Mujhy Ishq Tera Le Doba by Yusra Shah NovelR50767 Mujhy Ishq Tera Le Doba by Yusra Shah Episode16
Rate this Novel
Mujhy Ishq Tera Le Doba by Yusra Shah Episode01 Mujhy Ishq Tera Le Doba by Yusra Shah Episode02 Mujhy Ishq Tera Le Doba by Yusra Shah Episode03 Mujhy Ishq Tera Le Doba by Yusra Shah Episode04 Mujhy Ishq Tera Le Doba by Yusra Shah Episode05 Mujhy Ishq Tera Le Doba by Yusra Shah Episode06 Mujhy Ishq Tera Le Doba by Yusra Shah Episode07 Mujhy Ishq Tera Le Doba by Yusra Shah Episode08 Mujhy Ishq Tera Le Doba by Yusra Shah Episode09 Mujhy Ishq Tera Le Doba by Yusra Shah Episode10 Mujhy Ishq Tera Le Doba by Yusra Shah Episode11 Mujhy Ishq Tera Le Doba by Yusra Shah Episode12 Mujhy Ishq Tera Le Doba by Yusra Shah Episode13 Mujhy Ishq Tera Le Doba by Yusra Shah Episode14 Mujhy Ishq Tera Le Doba by Yusra Shah Episode15 Mujhy Ishq Tera Le Doba by Yusra Shah Episode16 (Watching)Mujhy Ishq Tera Le Doba by Yusra Shah Episode17 Mujhy Ishq Tera Le Doba by Yusra Shah Episode18 Mujhy Ishq Tera Le Doba by Yusra Shah Episode19 Mujhy Ishq Tera Le Doba by Yusra Shah Episode20 Mujhy Ishq Tera Le Doba by Yusra Shah Episode21 Mujhy Ishq Tera Le Doba by Yusra Shah Episode22 Mujhy Ishq Tera Le Doba by Yusra Shah Episode23 Mujhy Ishq Tera Le Doba by Yusra Shah Episode24 Mujhy Ishq Tera Le Doba by Yusra Shah Episode25 Mujhy Ishq Tera Le Doba by Yusra Shah Episode26 Mujhy Ishq Tera Le Doba by Yusra Shah Episode27 Mujhy Ishq Tera Le Doba by Yusra Shah Episode28 Mujhy Ishq Tera Le Doba by Yusra Shah Episode29 Mujhy Ishq Tera Le Doba by Yusra Shah Episode30 Mujhy Ishq Tera Le Doba by Yusra Shah Episode31 Mujhy Ishq Tera Le Doba by Yusra Shah Episode32 Mujhy Ishq Tera Le Doba by Yusra Shah Episode33 Mujhy Ishq Tera Le Doba by Yusra Shah Episode34 Mujhy Ishq Tera Le Doba by Yusra Shah Episode35 Mujhy Ishq Tera Le Doba by Yusra Shah Episode36 Mujhy Ishq Tera Le Doba by Yusra Shah Episode37 Mujhy Ishq Tera Le Doba by Yusra Shah Episode38 Mujhy Ishq Tera Le Doba by Yusra Shah Episode39 Mujhy Ishq Tera Le Doba by Yusra Shah Episode40 Mujhy Ishq Tera Le Doba by Yusra Shah Episode41 Mujhy Ishq Tera Le Doba by Yusra Shah Episode42 Mujhy Ishq Tera Le Doba by Yusra Shah Episode43 Mujhy Ishq Tera Le Doba by Yusra Shah Last Episode
Mujhy Ishq Tera Le Doba by Yusra Shah Episode16
Mujhy Ishq Tera Le Doba by Yusra Shah Episode16
سورج کی جگمگاتی ہوئی روشنی آفریں کی آنکھوں پہ پڑنے لگی تو اسنے غنوندگی میں دهیرے سے آنکھیں کهولیں اور بیڈ پہ ہاتھ چلاتی موبائل تلاش کرنے لگی موبائل ہاتھ میں لگتے ہی اسنے موبائل میں وقت دیکھا اور پِھر ایک ان نون نمبر سے میسج دیکھ کر اسکو کھولا جس میں ایک شاعری لکھی ہوئی تھی
“یوں میرے دِل سے جڑ گئی ہو جیسے کوئی دھڑکن ہو میری،
اب تو سانسیں بھی ایسے چلتی ہیں جیسے محتاج ہو تیری،
یوں یاد نا تم آیا کرو رات کے اِس پہر
آنکھیں تیری ایسی جیسے ندی میں پانی کا کوئی سہر…”
اسنے جیسی ہی میسج میں یہ شاعری پڑی وہ عجیب اندازِ سے اس نمبر کو دیکھتی سَر جھٹک گئی کہ کوئی رانگ نمبر ہوگا اور واشروم میں فریش ہونے کو نکل گئی________
.
.
ازلان بائیک پہ گھر جا رہا تھا جب اچانک سے اسکی نظر ایک اپنے آگے کھڑی گاڑی پہ پڑی جس پہ “میر فیضان” لکھا ہوا تھا ازلان نے جیسے ہی وہ نام دیکھا اسکی آنکھوں میں وہ ہی انتقام کی آگ جلنے لگی جو کہ برسو سے جل رہی تھی اسنے اب اس گاڑی کا پیچھا کرنے کا سوچا، بائیک اس کے فاصلے پہ چلاتا اس گاڑی کے پیچھا کرنے لگا ….
گاڑی اب ٹرن کرتی ایک بڑے سے گھر کے سامنے رکی ، واچ مین گیٹ کهول رہا تها تو گاڑی گیٹ کے سامنے رکی ہوئی تهی ، اور جیسے ہی ازلان کی نظر گاڑی میں بیٹھی ہوئی آفریں پر پڑی جو کہ گاڑی کی کھڑکی نیچے کیئے ہوئے اپنے موبائل میں مگن تھی
ازلان کے دماغ نے کام کرنا چهوڑ دیا تھا آفریں کو میر فیضان کی گاڑی میں بیٹھا دیکھ کر اور جب اسنے دیکھا کے گیٹ بند ہو چکا ہے تو اسنے اپنی بائیک اگے بڑها کہ اس گھر کے سامنے روک دی اور گھر کی نیم پلیٹ پڑئ جس پر ” حسن ہاؤس ” لکھا ہوا تھا ازلان کے جبڑے تن گئے اور اسنے بائیک کے ہینڈل پر اپنی گرفت مضبوط کرلی جس سے اُس کے ھاتھوں کی رگین نمایاں هوئیں …..
وہ خود سے بڑبڑیا
“آفریں میر فیضان کے گھر پر ؟…..”
اسنے خود سے سوال کیا پهر چند سیکنڈس گهر کو دیکهہ کر سر جهٹکتا ہوا بائیک اسٹارٹ کر کہ اپنے گھر کو نکل گیا
گھر پھونچ کر اسنے بائیک صحن مین کهڑی کی اور سیدھا عظمہ کے کمرے میں گیا تو وہ جائے نماز پہ بیٹھی تسبیح پڑھ رہی تھی وہ سامنے صوفے پہ بیٹھا اور ھاتھوں کو آپس میں جکڑ کر دونوں گھٹنوں کے بیچ رکھتا ہوا عظمی سے کہا
“امی آپ سے کچھ بات کرنی ہے….””
عظمہ نے سر ہلایا کہ کرو بات اور تسبیح کے ڈانو کو سرکتی جا رہی تھی
“امی آفریں میر فیضان کی کیا لگتی ہے آپکو کچھ معلوم ہے….””
ازلان نے اپنا سوال کیا تو عظمہ نے پیچھے مڑ کر اسکو دیکھا
“کیوں کیا ہوا ؟….””
عظمہ نے جاننا چاہا
“آپ بتائیں نا پلیز….””
“بیٹی ہے وہ غزل کی….””
عظمہ نے اسکو بتا کر سوالیہ نظروں سے ازلان کو دیکهے گئی
ازلان نے جیسے ہی یہ سنا تو سَر تھام کر بیٹھ گیا اسکا ذہن کچھ سیکنڈز کے لیئے ماعوف ہو گیا کیوں کہ جو اسنے سوچا تھا وہ بالکل اُس کے الٹ ہو گیا تھا اسکو تو کچھ سمجھ ہی نہیں ارہا تھا… اس نے ایسے الفاظ سنے جن کو وہ نہ سن نے کی دعا کر کہ آیا تها
“کیا ہوا ازلان تمہیں کیسے پتہ آفریں کا ؟ اور اتنے پریشان کیون لگ رہے ہو؟……””
عظمہ نے اُس کے پریشان چہرے کو دیکھ کر سوال کیا
“بس ایسے ہی ایک ریسٹرورٹ میں ملی تھی آپ فکر نا کریں کوئی بڑی بات نہیں ہے…..”
وہ عظمہ کو پریشان نہیں کرنا چاہتا تھا اسلیئے اسکو تسئلی دیتا ہوا اٹھ گیا
وہ اپنے کمرے میں گیا اور اس اندهیرے کمرے میں جاکر بیڈ پہ بے بس ہوکر بیٹھ گیا
وہ تو بےبسی کی انتہا پر تھا اسکو کیا معلوم تھا کے جس سے وہ پیار کرتا ہے وہ اُس کے دشمن کی ہی بیٹی ہے ، اب دشمنی نبھائے یا پیار وہ الجھن میں پڑھ گیا ازلان نے سگریٹ نکال کر لائٹر سے سگریٹ جلائی اور سلگانے لگا آج سگریٹ کے ساتھ اسکا دِل بھی سلگ رہا تھا
“مجھے بھی اسی سے محبت ہونی تھی جو اس فیضان کی بیٹی نکلی……”””
وہ تیش میں آکر خود سے مخاطب ہوا
“نہیں آفریں نہیں مجھے تم سے محبت نہیں ہو سکتی …. نہیں ہو سکتی ….نفرت ہے مجھے اس فیضان سے بھی اور اسکی اولاد سے بھی…..””
اب کہ ازلان خود کو تسئلی دے رہا تھا اپنے ہی دِل کو سمجھا رہا تھا پر اسکو کیا پتہ محبتون کے جال میں جو ایک بار جکڑ جائے وہ پِھر چاہ کر بھی اس سے آزاد نہیں ہو سکتا اور ازلان بھی اب اس محبت کے جال میں جکڑ چکا تھا، اب خود کو اس سے آزاد کروانے کی ناكام کوششیں کر رہا تھا
“کیوں میرے خدا تو نے ایسا کیوں کیا میرے ساتھ ؟ زندگی میں پہلی بار تو نے میرے دِل میں کسی لڑکی کی محبت پیدا کی وہ بھی اس لڑکی سے جو کہ میرے باپ بھائی بہں کے قاتل کی بیٹی ہے ؟…..”
ازلان کی آنكھوں میں بے بسی کے رنگ تهے اسکا دل جیسے اسکے دماغ پر حاوی ہونے لگا تها، اور وہ خدا سے شکایت کر رہا تها، سگریٹ جس کو وہ کش لگانا بھول چکا تھا اور ہاتھ میں پکڑا ہوا تها سگریٹ اپنی راکھ اُس کے پیرو پر گرا رہا تھا پر ازلان کو پروا کہاں تھی
“یا میرے اللہ میرے دِل میں اُس کے لیئے محبت تو پیدا ہوگئی ہے لیکن اب میں تجهہ سے دعا مانگ رہا ہوں کے مجھ پر رحم فرما اور اس لڑکی کی میرے دِل سے محبت ختم کردے میرے اللہ مجھ سے اور امتحان مت لے…..””
وہ گڑ گڑاتا ہوا خدا سے اپنی محبت کی موت مانگ رہا تھا ان محبت کے جذبوں کی ختم ہونے کی بھیک مانگ رہا تھا
سگریٹ جلتا ہوا اب بالکل چھوٹا ہوگیا تھا اور اسکی انگلیاں جلا رہا تھا اسکو ہوش آیا تو اسنے سگریٹ چهوڑ کر اپنی انگلیون کو دیکھا جس پہ گرم راکھ لگنے کی وجہ سے کالے نشان بن گئے تھے اور اسکی انگلیون کو بری طرح جلا رہے تھے اُس کے پیرو کا بھی یہ حاَل تھا…. لیکن وہ درد برداشت کرنا جانتا تها.. اور بیڈ پہ باہیں پھیلائے لیٹ کر اپنی آنکھیں مییچ گیا
“آفریں نفرت کرتا ہوں میں تم سے…..””
وہ خود سے جھوٹ بولتا گیا
اور ساری رات ہی اس محبت کے ختم ہونے کی دعا مین گزر گئی______________________________________
.
.
ایک مہینے بعد ازلان کو افس کی طرف سے گهر بهی دیا گیا تها اور کام مین محنت اور لگاؤ کی وجہ سے اب وہ کافی اچهی پوسٹ پر بهی آگیا تها اب اسکو اپنا مقصد جلد اَز جلد پورا کرنا تھا میر فیضان سے بدلہ لے کر
وہ شام کو آفس سے لوٹا تو گاڑی فیضان کے گھر کے سامنے کھڑی کر انتظار کرنے لگا فیضان کی گاڑی پندرہ منٹ بَعْد آئی اور گیٹ کے اندر چلی گئی وہ کچھ دنوں سے فیضان کے گھر سے آنے جانے کی ٹائمنگز نوٹ کرنے لگا تھا اور فیضان کا آفس بھی اسنے دیکھ ہی لیا تھا ،
جہاں اُس کے دِل میں فیضان سے دشمنی کی آگ بهڑکتی جا رہی تھی وہیں آفریں کی محبتوں کا سمندر اور گہرا ہوتا چلا جا رہا تھا وہ ہر نماز میں اس محبت کی موت مانگتا تھا اور ہر رات خود سے بڑبڑاتا کہ وہ آفریں سے محبت نہیں کرتا پر دِل کے آگے اسکی ایک نا چلی تھی، اسنے ہار مان لی تهی اور آفرین کو ہر حال مین پانے کا ارادہ کر لیا تها…
آفریں کی یونیورسٹی کی ٹائیمنگ کا بهی نوٹ لے رکها تها.. اسکا خود پر اختیار نا رہا کرتا وہ جب بھی اسکو دیکھتا ….
ابھی آفریں یونیورسٹی سے نہیں آئی تھی یہ دیکھ کر وہ اسکی یونیورسٹی کی طرف بڑا اسکا آج دِل کر رہا تھا اس سے بات کرنے کا
وہ آیا تو اسنے آفریں اور حفسہ کو یونیورسٹی کے گیٹ پر پایا آفریں پنک کرتی جو کے گھٹنوں سے اوپر تھی اس پہ وائٹ ٹائیٹس اور چھوٹا سا وائٹ اسکارف گلے مین لپیٹے نظر آئی
ازلان نے نوٹ کیا تھا کے اب وہ پہلے سے زیادہ مناسب کپڑے پہننے لگی تھی پر ابھی بھی تھوڑا سدھار لانا ضروری تھا
وہ گاڑی سے اترا اور آفریں کی طرف بڑا جو بلیو شرٹ اور پینٹ پہنے چہرے پہ سنجیدگی اورسنهیرے بال جو کے ماتهے پہ گرے ہوئے تھے جہاں آفریں اسکو دیکھ کر دنگ رہ گئی وہیں حفسہ کی بھی حیرت سے آنکھیں پھٹ گئیں ، آفریں دانیال اور اپنے ڈنر والے دن کے بعد اب اسکو دیکھ رہی تھی آفریں کی آنكھوں میں نفرت سمائی اسکی اس دن والی حرکت یاد کر کہ
“تم یہاں میرا پیچھا کر رہے ہو ؟ اور یہاں کیوں آئے ہو اب.. اس دن کوئی کسر رہ گئی تھی جو اب وہ پوری کرنے آئے ہو…..””””
آفریں غصے سے پھٹ پڑی تھی اور اسکی آنكھوں میں دیکھ کر چلاتی ہوئی بولی آس پاس کے کچهہ سٹودنٹس جو کہ اپنی سواریوں کے انتظار میں کهڑے تهے انکی طرف متوجہ ہوئے
حفسہ نہ سمجھی سے وہ سب دیکھنے لگی
“میری جنگلی بلی کسریں تو بہت رہ گئیں ہیں جو پوری کرنی ہیں مجھے آج بس تمہارے کڑوے الفاظ سننے کو دِل چاہ رہا تھا تو اگیا تمھارے پاس……””
ازلان چہرے پہ دل جالانے والی مسکراہٹ لیئے اپنی پینٹ کی جیبون میں ہاتھ ڈالتا ہوا بولا
“زبان سنبھال کر بات کرو مسٹر جو کوئی بھی ہو تم…..””
آفریں اسکی باتوں سے تپ کر انگلی دکھاتی ہوئی اسکو اس بار دهیمی آواز مین بولی
“مطلب ایک اور جُرت…..”””
ازلان اسکی انگلی کو دیکھتا ہوا بولا اور پینٹ کی جیب سے ہاتھ نکال کر اسکی انگلی میں اپنی انگلی پھنسا کر نیچی کی پهر اسکی آنکھوں میں دیکھ کر بولا
“دِل پہ اختیار نہیں ہے تم زُبان سنبھالنے کا کہہ رہی ہو……”” اب ازلان نے اسکی انگلی کو دیکھ اور کہا….
” اور اِس ہاتھ نے ایک اور جُرت کرلی ہے … کیوں خود کے لیئے مشکلیں بڑہا رہی ہو …..”””
ازلان کی انگلی ابھی بھی آفریں کی انگلی میں پھنسی ہوئی تھی
آفریں دنگ ہوكر رہ گئی تھی وہ نہیں سمجھ پا رہی تھی کہ یہ انسان آخر چاہتا کیا ہے آفرین نے اپنی انگلی چهڑوانے کی کوشش کی جو اس مضبوط انگلی میں پھنسی ہوئی تھی وہ انگلی نکالنے سے ناكام ہوئی ازلان نے اسکی کوششوں کو دیکھ کر خود ہی اسکی انگلی کو آزاد کیا اور پِھر سے محبت بھری نظروں سے اسی کو دیکھ رہا تھا
“آفی گاڑی آ چکی ہے چلیں…..””
ڈرائیور گاڑی لیکے آ چکا تھا یہ دیکھ کر حفسہ نے آفریں کو جلدی سے بولا وہ جلد اَز جلد یہان سے جانا چاہتی تھی
“آئی ہیٹ یو…..””
آفرین غصے سے دانت پیستی ہوئی ازلان سے کہہ کر گاڑی میں بیٹھ گئی اور ازلان نے ان آنكھوں میں اپنے لیئے نفرت دیکھی تو اسکا دِل ڈوبنے لگا تھا اس سے برداشت نہیں ہوا یہ سب پر اسکو برداشت کرنا تھا ہر حَال میں وہ ضبط کیئے ہوئے گاڑی میں بیٹھ گیا
_________________________________________
.
.
گھر آیا تو عظمہ لاؤنچ میں بیٹھی ہوئے طارق کی فوٹو ہاتھ میں لیئے اسی کو دیکھ رہی تھی
ازلان کا وہ گھر ان ماں بیٹے کے لیئے بہت بڑا تھا اور اس ٹوٹے پهوٹے گھر سے کافی خوبصورت تھا جو کے ازلان کو اسکی محنت کا پھل ملا تھا
ازلان نے ماں کو ایسے دیکھا تو ان کے ساتھ صوفے پہ بیٹھ گیا
“کیا ہوا بابا کو یاد کر رہیں ہیں ؟……”
ازلان نے اپنے باپ کی تصویر پر نظر جمع کر کہا جو کہ عظمہ کے هاتهہ مین تهی
“ہاں انہی کو یاد کر رہی ہوں …. دیکھا ازلان طارق کہا کرتے تھے نا کے انکا یہ بیٹا بہت قابل ہے دیکھو آج انکا یقین سچ ثابت ہو گیا … تم اپنے پیرو پر کهڑے ہوگئے ہو .. آج اگر وہ ہوتے نا تو تمہیں ایسے کمیاب دیکھ کر بہت خوش ہوتے….”””
عظمہ طارق کی باتیں دوہراتی اپنے اس قابل بیٹے کو دیکھتی ہوئی بولی اسکی آنکھیں نم تھی اسنے اپنی محبت کو اس آگ میں جلتے دیکھا تھا وہ پل پل طارق کو یاد کرتے تو گزارا کرتی تھی…
“امی آپ رَو کیوں رہی ہیں اور بابا ہمارے ساتھ ہی تو ہیں ہماری یادوں میں ہمارے دلوں میں اور میں کامیابیوں کی سیڑھیاں چلنے لگا ہوں تو دکھنا ایک دن وہ بھی دن آئیگا جب پِھر سے لوگ آپکو اور مجھ کو بابا کا نام سے جانے گے.. ایک ایسا دن جب میں میر ازلان حسن کہلاونگا اور آپ عظمی طارق……”
وہ عظمہ کی آنکھوں سے آنسو صاف کرتا ہوا آنکھوں میں چمک لیئے بولا
“مجھے تم پر یقین ہے ازلان…. تم سب ٹھیک کردوگے اور یقینا طارق کو بهی تم پر فخر ہو رہا ہوگا….””
عظمہ اس کے گل پر ہاتھ رکهتی بولی
“نہیں امی ابھی نہیں … فخر تو وہ تب کرینگے جب اس فیضان کی زندگی نرخ سے بھی زیادہ بدتر بنالونگا میں…..””
وہ اس بار آنكھوں میں نفرت لیئے عزمہ کو بنا تاثر دیکھتے ہوئے بولا
عظمہ پِھر سے اسکی یہی بات سن کر خفا ہوگئی
“نہیں ازلان وہ اِس بات پر فخر نہیں کرینگے کیوں کہ انہوں نے بھی اپنے بھائی کے لیئے کبھی برا کرنے کا نہیں سوچا اور تم نے اگر بدلہ لیا تو اس فیضان اور تم میں فرق ہی کیا رہ جائے گا اور غزل کا اور اُس کے بچون کا بھی کچھ خیال کرلو….”””
عظمہ نے پهر سے اسکو سمجھانا چاہا وہ نہیں چاہتی تھی کہ اِس بدلے کی آگ میں اسکی بہن غزل کا گھر برباد ہوجائے
ازلان نے جیسے ہی عظمہ کے منہ سے فیضان کے بچو والی بات سنی تو اسکو پہلا خیال آفریں کا ہی آیا لیکن ازلان کو اپنی دادی سے کیا ہوا وعدہ بھی تو نبھانا تھا
“اُس کے بچون کو بھی تو علم ہونا چاہیئے کہ انکا باپ ایک قاتل ہے……””
ازلان نے عظمہ کو جواب دیا
“مجھے ماردو تم ازلان پِھر جو کرنا چاہو کرنا تم…..””
عظمہ ازلان کی ضد سے خفا ہوتے ہوئے بولی اور اٹھ کر کمرے کی جانب بڑھ دی
“آپ نے كھانا کھایا ہے ؟…..”
ازلان نے اسکو جاتے ہوئے دیکھا تو پوچھا
“کھا لو تم کچن میں پڑا ہوا ہے…””
عظمہ نے بنا مڑے کہا
“اچھا نا امی آپ ناراض کیوں ہو رہی ہیں ؟ اور آپ نے كھانا نہیں کھایا تو میں بھی نہیں کهانے والا…..””
اب ازلان ان کو مجبور کرنے کی کوشش کر رہا تھا جانتا تھا اسنے پھر سے عظمہ کو ناراض کردیا ہے همیشہ کی طرح
“ازلان بہت ضدی ہو تم….””
عظمی خفا ہوتے ہوئے کچن میں چلی گئی_____________
.
.
ازلان عظمہ کے ساتھ كھانا کھا کر اپنے کمرے میں گیا
درمیانے سائیز کا کمرہ نہ زیادہ چهوٹا نہ بڑا..
ایسی چل رہی تهی جس نے کمرے کو ٹھنڈک بخشی ہوئی تھی
کمرے میں ابھی بھی اسنے اندھیرا کیا ہوا تھا
وہ بیڈ پر جاکر بیٹھ گیا اپنا گٹار اٹھایا…
اب اسنے اپنی انگلیاں گٹار پہ چلانی شروع کردی اور ایک میٹھی سی دھن اس اندھیرے کمری میں گونجنے لگی اور اسی دھن کے ساتھ آفریں کی آنکھیں اُس کے سامنے آنے لگیں وہ آنکھیں بند کیئے ان میں کھو گیا اور دھن بجاتا رہا
اسکے دماغ مین ایک بات سوجهی تو گٹار سائیڈ پر رکهتا ہوا اپنی موبائل جیب سے نکالی اور آفرین کا نمبر ملایا…
پہلی رنگ پر کال نہیں اٹهائی گئی اسنے دوبارہ کوشش کی تو کال اٹینڈ ہوگئی تهی پر کال پر آفرین خاموش رہی کہ پتا نہیں کس کا نمبر ہے جو بار بار کال کیئے جا رہا ہے
“ہیلو آفرین ؟؟؟ ….”
ازلان نے شروعات کی
آفرین اسکی آواز کو پهچان نہیں پائی کہ وہ ازلان ہی ہوگا
“آپ کون بات کر رہیں ہیں ؟……”””
آفرین نے الٹا اس سے سوال کیا
“مین وہ ہی جس کو آپ کچهہ دیر پہلے آئی ہیٹ یو بول کہ گئین تهیں….”””
آفرین نے پہلے نہ سمجهی سی فون کان سے هٹائے نمبر دیکها اور جب اسکو یاد پڑا تو ایک دم سے تیش مین آگئی
“تم کتنے ڈہیٹ ،بدتمیز ، بد لحاز ، اور بے حد ضدی ہو…..””
“ہون تو اتنا نہیں جتنا تم نے کہہ کر بنا ڈالا….””
ازلان نے اسکی بات کا جواب بهی دے دیا بڑے تحمل سے
“نمبر کہاں سے ملا تمہین میرا اور کیون کال کر رہے ہو؟؟…..”
آفرین نے اس سے وجہ جاننی چاہی…
“وہ میں تمہیں ابهی نہیں بتاؤنگا ابهی یہ بتانے کا وقت نہیں آیا….””
ازلان اسکو ابهی نہین بتانہ چاہتا تها کہ وہ اس سے یاد کر رہا تها ورنہ وہ سچ میں ہی اسکو بدتمیز سمجهنے لگ جاتی
“رکو تم ایسے نہیں سدهروگے میں ابو کو فون دیتی ہوں…….””
آفرین نے اسکو دهمکانا بهتر سمجها
“ہان ہان بسم اللہ دے دو تا کہ بس ڈاریکٹلی انہیں سے بات ہوجائے…..”””
ازلان ڈرے بنا مسکراتے بولا
“ڈهیٹ……””
آفرین اسکو یہ لقب نوازتی ہوئی فون کاٹ گئی..
ازلان مسکراتا رہ گیا………….
_________________________________________
جاری ہے
