Mujhy Ishq Tera Le Doba by Yusra Shah NovelR50767 Mujhy Ishq Tera Le Doba by Yusra Shah Episode02
Rate this Novel
Mujhy Ishq Tera Le Doba by Yusra Shah Episode01 Mujhy Ishq Tera Le Doba by Yusra Shah Episode02 (Watching)Mujhy Ishq Tera Le Doba by Yusra Shah Episode03 Mujhy Ishq Tera Le Doba by Yusra Shah Episode04 Mujhy Ishq Tera Le Doba by Yusra Shah Episode05 Mujhy Ishq Tera Le Doba by Yusra Shah Episode06 Mujhy Ishq Tera Le Doba by Yusra Shah Episode07 Mujhy Ishq Tera Le Doba by Yusra Shah Episode08 Mujhy Ishq Tera Le Doba by Yusra Shah Episode09 Mujhy Ishq Tera Le Doba by Yusra Shah Episode10 Mujhy Ishq Tera Le Doba by Yusra Shah Episode11 Mujhy Ishq Tera Le Doba by Yusra Shah Episode12 Mujhy Ishq Tera Le Doba by Yusra Shah Episode13 Mujhy Ishq Tera Le Doba by Yusra Shah Episode14 Mujhy Ishq Tera Le Doba by Yusra Shah Episode15 Mujhy Ishq Tera Le Doba by Yusra Shah Episode16 Mujhy Ishq Tera Le Doba by Yusra Shah Episode17 Mujhy Ishq Tera Le Doba by Yusra Shah Episode18 Mujhy Ishq Tera Le Doba by Yusra Shah Episode19 Mujhy Ishq Tera Le Doba by Yusra Shah Episode20 Mujhy Ishq Tera Le Doba by Yusra Shah Episode21 Mujhy Ishq Tera Le Doba by Yusra Shah Episode22 Mujhy Ishq Tera Le Doba by Yusra Shah Episode23 Mujhy Ishq Tera Le Doba by Yusra Shah Episode24 Mujhy Ishq Tera Le Doba by Yusra Shah Episode25 Mujhy Ishq Tera Le Doba by Yusra Shah Episode26 Mujhy Ishq Tera Le Doba by Yusra Shah Episode27 Mujhy Ishq Tera Le Doba by Yusra Shah Episode28 Mujhy Ishq Tera Le Doba by Yusra Shah Episode29 Mujhy Ishq Tera Le Doba by Yusra Shah Episode30 Mujhy Ishq Tera Le Doba by Yusra Shah Episode31 Mujhy Ishq Tera Le Doba by Yusra Shah Episode32 Mujhy Ishq Tera Le Doba by Yusra Shah Episode33 Mujhy Ishq Tera Le Doba by Yusra Shah Episode34 Mujhy Ishq Tera Le Doba by Yusra Shah Episode35 Mujhy Ishq Tera Le Doba by Yusra Shah Episode36 Mujhy Ishq Tera Le Doba by Yusra Shah Episode37 Mujhy Ishq Tera Le Doba by Yusra Shah Episode38 Mujhy Ishq Tera Le Doba by Yusra Shah Episode39 Mujhy Ishq Tera Le Doba by Yusra Shah Episode40 Mujhy Ishq Tera Le Doba by Yusra Shah Episode41 Mujhy Ishq Tera Le Doba by Yusra Shah Episode42 Mujhy Ishq Tera Le Doba by Yusra Shah Episode43 Mujhy Ishq Tera Le Doba by Yusra Shah Last Episode
Mujhy Ishq Tera Le Doba by Yusra Shah Episode02
Mujhy Ishq Tera Le Doba by Yusra Shah Episode02
میں نے کہا ، خراب ہوں گردش چشم مست سے۔۔
اس نے کہا رقص کر سارا جہاں خراب ہے۔۔
غزل جو کے ادهر اُدھر ٹهل رہی تھی اور مهمانوں میں كھانا بانٹ رہی تھی اُس کے ہاتھ میں سالن کے باؤل تھے اور وہ کسی سے ٹکرائی اور سامنے والے کے کپڑے سالن کی وجہ سے خراب ہوگئے
“یہ کیا کیا تم نے؟؟……”””
فیضان غصہ ہوتے ہوئے بولا
“سوری وہ میں نے دیکھا نہیں……””””
“اب سوری سے کیا ہونا ہے…..”””
فیضان تپ چکا تھا
“کہا نہ سوری اور آپ آئیے واشروم تک آپ وہاں واش کرلیں…..”””
غزل غصہ ہوتے ہوئے بولی اور فیضان بھی اس کے پیچھے چل دیا اب اس کے پاس کوئی چارا بھی نہیں تھا
“ٹاول ؟……”””
“بالکل آپکے لیفٹ میں….”””
غزل نے جواب دیا
وہ کپڑے پھونچتے ہوئے باہر نکلا اور بولا ” شکریہ “
“کوئی بات نہیں……””
وہ اب چلتے چلتے لان میں آگئے تو غزل نے پوچھا
“آپ دلہا والوں کی طرف سے ہیں ؟……””””
وہ دونوں پہلی بار ملے تھے کیوں کہ جہاں اکسر طارق ہوتا وہاں فیضان نا جایا کرتا
“میں طارق کا بھائی ہوں فیضان اور آپ ؟…..”””
اس کے منہ پہ خفگی تھی جو غزل نہیں سمجھ پائی
“میں غزل ، عظمہ کی بہن…..”””
وہ اب جانے لگی تو فیضان نے پیچھے سے اسکو آواز لگائی
“سنیئے كھانا مل سکتا ہے ؟ بہت دیر سے بھوک پر ہوں…..””
“جی ہاں آپ بیٹھیں میں ابھی لائی……””
غزل یہ کہہ کر چلی گئی اور فیضان اپنی سوچوں میں غائب تھا جب اسکو غزل آتی دکھائی دی دونوں ھاتھوں میں پلیٹس لیئے تو وہ ہوش میں آیا
“تھینک یو…..”””
فیضان بولا
“ویلکم…”””
غزل بولتی ہوئی پِھر مهمانوں مین مصروف ہوگئی
اور فیضان کے دماغ میں کچھ چلنے لگا______________
.
.
منگنی ختم ہونے كے بَعْد عظمہ اسی حلیئے میں اپنی ماں كے پاس بھاگتی ہوئی کچن میں آئی جو كہ ملازمہ كے ساتھ مل کر برتن دھلوا رہیں تھیں
“اماں اماں کچھ کھلا دیں بہت زوروں کی بھوک لگ رہی ہے ایسا لگ رہا ہے چوہے پیٹ میں دوڑ رہے ہوں…..”
وہ ادھر ادهر كھانا تلاش کرنے لگی
“ایک تو تم ہر وقت بھوک کی ستائی ہوئی ہوتی ہو…..”””
صفیہ بیگم اپنی بیٹی کو گھوری نوازتی ہوئی بولیں اور کھانے كے کچھ ڈشز اس كے سامنے رکھ دیئے
اب وہ وہیں کچن میں بیٹھی کرسی کھینچ کر كھانے كے ساتھ بھرپور انصاف کرنے لگی
‘اماں لینڈ لائن پہ جیجا جی کی کال آرہی ہے……”””
غزل کچن میں آکر شرارت سے بولی
عظمہ کے كھانا کھاتے ہاتھ رک گئے اور اب وہ وہاں سے بهاگنے کی کرنے لگی
“امی میں سونے جا رہی ہوں نیند آرہی ہے بہت…..”””
“ارے رک طارق سے بات کرتی جا…..”
صفیہ بیگم نے اسکو روکا
“اماں نہیں پلیز……”””
وہ روتی شکل بناتی بولا
“ارے میں ان کو بول کر آئی ہوں کہ تم کچن میں ٹهوس رہی ہو اب بات نہیں کروگی تو وہ کیا سوچیں گے…..””””
غزل تو پہلے ہی بندوبست کر كے آئی تھی
“اماں دیکھا اسکو یہ دن با دن بدتمیز ہوتی جا رہی ہے……”””
عظمہ تو بےبسی سے رونے کو تھی
“کمبخت کرلے تھوڑی دیر بات کیا چلا جائیگا تمہارا ویسے بھی کوئی غیر نہیں ہے منگیتر ہے تیرا اور دو دنوں میں تیرا نکاح ہے اس كے ساتھ……”””
صفیہ بیگم ڈانتی ہوئی بولیں
اب عظمہ كے پاس کوئی چارا نہیں بچہ یہ دیکھ کر عظمہ منہ پھلائے بات کرنے چلی گئی
‘اسلام و علیکم……”””
وہ فون اٹهائے دھیرے سے بولی
“وعلیکم سلام…. كھانا کھا لیا اپنے ؟……”””
بھاری بهرکم آواز اسکی سماعتوں سے ٹکرائی
اسکو اپنی بہن پر غصہ آگیا جو نا جانے کیا کیا بول کر آئی تھی
“جی…..”””
وہ اتنا ہی بولی
“آپ سے بات کرنے کو دِل چاہ رہا تھا آپکو برا تو نہیں لگا میرا یوں فون کرنا……”””
طارق نے جاننا چاہا
“ابھی ابھی بیس منٹ پہلے ہی تو آپ یہاں سے ہوکر گئے تھے… اور اب فون بھی کر ڈَلا…….”””
اسکو برا تو لگا تھا اسلئے انڈاریکٹلی استفسار کر لیا
“مطلب آپکو برا لگا؟…….”””
وہ ہسنے لگا
“ہنس کیوں رہیں ہیں آپ ؟؟؟؟……”””
وہ اسکی بات کو اگنور کرتی بولی
“یوں ہی…..”””
اس نے مسکراتے کہا
عظمہ کو منگنی والی بات یاد آئی جب اس نے غزل سے اماں کو شکایت لگانے کو کہا اور طارق ہنس پڑا تھا اور تب بھی اس نے کندھے اچکا کر اسکو کچھ نہیں بتایا تھا اور اب بھی وہ ایسا ہی کر رہا تھا
طارق کو اسکی معصومیت اچھی لگی تھی اور اسکو اسکی معصومیت سے بات کرنے پر ہنسی آئی.. یہ بھی اِس بات کا اظہار تھا کہ اسکو اسکی باتیں اچھی لگ رہی تھیں
“شاید آپکو بلاوجہ ہسنے کی عادت ہے…..”””
اس نے نروٹهے پن سے کہا
“جب میرے پاس آپ آئینگی تب آپکو میرے ہنسنے کی وجہ بھی پتہ لگ جائیگی…..””””
وہ اسکی بات سن کر شرم سے لال پڑھ گئی
‘میں سونے جا رہی ہوں مجھے نیند آراہی ہے……”””
وہ جلدی سے بولی
وہ پِھر ہنسا اور کہا
“اوکے گڈ نائٹ اپنا خیال رکھیئے گا…..”””
عظمہ نے جھٹ سے فون رکھ دیا
“عجیب آدمی ہے بلاوجہ ہنستا ہے……”””
وہ بڑ بڑاتی اوپر اپنے کمرے میں سونے گئی
“کیا بات ہوئی بتاؤ جلدی اور ایک ایک لفظ بتانا….””
غزل نے جیسے ہی اسکو آتے دیکھا اس کے پاس اُچَک کہ گئی
“تمہیں کیوں بتائوں ؟؟؟…….””””
وہ بیڈ پر لیٹتے ہوے بولی
“آئے ہائے ایسی بھی کیا باتیں ہوئی ہیں جو محترمہ بتا بھی نہیں رہیں ؟؟…….””””
غزل دوسری سائڈ پر لیٹے کہنی تکیئے پر ٹکاتی بولی
“تم مجھ سے بات ہی مت کرو… کیا ضرورت تھی تمہیں ان کے سامنے الٹی سلٹی ہانکنے کی….””””
عظمہ کمبل اوڑتے ہوے بولی
“یہی تو دن ہین آپی کہ میں اپنی آپی کو جی بھر کے تنگ کروں……..””
وہ اس کے گرد اپنی بانہیں ہائل کرتے پیار سے بولی
“اب زیادہ مکھن نا لگاؤ تم ، بچہ کے رکھو اپنے “ان” کے لیئے……””
عظمہ بھی چھیڑتے ہوے اسکو بولی
“آپی….!!!
وہ برا مان گئی
“ہاہا کیا ؟ سہی تو کہہ رہی ہوں مجھے تو چلے جانا ہے کچھ دنوں میں اِس گھر سے پِھر یہ مکھن تم اپنے اگلے گھر کے لیئے بچاؤ……. “”
عظمہ شرارات سے بولی اور وہی اسکی بہن غزل افسردہ ہوئی اسکی رخصتی کی بات سن کر اور بولی
“آپی میں تمہیں بہت یاد کرونگی اور شادی کے بَعْد آتی رہنا یہاں، بَدَل نا جانا….””””
“جی اور حکم میری بہنا…… “”
عزمہ نے پیار سے کہا
وہ دونون ہنس دین ، دونون بهنون مین بہت پیار تها ایک دوسرے سے ہر بات شئیر کیا کرتئ تهیں
__________________
ہونے چلے ہین اپنے محبوب کے ہم
دل دے دیا هے اب تو صرف “تم” ہیں ہم
برسون کے انتظار کے بعد آ ہی گیا ملن کا دن
ہوجاو ہوں کہ لوگ تشویش مین پڑ جائین کہ
کون تم اور کون ہم 
.
.
دیکھتے دیکھتے نکاح کا دن بھی آگیا اب نکاح ہو چکا تھا اور اب دونوں کو ساتھ سٹیج پر بٹھایا گیا وہ سہاگ کے لال جوڑے میں حَسِین لگ رہی تھی اور طارق گولڈن شیروانی اور لال پگڑی میں بہت جنچ رہا تھا
غزل کھڑی اپنی سہیلیون سے خوش گپون میں مصروف تھی اسنے آج كے دن كے لیئے گھیرے سبز جوڑے کا انتخاب کیا تھا جس پر گولڈن کام نفاسات سے کیا گیا تھا اور وہ رنگ اس پر کھلا کھلا لگ رہا تھا
فیضان جو کہ اپنی دھن میں اندر آیا تھا اس خوبصورت پری پر نظر پڑھتے ہی اسکو دیکھنے لگا
اسنے آج برائون شلوار قمیض زیب تن کیا ہوا تھا جو اس پر کافی جنچ رہا تھا وہ ڈریسنگ کے معاملے میں ہمیشہ سے ہی کونشیئس (concious) رہا تھا
جب غزل کو خود پر فیضان کی نظریں محسوس ہوئی تو وہ اسکی طرف بڑھ گئی
“کیا گهور رہے ہو مسٹر ؟…..”””
وہ کمر پہ دونوں ہاتھ رکھے لڑاکا انداز میں بولی
“آپکو گهور رہا تھا……”””
وہ اسکو دیکھتے مسکراتے بولا
“نیچے کرو اپنی نظریں….. “”
وہ تڑخ کر بولی
“نا کی تو ؟ ……..””
مسکرا کر پوچھا گیا
“تو تو تو . . . تو تم اپنی آنکھیں ضرور گنوا بیٹهوگے……””
وہ سوچتے ہوے جھٹ سے بولی
فیضان نے اسکا ہاتھ پکڑا اور ایک سنسان کونے میں لے گیا
جہاں کوئی نہیں تھا یہ خالد صاحب کے لان کا پیچھے والا حصہ تھا اور بہت ہی سنسان ہوا کرتا جہاں سوکھی گھاس اور سوکھے ہوئے دو درختوں کے علاوہ کچھ نا ہوتا
“یہ کیا کر رہے ہو تم اور مجھے یہاں کیوں لائے دماغ ٹھیک ہے تمہارا ؟……””
وہ کب سے اپنا ہاتھ اسکی مضبوط گرفت سے چهڑانے کی ناكام کوشش کر رہی تھی
“لو نکال لو آنکھیں بندہ حاضر ہے……. “”
وہ اسکو درخت سے لگاتے ہوئے اس کے سامنے چہرہ کر کے بولا
“کتنے گھٹیا ہو تم……””
وہ حیران ہوئی
“کسی کو پسند کرنا گھٹیا پن ہے ؟…….””
وہ سنجیدہ ہوا
“چھوڑو میرا ہاتھ اور ہٹو پیچھے…..””
وہ اسکو پیچھے ہٹانے لگی پر وہ ٹس سے مس نا ہوا
“یہ ہاتھ میں چھوڑنے والا تو نہیں مگر ہاں بہت جلدی تھامنے والا ضرور ہوں…… “”
وہ اس کا ہاتھ اپنی آنکھوں کے سامنے کیئے بول رہا تھا
“مجھے دَرْد ہو رہا ہے فیضان…..””
وہ کراہی کیوں کہ کانچ کی چوڑیاں جو کے کچھ ٹوٹ چکی تھیں اسکو بری طرح چُبھ رہی تھی
فیضان نے اسکے ہاتھ کو جھٹ سے دیکھا جہاں چوڑیاں چبنے سے ہلکا ہلکا خون رس رہا تھا
“سوری سوری غزل وہ میں…… میں تمہیں تکلیف نہیں
دینا چاہتا تھا…….”””””
غزل نے گرفت ہلکی محسوس کرتے ہوئے ہاتھ چهڑایا اور دوسرے ہاتھ سے پکڑ کر خون بند کرنے کی کوشش کی
“رکو یہ لو……”””””
وہ اسکو اپنا رمال دیتا ہوا بولا
غزل جھٹ سے اس کے ہاتھ سے رومال لے کر خون صاف کرنے لگی
“اندر چلو میرے ساتھ …….””
وہ پریشانی سے اسکو دیکھتا ہوا بولا
“مجھے تمہارے ساتھ کہیں نہیں جانا……””
وہ آنکھوں میں آنسوں لیتی اسکو دیکھ کے بولی
اور فیضان نے پِھر وہ ہی عمل دہراتے ہوئے اسکا ہاتھ پکڑ کر پیچھے کے دروازے سے ہی اندر لے کر لائونچ میں صوفے پر بٹھایا اور اب ادھر اُدھر کچھ تلاش کرنے لگا
اسکو ٹیوب مل ہی گیا اور پریشان چہرے کے ساتهہ غزل کے ہاتھ پر آرام سے لگانے لگا
غزل کوئی چوں چاں کیئے بغیر اس سے ٹیوب لگوا رہی تھی
اسکو فیضان کی اپنے لیئے پرواہ کرنا اچھا لگا تھا
“اب بیٹر فیل ہو رہا ہے ؟…….””
فیضان بولا
“ہاں تھینک یو……”””
وہ جانے لگی
“سوری… ” فیضان شرمندہ ہوکر کہنے لگا
“اٹس او کے…” وہ بنا مڑے کہہ کر چلی گئی
زخم دے کر دوا لگا رہے ہو
دل رجها کر ہوا لگا رہے ہو
واہ ستمگر تیری ادا بهی نرالی
پهلے دل میں بسے اب بیحیائی کا الزام لگا رہے ہو
…………………………………………………………………..
.
.
اب فیملی فوٹوشوٹ کے بَعْد رخصتی کا ٹائم تھا
عظمہ سب سے رخصت ہو کر اپنے گھر کو چلی گئی
رسموں کے بَعْد اسکو طارق اور اسکے بیڈروم میں بٹھایا گیا
اب وہ طارق کا ہی انتظار کر رہی تھی
طارق کمرے میں داخل ہوا اور دروازہ بند کرنے لگا
عزمہ کا دِل بری طرح دھڑکا
وہ چلتا ہوا بیڈ پر اس کے سامنے بیٹھ گیا
اور اسکو اپنی نظروں میں سمانے لگا
اور وہ اپنا شرارا مٹھیوں میں زور سے جکڑے سَر جھکائے بیٹھی رہی
طارق نے اسکی گھبراہٹ محسوس کی تو بولا
“اپنے کچھ کھایا پیا ہے ؟ …….”””
عظمی نے بس سر ہلایا
طارق نے اسکے ہاتھ اپنے ھاتھوں میں لیئے اور سہلا کہ کہنے لگا
“عظمہ آج میں بہت خوش ہوں کہ جس سے میں نے محبت کی اسکو میں عزت سے اپنی بِیوِی بنا کر اپنے نام کر چکا ہوں پہلے میں نے صرف آپکو پسند کیا پِھر آپکی حیا دیکھ کر آپ سے محبت کرنے لگا اور اللہ گواہ ہے میرے دِل میں آپکے لیئے جو بھی جذبات ہیں وہ سچے اور نیک ہیں……”””
وہ اسکی آنکهون مین دیکهتا بول رہا تھا اور وہ اسکی گہری بھوری آنکھوں میں ڈوبتی جارہی تهی
“آپ سے وعدہ کرتا ہوں جب تک زندہ ہوں آپکے ساتھ رہونگا ، آپکو ہر وہ خوشی دونگا جس کی آپ حقدار ہیں آپکو بیویوں والی عزت دونگا اور ہمیشہ آپکے ساتھ سچا رہوں گا…..”””
اور اسکو دیکھ کر آنکهوں میں محبت لیئے بول رہا تها
“آپکو آج کے دن کیا چائیے ویسے تو ساری زندگی آپکی ہر جائز خواہش پوری کرونگا پر ایک روایت ہے کہتے ہیں آج کے دن بیویاں جو خواہش کریں وہ شوہر کو پوری کرنی ہوتی ہیں تو چلیں بتا ہی دین آپ……”””
طارق محبت سے بولا
“مجھے جو جو چاہیئے تھا ان سب کا آپنے تو پہلے ہی وعدہ کر لیا ہے ایک عورت کے لیئے اِس سے بڑھ کر کیا چیز ہو سکتی ہے کے اسکا شوہر اسکو عزت پیار محبت دے اسکے ساتھ سچا رہے…..
اور میں بھی آپ کے ساتھ وعدہ کرتی ہوں ہمیشہ ایک وفادار بِیوِی بن کر رہونگی اور آپکو وہ ہی عزت و محبت دونگی جس کے آپ حقدار ہیں اور ہمیشہ بس آپکی ہی بن کے رہونگی…….””””
عظمی نے مسکراتے ہوئے اس سے کہا
وہ بھی مسکرایا اور اسکے گال پہ اپنے ہاتھ کی پشت پھیرتا ہوا بولا
“مجھے آپ پر پورا یقین ہے اور یہ آپ کے لیئے چھوٹا سا پہلا تحفہ میری طرف سے اِس سے کبھی اپنے سے جدا نا کرنا یہ میری نشانی ہے یہ اور یہ آپ کو اور ہر کسی کو یاد دلاتا رہے گا کہ آپ میر طارق حسن کی بیوی ہیں…..”
طارق نے جیب سے ایک سونے کا خوبصورت پینڈنٹ نکالا جس پر چھوٹا سا دِل بنا ہوا تھا ایک طرف ٹی اور دوسری طرف یو لکھا ہوا تھا
اب طارق اسکے پیچھے بیٹھ کر اسکو لاکٹ پہنانے لگا
“تھینکس طارق…….”””
طارق نے لاکٹ پہنا لیا تو عظمی نے کہا
اور اسی طرح ایک خوبصورت رات گزر گئی اور دو روحون کو آپس مین جوڑ گئی…. اب انکی نئی زندگی کا آغاز ہونے چلا تها جس مین کئی خوبصورت رنگون کے ساتهہ بہت سارے امتہان بهی تهے
________________________
جاری ہے
