Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Mujhy Ishq Tera Le Doba by Yusra Shah Episode21

Mujhy Ishq Tera Le Doba by Yusra Shah Episode21

.دو مہینے بعد______________
🌼🌼🌼🌼
.
.
دانیال اور حفسہ کا نکاح پڑهوالیا تھا پر ابھی رخصتی نہیں ہوئی تھی اور اسد کا کھل کھلاتا گھر تو اب جیسے ویرانیوں میں ڈوب گیا تھا حفسہ بس خاموشی سے گهر میں ٹهلتی رہیتی اور جگہ جگہ دانیال کی یادوں کو تازہ کرتی رہتی
نادیہ کے دماغ پر اپنے جوان بیٹے کی موت کا گہرہ اثر پڑ چکا تھا ، وہ باتیں بھولنے لگی تھی اس کو یہ بھی یاد نا رہتا کے آج کون سا دن ہے..
روز دانیال کے کمرے میں جاکر اُس کے تکیئے کو سہلاتی اس پہ کمبل اوڑھ کہ، روم کی بتیان بند کر کے چلی جاتی اور گھر میں کسی کو شور نہیں کرنے دیتی کہ دانیال سو رہا ہے…
اسد نے اسکو ڈاکٹر کو دکھایا تو پتہ لگا کے صدمے کی وجہ سے انکے دماغ نے کام کرنا چهوڑ دیا….
وہ دوایاں لیتی تھی پر ابھی اتنا فرق ظاہر نہیں ہوا تھا….
وہ بار بار کچن میں جاکر دانیال کے لیئے چائے بنایا کرتی اور خالی کرسی پہ رکھ دیتی کہ دانیال چائے پی رہا ہے .. خود بھی بیٹھ جاتی …. اور ایسے دانیال کو جگہ جگہ تصور کرتی هواؤں سے باتیں کرتی رہتی… اور آفرین کو منہوسیت کا سایہ قرار دے دیا تها نادیہ نے کہ میرے بچے کو کها گئی…
دانیال کے قاتل کو ڈهوڈنے کی ہر کوشش کی تهی اسد نے فیزان نے بهی اس کا بهرپور ساتهہ دیا تها….
ہر ممکن کوشش کی گئی تهی پر چونکہ وہاں کسی نے کچهہ نہیں دیکها تها.. کسی کو نہیں پتا کہ وہاں آخر ہوا کیا تها……
آفرین جانتی تهی اور کسی کو بتانے کی کوشش بهی کرتی رہی لیکن وہ اس کے بارے میں کچهہ جانتی ہی نہیں تهی نہ نام نہ یاد تها……….
اسی طرح کیس بند کروادیا.. اور ابهی تک کسی کو کچهہ معلوم نہ ہو سکا..
آفریں نے تو اپنے آپکو بس ایک کمرے کی حد تک معدود کرلیا تھا ہر بار ازلان کو بد دعائیں دیتی رہتی اس سے بدلہ لینے کی سوچتی رہتی… اسکی نفرت دن با دن اُس کے لیئے بڑتی ہی جا رہی تهی… وہ تو دو تِین بار اس ریسٹورنٹ بھی جا چکی تھی کے کہین پر وہ اسکو مل جائے ، بس اس شخص کو سزا دلانا اب اسکا مقصد بن چکا تھا پر وہ اسکو کہیں بھی نا ملا
_________________________________________
.
.
فیضان اپنی آفیس میں بیٹھا تھا جب کوئی ڈھڑام سے دروازہ کھول کر اندر آیا سفید شلوار کمیز میں ملبوس وہ شخص آکر کرسی پہ بیٹھا اور اپنی ٹانگیں فیضان کی ٹیبل پر رکھ دی فیضان نے غصے سے اس شخص کو دیکھا …. فیضان کو اب اس سے چڑھ آنے لگی تھی پر وہ کچھ کر نہیں سکتا تھا…
“میری بات سنو میر فیضان اور جو میں کہونگا وہ تمہیں کرنا پڑے گا.. اگر تم نے میری بات نا مانی تو میں تمہارے پول کهولنے میں دو منٹ نہیں لگاؤنگا….”””’
ثمر خان نے سنجیدہ چہرے سے فیضان کو کہا
“اب کیا ہوا ؟ آدهی کمپنی تیرے نام کردی.. اب تجهے اور کیا چاہیئے…..”””
فیضان بھی چڑهہ کھاتے ہوئے اس سے اسکی نئی ڈیمانڈ پوچنے لگا
“تمھاری بیٹی چاہیئے……”””””
ایس کے نے فیضان کی آنكھوں میں دیکھتے کہا
فیضان یہ سنہ کر ایک دم سے اٹھ بیٹھا اور چلا کر کہا
“اپنی حد میں رہو ایس کے.. میری بیٹی کی طرف اگر بری نظر ڈالی تو تمہاری آنکھیں نوچ لونگا…..”””””
“تو ایسے نہیں مانےگا نا …. اور تیری ماں کو بھی پتہ ہے نا تیرے کرتوت.. اور گوہر خان کے بیٹون سے آگ لگوائی تهی نہ تو نے حویلی میں……””””
ایس کے نے اپنا ایک پتہ پهینکہ تو فیضان کے دِل میں ڈَر پیدا ہونے لگا جانتا تھا کہ زرمینا بیگم اسکا دفاع کبھی نہیں کرینگی..
اور گوہر خان کے بیٹے بهی دو چپیڑیں کها کر منہ کهول دینگے.. فیضان کو اندازہ ہو رہا تها کہ یہ شخص ضرورت سے زیادہ معلومات رکهتا ہے…
فیضان اب خاموش ہو گیا تو ایس کے نے مسکرا کر کہا
“نکاح پڑوا دے کل تک اس سے میرا.. تجھے گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے میری کوئی بری نیت نہیں ہے تیری بیٹی پر….”””
فیضان نے جیسے ہی یہ سنا اُس کے دماغ میں بہت سارےخدشوں نے جنم لیا
“مجھے سوچنے کا وقت دے….”””
فیضان نے اس سے وقت مانگا
ایس کے اٹھا…. اپنی کلف دَار کمیز کو جھٹکا اور بولا
“ایک دن کا وقت ہے تیرے پاس سوچلے … ورنہ کل یا تو عزت سے تمہاری مرضی سے نکاح ہوگا یا تو بھاگا کے نکاح کرلونگا…..””
ایس کے نے فیضان کو ہاں کر نے کیلیئے سوچنے پر مجبور کردیا
اور وہاں سے نکل گیا
_________________________________________ .
.
.
فیضان گھر آیا تو سوچ میں پڑ گیا… چیئر پر بیٹهتے ہوئے چائے پیتا رہا اسنے کسی نا کسی بہانے سے اب آفرین کو نکاح کے لیئے راضی کرنا تھا وہ نہیں چاہتا تھا کہ وہ لڑکا آفریں کو بھاگا لے جائے اور اسکی عزت کی دہجیاں اڑ جائیں اوپر سے زرمینا بیگم سے اگر وہ لڑکا ملا تو زرمینا بیگم طارق کے حق میں بہتر فیصلہ کرتیں ہوئی فیضان کی سچائی اگل دیتی پہلے تو وہ اکیلی تھی کچھ نہیں کر سکتی تھی وہ تو بس ایک سہارے کے انتظار میں تھی کہ اسکو پاکر طارق کے مجرموں کو سزا دلوا سکے اور فیضان ان کو وہ سہارا کسی صورت نہیں دینا چاہتا تھا فیضان نے اب غزل کی طرف دیکھا جو کہ اسکا خالی کیا ہوا کپ کچن میں لی جا رہی تھی…..
“سنو غزل یہاں بیٹھنا…..”””
فیضان اسکو پکارتا سامنے والی چیئر پر اشارہ کرتا بولا
غزل کپ وہیں میز پر رکهتی ہوئی اس کرسی پر بیٹھی اور اسکی بات کی منتظر تھی
“میں کل آفریں کا نکاح کرنا چاہتا ہوں‌…..””
فیضان نے جیسے ہی کہا غزل نے حیران کن اکهیوں سے فیضان کو دیکھا
“کس کے ساتھ ؟ اور اتنا جلدی کیوں اور ابهی دانیال کو مرے ہوئے صرف دو مہینے ہی ہوے ہیں وہ کبھی نہیں مانیگی کسی کے ساتھ نکاح کے لیئے…..””””
غزل فیضان کو دیکھتے ہوئے بولی غزل کو فیضان کی عقل پر ماتم کرنے کو دِل چاہا
“ہاں جانتا ہوں پر لڑکا بہت اچھا ہے میری آفیس کا ہے اور جلد اَز جلد نکاح کرنا چاہتا ہے ، رخصتی ہم بعد میں کرلینگے اور آفریں کو بھی اب کسی کی ضرورت ہے جو اسکا خیال رکھ سکے وہ بہت اُداس ہوگئی ہے بس ایک کمرے تک معدود ہے . . تم اسکو سمجھا لو اور کہہ دو نکاح کل ہی ہے…..”””
فیضان نے خود کی بنائی پوری بات سمجهداری سے سوچتے ہوئے بتائی
“لیکن فیضان….”””
“غزل پلیز اسکو منا لو اگر تمہیں مجھ پر تھوڑا بھی بھروسہ ہے تو پلیز…..”””
غزل نے کچهہ بولنا چاہا تو فیضان نے اسکی بات کاٹ کر بولا
“دیکھو فیضان میں نہیں چاہتی میری بیٹی کی بھی مجهہ جیسی قسمت ہو اور کوئی اسکو اپنے فائدے کے لیئے استعمال کرے میں وہ غلطی نہیں کرونگی جو کچھ برس پہلے امی بابا نے بنا تمہیں جانے میرے رشتے کے لیئے ہاں کردی تھی………….
اور ٹهیک ہے ہوگا وہ لڑکا اچها.. پہلے اسکے بارے میں معلومات کروالیتے ہیں نہ پهر دیکهینگے.. اور اسکو ایسی بهی کیا جلدی ہے کہ کل ہی نکاح پڑوانا چاہتا ہے…”””
غزل نڈر لہجے میں بولی
“غزل میں اس لڑکے کو جانتا ہوں‌ اور تم فکر مت کرو میں جو بھی کر رہا ہوں‌ اِس خاندان کی بہلائی کے لیئے کر رہا ہوں‌…”””
فیضان نے سر جھکاتے شرمندہ لہجے میں بولا ایک غزل کی باتوں نے اسے شرمندہ کیا اور دوسرا اسکو اپنی انا پرستی پہ شرمندگی ہوئی کہ وہ خود کی عزت بچانے کیلیئے بیٹی کی قربانی دے رہا تھا
“اچها….نام کیا ہے اس لڑکے کا ؟……””””
“ثمر خان…..”””
فیضان نے جواب دیا
________________________________________
.
.
.
غزل صبح ہوتے ہی آفریں کے کمرے میں آئی آفریں لانگ شرٹ اور ٹراؤزر پہنے کھڑکی کے سامنے کھڑی تھی
غزل کی چوکھٹ پہ مڑ کر اسنے اپنی نم آنکھیں صاف کی اور نظریں چراتی بولی
“امی آپ …. آئیں نا بیٹھیں…..”””
غزل صوفے پر بیٹھ گئی .. آفریں بھی اسی کے ساتھ بیٹھ گئی
“رَو رہی تھی تم ؟….”””
غزل نے سوال کیا
“نہ نہیں امی ….” آفرین نے جھوٹ بولا
“مجھ سے جھوٹ مت بولو آفی….”””
غزل نے اسکا جھوٹ پکڑ لیا
اور آفریں جھٹ سے غزل کے سینے سے چمٹ گئی اور نم لہجے میں بولی
“امی دانیال کی بہت یاد آراہی تھی……””””
“بیٹا صبر رکھو .. اوپر والے کا فیصلہ تھا یہ ہم اُس کے آگے کچھ نہیں کر سکتے…..””””
غزل اُس کے بال سہلاتی اس سے سمجهانے لگی
اور جواباً آفریں خاموش رہی بھلا کیسے صبر آ سکتا تھا اسکو دانیال کے مجرم کو سزا دلائے بغیر
“آفی تم سے ایک بات کہوں مانوگی…..”””
غزل اسکو خاموش دیکھتا ہوا بولا
“بولیں نا امی…..”””
آفرین اس سے دور ہوتی ہوئی بولی
“تمھارے ابو آج تمہارا نکاح کرنا چاہتے ہَیں……”””
غزل نے جیسے آفریں کو یہ بات کہی وہ صوفے سے اٹھ کھڑی ہوئی حیران ہوتی ہوئی بولی
“امی آپ جانتی ہَیں میں کسی سے نکاح نہیں کر سکتی اب . . اور ابو کو اتنی بھی کیا جلدی ہے ؟ ؟ ؟…..””””
“بیٹا انکی آفیس کا لڑکا ہے اور فیضان سے یوں تمہیں کمرے میں گھٹتا ہوا دیکھا نہیں جا رہا……”””
“امی نہیں آپ ابو کو منع کردیں مجھے کسی سے نکاح نہیں کرنا……”””
آفریں خفا ہوتی بولی
“ٹھیک ہے بیٹا جیسی تمہاری مرضی…..”””
غزل اسکو ماتهے پہ بوسہ دیتی ہوئی چلی گئی اور فیضان جو کہ کمرے سے باہر جواب کے انتظار میں کهڑا تھا اُس کے پاس آئی
“آفریں نکاح نہیں کرنا چاہتی میں نے تمھارے کہنے پر اسکو سمجھایا پر اسنے صاف انکار کردیا اور تمہیں کیا ہو گیا ہے فیضان جو یوں کسی ایرے گیرے سے اپنی بیٹی کا نکاح پڑوا رہے ہو وہ بھی اتنی جلد بازی میں…..””””
غزل اسکو شرام دلاتے بولی
“میں خود کرتا ہوں آفریں سے بات……”””
فیضان غزل کی باتوں کو اگنور کرتا ہوا آفریں کے کمرے کی جانب بڑھ گیا
“تم اسکو فورس نہیں کروگے فیضان…..”””
غزل نے اسکو اسکو باور کروایا
فیضان سَر ہلاتا ہوا آفریں کے کمرے میں گیا.. آفریں نے جیسے ہی فیضان کو دیکھا وہ سمجھ گئی کے وہ کس ارادے سے آیا ہے
“ابو پلیز مجھے کوئی نکاح نہیں کرنا…..”””
آفریں خفگی چہرے پہ لائے سوفے پہ بیٹھتی ہوئی بولی
فیضان اُس کے ساتھ بیٹھا اور بولا
“آفریں پلیز اگر تمہیں تمھارے بابا پر یقین ہے تو اِس نکاح کے لیئے ہاں کردو…..””””
فیضان نے اس سے منت کی
“ابو یقین ہے بہت آپ پر… پر یہان یقین کی کوئی بات ہی نہیں ہے.. میں اب کسی اور سے نکاح کا سوچ بھی نہیں سکتی…..””
“آفریں اگر میں کہوں کہ اِس نکاح سے یہ خاندان برباد ہونے سے بچ جائیگا تو بھی تم انکار کروگی…..””
فیضان نے ہمیشہ والا اپنا پینترا اپنایا ایومشنل بلیکمیلنگ کا
“ایسا کیا ہے جو خاندان برباد ہوگا اور صرف میرے نکاح سے بچ سکتا ہے ؟……”
آفریں نے نا سمجھنے والے انداز میں پوچھا
“آفریں بس ہے کوئی ایسی بات تب ہی میں کہہ رہا ہوں‌ اور تم یہ بات کسی کو نہیں کہوگی ….. آفریں میں نے پوری زندگی تمہاری ہر خواہش پوری کی ہے اور اب تمہیں میں صرف ایک بات کہہ رہا ہوں‌ تو تم انکار کر رہی ہو…..”””” فیضان نے بولتے ہوئے اب ہاتھ جوڑے
“آفریں میں ہاتھ جوڑتا ہوں پلیز یہ نکاح کر لو ….”””
“ابو آپ یہ کیا کر رہے ہَیں….”””
آفریں نے اپنے باپ کے ہاتھ پکڑ کر نیچے کیئے …. اسکو اچھا نہیں لگا ک9 اسکا باپ اس سے یوں التجا کر رہا ہے اور ہاتھ جوڑ رہا ہے …. آخر کون بیٹی اپنے باپ کو اِس طرح دیکھ سکتی ہے
“آفریں بچے مانوگی نہ میری بات؟ …..چ
فیضان نے اپنا سوال دہرایا ….
“ٹھیک ہے ابو پر صرف آپ کے لیئے پر رخصتی ابھی نہیں ہوگی….””””
آفریں نے نم آنکھوں سے دِل پر پتھر رکهتے ہوئے کہا
“شکر گزار رہونگا میں تمہارا…..””
فیضان نے صوفے سے اٹھتے ہوئے کہا
“ابو آپ مجھے شرمندہ کر رہے ہَیں اب….”””
آفریں فیضان کو دیکھتی ہوئی بولی
تو فیضان اس کے سَر پر ہاتھ رکھتا ہوا چلا گیا
آفریں نے بےبسی میں اکر سامنے کشن زور سے دیوار پر دے مارا
“صرف اپ کے لیئے میں ایسا کر رہی ہوں‌ بابا پر میں اس اِنسان کی کبھی نہیں ہو پائوں گی جس سے آپ میرا نکاح پڑوا رہین ہیں…… وہ جو کوئی بهی ہے.. یہ نکاح نہیں صرف ایک مجبوری ہے……”””
آفریں نے روتے ہوئے اپنے بال مٹھی میں جکڑ کر کہا اور اس شخص کے لیئے فیصلہ بھی کردیا جس کو جانتی تک نہ تھی_____________________________________
.
.
غزل نے آفریں کی رضامندی کا سن کر پہلے تو نادیہ سے پوچھنا مناسب سمجھا پر وہ اپنے ہوش میں کہاں تهی تواسد نے یہ کہہ دیا کے اب وہ انکی بیٹی ہے اور جو اُس کے لیئے ٹھیک سمجهیں کریں اور اسد بهی کوئی اعتراض نہیں کرے گا ، اب وہ ساری عمر اپنے مرحوم بیٹے کی پابند تو نہیں بنا سکتا تھا نا اسکو…..”””
اسد کی طرف سے اِجازَت مل گئی تو فیضان اور غزل کو تسلی ہوئی… اور صرف زارمینا بیگم سے جب اِجازَت لینا چاہی پہلے تو انہوں نے بہت شور مچایا پر فیضان نے باتیں بنا کر ان کو منوا ہی لیا حالانکہ وہ اسکی باتوں میں نہیں آئی تھی بس جانتی تھیں کہ فیضان انکی ایک نہیں سنے گا اور ہمیشہ کی طرح اپنی ہی چلائیگا تو ان کو اپنا بولنا فضول لگا..
وہ چُپ ہوگئیں اور فھیم کو جب یہ خبر ملی تو وہ آفیس میں تھا اسکو کچھ گڑبڑ محسوس ہوئی کہ پہلے ثمر خان کے نام آدهی کمپنی کردینا اس کے بعد آسی سے آفرین کا نکاح کرنا……..
اسکو یوں اچانک آفریں کا نکاح کا سن کر بالکل نا بھایا اسنے بهت منع کیا کہ یہ نہ ہونے دیا جائے پر فیضان نے اس کو بهی خاموش کروالیا اپنی باتون سے…….
لیکن فہیم نے نکاح میں شرکت کرنے سے انکار کردیا کہ وہ آفیس میں بزی ہے نہیں آ پائیگا
آٹهہ بجے رات کو نکاح رکھا گیا تھا ایس کے کے کہنے پر جس میں صرف اسد کی فیملی اور فیضان کی فیملی ہی موجود تھی________________________________
.
.
آفریں نے سفید قمیض پہ گلابی چوڑیدار پہنا تھا اور گلابی ہی نیٹ کا دوپٹہ سَر پر ٹیکایا ہوا تها بالوں کو کیچر میں قید رکھا گیا تھا اور حفسہ نے اسکو ہلکا سا میک اپ کیا ہوا تھا اور کاجل اور لپسٹک کے علاوہ کچھ نا لگایا تھا
حفسہ کے چہرے کے تاثرات سرد تھے آفریں بھی بد دلی سے میک اپ کروا رہی تھی
“کیا ہوا حیفی ناراض ہو ؟…..”
آفریں اسکو کب سے نوٹ کر رہی تھی آخر کو آئینے میں اپنے پیچھے کھڑی حفسہ کو دیکھتی بولی …. آفریں کے چہرے پہ کوئی تاثرات نہیں تھے بالکل خالی بُجھا ہوا چہرہ تھا
“نہیں میں کیوں ناراض ہونگی بهلا……”””
حفسہ اسکا دوپٹہ ٹھیک کرتی سرد لہجے میں بولی
“جو بات ہے سہی سے بتاؤ حیفی….”””
آفرین اس کا ہاتهہ پکڑتی ہوئی بولی
“آفی مجھے حیرت ہوئی کے میرے بھائی کے انتقال کے صرف دو مہینے بعد تم نے کسی اور سے نکاح کی حامی بهرلی….”””
حفسہ اسکو آئینے سے دیکھتی ہوئی بولی
“حیفی یہ میری مجبوری ہے اور صرف میں اپنے ابو کا مان رکھ رہی ہوں ورنہ تمہیں واقعی لگتا ہے کہ میں ایسے کسی سے نکاح کر بیٹهونگی….”””
آفریں اب اٹھ کر اُس کے سامنے کھڑی ہوكر بولی
“پر آفی ایسی کَون سی مجبوری ہے…..””””
حفسہ نے اِس سے جاننا چاہا
“ہے بس کوئی مجبوری جو کہ میں تمہیں ابھی نہیں بتا سکتی اور مجھے انتہائی افسوس ہوا کے تمہیں مجھ پر اعتماد نہیں ہے…..”””
آفریں نے رخ موڑ کر اپنی ناراضگی ظاہر کی
“آفی مجھے تم پر اعتماد ہے بس مجھے برا لگا بھائی کے بعد تمهارا یوں ….. سوری آفی… مجهے نہیں پتا تها کہ تم مجبوری میں یہ سب کر رہی ہو….””
حفسہ پیچھے سے اِس کے گرد باہیں پھیلائے نم آنکھوں سے بولی
“ٹھیک ہے حیفی رہنے دو اب…..”””
آفریں اسکو معاف نہیں کر پائی
اِسی دوران غزل کمرے میں آئی اور آفریں کے اوپر ایک لال دوپٹہ اوڑھا جس سے اسکا گھونگھٹ کیا اور اسکو بیڈ پر بیٹهاتی بولی
“آفریں مولوی صاحب آرہے ہیں بیٹا…..”””
آفریں نے سَر کو خم دی
اور اب اندر اسد زرمینا بیگم داخل ہوئے فیضان کا دِل نہیں چاہا تھا کہ یہ نکاح ہوتے ہوئے دیکھے تو اسنے اوتاق میں مردو کے ساتھ بیٹهنے کا ہی فیصلہ کر لیا تھا
اب سب عورتون نے اپنے سَر پہ دوپٹہ لیا اور مولوی صاحب کرسی رکھ کر سامنے بیٹھے
“آفریں ولد میر فیضان حسن کیا آپکو میر ازلان ولد میر طارق حسن سے یہ نکاح حق مہار بیس لاکھ روپیا قبول ہیں ؟…..”
غزل اسد اور زرمینا نے جیسے ہی طارق اور ازلان کا نام سنا انکے تو دماغ نے کام کرنا بند کردیا تھا وہ سب ایک دوسرے کو دیکھنے لگے اور جہاں غزل اور اسد دنگ تھے وہیں زرمینا بیگم کے چہرے کو ایک مسکراہٹ نے چهوا اور آفرین جو کہ سن ہوكر بیٹھی تھی اسکو اپنے کانوں میں کوئی آواز نہیں آ رہی تھی اسکا دماغ سن تھا
زرمینا نے آفریں کے کندهے پر ہاتھ رکھا تو وہ ہوش کی دُنیا میں آئی اور جھٹ سے اُس کے لب هلے
قبول ہے . . . .
قبول ہے ؟ ؟ ؟
قبول ہے
قبول ہے ؟ ؟ ؟
قبول ہے………….
مولوی صاحب نے اب اُس کے سامنے نکاح نامہ رکھا اور اسنے سائن کردیا
“مبارک ہو…….””””
مولوی صاحب اسد سے ہاتھ ملاتا ہوا نکل گیا اور اسد بھی اُس کے پیچھے گیا…..
غزل کی آنکھوں سے اب خوشی کے آنسوں جاری تھے کہ عظمہ کا بیٹا زندہ تھا اور زرمینا بیگم کو اب فیضان کی سزا سامنے آتی دکھائی دی وہ جانتی تھی ازلان فیضان سے بدلہ لینے ہی آیا ہے
اب مولوی صاحب ازلان کے پاس آئے اور صوفے پہ براجمان ہوئے
ازلان نے آج سفید شلوار قمیز پہنی ہوئی تھی اور سنہیری پگڑی بھی پہنی ہوئی تھی جو کے ان کے خاندان کا رواج تھا پہلے فیضان اسد اور باقی مرد چونکے پر ازلان نے کہہ دیا کے ان کے خاندان کا بھی یھی رواج ہے ….. فیضان کی کال آئی تو وہ باہر چلا گیا اور واپس دیکھا تو نکاح ہو چکا تھا سب ازلان کو مبارک بعد دے رہے تھے ………
“مبارک ہو ثمر خان….””
فیضان چہرے پہ خفگی لائے مجبوراً باقیون کو دکهانے کے لیئے اسکو مبارک دے رہا تها.. اسکو نہیں معلوم تها کہ وہ ازلان ہی ہے
______________________________
جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *