Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Mujhy Ishq Tera Le Doba by Yusra Shah Episode17

Mujhy Ishq Tera Le Doba by Yusra Shah Episode17

♥♥♥کچھ مہینوں بعد♥♥♥
“سر آپ سے کوئی ملنے آیا ہے اور کہہ رہا ہے بہت ضرور بات کرنی ہے…..”””
فیضان آفس میں بیٹھا تھا جب اسکو ریسیپشن سے کال آئی اور کسی کے آنے کی اطلاع دی گئی
“اچھا بلا لو اسکو…..””
فیضان فائل بند کرتے ہوئے بولا اور فون رکهہ دیا..
تبھی ایک شخص اندر داخل ہوا فیضان نے اسکو پہلی بار دیکھا تھا
چهہ فٹ کا نکلتا قد، کسرتی جسم کا مالک بلیک فل سوٹ…
وہ فیضان کی طرف آیا اور ہاتھ اگے بڑھا کر کہا
“اسلام و علیکم…. “
“وعلیکم سلام بیٹھیئے آپ…..”””
فیضان ہاتھ ملاتا اسکو بیٹهنے کا اشارہ کرتا بولا
“تو میر فیضان حسن کیسے ہیں آپ….””
وہ شخص اپنے دونوں ہاتھ آپس میں جکڑے ٹیبل پر ٹکاتا ہوا بولا
“معاف کیجیئے میں نے آپکو پہچانا نہیں…..””
فیضان نے مسکراتے ہوئے کہا
“کیسے پہچانیگے.. آپ مجھے نہیں جانتے لیکن میں آپکو جانتا ہوں بہت اچھے سے….”””
اس شخص نے بھی مسکرا کر کہا
“کیسے جانتے ہیں آپ مجھے…”””
فیضان کو تجسس ہوا
“تمھارے بھائی کو کس نے مارا تھا…..”””
اس شخص نے بےتاثر چہرہ لیتے ہوئے کہا
“کیا مطلب ہے تمہارا ؟…….”
فیضان کے چہرے پر اب ڈر کے رنگ تھے
“حویلی میں آگ تم نے لگوائی تھی نا اس دن….””
اس شخص نے جیسے ہی کہا فیضان کے تن من میں آگ لگ گئی وہ اٹھ کر کھڑا ہو گیا اور غصے میں آکر کہا
“تم یہ کیسے کہہ سکتی ہو ؟ اور ہو کون تم ؟ ؟…….”
“میں جو کوئی بھی ہوں تمھارے بارے میں سب جانتا ہوں پر ابھی کے لیئے تم میرا نام جان لو ثمر خان… مجهے ایس کے بهی بلا سکتے ہو تم….””
وہ شخص کرسی پہ بیٹھے بڑے آرام سے بولا
“میں تجھے راتوں رات اٹهاوا لونگا…””
فیضان نے اسکو دھمکایا
“نا نا نا….””
اسنے نفی میں سر هلایا
“میر طارق والی غلطی میرے ساتھ نا کرنا کیوں کہ میری ابھی جتنی واقفیت ہے نا اگر تم نے مجھے چهووا بھی تو تمھارے لیئے مصیبت کهڑی ہوجائیگی اور ہر بار قسمت تمهارا ساتهہ تهوڑی دے گی.. پچهلی بار بهت اسانی سے بچ گئے تم پر اس بار نہیں….””
ثمر اسکو ایسے سمجھا رہا تھا جیسے کسی چھوٹے بچے کو سمجهایا جاتا ہو
“کیا چاہئیے تمہیں ؟…….”
فیضان مدعے پر آیا…. اس وقت تو اسکو جو کرنا پڑتا وہ کر گزرتا… اس کو زرا سا بهی اندازہ نہ تها کہ اتنے سالون بعد وہی بات اس پر پهر سے کهلے گی.. فیضان کو تو اپنے ہستے بستے گهر کی فکر ستانے لگ گئی
“اب آیا نا تو اصلی بات پر، کان کهول کر سن لو.. مجهے تمهاری کمپنی مین فیفٹی پرسنٹ کا حصہ چاہیئے مطلب آدهی کمپنی کا مین مالک اور میرے ساتهہ کوئی چلاکی مت کرنا، تمهاری ہر حرکت پر نظر ہوگی ایس کے کی…””
ثمر تحمل سے بولا..
“آدهی کمپنی ؟ تم پاگل تو نہیں ہوگئے؟ مین ایسا نہیں کرونگا…””
فیضان چہرے پہ آتے پسینے کو صاف کرتا بولا
“نہیں کرے گا تو تجهے برباد کرنے کے میرے پاس کئی راستے ہیں.. کورٹ کچیری، یا پهر تیرے گهر کا بهی اڈریس پتا ہے مجهے… تیرا بیٹا بهی یہیں کام کرتا ہے نہ اسکے پاس چلا جاؤں کیا ؟……”
ثمر نے بڑے احترام سے اس سے اجازت مانگی
“فیضان کی پریشانی بڑهہ گئی.. کیون کہ یہ شخص اس کے بارے مین بہت کچهہ جانتا تها……”
“اچها ٹهیک ہے.. کچهہ دن لگینگے پیپرس وغیرہ تیار کرنے مین.. کردونگا نام تمهارے…”
“پیپرس مین خود ہی تیار کروا لونگا بس تجهہ سے سائین مانگنے آؤنگا..”
ثمر یہ کہتا ہوا سیٹ سےاٹها اور اپنے کوٹ کا بٹن بند کرتا فیضان کی آفس سے چلا گیا
فیضان نے غصے میں آکر وہاں کی کئی چیزیں توڑ ڈالیں_____________________________________
.
.
ازلان آفس کے کام سے دبئی گیا ہوا تھا کچهہ مہینون تک اور اپنے ایک خاص بندے سے فیضان کے گھر کی ہر معلومات رکھی تھی
اور اس بندے کے ذریعے اسکو یہ بھی پتہ لگ گیا تھا کہ آفریں دانیال کی منگ ہے اور دانیال اسکی پھوپھی نادیہ کا بیٹا ہے..
فھیم غزل سب کی معلومات رکهوائی تھی ازلان نے..
ازلان کو جب پتہ لگا کہ آفریں اور دانیال کی منگنی ہو گئی ہے تو اسکو بہت غصہ آیا پر اسنے ضبط کیا اور یہ سوچتا کے ابھی نکاح وغیرہ نہیں ہوا باقی کا کام اسکو پاکستان جاکر کرنا تھا
اب وہ وہاں سے لوٹ کر آیا تھا
اور بیڈ پر لیٹا ہوا سگریٹ پیتا اپنے خاص بندے کو کال ملانے لگا
“ہاں کال کر رہے تھے تم ؟ میں تھوڑا بزی تھا اسلیئے ابھی ٹائم ملا ہے….””
“ازلان تجھے یہ بتانا تھا کہ ایک ہفتے بعد فیضان نے اپنی بیٹی اور بیٹے کی شادی کے فنکشنز رکهیں ہیں…””
ازلان کے کانوں میں جیسے ہی یہ جملے پڑے تو اسکو آگ لگ گئی.. پیشانی پر بل پڑے
“ٹھیک ہے میں کچھ کرتا ہوں…””
ازلان نے یہ کہہ کر فون رکھ دیا
“فیضان تجھے تو میں دیکھ لونگا…”””
وہ سگریٹ پیتا ہوا خود سے مخاطب ہوا
اور کچھ سوچنے لگا کیوں کہ اسکو اب جو بھی کرنا تھا جلد اَز جلد کرنا تھا______________________________
.
.
