Mujhy Ishq Tera Le Doba by Yusra Shah NovelR50767 Mujhy Ishq Tera Le Doba by Yusra Shah Episode11
Rate this Novel
Mujhy Ishq Tera Le Doba by Yusra Shah Episode01 Mujhy Ishq Tera Le Doba by Yusra Shah Episode02 Mujhy Ishq Tera Le Doba by Yusra Shah Episode03 Mujhy Ishq Tera Le Doba by Yusra Shah Episode04 Mujhy Ishq Tera Le Doba by Yusra Shah Episode05 Mujhy Ishq Tera Le Doba by Yusra Shah Episode06 Mujhy Ishq Tera Le Doba by Yusra Shah Episode07 Mujhy Ishq Tera Le Doba by Yusra Shah Episode08 Mujhy Ishq Tera Le Doba by Yusra Shah Episode09 Mujhy Ishq Tera Le Doba by Yusra Shah Episode10 Mujhy Ishq Tera Le Doba by Yusra Shah Episode11 (Watching)Mujhy Ishq Tera Le Doba by Yusra Shah Episode12 Mujhy Ishq Tera Le Doba by Yusra Shah Episode13 Mujhy Ishq Tera Le Doba by Yusra Shah Episode14 Mujhy Ishq Tera Le Doba by Yusra Shah Episode15 Mujhy Ishq Tera Le Doba by Yusra Shah Episode16 Mujhy Ishq Tera Le Doba by Yusra Shah Episode17 Mujhy Ishq Tera Le Doba by Yusra Shah Episode18 Mujhy Ishq Tera Le Doba by Yusra Shah Episode19 Mujhy Ishq Tera Le Doba by Yusra Shah Episode20 Mujhy Ishq Tera Le Doba by Yusra Shah Episode21 Mujhy Ishq Tera Le Doba by Yusra Shah Episode22 Mujhy Ishq Tera Le Doba by Yusra Shah Episode23 Mujhy Ishq Tera Le Doba by Yusra Shah Episode24 Mujhy Ishq Tera Le Doba by Yusra Shah Episode25 Mujhy Ishq Tera Le Doba by Yusra Shah Episode26 Mujhy Ishq Tera Le Doba by Yusra Shah Episode27 Mujhy Ishq Tera Le Doba by Yusra Shah Episode28 Mujhy Ishq Tera Le Doba by Yusra Shah Episode29 Mujhy Ishq Tera Le Doba by Yusra Shah Episode30 Mujhy Ishq Tera Le Doba by Yusra Shah Episode31 Mujhy Ishq Tera Le Doba by Yusra Shah Episode32 Mujhy Ishq Tera Le Doba by Yusra Shah Episode33 Mujhy Ishq Tera Le Doba by Yusra Shah Episode34 Mujhy Ishq Tera Le Doba by Yusra Shah Episode35 Mujhy Ishq Tera Le Doba by Yusra Shah Episode36 Mujhy Ishq Tera Le Doba by Yusra Shah Episode37 Mujhy Ishq Tera Le Doba by Yusra Shah Episode38 Mujhy Ishq Tera Le Doba by Yusra Shah Episode39 Mujhy Ishq Tera Le Doba by Yusra Shah Episode40 Mujhy Ishq Tera Le Doba by Yusra Shah Episode41 Mujhy Ishq Tera Le Doba by Yusra Shah Episode42 Mujhy Ishq Tera Le Doba by Yusra Shah Episode43 Mujhy Ishq Tera Le Doba by Yusra Shah Last Episode
Mujhy Ishq Tera Le Doba by Yusra Shah Episode11
Mujhy Ishq Tera Le Doba by Yusra Shah Episode11
یونیورسٹی کی چهٹی ہوئی تو حفسہ باہر کی طرف نکلنے لگی تو دو لڑکوں نے اسکا رستہ روک لیا اسنے دوسری سائڈ سے جانا چاہا وہ دونوں پِھر اُس کے سامنے آگئے
حفسہ نے پریشان نظروں سے ادھر اُدھر دیکھا لیکن سب گراؤنڈ سے جا چکے تھے حفسہ اب ڈرنے لگی اور ہمت کر کے بولی
“ہٹیئے پلیز میرے راستے سے….”
“ایسے کیسے ہٹ جائیں….”’
ایک لڑکا خباثت سے ہنستے ہوئے اسکا ہاتھ پکڑتا بولا
“چھوڑو مجھے، پلیز کوئی ہے ؟ ہیلپ…..”’
وہ اپنی پوری طاقت لگا رہی تھی ہاتھ چهڑوانے کی لیکن ناكام رہی اور دونوں ہنسے لگے اب دوسرا لڑکا اسکی طرف بڑھا اور اسکا ہاتھ پکڑنے لگا تو کوئی زوردار مکا اُس کے جبڑے پر رسید ہوا، دوسرے لڑکے نے ڈر کر حفسہ کا ہاتھ چهوڑ دیا حفسہ نے جیسے ہی اس شخص کو دیکھا یکدم سے بولی
“فھیم آپ….”
حفسہ جهٹ سے بهاگتے اُس کے پیچھے جا کے چُپ گئی.. اسنے اس وقت فہیم کے آنےکا شکر منایا
فھیم جو کے حفسہ کو لینے وہاں آیا تھا اِس خیال سے کہ آفریں آج اس کے ساتھ نہیں تھی اور گھر اسنے ڈرائیور کو آنے کا بھی کہا ہوگا کہ نہیں ،اسی خیال سے وہ خود ہی اسکو لینے آگیا ، وہ گاڑی میں اسکا انتظار کرنے لگا اور جب دیکھا کہ بہت اسٹوڈنٹس نکل آئیں ہیں اور صرف چند ہی اسٹوڈنٹ گیٹ پر موجود تھے تو وہ فکرمندی سے یونیورسٹی کے اندر چلا گیا اور جیسے ہی گراؤنڈ میں پھونچا تو سامنے والا منظر اسکو غصہ دلا گیا
“ابے چلا جا یہاں سے ہیرو مت بن ورنہ تیرے لیئے اچھا نہیں ہوگا….””
وہ لڑکا اب فھیم کی طرف بڑھا اور مکا اٹھانے کے لیئے جیسے ہی ہاتھ اٹھایا فھیم نے اسکا اِرادَہ بھانپ کر اسکا ہاتھ پکڑا اور اسکو دھکا دیا
اب وہ دونوں لڑکے فھیم کی طرف بڑے ایک نے اسکی پیچھے سے گردن پکڑ لی اور دوسرے نے اُس کے پیٹ میں گهوسہ ماردیا
“فھیم ……”
حفسہ چلائی اور اسکی طرف بڑنے لگی تو فھیم نے اسکو وہیں رکنے کا اشارہ کیا اور اب وہ لڑکا دوبارہ اسکی طرف بڑھا تو فھیم نے اسکو کک ماری، وہ دور جا گرا اسی دوران وہاں کا گارڈ آیا
“یہ کیا ہو رہا ہے چھوڑو ایک دوسرے کو….””
گارڈ نے اس لڑکے کو فھیم سے الگ کیا جس نے اسکو پیچھے سے پکڑا ہوا تھا
“واہ کیا مینجمنٹ ہے اور تم گارڈ لوگ تھے کہان ہاں ؟ یہ لوگ میری کزن کو چهیڑ رہے تھے میں نا آتا تو یہ…..”
وہ غصے سے کہتے کہتے رکا اور اپنی کالر ٹھیک کی…
“سوری سر وہ چھٹی کا ٹائم تھا اسلیئے سب گیٹ کی طرف تھے … اور تم لوگ تو چلو تمہاری شکایت میں پرنسپل سے کرتا ہوں…..””
گارڈ معذرت کرتا ہوا ان دونوں لڑکو کو لیئے چلا گیا
“چلو تم بھی یہاں بت بنی کیا کھڑی ہو…..””
حفسہ خوفزدہ ہوکر فھیم کو ہی دیکھ رہی تھی تو فھیم نے غصے سے کہا اور گیٹ کی طرف چل پڑا، حفسہ بھی اُس کے پیچھے چل کر کار میں بیٹھی
فھیم کی پیشانی کی رگیں تن چکی تھیں وہ غصہ ضبط کیئے بیٹھا ہوا تھا
“اگر آئیندہ آفی یونیورسٹی نا جائے تو تمہیں بھی جانے کی کوئی ضرورت نہیں ہے….””
فھیم ڈرائیو کرتا بنا حفسہ کی طرف دیکهے بولا اُس کے لیہجے میں رُعب نمایاں تھا
“جی ٹھیک ہے…..””
حفسہ اسکی غصیلی آواز سن کر جلدی سے بولی
“اور کل ہی میں تمھارے گھر رشتہ بھیج رہا ہوں اور اگر تم نے انکار کیا تو مجھ سے برا کوئی نہیں ہوگا…..”
حفسہ نے جیسے ہی فھیم کے منہ سے یہ جملہ سنا وہ حیرت زدا نظروں سے اسکو دیکهے بولی
“آپ مجھے دھمکا نہیں سکتے فھیم….”
“میری بات کو دھمکی مت سمجھو حفسہ….””
فھیم نے ایک نظر اسکو دیکھ کر کہا
“میں ابھی شادی نہیں کرنا چاہتی نا آپ سے نا ہی کسی اور سے…..””
حفسہ کار کی کھڑکی کی طرف دیکھتے ہوئے بولی
“شادی نہیں کر رہا تم سے ابھی صرف منگنی کرونگا اور زیادہ چوں چاں مت کرنا اب ، شرافت سے ہاں کردینا، اپنے چھوٹے سے ذہن پر زور ڈال کر کوئی بیوقوفی نا کرنا….””
فھیم دو ٹوک انداز میں اس سے بات کرنے لگا
“اور میں نے انکار کر دیا تو ؟ ……”
حفسہ نے اسکا اِرادَہ جاننا چاہا
فھیم نے ایک نظر اسکو دیکھا اور ابرو اچکاتے ہوئے بولا
“تو ابھی بتادو یہاں سے سیدھا مولوی صاحب کو لیکے نکاح کر لیتا ہوں تم سے….”
اب کہ فھیم کے آواز میں نرمی تھی پر لہجے میں وارننگ صاف تھی
“آپ ایسا کچھ نہیں کرینگے….””
حفسہ کی حیرت سے آنکھیں پھیل گئی
“میں تو ایسا کرونگا آج نہیں تو کل ، کل نہیں تو پرسو پر کرونگا ضرور اگر تم نے منع کیا تو….””
اب فھیم کہ چہرے پر مسکراہٹ تھی
“جلاد….””
حفسہ نے ہلکی سی آواز میں کہہ کر منہ موڑ دیا
“جلاد کی جلادنی…..”
فھیم نے اسکا ہاتھ پکڑ کر محبت سے کہا حفسہ نے جلدی سے آپنا ہاتھ آزاد کروا لیا
“حفسہ تمھارے دِل میں بھی میرے لیئے محبت ہے میں جانتا ہوں پر تم ہی اپنے دِل کے جذبوں سے نا واقف ہو…..””
فھیم اب اسکو پیار سے سمجهانے لگا
“آپ یہ اتنا یقین کے ساتھ کیسے کہہ سکتے ہیں…..””
حفسہ کو اب غصہ اآنے لگا کے وہ اتنے یقین کے ساتھ ایسا کیسے کہہ رہا ہے
“بس میرا دِل کہتا ہے…..”
فھیم نے ٹہرے ہوئے لیہجے میں کہا
“غلط کہتا ہے آپکا دِل….”
حفسہ نے تیوری چڑھا کر کہا
“اچھا ٹھیک ہے …. اب انکار نا کرنا….”
فھیم کو پتہ تھا وہ پکی بن رہی ہے تو پِھر سے اپنی بات دوہرا کہ ڈرائیونگ اسٹارٹ کردی اب کی بار حفسہ نے صرف اسکو گھورا اور چُپ کر کے بیٹھ گئی_____________________________________
.
.
سب ڈنر کر رہے تھے بلکل خاموشی چھائی ہوئی تھی فھیم پلیٹ میں چمچ چلاتا کبھی دادی کو دیکھتا تو کبهی فیضان کو تو کبھی غزل کو، پر وہ بات کرنے کی ہمت نہیں جمع کر پا رہا تھا
“دادی میری بات سنے…””
اسنے ایک بار پھر ہمت اکٹهی کرلی
“ہاں بولو بھئی اب کیا چاہیئے تمہیں سبزی بھی لے لی چاول بھی سویٹ ڈش بھی اب کیا چاہیئے…..”
دادی اب اکتا چکی تھیں وہ کتنی دیر سے ایک ایک کو مخاطب کرتا اور بات کرنے کی ہمت نا کر پاتا تو کوئی نا کوئی ڈش مانگے جا رہا تھا
“اهمم وہ پانی…..””
فھیم نے پِھر سے یہی کیا
“فھیم ہوا کیا ہے آج تمہیں باولے ہوگئے ہو کیا….؟
غزل جگ سے پانی نکالتی ہوئی تپ کر کر بولی
سب ہی اسکی آج کی عجیب حرکت سے تپ چکے تهے
آفریں موبائل میں مسجز بھی کرتی اور كھانا بھی کھا رہی تھی تو عجیب سی نظروں سے فھیم کو دیکھا
“مجھے بھائی کے ارادے نیک نہیں لگ رہے…..”
آفریں آنکھیں سکوڑتی ہوئی بولی
“تم تو چُپ رہو ہر بات میں تمہیں گھسنا ہے بس….”
فھیم کو غصہ تو خود پہ تھا پر اب آفریں پہ نکال رہا تھا تو وہ اسکو گهور کر پِھر سے موبائل میں مصروف ہوگئی
چند منٹ خاموشی کے نذر ہوگئے
“مجھے شادی کرنی ہے…..”
فھیم نے جلدی سے بولا اور اپنی پلیٹ پر جھک گیا اور جیسے ہی سب کے کانوں میں اسکی آواز پڑی تو سب کی نظریں اسکی طرف گئی
“دیکھا میں نے کہا تھا نا…..””
آفریں اپنی بات کو سہی ہوتا دیکھ کر بولی
“کیوں بھئی اچانک سے یہ بھوت سوار کیسے ہوا تم پر ؟ اور کوئی پسند ہے کیا تمہیں ؟…..”
فیضان نے مسکرا کر اسے پوچھا فہیم نے سب کے تاثرات نارمل دیکھے تو فھیم میں اور ہمت آگائی
“ڈیڈ ہاں ایک لڑکی پسند ہے…..”
فھیم نے سب کو دیکھتے ہوئے کہا
“کون ہے وہ ؟…..””
اِس بار غزل بولی
“حفسہ…..””
نام لینے کی دیری تھی آفریں جو کہ اپنے موبائل میں مصروف كھانا کھا رہی تھی حفسہ کا نام سن کر کهانسنے لگی جب کہ غزل کے چہرے پر مسکراہٹ آئی اسکو بھی حفسہ پسند تھی اور فھیم نے آفریں کو کهانستا ہوا دیکھ کر ایک غصیلی نظر اس پر ڈالی
“کیوں تمہیں بھی اپنی بہن اور دانیال کو دیکھ کر یہ بھوت سوار ہوا کیا….”
دادی نے بری شکل بنا کر کہا کہ ایک لو برڈز کم تھے جو اب دوسرے بهی…
“دادی آپ ہر بات مجھ پر کیوں لاتی ہیں…..”
آفریں نے اچانک کہا تو غزل نے اسکو گھور کر کہا
“آفریں یہ کیا طریقہ ہے بات کرنے کا….””
آفریں برا سا منہ بنا کر چُپ کر گئی
“چوائس اچھی ہے تمہاری بیٹے….””
فیضان اُس کے کندہوں پر ہاتھ رکھتے بولا
“امان آپ کا کیا خیال ہے اِس رشتے کے لیئے…..””
غزل نے زرمینا بیگم سے جاننا ضروری سمجھا
“اچھی بچی ہے حفسہ سمجھدار ہے اور اِس نالائق کو بھی سیدھا کردے گی میں کل کرتی ہوں نادیہ سے بات….””
زرمینا بیگم جتنا بھی چڑ کھاتی اپنے پوتے پوتیون سے پر ان کو ان سے محبت بہت زیادہ تھی اور حفسہ بھی ان کو پسند تھی تو انہوں نے بھی حامی بھر لی
“تھینک یو دادو …. “
فھیم نے مسکرا کر اپنی دادی سے کہا تو وہ بھی مسکرا دیں اور پھر سے سب کهانے کی طرف متوجہ ہوئے
پِھر ایک بار خاموشی چھا گئی تو آفریں منع خیزی سے مسکراتی، ھاتھوں میں موبائل پکڑے فھیم کو دیکھ رہی تھی
“کیا ہے ایسے کیا دیکھ رہی ہو اپنا كھانا کھاؤ……..”
فھیم اسکا مطلب سمجھ کر مسکراہٹ دبائے بولا
“سمجھداری والا کام کیا ہے بھائی میری بیسٹ فرینڈ کو ہی بھابهی بنا لیا تا کہ میں اسے برتن نا منجوا سکوں….”
سب آفریں کی بات سن کر ہنس دیئے تو وہی غزل نے اسکو ٹوکا
“آفی تم مت سدھرنا….””
“غزل کیوں ڈانت رہی ہو اسکو بالکل شراتون میں تم پہ ہی گئی ہے…””
فیضان نے مسکرا کر غزل کو کہا تو غزل بنا جواب دیئے پلیٹ اٹھا کر کچن کی طرف بڑھ دی___________________
.
.
زارمینا بیگم غزل کے ساتھ نادیہ کے گھر رشتہ لیکر گئی تو نادیہ اور اسد نے بھی حامی بھر لی کہ دیکھا بھالا لڑکا ہے اور اپنا ہی خاندان ہے پر پِھر بھی اسد نے بیٹی کی مرضی جاننا ضروری سمجھا جس پر حفسہ نے نا چاہتے ہوئے بھی فھیم کی دھمکی سے ڈَر کر یہ بول دیا تھا کے جیسا اُس کے ماں باپ چاہینگے وہ ویسا ہی کرے گی اگر وہ حامی بهرلیتے ہیں تو اسکو کوئی اعتراض نہیں ہے اور یوں فھیم اور حفسہ کا رشتہ پکا ہو گیا تو مٹهائی بانٹی گئی اور دو دن بَعْد منگنی کی رسم بس رشتے دارو میں رکھی گئی…..
چونکہ اب حفسہ اور آفریں ڈهائی سال کا کورس کر رہی تھی تو اب اسکو ختم ہونے میں صرف چهہ مہینے ہی باقی رہ گئے تھے تو دونوں خاندانوں نے انکی پڑهائی مکمل ہونے کے بَعْد شادی کی ڈیٹ فکس کرلی تھی اور دونوں کے فنکشنس ایک ساتھ ہی رکھے گئے_________________
.
.
آج فھیم اور حفسہ کی منگنی کی رسم تھی اور صرف قریبی رشتےدار ہی تھے ….
وہ سب رسم کرنے اسد کے گھر پھونچے فھیم نے لائٹ گرین شیروانی اور اس پہ سفید کلر کی واسکٹ زیب تن کی ہوئی تھی اور آفریں نے آج نارنجی اور سبز رنگ کے کامبینیشن کی گهٹنو سے اوپر آتی قمیض جس پر سبز ہی رنگ کی شلوار زیب تن کی تھی بالوں کو کھلا چھوڑا تھا جو کہ اسکی کمر کو چھو رہے تھے اور میک اپ کے نام پر صرف نارنجی شیڈ کا لائٹ لپ گلوس لگایا تھا وہ سیڑھیوں سے چلتی ہوئی حفسہ کے روم میں جا رہی جب اچانک سے دانیال اُس کے سامنے کھڑا ہو گیا اور دانتوں تلے نچلا لب دبائے اسکو دیکھ رہا تھا
دانیال نے آج وائٹ شلوار کمیز پہنا ہوا تھا
“کیا ہے ایسے کیا دیکھ رہے ہو ؟ اور ہٹو اگے سے حفی کو لینے جانا ہے….”
آفریں اسکو بازو سے پکڑ کر هٹاتی ہوئی اوپر چڑهنے لگی تو دانیال نے اسکا ہاتھ پکڑ لیا اور اُس کے کان میں سرگوشی کی
“بہت خوبصورت لگ رہی ہو آج…..”
آفریں کو ایک خوبصورت مسکراہٹ نے چهوا
“تھینکس اب ہٹو مجھے جانے دو دانی….”
آفریں اُس کے اتنا قریب رہنے سے گھبرا رہی تھی تو دھیرے سے بولی
“یہ سبز رنگ کافی جنچتا ہے تم پر…..””
دانیال اسکو پیروں سے لے کر سَر تک دیکھتے ہوئے بولا
آفریں نے اب مسکراتے ہوئے اپنے اگے کو آتے بال کان کے پیچھے اڑسے اور ایک نظر دانیال کو دیکھا جس کی قمیض کی کالر ہمیشہ کی طرح بگڑی ہوئی تھی
“دانی تم بھی نا بالکل بندر رہوگے….”
وہ یہ کہتی ہوئی اسکی کولر ٹھیک کرنے لگی اور دانیال کی نظریں اُس کے خوبصورت چہرے کا طوائف کرنے لگی
آفریں نے اسکی گہری نظروں کو دیکھا تو اسکی آنکھوں پہ ہاتھ رکھا اور کولر ٹهیک کر کہ جلدی سے آخری اوپر کی دو سیڑھیاں بھی چڑهہ گئی
دانیال مسکراتا ہوا نیچے چلا گیا____________________
جاری ہے
