینڈس پہنے جو کہ وہ ہمیشہ پہنتا تھا جو طارق لایا تها عمیر اور ازلان کے لیئے اور وہ تینون اسکو پہنے رکهتے.. وہ کمرے سے باہر نکل گیا
“بیٹا ناشتہ کرتے جاؤ ازلان…”
وہ سہن میں بائیک اسٹارٹ کر رہا تھا جب عظمہ کچن سے نکلتی ہوئی بولی
“نہیں امی جان باہر سے کرلونگا لیٹ ہو رہا ہوں بس جلدی سے دعا کا ہاتھ پھیریں تو میں چلوں…..”
وہ جب بھی باہر نکلتا عظمہ اسکو دعاؤں کے ساتھ بھیجتی تھی کیوں کہ اب ایک وہ ہی تو اسکا اپنا بچہ تھا اسکو وہ کھونا نہیں چاہتی تھی
“اللہ تمہیں اپنے امان میں رکهے میرے بچے تمہارا ہر کام خیریت سے ہوجائے.. انشاللہ جاب مل جائیگی…..”
وہ اس کے سَر پہ ہاتھ پھیرتی ہوئی بولی اور اب ازلان اپنی ماں کے ہاتھوں کو آنكھوں سے لگائے بولا
“اللہ حافظ چلتا ہوں اپنا خیال رکھیئے گا…….”
وہ یہ کہتا ہوا باہر نکل گیا اور عظمہ بھی چادر لپیٹے فیکٹری پر جانے کے لیئے روانہ ہوئی جہاں وہ کام کیا کرتی تھی اور دروازہ باہر سے لاک کر کے چابی پرس میں ڈالتی نکلدی____________________________________
.
.
یہ شام کا وقت تھا ازلان جیسے ہی گھر آیا بائیک کو صہن میں کھڑا کر کہ عظمہ کے کو پکارتا اسکے کمرے کی سمت چلنے لگا.. اور اسکو آواز دینے لگا
عظمہ جو کمرے میں آرام کر رہی تھی ازلان کی آواز سن کر کمرے سے اٹهہ کر باہر آئی اور ازلان کو دیکھا جو بنا تاثر عظمہ کو دیکھ رہا تھا ، چہرے پہ یقیناً کوئی تاثر نا تھا لیکن آنكھوں میں ایک جاگی ہوئی امید ضرور تھی…
“بولو بھی کیا ہوا؟ کیوں ایسے باولوں کی طرح ڈھونڈ رہے تھے مجھے……”
عظمہ اسکو دیکھ کر پوچنی لگی جو عظمہ کو آنکھوں میں ایک عجیب سی چمک لیئے دیکھ رہا تھا وہ چلتا ہوا عظمہ کے پاس آیا دھیمے سے مسکرایا اور بولا
“امی جان میری کوششیں بیکار نہیں گئین آج مجھے ناکامی کا منہ نہیں دیکھنا پڑا اور مجھے جاب مل گئی ہے وہ بھی ایک اچھی کمپنی میں….”
“اللہ کا لاکھ شکر … دیکھا تمہاری کوششیں ناکارہ نہیں ہوئی تم یوں ہی بدگمان ہوتے رہے … اور تمہارے بابا بھی کہا کرتے تھے کہ میرے بیٹی ازلان کے حوصلے بہت بلند ہیں…..”
عظمہ کی آنکھیں اب نم ہونے لگیں اور چہرے پہ مسکراہٹ تھی
ازلان نے اپنی ماں کے آنسو اپنے پوروں سے صاف کئیے اور کہنے لگا
“نہیں امی جان نہیں بس اب بہت بھگو لیں ہیں آپ نے اپنی آنکھیں اب آپ دیکهنا میں سب پہلے جیسا کردونگا اور ہر مجرم کو اسکی سزا دلا کے رہوں گا……..”
اب کہ ازلان کی آنكھوں میں انتقام کی آگ اُتَر آئی جو کہ عظمہ نے دیکھ لی
“بهولے نہیں ہو تم کچھ بھی ازلان ؟ مت پڑو ان انتقام اور بدلوں کے چکر میں جو ہو گیا سو ہو گیا اللہ ان کو خود سزا دے گا تم کون ہوتے ہو کسی کے لیئے سزا منتخب کرنے والے……..”
عظمہ ایک دم سے غصے میں آگئی اسنے ہمیشہ سے اسکی یہ آگ بهجانی چاہی پر وہ تو جیسے ضد پر تھا ایک کان سے سن کر دوسرے سے نکال دیتا اسلیئے اب عظمی کو غصہ آنے لگا.. اسکے ہر با سمجهانے پر بهی ازلان نہیں سمجهتا تها..
“امی آپ بھول سکتی ہیں لیکن میں نہیں ، چوڑیں ان باتوں کو اور ہان اب یہ فیکٹری والی جاب واب چوڑدیں آپ…. آپ اب صرف اور صرف آرام کرینگی ٹھیک ہے ……”
ازلان بات بدلتا ہوا بولا ، ہمیشہ کی طرح
“لیکن ازلان میں__……”
“لیکن ویکن کچھ نہیں بس میں نے کہہ دیا نا امی اور آپ كھانا کھا لیں میں باہر سے کھا کر آیا ہوں……..”
عظمہ نے کچهہ بولنا چاہا لیکن ازلان نے اسکو بولنے نہیں دیا اور کهانے کا جھوٹ بول دیا تا کے اسکی امی بیفکر ہوكر كھانا کهائیں کیوں کہ ازلان کو بھوک نہیں تھی اور وہ کمرے کی طرف چل دیا کمرے کا دروازہ بند کر کے بیڈ پہ بیٹھ گیا
اور دراز سے کچھ پیپرز نکال کے دیکھنے لگا، وہ آنکهون میں شعلے لیتا بولا
“میر فیضان حسن برباد کردونگا میں تمہیں… اب اپنی الٹی گنتی شروع کردو……”
_________________________________________
.
.
رات کا وقت تھا حسن ہاؤس روشنیون میں چمک رہا تھا اور سب ڈائینگ ٹیبل پہ بیٹھے ہوئے رات کا كھانا خانے میں مصروف تھے..
آج آفریں یونی سے آکر حفسہ کے گھر گئی تھی لیکن وہاں دانیال نہیں تھا وہ اس سے بات کرنا چاہتی تھی کیوں کہ کل اسنے اسکا غصہ نوٹ کیا تھا اور اپنی پریشانی میں اسکے غصے کا اثر نہیں لیا تها، اسکو آج خیال آیا تو اسنے اسکو کئی کالز بھی کی لیکن دانیال کی طرف سے کوئی جواب موصول نہیں ہوا تھا اب وہ سب کے ساتھ ڈنر کر رہی تھی
“آفریں بی بی دانیال صاحب آئیں ہیں اور انہوں نے آپکو بلانے کا کہا ہے…….”
آفریں جو کے رات کے حساب سے پنک شرٹ اور وائٹ ٹائٹس میں ملبوس تهی.. ملازم کی آواز پر چونکی اور فیضان کو دیکھا
“ابو میں جاؤں ؟……”
آفریں نے فیضان سے پوچھا
“ہاں بچے جاؤ ……” فیضان كھانا کھاتے بولا
آفریں اٹهنے لگی جب دادی کی آواز نے اسکو روکا
“آفریں کو کیوں بھیج رہے ہو فیضان ؟ دانیال کو یہیں بلا لو اور وہ اندر کیوں نہیں آرہا جو اِس کو باہر بلانے کا کہہ دیا…….”
زرمینا بیگم کے چہرے پر کئی زیادہ خفگی تھی جو کہ ہر وقت فیضان سے بات کرتے وقت ہُوا کرتی تھی اور گھر کے ہرْ فرد کو معلوم ہو چکا تھا کہ دادی اور فیضان ایک دوسرے کو کچھ خاص پسند نہیں کیوں کہ وہ دونوں کبھی ایک دوسرے سے سیدهے منہ بات نا کیا کرتے …
“اماں دانیال کو اِس سے کچهہ ضروری بات کرنی ہوگی اسلیئے بلایا ہوگا اسکو باہر ….ورنہ آجاتا اندر ہی…..”
فیضان بھی اب خفگی سے بولا
“ہاں تم نے ہی تو اِس لڑکی کو بگاڑا ہوا ہے ایک لڑکی نہیں سنبھالی گئی تم سے……..”
زارمینا بیگم یہ کہہ کر اٹهنے لگیں
“اما آپ بیٹھیئے نا ناراض کیوں ہو رہی ہیں اور آفی تم دانی کو یہیں بلا لو…..”
غزل ہمیشہ کی طرح بات کو سنبھالتے ہوئے بولی
“کوئی ضرورت نہیں ، کرنے دے اسکو اپنی من مانی ورنہ سناتا رہے گا تجھے اور میرا پیٹ بھر گیا بس…….”
وہ سفید ساڑی کا پلو سمبهالتیں ملازمہ کی مدد سے اسکا ہاتھ پکڑتے ہوئے وہاں سے چلی گئی..
“بیٹا آفی تم تو جاؤ باہر دانیال انتظار کر رہا ھوگا…….”
فیضان کو اس پر بهروسہ تها
اور فیصان کے بولنے پر آفریں وہاں سے چُپ چاپ چلی گئی اور فھیم کبھی فیضان کو تو کبھی غزل کو دیکھتا
“ابو دادو آپ سے اِس طرح کیوں بیہیو کرتین ہیں آخر ؟….”
فھیم پوچھ بیٹھا
“بیٹا تم بڑون کے معاملات میں مت پڑو كھانا کھاؤ اپنا….” . غزل نے اسکو ٹوکا
“لیکن امی مجھے بھی پتہ ہونا چاہیئے .. میں نے تو جب سے ہوش سمبهالا ہے دادو کو ابو سے ایسے ہی بات کرتے دیکھا ہے….”
فھیم اب جاننا چاہتا تھا کہ ایسا بھی کیا ہے ان دونو کے بیچ میں کہ ہر وقت ایک دوسرے سے خفا رہتے ہیں
“تم اپنے کام سے کام رکھو فھیم ماضی کو کریدنے کی کوشش مت کرو…..””
فیضان یہ بولتا ہوا ہوا اٹھ کر چلا گیا اور غزل فھیم کو غصے سے دیکھتی رہی
“کیا ؟ میں نے کیا کیا ؟ کیا میرا جاننا ضروری نہیں ہے ؟ ….”
فھیم غزل کی غصیلی نظر خود پہ محسوس کرتا بولا
“تمھارے دادا کے انتقال کے بَعْد وہ چڑچڑی ہوگئیں ہیں اور انکے اور تمھارے ابو کے خیالات نہیں ملتے اسلیئے یہ سب ہوتا ہےسن لیا تم نے…..”
غزل کو جتنا معلوم تھا وہ کہہ کر اٹه گئی…_______________
_________________________________
جاری ہے