آفریں لان میں بیٹھی ہوئی پھول توڑ رہی تھی پلین سبز گھٹنوں سے اوپر آتی کرتی جس پہ ہم رنگ چوڑی پجاما پہنا ہوا تها اور لانگ سویٹر پہنے بال کھلے ہوئے تهے جو کہ تھوڑے سے گیلے ہو رکھے تھے وہ ابھی ابھی نہا کر لان میں دهوپ لینے آئی تھی اب اسکی ڈریسنگ میں پہلے سے زیادہ سدھار آ چکا تھا…
چہرے پہ خوشی اور اطمینان کے رنگ بکھرے ہوے تھے ناک اور گال سرخ ہوئے رکهے تھے …. ناک سردی کی وجہ سے اور گال پیا کے ملن کی وجہ سے…
چمکتی ہوئی دھوپ اس خوبصورت سراپے پر پڑ رہی تھی اور اسکو اِس سردی میں یہ دھوپ اچهی لگ رہی تھی وہ لان کی گھاس پر بیٹھے پھول چن رہی تھی اور اب اسکو کوئی کھلا ہوا پھول نہیں مل رہا تھا جو کہ پورا اگ گیا ہو سب ہی چھوٹے چھوٹے پھول تھے جو ابھی ٹھیک طرح سے کهلے بهی نہیں تھے اور سردیون کی وجہ سے کافی پهول پودهے سوکهہ گئے تهے..
پهر بهی وہ لان مین ایک الگ سی کشش پہلائے ہوئے تهے
وہ دھوپ کی وجہ سے آنکھیں سکوڑتی منہ بنانے لگی اور نظریں پھول کی تلاش میں تھی
جب اچانک سے پیچھے آتے کسی وجود نے اسکی آنكھوں پر اپنے ہاتھ رکهہ دیئے
“فھیم بھائی یہ آپ ہیں نا ؟…..”
آفریں نے بنا اُس کے ھاتھوں کو چووے اندازہ لگایا
اس وجود نے اپنے ہاتھ ھٹائے اسکی آنكھوں سے اور جیسے ہی آفریں نے رخ موڑا اُس کے چہرے پہ پھول نا ملنے کی خفگی کی جگہ اب خوشی اور حیرت کے ملے جلے تاثرات نے لے لی کیوں کہ وہ دونوں اس بار ڈیڈهہ ماہا بعد ملے تھے شادی قریب ہونے کی وجہ سے زرمینا بیگم نے آفریں دانیال اور فھیم حفسہ کا ملنا بند رکھا تھا
“دانی تم یہاں کیسے ؟……”
آفریں نے بے جا کہا
بلیک پینٹ ، بلیو شرٹ اور وائٹ جیکٹ پہنے لبوں پہ وہ ہی مسکان اور آنكھوں میں شرارت
دانیال کا چہرہ دیکھ کر اسکو خوشی ہوئی اور اسکو بییاک سی دیکھنے لگی…
“شہ…. دھیرے بولو نانو نے دیکھ لیا تو میری تم سے شادی ہی نہیں ہونے دینگی….””
دانیال اپنے ہی لبوں پہ انگلی رکھتا ہوا زرمینا بیگم سے ڈرتا ہوا بولا
“اب نانو تو کیا کوئی بھی چیز تم سے میری شادی نہیں روک سکتی….””
آفریں آنكھوں میں خوشی لیتی ہوئی بولی
“اچها جی ؟ لیکن ایک چیز روک سکتی ہے …..””
دانیال آفریں کے ساتھ گھاس پر بیٹھا اور
دانیال نے پریشانی کی ایکٹنگ کرتے ہوئے کہا
“کونسی چیز دانی ؟…..”
آفریں نے نا سمجھی سے سوال کیا
“موت ……” دانیال نے مسکراتے کہا
“دانی خبرداَر جو آئِیندہ تم نے اپنے بندروں جیسے منہ سے اسی بات کی تو…””
آفریں کے دِل میں اسکی بات سن کر خوف سا پیدا ہوا تو وہ دانیال کو ڈانتی ہوئی بولی
“آفی ہونے کو تو کچھ بھی ہو سکتا ہے نا ؟ ……”
دانیال نے کندهے اچکا کر کہا اسکو آفریں کو تنگ کرنے میں مزا آرہا تھا
“چلے جاؤ یہاں سے…..””
آفریں نے وہاں گھاس پہ بیٹهتے ہی اپنا رخ پِھر سے پھولوں کی طرف پھیرا وہ اس سے ناراض ہوگئی…
دانیال اُس کی ناراضگی کے اندازِ پہ مسکرایا اور ایک کونے میں لگے ہوئے سورج مکھی پہ دھیان گیا تو وہ اٹھ کر وہ توڑنے گیا آفریں کو لگا وہ واقعی چلا گیا ہے اور منہ بناتی پِھر سے پھول کی تلاش میں لگ گئی
دانیال اُس کے پیچھے بیٹھا اور پھول اسکے بالوں میں لگایا
آفریں نے اسکو دیکھا پر ناراضگی ابھی بھی اُس کے چہرے پر نمایاں تھی
“اِس سورج مکھی کی طرح ہو تم بھی آفی … اتنی خوبصورت کھلی ہوئی جو دیکھے بس دیکھتا ہی رہ جائے اور میں اِس پھول کی خوشبو کی طرح ہمیشہ تمھارے پاس رہونگا…””
دانیال بیٹهتا ہوا اپنی دونون بازو اپنے پیچهے زمین پہ تٹکاتا ٹانگین لمبی کیئے آفریں کو دیکھتا ہوا بولا جو کہ اسی کو دیکھ کر مسکرا رہی تھی
“اور آفی کبھی بھی تمہیں میری کمی محسوس ہو تو اِس پھول کی خوشبو سونگھ لینا تمہیں میری موجودگی کا احساس ضرور ہوگا…””
اب دانیال کے چہرے پر شرارت امڈ آئی
“یہ تم کیسے کہہ سکتے ہو ؟….”
آفریں کو شبہ ہوا اسکا شرارتی چہرہ دیکھ کر تو نا سمجھنے والی نظروں سے دیکھتے ہوئے پوچھا
“کیوں کہ میں سورج مکھی کی ہی خوشبو والی پرفیوم یوز کرتا ہوں…””
دانیال نے آنکھ مارتے ہوئے کہا
آفریں اسکی بات پر دهیما سا ہنس پڑی اور ہنسی دبائے اسکو گهور کر کہنے لگی
“بندر ہی رہنا تم ، کبھی ڈھنگ کی بات نا کرنا…””
“ڈھنگ کی بات کرتا تو یہ خوبصورت ہنسی دیکھنے کو تھوڑی ملتی جس کو میں بہت مس کر رہا تھا…..”
دانیال نے اُس کے مسکراتی لبوں پر نظر ٹکاتے ہوئے کہا
“دانی تم بھی نا….””
آفریں اُس کے یوں دیکھنے سے شرما گئی اور سورج مکهی کو سونگتی ہوئی بولی جو کہ اسنے اپنے بالون سے نکال دیا تها
“دانیال بیٹا…..””
غزل کی آواز ان دونوں کو سنائی دی
دانیال اسکی آواز سن کر جلدی سے اٹها
“یار مٹهائی دینے کے بہانے آیا تها اور مامی کو واشروم کا کہ کر ادهر آگیا.. شاید مجهے ہی ڈهونڈ رہی ہیں چلتا ہوں…..””
دانیال تیزی سے بولتا گیا
“ٹھیک ہے اللہ حافظ…””
آفریں سورج مکھی کو سونگھتے ہوئے دھیرے سے بولی
“ابھی سے میری کمی محسوس ہونی لگ گئی کیا ؟ بس کچھ دن اور صبر بےبی پِھر ہمیشہ تم میری پاس ہی ہوگی…”؟
دانیال نے اسکو سورج مکھی سونگھتے دیکھا تو شرارت سے بولتا ہوا چلا گیا
“بندر…..””
آفریں نے مسکرا کر سَر جھٹکا اور پھول اپنی پھولوں کی ٹوکری میں رکھا آخر ایک پھول تو اسکی ٹوکری میں آ ہی گیا تھا______________________________________
جاری یے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *