Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Mujhy Ishq Tera Le Doba by Yusra Shah Episode10

Mujhy Ishq Tera Le Doba by Yusra Shah Episode10

آج ازلان ڈیڈهہ ہفتے بعد اُس ریسٹورنٹ میں آیا تھا اور جاکر سیدھے اپنی پسندیدہ نشست پر براجمان ہوا، اسکو ویٹر آتا ہوا دکھائی دیا…
“کیا ہوا ازلان یار اتنے دنوں بعد چکر لگایا ہے تم نے ؟….””
یہاں کا ہر ایک ویٹر اُس سے واقف تھا اور اُس سے فری ہوکر بات کرتا تھا اور سب کی ہی آپس میں دوستی تھی تو اسلیئے اب وہ اتنے دنوں بعد اسکو دیکھتا ہوا اُس سے پوچنے لگا
“ارے یاسر یار اب تیرا بھائی بزی ہو چکا ہے ایک اچھی سی کمپنی میں جاب مل گئی ہے…..”
ازلان چہرے پہ ہلکی سی مسکراہٹ لیئے ہوئے اسکو بتانے لگا….
اسکو کسی نے آج تک کھل کهلاتے ہوئے مسکراتے یا هنستے ہوئے نہیں دیکھا تھا …
بڑی سے بڑی خوشی پر بھی وہ بس ہلکا سا مسکرا دیتا اور اسکا دائین گال کا ڈمپل نمایان ہونے لگتا
“واہ یار پہلے کیوں نہیں بتائی اتنی بڑی خوش خبری…. بہت بہت مبارک ہو آؤ سب بھائی لوگ اپنے ازلان بھائی کو مبارک دو آفیسر بن گیا ہے…”
یاسر نے ازلان کے گلے لگ کر مبارک دی اور سب ویٹرز کو آواز دینے لگا اور سبھی ویٹرس نے آکر اسکو مبارک باد دی
“شکریہ یار تُم لوگوں کے پیار کا….””
ازلان نے سب کو محبت بھری نظر سے دیکھتے کہا جنہوں نے اسکو ہمیشہ بھائیوں کی طرح ٹریٹ کیا تھا اُس کے ہر دکھ سکھ میں اسکا ساتھ دیا تھا
“ارے کیسی باتیں کرتا ہے یار اور آج تُم یہاں سے جو بھی کھاؤ وہ بالکل فری ہے یہ ہماری طرف سے تمہارے لیے تُحْفَہ باقی ٹریٹ تو ہم تم سے وَقت آنے پر لینگے ….”
اِس بار ہوٹل کا مینجر بولا جو کہ ان سب سے عمر میں بڑا تھا پر تھا بالکل ان کے دوستو جیسا ہی…
“جی بالکل ٹریٹ بھی ملے گی جب آپ حکم کریں…”
ازلان ادب سے بولتا ہوا ان سے ملا
“مبارک ہو بہت ینگ میں اگے بھی کامیاب ہوتے رہو…..””
“تھینک یو….”
وہ اسکا کندھا ٹھپ تھپاتے چلے گئے اور سب ویٹرس اپنے کام میں لگ گئے اور یاسر اُس کے سامنے رکھی کرسی پر بیٹھتا ہوا بولا
“یار ایک لڑکی ہے یہاں آکر تیرے بارے مین دو دفعہ پوچهہ چکی ہے، اِس ہفتے میں دو بار آ چکی ہے….”
“کون لڑکی اور کیا پوچھ رہی تھی ؟…..””
ازلان نارمل اندازِ میں بولا
“وہ ہی یار جس سے اُس دن تیرا جهگڑا ہو گیا تھا تیری جگہ پر بیٹھ گئی تھی….”
ویٹر نے اسکو اُس دن والی بات یاد کروانا چاہی تو ازلان اسکو پر سوچ نظروں سے دیکھتا ہوا سوچنے لگا اور اسکو یاد آ ہی گیا
“اچھا وہ لڑکی… وہ کیوں میرے بارے میں پوچھ رہی تھی اسکو کیا کام پڑ گیا مجھ سے….””
وہ خفا ہوتے ہوئے کھڑکی سے باہر دیکهتے ہوئے بولا
“یار بس پوچھ رہی تھی تمھارے لیئے کے ریگولر کسٹمر ہے ، کب آتا ہے ، اب کیوں نہیں آرہا…..دو بار آئی ہے تیرے بارے مین پوچهتی ہے اور تقریباً پندرہ منٹ کے بَعْد بنا کچھ لیئے یہاں سے چلی جاتی ہے….””
یاسر نے اسکو پوری ڈیٹیل دی
اور یہ سنتے ہی ازلان کے ماتهے پر بل پڑ گئے کہ کون ہے وہ اور کیوں اسکی جاسوسی کر رہی ہے
“دماغ خراب ہے اسکا چھوڑو تُم دھیان مت دو….””
وہ اسکی بات کو ہلکا لیتا نارمل انداز میں بولا جیسے اسکو کوئی فرق ہی نہیں پڑا…
“چل سہی ہے اور تیرے لیئے کیا لاؤں بول….”
ب”س سینڈوچ اور پائن ایپل جوس….”
اسنے اپنے روز والے ناشتے کا آرڈر دیا…..
“پِھر وہ ہی گھسا پٹا سینڈوچ اور پائن ایپل جوس …. یار آج تو کچھ اور کھا لے فری میں ہے تجھے آج …. بور نہیں ہوتا تو….””
یاسر پِھر سے آج اسکا وہ ہی ناشتہ سن کر تپ گیا
“نہیں ہوتا میں بور بالکل بھی اور کیا کروں بس ایک چیز کی عادت پڑ گئی تو پڑ گئی…..”
ازلان مسکراتا ہوا شانے اچکا کر بولا
“ڈھیٹ ہے یار تو بہت….””
یاسر برا سا منہ بنا کر وہاں سے چلا گیا
“تهینکس….””
ازلان زیادہ ڈھیٹ بنتا ہوا شکریہ ادا کرنے لگا اور یاسر سَر ہلاتا ہوا چلا گیا کہ اس کا کچھ نہیں ہو سکتا
اور ازلان پِھر سے کھڑکی کی طرف دیکھنے لگا جہاں نیلا آسْمان اور کنوے اڑتے ہوئے دکهائی دے رہے تهے___________________________________
.
.
آج حفسہ آفریں کے گھر آئی تھی اسکو یونیورسٹی کے لیئے لینے کیوں کہ آفریں ابهی تک اسکو لینے اسکے گهر نہیں آئی تھی ورنہ وہ ٹائِم سے پہلے پهونچتی تھی، حفسہ نے اپنے ڈرائیور کو گهر بھیج دیا وہ چلتی ہوئی کندہوں پر بیگ لٹکا کر دروازے کی طرف بڑھ رہی تھی جب مخالف سمت سے آتا فھیم اُس سے ٹکرا گیا اسکا چوڑا سینہ حفسہ کے سَر سے ٹکرایا
“آہ ….”
حفسہ سَر پی ہاتھ رکھتی تیوری چڑا کر اسکو دیکھنے لگی جو فل سوٹ پہنے یقیناً آفس کے لیئے نکل رہا تھا اور اب چہرے پہ مسکراہٹ لیئے اُسی کو دیکھ رہا تھا
“آنکھیں تو اتنی بڑی ہَیں آپکی پِھر بھی دیکھ کہ نہیں چلا جاتا آپ سے…..””
حفسہ منہ بسورتی ہوئی بولی
“بڑا غور سے دیکھا ہے میری آنکھوں کو…..””
فہیم شوخا ہوا
“آفی کہاں ہے ؟ آئی کیوں نہیں ؟ یونیورسٹی کے لیئے لیٹ ہو رہا ہے….”
حفسہ اسکو فری ہوتا ہوا دیکھ کر بات بدلتے اصلی مدعے پر آئی
“آفی تو آج نہیں جا رہی، اُس کے سَر میں دَرْد تھا….””
فھیم نے اسکو وجہ بتائی
“اوہ اچھا تو وہ مجھے بتا دیتی نا اور میں بیوقوف ڈرائیور کو بھی گھر بھیج دیا…..”
حفسہ اب پریشانی سے بولی
“کوئی بات نہیں … میں کس مرض کی دوا ہوں ؟….”
فہیم اسکو آنکھ مارتا ہوا بولا تو وہ ایک دم سٹپٹا گئی
“میں آپکے ساتھ نہیں جاؤنگی ، بلکل نہیں….”
وہ سَر نفی میں ہلاتی بچوں کی طرح کہنے لگی
“شرافت سے چل رہی ہو یا میں اپنا انداز اپناؤں…..”
فھیم اب اُس پہ رُعْب جمانے کی کوشش کرنے لگا جو کہ اسکی عادت تھی اور حفسہ سے ہمیشہ اِس طرح اپنی بات منواتا
“اچھا نا چل رہی ہوں…..”
وہ خفا ہوتی ہوئی روتی شکل بنائے فھیم کی گاڑی میں بیٹھ گئی اور فھیم کو ہنسی آنے لگی جو کہ وہ دبا گیا اور سریس انداز پِھر سے اپناتے گاڑی میں بیٹھا اسکا آج پورا موڈ تھا حفسہ کو تنگ کرنے کا
اسنے گاڑی اسٹارٹ کردی
“ڈریسنگ اچھی کی ہے آج تم نے…..””
وہ ڈرائیو کرتا ایک نظر اُس پہ ڈالتا بولا
جو بلیو گرین کرتی پہ گرین شلوار… اور دوپٹہ سر پہ پہنے ہوئے تھی
اسنے فھیم کی بات سن کر دوپٹہ اپنے سر پر درست کیا اور اگے کو دیکھتی ہوئی ” شکریہ ” بولی
“پمپی بھی اچھی ہے….”
فھیم اسکے پیروں میں وائٹ پمپی دیکھتا ہوا اُسی سنجیدہ اندازِ میں بولا
“ججج جی…..””
وہ پیر پیچھے کرتی هچکچاتی بولی
“رنگ بھی اچھی پہنی ہوئی ہے……”””
حفسہ جو کہ اپنے دوپٹے کا کونا گھبراہٹ میں مروڑے جا رہی تھی فھیم اسکو دیکھتا ہوا اسکی انگهوٹی کی تَعْرِیف کرنے لگا تو اسنے اپنے ھاتھوں پہ بھی دوپٹہ پھیلا دیا
اب فهیم کی نظر اُس کے لبوں پر پڑی جو وہ دانتوں سے کچل رہی تھی جن پہ لائٹ پنک گلوس لگی ہوئی تھی
“لپسٹک کا کلر بھی اچھا ہے……””
فھیم کا جملہ سنتے اسنے غصے سے فھیم کو گھورا فھیم نے اسکی آنکھوں میں کاجل دیکھا اور بولا
“کاجل جنچ رہا ہے تُم پر…..”
اب حفسہ شرم سے منہ موڑ گئی اور کھڑکی سے باھر دیکھنے لگی
فھیم کو مزہ آرہا تھا اُس کے چہرے پر الگ الگ رنگ دیکھ کر
“اور تُم بھی مجهے پوری کی پوری اچھی لگتی ہو …..””
فھیم اب مسکراہٹ دبائے بولا
اور حفسہ اب بالکل جھنپ گئی اور بازو سینے پہ باندھے بالکل کھڑکی کی طرف چمٹ گئی
“اب خود کو کہاں چهپاؤگی تُم ؟……”
فھیم کو ہنسی آگائی کہ سب کچھ تو چھپا لیا اب خود کہاں چهپتی تو اسنے حفسہ کو بول ڈَالا
حفسہ نے ایک نظر اسکو دیکھا پِھر کھڑکی کی طرف منہ کر لیا
“جلاد…….””
وہ دھیرے سے بولی جو کہ فھیم نے سون لیا
اور یکدم گاڑی کو بریک لگادی
“کیا کہا تم نے ؟ ؟……”
فھیم حیرت سے چلایا
“کک کک کچھ بھی تو نہیں … م م میں کیا کہونگی بهلا
.. میں نے کچھ نہیں کہا….””
وہ اُس کے چلانی سے سہمی اور هچکیچاتی اپنی طرف سے صفائی دینے لگی کہ جلاد سچ میں جلاد کے روپ میں ہی نا آجائے
“جلاد کہا نا تم نے مجھے ؟……””
فھیم یقین دہانی کرنا چاہتا تھا
“ن ن نہیں تو آپکو غلط فہمی ہوئی ہے…..””
وہ زبردستی مسکرائے اپنا ڈر چهپانے لگی
اور فھیم زور سے ہنسنے لگا تو حفسہ نے اسکو حیرت سے دیکھا
“جلاد ؟ ویسے نام سہی رکھا ہے تم نے پر ابھی سہی معنوں میں جلادون والا کام کرتے تم نے مجھے نہیں دیکھا…..””
وہ معنی خیزی سے بولا تو حفسہ کے چہرے پر شرم کے رنگ نمایاں ہوئے
“یونیورسٹی چهوڑ دیں مجھے لیٹ ہو رہا هے….؟؟…..”
وہ سَر جھکائے فہیم کی بات اگنور کرتی بولی
تو فھیم مسکراتا ہوا پِھر سے ڈرائیو کرنے لگا اور حفسہ کو مزید تنگ کرنے کا ارادَہ ترک کرتا اسکو یونیورسٹی چهوڑ دیا اور خود بھی آفس کے لئیے نکل گیا…….
جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *