Mujhy Ishq Tera Le Doba by Yusra Shah NovelR50767 Mujhy Ishq Tera Le Doba by Yusra Shah Episode33
Rate this Novel
Mujhy Ishq Tera Le Doba by Yusra Shah Episode01 Mujhy Ishq Tera Le Doba by Yusra Shah Episode02 Mujhy Ishq Tera Le Doba by Yusra Shah Episode03 Mujhy Ishq Tera Le Doba by Yusra Shah Episode04 Mujhy Ishq Tera Le Doba by Yusra Shah Episode05 Mujhy Ishq Tera Le Doba by Yusra Shah Episode06 Mujhy Ishq Tera Le Doba by Yusra Shah Episode07 Mujhy Ishq Tera Le Doba by Yusra Shah Episode08 Mujhy Ishq Tera Le Doba by Yusra Shah Episode09 Mujhy Ishq Tera Le Doba by Yusra Shah Episode10 Mujhy Ishq Tera Le Doba by Yusra Shah Episode11 Mujhy Ishq Tera Le Doba by Yusra Shah Episode12 Mujhy Ishq Tera Le Doba by Yusra Shah Episode13 Mujhy Ishq Tera Le Doba by Yusra Shah Episode14 Mujhy Ishq Tera Le Doba by Yusra Shah Episode15 Mujhy Ishq Tera Le Doba by Yusra Shah Episode16 Mujhy Ishq Tera Le Doba by Yusra Shah Episode17 Mujhy Ishq Tera Le Doba by Yusra Shah Episode18 Mujhy Ishq Tera Le Doba by Yusra Shah Episode19 Mujhy Ishq Tera Le Doba by Yusra Shah Episode20 Mujhy Ishq Tera Le Doba by Yusra Shah Episode21 Mujhy Ishq Tera Le Doba by Yusra Shah Episode22 Mujhy Ishq Tera Le Doba by Yusra Shah Episode23 Mujhy Ishq Tera Le Doba by Yusra Shah Episode24 Mujhy Ishq Tera Le Doba by Yusra Shah Episode25 Mujhy Ishq Tera Le Doba by Yusra Shah Episode26 Mujhy Ishq Tera Le Doba by Yusra Shah Episode27 Mujhy Ishq Tera Le Doba by Yusra Shah Episode28 Mujhy Ishq Tera Le Doba by Yusra Shah Episode29 Mujhy Ishq Tera Le Doba by Yusra Shah Episode30 Mujhy Ishq Tera Le Doba by Yusra Shah Episode31 Mujhy Ishq Tera Le Doba by Yusra Shah Episode32 Mujhy Ishq Tera Le Doba by Yusra Shah Episode33 (Watching)Mujhy Ishq Tera Le Doba by Yusra Shah Episode34 Mujhy Ishq Tera Le Doba by Yusra Shah Episode35 Mujhy Ishq Tera Le Doba by Yusra Shah Episode36 Mujhy Ishq Tera Le Doba by Yusra Shah Episode37 Mujhy Ishq Tera Le Doba by Yusra Shah Episode38 Mujhy Ishq Tera Le Doba by Yusra Shah Episode39 Mujhy Ishq Tera Le Doba by Yusra Shah Episode40 Mujhy Ishq Tera Le Doba by Yusra Shah Episode41 Mujhy Ishq Tera Le Doba by Yusra Shah Episode42 Mujhy Ishq Tera Le Doba by Yusra Shah Episode43 Mujhy Ishq Tera Le Doba by Yusra Shah Last Episode
Mujhy Ishq Tera Le Doba by Yusra Shah Episode33
Mujhy Ishq Tera Le Doba by Yusra Shah Episode33
“ازلان پلیز ایسا مت کرو….”””
وہ چلاتی رہی پر ازلان کا پارا تو جیسے چڑ گیا تھا اُس کے غصے کی آج انتہا نہیں تھی…. اسکے صبر کا پیمانہ آج لبریز ہو چکا تها….
اسنے ایک نظر شیشے کے دروازے سے آفرین کو دیکھا جو روتی ہوئی اس سے التجا کر رہی تھی پر آج اس بے رحم کو اس پہ ترس نہیں آنا تھا… وہ پردے چڑھائے بیڈ کی طرف بڑھ گیا….
اسنے ایک واحد لیمپ بھی بُجھا ڈالی اور بیڈ پہ سیدھا لیٹا سگریٹ کے کش لگانے لگا…
اور آفرین باہر سجی دہجی بارش میں بھیگ کر اسکو آوازیں دینے لگی جس سے وہ بالکل ہی نا آشنا تها
بس دروازے بجانے کی آوازیں آرہی تهیں…
ازلان اُس کے مسلسل شور مچانے سے اکتا کر اٹھ بیٹھا… اور ایک ناگوار سی نظر اس شیشے کے دروازے پر ڈالی جس پر پردے چڑ چکے تھے اور آفریں کے پیٹنے کی ٹھک ٹھک اسکو پریشان کیئے جا رہی تھی…..
اسنے مٹھیاں بهینچے ضبط کرنے کی کوشش کی جب نا کر سکا تو اٹھ کر کمرے کی ہر چیز توڑنے لگا…. کافی توڑ پھوڑ کے بَعْد ٹیرس سے آوازیں آنا بند ہوگئیں… . وہ بال مٹھیوں میں جکڑ کر نیچے زمین پہ بیٹھ گیا…
“کیوں تکلیف دے رہا ہوں میں اسکو ..جب کہ اسکو خوش رکھنے کا سوچا تھا…..”””
وہ خود سے شکایت کرتا بولا…
“بیوقوف ہو تم ازلان…. گدهے ہو تم… کیوں ایسا کر رہے ہو….”””
وہ سامنے ٹوٹے ہوئے پرفیوم کا شیشہ مٹھی میں جکڑے بولا… اُس کے ہاتھ سے خون کی ایک لہر بہہ کر زمین پہ گرنے لگی…
اسکو یکدم آفریں کا ہوش آیا تو بنا اپنے ہاتھ کی پرواہ کیئے . . باہر کی طرف آیا جہان آفریں جهولے پہ سکڑ کر بیٹھی تھی اور اپنے دوپٹے سے خود کو سردی سے بچانے کی کوشش کر رہی تھی…
ایک تو سردی اور اوپر سے بارش…
وہ بری طرح کانپ رہی تھی …. ازلان نے اسکو یوں دیکھا تو اسکا خود کی عقل پر ماتم کرنے کو دِل چاہا….
وہ جلدی سے آفریں کے پاس بڑها اور اسکو بانہوں میں اٹھائے کمرے آیا … اسنے آفرین کو بیڈ پہ سلا دیا ….
وہ بری طرح سے بھیگ چکی تھی اور ابھی تک کانپے جا رہی تھی …
ازلان نے اس پر لحاف اوڑھا اور اسکی ہتھیلیاں مسلنے لگا …. اسکو ہوش نہیں تھا کہ اُس کا ہاتھ خون سے رنگا ہوا ہے…
اسنے اپنے ہاتھ سے خون بہتا دیکھا تو اپنے ہی بازو سے ہاتھ رگڑ کر خون صاف….
اسنے پہلے ہیٹر آن کیا اور اُس کے بعد اسنے جلدی سے اٹھ کر فرسٹ ایڈ باکس سے بینڈیج اٹھا کر ٹیڑہی میڑہی بینڈیج اپنے ہاتهہ پر جلدی سے لپیٹ لی…
اور کمرے سے باہر نکل گیا …
اسنے جلدی سے جاکر جیسا تیسا سوپ بنایا اور کمرے میں چلا آیا….
کمرے میں کئی ساری توڑ پهوڑ کی وجہ سے اُس کے پیر میں ایک شیہ چبهہ گیا…
اسنے اسکو نظرانداز کیا اور آفرین کے پاس بیڈ پر بیٹھ گیا ….
اسکو بانہوں میں اٹھاتا ہوا سوپ پلانے لگا سوپ پلانے کے بعد آفرین بنا کچھ سوچے سمجهے ازلان کے سینے میں سَر چُھپا گئی… ازلان نے بھی اسکو بانہوں میں بھر لیا…
“آفریں معاف کردو…. میں غصے میں کیا کر گیا مجھے معلوم نہیں ہوا…. سوری….”””””
“آفرین معاف کیا نا ؟ ؟ …….”””
آفریں کی طرف سے خاموشی رہی اسنے اسکا چہرہ دیکھا تو وہ آنکھیں بند کیئے شاید سو چکی تهی.. … اسنے احتیاط سے اسکو تکیئے پر لٹایا…
اور عظمہ کے پاس گیا…
اسکو آفریں کے گیلے کپڑے چینج کروانے کے لیئے کمرے میں لایا…
“یہ کیا حشر کیا ہے تم نے کمرے کا اور اِس بچی کو کیا ہوا ہے … اب کیا کارنامہ سَر انجام دے دیا تم نے…..”””
عظمہ کمرے اور آفریں کی حالت دیکھتی ہوئی بولی
“امی آفریں کے کپڑے چینج کریں اسکو سردی نا لگ جائے….”””
ازلان کو صرف آفریں کی فکر لاحق تھی .
عظمہ نے نا گوار سی نظر اس پر ڈالی .. ازلان کمرے سے باہر گیا تو عظمہ نے آفریں کے کپڑے تبدیل کروا دیئے….
عظمہ ازلان پہ بہت غصہ ہوئی
اور اس سے کئی سارے سوال کیئے جسکا ازلان نے اثر نا لیا اور اسکو سونے بھیج دیا…..
اور ساری رات جاگ کر ازلان اسی طرح آفرین کے پاس بیٹها اسکا خیال رکهنے لگا.. اسکو اپنی کی ہوئی حرکت پر بے حد ندامت محسوس ہوئی… وہ غصے کا سخت تها…… پر یہ نہیں چاہتا تها کہ کبهی آفرین پہ غصہ کرے.. پر آج اسکے لیئے غصہ کنٹرول میں رکهنا مشکل رہا…… کیوں کہ آفرین نے پهر اسی شخص کا نام لیا تها…… جس کو ازلان اسکے قابل نہیں سمجهتا تها……. خود اسکو ایک پل کی بھی نیند نہیں آئی تھی……بس ساری رات خود کو کوستا رہا
_________________________________________
.
.
آفرین کی صبح تب آنکھ کھلی جب اسکو بھوک کا احساس ہوا اسنے چندهیا کر آنکھیں کھولیں تو آفتاب کی روشنی اسکی آنکھوں پر پڑہنے لگی …
کروٹ لی تو سامنے ازلان بیڈ کراؤن سے سر ٹکاتا سوتا ہوا نظر آیا اسکو…. وائٹ شرٹ جسکی آستینو پر خون کے دهبے تھے بکهرا ہوا حلیہ …
ہاتھ پر گہرا زخم …. شرٹ کے اوپر والے تِین بٹنز کھلے ہوئے…..
آفریں کو ایک پل کے لیئے اس پہ رحم تو آیا پر کل رات کی بے رحمی یاد کر کے اسکو غصہ بھی آیا…
وہ اٹھی تو اسکے اٹهنے سے ازلان بھی اٹھ بیٹھا جو کہ کچی نیند میں تها…
آفرین کا ہوش اپنے کپڑوں پر گیا تو وہ منہ کھولے ازلان کو دیکھ رہی تھی … ازلان نے اسکو سوالیہ نگھاوں سے دیکھا….
“کپڑے تم نے …… ؟ ؟ ؟ ؟…..”””
“نہیں… امی نے کیئے تھے ….”””
ازلان کے بتانے پر آفریں نے سکھ کا سانس لیا
اور اٹھ کر الماری کی طرف بڑی…
“سوری آفریں کل کے لیئے میں شرمندا ہوں….”””
ازلان اُس کے پیچھے کهڑا ہوتا ہوا بولا
“تم میری نظروں کے سامنے بھی مت آیا کرو … دادو کہتی ہیں کہ یہ ازلان تمہیں خوش ركھے گا…… تم جیسا انسان تو بس دَرْد دینا جانتا ہے خوشیاں نہیں…….”””
آفریں یہ کہتے ہوئے واشروم چلی گئی…
اور واپس آئی تو ازلان نے اُس کو تیار ہوتے دیکھا …
“کہیں جا رہی ہو ؟ ؟ ؟…..”””
ازلان نے اسکو دیکهتے ہوئے اس سے سوال کیا…..
“ہاں …اپنے گھر جا رہی ہوں … ولیمہ ہے آج بھائی کا … اور وہاں اسٹے کرونگی میں …..”””
آفریں آئینے میں خود کو دیکھتی ہوئی بولی .. لہجے میں غصہ صاف تھا …
“اسٹے نہیں کروگی تم….. تمہاری طبیعت بهی ٹهیک نہیں لگ رہی مجهے…..”””
ازلان نے اسکو حیرانگی سے دیکھتے کہا…..
“میں کرونگی اسٹے …اور خبردار جو اب تم نے مجھے روکنے کی کوشش بھی کی تو……”””
آفرین اپنے ہاتهہ پہ لگے زخم پر پٹی کرتے بولی…
“میں کردیتا ہوں…..”””
ازلان اسکے پاس بیٹهتا ہوا بولا…
“کوئی ضرورت نہیں….. یہ زخم بهی تو تمہارے لگائے ہوئے ہیں نہ.. تمہیں بس یہی سب تو کرنا آتا ہے ازلان…..”””
آفرین نے اسکا بڑہتا ہوا هاتهہ جهٹک کر کہا…
“زخم میں نے دیا ہے تو اس پر مرہم لگانا بهی میں جانتا ہوں…….”””
ازلان نے سنجیدگی سے کہہ کر اسکا ہاتهہ مضبوطی سے پکڑا اور پٹی کرنے لگا…
پٹی کرنے کے بعد آفرین آٹهہ بیٹهی..
اور اپنا پرس اٹهانے لگی
“اسٹے نہیں کرو.. رات مین لوٹ آنا پلیز…”””
ازلان نے اس سے التجا کی…
“تم مجهے اب نہ ہی روکو تو بہتر ہے….””
آفرین یہ کہتے ہوئے کمرے سے باہر چلی گئی..
ازلان گہرا سانس خارج کرتا ہوا واشروم میں چلا گیا……
عظمہ اور آفریں ناشتہ کر رہیں تھیں جب ازلان ان کو دکھائی دیا …..
“خالہ میں چلتی ہوں…..”””
آفرین اسکو دیکھتے ہوئے اٹھی ….
“کس کے ساتھ جاوگی ؟ میں آفس جا رہا ہوں…. تمہیں بهی ڈراپ کرتا جاونگا….”””
ازلان گھڑی میں ٹائم دیکھتا ہوا بولا
“نہیں بس میں ڈرائیور کے ساتھ چلی جاونگی….”””
آفرین پرس اپنے کندهے پر لٹکائے بولی…
اور باہر نکل گئی.. ازلان بهی اسکے پیچهے چل دیا
عظمہ سمجھ گئی تھی کہ کل رات کچھ ہوا ضرور ہے جو وہ دونوں بتانا نہیں چاہا رہے تھے…
“میں چهوڑ دیتا ہوں تمہیں….. اور اب زیادہ ضد مت کرنا….””
ازلان آفرین کے آگے کهڑا ہوتا بولا….
آفرین بنا کچهہ کہے اسکو گهورتی ہوئی اسکی گاڑی میں بیٹهہ گئی….
وہ آج ازلان سے زیادہ بحث نہیں کرنا چاہتی تهی….
گاڑی کا سفر خاموشی میں گزرا دونوں کے بیچ میں کوئی بات نہیں ہوئی تھی….
آفریں گھر آئی اور ازلان وہیں سے چلا گیا …
وہ سب سے مل کر اپنے روم میں چلی گئی… ملتے وقت اسکے چہرے پر کوئی خوشی کا آثار کسی کو نہیں دکها…
فیضان اور زرمینا بیگم کو پتہ تھا کہ وہ ناراض ہے….
فیضان کا تو ندامت سے سَر ہی جھک گیا…
کمرے میں آئی تو اس کمرے کے ساتھ کئی جڑی ہوئی یادیں اسکو یاد اینی لگی … بچپن کے رنگین دن .. حفسہ اور اسکا یہاں گھنٹو بیٹھے رہنا اور باتیں کرنا .. دادو سے کہانیاں سننا….. غزل اور فیضان کو بچپن میں رات کو اپنے ساتھ سُلانا ….. پر اب یہ ساری یادیں صرف یادیں ہی رہ گئی تھیں اسکو لگ رہا تھا کہ کوئی اسکا اپنا نہیں ہے…. . سب نے اُس کے ساتھ غلط کیا ہے ….
وہ خالی خالی نظروں سے کمرے کی ہر ایک چیز کو دیکھتی ہوئی کهڑکی کی طرف کھڑی ہوگئی … جہاں سے لان دکھائی دے رہا تھا اور اس لان میں اسکو چھوٹے سے فھیم دانیال حفسہ اور خود کا بچپن کھیلتا ہوا دکھائی دیا ….
کتنے سہانے تھے وہ دن … جن کو وہ بہت پیچھے چهوڑ چکی تھی … اسنے اپنی ہستی ہوئی زندگی میں کبھی ایسا نا سوچا تھا کہ وہ یوں اپنوں کی بے رخیان بھی دیکهے گی …
وہ سب کو پرایا سمجهنے لگی تھی …
اسنے کرب سے آنکھیں مییچ لیں … پر زندگی کے ان اُتَار چڑهاؤ نے اسکو اندر سے بہت مضبوط بنا دیا تھا… ان مشکلات نے اسکو کئی طوفانوں کا سامنا کرنے کی ہمت دے دی تهی………….
_________________________________________
.
.
آفریں چهت پہ تیار کھڑی… پیرون تک آتا نیوی بلیو فراک پہنے خالی نظروں سے نیچت دیکھ رہی تھی جہاں ولیمے کی گهما گهمی میں سب ادہر ادھر دوڑ رہے تھے …
فھیم اسکو ڈھونڈتا ہوا چهت پر آیا اور اسکو یوں اُداس دیکھتا اُس کے ساتهہ کھڑا ہوا…
“یہاں اکیلے ایسے کیوں کھڑی ہو ؟ ؟…….””””
“ایسے ہی بس …. اکیلا پن اچھا لگنے لگا ہے….کسی کے آنے کی امید ہی نہیں رہتی…..”””
آفرین مسکراتی ہوئی بولی اور مسکراہٹ میں درد صاف نمایاں تھا
“ازلان سے پہلے ہی تم ملتی رہی تھی تو دانیال سے شادی کیوں کر رہی تھی…….””””
فہیم نے آخر سوال پوچھ لیا جو کئی دنوں سے اُس کے دماغ میں چل رہا تھا …آفرین حیران ہوتی ہوئی اسکو دیکھنے لگی…
“بھائی یہ آپ کیا کہہ رہے ہیں ؟ ؟……”””
وہ حیرانگی سے بولی
“آفی میں جانتا ہوں کہ تم جب یونیورسٹی میں تھی تب ہی ازلان سے ملتی رہی تھی… تم دونوں ایک دوسرے کے کانٹیکٹ میں بھی رہے تھے اور تو اور اس رات تم نے ازلان کی ہی جیکٹ پہنی ہوئی تھی مطلب اس رات بھی تم دونوں ملے تھے… پِھر تم نے نکاح کے لیئے بھی حامی بھر لی اس سے … اگر سیدھا نکاح تمہیں ازلان سے ہی کرنا تھا تو پہلے بتا دیتی … دانیال کو بهیچ میں کیوں پھسایا ہوا تھا…..”””
فھیم نے ساری کڑیاں ملا کر اسکو اپنی بنائی کہانی سنا ڈالی….. آفریں یہ سنتے ہی سکتے میں چلی گئی ….
آفرین خاموشی سے کہڑی رہی… اور اسکو گهورنے لگی جو ناجانے کیا کیا سمجهہ بیٹها تها..
“بهائی….””
جاری ہے
