Mujhy Ishq Tera Le Doba by Yusra Shah NovelR50767 Mujhy Ishq Tera Le Doba by Yusra Shah Episode30
Rate this Novel
Mujhy Ishq Tera Le Doba by Yusra Shah Episode01 Mujhy Ishq Tera Le Doba by Yusra Shah Episode02 Mujhy Ishq Tera Le Doba by Yusra Shah Episode03 Mujhy Ishq Tera Le Doba by Yusra Shah Episode04 Mujhy Ishq Tera Le Doba by Yusra Shah Episode05 Mujhy Ishq Tera Le Doba by Yusra Shah Episode06 Mujhy Ishq Tera Le Doba by Yusra Shah Episode07 Mujhy Ishq Tera Le Doba by Yusra Shah Episode08 Mujhy Ishq Tera Le Doba by Yusra Shah Episode09 Mujhy Ishq Tera Le Doba by Yusra Shah Episode10 Mujhy Ishq Tera Le Doba by Yusra Shah Episode11 Mujhy Ishq Tera Le Doba by Yusra Shah Episode12 Mujhy Ishq Tera Le Doba by Yusra Shah Episode13 Mujhy Ishq Tera Le Doba by Yusra Shah Episode14 Mujhy Ishq Tera Le Doba by Yusra Shah Episode15 Mujhy Ishq Tera Le Doba by Yusra Shah Episode16 Mujhy Ishq Tera Le Doba by Yusra Shah Episode17 Mujhy Ishq Tera Le Doba by Yusra Shah Episode18 Mujhy Ishq Tera Le Doba by Yusra Shah Episode19 Mujhy Ishq Tera Le Doba by Yusra Shah Episode20 Mujhy Ishq Tera Le Doba by Yusra Shah Episode21 Mujhy Ishq Tera Le Doba by Yusra Shah Episode22 Mujhy Ishq Tera Le Doba by Yusra Shah Episode23 Mujhy Ishq Tera Le Doba by Yusra Shah Episode24 Mujhy Ishq Tera Le Doba by Yusra Shah Episode25 Mujhy Ishq Tera Le Doba by Yusra Shah Episode26 Mujhy Ishq Tera Le Doba by Yusra Shah Episode27 Mujhy Ishq Tera Le Doba by Yusra Shah Episode28 Mujhy Ishq Tera Le Doba by Yusra Shah Episode29 Mujhy Ishq Tera Le Doba by Yusra Shah Episode30 (Watching)Mujhy Ishq Tera Le Doba by Yusra Shah Episode31 Mujhy Ishq Tera Le Doba by Yusra Shah Episode32 Mujhy Ishq Tera Le Doba by Yusra Shah Episode33 Mujhy Ishq Tera Le Doba by Yusra Shah Episode34 Mujhy Ishq Tera Le Doba by Yusra Shah Episode35 Mujhy Ishq Tera Le Doba by Yusra Shah Episode36 Mujhy Ishq Tera Le Doba by Yusra Shah Episode37 Mujhy Ishq Tera Le Doba by Yusra Shah Episode38 Mujhy Ishq Tera Le Doba by Yusra Shah Episode39 Mujhy Ishq Tera Le Doba by Yusra Shah Episode40 Mujhy Ishq Tera Le Doba by Yusra Shah Episode41 Mujhy Ishq Tera Le Doba by Yusra Shah Episode42 Mujhy Ishq Tera Le Doba by Yusra Shah Episode43 Mujhy Ishq Tera Le Doba by Yusra Shah Last Episode
Mujhy Ishq Tera Le Doba by Yusra Shah Episode30
Mujhy Ishq Tera Le Doba by Yusra Shah Episode30
فہیم آفس سے آیا تو حفسہ اس کے لیئے چائے لیکر آئی…
“چائے…..”””
فہیم جو کہ موبائل مین مصروف تها حفسہ کو سر اٹها کر دیکها…… جو لال رنگ کے جوڑے میں ملبوس هلکا سا میک اپ کیئے چائے لیکر کهڑی تهی
فہیم نے مسکرا کر چائے اسے لی اور جیسے ہی پی فہیم کی شکل بگڑتی ہوئی نظر آئی حفسہ کو….
“چائے کس نے بنائی ہے….؟؟؟””””
“میں نے بنائی ہے آپ کے لیئے…..”””
حفسہ چہکتی ہوئی بولی
“میں بهی کہوں اتنی بری کیوں ہے…..”””
فہیم نے اسکو کپ واپس تهما دیا
حفسہ کے چہرے سے مسکراہٹ غائب ہوگئی….
“ایک تو بنائی ہے آپ کے لیئے اوپر سے نخرے….”””
