Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Mujhy Ishq Tera Le Doba by Yusra Shah Episode26

Mujhy Ishq Tera Le Doba by Yusra Shah Episode26

آفریں کی گہری نیند میں تھی جب اسکو نیند میں ہی کچھ آوازیں سنائی دی…..
ہلکی سی سورج کی روشنی اسکی آنکھوں پر پڑنے لگی تو اسنے آنکهیں کهول کر دیکها ازلان آئینے کے سامنے کالی پینٹ اور سیاہ بنیان پہنے کهڑا تھا اور بار بار وہاں کے برش اور کنگیاں دیکھ پٹخ رہا تها…….
وہ ایک اٹهاتا تو آفریں کے بال کنگیوں اور برش میں دیکهہ وہیں ڈریسنگ ٹیبل پر پٹخ رہا تھا جس کی آوازوں نے آفریں کو اکتایا ہوا تھا….
“پاگل واگل تو نہیں ہوگئے تم ؟ یہ کیا صبح صبح شور مچایا ہوا ہے تم نے ؟…….”””
آفریں آنکھیں مسلتی اٹهہ بیٹهی اور چلا کر بولی
ازلان نے پیچھے مڑ کر اسکو ایک خفا سی نظر سے دیکھا……اور واپس آئینے پر اپنے کام میں مہو ہوكر بولا
“یہ سارے اور برش اور کنگیوں میں تم نے اپنے بال پھنسا رکهے ہیں… کنگی ڈھنگ سے کرنے نہیں آتی تو مت کیا کرو نا…….”””
“اوہ ہیلو مسٹر بدتمیز.. ہم لڑکیوں کے یہ روز کے مسئلے ہیں اور خود شوق سے نکاح کیا تھا نا اب جهیلو یہ سب……”””
آفرین کو مزا آرہا تها ازلان کو تنگ کرتے تو ایک ادا سے اپنے بال جهٹکتے ہوئے بولی
“آئیندہ اِس برش کو ہاتھ بھی مت لگانا تم…سمجھ آیا…..”””
ازلان نے ایک برش اسکو دیکھا کر کہا
“ہاتھ لگاؤنگی اور اسکو بالو میں بھی گھماؤں گی دیکھتی ہوں کیسے روکتے ہو….”””
آفریں نے سائڈ ٹیبل سے موبائل اٹھا کر چیک کرتے کہا جو کہ چارج نہ ہونے کے بائث آف ہو چکا تها
“جن ہاتھوں سے اِس برش کو ہاتھ لگایا نا ہاتھ توڑ کے دوسرے ہاتھ میں دے دونگا……””””
ازلان بری طرح سے تپ کر بالوں میں برش چلاتا بولا
“زیادہ دھونس جمانے کی ضرورت نہیں ہے تمہیں اور شرٹ پہنو اپنی جلدی سے بدتمیز……”””
آفریں نظریں نہیں اٹھا رہی تھی اور ٹیرس کے دروازے سے باہر دیکھتی ہوئی بولی
“کیوں تمہیں کیا مسئلا ہو رہا ہے میری شرٹ نا پہننے سے……””
ازلان اسکو دیکھتا ہوا سامنے پڑے صوفے پہ بیٹھتا بولا
آفریں نے اسکو آنکهیں پھاڑے دیکھا کہ کیسے اسکی بات کو اگنور کرتا وہ صوفے پہ بیٹھ کر بڑے مزے سے سگریٹ پینے کی تیاری کر رہا تھا
ازلان نے سگریٹ نکال کے جیسے ہی لائٹر سے اسکو جلایا تو آفریں بول پڑی
“اِس دهونوے کو پینے کے علاوہ کوئی اور کام بهی ہے کہ نہیں تمہیں ؟ اور باہر جا کر پیو یہ اپنی سگریٹ……”””
“نہیں جا رہا میں باہر واہر… اور جلد ہی اپنی یہ نائیٹی چینج کر کہ آؤ……””
ازلان اسکو بنا دیکهے بولا
اسکو آفریں کی بنا استینو والی كمر تک آتی سلک شرٹ اور ٹواؤزر ایک آنکھ نا بھایا تھا
“تمہیں میری ہر چیز سے مسئلا کیوں ہے اور واہ اب تو نائیٹی سے بهی……””
آفریں جھجھک کر بولی کیوں کہ اسنے جب خود کا عکس آئینے میں دیکھا تو اسکو بھی یہ مناسب نا لگا
“کہا نا اُتار کر کوئی ڈھنگ کی ڈریس پہنو اور آئِنْدَہ میں تمہیں اِس نائٹی میں نا دیکھوں…….””
ازلان اسکو آنکھوں میں شعلہ لیئے دیکھتا ہوا بولا
آفریں کو اس کی آنكھوں میں وہ ہی ازلان دکھا جسکی ریسٹورنٹ والی بات نے اسکو یہ سمجھا دیا تھا کے لوگ ہم پہ ہماری غیر مناسب ڈریس کی وجہ سے بری نظر ڈالتے ہیں……
وہ ایک دم چُپ ہوگئی….. الماری کی طرف بڑھ کر ایک ڈریس نکالے جلدی سے واشروم میں گھس گئی……
ازلان اسکو سنجیدگی سے دیکھتا گیا اور سگریٹ عیش ٹرے میں مسلتا…اپنی شرٹ پہنے آفس کے لیئے نکل گیا
_________________________________________.
.
“بیٹا آج حفسہ کی رخصتی ہے تو غزل اور اسد بھائی نے فون پر ہم سب کو آنے کا کہا ہے تم آفس سے شام تک لوٹ آنا…..”””
ازلان تیز قدم اٹھاتا ہوا جا رہا تھا جب عظمہ کی پیچھے سے آتی آواز نے اسکو روکا
“آپ لوگ چلے جائیگا میرا کیا کام وہاں….””
ازلان کو جانے میں کچهہ خاص دلچسپی نا تھی تو آبرو اچکا کر بولا
“بیٹا انہوں نے تمہارے لیئے بھی کہا ہے اور میں نے ہاں بھی کردی ہے ……”””
“اچها…. میں کوشش کرونگا…..””
وہ اپنی ماں کی بات نہ ٹال سکا
“ناشتہ کرو آؤ میں نے لگا دیا ہے…..””
عظمی کچن کی طرف بڑتی ہوئی بولی
“نہیں آپ اکریں.. اور آفرین کو بهی کروالینا…مجھے لیٹ ہو رہا ہے وہیں سے کچھ کھا لونگا……”””
ازلان کہتا ہوا چلا گیا
_________________________________________
.
.
آفریں نیچے آئی تو عظمی لاونچ میں بیٹھی ہوئی ٹی وی دیکھ رہی تھی
“اسلام و علیکم…..””
آفرین نے انکے ساتھ بیٹهتے ہوئے سلام کیا
“وعلیکم سلام…. بیٹا ناشتہ لگواؤں ؟ فھیم لایا تھا تمھارے لیئے اور جلدی میں تھا تو چلا گیا ناشتہ دے کر…..”””
“بهائی رکے کیوں نہیں……”””
آفریں افسردہ ہوئی
“بیٹا میں نے تو بہت کہا… کہہ رہا تھا کہ آفس جانا ہے…..”””
عظمہ نے اسکو بتایا تو آفریں کا منہ لٹک گیا کہ فھیم اس سے ملے بنا ہی چلا گیا اور اپنا دوسرا سوال کیا
ا”می اور ابو کیوں نہیں آئے ؟……”
“پوچھا تھا فھیم سے…. کہہ رہا تها حفسہ بیٹی کی رخصتی ہے اسی کی تیاریوں میں لگے ہوئے ہیں … تمہیں بھی فون کیا تھا پر آف تھا تمھارا فون شاید…..””
عظمی نے پوری بات اسکو کہہ سنائی تو اسنے اپنے ماتهے کو چھوا اور ندامت سے بولی
“بیٹری لو ہوگئی تھی موبائل کی اور میں نے چارْج بھی نہیں کی دماغ سے ہی نکل گیا….”””
“چلو کوئی بات نہیں میرے فون سے بات کر لو پر پہلے ناشتہ کر کے آؤ تم…..””
عظمہ نے اسکو پیار سے بولا
“وہ کچن میں چلی گئی اور ناشتہ کر کے واپس آئی
“بیٹا ناشتہ اچھے سے کیا نہ…..””
عظمی نے اسکو مسکراتے ہوئے پوچھا
“جی خالہ….””
آفرین بھی مسکرائی…
“لو بیٹا کر لو بات اپنے گھر….””
عظمی نے اسکو اپنا فون تھمایا…. اسنے غزل کا نمبر ڈائل کر کہ فون کیا حال احوال کے بعد غزل نے اسکو حفسہ کی رخصتی کا بتایا آفریں بہت خوش ہوئی یہ بات سن کر اور شام کو آنے کی دعوت بھی دی…… جو کہ اسنے عظمی کو تو دی پر آفرین کو بھی بول دیا اور دادی سے بھی تھوڑی گفتگو کے بعد اسنے کال کاٹ دی اور فون عظمہ کو تھما دیا……آفریں گھر بات کر کے خوش تھی….
“آفرین تم سے ایک بات پوچھوں……”
“جی پهوچیں نہ خالہ…..”””
” ازلان سے نکاح تم نے اپنی خوشی پر کیا تھا نا…..””
عظمی کو کئی دن سے شک تھا تو وہ آفرین سے پوچھ بیٹھی…
اوہ تو اسنے خالہ کو بھی کچھ نہیں بتایا…. آفریں نے دِل میں ہی کہا اور کچھ سوچتے ہوئے بولی
“ہاں خلا…لیکن آپ کیوں پوچھ رہی ہیں ….؟”
آفرین نے جھوٹ بولا کیوں کہ فیضان نے اسکو کچھ بھی بتانے سے منع کر رکھا تھا تو آفریں نے اپنے باپ کی بات کا مان رکھا…..
“ایسے ہی…. ازلان کا اچانک نکاح کا فیصلہ سنا تھا اسلیئے بس پوچھا…..””
عظمہ نے وضاحت دی…..
“آپ بے فکر رہیں خالہ…….””
آفریں یہ کہہ کر اوپر کی طرف بڑھ دی……………………
وہ کمرے میں گئی تو سامنے صوفے پر وہ ہی ازلان کی عیش ٹرے پڑی ہوئی تھی جس سے اسکو بڑهہ چڑ کر غصہ آیا….
اسنے اپنا موبائل چارْج پر لگایا اور پِھر دوسرے کمرے کی چابی ڈھونڈا شروع کردی … اسکو ڈھونڈتے ڈھونڈتے ازلان کی الماری سے اپنی ایک تصویر ملی جب وہ دانیال کے ساتھ ریسٹورنٹ گئی تھی اسی جوڑے میں وہ گاڑی کے سامنے کھڑی تهی…….
وہ اس تصویر کو دیکھنے لگی کہ یہ ازلان نے کب لی تھی….
اسنے کچھ لمحے اس تصویر کو دیکھا اور سَر جهٹکتے تصویر وہیں رکھ دی …. اسکی موبائل تھوڑی چارْج ہوگئی تو حفسہ اور فیضان کی بہت ساری مس کال لگی ہوئی تھی گھر تو اسنے بات کرلی تھی اسلیئے فیضان کو کال بیک نا کی اور حفسہ کو کرنے لگی….
“ہیلو حیفی کیسی ہو…؟؟؟….”
حفسہ کی آواز سنتے ہی آفریں بول پڑی
“بالکل بھی ٹِھیک نہیں ہوں یار آفی……””
حفسہ کمرے میں اپنے نکاح کے ڈریس کو دیکھتے ہوئے بولی
“ارے کیوں چشمش تمہیں کیا ہوا ؟…….””
“یار رخصتی جو ہے ایک تو گھر سے جانے کا دکھ اور دوسرا اس جلاد کے ساتھ رہنے کی ٹینشن….. “””
حفسہ چشمے کو انگلی سے اوپر کرتی بولی
جیسے کہ کوئی بڑے پہاڑ ٹوٹ پرے ہوں اس پر….
آفریں اسکی بات پر ہنسی اور کہا
“یار اب میرا بھائی کوئی جلاد ولاد بھی نہیں ہے….. شکر کرو اِتْنا فن لونگ انسان ملا ہے ورنہ میرا تو اس بدتمیز کے ساتھ دم گھٹتا ہے …..”
آفرین کو اپنا دُکھڑا یاد آیا تو اسنے بهی کہہ سنایا
“یار بدتمیز سے یاد آیا کہ ازلان بھائی وہ ہی ہیں نا جس کے ساتھ ریسٹورنٹ میں تمهاری لڑائی ہوئی تھی اور اچانک سے تمھارا نکاح ہونا انہیں کے ساتھ اور بڑی بات کہ بڑے ماموں کے بیٹے نکل آئے وہ ، آفی ویسے بہت عجیب بات ہے….. نہیں ؟….””
حفسہ ٹھوڑی پہ انگلی رکھتی ہوئی تعجب سے بولی
“حفی یہ انکا انکا کیا لگایا ہوا ہے اسکو عزت مت دو اِتْنی… مجھے تو نکاح کے وقت یہ بھی نہیں پتہ تھا کہ یہ وہ ہی بدتمیز نکل آئے گا ورنہ میری جوتی کرتی اس سے نکاح…..”””
آفریں منہ بسورتی ہوئی بولی …
“آفی شرم… اب شوہر ہیں وہ تمهارے…آفی ویسے تم نے کہا تھا کہ کوئی مجبوری تھی وہ کیا مجبوری تھی مجھے بتا سکتی ہو ؟…..””
حفسہ کو آفریں کے نکاح والے دن والی بات یاد آئی تو پوچھ بیٹھی
“ابھی تو وہ مجھے بھی جاننا ہے کہ اصل بات آخر کیا ہے اور خیر آج تم یہ باتیں چھوڑو … آج رخصتی ہے تمھاری تو سہانے سپنے سجاؤ…..”””
آفریں کو خود بھی اصل وجہ پتہ نا تھی جو کہ اسنے سوچ رکھا تھا کے آج ازلان سے ضرور پوچھے گی اور بات بدلتے ہوئے شرارت سے بولی
“سہانے سپنے خاک سجاوں….. مجھے تو ٹینشن ہے بہت….””
حفسہ کو پِھر سے اپنی فکر نے ستایا
“چھوڑدو ٹینشن ….. . بے فکر رہو میرے بھائی اچھے ہیں بہت اور چلو شام میں ملتے ہیں…..””
آفریں نے اللہ حفظ بول کر فون بند کردیا کیوں کہ کب سے ازلان کی کالز آ رہی تھی جن کو وہ اگنور کر رہی تھی اور اب اُس کے مسجز آنے لگے تو اس نے میسج کھولا
“اٹینڈ مائے کال…….”
“Sorry wrong number…..”””
آفرین نے ٹائپ کر کے سینڈ کیا
ازلان نے میسج پڑهہ کے دوبارہ کال کی جس کو آفریں نے کاٹ دیا …. اب ازلان کو غصہ آنے لگا تھا
“Attend it now….. otherwise wait for something to watch….”””””
ازلان نے اسکو دھمکایا…
“Waiting…..”””
آفرین نے اسکی دھمکی کا اثر لیئے بنا ٹائپ کیا…
جب اسکو ازلان کی طرف سے کوئی میسج اور کال نہیں آئی تو
10 منٹ بعد شمیم آئی
“بیبی جی آپکو بڑی بیبی جی بلا رہی ہیں…..”””
“آتی ہوں….”””
آفریں موبائل رکھ کر نیچے کی طرف چل دی…..
“آفریں بیٹا ازلان سے بات کر لو…. تمہیں کال کر رہا تھا … اٹھائی نہیں … موبائل چارْج نہیں کیا کیا ابهی تک …. لو بات کرو میرا سر کها گیا ہے…..””
وہ نیچے آئی تو عظمی کی بات سن کر ہکا بقا رہ گئی کہ ازلان نے اپنا کہا پورا کیا اسکی ناک اب غصے سے لال ہونے لگی اور اسنے زبردستی مسکراتے ہوئے عظمی کے ہاتھ سے موبائل تھاما عظمہ صوفے پر بیٹھ گئی اور آفرین وہیں سیڑیوں پر کھڑے ہوکر آہستہ آواز میں بولی
“آخر کرلی اپنی ضد پوری… نہایتی ضدی قسم کے انسان ہو تم……”””
“آخر شوہر کس کا ہوں….””
ازلان نے جتلانے والے اندازِ میں بولا
“صرف نکاح کے کچھ بول بولنے سے اور پیپرز پر سائن کرنے سے تم میرے شوہر ضرور کهلا سکتے ہو پر میرے دِل میں تمھارے لیئے شوہروں والا جذبہ اور احساس کبهی نہیں پیدا ہوگا…..””
آفریں تپ کر بولی
“میری جان ان نکاح کے دو بولوں میں بہت طاقت ہوتی ہے اور میرے پاك عشق کی طاقت تمہیں میرا کر کہ ہی رہیگی یقین ہے مجھے…..”””
ازلان آنکھوں اور لہجے میں یقین سموئے بولا اسکو اپنے عشق پر یقین تھا
“کتا پال کو بلی پال لو پر خوش فہمیان مت پالو مسٹر بدتمیز…….””
آفریں چبا چبا کر بولی
“اَچّھا؟… اچها ڈائیلاگ تها….. اور یہ بتاؤ تمھارا فیورٹ کلر کونسا ہے…..””
ازلان مدعے پر آیا
“میں فون رکھ رہی ہوں….””
آفرین کو مزید اس سے کوئی بات نہیں کرنی تھی
“میں امی کو دوبارہ کال کر کے تم سے بات کرنے کو کہونگا.. اب بتاو پسندیدہ رنگ اپنا….””
ازلان نے اسکو دوبارہ باور کرویا اور سوال دہرایہ
“نیلا…..”
آفرین نے جان چهڑانے والے انداز ِ میں کہا
“سہی ہے اللہ حافظ……”””
ازلان نے مسکرا کر کہا اور فون کاٹ دیا
__________________________________________
.
.
آفرین آئینے کے سامنے کهڑی گنٹنوں تک آتی ویلوٹ کی شرٹ اور پلازو پہنے کهڑی تیار ہو رہی تهی…. تو ازلان اپنی ناٹ ڈھیلی کرتا کمرے میں داخل ہوا آفرین نے اپنے بالوں میں برش چلاتے اسکو دیکھا تو اُس کے ہاتھ میں کچھ شاپنگ بیگس تھے اسنے اپنا آفس کا بیگ اور شاپنگ بیگس بیڈ پر پھینکے اور بیڈ پر بیٹھتا جوتے اتارتا بولا
“یہ ڈریس اتارلو اور دوسری ڈریس لے کر آیا ہوں وہ پہن لو…..”””
“تمھاری خریدی ہوئی ڈریس میں پہن ہی نا لوں اور میں اب ڈریس چینج نہیں کرونگی ہونهہہ….”””
آفرین نے مک اپ میں مصروف ہوكر کہا
ازلان چلتا ہوا اسکے پیچھے کھڑا ہو گیا اور اپنی باہین ڈریسنگ ٹیبل پر ٹکا کر آفرین کے فرار ہونے کا راستے بند کیا
دونوں کا عکس آئینے میں تھا آفرین پانچ فٹ کی اور ازلان اپنے لمبے چهہ فٹ کے قد کے ساتھ کھڑا تھا… ازلان ائینے میں وہ خوبصورت تصویر دیکھنے لگا اور نرم لہجے میں بولا….
“تمہیں چینج کرنے میں تکلیف ہو رہی ہے تو میں مدد کر سکتا ہوں……””””
“زیادہ اوور مت ہو اور ہٹو یہاں سے بدتمیز……”””
آفریں اُس کے یوں اتنے سامنے کھڑے رہنے اور اسکی اِس بات پہ سٹپٹاتی بولی
“تمہارے پاس کوئی ڈھنگ کی ڈریس نہیں ہے کیا ؟ اور ٹھیک ہے اگر نہیں ہے تو پلیز ایسی ڈریس کہیں باہر پہننے کی ضرورت نہیں ہے….. گھر میں برداشت کرتا ہوں وہ ہی کافی ہے…..””””
ازلان نے اسکی كمر کو دیکھا تو احساس ہوا کے یہ ڈریس کتنا تنگ تھا وہ پیشانی پہ بل ڈالتا ہوا آفریں کے بال شانون سے ہٹاتا ہوا بولا
“میری ڈریسنگ کے بارے میں بات مت کیا کرو تم…..”””
آفرین اسکا ہاتھ جھٹک کر آہستہ آواز میں سر جھکائے بولی . . اسکو برا لگتا تھا جب وہ بار بار اسکی ڈریسنگ کے بارے میں کہتا
“اگر ایسی ڈریسنگ کروگی تو میں بات کرونگا ہی نا … اور شرافت سے جو ڈریس لایا ہوں وہ پہن لو…..”
ازلان اسکی گردن کو چهوتا ہوا بولا پیشانی پہ دو لکیریں ابھی تک نمایاں تھی
آفریں کا چہرہ لال ہونے لگا تھا ضبط سے اور وہ اوپر سے سامنے کهڑے ہوكر ایسی حارکتیں کر رہا تھا….
“مجھے چھوا مت کرو تم اپنے ان خون لگے ہوئے ھاتھوں سے…..”””
آفریں نے پِھر سے اسکا ہاتھ جھٹکا
“ڈریس چینج کر لو آخری بار کہہ رہا ہوں…..”””
ازلان پیچھے ہٹا اور اسکی باتوں کو اگنور کرتا بولا
“میں نہیں کرونگی سنا نہیں تم نے…..”””
آفرین اُس کے پیچھے حٹنے سے سکوں میں آئی اور ہلق کے بل چلا کر بولی
“تو پِھر بیٹھ جاؤ یہیں پر ایسی ڈریسنگ میں میں تو تمہیں اِس کمرے سے باہر بھی نہیں لے جا سکتا…..”””
ازلان الماری میں سے کپڑے نکالتا سنجیدگی سے بولا
“میں تمہارے آسرے بیٹھی بھی نہیں ہوں خالہ کے ساتھ چلی جاؤنگی……”””
آفریں نے جتایا
“تمہاری خالہ تو میرے آسرے بیٹھی ہیں نا…..”””
ازلان اپنی شرٹ کے بٹنز کھولتا ہوا بولا
“میں گھر سے کسی کو بلا لونگی مجھے کوئی لینے اجائیگا…..””
آفریں ہر ماننے کو تیار نا تھی ……
ازلان اسکی اِس بات پر مسکرایا اور چلتا ہوا آفریں کے پاس آنے لگا آفریں نے اسکو یوں دیکھا تو ڈریسنگ ٹیبل سے جا لگی
ازلان اُس کے سامنے کھڑا ہوا شرٹ جو کے اب وہ اُتَر چکا تھا اب صرف کالی بنیان میں تھا اور سفید کسرتی بازو جھلک رہے تھے
آفریں اسکو بس خوفزدہ ہوكر دیکھنے لگی
“تم خود ضد کرتی ہو نا کیوں کہ تمہیں پتہ ہے تمہاری ضد پہ مجھے پیار اتا ہے اور میں تمہارے پاس اتا ہوں اسلیئے کرتی ہو نا ضد ؟……”””
ازلان اسکو مسکراتی آنکھوں سے دیکھتا ہوا بولا
“دماغ تو خراب نہیں ہو گیا ہے آج تمہارا .. بھنگ ونگ پی کے آئے ہو کیا آفس سے…..”””
آفریں کو اسکی باتوں پر حیرت زدہ ہونے لگی تھی کہ کیا فضول باتیں کیئے جا رہا ہے آج
ازلان کی مسکراہٹ پھیل گئی جو کے عموماً بہت کم ہی ہوتا اور اسکے دائیں گال والا ڈمپل گہرا ہو گیا
“ہاں تم تو الزام لگائے جاؤ مجھ پہ بس اور چلو جلدی ڈریس چینج کرتے ہیں دیر ہو رہی ہے…..”””
ازلان نے مسکرا کر کہا اور اسکو ہاتهہ لگانے والا ہی تها تو
آفریں نے اسکو دھکا دیا اور اسکی شاپر میں سے اپنا ڈریس اٹھا کہ سیدھا واشروم چلی گئی ….
ازلان کو اُس کے اِس اندازِ پر ہنسی بہت آئی پر وہ دبا گیا….
جاری ہے🍁

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *