Mujhy Ishq Tera Le Doba by Yusra Shah NovelR50767 Mujhy Ishq Tera Le Doba by Yusra Shah Episode08
Rate this Novel
Mujhy Ishq Tera Le Doba by Yusra Shah Episode01 Mujhy Ishq Tera Le Doba by Yusra Shah Episode02 Mujhy Ishq Tera Le Doba by Yusra Shah Episode03 Mujhy Ishq Tera Le Doba by Yusra Shah Episode04 Mujhy Ishq Tera Le Doba by Yusra Shah Episode05 Mujhy Ishq Tera Le Doba by Yusra Shah Episode06 Mujhy Ishq Tera Le Doba by Yusra Shah Episode07 Mujhy Ishq Tera Le Doba by Yusra Shah Episode08 (Watching)Mujhy Ishq Tera Le Doba by Yusra Shah Episode09 Mujhy Ishq Tera Le Doba by Yusra Shah Episode10 Mujhy Ishq Tera Le Doba by Yusra Shah Episode11 Mujhy Ishq Tera Le Doba by Yusra Shah Episode12 Mujhy Ishq Tera Le Doba by Yusra Shah Episode13 Mujhy Ishq Tera Le Doba by Yusra Shah Episode14 Mujhy Ishq Tera Le Doba by Yusra Shah Episode15 Mujhy Ishq Tera Le Doba by Yusra Shah Episode16 Mujhy Ishq Tera Le Doba by Yusra Shah Episode17 Mujhy Ishq Tera Le Doba by Yusra Shah Episode18 Mujhy Ishq Tera Le Doba by Yusra Shah Episode19 Mujhy Ishq Tera Le Doba by Yusra Shah Episode20 Mujhy Ishq Tera Le Doba by Yusra Shah Episode21 Mujhy Ishq Tera Le Doba by Yusra Shah Episode22 Mujhy Ishq Tera Le Doba by Yusra Shah Episode23 Mujhy Ishq Tera Le Doba by Yusra Shah Episode24 Mujhy Ishq Tera Le Doba by Yusra Shah Episode25 Mujhy Ishq Tera Le Doba by Yusra Shah Episode26 Mujhy Ishq Tera Le Doba by Yusra Shah Episode27 Mujhy Ishq Tera Le Doba by Yusra Shah Episode28 Mujhy Ishq Tera Le Doba by Yusra Shah Episode29 Mujhy Ishq Tera Le Doba by Yusra Shah Episode30 Mujhy Ishq Tera Le Doba by Yusra Shah Episode31 Mujhy Ishq Tera Le Doba by Yusra Shah Episode32 Mujhy Ishq Tera Le Doba by Yusra Shah Episode33 Mujhy Ishq Tera Le Doba by Yusra Shah Episode34 Mujhy Ishq Tera Le Doba by Yusra Shah Episode35 Mujhy Ishq Tera Le Doba by Yusra Shah Episode36 Mujhy Ishq Tera Le Doba by Yusra Shah Episode37 Mujhy Ishq Tera Le Doba by Yusra Shah Episode38 Mujhy Ishq Tera Le Doba by Yusra Shah Episode39 Mujhy Ishq Tera Le Doba by Yusra Shah Episode40 Mujhy Ishq Tera Le Doba by Yusra Shah Episode41 Mujhy Ishq Tera Le Doba by Yusra Shah Episode42 Mujhy Ishq Tera Le Doba by Yusra Shah Episode43 Mujhy Ishq Tera Le Doba by Yusra Shah Last Episode
Mujhy Ishq Tera Le Doba by Yusra Shah Episode08
Mujhy Ishq Tera Le Doba by Yusra Shah Episode08
آفریں باہر آئی تو اسکو دانیال کہیں بھی نظر نہیں آیا اور لان میں بالکل اندھیرا چھایا ہوا تھا رات کے نو بج رہے تھے آفریں نے ادھر اُدھر دیکھا تو دانیال کو کہیں نا پاکر لان میں رکھی چیئر پر بیٹھ گئی اور اسکی پشت سے سر ٹکاتی آسْمان میں بے مقصد چاند کو دیکھتی رہی جس نے ہر سو اپنی چمک پھیلائے رکھی تھی….
اسنے گہرا سانس لیا اور آنکھیں بند کرلیں اب ہوا کے ٹهنڈے جهونکے اُس کے چہرے کو چھو رہے تھے اُس کے بال جو کہ کیچر میں بند تھے اگے لٹکی ہوئی لٹین ہوا کی وجہ سے جھول رہیں تھیں..
اسکو اپنے کندہوں پر کوئی لمس محسوس ہوا تو اسنے آنکھیں کھولیں اور دیکھا دانیال اُس کے پیچھے اُس کے کندہوں پر ہاتھ رکھے کھڑا تھا بلیو ٹی شرٹ اور جینس میں ملبوس ، کالے گھنے بال اسٹائلش بیئرڈ اور کالی آنکھیں جو آفریں پر ٹکی ہوئیں تھیں
“دانی تم کہان تهے؟ ……”
آفرین اٹھ کھڑی ہوئی اور دانیال کو دیکھتے ہوئے پوچنے لگی
“یہیں تها… ایک ضروری کال آگائی تهی…….”
دانیال نے اُس کے دونوں ہاتھ اپنے ھاتھوں میں تھام لیئے
“سوری کل میرے بیہیویئر کے لیئے اور تمہیں شاید غصہ بھی اگیا تھا میں نے پریشانی میں نوٹ نہیں کیا…..”
آفریں سَر جھکائے بولی
“اٹس او کے آفی …. غلطی میری بھی تھی مجھے تمہیں سمجھنا چاہیئے تھا میں نے بلاوجہ غصہ کیا اور تم تو مجھے بتانے والی تھی اسی دن پر میں ہی پارٹی میں مصروف تھا…….”
دانیال کو اُس دن والی بات یاد آئی تو وہ آفریں کے چہرے سے لٹیں اپنے انگلیوں سے پیچھے کرتا اس پہ نظریں جماتا ہوا بولا
“کوئی بات نہیں … رات گئی بات گئی بس آئیندہ سے خیال رکهنا ورنہ پٹوگے مجهہ سے …..”
آفرین نے نظریں اٹھا کر دانیال کو دیکھ کر کہا
“ہمیشہ تم پہ بهروسہ رکهوں گا یہ دانیال اسد کا وعدہ ہے، اور یہ انگوٹهی اِس بات کی سب سے بڑی گواہ……”
وہ آفریں کے ہاتھ کی انگیجمنٹ رنگ کو چهوتے ہوئے بولا تو وہ مسکرادی
“ایسے ہی مسکراتی رہا کرو…..”
دانیال آفریں کا هاتهہ تهامتا ہوا بولا
“کیا کر رہے ہو دانی کوئی دیکھ لے گا اب مجھے چلنا چاہیئے…….”
آفریں اُس کے ہاتھ اپنے هاتهون سے ہٹاتی ہوئی وہاں سے جانے لگی تو دانیال نے اسکا ہاتھ پهر پکڑا اور اسکو جانے سے روکا
“دانی پیچھے دیکھو فھیم بھائی…..””
آفریں پریشانی سے سیدھی سمت دیکھتی ہوئی بولی اور دانیال جیسے ہی پلٹا وہان اسکو کوئی نظر نہیں آیا.. آفریں وہاں سے نکل گئی دانیال نے اسکو دیکھا اور دو سیکنڈس میں اسکی چالاکی کو سمجھ گیا اور بولا
“ابھی بھاگو بیٹا جتنا بھاگنا ہے ، بعد میں تمهے آنا میرے پاس ہی ہے….””
دانیال دونوں ہاتھ سینے پہ باندھے اسکو دیکھتا ہوا بولا اور وہ اسکو زُبان دکھا کے وہاں سے چلی گئی دانیال مسکرا کر سَر ہلاتا اسکو دیکهتا رہا
________________________________________
.
.
دانیال وہی کھڑا تھا لان میں اور یے تسئلی کر کہ آفریں جا چکی ہے اسنے موبائل میں ایک نمبر ڈائل کیا اور موبائل کان سے لگایا
“ہاں جلدی پهونچو یہاں حفی……”
اب اسنے دوسرا نمبر ملایا
“آجاؤ فھیم اور ماموں ممانیو اور نانو کو بھی لاؤ…..””
دانیال اب کھڑا ان سب کا انتظار کرنے لگا______________________________________
.
.
آفریں بیڈ پہ بیٹھی گیم میں مگن تھی جب رانو ( ملازمہ ) اُس کے کمرے میں آئی اور پریشان ہوتے ہوئے بولی
“بی بی جی جلدی آئیں بڑے صاحب آپکو بلا رہے ہیں……”
آفریں اُس کے اِس طرح بتانے پر یکدم چونکی اور موبائل وہیں بیڈ پر چهوڑ کر ننگے پیر جلدی سے باہر کی طرف بھاگی
“کیا ہوا سب ٹھیک ہے نا رانو بابا کی طبیعت ؟…….”
آفریں پریشانی سے سیڑهیان اترتی رانو سے سوال کر رہی تھی
“آپ چل کر دیکھ لیں چهوٹی بی بی جی ، صاحب لان میں ہیں….”
آفریں بھاگ کر جیسی ہی لان میں گئی وہاں کی سب بتیان آف تھی جو کے حسب معمول ایسا نا ہوا کرتا…
“ابو کہاں ہیں آپ…….”
وہ تجسس سے ادھر اُدھر دیکھ کر بولی
ایک قدم جیسی ہی بڑایا
سب بتیان یکدم سے جگ مگا گئیں اور اُس کے دونوں اعتراف میں کھڑے فھیم اور حفسہ نے اُس کے سَر پر پارٹی پوپپر پھوڑی اور سب نے ایک آواز ہوتے چلایا
“ہیپی برتھ ڈے ٹو یو…….””
وہ منہ کھولے سب کی طرف دیکھنے لگی دانیال ، ذرمینہ بیگم ، فیضان ، غزل ، فھیم ، حفسہ سب چہروں پہ مسکراہٹ لیئے کهڑے تهے اور لان میں روشنیان پہلائی ہوئی تھیں دو پیڑوں میں ایک لمبی رسی بندهی ہوئی تهی جس میں رنگ رنگ کے بہت سارے گبارے لٹکے ہوئے تهے اور انکے بلکل نیچے ٹیبل رکھی گئی تھی جس پر کئی سارے چامکدار ریپر میں گفٹس پڑے ہوئے تھے اور ایک بڑا سا آئس کیک جس میں ہیپی برتهہ ڈے کے ساتھ آفریں کا نام لکھا گیا تھا آفریں نے ہر ایک چیز دیکھی اور دو منٹ میں سمجھ گئی کے یہ سب انکی پلاننگ ہے
یہ سارا آئیڈیا دانیال کا تھا اور اسکو کامیاب بنانے میں سب نے مدد کی
آفرین اب نم آنکھوں سے ہنسنی لگی اور فیضان کی طرف بڑھی اور گلے لگا کر بولی
“ابو آپنے تو مجھے ڈرا ہی دیا تھا…..”
“ارے بندریا تو بالکل سریس ہی ہوگئی چلو اب اپنے مگرمچهہ جیسے آنسو صاف کرو اور کیک کاٹو کب سے کیک کو ہاتھ نہیں لگانے دے رہا تمہارا دانی…..””
فھیم اُس کے پاس آکر آفرین کے بال بگاڑتا، جن میں پارٹی پوپپر کی چھوٹی چهوٹی چمکدار زریان پڑی ہوئی تھی ان کو بگھاڑتا ہوا بولا….
“فھیم بچے ایسا نہیں کہتے……”
زارمینا بیگم نے اسکو ” تمھارا دانی ” بولنے پر ٹوکا…
“اوہ سوری دادو ….” فھیم دانتوں تلے زبان دبا گیا تو سب ہنس دیئے
“بھائی بہت پیٹو ہیں آپ اور یہ سب آپ ہی کا آئیڈیا ہوگا ہے نا…. “
آفریں چهکتی ہوئی بولی
“جی نہیں میڈم اِس معصوم سی شکل والے بندے پر بھی غور فرمائیں جسکا کریڈٹ آپ اپنے بھائی کو دیئے جا رہی ہیں….””
دانیال منہ اتارتا مسنوئی ناراضگی دکھاتا ہوا بولا
“تمهارا آئیڈیا تھا یہ دانی ؟……”
آفریں نے آنكھوں میں چمک لیئے دانیال سے پِھر یقین دہانی کے لیئے سوال کیا
“ہاں ہاں بس آفی بھائی کا صرف آئیڈیا تھا باقی محنت ہم سب نے کی ہے….”
حفسہ آفریں کے پیچھے سے اُس کو کندهوں سے تھامتی ہوئی بولی
“شکریہ آپ سب کا یہ دن میرے لیئے اِسْپیشَل بنایا آپ سب نے….”
آفریں نے سب کا دِل سے شکریہ ادا کیا
“آفی اب اموشنل ڈرامہ بند کرو اور کیک کاٹو مجھ سے رہا نہیں جا رہا اب تو……”
فھیم کیک کو دیکھتا ہوا زبان نکلتا ہوا بولا
“چلو آؤ آفی بچے کیک کاٹو…..”
غزل نے اسکو چهری تھمادی
اسنے جیسے ہی کیک پر چهری چلائی سب نے گنگناتے ہیپی برتھ ڈے کہا اور تالیاں بجانے لگے آفریں نے پہلا ٹُکْڑا اپنی دادی پِھر فیضان پِھر غزل کو کھلایا سب نے اسکو دعائیں دی پھر فھیم کے پاس آئی اور سارا کیک اُس کے منہ میں ٹهوس دیا اور بولی
“یہ لیں کہائیں اب جی بھر کے……..”
فھیم منہ میں کیک ہونے کی وجہ سے منہ پہ ہاتھ رکهہ کر کیک کهانے لگا آفریں نے ایک اور ٹکڑا کاٹا اور حفسہ کو کھلایا حفسہ نے آفریں کے ہاتھ میں پکڑتے کیک کے ٹکڑے سے کریم انگلی سے لی اور اُس کے گال پر لگا کر بولی
” ہیپی برتھ ڈے بیسٹی….”
آفریں بھی ہنسدی اور پِھر دانیال کو کهلانے لگی
” آئی لو یو……”
دانیال نے بالکل دهیمی آواز میں کہا تو آفریں بلش کرتی ہوئی ٹیبل کی طرف بڑهہ دی اور پیچھے سے فھیم نے آکر اس پہ سنوسپرے کی بارش کر ڈالی اور اُس کے منہ پہ لگاتا ہوا بهاگنے لگا
“بهائی یہ کیا کیا آپنے……””
آفریں کا پورا چہرہ اور بال سنو سپری میں بھر چکے تھے
“اب نہیں بچے آپ بھائی…..””
وہ بھی ٹیبل سے سنو سپرے اُٹھاتی ہوئی فھیم کے پیچھے دوڑنے لگی تو فھیم نے حفسہ اور دانیال کو بھی سنو سپرے لگادی، ان دونوں نے بھی سنو سپری اٹھا لی اور سب ایک دوسری کا چہرہ بگاڑنے لگے ، سب بڑے بچون کی حرکت دیکھ کر لطف و آمیز ہونے لگے
اور ایسے ہی ہنسی خوشی اِس رات کا اِخْتِتام ہوا________ .
.
آج حفسہ نے یونی سے چھٹی لی تھی کیوں کہ کل رات بھر جاگنے کی وجہ سے اسکی نیند پوری نہیں ہوئی تھی وہ نیند کی کچی تھی آفریں آج اکیلے یونی آئی تھی اور یوں ہی اُس کے دماغ میں پِھر سے اسی دن والے ریسٹورنٹ جانے کا خیال آیا تو اسنے ڈرائیور کو وہاں چلنے کا کہا اور بے مقصد جاکر اسی کونے اور کم روشنی والی ٹیبل کے پاس والی ٹیبل پر بیٹھ گئی اور بے مقصد کبھی اس کونے والی کرسی کو دیکھتی تو کبھی دروازے کو کہ شاید وہ شخص وہاں آجائے
آفریں کو معلوم نہیں تھا کیوں پر وہ صرف آخری بار اس شخص سے ملنا چاہتی تھی
اپنی بے چینی کو دور کرنا چاہتی تھی
اسکو آدها گهنٹہ وہاں گزر چکا تھا اور اب دوبارہ ویٹر اس سے آرڈر لینے آیا تھا جس کو اسنے دس منٹ کے بعد آنے کا کہا تها
“میڈم کچھ چاہیئے آپکو ؟…..”
“ہمم… نہیں وہ ایکچلی مجھے پوچھنا تھا کے جو شخص اس دن آئے تھے جو جو ھاتھوں میں کئی بینڈس پہنے ہوئے تھے، براؤن سے بال.. غنڈون والا حلیہ.. وہ وہاں ریگولر آتے ہیں یا کبھی کبھی ؟ …..”
وہ اسکا ٹوٹا پھوٹا حلیہ بتانے لگی
“وہ ہی جو اس ٹیبل پر بیٹھے ہیں ؟…..”
ویٹر سمجھ گیا اور اس کونے کی ٹیبل کی طرف اشارہ کرتا بولا
“ج.. جی ہاں وہ ہی…..” آفرین تیزی سے بولی
“وہ تو روز یہاں آتے تھے پر اب تین دنوں سے نہیں آرہے ہیں….”
“اچها…..”
آفریں اسکا جواب سنتی ہوئی اٹھ کر وہاں سے چلی گئی____________
ازلان کا آج جاب پر پہلا دن تھا اسنے وائٹ شرٹ اور بلیک پینٹ زیب تن کی ہوئی تھی جو کہ آفس کا یونیفارم تھا اسکو بہت مشکلوں سے یہ جاب ملی تھی اور اچھی جاب ملی تھی اب اسکو پتہ تھا کہ آگے محنت کر کے جلد سے جلد کامیاب ہونا ہے…
وہ ہر کام میں جلدباز تھا اور اب بہت کام کرنے سے اسکو بهت تهکاوٹ کا احساس ہونے لگا تو اسنے سیٹ کی پشت سے ٹیگ لگائی اور سَر ٹکائے آنکھیں بند کر گیا
تو ایک خوبصورت سی ماضی کی یاد اُس کے دماغ میں گھومنے لگ گئی یہ ماضی کی یادین جو ہر وقت اُس کی سوچ کا حصہ بن چکی تھیں……..*
“امی ثناء کو كھانا میں کھلا دوں…..””
ازلان جو خود چھوٹا سا تها اپنی امی سے ضد کر رہا تھا جو کہ ثناء کو كھانا کھلا رہیں تھیں
“نہیں پہلے میں نے کہا تھا ازلان…. پہلے میں کهلاؤنگا ثناء کو كھانا……””
عمیر جو کہ بہت دیر سے لائن میں کھڑا تھا اپنے لیئے بول پڑا
“ازلان عمیر لڑو مت تم دونوں تمھارے بابا نے تم دونوں کو لڑتا ہوا دیکھ لیا تو غصہ کر جائینگے…..””
عظمہ اب ان دونوں کی بحث سے خفا ہو کر بولی اور وہ دونوں چُپ ہوكر میسنی سی شکل بنا کر ماں کو دیکھنے لگے
“جاؤ دونوں اپنا ہوم ورک کرو اور جس نے پہلے کر لیا وہ کهلائے گا ثناء کو کهانا……””
عظمہ کو ان دونوں پر ترس آیا تو انکا دھیان بٹاتی ہوئی بول پڑی
وہ دونوں بھاگ کر اپنا بیگ لائے اور اپنے ہوم ورک میں مصروف ہوگئے اور عمیر نے پہلے ہوم ورک مکمل کر لیا تو ثناء کی طرف بھاگا
“دیں امی ثناء کو.. میں نے مکمل کر لیا ازلان سے پہلے…..”
وہ آب ہاتھ پهیلائے عظمہ کے سامنا کھڑا تھا
“تم کیسے پکڑوگے اسکو آؤ صوفے پر بیٹھ کے کھیلو اِس کے ساتھ……”
عمیر ثناء کے ساتھ کهیلنے لگا اور ازلان ہوم ورک کر کر کے اب بکس بند کیئے ایک طرف پھینکتا ہوا سَر دَرْد کی ایکٹنگ کرنے لگا کیوں کہ اس سے ہوم ورک مکمل نہیں ہو رہا تھا تو سر درد کا بہانا بنالیا.. یہ ادا اسنے اپنے باپ سے سیکھی تھی طارق بھی اکثر ایسا کرتا تھا جب عظمہ اسے کوئی کام کہہ دیتی تو وہ سَر درد کی ایکٹنگ کرنے لگ جایا کرتا..
اب وہ بھی ایسا ہی کر رہا تھا کیوں کہ اسکا باپ اُس کا آئیڈیل تھا ہر طریقہ ، ہر حرکت ، ہر ادا ، ہر عادت اپنے باپ کی اپنایا کرتا تھا
“اُف امی دَرْد ہو رہا ہے سر میں….””
وہ چیخا تو عمیر اور ثناء نے اسکو دیکھا
“آؤ سر دباوں تمہارا سَر دَرْد ختم ہوجائے گا…….””
عمیر اُس کے لیئے فکرمند ہوكر بولا کیوں کہ وہ جتنا بھی لڑتے پر ایک دوسرے سے محبت بھی بہت زیادہ تھی دونوں کو
“عمیر بھائی نہیں ، اشلان بھائی شَر میں ڈباؤں…..””
ثناء عمیر کو منع کرتی ہوئی ازلان کا سَر خود دبانے کا بول رہی تهی..
“هاهاها ثناء تم دباؤگی سَر اس کا؟…..””
عمیر کو اس پہ ہنسی اگائی اور ازلان بھی ہنسنے لگا
“بھائی گندے ، کٹی….””
ثناء ناراض ہوتی دونوں کو اپنی چوٹی انگلی دکھاتی ہوئی بولی
‘ارے ثناء ناراض کیوں ہو رہی ہو آؤ دباؤ میرا سارا بس….”” . ازلان اب بہن کے سامنے ہار مانتا لیٹ گیا
“اور میرا بھی ثناء ….””
عمیر بھی لیٹ گیا اور ثناء خوش ہوتی ہوئی اپنے چھوٹے موٹے ھاتھوں سے دونوں کا کا سَر دبانے لگی
“اُف میں تھک گئی بھائی…..””
وہ ہاتھ اپنے سَر پر مارتی بولی تو وہ دونوں ہنسنے لگے
“بڑا شوق تھا نا تمہیں چوزی…..””
ازلان ہنستا ہوا بولا اور عمیر کے سامنے ہتھیلی کی جس پہ عمیر نے بھی تالی دی اسکو اور وہ دونوں زور زور سے ہنسنے لگے تو ثناء بھی ان دونوں کو ہنستا ہوا دیکھ کر تالیاں بجاتی خوش ہونے لگی.. اسکو نہیں سمجهہ آرہا تها کہ وہ اسکی بات پہ ہنس رہیں ہیں یا اس پہ…
“صاحب آپکی چائے……”
ازلان نے ملازم کی آواز پر آنکھیں کھولیں اور حال میں لوٹ آیا اور اب کپ تهامے چائے کے سپ لینے لگا اور وہ ہی اپنے بہن بھائی کی کھٹی میٹھی باتوں کو یاد کرتا گیا جن کو اب وہ صرف یاد ہی کر سکتا تھا کیوں کے یہ لمحے وہ پِھر سے نہیں جی سکتا تھا
بچپن کی تو یادیں ہی ایسی ہوتی ہیں جو تب یاد آتی ہیں جب انسان پریشانی یا مشکلات میں ہو اسی وقت یہ سہانا بچپن یاد آتا ہے جس میں نا کوئی پریشانی تھی نا کسی مشکل کی فکر نا کسی سے غرض نا آج کی پرواہ نا کل کی ٹینشن…
انسان کو بچپن مین بڑے ہونے کا شوق ہوتا ہے اور جب بڑے ہوجائین تو بس ایک ہی حسرت رہ جاتی ہے کہ کاش ہم ایک بار پهر بچپن میں چلے جائیں..
یہ سنہیرے لمحے جن میں انسان دوبارہ نہیں جی سکتا وہ ہی لمحے اب ازلان کی آنکھوں میں بار بار پریشانیون اور مشکلوں کے وقت گهومتے رہتے
______________
جاری ہے
