Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Mujhy Ishq Tera Le Doba by Yusra Shah Episode05

Mujhy Ishq Tera Le Doba by Yusra Shah Episode05

طارق اور عزمہ کی شادی کو دس دن ہو چکے تهے ولیمہ بهی حسن صاحب نے بڑے پیمانے پہ کیا تها اور غزل فیضان سے چهپی چهپی رہی اس کی اس دن کی حرکت کی وجہ سے اور ان دونون کی ملاقات نہین ہوئی پهر سے….
صبح ہوئی سب کهانے کی بڑی سی میز پر موجود تهے
سورج کی کرنین اس حسین صبح کو تازگی بخش رہی تہیں
حویلی مین سب جلدی اٹها کرتے اسلیئے لوگوں کی هلچل مین یہ حویلی خوشی کے رنگون سے بهری ہوئی تهی ، یہ حویلی ہمیشہ سے ایسے ہی کهلی کهلی رہی تہی
ابآ جی اخبار مین مصروف ناشتے کے انتظار میں بیٹهے تهے – طارق جاب پہ جانے کے لئے تیار ہوکر نیچے آیا
ناشتہ لگ چکا تها سب اپنی اپنی جگہ براجمان ہوئے اور اب فیضان نے آخر کو همت باندهہ کر کها
“میں آپ سب سے ایک ضروری بات کرنا چاہتا ہون……”
سب اسکی طرف متوجہ ہوئے اسنے سب کے چہیروں کا جائیزہ لیا
“بولو بیٹا ہم سن رہیں ہیں….. “
حسن صاحب نے کہا
“مین شادی کرنا چاہتا ہوں اور لڑکی بهی میں نے پسند کرلی ہے……”
فیضان نے حسن صاحب کو دیکهہ کر کہا
“سب فیصلے کرلئیے ہیں تو شادی بهی کر ہی لیتے……”
طارق نے آہستہ آواز مین ناشتہ کرتے ہوئے ہی ناگواری سے کہا ، جانتا تها وه بس بتا کر فارمیلٹی پوری کر رہا تها.. جسکو فیضان سن کر اب اسکو نفرت بهری نگهاوں سے دیکهہ رہا تها
“بڑی جلدی سب فیصلے کر لیئے برخوردار اور کون ہے وہ لڑکی؟؟ …..” حسن صاحب نے جاننا چاہا
“غزل………”
نام لینے کی دیری تهی جہاں سب نے اسکو حیرت سے دیکها وہیں طارق کی آنکهون مین غصہ اتر آیا
طارق غصے سے اٹھا اور فیضان سے بولا
“اب تم اپنی لالچ میں آکر اس معصوم لڑکی کی زندگی برباد کروگے؟…….”
طارق کو پتہ تھا فیضان شادی لالچ میں آکر کر رہا ہے کیوں کہ طارق کو شادی پر حسن صاحب نے بہت کچھ دیا تھا اور اب اسکی لالچ مین فیضان بھی شادی کرنے کا سوچ چکا تھا….
“میں کوئی لالچ والچ نہیں کر رہا اور آپ یہ کیسے کہہ سکتے ہَیں بھائی…… کیا پتہ آپنے بھی لالچ میں شادی کی ہو……”
فیضان بهی غصے سے بولا
“جتنا تو گھٹیا ہے اس سے کہیں زیادہ تیری سوچ گھٹیا ہے…….”
طارق کی آنکھیں اب غصے سے لال ہو چکی تھیں کیوں کہ اسنے اسکی محبت پر انگلی اٹھائی تھی اگر وہ دونوں اکیلے ہوتے تو یقینا ان دونون کی ہاتھا پائی شروع ہوجانی تھی
“بس کرو تم دونوں جب دیکھو بس لڑائی.. ہم اِس بات کا حل آرام سے بهی نکال سکتے ہَیں بیٹھو دونوں چپ کر کہ اور ناشتہ کر لو شام میں اِس موضوع پر بات ھوگی…….”
حسن صاحب نے کہا اور وہ دونوں چُپ ہوكر کهانہ کهانے لگے پر ان دونوں کی آنکھیں ابھی بھی ایک دوسری کو نفرت سے دیکھ رہی تھیں
“طارق غصہ چهوڑیں، آپ ناشتہ کریں آفیس کو لیٹ ہو رہا ہے…….”