حفسہ فہیم کے ساتهہ صوفے پہ بیٹهتی ہوئی بولی
“آپ نے کیوں تکلف کیا مہارانی حفسہ؟ اپ کو تو پانی تک ابالنا نہین آتا چائے تو پہر دور کی بات……””””
فہیم نے اسکی مزاق اڑائی
“ایسی بهی بات نہیں اب… اچهی خاصی تهی چائے…..”””
حفسہ چائے کو دیکهے حیرانگی سے بولی……
“تم عورتون کو اپنی بنائی ہوئی چیز کبهی بری لگی ہے؟….”””
“آپ همیشہ میرا مزاق کیوں اڑاتے رہتے ہیں….”””
حفسہ اسکو دیکهتی ہوئی بولی
“کیوں کہ تم باتیں ہی اتنی ٹیڑہی کرتی ہو….”””
فہیم مسکرا کر بولا…
حفسہ نے بس ایک خفہ سی نظر اس پر ڈالی
“اچها یہ بتاو کہیں جا رہی ہو کیا….””””
فہیم اسکو یوں تیار ہوتا ہوا دیکهہ کر بولا
“کیون کہاں جاونگی میں؟….”””
“پتا نہیں….. اتنی تیار جو ہوئی ہو….”””
“فہیم……”””
حفسہ نے اسکو گهور کر کہا….
وہ تو بیچاری فہیم کے لیئے تیار ہوئی تهی
“کیا ؟؟؟ اور منہ کیوں بنا ہوا ہوتا ہے تمہارا ہر وقت….”””
فہیم اسکے چہرے کو بغور دیکهتا ہوا بولا…
“ہر وقت تو نہیں بنا ہوا ہوتا….”””
حفسہ خاموش رہی
“ناراض ہو کیا تم….”””؟
فہیم نے اسکو یوں چپ چپ دیکها تو پوچهہ بیٹها
“ہان بہت……”””
“کیوں یار…. اب کون سی خطا ہوگئی ہم سے….””””
فہیم اسکی لٹ کو اپنی انگلی سے چهوتا ہوا بولا
“آپ کے لیئے چائے بنائی تهی اتنے پیار سے آپنے پی ہی نہیں……””””
حفسہ اپنے ہاتهوں مین پکڑی چائے کو دیکهتی ہوئی بولی
“بس اتنی سی بات یہ تو کوئی مسئلہ ہی نہیں ہے.. ابهی پی لیتے ہیں……”””
فہیم چائے کا کپ اس سے لیتا ہوا بولا
چائے کڑوی تهی پر فہیم نے تاثرات نارمل رکهے…
“ایک سپ لو…..”””
فہیم نے چائے حفسہ کے آگے کی
“لیکن کیوں….”””
“سپ لو.. بتاتا ہوں…..”””
حفسہ نے سپ لیا
“ہمم..اب سہی ہے.. پہلے میٹهی کم تهی نہ….”””
فہیم نے مسکرا کر کہا تو حفسہ بهی مسکرا دی
“ماشاللہ سبحان اللہ… فائینلی تمہارے چہرے پر مسکراہٹ تو دیکهی.. ورنہ تو صبح سے کدو جیسی شکل بنائی ہوئی تهی…..”””
فہیم شرارت سے بولا
“مجهے نہیں کرنی آپ سے بات…..”””
حفسہ پهر ناراض ہوگئی
“ہا ہا اچها نہ مزاق کر رہا تها… یہ بتاو میرے لیئے چائے کیوں بنائی تهی.. اس غریب پہ اتنا پیار کیسے آیا آپکو….””
فہیم اسکا ہاتهہ پکڑ کر اسکو واپس بٹهاتا ہوا بولا….
“اس میں پیار کی کیا بات…. بیوی کا فرص ہوتا ہے شوہر کی خدمت کرنا… میں بهی وہ ہی کر رہی ہوں بس…..”””
“محبت وحبت ہوگئی ہے کیا…..”””
فہیم اسکو کہنی مارتا شرارت سے بولا
“نہیں تو کس نے کہا…..”””
حفسہ صاف مکهر گئی
ورنہ محبت تو وہ اسی سے کرتی تهی بس اعتراف نہیں کرنا چاہتی تهی…
“ہائے میر فہیم حسن تمہاری زندگی میں نا جانے وہ دن کب آئیگا جب یہ بیوقوف لڑکی تم سے محبت کا اظہار کریگی…..””””
فہیم گہرا سانس لیتا افسوس سے بولا
“شادی کے بعد بهی کیا ضروری ہے اظہار کیا جائے….””””
حفسہ نے مسکراتے ہوئے پوچها
“ہاں بالکل ضروری ہے.. میں بهی چاہتا ہوں باقی شوہروں کی طرح جب مین اٹهوں تو میری بیوی میرے چہرے کے سامنے کهڑے ہوکر اپنے بال جهٹکے اور اسکے پانی کی بوندیں میرے چہرے پر پڑنے سے میری آنکهہ کهل جائے اور وہ مجهے کہے آئے لو یو…… “”””
فہیم کے ایسے بولنے پر حفسہ ہنستی ہوئی بولی
“یہ صرف فلموں اور ڈراموں میں ہی ہوتا ہے فہیم…..””
“اگر حقیقی زندگی میں ایسا کرلو تو کیا حرج…..””
فہیم مسکراتا بولا… حفسہ سر جهٹک کر اٹهہ گئی
“محبت کرتی ہو نہ مجهہ سے….”””
حفسہ دروازه پر تهی جب اسکو پیچهے سے فہیم کی آواز آئی
“نہین تو……””””
وہ کہہ کر چلی گئی…….
_________________________________________
.
.
آفرین کمرے میں آئی تو وہ ہی اندهیرا کمرہ……
“افف یہ کیا ہر وقت اندهیرا کر کہ بیٹهے رہیتے ہو تم…..”””
آفرین جهنجهلائی اور بتی آن کی
ازلان اسکو صوفے پہ سگریٹ پیتا ہوا نظر آیا
“بس کبهی کبهی دنیا کی روشنیوں سے چهپنے کا من کرتا ہے…..””
ازلان کو اچها نہیں لگا تها کہ آفرین آج بهی دانیال کو یاد کرتی ہے…. اسلیئے بیٹها غصہ ضبط کیئے جا رہا تها
“کبهی کبهی نہیں ہر وقت ہی ایسا ہوتا ہے تمہارے ساتهہ تو…..””
آفرین بیڈ پر بیٹهتی ہوئی بولی
ازلان خاموش رہا
“تم ہمیشہ سے ہی ایسے تهے ؟……”””
آفرین نے اگلا سوال دہرایا
“نہیں…… حالات نے ایسا بنا دیا…..””””
“ایسے بهی کیسے حالات گزرے تم پہ….”””
“بس بابا کی موت کے بعد……”””
ازلان نے ایک گہرا سانس لے کر کہا
“اوہ ہاں….. میں نے سنا تها حویلی میں اگ لگنے سے… تایا تمہارے بهائی بہں…. یاد تو آتی ہوگی نہ تمہیں ان کی…..”””
آفرین افسردہ لہجے میں بولی آفرین ازلان کے چہرے سے اسکا دکهہ دیکهہ سکتی تهی جس پر اسکو خود بهی دکهہ ہوا
“ظاہر ہے…….”””
ازلان نے اسکو دیکهتے ہوئے کہا
آفرین خاموش سے اسکو دیکهے گئی…….
“تیار ہوجاؤ کہیں باہر گھمانے لے چلوں تمہیں….”””
ازلان اٹهتے ہوئے بولا
“مجھے نہیں جانا کہیں بھی وہ بهی تمھارے ساتھ ……”””
آفرین نے پهر ضد کی
“چلینگے تو تمھارے ابو جی بھی……”””
ازلان جان گیا تھا اسکو اپنے ابو کے ایسے ذکر سے غصہ آتا ہے اسلیئے وہ اسکو مزید زچ کرنا چاہتا تھا
“تمہیں آخر میرے ابو سے کیا مسئلا ہے ؟…….”””
آفرین اسکو گهور کر بولی
“مسئلے تو ان گنت ہیں اور جلدی جاؤ تیار ہو جاو میرا روز روز موڈ نہیں ہوتا ایسا…….”””
“نہیں چلونگی میں تمھارے ساتھ سمجھ نہیں آتا تمہیں….”””
آفرین اِس بار چلا کر بولی
‘سیدھی طرح ماننا کیوں نہیں آتا تمہیں……؟؟……”
ازلان یہ کہتے ہی الماری کی طرف بڑها
آفرین اسکو گهور کر دیکھنے لگی جو کہ آفرین کی الماری سے کچھ کپڑے تلاش کر رہا تھا اور جب اسکو کپڑے ملے تو آفرین کے پاس اچهال دیئے… آفرین نے جهٹ سے وہ پکڑ لیئے
“کیا ہے یہ ؟ ؟ ؟……”””
آفرین غصے سے بولی
“کپڑے ہیں… نظر نہیں آرہا ؟……”””
ازلان نے آبرو اچکا کر کہا
کیا کروں ان کپڑون کا ؟ ؟……”””
“ان کپرو کا ؟ پوچھا بنا لو…….”””
“کیا مطلب …..؟”””
آفرین نے نا سمجھی سے اسکو دیکھا
“ظاہر ہے کپڑے پہننے کے لیئے ہی ہوتے ہیں اپنے سوال بھی تو دیکھو……”””
ازلان جهنجهلایا
آفرین کپڑے بیڈ پہ پھینک کر اور لاپرواہی سے ادهر ادھر دیکھنے لگی جسکا مطلب تھا کہ وہ ازلان کی بات نہیں ماننا چاہتی
ازلان نے اسکو یوں دیکھا تو اُس کے پاس آیا
“جاؤ جاکر کپڑے پہن لو……”””
ازلان کا لہجہ اِس بار سنجیدہ ہوا
“زبردستی ہے کیا ؟……”””
آفرین خفا ہوئی
“ہاں ہے بالکل…..”””
جواب تحمل سے دیا گیا
“زبردستی نہیں کر سکتے تم میرے ساتھ…….”””
“کر سکتا ہوں ……”””
ازلان نے کہنے کے ساتھ ہی آفرین کو اپنے بازوئوں میں اٹھا لیا آفرین اس اچنک اٹھائے جانے والے قدم پر بوکهلا گئی
“اتارو مجھے بدتمیز……”””
وہ غصہ ہوتی بولی
“زبردستی ہے کیا ؟……”””؟
ازلان نے اسی کا کہا اسکو لوٹایا
اور چلتا ہوا ٹیرس کی طرف بڑها اور ریلنگ کے پاس کهڑا ہوكر بولا
“پھینک دوں نیچے تمہیں ؟ زیادہ چوٹ نہیں لگے گی اتنا اوپر نہیں ہے……”””
ازلان نیچے دیکھتا ہوا بولا
“تم سائیکو ہو کیا ؟ دماغ ٹھیک ہے تمھارا میں یہاں سے گری تو خاک بچونگی……”””
آفریں بھی اسکی باہوں میں نیچے دیکھتی ہوئی گھبرا کر بولی اسکا تو سانس حلق میں ہی اٹک گیا تھا
“چلو اَخِری بار پوچھ رہا ہوں چینج کر رہی ہو یا نہیں ؟……”””
ازلان اسکو ریلنگ کے اور سامنے کرتا ہوا بولا
“اچها اچھا …. کرتی ہوں پر پہلے مجھے اتارو تو سہی…..”””
آفرین بوکهلا کر جلدی سے بولی اور ازلان پیچھے ہوتا اسکو اتارتا ہوا بولا
“کتنی محنت کرنی پڑتی ہے تم پہ…….”””
“ڈھیٹ ہو واقعی میں……”””
آفرین غصہ ہوئی….
“شکریہ… پک چکا ہوں میں یہ لفظ تم سے اور امی سے سن سن کر… اب چینج کر کے آؤ تمھارے پاس پندرہ منٹ ہیں…..”””
ازلان ہاتھ میں پہنی گھڑی کو دیکھتا ہوا بولا
آفرین لاچار ہوكر واشروم میں کپڑے چینج کرنے چلی گئی… ازلان بهی کمرے سے نکل گیا اور جب واپس آیا تو دیکها آفرین سادہ سے لائٹ پنک فروک اور پجامے میں ملبوس سنگهار شیشے کے سامنے کہڑی تهی
“بال بند کر لینا… کھولنا مت…..””
ازلان اُس کے پیچھے کهڑے ہوكر بولا
“زیادہ فری نا ہو اب… ایک بات مانی ہے تو ضروری نہیں ہر بات مان لوں….”””
آفرین خفگی بھری نظر سے آئینے سے اسکو دیکھتی ہوئی بولی
“پِھر میں تو خود پہ کنٹرول نہیں رکھ پاؤنگا وہ کیا ہے نا کہ کھلے بالو میں تم کافی حَسِین لگتی ہو…..”””””
ازلان اسکو کندہوں سے پکرڑتا ہوا بولا اور گہری نظروں سے آفرین کو دیکهے گیا… آفرین بهی اسی کو دیکهے گئی….
دروازے کے نوک ہونے کی آواز آئی تو ازلان کے ساتھ آفرین بهی ہوش میں آئی ازلان پیچھے ہٹتا ہوا دروازے کی جانب بڑا …. دروازے پہ عظمی تھی
“امی بہت غلط ٹائیمنگ ہے آپکی…..”””
ازلان دروازے پہ کهڑا ہوكر بولا
آفرین کو پِھر سے ازلان پہ غصہ آیا
“کہیں جا رہے ہو ؟ ؟……”””
عظمی اسے کوئی اور بات کرنے آئی تھی پر اسکو اور آفرین کو تیار ہوتا دیکھ کر پوچھا
“ہاں میں نے سوچا آفرین کو گھمانے لے جاؤں…..”””
ازلان مسکرا کر آفرین کو دیکھتا ہوا بولا
“چلو اچھا ہے …..شادی کے بعد کہیں لیکے نہیں گئے تم اسے ویسے بھی … اور واپس آؤ تو میرے کمرے میں آنا کچھ بات کرنی ہے تم سے ……”””
‘کیا ہوا سب ٹھیک ہے نا ؟……”””
ازلان عظمہ کو پریشان دیکھتا ہوا بولا
“ہاں بس تم آرام سے گھوم پِھر کر آؤ بعد میں بات ہوتی ہے……””
عظمہ یہ کہہ کر چلی گئی ازلان دروازہ بند کرتا صوفے پہ بیٹھا اور سگریٹ سلگانے کی تیاری کرنے لگا
“یہ تم خالہ کے سامنے الٹی سلٹی باتیں کیوں کرتے ہو …..”””
آفرین دوپٹہ گلے میں پہنتی ہوئی بولی
“کیا اُلٹا سلٹا بول دیا اب میں نے ؟……”””
ازلان کش لگاتا ہوا بولا
“ایک تو جو تم نے صبح کو بکواس کی تھی اور دوسری اب……”””
آفرین نے اسکو اپنا قصور یاد دلوایا
“تو کیا ہوا میاں بِیوِی ہیں ہم…..”””
ازلان لاپرواہی سے بولا جیسے کوئی بڑی بات ہی نہیں تھی
اور آفرین کو دیکھے گیا جس نے بال بند کیئے ہوئے تهے
ازلان چلتا ہوا اُس کے سامنے کهڑا ہوا…..
“ہٹو پیچھے تم میں سے سگریٹ کی بو آراہی ہے مجھے …..”””
آفرین ناک پہ اپنا ریشمی دوپٹہ رکھتی ہی بولی
“تم اتنی خوبصورت ہو یا مجھے لگ رہی ہو……”””
ازلان اسکی بات اگنور کر کے اُس کے اگے کو نکلتی دو لٹوں کو انگلی سے پیچھے کرتا اسکی آنکھوں میں دیکھے بولا
“چلیں ؟ ؟…….””
آفرین گھرابتی ہوئی اُس کے ہاتھ پیچھے کرتی بولی
“چلو……”””
ازلان اسکا ہاتھ تھامتا ہوا بولا
آفرین نے گهور کر اسکو دیکھا کہ ہاتھ کیسے پکڑا اسنے……
ازلان نے آفرین کو خود کو گھورتا ہوا دیکھا تو شرارت سے مسکرا کر ہاتھ کی گرفت مضبوط کرتا چلنے لگا آفرین بھی اُس کے ساتھ چلی گئی
گاڑی میں بالکل خاموشی تھی ازلان ڈرائیو کرتا بار بار آفرین کو دیکھ رہا تھا جو منہ موڑے باہر کی طرف ہی دیکھ رہی تھی
ازلان نے گاڑی میں گانا چلا گیا
“……تیری آنکهون کا جادو چل گیا…….”””
ازلان گانے کے ساتھ خود بھی گا رہا تھا اور بار بار آفرین کو دیکھ رہا تھا
“تم تو مت ہی گاؤ … گانے کی توہین کر رہے ہو… اپنے بیسرے آواز میں گا کر……””””
آفرین تپ کر بولی
“اچھا خاصا تو گا رہا ہوں… اتنا برا تو نہیں ہے ….”””
ازلان معصومیت سے بولا بیچارے کے اچھے خاصے سر کو بیسرا بولا گیا تھا
“میرے کانوں سے پوچھو کتنا بیسرا لگا ہے انہیں……”””
آفرین نے طنزیہ مسکرا کر کہا
ازلان نے اسکا کان پکڑ اپنا چہرہ سامنے کر کے کہا….
“کان جی بتایئے کتنا بیسرا لگا آپکو…..”””
“کتنے بدتمیز ہو تم ازلان…..”””
آفرین اپنا کان چهڑواتی اسکو مسلتی ہوئی بولی
“تم نے ہی تو کہا کے کان سے پوچھ لو…. تمہاری بات کی ہی تعبیداری کر رہا تھا……”””
ازلان مسکراتا ہوا بولا
“اچها بڑی ہنسی آئی مجھے تو…..”””
آفرین پتلیاں سکڑتی ہوئی بولی
“ہاں بس کیا کروں لوگوں کو ہنسا دیتا ہوں …ماشاءاللہ سے سینس آف ہیومر اچھا دیا ہے اللہ نے……”””
ازلان نے کھل کر اپنی تعریف کی جس سے آفرین کو اور آگ لگ گئی …
‘باقی سب کا نہیں پتہ لیکن اللہ نے ڈھیٹ پن تمہیں بھر بھر کر دیا ہوا ہے……””””
“بس کرم ہے اللہ کا…….”””
ازلان آنکھیں اوپر کرتا ہوا بولا
آفرین اُس کے ڈھیٹ پنے کو دیکھ کر پیچ و تب ہی کھاتی رہ گئی اور سارا رستہ ازلان کے گانے سن کر اپنے کانوں پر ہاتھ رکھتی گزار گئی
_________________________________________ .
.
ازلان اور آفرین جب سمندر کنارے چلتے چلتے تھک گئے تب آفرین کی نظر پانی پوری والے پر گئی اسکو وہ دن یاد اگیا جب دانیال اور وہ سمندر پہ تھے اور آفرین نے اس سے پانی پوری کی فرمائش کی تھی آفرین پانی پوری والے کو دیکھ رہی تھی جب ازلان نے اسکی نظروں کا نوٹس لیا
‘پانی پوری کهانی ہے تمہیں ؟ ؟…….”””
“ہاں….بہت پسند ہے مجھے…..”””
آفرین ہوا سے اُڑتی ہوئی اپنی لٹ کو پیچھے ھٹائے بولی “اچها چلو……”””
ازلان اسکو پانی پوری والے کے پاس لے گیا اور آفرین نے جب ایک پلیٹ دیکھی تو ازلان کو دیکھا ….
“تم نہیں کھا رہے ؟ ؟ ؟……””
“نہیں تم کھاؤ ….. مجھے کچھ خاص پسند نہیں ہے…..”””
ازلان سامنے کرسی پر بیٹھا موبائل چلاتا ہوا بولا
آفرین کے دماغ میں ایک شرارت سوجی تو بولی
“تم بھی کهاوگے……”””
ازلان نے اسکو ابرو اچکا کر دیکھا
“مجھے نہیں اچھی لگتی…….””
ازلان نے پھر سے اسکو یاد دلوایا
“ویسے تو بڑی بڑی باتیں کرتے ہو محبت کی اب ایک بات بهی نہیں مان سکتے میری……”””
آفرین منہ بناتی ہوئی بولی
“اچها کھا لیتا ہوں… لیکن صرف تمھارے لیئے…..”””
ازلان مسکرا کر بولا
ازلان اٹهنے لگا جب آفرین نے اسکو روکا
“میں کہہ کر آتی ہوں تمہیں سہی سے نہیں بنوانے آئینگی…..”””
آفرین کہہ کر اٹھ گئی اور پانی پوری والے کو تیز مصالحے والی پانی پوری کہہ کر واپس کرسی پہ بیٹھ گئی …..
“کہیں میں خواب تو نہیں دیکھ رہا…. آج اِس جنگلی بلی کا موڈ کافی اچھا ہے…..”””
ازلان نے آفرین کو مسلسل مسکراتا دیکھا تو تعجب سے بولا
“نہیں بس یہاں باہر کا ماحول اچھا لگ رہا ہے …..ترو تازہ ہوگئی ہوں……”””
آفرین گول گپے پانی میں ڈوبوتی ہوئی بولی
پانی پوری والے نے ازلان کے سامنے پلیٹ رکهدی …. جس کو ازلان عجیب تاثرات لیئے دیکھ رہا تھا …..
“میرا تم جیسا اتنا بڑا منہ نہیں کہ یہ ساری جا سکے…..”””
ازلان آفرین کو دیکھتا ہوا بولا جو پانی پوری کهانے میں مگن تھی …م
“کھاؤ کھاؤ بہت مزے کے ہی……”””
آفرین کے منہ میں پانی پوری تھی وہ منہ پہ ہاتھ رکھتی ہوئی ازلان سے بولی
ازلان نے جیسے ہی پانی پوری منہ من ڈالی وہ یکدم سے کهانسنے لگا اور تیز مرچوں کی وجہ سے اسکی انکهیں نم ہوگئی…..
آفرین تھوڑی دیر اسکو مزے سے دیکھتی رہی پِھر پانی کا گلاس اُس کے سامنے کیا
ازلان نے جھٹ سے پانی منہ میں انڈیلا….
“یہ کیا کھلا دیا تم نے مجھے…….”””
ازلان آفرین پہ بهڑکتا ہوا بولا
“میں نے کیا کیا … مجھے تھوڑی پتہ تھا تم مرچوں کے اتنی کچے ہو…..”””
آفرین لاپرواہی سے بولی اور بہت مشکل سے ہنسی دبائی ہوئی تھی ازلان کا چہرہ جو کہ سرخ ہو رہا تھا اسکو اسکی حالت پہ ہنسی آراہی تھی
“تم ہی کھاؤ یہ بکواس چیزیں……؟؟؟
ازلان نے پلیٹ اُس کے سامنے سرکا کر پانی کا گلاس لبوں سے لگایا
آفرین نظر اٹھا کر بار بار اسکو دیکھتی اور ہنسی دباتی ازلان نے اسکو نوٹ کرلیا تھا
“تمہیں کیوں اتنی ہنسی آراہی ہے ؟ ؟……”””
ازلان نے اُس کے چہرے کو غور سے دیکھتے ہوئے بولا
“نہیں تو… کہاں ہنس رہی ہوں میں …. آنکھیں خراب ہوگئی ہیں تمھاری …..”””
آفرین پکائی سے بولتی گئی اور ازلان اسکو گھورتا رہا …. آفرین کا آخر ضبط ٹوٹ گیا اور وہ ہنسنی لگی… اپنے منہ پہ ہاتھ رکھ کر سامنے بیٹھے شخص کو دیکھا ………..
ازلان بھی اسکی شرارت سمجھ کر مسکرا دیا …
“جنگلی بلی……””””
_________________________________________.
.
رات ہو چکی تھی وہ دونوں ایک ریسٹورنٹ میں بیٹھے تھے … وہ جہان بیٹھے تھے انکے دائیں جانب سمندر تھا جس میں چاند چمکتا دکھائی دے رہا تھا …… وہ دونوں اب آرڈر دے کر اسکا ویٹ کرنے لگے…. سمندر میں چمکتی روشنیوں نے سمندر کو اور خوبصورت بنا دیا تها
“چاند اچھا لگتا ہے تمہیں …..”””
ازلان جو کرسی پر بیٹھا ہوا تها اوپر چاند کی طرف دیکھتا ہوا بولا
آفرین نے اسکی بات سن کر چاند کو دیکھا چاند کی روشنی دونوں کے چہروں کو چمکا رہی تھی
“چاند بھلا کس کو اچھا نہیں لگتا…..”””
آفرین نے چاند کو دیکھتے ہوئے جواب دیا
“مجھے نہیں اچھا لگتا تھا پہلے……”””
ازلان اسی پوزیشن میں چاند کو دیکھتا ہوا بولا جو اسکو اب کافی اچھا لگنے لگا تھا
“کس قسم کے آدمی ہو … تمہیں چاند اچھا نہیں لگتا…..”””
آفرین اسکو عجیب نظروں سے دیکھتی ہوئی بولی
“اب اچھا لگتا ہے … مجھے پہلے پسند نہیں تھی روشنیاں… کیوں کہ جب زندگی میں روشنی نا ہو تو یہ چاند سورج کی روشنیاں بھی خفا لگتی ہیں…..”””
ازلان مسکراتا ہوا بولا ….. اور مسکراہٹ دلیل دے رہی تهی کہ مسکراہٹ کے پردوں کے پیچهے کئی سارے غم چهپے ہوئے ہیں
آفرین اسکی بات سن کر اسکو دیکھنے لگی …. بھوری آنکھوں میں چاند کی سی چمک براوں گھنے بال اور ہلکی سی شیو. . وہ آج آفرین کو پہلی بار بہت اچها نہیں تو برا بهی نہیں لگا… اور آفرین کا دل اسکے وجاہت بہرے چہرے کو دیکھنے کا کیا……م
مسکرانے سے ازلان کے گال پر ڈمپل پڑا جو کہ آج آفرین کو اج زہر نہیں لگا تھا
“تمہاری زندگی میں کیسے اندھیرے تھے جو تمہیں روشنیوں سے نفرت ہوگئی……”””
آفرین نے وجہ جاننی چاہی اور اسی کو دیکھتے ہوئے پوچها جو چاند کو دیکھنے میں مصروف تھا
“ایسے اندھیرے تھے جن کو میں لفظوں سے بیان نہیں کر سکتا……”””
ازلان کے لہجے مین دَرْد واضح تھا
“اور اب تمہیں چاند کیوں اچھا لگنے لگا ہے……””””
آفرین اسی کو دیکھے اپنا دوسرا سوال پوچهنے لگی ….
ازلان مسکرایا اور بولا
“کیوں کہ یہ چند تم جیسا ہے … جب بھی اسکو دیکھتا ہوں تم یاد آتی ہو اور مجھے عشق ہے ان چیزوں سے جن سے مجھے تمہاری یاد آتی ہے ……”””
ازلان اِس بار آفرین کو دیکھتے ہوئے بولا دونوں کی آنکھیں ایک دوسرے کی آنکھوں کا نظارہ کر رہیں تھیں …..
“لیکن چاند سے میری یاد کیسے ؟……””””
آفرین اس کی آنکھوں میں دیکھے بولی اسکو آج ازلان کی باتیں اچھی لگ رہی تھیں اور اسکا دِل چاہا رہا تھا کہ وہ اسکو سنے
“تم چاند سی ہی تو ہو …. تمھاری یہ سرمئی آنکھیں چاندنی کی طرح روشن …. لوگ چاند کو دیکھ کہ آنکھوں کو ٹھنڈک پهونچاتے ہیں اور میر ازلان اپنے چاند یعنی آفرین کو دیکھہ کہ آنکھوں کو ٹھنڈک پهونچاتا ہے ….. جیسے چاند رات کے اندھیرے میں روشنی پھیلاتا ہے ویسے ہی تم نے میری اندھیر زندگی کو روشن کیا ہوا ہے …. چاند تو بالکل تم سے ملتا ہے پِھر کیسے اسکی چاندنی سے نفرت کر سکتا ہوں میں ؟…..”””
ازلان محبت سے چور لہجے میں بولا …. اور آفرین کی آنکھوں میں آج خود کا عکس دیکھ کر اسکو بتا دیا کہ وہ اسکی زندگی میں کیا اہمیت رکھتی ہے ……
آفرین کا دِل مانو کسی صحرا میں ڈوبتہ چلا گیا ازلان کی باتیں سن کر …. اسکو ازلان کے لہجے میں عشق دکھا تھا جسکی وہ ہمیشہ بات کیا کرتا تھا آفرین کو نہیں پتہ تھا کہ وہ اسکی زندگی میں اتنی اہمیت رکھتی ہے……
“ازلان کیا یہی عشق ہے جسکی تم بات کرتے ہو ؟ ؟ ؟…..”””
آفرین نے اسکی بھوری آنکھوں میں آنکھیں گاڑ کر سوال کیا
“نہیں آفرین عشق تو وہ ہے جو کسی کو لے ڈوبے اپنی یادوں میں اپنے دِل میں اپنی باتوں میں ….. عشق تو وہ ہے جو پوری دُنیا بھلا دے صرف اپنے محبوب کے لیئے …. عشق تو وہ ہے جب میں نے پل پل تمہیں رب سے دعاوں میں مانگا ہے … عشق تو وہ ہے جس مین وصل ہو …. جو آدمی کو اضطراب میں مبتلا کردے … اور محبوب سامنے نہ ہو تو زندگی صفار لگنے لگے… عشق تو وہ ہے آفرین جو ازلان نے تم سے کیا ہے….”
ازلان نے اسکو عشق کی تشریح بتا دی
آفرین کو اسکی باتیں جکڑ رہی تھیں وہ اسکو جتنا آج پسند آیا تھا اس سے کئی زیادہ اسکو اسکی باتیں پسند آراہی تھی ….
آفرین ازلان کی آنکھوں میں ڈوبتی جا رہی تھی وہ اس میں کھوتی جا رہی تھی ……
ازلان نے اپنی خواہش کو آج اِس چاندنی رات میں پورا ہوتے دیکھا تھا کہ وہ آفرین کی آنکھوں میں صرف اپنا عکس دیکھنا چاہتا ہے …. ہاں وہ آج اسکی آنکھوں میں صرف اپنا عکس دیکھ رہا تھا
ویٹر نے آکر كھانا رکھا تو آفرین اور ازلان دونوں عشق کی دُنیا سے نکلتے ہوئے واپس ہوش کی دُنیا میں آئے …
آفرین کو ندامت ہوئی کہ وہ کیسے اور کب اس شخص کی طرف کھینچتی ہوئی چلی گئی جس سے خود کو دور رکهنے کا سوچا تها… اسکو سمجھ نہیں آرہا تھا اور ازلان کے چہرے پر ایک اطمینان سا آیا اسکو لگا جیسے آفرین کو پانے کی منزل اب بس چند قدم دور ہے…… لیکن آفرین اپنے دِل کے جذبوں سے ابھی واقف نا تھی وہ تو الجھ کر رہ گئی تھی اپنے دِل میں ایک نئے اور اجنبی سے احساسات کو محسوس کرتے ہوئے…….
__________________________________________