عظمہ نے جب ان دونوں کو اِس طرح دیکھا تو ماحول ٹھنڈا کرنے کے لیئے طارق کے ہاتهہ پر ہاتھ رکھ کر بولی، طارق نے اسکی طرف دیکھا اور اسکی بات مان کر خاموشی سے ناشتہ کرنے لگا______________________________
.
.
“بھابهی آپ طارق کو منوائیں نا اور اگر آپکو بھی میں لالچی لگ رہا ہوں تو میرے پاس کسی چیز کی کمی نہیں ہے اور آپ چاہیں تو غزل سے بھی پوچهیں اِس رشتے کے لیئے وہ بھی مجھے یقین ہے نا نہیں کرے گی……”
فیضان طارق کے آفیس جانے کے بعد عظمہ کے روم میں آکر اس سے بات کر رہا تھا کیا پتہ وہ سب کو سمجھا لے اور اسکو کمی تو کسی چیز کی نہیں تھی بس اپنے بھائی سے حسد اور زیادہ کی بھوک تھی….
“غزل بھی تمہیں پسند کرتی ہے ؟…….”
عظمہ باقی باتوں کو اگنور کرتی سوال کرنے لگی
“شاید ہاں……..”
فیضان بولا
“ھممم فیضان تم پریشان مت ہو میں دیکهتی ہوں— کچهہ کرتی ہوں—-“
عظمہ نے فیضان کو تسلی دیتے ہوئے بولی
.
.
.
2 مہینوں بعد
آج غزل کی رخصتی تھی
عظمہ نے غزل سے پوچھا تو غزل نے بھی فیصلہ مان باپ پہ چهوڑ دیا اور خالد نے بهی ہامی بهرلی تهی کیوں کہ حسن صاحب کے گهرانے پر انکو همیشہ سے یقین رہا تها. اور عزمہ نے طارق کو بھی مشکلوں سے منوا لیا اِس رشتے کے لیئے اور اسنے نا چاہتے ہوئے بھی اپنی بِیوِی کی بات مانلی اور اس رشتے میں کوئی دخل اندازی نہیں کی پر وہ خُوش نہیں تھا جانتا تھا اپنے چھوٹے بھائی کے مزاج کو کہ وہ کیسا ہے…..
رخصتی اور رسمون کے بَعْد اب غزل اور فیضان کو کمرے میں لایا گیا
غزل دلہن بنی بیڈ پر بیٹھی تھی فیضان نے بیڈ پر بیٹھ کر اپنی جیب سے ایک ڈبی نکالی اس میں سے انگھوٹی نکال کر غزل کو پہنا دی اور بولا
“یہ تمھارے لیئے شادی کا تحفہ ماں نے دیا تھا تمہیں دینے کو……”
وہ بنا تاثر اسکو دیکھتے ہوئے بولا
“شکریہ اور تم کچھ نہیں لائے میرے لیئے خود سے…….”
غزل اسکو پیار سے دیکھتے ہوئے بولی
“تمہیں اور بھی کچھ چاہیئے کیا اب ؟ …..”
فیضان خفا ہوتے ہوئے بولا
“نہیں میرا وہ مطلب نہیں تھا…..”
غزل اسکو حیرت سے دیکھتے ہوئے بولی کہ وہ ایک دن میں ہی بدلا ہوا کیون لگ رہا تها
فیضان کو اسکی حیرت کا اندازہ ہوا تو بول پڑا
“میں تمہیں مل گیا ہوں اور تمہیں کیا چاہیئے…….”
وہ مسنوئی مسکرایا کیوں کہ وہ نہیں چاہتا تھا کہ ابھی اسکی اصلیت غزل کے سامنے آئے ابهی وہ غزل کو اپنے قابو میں کرنا چاہتا تھا
غزل مسکرا کر سَر جھکا گئی
تو فیضان اٹھا اور واشروم جاکر کپڑے چینج کر کے بیڈ کی دوسری سائڈ لیٹ گیا
غزل دنگ سی ہوکر اسکو دیکھنے لگی
“غزل دیکھو میری جان ان شادی کے دنوں میں میں بہت تھک گیا ہوں اور آج سارا دن آرام نہیں کیا پلیز تم برا نا منانا سمجھنا مجھے…..”
وہ اسکا ہاتھ پکڑتے ہوئے بولا
غزل کی آنکھیں حیرت سے پھیل گئی تھیں
پِھر وہ ناراض ہوتے ہوئے اٹھنے لگی اور خود بھی واشروم جاکر اپنا جوڑا چینج کر کے گھر کے کپڑوں میں آکر لیٹ گئی
فیضان کو اب غصہ آرہا تھا پر ابھی وہ ضبط کر گیا اور کہنی کے بل بیٹهتے ہوئے اسکو دیکھنے لگا
“کیا ہوا تم ناراض ہو رہی ہو ؟……”
فیضان اسکا رخ اپنی طرف کرتے ہوئے بولا
“ہاں میں ہوں ناراض.. کونسا شوہر ہوتا ہے جو بِیوِی سے پہلی ہی رات اِس طرح بیہیو کرتا ہے ؟ میں نے تم سے بھاگ کر شادی نہیں کی تھی تم نے اپنی مرضی سے میرا ہاتھ مانگا تھا فیضان تو اب اس طرح برتاؤ کیون ؟؟…….”
وہ اسکو بنا دیکھے بولی
فیضان نے کمر سے پکڑ کر اسکو خود سے لگا لیا
“ہاں اپنی مرضی سے کی ہے شادی اور جس طرح بھی بیہیو کروں تمہیں مجھے سمجھنا ہوگا ، میری باتوں کو نہیں سمجهوگی اور اِس طرح ناراض ہوکر بیٹھ جاوگی تو یہ رشتہ نہیں چل پائیگا……..”
فیضان نے اسکو سمجهانے کے ساتهہ ڈرایا بهی….
اور غزل ڈر بهی گئی،وه یہ رشتہ خراب نہیں هونے دینا چاہتی تهی.. اور اُس کے سینے پَر سر رکھ کر بولنی لگی
“سوری فیضان مجھے غصہ اگیا تھا آئندہ ایسا نہیں ہوگا……”
“مجھے یقین ہے تم سمجهہ جاؤگی اور صبح سویرے اٹھنا ہے، مجھے تم اٹھا دینا سات بجے کیوں کہ بابا نے جو زمینین نام کی ہیں ان کو دیکھنا ہے……..”
فیضان کو زمینون کی فکر تهی
“ٹھیک ہے تم سوجاو اٹھا دونگی تمہیں……”
اور وہ اُس کے سینے پر سَر رکھ کر ہی سوگئی اور فیضان سوچتا رہا کہ کس طرح اس کو اپنے قابو میں رکھنا ہے اور کس طرح اسکو ہینڈل کرنا ہے اسکو بِیوِی یا شادی سے کچھ لینا دینا نہیں تھا اسکو تو بس دولت سے لینا دینا تها _________________________________________
.
.
*محبت کے کهیل یون اچهے نہیں
اب کہ ایسے تعلق سچے نہیں
کیون جسمون کے کهیل کو دیا ہوا ہے محبت کا نام
یہ تو قوت ہے دل کی.. کوئی رستے کچے نہیں…*
_________________________________________
.
.
کچهہ سال بعد……..
فیضان اور طارق کی روز کی لڑائیوں کی وجہ سے حسن صاحب نے حویلی کے دو حصے کر کے ایک طارق اور دوسرا فیضان کو دے دیا اور دونوں کی اپنی لڑائیوں کی سزا دونون بہنوں غزل اور عزمہ کو بهگتنی پڑی….
فیضان اپنی نفرت کے بائث غزل کو عزمہ سے ملنے نہ دیتا تها.. برعکس طارق کے.. طارق نے عزمہ پہ اس قسم کی کوئی پابندی نہ لگائی تهی_
فیضان نے تو لندن ہی سیٹل ہونے کا فیصلہ کرلیا تها اور اب وہاں ہی رہا کرتا غزل اور بچون کے ساتهہ..
غزل فیضان کی نیچر سمجھ ہے اب اس سے اچھی طرح واقف ہو چکی تھی اسکی لالچی طبیعت بھی سمجھ چکی تھی بس اپنے بچون کی وجہ سے اب دونوں ایک دوسرے کے ساتھ رہ رہے تھے کیوں کہ فیضان بے شک اچھا شوہر ثابت نہیں ہوا تھا پر ایک اچھا باپ ثابت ہوا…..
اور عظمہ بھی طارق کے ساتھ بہت خوش تھی وہ اسکی ہر خواہش پوری کرتا تھا اور اپنے بچون کی بھی ، ، غزل اور عظمہ فون پر ہی بات کیا کرتی اور غزل تو فیضان کے باہر جانے جی بَعد ہی اسے بات کیا کرتی باقی طارق نے کبھی بھی عظمی کو منع نہیں کیا تھا…..
.
عظمی کے تین بچے ہوئے بڑا عمیر اور اسے ایک سالا چهوٹا ازلان اور ثناء جو کہ ازلان سے دو سال چهوٹی تهی….
غزل کے دو بچے تھے بڑا فھیم جو کے عمیر سے مہینے ہی چھوٹا تھا ، ایک بیٹی آفریں جو کہ فهیم سے ڈیڈهہ سال چهوٹی تهی….
اور نادیہ کے بھی دو بچے تھے ایک دانیال جو کہ فهیم سے دو مہینے ہی چهوٹا اور ازلان سے چار مهینے بڑا تها اور حفسہ آفریں کے سن تهی…………
_________________________________________
.
.
حسن صاحب بیمار رہنے لگے اور جائیداد کے کچهہ حساب کتاب کی وجہ سے طارق کو اپنے کمرے میں بلایا تها.. اور فیضان بھی اسی دن حسن صاحب کے پاس آیا تھا جائیداد کی بات کرنے…..
جب اسنے ان دونوں کی کمرے سے آتی آواز سنی تو وہی کمرے کے باہر کھڑا ہوکر باتیں سننے لگا
“بیٹا میری زندگی کا اب کوئی بھروسہ نہیں ہے میں ساری جائداد تمھارے حوالے کرکے جاؤنگا اور تم وعدہ کرو اِس حویلی کے لوگوں کو ہمیشہ آپس میں جوڑے رکهو گے….”
حسن صاحب طارق سے وعدہ لے رہے تھے
‘آپ ایسی باتیں نا کریں بابا سب ٹھیک ہوجائیگا اور آپ مجھ پر بھروسہ رکھیں ……”
طارق نے انکو تسلی دی
“بیٹا ہم بڑون کو اپنے بچوں کی ہمیشہ فکر ہوتی ہے اور ابھی بھی میں تم سب بچون کی فکر کرتا تمھارے حق میں فیصلہ کرتا ہوں پیپرز تم میرے وکیل سے لے لینا….” حسن صاحب نے کہا….
اور اسی دوران فیضان سے رہا نا گیا وہ دروازے کو دھکا دے کر اندر داخل ہوا
“یہ آپ کیا کہہ رہیں ہیں ؟ آپنے ہمیشہ اِس کو ترجیح کیوں دی ہے ؟ بتائیں، ہمیشہ میرے ساتھ زیادتی کیوں بابا …. “
فیضان چلا کر بولا
حد میں رہو فیضان یہ کس طرح بات کر رہے ہو تم بابا سے……”
طارق اسکا گریبان پکڑ کر بولا
“تیری ہمت کیسے ہوئی مجھے ہاتھ لگانے کی……”
فیضان نے اسکو منہ پہ مکا دے مارا جس سے طارق کے ہونٹوں سے خون نکلنے لگا اور اسنے لال ہوتی آنکهون سے فیضان کو دیکھا اور تھپڑ اس کے گال پر رسید کیا جس سے فیضان زمین پر گر گیا
طارق ایک گھٹنے کے سہارے اس کے پاس بیٹھا اور گریبان سے پکڑتا سامنے کیا
“تیری اسی لالچ کی وجہ سے بابا تجھے کچھ نہیں دیتے کیوں کہ وہ جانتے ہیں کہ تو صرف دولت کا بھوکا ہے تیرے لیئے رشتوں سے زیادہ یہ پیسا اهمیت رکھتا ہے…….”
اور ایک معصوم جان دروازے پہ کهڑا یہ سب دیکهہ رہا تها .. وہ ازلان ہی تها…
فیضان نے ابھی کچھ بولنا چاہا جب حسن صاحب کی چنگهارتی آواز آئی جو ان دونوں کی لڑائی دیکھ کر کب سے دِل پر ہاتھ رکھے درد کو برداشت کر رہے تھے وہ دونوں ان کے پاس بهاگے اور ان کو اسپتال لے کے گئے جہاں انکی سہی سالامت ہونے کی خبر کے ساتھ ایک بری خبر یہ بھی تھی کے ان کو دوسری دفعہ ہارٹ اٹیک آیا تھا_________________
.
.
آفریں گھر آئی تو فیضان اخبار پڑھ رہا تھا
“اسلام و علیکم ابو……”
آفریں نے سلام کیا
“وعلیکم سلام میرے بچے آج سنا ہے آپ ناشتہ نہیں کر کہ گئی تھی….”
فیزان کو غزل نے بتایا تھا تو وہ اس سے پوچھ رہا تھا
“ہاں بس یوں ہی ، یورنیورسٹی میں کھا لیا تھا…….”
وہ اس کے پاس بیٹھتے اس سے گلے لگی ہوئی بولی فیضان نے اسکا خراب موڈ نوٹس کیا تو بولا
“کیا ہوا آج میری بیٹی کا موڈ ٹھیک نہیں لگ رہا ؟……”
“کچھ نہیں ابو بس تھک گئی ہوں تھوڑی دیر آرام کروں گی ٹھیک ہو جاؤنگی……”
آفریں اپنے کمرے میں جاتے ہوئی بولی
کمرے میں آکر آفرین نے چینج کیا اور ایک ڈھیلی قمیض اور پیلازو میں ملبوس سست قدم چلاتی کھڑکی پاس کھڑی ہوگئی جہاں شام کے ہلکے ہلکے سائے تھے نیچے سے لان دکھائی دے رہا تھا جہاں کچھ روشنیاں جلی ہوئی تھی اسنے سورج کو دیکھا جو اب ڈوبنے کو تھا اسنے اس سنسان شام کو دیکھتے ہوئے اپنی آنکھیں میچلیں….
“تم جیسی لڑکیوں کے ساتھ ایسا ہی ہوتا ہے……”
اسنے جھٹ سے آنکھیں کھولیں اس لڑکے کی آواز اسکو پِھر سے سنائی دی
اسنے خوفزدہ ہوکر جلدی سے کھڑکی بند کی اور اب بیڈ پہ لیٹ گئی اور پِھر سے اسکو وہ ہی آواز سنائی دے رہی تھی وہ اسی کے بارے میں سوچنی لگی
“اس لڑکے کی بات کا مطلب کیا تھا ؟ کس طرح کی لڑکی ہوں میں ؟ صرف ایک بار وہ مل جائے میں اس سے اِس بات کا مطلب ضرور پوچهوں گی اسکی یہ بات مجھے پتا نہیں کیوں بہت پریشان کر رہی ہے…..”
وہ سوچنے لگی اور تنگ آکر جھٹ سے اَٹھ بیٹھی
“میں کیوں اس بدتمیز کا سوچ رہی ہوں ؟ مجھے کیا اسکی بات کا جو بھی مطلب ہو بھاڑ میں جائے وہ …..”
وہ یہ کہتی ہوئے اپنی موبائل میں دانیال کا نمبر ملانے لگی
“ہیلو آفی…..”
وہ شاید کسی پارٹی میں تھا اور چلا کر بولا تھا
پیچھے سے میوزک کی آوازین آ رہی تھی
“کہاں ہو تم ؟……”
“کیا ؟ ؟ آواز نہیں آ رہی ؟ ؟ میں بعْد میں کال کرتا ہوں تمہیں….”
“دانی دانی……”
دانیال نے کال کاٹ دی اور وہ اسکو پُکارتی ہی رہ گئی
“یہ بندر بھی جب دیکھو فضول کاموں میں مصروف رہتا ہے…..”
آفرین کو غصہ آنے لگا اور اب غصے میں اسکو رونا آرہا تھا وہ دانیال کے ساتھ اپنی پریشانی شیئر کرنا چاہتی تھی
پر وہ موصوف تو کہیں اور ہی بزی تھے
اسنے موبائل بیڈ پر اچهالا اور کمبل میں گھس گئی اور سونے کی کوشش کرنے لگی
“””تم جیسی لڑکیوں کے ساتھ ایسا ہی ہوتا ہے “””
پِھر وہ ہی آواز
اسنے تنگ آکر تکیہ اپنے کانوں پر زور سے دبا لیا اور بڑ بڑانے لگی..
“آفی تمہیں نہیں سوچنا اس کے بارے میں.. مت سوچو وہ جو بھی تھا ،، گھٹیا انسان ، گھٹیا انسان ….”
وہ بڑ بڑاتی کب نیند کے آغوش میں چلی گئی اسکو معلوم نا ہوا اور اسکی آنْکھ اب رات کے اس پہر کھلی جب اسکی موبائل پر کال آرہی تھی
اسنے آہستہ سے آنکھیں کھولیں جن میں ابھی بھی نیند بھری ہوئی تھی اور بیڈ پر ادھر اُدھر ہاتھ مرنے لگی اسکو موبائل ملا اور اس پر دانی کالنگ جگمگاتا نظر آیا وہ جھٹ سے اٹھی اور بیڈ کراؤن سے ٹیک لگائے کال ریسیو کی
“ہیلو دانی…”
“کب سے کال کر رہا ہوں میں تمہیں یار اٹھا کیوں نہیں رہی تھی تم ؟……”
دانیال کب سے اسکو کال کر رہا تھا اور وہ اب اٹھا رہی تھی تو دانیال غصے سے بولا
آفرین موبائل کان سے ہٹا کر دیکھنے لگی پندرہ مسکالس لگی ہوئی تھی آفی نے زُبان دانتون تلے دبائی اور کان سے فون لگا کر بولی
“اف دانی سوری وہ مجھے نیند آگائی تھی پتہ نہیں چلا کب……..”
وہ معاضرت کرتے بولی
“چلو خیر ہے اور بتاؤ کیسی ہو بےبی ؟…..”
آفرین کی آواز سنتے ہی اسکا غصہ اڑن چھو ہو گیا
“میں ٹھیک تم کیسے ہو ؟……”
“میں ایک دم چنگا بھلا پر تمہاری آواز مجھے تھوڑی بجهی بجهی لگ رہی ہے کیا ہوا آسٹْریلِیَن طوطی سب خیریت ہے نا ؟………”
وہ اسکی آواز نوٹ کرتا بولا
“بندر زیادہ فری ہونے کی ضرورت نہیں ہے اور تم یہ تو بتاؤ کل رات کیوں جاگے تھے تم ہاں ؟ ؟ ……..”
آفریں اب فام میں آ چکی تھی اور اسکی کلاس لینے کو تیار تھی
“یار نیند نہیں آ رہی تھی کل تمہاری یاد میں …”
دانیال مذاق کے موڈ میں تھا
“ہاں ایسا ہو ہی نا جائے ، اور کہان آوارہ گردی کر رہے تھے تم ابهی ؟…….”
وہ لب سکڑتی ہوئی بولی
“ارے یار تم مجھے ایسا سمجھتی ہو ؟ دوست کی برتھ ڈے تھی وہاں گیا ہوا تھا میں……”
“ہاں تم تو ہمیشہ دوستو میں بزی رہو میرا کوئی خیال نہیں نا تمہیں دانی….”
وہ روہانسی ہوئی
“نہیں بےبی ایسا کیوں کہہ رہی ہو ؟ ہمیشہ تمہاری ہی تو پرواہ کی ہے بس دُنیا داری بھی نبھانی ہوتی ہے نا آفی….”
“ھم سہی ہے لیکن مجھے برا لگا دانی اتنی پریشان تھی تم سے بات کر کے دِل ہلکا کرنا چاہتی تھی اور تم تھے کے اپنی ہی دُنیا میں گم تھے…….”
آفی اسکو سمجهتے ہوئے اپنا مسئلہ بتانے لگی
“کیا ہوا آفی ؟ سب ٹھیک تو ہے نا اور کس بات کی پریشانی تھی تمہیں بتاؤ مجھے …….”
دانیال فکرمند ہوتے بولا
“نہیں بس ایسی ہی اب میں بلکل ٹھیک ہوں اور ایک بات پوچھوں تم سے……”
آفریں دوبارہ اس بات کا ذکر نہیں کرنا چاہتی تھی اسلیئے بات نہین بتائی
“ہاں ہاں کیوں نہیں جو پوچھنا چاہتی ہو بلا جھجھک پوچھو……”
دانیال بھی اسکو سمجهتے ہوئے ہوئے بولا جانتا تھا جو بھی بات تھی اب آفرین اسکا ذکر کرنے کے موڈ میں نہیں تھی
“دانی میں تمہیں کیسی لڑکی لگتی ہوں ؟ ……”
آفی کو پِھر وہ ہی بات ستانے لگی تو وہ دانی سے پوچنے لگی
“یہ کیسا سوال ہے یار آفی ؟……”
دانیال حیران ہوا
“بس میرا دِل کیا اسلیئے پوچھا تم جواب دو نا….”
وہ بات بناتی ہوئے بولی
“تم ایک اچھی لڑکی ہو ، بالکل ویسی ہی جیسی میں اپنی زندگی میں چاہتا ہوں ، تم باقی لڑکیوں سے مختلف ہو ، اور پتہ ہے تمہاری سب سے اچھی بات کہ تم دِل کی بہت ہی صاف ہو تمہارا دِل سونے کا ہے ہاں غصہ کرتی ہو بہت زیادہ اور بولتی بھی بہت ہو تبھی میں تمہیں آسْٹْریلِیَن طوطی کہتا ہوں پر تمہاری ہر ادا سے مجھے محبت ہے میری طوطی…….”
وہ اسکو تصور کرتا کہیں کھویا ہوا بولا اور آخری بات شرارات سے بول گیا
“سچ میں نا دانی ؟ تم کبھی مجھے چوڑ کر تو نہیں جاؤگے نا ؟ ہمیشہ یوں ہی پیار کروگے نا مجھ سے…. یوں ہی میرے ساتھ رہوگے نا ؟…….”
آفرین کی آنکهیں بهیگ گئی..
“آفی تم رو رہی ہو ؟……”
دانیال نے اسکی بهیگھی آواز سنی تو بے اختیار پوچھ بیٹھا
“نہیں دانی میں تو بس ایسے ہی ، دانی آئی لو یو…..”
آفریں اپنا دِل ہلکا کرنا چاہتی تھی جو کہ اسنے کر لیا اور دانیال سے بات کر کہ اسکی پریشانی ختم ہوگئی تھی کچهہ دیر کے لیئے ہی سہی… اسلیے اسنے اسے محبت کا اظہار کر لیا..
“ارے واہ آج تو لگتا ہے آسْٹْریلِیَن طوطی فل موڈ میں ہے بڑی رومینٹک ہو رہی ہو خیر میں ؟……”
دانیال کو حیرت ہوئی کیوں کہ پہلے کبھی بھی آفریں نے آئی لو یو نہیں بولا تھا اسکو
“اُف دانی ہر وقت تمہیں تو بس مذاق ہو اور میں سو رہی ہوں تم بھی سوجاو زیادہ سَر نا کھاؤ اب میرا….. “
آفریں کو خھجل سی محسوس ہوئی کہ کیسے اسنے آئی لو یو بول دیا اسکو
“اچھا سنو تو …. آئی لو یو ٹو……”
آفریں فون رکھنے کو تھی تو دانیال نے جلدی سے بولا اور وہ دونوں ہی مسکرا دیئے
آفریں کی پریشانی اب گم ہوگئی تھی اسنے اللہ کا شکر کیا کہ دانی اسکی زندگی میں آیا اور اب وہ سکون سے سو سکتی تھى________________________________
.
.
آفریں کی آنْکھ آج گیارہ بجے کھلی تھی کیوں کے آج سنڈے تھا تو وہ لیٹ اٹھی اور وہ رات والے کپڑوں میں نیچے اترنے لگی جہاں زرمینا بیگم سفید ساڑی لپیٹے ہوئے غزل کے ساتھ بیٹھی چائے پی رہیں تھیں اور جیسے ہی انکی نظر آفریں پر پڑی جو موبائل میں مگن چلتی ہوئی باہر لان کی طرف جا رہی تھی تو انہون نے اسکو بلایا
“آفریں یہاں آؤ میرے پاس…….”
انہوں نے آفریں کو آواز دی تو اُس کے قدم رک گئے اور وہ موبائل سے نظریں ہٹا کر دادی کو دیکھتے ہوئے بولی
“سلام دادو … اور کیا ہوا دادو مجھے باہر جانا ہے ایک ضروری کال کرنی ہے…”
آفریں کو حفسہ سے بات کرنی تھی تو وہ جلدی میں بولتی ہوئی پِھر چلنے لگی
“میں نے کہا یہاں بیٹھو آفریں اور ایسی کون سی ضروری بات ہے جو تم یہاں نہیں کر سکتی …. تمہیں بات کرنے کے لیئے لان میں جانا پڑھ رہا ہے….”
وہ اب آفریب کی جلدبازی پہ غصہ ہوئیں
“اچھا نا دادو بیٹهتی ہوں آپ غصہ تو نا کریں….”
وہ دادی کے پاس بیٹهتی ہوئی مسکرا کر بولی
“یہ کیسی ڈریسنگ کی ہوئی ہے تم نے آفریں…….”
دادی کڑی نظروں سے اسکی ڈریسنگ دیکھتی بولی
“کیا ہوا ڈریسنگ کو ؟ ٹھیک تو ہے دادو……”
وہ اپنے کپڑون کو دیکھتی ہوئی ہولی
“اسکو تم ٹھیک کہتی ہو آفریں ؟ تمہارا بھائی ہے اِس گھر میں تمھارے ابا ہیں ، ملازم موجود ہیں ایسی ڈریسنگ کمرے تک معدود رکھو باہر یا گھر میں آپکو ایسی ڈریسنگ کی اِجازَت نہیں ہے…….”
اب یہ بول کر دادی چائے کا کپ اٹھاتے پینے لگیں
“لیکن دادو…..”
آفی اماں جی نے کیا کہا تم نے سنا نہیں جاؤ اور جاکر کپڑے تبدیل کرو….”
آفریں کچھ بولنا چاہتی تھی تو غزل نے اسکو بیچ میں ٹوکا
“اوکے فائن جاتی ہوں……”
وہ غصہ ہونے لگی اور اب وہاں سے تیز قدم اُٹھاتی اپنے روم میں چلی گئی
.
.
آفریں نے کپڑے چینج کر گھٹنوں تک آتی شرٹ اور ٹائٹس پہن لی اور بالوں کا جهوڑا بنا کر بیڈ پر بیٹھی…
اور موبائل میں حفسہ کو کال مالانے لگی
“ہیلو حفی سنو آج میں بہت بور ہو رہی ہوں تم میری طرف آجاؤ نا یار ، پھپھو اور پھوپھا کو بھی لے آؤ…..”
“آفی یار موم ڈیڈ نہیں آ پائینگے اور مجھے بھی تھوڑا کام ہے کل کی ٹیسٹ کی تیاری کرنی ہے ……”
حفسہ بکس پهیلائے بیٹھی تھی اور کب سے ٹیسٹ کی تیاری کر رہی تھی…
“تو آجاؤ نا ساتھ میں پڑهینگے ٹیسٹ اور اب میں تمہارا کوئی نخرا نا سنون تم دس منٹ میں آ رہی ہو ورنہ میں پھپھو کو کال ملاؤنگی…”
آفریں دهمکی دیتی بولی جانتی تھی پھپھو اسکی بات نہیں ٹالٹی اسلیئے حفسہ کو دھمکا دیا
“ٹھیک ہے ٹھیک ہے پھپھو کی لاڈلی آ رہی ہوں میں ، اور تم نے پڑهنے کا کہا ہے مطلب پڑہوگی کوئی مستی نہیں…”
حفسہ کو آفریں جب بھی ساتھ پڑهنے کا بولتی تو آفریں پڑھا نہیں کرتی تھی البتہ کہیں گھومنے پھرنے کا پلین بنا دیتی یا پِھر باتوں میں لگا دیتی اسلیئے حفسہ نے پہلے ہی اسکو وارن کر دیا
“او کے او کے چشمش آجا اب …. بائے…”
آفریں نے جھٹ سے کال کاٹ دی
“اللہ تعالی وہ جلاد وہاں نا ہو بس…….”
حفسہ دعا کرتی واشروم میں گھس گئی_____________
جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *